1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

عقیدہ طائفہ منصورہ

'ایمانیات' میں موضوعات آغاز کردہ از محمد نعیم یونس, ‏جون 22، 2014۔

  1. ‏جون 25، 2014 #61
    محمد نعیم یونس

    محمد نعیم یونس خاص رکن
    شمولیت:
    ‏اپریل 27، 2013
    پیغامات:
    25,727
    موصول شکریہ جات:
    6,542
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,157

    موالات

    ٭ ہمارا عقیدہ ہے کہ کافروں سے ’موالات‘ یعنی دوستی کی دو قسمیں ہیں:

    ایک ’موالات کبریٰ‘ جو انسان کو ملتِ اسلامیہ سے خارج کر دیتی ہے اور دوسری ’موالات صغریٰ‘ یا ’موالات دون موالات‘ یعنی کم تر درجے کی موالات، جو انسان کو دائرہ اسلام سے خارج نہیں کرتی۔

    یہ امر بھی موالات کبریٰ میں شامل ہے کہ مسلمانوں کے خلاف اہل شرک و کفر کی مدد ونصرت کی جائے،
    کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
    وَمَنْ یَّتَوَلَّہُمْ مِّنْکُمْ فَاِنَّہٗ مِنْہُمْ. (المائدہ 54:5)
    ’’اور اگر تم میں سے کوئی ان کو اپنا رفیق بناتا ہے، تو اس کا شمار بھی انہی میں سے ہے۔‘‘

    نیز فرمایا:
    لَا يَتَّخِذِ الْمُؤْمِنُوْنَ الْكٰفِرِيْنَ اَوْلِيَاءَ مِنْ دُوْنِ الْمُؤْمِنِيْنَ۰ۚوَمَنْ يَّفْعَلْ ذٰلِكَ فَلَيْسَ مِنَ اللہِ فِيْ شَيْءٍ (آل عمران 28:3)
    ’’مومنین اہل ایمان کو چھوڑ کر کافروں کو اپنا رفیق اور دوست ہرگز نہ بنائیں جو ایسا کرے گا اس کا اللہ سے کوئی تعلق نہیں۔‘‘
     
  2. ‏جون 25، 2014 #62
    محمد نعیم یونس

    محمد نعیم یونس خاص رکن
    شمولیت:
    ‏اپریل 27، 2013
    پیغامات:
    25,727
    موصول شکریہ جات:
    6,542
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,157

    سیکولرازم

    ٭ ہم یہ اعتقاد رکھتے ہیں کہ سیکولر ازم، جو مختلف نعروں، ناموں اور متنوع گروہوں کی صورت میں اطراف و اکنافِ عالم میں رائج ہے، امت مسلمہ اور اس کی ثقافت میں ایک فاسد اور اجنبی نظریہ ہے۔ یہ کھلا کفر اور دائرہ دین سے صریحاً نکلنے کے مترادف ہے۔ ’علمانیہ‘ یا سیکولرازم دین کو سیاست اور معاملاتِ زندگی سے جدا کرتا ہے اور یہ تصور پیش کرتا ہے کہ دین کا اُمور آئین و قانون اور انسانی حوائج و ضروریات سے کوئی تعلق نہیں۔ اس کے مطابق جو خدا کا ہے، یعنی مساجد و معابد، وہ خدا کو دینا چاہیے اور جو قیصر کا ہے، یعنی جملہ متعلقاتِ زندگی اور معاملاتِ حیات، وہ قیصر کے سپرد کرنا چاہیے۔ مزید برآں حصہ الٰہی تو قیصر کو دیا جاسکتا ہے، لیکن قیصر کا حصہ اللہ کو نہیں مل سکتا اور نہ ہی اللہ کو یہ حق یا خصوصیت حاصل ہے کہ وہ اس میں کسی نوع کی دخل اندازی کرسکے۔ جو شخص سیکولرازم پر اعتقاد رکھتا، اس کی طرف دعوت دیتا، اس کی نصرت و اعانت کرتا، اس کی خاطر برسر پیکار ہوتا یا اس کے مطابق فیصلے کرتا ہے، وہ کافر و مشرک ہے خواہ مسلمانوں کے سے نام رکھے اور اپنے آپ کو اہل اسلام میں شمار کرتا پھرے۔
    رب کریم فرماتا ہے:
    وَيَقُوْلُوْنَ نُؤْمِنُ بِبَعْضٍ وَّنَكْفُرُ بِبَعْضٍ۰ۙوَّيُرِيْدُوْنَ اَنْ يَّتَّخِذُوْا بَيْنَ ذٰلِكَ سَبِيْلًا۰ۙاُولٰۗىِٕكَ ہُمُ الْكٰفِرُوْنَ حَقًّا۰ۚوَاَعْتَدْنَا لِلْكٰفِرِيْنَ عَذَابًا مُّہِيْنًا (النساء 151:4)
    ’’ اور کہتے ہیں کہ ہم فلاں رسول پر تو ایمان لاتے ہیں اور فلاں کا انکار کرتے ہیں اور کفراور ایمان کےدرمیان(تیسری) راہ اختیار کرنا چاہتے ہیں۔ایسے ہی لوگ پکّے کافر ہیں اور ایسے کافروں کے لیے ہم نے وہ سزا مہیا کر رکھی ہے، جو انہیں ذلیل و خوار کر دینے والی ہوگی۔‘‘

    نیز فرمایا:
    فَقَالُوا هَـٰذَا لِلَّـهِ بِزَعْمِهِمْ وَهَـٰذَا لِشُرَ‌كَائِنَا ۖ فَمَا كَانَ لِشُرَ‌كَائِهِمْ فَلَا يَصِلُ إِلَى اللَّـهِ ۖ وَمَا كَانَ لِلَّـهِ فَهُوَ يَصِلُ إِلَىٰ شُرَ‌كَائِهِمْ ۗ سَاءَ مَا يَحْكُمُونَ ﴿١٣٦(الانعام 136:6)
    ’’ اور کہتے ہیں کہ یہ اللہ کے لیے ہے، بہ زعم خود، اور یہ ہمارے ٹھہرائے ہوئے شریکوں کے لیے۔ پھر جو حصہ ان کے ٹھہرائے ہوئے شریکوں کے لیے ہو وہ تو اللہ کو نہیں پہنچتا مگرجو اللہ کے لیے ہو وہ ان شریکوں کو پہنچ جاتا ہے۔ کیسے برے فیصلے کرتے ہیں یہ لوگ۔ ‘‘

    پس سیکولر ازم اور اللہ عزوجل کا دین نہ باہم مل سکتے ہیں، نہ مل جل کر رہ سکتے ہیں اور نہ ہی مومن کے دل میں جمع ہوسکتے ہیں۔
     
  3. ‏جون 25، 2014 #63
    محمد نعیم یونس

    محمد نعیم یونس خاص رکن
    شمولیت:
    ‏اپریل 27، 2013
    پیغامات:
    25,727
    موصول شکریہ جات:
    6,542
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,157

    جمہوریت

    ہم اسلام کو اپنا دین قرار دیتے ہیں اور اس کی مخالف ہر شے سے اظہار براء ت کرتے ہیں۔ ہم اس کے معارض و منافی تمام کفر یہ مناہج، ادیانِ باطلہ اور مذاہب فاسدہ کا انکار کرتے ہیں۔ عصرحاضر کی بدعت ’جمہوریت‘ بھی انھی میں شامل ہے۔جمہوریت بھی عصر حاضر کا ایک فتنہ ہے۔ یہ مخلوق کی الوہیت و حاکمیت کی بنیاد رکھتی اور فیصلہ، قانون سازی اور تشریع کی خاصیت اللہ تعالیٰ کے بہ جائے مخلوق کے سپرد کرتی ہے، نیز مخلوق کے ارادے اور فیصلے کو اللہ عزوجل کے فیصلے اور ارادے پر فوقیت دیتی ہے۔ یہ صریح اور واضح کفر اور دین سے خروج ہے، پس جو شخص مذکورہ مفہوم میں یعنی مغرب میں رائج جمہوریت پر اعتقاد رکھتا یا اس کی دعوت دیتا، یا اس کے مطابق فیصلہ کرتا یا اسے پسندیدہ سمجھتا ہے، تو وہ کافر و مرتد ہے خواہ وہ اپنی زبان سے یہ جھوٹا دعویٰ کرتا رہے کہ وہ مسلمانوں میں شامل ہے۔
    ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
    وَمَنْ يَّبْتَـغِ غَيْرَ الْاِسْلَامِ دِيْنًا فَلَنْ يُّقْبَلَ مِنْہُ۰ۚوَھُوَفِي الْاٰخِرَۃِ مِنَ الْخٰسِرِيْنَ (آل عمران85:3)
    ’’اور جو اسلام کے سوا کسی اور دین کا طالب بنے گا، تو وہ اس سے ہرگز قبول نہیں کیا جائے گا اور وہ آخرت میں نامرادوں میں سے ہوگا۔‘‘

    البتہ یہ بات بھی یاد رکھنی چاہیے کہ بہت سے لوگ لفظ ’جمہوریت‘ بہ کثرت استعمال کرتے ہیں، لیکن اس سے ان کی یہ کفریہ مراد نہیں ہوتی، بلکہ بعض کو تو یہی معلوم نہیں ہوتا کہ ’جمہوریت‘ کا حقیقی مفہوم کیا ہے؟ ان کی نظر میں جمہوریت، حریت فکر، حقوق انسانی اور ظلم و جبر اور آمریت کے خلاف اعلانِ جنگ سے عبارت ہے!! بہ طور مثال شیخ کبیر علی طنطاویؒ ہی کو لیجیے۔ وہ اپنی کتاب ’اخبار عمر‘ میں لکھتے ہیں کہ ’’سیدناعمر رضی اللہ کے قلب و ذہن میں جمہوریت کا تصور پہلے ہی دن سے موجود تھا، جو بعد ازاں ترقی کرتا گیا اور ان کے عہد خلافت میں کمال و عروج تک پہنچا۔‘‘ گویا سیدنا فاروقؓ کا عدل و انصاف اور دیگر کارہائے نمایاں کی بنیاد، ان کی جمہوری فکر تھی نہ کہ یہ امر کہ انھوں نے درس گاہِ رسالت مآب میں پیغمبرﷺ کے ہاتھوں تربیت پائی تھی!! اندازہ کیجیے کہ جب ’شیخ کبیر‘ ہی اس غلط فہمی کا شکار ہیں، تو دیگر لوگ جو علم و فکر میں ان سے کہیں فروتر ہیں، ان کی کیا کیفیت ہوگی؟ لیکن اس کے باوصف اگر علامہ طنطاوی سے دریافت کیا جائے کہ کیا آپ سیدنا عمررضی اللہ عنہ کی طرف منسوب جمہوریت سے وہی مراد لیتے ہیں جو تصور مغرب یا مشرق کے بعض خطوں میں مروج ہے؟ تو یقینا جواب نفی میں آئے گا۔ فلہٰذا، باوجودیکہ یہ لوگ شدید غلطی کے مرتکب ہیں، کسی طور ان کی تکفیر نہ کرنی چاہیے اور نہ انھیں خارج از ملت قرار دینا چاہیے۔ ان کے بارہ میں یہ بھی نہیں کہنا چاہیے کہ یہ دین اسلام کے علاوہ کسی اور دین و مذہب کے خواہاں ہیں۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ جلد باز نوجوان اس طرح کے مطلق اقوال، جن میں متعدد پہلوؤں کا احتمال ہوتا ہے، کو ہر اس شخص پر چسپاں کردیتے ہیں، جو جمہوریت کا نام لیتا ہے۔ انھیں اس سے کوئی غرض نہیں ہوتی کہ ’جمہوریت‘ کے حق میں بات کرنے والا اس سے کیا مراد لے رہا ہے، وہ فوراً ان پر کفر اور دایرئہ اسلام سے خارج ہونے کا فتویٰ لگا دیتے ہیں۔

    ٭ ہم انتخابات میں شریک ہونے والے لوگوں کی عمومی تکفیر نہیں کرتے، کیونکہ اس شرکت کے یہ معنی نہیں ہیں کہ وہ تمام ’اربابِ شریعت ساز‘ کے طالب ہیں، بلکہ ان میں سے کئی لوگوں کا مطمح نظر یہ ہوتا ہے کہ وہ دنیوی و معاشی خدمات کے لیے اپنے نمایندے منتخب کرسکیں۔

    ٭ ہم کہتے ہیں کہ ’تشریعی انتخابات‘ میں شریک ہونا ایک کفر یہ عمل ہے، لیکن ہم عمومی تکفیر نہیں کرتے، بلکہ ہم اس تفریق کے قائل ہیں کہ کسی شخص کا ’کفر یہ عمل‘ کرنا ایک شے ہے اور اس پر حکم کفر کا انطباق امر دیگر۔ بعض اوقات کسی فرد پر کفر کے اطلاق و نفاذ کے لیے اقامت حجت ضروری ہوتی ہے، خصوصیت سے جب مسائل میں اشکالات پائے جائیں اور مرتکب کفر کے احوال التباس کا شکار ہوں۔ پھر اس طرح کے معاملات میں یہ احتمال بھی ہوتا ہے کہ اس کا ارادہ و قصد مبنی بر کفر ہی نہ ہو۔

    ٭ اسی طرح کوئی اسمبلی کے انتخابات میں اس نیت سے حصہ لے کہ میں منتخب ہوکر ایک نشست کو اشتراکیت پسند اور ملحد لوگوں کی رسائی سے بچا سکوں تاکہ وہ اپنے باطل افکار و نظریات کی ترویج و تائید میں اس سے مدد نہ لے سکے، نیز اگر موقع ملے تو اسے مصالح دین و ملت کے لیے استعمال کیا جاسکے۔ بلا شبہ یہ تاویلات درست نہیں ہیں اور ان کی غلطی واضح کرنا چاہیے، البتہ یہ تکفیر میں بہ ہر حال مانع ہیں۔ تفصیل بالا کے قطعاً یہ معنی نہیں ہیں کہ کسی رکن پارلیمنٹ کی معین تکفیر کی ہی نہیں جاسکتی۔ جو شخص ان میں سے کفر بواح کا مرتکب ٹھہرے اور پوری صراحت کے ساتھ اپنے آپ کواللہ کے ساتھ تشریع و قانون سازی کے حق میں شریک سمجھے، تو اس کی معین تکفیر لازماً کرنی چاہیے۔
     
  4. ‏جون 25، 2014 #64
    محمد نعیم یونس

    محمد نعیم یونس خاص رکن
    شمولیت:
    ‏اپریل 27، 2013
    پیغامات:
    25,727
    موصول شکریہ جات:
    6,542
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,157

    کافر حکمران

    ٭ ہم اس حکمران کے کفر کا عقیدہ رکھتے ہیں جو شریعت الٰہی کو کفریہ قوانین و دساتیر سے بدل ڈالتا ہے۔ یہی حال اس حاکم کا ہے جو خاصیت تشریع و قانون سازی میں اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کا ہمسر ٹھیراتا اور اللہ عزوجل کی شرع کے بالمقابل شریعت سازی کرتا ہے۔ جو حکمران شریعت الٰہیہ سے انحراف کرتے ہوئے اپنے معاملات و مقدمات قوانین ِ طاغوت کے سامنے پیش کرتا ہے اور ان طاغوتی قوانین کو شرع الٰہی پر مقدم ٹھیراتا ہے، وہ بھی کافر ہے۔

    ٭ ہم اس حکمران کے کفر کا بھی اعتقاد رکھتے ہیں، جو کفر و شرک کی بنیاد پر فیصلے کرتا ہے۔ اسی طرح وہ حکمران جو قوانین و دساتیر کفر کی حفاظت کرتا اور ان کی خاطر میدانِ جنگ میں اترتا ہے ، اور وہ حکمران جو حکم الٰہی کو تکبّر، جحود، عناد، ناپسندیدگی یا استحلال کی بنا پر رد کر دیتا ہے، اور وہ حکمران جو شریعت اسلامیہ کےمطابق کسی طور ہی فیصلے نہیں کرتا، اور وہ حکمران جو شریعت الٰہی کے خلاف برسرِ پیکار ہوتا ہے اور ان لوگوں سے جنگ کرتا ہے جو اللہ کی اتاری ہوئی شریعت کے مطابق فیصلہ کرنے کی دعوت دیتے ہیں، محض اس بنا پر کہ وہ اللہ رب العزت کے نازل کردہ قوانین کے موافق فیصلہ کرنے کی طرف بلاتے ہیں، اور وہ حکمران جو امت مسلمہ کے خلاف دشمنانِ ملت سے محبت و دوستی رکھتا ہے اور احکامات الٰہیہ کے نفاذ سے زیادہ ان کے احکامات اور منصوبوں کو امت میں نافذ کرنے کی خواہش رکھتا ہے، تو یہ تمام حکمران کافر ہیں۔ جو حاکم بھی اوپر بیان شدہ خصایل میں سے کسی خصلت کو یقینی طور پر اپناتا ہے، وہ کافر اور مرتد ہے۔ اس کی اطاعت و فرمانبرداری جائز ہے، نہ ہی مسلمانوں اور ان کے خطوں پر اُسے بالادستی و اقتدار کا حق حاصل ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ قدرت و استطاعت موجود ہو تو اسے برطرف کرنا اور اس کے خلاف خروج و بغاوت کرنا واجب ہے۔

    ٭ اوپر جن حکمرانوں کا تذکرہ ہوا ہے ان تمام کے کفر کی دلیل اللہ عزوجل کا یہ ارشاد ہے:

    وَمَنْ لَّمْ يَحْكُمْ بِمَآ اَنْزَلَ اللہُ فَاُولٰىِٕكَ ہُمُ الْكٰفِرُوْنَ (المائدہ 44:5)
    ’’ اور جو لوگ اللہ کے نازل کردہ قانون کے مطابق فیصلہ نہ کریں وہی کافر ہیں۔‘‘

    نیز ارشاد ربانی ہے:
    وَلَا يُشْرِكُ فِيْ حُكْمِہٖٓ اَحَدًا (الکہف 26:18)
    ’’اور وہ اپنے حکم (قانون) میں کسی کو شریک نہیں کرتا۔‘‘

    نیز فرمایا:
    اَمْ لَہُمْ شُرَكٰۗؤُا شَرَعُوْا لَہُمْ مِّنَ الدِّيْنِ مَا لَمْ يَاْذَنْۢ بِہِ اللہُ۰ۭ .(الشوریٰ 21:42)
    ’’کیا ان لوگوں نے اللہ کےایسے شریک مقرر کر رکھے ہیں جنہوں نے ایسے احکام دین مقرر کر دئیے ہیں جو اللہ کے فرمائے ہوئے نہیں ہیں ۔‘‘

    نیز فرمایا:
    اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِيْنَ يَزْعُمُوْنَ اَنَّھُمْ اٰمَنُوْا بِمَآ اُنْزِلَ اِلَيْكَ وَمَآ اُنْزِلَ مِنْ قَبْلِكَ يُرِيْدُوْنَ اَنْ يَّتَحَاكَمُوْٓا اِلَى الطَّاغُوْتِ وَقَدْ اُمِرُوْٓا اَنْ يَّكْفُرُوْا بِہٖ۰ۭوَيُرِيْدُ الشَّيْطٰنُ اَنْ يُّضِلَّھُمْ ضَلٰلًۢا بَعِيْدًا (النساء 60:4)
    ’’اے نبی! تم نے دیکھا نہیں ان لوگوں کو جو دعویٰ تو کرتے ہیں کہ ہم ایمان لائے ہیں اس کتاب پر جو تمہاری طرف نازل کی گئی ہے اور ان کتابوں پر جو تم سے پہلے نازل کی گئی تھیں، مگر چاہتے ہیں کہ اپنے معاملات کا فیصلہ کرانے کے لیے طاغوت کی طرف رجوع کریں ، حالانکہ انہیں طاغوت سے کفر کرنے کا حکم دیا گیا تھا۔ شیطان انہیں بھٹکا کر راہِ راست سے بہت دور لے جانا چاہتا ہے۔‘‘

    نیز ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
    فَلَا وَرَبِّكَ لَا يُؤْمِنُوْنَ حَتّٰي يُحَكِّمُوْكَ فِيْمَا شَجَرَ بَيْنَھُمْ ثُمَّ لَا يَجِدُوْا فِيْٓ اَنْفُسِہِمْ حَرَجًا مِّمَّا قَضَيْتَ وَيُسَلِّمُوْا تَسْلِيْمًا (النساء 65:4)
    ’’ اے محمدﷺ! تیرے رب کی قسم یہ کبھی مومن نہیں ہو سکتے جب تک کہ اپنے باہمی اختلافات میں یہ تم کو فیصلہ کرنے والا نہ مان لیں، پھر جو کچھ تم فیصلہ کرو اس پر اپنے دلوں میں بھی کوئی تنگی نہ محسوس کریں، بلکہ سر بسر تسلیم کر لیں۔‘‘

    نیز رب کریم نے فرمایا:
    إِنَّ الَّذِينَ ارْ‌تَدُّوا عَلَىٰ أَدْبَارِ‌هِم مِّن بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُمُ الْهُدَى ۙ الشَّيْطَانُ سَوَّلَ لَهُمْ وَأَمْلَىٰ لَهُمْ ﴿٢٥﴾ ذَٰلِكَ بِأَنَّهُمْ قَالُوا لِلَّذِينَ كَرِ‌هُوا مَا نَزَّلَ اللَّـهُ سَنُطِيعُكُمْ فِي بَعْضِ الْأَمْرِ‌ ۖ وَاللَّـهُ يَعْلَمُ إِسْرَ‌ارَ‌هُمْ ﴿٢٦(محمد 25,26:47)
    ’’جو لوگ اپنی پیٹھ کے بل اُلٹے پھر گئے اس کے بعد کہ اُن کے لیے ہدایت واضح ہو چکی یقینا شیطان نے اُن کو فریب دیااوراللہ نے انہیں ڈھیل دے رکھی ہے۔ اسی لیے انہوں نے اللہ کے نازل کردہ دین کو ناپسند کرنے والوں سے کہہ دیا کہ بعض معاملات میں ہم تمہاری مانیں گے، اللہ ان کی یہ خفیہ باتیں خوب جانتا ہے۔‘‘

    نیز فرمایا:
    ذٰلِكَ بِاَنَّہُمْ كَرِہُوْا مَآ اَنْزَلَ اللہُ فَاَحْبَطَ اَعْمَالَہُمْ (محمد 9:47)
    ’’کیونکہ انہوں نے اس چیز کو ناپسند کیا، جسے اللہ نے نازل کیاہے۔ لہٰذا اللہ نے ان کے اعمال ضائع کر دیے۔‘‘

    نیز پروردگار عالم کا ارشاد ہے:
    وَيَقُوْلُوْنَ اٰمَنَّا بِاللہِ وَبِالرَّسُوْلِ وَاَطَعْنَا ثُمَّ يَتَوَلّٰى فَرِيْقٌ مِّنْہُمْ مِّنْۢ بَعْدِ ذٰلِكَ۰ۭوَمَآ اُولٰىِٕكَ بِالْمُؤْمِنِيْنَ (النور 47:24)
    ’’ یہ لوگ کہتے ہیں کہ ہم ایمان لائے اللہ اور رسول ﷺ پر اور ہم نے اطاعت قبول کی، مگر اس کے بعد ان میں سے ایک گروہ (اطاعت سے) منہ موڑ جاتا ہے۔ ایسے لوگ ہر گز مومن نہیں ہیں۔‘‘

    یہ تمام آیات مقدم الذکر ’طواغیت الحکم‘ یعنی طاغوتی حکمرانوں کے کفر پر صحیح طور پر دلیل بننے کے لائق ہیں۔

    چنانچہ یہ مسئلہ ایک ہی آیت میں محصور نہیں ہے جیسا کہ بعض لوگ ایسا باور کراتے ہیں، کہ آیت کریمہ ’وَمَنْ لَّمْ یَحْکُمْ بِمَآ اَنْزَلَ اللّٰہُ فَاُولٰٓئِکَ ہُمُ الْکٰفِرُوْنَ‘ ہی اس مسئلہ سے متعلق ہے۔ اس سے ان کا مقصود یہ ہے کہ مذکورہ آیت کی تفسیر ، مفاہیم و مطالب اور شانِ نزول میں معرکہ بحث وجدل بپا کرسکیں، گویا مسئلہ زیر بحث پر کتاب اللہ اور سنت ِ رسول ﷺ سے کوئی دلیل ہی موجود نہیں سواے اس ایک آیت ِ مبارکہ کے!!

    ہم یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ جو حکمران اللہ عزوجل کے نازل کردہ قوانین کے مطابق فیصلے نہیں کرتے، ان میں سے بعض کا کفر، کمتر درجے کا یعنی ’کفردون کفر‘ بھی ہو سکتا ہے۔ تاہم سطورِ بالا میں جن حکمرانوں کا تذکرہ گزرا ہے، ان کا کفر، ’کفر دون کفر‘ یا ’کفرِ اصغر‘ نہیں، بلکہ کفرِ اکبر ہی ہے۔

    کفر کی ایک قسم کفر اکبر ہے، جس کا مرتکب ملت اسلامیہ سے خارج ہو جاتا ہے اور اس کی دوسری قسم کفر اصغر ہے، جو انسان کو دائرہ اسلام سے خارج نہیں کرتا۔ شرک ، ظلم، فسق اور نفاق کی بھی یہی صورتحال ہے یعنی ان میں سے ہر ایک کی دو دو قسمیں ہیں۔
     
  5. ‏جون 25، 2014 #65
    محمد نعیم یونس

    محمد نعیم یونس خاص رکن
    شمولیت:
    ‏اپریل 27، 2013
    پیغامات:
    25,727
    موصول شکریہ جات:
    6,542
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,157

    کفر و شرک میں باہمی نسبت

    ہر کفر، شرک ہے اور ہر شرک ، کفر ہے۔ ہر کافر، مشرک اور ہر مشرک، کافر ہے۔ جب شرک کا مطلقاً ذکر کیا جائے، تو یہ لازماً کفر کو شامل ہوتا ہے۔ اسی طرح جب علی الاطلاق کفر کا تذکرہ ہو تو لازمی طور پر شرک بھی اس میں داخل ہوتا ہے۔ البتہ جب یہ کسی ایک ہی تعبیر یا نص میں اکٹھے استعمال ہوں، مثلاً یوں کہا جائے، کہ یہ کفر و شرک ہے یا فلاں کافر و مشرک ہے، تو اس صورت میں حکم اور وعید کے اعتبار سے تو یہ مجتمع ہوں گے، لیکن اپنے لغوی مفہوم کی بنا پر دونوں مختلف ہوں گے۔

    اسی طرح ہم یہ کہتے ہیں کہ ہر کفر وشرک ، ظلم و فسق ہے، لیکن ہر ظلم و فسق کو کفر و شرک نہیں کہا جا سکتا۔ ایسے ہی ہر کافر و مشرک ظالم و فاسق ہے، مگر ہر ظالم و فاسق، کافر و مشرک نہیں ہے۔

    کفر اکبر کی دو قسمیں ہیں:

    کفر مجرد:
    ٭ کفر مغلظ و مرکب، یہ وہ کفر ہے جس کے ساتھ جنگ و قتال ، طعن، استہزاء، قتل، دھوکا و فریب، سازش اور غداری وغیرہ بھی شامل ہو۔
    ان دونوں کے اپنے اپنے خاص احکام ہیں۔ جس طرح ایمان بعض مخصوص اعمال کی بنا پر کم ہوتا ہے، اسی طرح کفر بھی مخصوص و معین افعال کی بنا پر بڑھ جاتا ہے۔

    رب ذوالجلال فرماتا ہے:
    اِنَّ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا بَعْدَ اِيْمَانِہِمْ ثُمَّ ازْدَادُوْا كُفْرًا لَّنْ تُقْبَلَ تَوْبَتُھُمْ۰ۚوَاُولٰىِٕكَ ھُمُ الضَّاۗلُّوْنَ (آل عمران 90:3)
    ’’ مگر جن لوگوں نے ایمان لانے کے بعد کفر اختیار کیا، پھر اپنے کفر میں بڑھتے چلے گئے ان کی توبہ بھی قبول نہ ہوگی۔ ایسے لوگ تو پکے گمراہ ہیں۔‘‘

    نیز فرمایا:
    الَّذِيْنَ يَبْخَلُوْنَ وَيَاْمُرُوْنَ النَّاسَ بِالْبُخْلِ وَيَكْتُمُوْنَ مَآ اٰتٰىھُمُ اللہُ مِنْ فَضْلِہٖ۰ۭوَاَعْتَدْنَا لِلْكٰفِرِيْنَ عَذَابًا مُّہِيْنًاۚ (النساء 37:4)
    ’’ بلا شبہ وہ لوگ جو ایمان لائے، پھر کفر کیا، پھر ایمان لائے، پھر کفر کیا، پھر اپنے کفر میں بڑھتے چلے گئے، تو اللہ ہر گز ان کو معاف نہ کرے گا اور نہ کبھی ان کو راہِ راست دکھائے گا۔‘‘
     
  6. ‏جون 25، 2014 #66
    محمد نعیم یونس

    محمد نعیم یونس خاص رکن
    شمولیت:
    ‏اپریل 27، 2013
    پیغامات:
    25,727
    موصول شکریہ جات:
    6,542
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,157

    ارتداد

    ٭ جہاں تک ارتداد کا تعلق ہے، تو اس میں یہ تقسیم نہیں ہے کہ ایک ارتداد کم تر درجے کا یعنی ارتدادِاصغر ہے اور دوسرا ارتدادِ اکبر ہے، بلکہ ارتداد یا تو مجرد ہوگا یا مغلظ، اور دونوں کی بنا پر انسان دائرہ اسلام سے خارج ہو جاتا ہے۔

    ان دونوں میں فرق یہ ہے کہ ارتداد مجرّد میں سنت یہ ہے کہ مرتد سے توبہ کا مطالبہ کیا جائے گا۔ اگر وہ توبہ کرے تو بہتر، ورنہ خلیفۃ المسلمین اسے قتل کرنے کا حکم دے گا۔ جبکہ ارتداد مغلظ کے مرتکب سے توبہ کا تقاضا کیے بغیر ہی اسے موت کے گھاٹ اتارنے کا حکم ہے، تاہم وہ قابو آنے سے پہلے ہی توبہ کرلے، تو یہ اس کے حق میں مفید ہے۔
     
  7. ‏جون 25، 2014 #67
    محمد نعیم یونس

    محمد نعیم یونس خاص رکن
    شمولیت:
    ‏اپریل 27، 2013
    پیغامات:
    25,727
    موصول شکریہ جات:
    6,542
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,157

    توبہ

    ٭ ہم اس امر کا اعتقاد رکھتے ہیں کہ سچی توبہ سابقہ گناہوں اور معاصی کا خاتمہ کرتی اور انہیں مٹا دیتی ہے، خواہ شرک و کفر ہی کیوں نہ ہو۔ نیز یہ کہ توبہ کا دروازہ بند نہیں ہوتا، تاآنکہ نزع کی کیفیت طاری ہو جائے اور موت کا مشاہدہ ہو جائے۔
    پاک پروردگار فرماتا ہے:
    وَلَيْسَتِ التَّوْبَۃُ لِلَّذِيْنَ يَعْمَلُوْنَ السَّيِّاٰتِ۰ۚحَتّٰٓي اِذَا حَضَرَ اَحَدَھُمُ الْمَوْتُ قَالَ اِنِّىْ تُبْتُ الْـٰٔنَ وَلَا الَّذِيْنَ يَمُوْتُوْنَ وَھُمْ كُفَّارٌ۰ۭاُولٰىِٕكَ اَعْتَدْنَا لَھُمْ عَذَابًا اَلِيْمًا(النساء 18:4)
    ’’ مگر توبہ ان لوگوں کے لیے نہیں ہے جو برے کام کیے چلے جاتے ہیں یہاں تک کہ جب ان میں سے کسی کی موت کا وقت آجاتا ہے اس وقت کہتا ہے کہ اب میں نے توبہ کی اور اس طرح توبہ ان لوگوں کے لیے بھی نہیں ہے جو مرتے دم تک کافر رہیں۔ ایسے لوگوں کے لیے تو ہم نے دردناک سزا تیار کر رکھی ہے۔‘‘
     
  8. ‏جون 25، 2014 #68
    محمد نعیم یونس

    محمد نعیم یونس خاص رکن
    شمولیت:
    ‏اپریل 27، 2013
    پیغامات:
    25,727
    موصول شکریہ جات:
    6,542
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,157

    مصلحت اور فتنہ

    ٭ ہمارا عقیدہ ہے کہ توحید سب سے عظیم مصلحت ہے، جس کے حصول کی راہ میں دیگر تمام مقاصد و مصالح ہیچ ہیں اور شرک ظلم عظیم ہے، جس سے بڑھ کر کوئی ظلم نہیں ہے اور یہ سب سے بڑافتنہ ہے، اس سے بڑھ کر کوئی اور فتنہ نہیں۔ اس کے استیصال و خاتمے کے راستے میں تمام فتنے اور مفاسد ہلکے ہیں،
    جیسا کہ اللہ تبارک و تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:
    اِنَّ الشِّرْکَ لَظُلْمٌ عَظِیْمٌ. (لقمان 13:31)
    ’’بےشک شرک بہت بڑا ظلم ہے۔‘‘

    نیز فرمایا:
    وَالْفِتْنَۃُ اَشَدُّ مِنَ الْقَتْلِ
    ’’فتنہ (شرک) قتل سے بھی زیادہ سخت ہے۔‘‘

    اور فرمایا:
    وَقَاتِلُوْہُمْ حَتّٰي لَا تَكُوْنَ فِتْنَۃٌ وَّيَكُوْنَ الدِّيْنُ كُلُّہٗ لِلہِ۰ۚ (الانفال:39)
    ’’ اور ان کافروں سے قتال کرو یہاں تک کہ فتنہ باقی نہ رہے اور دین پورے کاپورا اللہ کے لیے ہو جائے۔‘‘

    پس حقیقی فتنہ شرک قبول کرنے، اس پر راضی ہونے اور اس پر خاموش رہنے میں ہے، اس کے خلاف جہاد کرنے، اس کے استیصال اور اس کے مٹانے میں کوئی فتنہ نہیں ہے، جیسا کہ بعض لوگ باور کراتے ہیں۔
     
  9. ‏جون 25، 2014 #69
    محمد نعیم یونس

    محمد نعیم یونس خاص رکن
    شمولیت:
    ‏اپریل 27، 2013
    پیغامات:
    25,727
    موصول شکریہ جات:
    6,542
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,157

    بدعات

    ٭ معاشرے میں رائج بدعات، یکساں حیثیت کی حامل نہیں ہوتیں، بلکہ بعض بدعات، مکفرہ (کفریہ) ہوتی ہیں اور بعض بدعات، کفر سے کم تر درجے کی ہوتی ہیں،جو کفر کے درجہ کو نہیں پہنچتیں۔

    ٭ یہ قاعدہ کہ ’جو شخص،کسی کافر کی تکفیر نہیں کرتا، وہ کافر ہے‘ تو اس سے متعلق ہمارا نقطہ نظر یہ ہے کہ اسے ہمارے ائمہ نے کفر کی بعض اقسام پر سختی اور ان سے نفرت دلانے کے لیے استعمال کیا ہے، نہ کہ اس تسلسل بدعی کے لیے، جو غالی تکفیریوں کی ایجاد ہے۔ یہ قاعدہ، علی الاطلاق نہیں ہے، بلکہ اس شخص سے متعلق ہے، جو کسی کافر کی عدم تکفیر سے کسی ایسی نص کی تکذیب و تردید کرے، جو ثبوت اور دلالت ہر دو اعتبار سے قطعیت کے مقام پر فایز ہو۔

    ٭ جو شخص کسی ایسے فرد کی تکفیر نہیں کرتا، جس کا کفر ہمارے نزدیک ثابت ہے، لیکن اس پر کفر کا حکم لاگو کرنے کے لیے تکفیر کے شرائط و موانع اور شرعی دلائل میں غور و فکر کی ضرورت ہے، مثلاً غیر شرعی قوانین کے مطابق فیصلے کرنے والے حکام اور ان کے عساکر، تو اگر کوئی شخص بعض شبہات کی وجہ سے ان پر کفر کا حکم عائد کرنے میں توقف کرتا ہے، تو اس پر مذکورہ قاعدہ منطبق نہیں ہوتا، کیونکہ اس نے کسی شرعی نص کی تکذیب و تردید نہیں کی۔ یہ شخص دراصل شرعی دلائل میں جمع و توفیق نہیں کرپاتا، یا ایک دلیل کو دوسری پر مقدم ٹھہراتا ہے، یا کوئی اور سبب بھی ہوسکتا ہے۔ عام طور پر جو لوگ علوم آلیہ یا اصول اجتہاد میں خام ہوتے ہیں، ان کی یہی کیفیت ہوتی ہے، تو ایسا شخص ہمارے نزدیک قطعاً کافر نہیں ہے، بہ شرطیکہ ہمارے ساتھ اس کا اختلاف، الفاظ و اسما ءیعنی دلائل تک محدود رہے، البتہ اگر اس کی بناء پر وہ دین کفار قبول کرلے، یا ان کی مدد و نصرت کرنے لگے، یا ان سے تولی یعنی محبت و الفت کے جذبات رکھے اور اہل توحید کے خلاف کافروں کا ساتھ دے، تو یہ کفر اکبر ہے۔
     
  10. ‏جون 25، 2014 #70
    محمد نعیم یونس

    محمد نعیم یونس خاص رکن
    شمولیت:
    ‏اپریل 27، 2013
    پیغامات:
    25,727
    موصول شکریہ جات:
    6,542
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,157

    خوارج

    ٭ ہم بارگاہ الٰہی میں خوارج اور موجودہ زمانے میں ان کے غالی تکفیری پیروکاروں کی انتہا پسندی اور گمراہیوں سے اظہار براء ت کرتے ہیں۔ ہم ان سے اور ان کے غلو و ظُلم سے متنبہ کرتے اور نصیحت کرتے ہیں کہ ان سے کنارہ کش رہا جائے اور ان کے ساتھ نشست و برخاست سے اجتناب کیا جائے۔ البتہ ایسے شخص کے ساتھ بیٹھنا درست ہے جس کے بارے میں محسوس ہو کہ وہ رشدو ہدایت کا خواہاں اور طلب حق کی آرزو رکھتا ہے۔ ایسی صورت میں کوئی طالبِ علم یا ایسا شخص اس سے مجلس کر سکتا ہے، جو ا س پر قیام حجت کی استطاعت و اہلیت رکھتا ہو اور راہ راست کی طرف اس کی رہنمائی کر سکے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ان کے جامد سروں پر درّے مسلط رکھنا ان سے مباحثہ و مکالمہ کی نسبت ان کے لیے زیادہ مفید ہے۔
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں