1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

عقیدہ وحدت الوجود

'دیوبندی' میں موضوعات آغاز کردہ از محمد طالب حسین, ‏دسمبر 28، 2014۔

  1. ‏دسمبر 28، 2014 #1
    محمد طالب حسین

    محمد طالب حسین رکن
    جگہ:
    ہارون آباد
    شمولیت:
    ‏فروری 06، 2013
    پیغامات:
    156
    موصول شکریہ جات:
    91
    تمغے کے پوائنٹ:
    85

    عقیدہ وحدت الوجود:
    مقلد حاجی امداد اللہ مفرور مکی فرماتے ہیں ۔نکتہ شناسا مسلہ وحدت الوجو حق و صحیح ہے اس مسلے میں کوئی شک و شبہ نہیں ہےفقیر و مشائخ فقیر اور جن لوگوں نے فقیر سے بیعت کی ہے سب کا اعتقاد یہی ہے مولوی محمد قاسم صاحب مرحوم ، مولوی رشید احمد صاحب ومولوی محمد یعقوب صاحب مولوی احمد حسن صاحب وغیرہ فقیر کے عزیز ہیں۔اور فقیر سے تعلق رکھتے ہیں کبھی اعتقادات فقیرو خلاف مشر ب مشائخ طریق خود مسلک اختیار نہ کریں گے۔ ( شمائم امدایہ ص 23 و کلیات امدادیہ ص 219 )
    مزید ارشاد فرماتے ہیں : اس مرتبہ میں خدا کا خلیفہ ہو کر لوگوں کو اس حد تک پہنچاتا ہے اور ظاہر میں بندہ اور باطن میں خدا ہو جاتا ہے اس مقام کو برزخ البرزاخ کہتے ہیں ۔ ( کلیات امدادیہ ص 36 ضیاء القلوب ص 35،36 )
    مقلد مولوی رشید احمد گنگوہی فرماتے ہیں۔ یا اللہ معاف فرمانا کہ حضرت کے اشاد سے تحریر ہوا ہے جھوٹا ہوں کچھ نہیں ہوں تیرا ہی ظل ہے تیرا ہی وجود ہے میں کیا ہوں کچھ نہیں ہوں جو میں ہوں وہ تو ہے اور میں اور تو خود شرک در شرک ہے۔ استغفراللہ ۔
    (مکاتب رشید ص 10 و فضائل صدقات ص 556 حصہ دوم)
    مقلد ضامن علی جلال آبادی نے ایک زانیہ کو کہا بی بی تم شرماتی کیوں ہو ؟ کرنے والا کون کرانے والا کون وہ تو وہی ہے ۔( تذکرۃ الرشید ص 242 ج 2 )
    گنگوہی صاحب ضامن علی کے بارے میں فرماتے ہیں ۔ تو حید میں غرق تھے۔( تذکرۃ الرشید ص 242 )
    مقلد محمد انور شاہ کشمیری فرماتے ہیں:
    کنت سمہ الذی کے کہ معنی بیان کرنا کہ بندہ کے کان آنکھ وغیرہ اعضاء حکم الٰہی کی نافرمانی نہیں کرتے حق الفاظ سے عدول کرنا ہے اس لیے کہ کنت سمہ الذی میں کنت صیغہ متکلم اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ متقرب بالنوافل
    یعنی بندہ میں سوائے جسد و صورت کے کوئی چیز باقی ہی نہیں رہی اور اس میں صرف اللہ تعالیٰ ہی متصرف ہے
    اور یہی وہ معنی ہیں جن کوحضرات صوفیاء کرام نے فنا فی اللہ سے تعبیر کرتے ہیں ۔یعنی بندہ کا دواعی نفس
    بلکل پاک ہو جاتا ہے یہاں تک کہ اس بندہ میں اللہ کے سوا کوئی شئی قطعا متصرف نہ رہے اور یہ وحدت الوجود کی طرف چمکتا ہوا اشارہ ہے ۔( فیض الباری ص 28 4 ج 4 )
    حوالہ۔ حدیث اور اہل تقلید بجواب حدیث اور اہل حدیث جلد 1 ۔
    http://kitabosunnat.com/kutub-libra...eed-ba-jawab-hadith-aur-ahl-hadith-jild1.html
     
    Last edited: ‏دسمبر 28، 2014
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں