1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

عقیقہ اور اس کے احکام۔ غازی عزیز

'احکام ومسائل' میں موضوعات آغاز کردہ از عزیر ادونوی, ‏مئی 03، 2019۔

  1. ‏مئی 03، 2019 #1
    عزیر ادونوی

    عزیر ادونوی مبتدی
    جگہ:
    ادونی،، ہند.
    شمولیت:
    ‏جون 05، 2018
    پیغامات:
    27
    موصول شکریہ جات:
    0
    تمغے کے پوائنٹ:
    17

    عقیقہ اور اس کے احکام
    غازی عزیر

    پس منظر:

    یہ مضمون لکھنے کا داعیہ جناب مولانا محمد یوسف لدھیانوی صاحب کا ایک فتویٰ پڑھ کر پیدا ہوا۔ جو آں موصوف نے ، ماہناہ ''اقراء ڈائجسٹ'' کراچی کے مجریہ ماہ جولائی 1985ء میں''دینی مسائل کا فقہی حل'' کے مستقل عنوان کے تحت، ایک مستفتی کا جواب دیتے ہوئے تحریر فرمایا، انہوں نے لکھا ہے کہ:
    ''جن جانوروں کی قربانی جائز ہے ان سے عقیقہ بھی جائز ہے۔بھینس بھی ان جانوروں میں شامل ہے۔اسی طرح جن جانوروں میں سات حصے قربانی کے ہوسکتے ہیں ان میں سات حصے عقیقے کے بھی ہوسکتے ہیں اور ایک لڑکے کے عقیقہ میں گائے ذبح کی جاسکتی ہے۔''1

    یہ فتویٰ پڑھ کر راقم الحروف نے اپنے ایک رفیق کار جناب مولانا سید احمد قادری صاحب (جو ماہنامہ اقراءڈائجسٹ کے مستقل خریدار بھی ہیں) کی معرفت مدیر ماہنامہ ''اقراء ڈائجسٹ'' کراچی اور مولانا محمد یوسف لدھیانوی صاحب کو 22 جولائی 1985ء کو خطوط ارسال کیے اور ان سے اس فتویٰ کی وضاحت اور اس کے شرعی دلائل کتاب و سنت کی روشنی میں طلب کیے۔ ان دونوں خطوط کے جوابات تاہنوز راقم کو براہ راست موصول ہوئے اور نہ ہی ''اقراء ڈائجسٹ'' میں شائع کیے گئے بلکہ ماہ ستمبر 85ء کے ماہنامہ مذکورہ کے اسی ''دینی مسائل کا فقہی حل'' کے زیر عنوان مزید یہ فتویٰ دیا گیا کہ:
    ''گائے ، بیل اور اونٹ وغیرہ میں قربانی کے حصوں کے ساتھ عقیقہ کے حصے بھی شامل کیے جاسکتے ہیں۔''2

    اسی مجریہ کے چند صفحات آگے یہ تحریر فرمایا گیا ہے:
    ''لڑکے کے عقیقہ میں دو بکرے یا دو حصے دینا مستحب ہے۔الخ''3

    اسی ماہنامہ کے اگلے مجریہ میں عقیقہ کے متعلق ایک استفتاء اور اس کا جواب شائع ہوا ہے، جو ہدیہ ناظرین ہے:
    '' (سوال) کیا عقیقہ پر خرچ ہونے والی رقم کسی قریبی رشتہ دار پر (جو غریب اور محتاج ہے) خرچ کی جاسکتی ہے یا نہ۔ ان دونوں ذمہ داریوں میں اوّلیت کسی کو دی جائے، رشتہ دار کی خبر گیری اور اس پر خرچہ وغیرہ کی ذمہ داری کو یا عقیقہ سے عہدہ برآ ہونے کی ذمہ داری کو؟ الخ''

    ''(جواب) عقیقہ میں خرچ ہونے والی رقم اپنے رشتہ دار محتاج کو دے دیں کیونکہ ایسی حالت میں اس کی اعانت کرنا ضروری ہے لہٰذا اس کو اوّلیت دی جائے گی۔''4

    ان تمام وسائل کے جو جوابات مولانی یوسف لدھیانوی صاحب نے خود یا ان کی استفتاء کی ٹیم نے دیئے ہیں، ان کی موافقت میں کوئی ایک کمزور دلیل بھی تمام ذخیرہ احادیث نبویؐ میں باوجود تلاش بسیار کے نہیں مل سکی۔ ان بے دلیل اور پے در پے خلاف سنت فتاویٰ کے مضر نتائج کے پیش نظر راقم الحروف نے اس بات کی شدید ضرورت محسوس کی کہ رسول اللہ ﷺ کی صحیح احادیث کی روشنی میں عوام پر واضح کردوں کہ عقیقہ فی الواقع کیا ہے؟ اس کی تعریف، شرعی نوعیت و حقیقت و اہمیت و فوائد اور احکام کیا ہیں؟ خدا تعالیٰ ہم سب مسلمانوں کو دین خالص پر قائم رکھے اور ہمیشہ سنت محمدیؐ کے مطابق عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

    عقیقہ کا لغوی اور اصطلاحی مفہوم:
    ''عق'' یا ''عقیقہ'' کا لغوی معنی ''قطع'' کرنا ہے۔عام بول چال میں بھی اہل عرب لفظ ''عق'' قطع کرنے کے معنیٰ میں استعمال کرتے ہیں:
    ''عق والدیه إذا قطعھما''5

    ایک عرب شاعر کا شعر بھی ''عق'' کا یہی مفہوم ادا کرتا ہے: ؎

    بلاد بھا عق الشباب تمائمي
    وأوّل أرض مس جلدي ترابھا6


    شریعت کی اصطلاح میں لفظ ''عقیقہ''کامعنی یہ ہےکہ ''ہر نومولود کی ولادت کے عموماً ساتویں دن بکری ذبح کرنا'' احادیث میں عقیقہ کو ''نسیکہ'' بھی کہا گیاہے۔

    اسلام سے قبل عقیقہ کا رواج:
    تاریخ کا مطالعہ کرنےسے پتہ چلتا ہے کہ اسلام سے قبل بھی مختلف معاشروں میں عقیقہ کا رواج قائم تھا، اگرچہ ان کی شکلیں مختلف تھیں۔ عیسائی بپتیسمہ کی شکل میں عقیقہ کرتے تھے جب کہ عہد جاہلیت کے اہل عرب اور شرفاء ، مولود کا نام رکھتے وقت جانوروں کی قربانی کرتے اور ان کا خون مولود کے سر پر ملتے تھے۔7

    اکثر مؤرخین اور سیرت نگاروں نے خود رسول اللہﷺ کے عقیقہ کے متعلق اپنی تصانیف میں لکھا ہے کہ:
    ''آپ ؐکی پیدائش کے ساتویں دن آپؐ کے دادا عبدالمطلب نے آپؐ کی ختنہ کی، آپؐ کی پیدائش کی خوشی اوراعزاز میں قبیلہ والوں کو دعوت دی اور آپؐ کا نام محمدؐ رکھا۔''8

    امام ابن القیم رحمہ اللہ اور امام ابن الجوزی حنبلی رحمہ اللہ نے بھی اس واقعہ کو صحیح بتایا ہے۔ ابوعمر ابن عبدالعزیز رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ:
    ''اس باب میں ایک مسند غریب حدیث موجود ہے جو حضرت ابن عباسؓ سے مروی ہے کہ : عبدالمطلب نے نبی ﷺ کی ختنہ ساتویں دن کی۔ ان کی (پیدائش کی خوشی اور )اعزاز میں (اہل قبیلہ) کو دعوت دی اور ان کا نام محمد (ﷺ) رکھا۔''9

    عقیقہ کی مشروعیت اور اس کے دلائل:
    ذخیرہ احادیث رسول اللہ ﷺ میں بہت سی ایسی احادیث موجود ہیں، جو عقیقہ کی مشروعیت و تاکید اور اس کے سنت و استحباب کی وجوہات پر دلالت کرتی ہیں۔ ان احادیث کو ثقہ راویوں کی ایک بڑی جماعت نے روایت کیا ہے، ان میں سے چند احادیث ذیل میں پیش کی جاتی ہیں:
    1۔ ''حدثنا أبوالنعمان حدثنا حماد بن زید عن أیوب عن محمد عن سلمان ابن عامر قال مع الغلام عقیقة'' i
    ''ابونعمان، حماد بن زید، ایوب، محمد بن سیرین نے سلمان بن عامرؓ سے روایت کی ہے : ''لڑکے کے ساتھ عقیقہ ہے۔''

    حجاج، حماد، ایوب، قتادہ، ہشام، حبیب ، ابن سیرین اور سلمانؓ نے نبی کریمﷺ سے اس کی روایت کی ہے۔10 ان کے علاوہ کئی حضرات، عاصم، ہشام، حفصہ بنت سیرین، رباب نے سلمان بن عامر الضبی اور انہوں نے نبی کریم ﷺ سے اسے روایت کیا ہے۔11 یزید بن ابراہیم نے ابن سیرین سے اور انہوں نے سلمانؓ سے ان کا قول نقل کیا ہے۔12 اصبغ، ابن وہب، جریر بن حازم، ایوب سختیانی، محمد بن سیرین نے سلمان بن عامر الضبی کا عقیقہ کے بارے میں بیان اس طرح نقل کیا ہے:
    2۔ ''قال سمعت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یقول مع الغلام عقیقة فأھر یقوا عنه دماوأ میطوا عنه الأذٰی'' ii
    ''بیان کیاکہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا کہ عقیقہ لڑکے کے ساتھ ہے، لہٰذا اس کی طرف سے خون بہاؤ اور اس پر سے اژیت کودور کرو۔''

    3۔ ''سمرة بن جندب ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
    ''کل غلام رھین13 بعقیقته تذبح عنه یوم سابعه و یحلق و یسمٰی''
    ''ہر لڑکا اپنے عقیقہ کے ساتھ منسلک یابندھا ہوا ہے۔ اس کے ساتویں دن اس کی طرف سے ذبیحہ کیا جائے گا، اس کا سرمونڈا جائے گا اور نام رکھا جائے گا۔'' iii

    اس روایت کی تمام اسناد صحیح ہیں، امام ترمذی فرماتے ہیں کہ: ''یہ حدیث حسن صحیح ہے۔'' امام نووی رحمہ اللہ نے بھی اس روایت کو اپنی کتاب ''الاذکار'' میں نقل کیا ہے۔14

    عبداللہ بن ابی الاسود ، قریش بن انس اور حبیب بن شہید عقیقہ کی حدیث کے متعلق بیان کرتے ہیں کہ:
    4۔ ''قال أمرني ابن سیرین أن أسأل الحسن ممن سمع حدیث العقیقة فسألته فقال من سمرة بن جندب''
    ''مجھے محمد بن سیرین نے حکم دیا کہ ''میں امام حسن بصری سے دریافت کروں کہ انہوں نے عقیقہ کے متعلق حدیث کس سے سنی ہے؟'' جب میں نے ان سے دریافت کیا تو انہوں نے فرمایا کہ ''حضرت سمرة بن جندبؓ سے۔'' iv

    5۔ اما م اسحاق بن راہویہ نے حضرت بریدہ اسلمیؓ سے روایت کی ہے:
    ''إن الناس یعرضون یوم القیٰمة علی العقیقة کما یعرضون علی الصلوات الخمس''15
    بے شک قیامت کے دن لوگوں کو پنج وقتہ نماز کی طرح عقیقہ پر بھی پیش کیا جائے گا۔''

    امام بخاری رحمہ اللہ نے اپنی صحیح میں ''کتاب العقیقة'' کے زیر عنوان ''إماطة الأذٰی عن الصبي في العقیقة'' یعنی ''عقیقہ کے وقت بچے کی اذیت دور کرنا'' ایک مستقل باب قائم کیا اور اس میں عقیقہ سے متعلق احادیث جماع کی ہیں۔ اسی طرح دوسرے ائمہ حدیث رحمہم اللہ نےبھی اپنی اپنی تصانیف میں عقیقہ کے متعلق مستقل ابواب مقرر کیے اور اس ضمن کی احادیث جمع کی ہیں۔16

    عقیقہ کی مشروعیت کے اثبات میں یہاں اور بہت سی احادیث پیش کی جاسکتی ہیں لیکن لاحاصل طول اور تکرار مبحث سےبچنے کے لیے بعض احادیث کو احکام بیان کرتے وقت آگے پیش کیا جائے گا۔ (جاری ہے)

    حوالہ جات
    1. ماہنامہ ''اقراء ڈائجسٹ'' کراچی جلد 1 شمارہ نمبر 5 صفحہ نمبر 46 مجریہ ماہ جولائی 1985ء

    2. ماہنامہ ''اقراء ڈائجسٹ'' کراچی جلد 1 شمارہ نمبر7 صفحہ نمبر 184 مجریہ ماہ ستمبر 1985ء

    3. ماہنامہ ''اقراء ڈائجسٹ'' کراچی جلد 1 شمارہ نمبر7 صفحہ نمبر 184 مجریہ ماہ ستمبر 1985ء

    4. ماہنامہ ''اقراء ڈائجسٹ'' کراچی جلد 1 شمارہ نمبر8 صفحہ نمبر93 مجریہ ماہ اکتوبر 1985ء

    5. یعنی اس نے اپنے والدین سے قطع رحمی کی۔ (ادارہ)

    6. تربیة الأولاد في الإسلام صفحہ 1؍88
    (ترجمہ) ''یہ وہ شہر ہے جہاں جوانی نے میرے تعویذات قطع کئے (یعنی میں یہاں جوان ہوا) اور اسی سرزمین کی مٹی نے میری جلد کو سب سے پہلے مس کیا۔ (ادارہ)

    7. شاہکار اسلامی انسائیکلو پیڈیا مرتبہ سید قاسم محمود مطبع شاہکار فاؤنڈیشن صفحہ 1082

    8. زاد المعاد فی ہدی خیر العباد لامام ابن القیم رحمہ اللہ جلد نمبر 1 صفحہ 35 و تاریخ اسلام مصنفہ اکبر شاہ خاں نجیب آبادی جلد1 صفحہ 90 و انگریزی ترجمہ حیٰوة محمدؐ مصنفہ ڈاکٹر محمد حسین ہیکل مصری صفحہ 48 طبع امریکہ وغیرہ۔

    9. اس حدیث کے متعلق یحییٰ بن ایوب کا قول ہے کہ ''اس حدیث کو میں نے بجز ابن ابی السّری کے اہل الحدیث میں سے کسی بھی ایک شخص کے پاس نہ پایا۔''

    10. صحیح بخاری، کتاب العقیقہ

    11. صحیح بخاری، کتاب العقیقہ

    12. صحیح بخاری، کتاب العقیقہ

    13. بعض احادیث میں ''کل غلام رھینة'' اور بعض میں''الغلام مرتھن'' کے الفاظ بھی ملتے ہیں۔ (ملاحظہ ہو سنن ابوداود الأضاحی باب في العقیقة)

    14. ''اذکار'' مصنفہ امام نووی رحمہ اللہ صفحہ 254

    15. محلّی ابن حزم صفحہ 7؍525، تحفة المودود صفحہ 38 لیکن اس کی سند نہایت ضعیف ہے۔ (ادارہ)

    16. مؤطا امام مالک میں مذکور ہے:

    i. صحیح بخاری، کتاب العقیقہ

    ii.صحیح بخاری، کتاب العقیقہ

    iii. سنن أبي داود في کتاب الأضاحي باب في العقیقة و الترمذي و النسائي و ابن ماجة و غیرھا بالأسانید الصحیحة و قال الترمذي حدیث حسن صحیح

    iv. صحیح بخاری ، کتاب العقیقة

    مصدر:
    http://magazine.mohaddis.com/shumara/182-jan1986/2221-aqeeqa-aor-us-k-ahekam

    Sent from my itel A44 Pro using Tapatalk
     
  2. ‏مئی 03، 2019 #2
    عزیر ادونوی

    عزیر ادونوی مبتدی
    جگہ:
    ادونی،، ہند.
    شمولیت:
    ‏جون 05، 2018
    پیغامات:
    27
    موصول شکریہ جات:
    0
    تمغے کے پوائنٹ:
    17

     
  3. ‏مئی 03، 2019 #3
    عزیر ادونوی

    عزیر ادونوی مبتدی
    جگہ:
    ادونی،، ہند.
    شمولیت:
    ‏جون 05، 2018
    پیغامات:
    27
    موصول شکریہ جات:
    0
    تمغے کے پوائنٹ:
    17

    .

    عقیقہ اور اس کے احکام
    غازی عزیر

    پس منظر:

    یہ مضمون لکھنے کا داعیہ جناب مولانا محمد یوسف لدھیانوی صاحب کا ایک فتویٰ پڑھ کر پیدا ہوا۔ جو آں موصوف نے ، ماہناہ ''اقراء ڈائجسٹ'' کراچی کے مجریہ ماہ جولائی 1985ء میں''دینی مسائل کا فقہی حل'' کے مستقل عنوان کے تحت، ایک مستفتی کا جواب دیتے ہوئے تحریر فرمایا، انہوں نے لکھا ہے کہ:
    ''جن جانوروں کی قربانی جائز ہے ان سے عقیقہ بھی جائز ہے۔بھینس بھی ان جانوروں میں شامل ہے۔اسی طرح جن جانوروں میں سات حصے قربانی کے ہوسکتے ہیں ان میں سات حصے عقیقے کے بھی ہوسکتے ہیں اور ایک لڑکے کے عقیقہ میں گائے ذبح کی جاسکتی ہے۔''1

    یہ فتویٰ پڑھ کر راقم الحروف نے اپنے ایک رفیق کار جناب مولانا سید احمد قادری صاحب (جو ماہنامہ اقراءڈائجسٹ کے مستقل خریدار بھی ہیں) کی معرفت مدیر ماہنامہ ''اقراء ڈائجسٹ'' کراچی اور مولانا محمد یوسف لدھیانوی صاحب کو 22 جولائی 1985ء کو خطوط ارسال کیے اور ان سے اس فتویٰ کی وضاحت اور اس کے شرعی دلائل کتاب و سنت کی روشنی میں طلب کیے۔ ان دونوں خطوط کے جوابات تاہنوز راقم کو براہ راست موصول ہوئے اور نہ ہی ''اقراء ڈائجسٹ'' میں شائع کیے گئے بلکہ ماہ ستمبر 85ء کے ماہنامہ مذکورہ کے اسی ''دینی مسائل کا فقہی حل'' کے زیر عنوان مزید یہ فتویٰ دیا گیا کہ:
    ''گائے ، بیل اور اونٹ وغیرہ میں قربانی کے حصوں کے ساتھ عقیقہ کے حصے بھی شامل کیے جاسکتے ہیں۔''2

    اسی مجریہ کے چند صفحات آگے یہ تحریر فرمایا گیا ہے:
    ''لڑکے کے عقیقہ میں دو بکرے یا دو حصے دینا مستحب ہے۔الخ''3

    اسی ماہنامہ کے اگلے مجریہ میں عقیقہ کے متعلق ایک استفتاء اور اس کا جواب شائع ہوا ہے، جو ہدیہ ناظرین ہے:
    '' (سوال) کیا عقیقہ پر خرچ ہونے والی رقم کسی قریبی رشتہ دار پر (جو غریب اور محتاج ہے) خرچ کی جاسکتی ہے یا نہ۔ ان دونوں ذمہ داریوں میں اوّلیت کسی کو دی جائے، رشتہ دار کی خبر گیری اور اس پر خرچہ وغیرہ کی ذمہ داری کو یا عقیقہ سے عہدہ برآ ہونے کی ذمہ داری کو؟ الخ''

    ''(جواب) عقیقہ میں خرچ ہونے والی رقم اپنے رشتہ دار محتاج کو دے دیں کیونکہ ایسی حالت میں اس کی اعانت کرنا ضروری ہے لہٰذا اس کو اوّلیت دی جائے گی۔''4

    ان تمام وسائل کے جو جوابات مولانی یوسف لدھیانوی صاحب نے خود یا ان کی استفتاء کی ٹیم نے دیئے ہیں، ان کی موافقت میں کوئی ایک کمزور دلیل بھی تمام ذخیرہ احادیث نبویؐ میں باوجود تلاش بسیار کے نہیں مل سکی۔ ان بے دلیل اور پے در پے خلاف سنت فتاویٰ کے مضر نتائج کے پیش نظر راقم الحروف نے اس بات کی شدید ضرورت محسوس کی کہ رسول اللہ ﷺ کی صحیح احادیث کی روشنی میں عوام پر واضح کردوں کہ عقیقہ فی الواقع کیا ہے؟ اس کی تعریف، شرعی نوعیت و حقیقت و اہمیت و فوائد اور احکام کیا ہیں؟ خدا تعالیٰ ہم سب مسلمانوں کو دین خالص پر قائم رکھے اور ہمیشہ سنت محمدیؐ کے مطابق عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

    عقیقہ کا لغوی اور اصطلاحی مفہوم:
    ''عق'' یا ''عقیقہ'' کا لغوی معنی ''قطع'' کرنا ہے۔عام بول چال میں بھی اہل عرب لفظ ''عق'' قطع کرنے کے معنیٰ میں استعمال کرتے ہیں:
    ''عق والدیه إذا قطعھما''5

    ایک عرب شاعر کا شعر بھی ''عق'' کا یہی مفہوم ادا کرتا ہے: ؎

    بلاد بھا عق الشباب تمائمي
    وأوّل أرض مس جلدي ترابھا6


    شریعت کی اصطلاح میں لفظ ''عقیقہ''کامعنی یہ ہےکہ ''ہر نومولود کی ولادت کے عموماً ساتویں دن بکری ذبح کرنا'' احادیث میں عقیقہ کو ''نسیکہ'' بھی کہا گیاہے۔

    اسلام سے قبل عقیقہ کا رواج:
    تاریخ کا مطالعہ کرنےسے پتہ چلتا ہے کہ اسلام سے قبل بھی مختلف معاشروں میں عقیقہ کا رواج قائم تھا، اگرچہ ان کی شکلیں مختلف تھیں۔ عیسائی بپتیسمہ کی شکل میں عقیقہ کرتے تھے جب کہ عہد جاہلیت کے اہل عرب اور شرفاء ، مولود کا نام رکھتے وقت جانوروں کی قربانی کرتے اور ان کا خون مولود کے سر پر ملتے تھے۔7

    اکثر مؤرخین اور سیرت نگاروں نے خود رسول اللہﷺ کے عقیقہ کے متعلق اپنی تصانیف میں لکھا ہے کہ:
    ''آپ ؐکی پیدائش کے ساتویں دن آپؐ کے دادا عبدالمطلب نے آپؐ کی ختنہ کی، آپؐ کی پیدائش کی خوشی اوراعزاز میں قبیلہ والوں کو دعوت دی اور آپؐ کا نام محمدؐ رکھا۔''8

    امام ابن القیم رحمہ اللہ اور امام ابن الجوزی حنبلی رحمہ اللہ نے بھی اس واقعہ کو صحیح بتایا ہے۔ ابوعمر ابن عبدالعزیز رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ:
    ''اس باب میں ایک مسند غریب حدیث موجود ہے جو حضرت ابن عباسؓ سے مروی ہے کہ : عبدالمطلب نے نبی ﷺ کی ختنہ ساتویں دن کی۔ ان کی (پیدائش کی خوشی اور )اعزاز میں (اہل قبیلہ) کو دعوت دی اور ان کا نام محمد (ﷺ) رکھا۔''9

    عقیقہ کی مشروعیت اور اس کے دلائل:
    ذخیرہ احادیث رسول اللہ ﷺ میں بہت سی ایسی احادیث موجود ہیں، جو عقیقہ کی مشروعیت و تاکید اور اس کے سنت و استحباب کی وجوہات پر دلالت کرتی ہیں۔ ان احادیث کو ثقہ راویوں کی ایک بڑی جماعت نے روایت کیا ہے، ان میں سے چند احادیث ذیل میں پیش کی جاتی ہیں:
    1۔ ''حدثنا أبوالنعمان حدثنا حماد بن زید عن أیوب عن محمد عن سلمان ابن عامر قال مع الغلام عقیقة'' i
    ''ابونعمان، حماد بن زید، ایوب، محمد بن سیرین نے سلمان بن عامرؓ سے روایت کی ہے : ''لڑکے کے ساتھ عقیقہ ہے۔''

    حجاج، حماد، ایوب، قتادہ، ہشام، حبیب ، ابن سیرین اور سلمانؓ نے نبی کریمﷺ سے اس کی روایت کی ہے۔10 ان کے علاوہ کئی حضرات، عاصم، ہشام، حفصہ بنت سیرین، رباب نے سلمان بن عامر الضبی اور انہوں نے نبی کریم ﷺ سے اسے روایت کیا ہے۔11 یزید بن ابراہیم نے ابن سیرین سے اور انہوں نے سلمانؓ سے ان کا قول نقل کیا ہے۔12 اصبغ، ابن وہب، جریر بن حازم، ایوب سختیانی، محمد بن سیرین نے سلمان بن عامر الضبی کا عقیقہ کے بارے میں بیان اس طرح نقل کیا ہے:
    2۔ ''قال سمعت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یقول مع الغلام عقیقة فأھر یقوا عنه دماوأ میطوا عنه الأذٰی'' ii
    ''بیان کیاکہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا کہ عقیقہ لڑکے کے ساتھ ہے، لہٰذا اس کی طرف سے خون بہاؤ اور اس پر سے اژیت کودور کرو۔''

    3۔ ''سمرة بن جندب ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
    ''کل غلام رھین13 بعقیقته تذبح عنه یوم سابعه و یحلق و یسمٰی''
    ''ہر لڑکا اپنے عقیقہ کے ساتھ منسلک یابندھا ہوا ہے۔ اس کے ساتویں دن اس کی طرف سے ذبیحہ کیا جائے گا، اس کا سرمونڈا جائے گا اور نام رکھا جائے گا۔'' iii

    اس روایت کی تمام اسناد صحیح ہیں، امام ترمذی فرماتے ہیں کہ: ''یہ حدیث حسن صحیح ہے۔'' امام نووی رحمہ اللہ نے بھی اس روایت کو اپنی کتاب ''الاذکار'' میں نقل کیا ہے۔14

    عبداللہ بن ابی الاسود ، قریش بن انس اور حبیب بن شہید عقیقہ کی حدیث کے متعلق بیان کرتے ہیں کہ:
    4۔ ''قال أمرني ابن سیرین أن أسأل الحسن ممن سمع حدیث العقیقة فسألته فقال من سمرة بن جندب''
    ''مجھے محمد بن سیرین نے حکم دیا کہ ''میں امام حسن بصری سے دریافت کروں کہ انہوں نے عقیقہ کے متعلق حدیث کس سے سنی ہے؟'' جب میں نے ان سے دریافت کیا تو انہوں نے فرمایا کہ ''حضرت سمرة بن جندبؓ سے۔'' iv

    5۔ اما م اسحاق بن راہویہ نے حضرت بریدہ اسلمیؓ سے روایت کی ہے:
    ''إن الناس یعرضون یوم القیٰمة علی العقیقة کما یعرضون علی الصلوات الخمس''15
    بے شک قیامت کے دن لوگوں کو پنج وقتہ نماز کی طرح عقیقہ پر بھی پیش کیا جائے گا۔''

    امام بخاری رحمہ اللہ نے اپنی صحیح میں ''کتاب العقیقة'' کے زیر عنوان ''إماطة الأذٰی عن الصبي في العقیقة'' یعنی ''عقیقہ کے وقت بچے کی اذیت دور کرنا'' ایک مستقل باب قائم کیا اور اس میں عقیقہ سے متعلق احادیث جماع کی ہیں۔ اسی طرح دوسرے ائمہ حدیث رحمہم اللہ نےبھی اپنی اپنی تصانیف میں عقیقہ کے متعلق مستقل ابواب مقرر کیے اور اس ضمن کی احادیث جمع کی ہیں۔16

    عقیقہ کی مشروعیت کے اثبات میں یہاں اور بہت سی احادیث پیش کی جاسکتی ہیں لیکن لاحاصل طول اور تکرار مبحث سےبچنے کے لیے بعض احادیث کو احکام بیان کرتے وقت آگے پیش کیا جائے گا۔ (جاری ہے)

    حوالہ جات
    1. ماہنامہ ''اقراء ڈائجسٹ'' کراچی جلد 1 شمارہ نمبر 5 صفحہ نمبر 46 مجریہ ماہ جولائی 1985ء

    2. ماہنامہ ''اقراء ڈائجسٹ'' کراچی جلد 1 شمارہ نمبر7 صفحہ نمبر 184 مجریہ ماہ ستمبر 1985ء

    3. ماہنامہ ''اقراء ڈائجسٹ'' کراچی جلد 1 شمارہ نمبر7 صفحہ نمبر 184 مجریہ ماہ ستمبر 1985ء

    4. ماہنامہ ''اقراء ڈائجسٹ'' کراچی جلد 1 شمارہ نمبر8 صفحہ نمبر93 مجریہ ماہ اکتوبر 1985ء

    5. یعنی اس نے اپنے والدین سے قطع رحمی کی۔ (ادارہ)

    6. تربیة الأولاد في الإسلام صفحہ 1؍88
    (ترجمہ) ''یہ وہ شہر ہے جہاں جوانی نے میرے تعویذات قطع کئے (یعنی میں یہاں جوان ہوا) اور اسی سرزمین کی مٹی نے میری جلد کو سب سے پہلے مس کیا۔ (ادارہ)

    7. شاہکار اسلامی انسائیکلو پیڈیا مرتبہ سید قاسم محمود مطبع شاہکار فاؤنڈیشن صفحہ 1082

    8. زاد المعاد فی ہدی خیر العباد لامام ابن القیم رحمہ اللہ جلد نمبر 1 صفحہ 35 و تاریخ اسلام مصنفہ اکبر شاہ خاں نجیب آبادی جلد1 صفحہ 90 و انگریزی ترجمہ حیٰوة محمدؐ مصنفہ ڈاکٹر محمد حسین ہیکل مصری صفحہ 48 طبع امریکہ وغیرہ۔

    9. اس حدیث کے متعلق یحییٰ بن ایوب کا قول ہے کہ ''اس حدیث کو میں نے بجز ابن ابی السّری کے اہل الحدیث میں سے کسی بھی ایک شخص کے پاس نہ پایا۔''

    10. صحیح بخاری، کتاب العقیقہ

    11. صحیح بخاری، کتاب العقیقہ

    12. صحیح بخاری، کتاب العقیقہ

    13. بعض احادیث میں ''کل غلام رھینة'' اور بعض میں''الغلام مرتھن'' کے الفاظ بھی ملتے ہیں۔ (ملاحظہ ہو سنن ابوداود الأضاحی باب في العقیقة)

    14. ''اذکار'' مصنفہ امام نووی رحمہ اللہ صفحہ 254

    15. محلّی ابن حزم صفحہ 7؍525، تحفة المودود صفحہ 38 لیکن اس کی سند نہایت ضعیف ہے۔ (ادارہ)

    16. مؤطا امام مالک میں مذکور ہے:

    i. صحیح بخاری، کتاب العقیقہ

    ii.صحیح بخاری، کتاب العقیقہ

    iii. سنن أبي داود في کتاب الأضاحي باب في العقیقة و الترمذي و النسائي و ابن ماجة و غیرھا بالأسانید الصحیحة و قال الترمذي حدیث حسن صحیح

    iv. صحیح بخاری ، کتاب العقیقة

    مصدر:
    http://magazine.mohaddis.com/shumara/182-jan1986/2221-aqeeqa-aor-us-k-ahekam

    ~~~~


    عقیقہ او راس کے احکام
    غازی عزیر

    عقیقہ پر سلف و صالحین کا عمل:

    تمام مستند احادیث اور روایات کے مطالعہ سے یہ بات وثوق کی حد تک پہنچ جاتی ہےکہ عہد نبویؐ اور خلفائے راشدینؓ کے ادوار خلافت میں تمام صحابہؓ و تابعین رحمہ اللہ i کا اس سنت پر عمل رہا ہے، بعد کے ادوار میں بھی تمام اہل علم او رعامل بالحدیث طبقہ میں اس سنت پر سختی کے ساتھ عمل کیا جاتا رہا ہے، نیز اس پر خود رسولﷺ کا عمل کرنا اور آج تک اس پر تواتر کے ساتھ عمل ہوتے چلے آنا بذات خود اس کی مشروعیت کی واضح دلیل ہے۔

    عقیقہ کی شرعی نوعیت پر فقہاء کی آراء :

    اس امر میں فقہائے اسلام کے مابین اختلاف پایا جاتا ہے کہ عقیقہ کی شرعی نوعیت یا حیثیت کیا ہے؟ مشہور مسالک سے اہل حدیث (سلفی، شافعی، حنبلی او رمالکی مسلک کے پیرو عقیقہ کی مشروعیت کو تو تسلیم کرتے ہیں لیکن بعض اس کی شرعی نوعیت کی تعیین میں اختلاف رکھتے ہیں۔

    ائمہ مجتہدین کا ایک گروہ جو عقیقہ کے سنت اورمستحب ہونے کا قائل ہے، اس میں امام مالک، اہل مدینہ، امام شافعی اور ان کے اصحب ، امام احمد، امام اسحاق، امام ابوثور، علمائے اہلحدیث اور فقہ و علم و اجتہاد کے کبار علماء کی ایک بڑی جماعت شامل ہے۔(رحمهم اللہ تعالیٰ)

    فقہاء کا ایک دوسرا گروہ جو عقیقہ کی تحتیم اور وجوب کا قائل ہے، اس میں امام حسن بصری رحمہ اللہ ، امام لیث رحمہ اللہ ، امام ابن سعد رحمہ اللہ وغیرہ شامل ہیں او رامام ابن حزم رحمہ اللہ تو عقیقہ کو فرض قرار دیتے ہیں۔ii

    فقہاء کا ایک تیسرا گروہ وہ ہے جو سرے سے عقیقہ کی مشروعیت کا قائل ہی نہیں ہے۔ اس گروہ میں فقہائے حنفیہ کا شمار ہوتا ہے۔

    عقیقہ کے سنّت و مستحب ہونے کے شرعی دلائل:
    عقیقہ کے سنّت و مستحب ہونے پر بہت سی احادیث نبوی ﷺ شاہد ہیں، مثلاً
    1۔ ''من ولدله ولد فأحب أن ینسك عنه فلینسك عن الغلام شاتین و عن الجاریة شاة'' 1
    ''جس کے ہاں بچہ پیدا ہو اور وہ اس کی طرف سے ذبیحہ کرنا چاہیے تو لڑکے کی جانب سے دو بکریاں اور لڑکی کی جانب سے ایک بکری ذبح کرے۔''

    2۔ ''من ولدله ولد فأحب أن ینسك عن ولده فلیفعل'' 2
    ''جس کے ہاں بچہ پیدا ہو اور وہ اپنےبچہ کی جانب سے ذبح کرنا چاہے تو کرے۔''

    3۔ ''مع الغلام عقیقة فأھر یقوا عنه دما و أمیطوا عنه الأذٰی'' 3
    4۔ ''کل غلام رھین بعقیقته تذبح عنه یوم سابعه و یحلق و یسمٰی'' 4

    ان تمام روایات سے عقیقہ کا استحباب ثابت ہوتا ہے۔

    عقیقہ کے واجب ہونے کے دلائل اور ان کا علمی جائزہ :
    جو فقہاء عقیقہ کی تحتیم اور وجوب کے قائل ہیں، ان کے دلائل حسب ذیل ہیں:

    1۔ بریدہ اسلمیؓ کی مذکورہ روایت کہ:
    ''إن الناس یعرضون یوم القیامة علی العقیقة کما یعرضون علی الصلوات الخمس''iii
    عقیقہ کے وجوب پر استدلال کرتی ہے۔

    2۔ حضرت سمرہ بن جندبؓ کی روایت میں رسول اللہ ﷺ سے مروی ہے:
    ''کل غلام رھینة بعقیقته'' 5
    او ربعض روایات میں یہ الفاظ ہیں: ''الغلام مرتھن بعقیقته'' ان روایات کے الفاظ ''رھینة'' اور ''مرتھن'' عقیقہ کے وجوب پر دلالت کرتے ہیں۔
    3۔ حضرت سلمان بن عامر الضبی کی رسول اللہ ﷺ سے مروی حدیث کے الفاط : ''مع الغلام عقیقة''6بھی وجوب کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔
    4۔ ''اگر والدین بچہ کی طرف سے عقیقہ کریں تو بچہ اپنے والدین کی شفاعت پر محبوس و مامور ہے۔'' یہ امر بھی عقیقہ کے وجوب کا متقاضی ہے۔

    جو فقہاء کرام عقیقہ کے وجوب کے قائل نہیں ہیں، وہ ان دلائل کے حسب ذیل جواب دیتے ہیں:
    1۔ اگر عقیقہ کرنا واجب ہوتا تو اس کا وجوب دین و شریعت سے معلوم ہوتا۔
    2۔ اگر عقیقہ واجب ہوتا تو رسول اللہ ﷺ نے امت پراس کا وجوب کافی اور واضح طریقہ پر بیان کیا ہوتا۔
    3۔ اگر عقیقہ واجب ہوتا تو اس پر حجت قطعی موجود ہوتی او راس کا وجوب صرف عذر شرعی کی موجودگی میں منقطع ہوتا۔
    4۔ اگر عقیقہ واجب ہوتا تو عذر شرعی کی عدم موجودگی میں ترک کیا جانے والا عقیقہ گناہ کا سبب ہوتا، حالانکہ ایسا نہیں ہے۔
    5۔ رسول اللہ ﷺ کا خود عقیقہ کرنا اس کے وجوب کے بجائے استحباب پر دلالت کرتا ہے۔
    6۔ احادیث نبویؐ کے الفاط '''رھینة''، ''مرتھن'' ، ''مع الغلام عقیقة'' اور ''الناس یعرضون یوم القیٰمة علی العقیقة'' وغیرہ عقیقہ کے وجوب کے بجائے اس کے استحباب پر دلالت کرتے ہیں۔
    7۔ عقیقہ کے متعلق رسول اللہ ﷺ کی مشہور حدیث ''من ولدله ولد فأحب أن ینسك عنه فلینسك الخ'' اور ''من ولدله ولد فأحب أن ینسك فلیفعل'' کے یہ الفاظ بھی عقیقہ کے مستحب ہونے پر واضح دلیل ہیں۔

    عقیقہ کی مشروعیت کےانکار کی بنیاداور اس کا علمی جائزہ:
    جو فقہاء عقیقہ کی مشروعیت کے قائل نہیں ہیں، ان کی حجت و دلائل یہ ہیں:
    1۔ عمرو بن شعیب کی حدیث، جسے انہوں نے اپنے والد سے او رانہوں نے ان کے دادا سے نقل کیا ہے کہ:

    انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے عقیقہ کے متعلق سوال کیا تو آپؐ نے فرمایا:
    ''لاأحب العقوق'' 7
    ''عقیقہ مجھے پسند نہیں ہے۔''

    2۔ ابی رافع ؓ کی حدیث کہ جب حسن بن علیؓ کی والدہ حضرت فاطمہؓ نے ان کا عقیقہ دو مینڈھوں سے کرنے کا ارادہ کیا تو رسول اللہ ﷺ نے ان سے فرمایا:
    ''لا تعقي ولٰکن احلقي رأسه فتصد قي بوزنه من الورق ثم ولد حسین فصنعت مثل ذٰلك'' 8
    ''عقیقہ نہ کرو مگر اس کا سرمونڈو او راس کے بال کے وزن کی مقدار میں چاندی صدقہ دو۔ پھر جب حسینؓ کی ولادت ہوئی تو میں نے اسی کے مطابق عمل کیا۔''

    عقیقہ کی مشروعیت کے منکرین کے ان دلائل کا جواب محققین اس طرح دیتے ہیں کہ:
    ''وہ احادیث جن سے عقیقہ کی مشروعیت کے انکار پر استدلال کیا جاتا ہے، ان کی کوئی حقیقت نہیں اور وہ کچھ بھی نہیں ہیں۔ اس انکار کی کوئی دلیل بھی صحیح نہیں ہے۔ بلکہ تمام دلیلیں اپنے ظواہر کے اعتبار سے عقیقہ کے سنت و مستحب ہونے کی تائید و تاکید ہی ثابت کرتی ہے لہٰذا فقہاء اور اکثر اہل علم و اجتہاد اسی طرف گئے ہیں۔''

    جہاں تک عمرو بن شعیب عن ابیہ عن جدہ سے مروی حدیث میں رسول اللہ ﷺ کے الفاظ ''لا أحب العقوق'' کا تعلق ہے تو اس حدیث کا سیاق اور اس کے درود کے اسباب اس امر پر دلالت کرتے ہین کہ عقیقہ قطعاً سنت و مستحب ہی ہے۔ حدیث کے سیاق و سباق کے الفاظ ملاحظہ ہوں جو اس طرح ہیں: ''عقیقہ کے متعلق جب میں نے رسول اللہ ﷺ سے سوال کیا تو آپؐ نے فرمایا کہ ''مجھے عقوق پسند نہیں ہے۔'' آپؐ نے ایسا اس لیے فرمایا تھا کیونکہ آپؐ کو یہ نام ناپسند تھا (یعنی ذبیحہ کو عقیقہ کہناiv) پھر لوگوں نے دریافت کیا کہ : ''یارسول اللہﷺ، ہم میں سے جب کسی کے ہاں کوئی بچہ پیدا ہو تو اس کا کیا حکم ہے؟ تو آپؐ نے فرمایا:
    ''من أحب منکم أن ینسك عن ولده فلیفعل عن الغلام شاتان مکافئتان و عن الجاریة شاة''
    یعنی ''تم میں سے جو اپنے بچہ کی طرف سے ذبیحہ کرنا چاہے وہ لڑکے پر ایک جیسی دو بکریاں اور لڑکی پرایک بکری ذبح کرے۔''

    اس حدیث کے ظواہر سے فقہاء کے ایک گروہ نے لفظ ''عقیقہ'' کا ''نسیکہ'' سے استبدال پر استدلال کیا ہے او ریہ بتایا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کو''عقیقہ'' نام ناپسند تھا۔ لیکن فقہاء کا ایک دوسرا گروہ اس رائے سے اتفاق نہیں کرتا او راس نااتفاقی کی وجہ وہ بہت سی احادیث بتاتا ہے جن میں اس موقع کے ذبیحہ کا نام''عقیقہ'' خود رسول اللہ ﷺ سے بلا اظہار کراہت مروی ہے۔ علماء کاایک تیسرا گروہ ان دونوں آراء کے مابین اتحاد و اتفاق کی صورت یہ پیش کرتا ہے کہ اس موقع کے ذبیحہ کے لیے ''عقیقہ'' اور ''نسیکہ'' دونوں ناموں کااستعمال درست اور صحیح ہے لفظ ''نسیکہ'' استعمال کرنا اگرچہ بہتر ہے، لیکن حکم بیان کرنے یا وضاحت یا مراد و مقصد کے اظہار کے لیے ''عقیقہ'' کا لفظ استعمال کرنے میں بھی کوئی حرج نہیں ہے اور یہ طریقہ احادیت نبویؐ کے موافق بھی ہے۔ او رجہاں تک منکرین مشروعیت عقیقہ کی دوسری دلیل یعنی ابی رافع کی حدیث کے الفاظ ''لا تعقي ولٰکن احلقي رأسه.......... الخ'' کا تعلق ہے تو فی الحقیقت اس روایت سے بھی عقیقہ کی مشروعیت کے انکار یا ا س کی کراہت پر دلالت نہیں ہوتی۔کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے اپنے دونوں نواسوں حضرت حسن و حسین رضی اللہ عنہما کے عقیقے اپنی بیٹی حضرت فاطمہ ؓ کی جانب سے خود کرنا پسند فرمائے تھے (جس کی تفصیل ان شاء اللہ آگے آئے گی)، چونکہ آپؐ نے ان حضرات کے عقیقے خود فرمائے تھے اس لیے مکرر عقیقے کی ضرورت باقی نہ رہی۔ پس آپؐ نے حکم فرمایا کہ : ''ان کے عقیقے نہ کرو لیکن سر کے بال مونڈواؤ اور اس کے وزن کے مقدار میں چاند صدقہ دو۔''

    رسول اللہ ﷺ کا خود عقیقہ کرنا:
    رسول اللہ ؐ نے حضرت حسن و حسین رضی اللہ عنہما کے عقیقے خود کئے تھے، اس بات کی تائید میں بہت سی احادیث مروی ہیں، جن میں سے چند ذیل میں پیش خدمت ہیں:
    1۔ حضرت ایوب نے عکرمہ او رانہوں نے ابن عباسؓ سے روایت کی ہے کہ:
    ''أن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عق عن الحسن والحسین کبشا کبشا'' 9
    ''رسول اللہ ﷺ نے حضرات حسن و حسین رضی اللہ عنہما کا عقیقہ ایک ایک مینڈھے سے کیا۔''

    2۔ حضرت بریدہؓ روایت کرتے ہیں:
    ''أن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عق عن الحسن والحسین'' 10
    ''رسول اللہ ﷺ نے حضرات حسن و حسین رضی اللہ عنہما کا عقیقہ کیا۔''

    3۔ جریر بن حازم نے قتادہ سے او رانہوں نے حضرت انسؓ سے روایت کی ہے:
    ''أن النبي صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عق عن الحسن والحسین کبشین''11
    ''نبی ﷺ نے حضرات حسن و حسین رضی اللہ عنہما کا عقیقہ دو مینڈھوں سےکیا۔''

    4۔ یحییٰ بن سعیدنے عمرہ سے اور انہوں نے حضرت عائشہ صدیقہؓ سے روایت کی ہے کہ:
    ''عق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عن الحسن و الحسین یوم السابع'' 12
    ''رسول اللہ ﷺ نے حضرات حسن و حسین رضی اللہ عنہما کا عقیقہ ساتویں دن فرمایا۔''

    کیا مذکّر کا عقیقہ مؤنت کے مثل ہے؟
    تمام اہل علم و جمہور فقہاء و مجتہدین کے نزدیک متفقہ طور پر مؤنث او رمذکر دونوں پر عقیقہ کیا جانا یکساں طور پرمستحب سنت ہے او را س کی شرعی نوعیت میں مذکر و مونث کے درمیان کوئی فرق و امتیاز نہیں ہے۔ لیکن مونث و مذکر کی فضیلت و مراتب کے فرق کے اعتبار سے آیا مذکر و مونث دونوں پر ایک ایک بکری یا دونوں پر دو دو بکریاں یا ان میں سے کسی پر ایک اور کسی پر دو بکریاں ذبح کرنا مشروع ہے؟ اس سلسلہ میں فقہاء کی دو مختلف رائیں ہیں۔

    حضرت ابن عباسؓ، حضرت عائشہؓ ، اہل حدیث او راہل علم حضرات کی ایک بڑی جماعت کا مسلک یہ ہے کہ مونث و مذکر کی فضیلت او رمراتب کے فرق کے اعتبار سے مذکر کے لیے دو بکریاں اور مونث کے لیے ایک بکری ذبح کرنا احادیث صحیحہ سے ثابت ہے۔مثلاً:
    1۔ اُم کرز کعبیہ سے مروی ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے عقیقہ کے متعلق سوال کیا تو آپؐ نے فرمایا:
    ''عن الغلام شاتان و عن الأنثٰی واحدة'' 13
    ''لڑکے پر دو بکریاں او رلڑکی پر ایک بکری ہے۔''

    حضرت عائشہ صدیقہؓ فرماتی ہیں:
    2۔''أمرنا علیه الصلوٰةوالسلام أن نعق عن الغلام شاتین و عن الجاریة شاة'' 14
    3۔ ''من ولدله ولد فأحب أن ینسك عنه فلینسك عن الغلام شاتین و عن الجاریة شاة'' 15

    (اس مسلک کی تائید میں کچھ اور احادیث ان شاء اللہ آگے ''عقیقہ کا جانور کیسا ہو؟'' کے زیر عنوان پیش کی جائیں گی)

    اس مسلک کے برخلاف امام مالک رحمہ اللہ کا مذہب یہ ہے کہ مذکر اور مونث دونوں پر یکساں طور پر ایک ایک بکری ہی ذبح کرنا مسنون ہے، اور ان کے مابین عقیقہ میں فضیلت مراتب کے فرق کا کوئی لحاظ نہیں کیا جائے گا۔ اس مسئلک کی تائید میں امام مالک رحمہ اللہ خود رسول اللہﷺ کا فعل یعنی حضرات حسن و حسین رضی اللہ عنہما کے عقیقے والی مندرجہ ذیل روایات پیش کرتے ہیں:
    1۔ ''عن ابن عباس رضی اللہ عنهما أن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عق عن الحسن والحسین کبشا کبشا'' 16
    2۔ ''ذکر جریر بن حازم عن قتادة عن أنس أن النبي صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عق عن الحسن و الحسین کبشین'' 17
    3۔ ''روی جعفر بن محمد عن أبيه أن فاطمة ذبحت عن حسن و حسین کبشا کبشا''18
    ''جعفر بن محمد نے اپنے والد سے روایت کی ہے کہ حضرت فاطمہؓ نے حضرات حسن و حسین رضی اللہ عنہما کے عقیقہ پر ایک ایک بھیڑ ذبح کی۔''

    4۔ امام مالک رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں:
    ''وکان عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنهما یعق عن الغلمان والجواري من ولدہ شاة شاة'' 19
    ''اور حضرت عبداللہ ابن عمرؓ نے اپنی اولاد میں سے لڑکے او رلڑکیوں کی طرف سے ایک ایک بکری کا عقیقہ کیا۔''

    بیان کیا جاتا ہے کہ جب امام مالک رحمہ اللہ سے بعض لوگوں نے سوال کیا کہ لڑکے او رلڑکی پر کتنے جانور ذبح کیے جائیں؟ تو آپ رحمہ اللہ نے فرمایا:
    ''یذبح عن الغلام شاة واحدة و عن الجارية شاة''

    محققین او راہل علم حضرات اس سلسلہ میں فرماتے ہیں کہ ''اگر اللہ تعالیٰ استطاعت دے تو لڑکے پر دو جانور او رلڑکی پر ایک جانور ذبح کیا جائے۔ اگرلڑکے کے عقیقہ پر دو جانور ذبح کرنے کی استطاعت نہ ہو تو ایک جانور ذبح کرنا بھی جائز ہے۔ اسی طرح لڑکی کے عقیقہ پرایک سے زیادہ جانور ذبح کرنے میں بھی کوئی مضائقہ نہیں ہے۔'' واللہ أعلم بالصواب

    عقیقہ کرنے کا مستحب وقت:
    بچہ کی ولادت کے ساتویں دن عقیقہ کرنا افضل اور مسنون ہے۔ جیسا کہ حضرت سمرۃ بن جندبؓ کی حدیث میںمروی اور رسول اللہ ﷺ کے فعل مبارک سے ثابت ہے:
    ''کل غلام رھین بعقیقته تذبح عنه یوم سابعه و یحلق و یسقیٰ'' 20

    نیز :
    ''عق ............. رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عن حسن و حسین یوم السابع و سماھما و أمر أن یماط عن رؤو سھما الأذٰی'' (رواہv عبداللہ بن وہب عن عائشہؓ)

    مندرجہ بالا دونوں احادیث پچھلے صفحات میں گزر چکی ہیں، ان احادیث کی روشنی میں عقیقہ کے ذبیحہ کے لیے ولادت کا ساتواں دن بلا شک و شبہ مستحب قرار پاتا ہے۔ لیکن بعض احادیث سے ثابت ہے کہ اگر ولادت کے ساتویں دن عقیقہ نہ کیا جاسکے تو چودہویں دن کیا جائے اور اگر چودہویں دن بھی نہ کیا جاسکے تو اکیسویں دن کیا جائے۔

    حضرت بریدہؓ رسول اللہ ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپؐ نے عقیقہ کے بارے میں فرمایا:
    ''تذبح لسبع ولأ ربع عشرة ولإ حدیٰ و عشرین'' 21
    ''ساتویں، چودہویں او راکیسویں دن ذبح کیا جائے گا۔''

    حضرت اُم کرز اور ابوکرزؓ روایت کرتے ہیں کہ حضرت عائشہؓ نے عقیقہ کےمتعلق فرمایا:
    ''......... ولکن ذاك یوم السابع فإن لم يکن ففي أربعة عشر فإن لم یکن ففي إحدیٰ عشرین'' 22
    ''یہ (عقیقہ) ساتویں دن ہونا چاہیے اور اگر نہ ہوسکے تو چودہویں دن اور پھربھی نہ ہوسکے تو اکیسویں دن''

    میمونی کا قول ہے : ''میں نے عبداللہ سے سوال کیا کہ لڑکے پر عقیقہ کب کیا جاتا ہے ؟'' انہوں نے جواب دیا: ''حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں:
    ''(في) سبعة أیام و أربعة عشر ولأ حدو عشرین''
    یعنی ''ساتویں دن، چودہویں دن اور اکیسویں دن۔''

    صالح بن احمد فرماتے ہیں : ''میں نے اپنے والد سے عقیقہ کے بارے میں دریافت کیا تو انہوں نے فرمایا:
    ''تذبح یوم السابع وإن لم یفعل ففي أربعة عشر فإن لم یفعل ففي إحدیٰ و عشرین''
    یعنی ''ساتویں دن ذبح کیا جائےگا پس اگر ایسا نہ کرسکے تو چودہویں دن اور اگر چودہویں دن بھی نہ کرسکے توپھر اکیسویں دن''

    دن کی اس تعیین کے سلسلہ میں محققین کی رائے ہے کہ ''عقیقہ ساتویں دن کئے جانے کی قید لزوم کے باب سے نہیں بلکہ استحباب کی وجہ سے ہے۔ پس اگر ساتویں دن کے بجائے چودہویں او راکیسویں دن اور بعض کے نزدیک چوتھے، آٹھویں ، دسویں یا اس کے بعد کبھی بھی کرلے تو عقیقہ ہوجاتا ہے۔ چنانچہ امام مالک رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
    ''والظاھر أن التقید بالیوم السابع إنما ھو علیٰ وجه الاستحباب وإلا فلو ذبح عنه الیوم الرابع أو الثامن أو العاشر أو مابعدہ أجزأت العقیقة''vi
    ''او ریہ ظاہر ہے کہ ساتویں دن کی قید محض استحباب کی وجہ سے ہے، اگر بچہ کی طرف سے چوتھے یا آٹھویں یا دسویں یا اس کے بعد کسی اور دن ذبیحہ کیا جائے تو بھی عقیقہ ہوجاتا ہے۔''

    خلاصہ کلام یہ ہےکہ اگرباب اپنی اولاد کے ساتویں دن قدرت و استطاعت رکھتا ہو تو مستحب طریقہ پر ا س کا عقیقہ کرکے رسول اللہ ﷺ کی اس سنت کو زندہ رکھے اور اس کی فضیلت و برکات نیز اللہ تعالیٰ کے اجر وثواب سے بہرہ مند ہو۔ اگر کسی مجبوی کی وجہ سے ساتویں دن نہ کرسکتا ہو تو چودہویں دن کرلے، اگر ایسا بھی کرنا ممکن نہ ہو تو اکیسویں دن کرلے۔ اگر اکیسویں دن کی استطاعت بھی نہ ہو تو جب بھی اللہ تعالیٰ استطاعت بخشے، بلاتاخیر عقیقہ کر ڈالے۔''يُرِ‌يدُ ٱللَّهُ بِكُمُ ٱلْيُسْرَ‌ وَلَا يُرِ‌يدُ بِكُمُ ٱلْعُسْرَ‌...﴿١٨٥﴾...سورۃ البقرۃ'' اور ''وَمَا جَعَلَ عَلَيْكُمْ فِى ٱلدِّينِ مِنْ حَرَ‌جٍ...﴿٧٨﴾...سورۃ الحج'' کا یہی تقاضا ہے۔ ایسی صورت میں نفس عقیقہ تو ہوجائے گا، لیکن ساتویں یا چودہویں او راکیسویں دن، عقیقہ کرنے میں جو اجر و ثواب ہے ، وہ حاصل نہ ہوگا بلکہ سید قاسم محمود صاحب تو یہاں تک لکھتے ہیں کہ ''اگر والدین (عقیقہ) نہ دے سکیں تو بچہ جوان ہوکر خود کرے۔ ''vii
    (جاری ہے)

    حوالہ جات
    1. سنن أبي داود کتاب الأضاحي و سنن النسائي کتاب العقیقة و إسنادہ جید

    2. مؤطا امام مالک، کتاب العقیقة و إسنادہ، ضعیف

    3. صحیح بخاری

    4. سنن أبي داود وترمذي و نسائي و ابن ماجة و غیرها بالأسانید الصحیحة

    5. رواہ اصحاب السنن

    6. رواہ البخاری

    7. رواہ البیہقی صفحہ 2؍300

    8. مسنداحمد صفحہ 6؍396

    9. سنن ابی داؤد صفحہ 3؍66

    10. سنن نسائي ، کتاب العقیقة و إسنادہ جید

    11. سنن البیہقی صفحہ 9؍299

    12. مستدرک حاکم صفحہ 4؍237

    13. مسنداحمد صفحہ 6؍422 و سنن الترمذی مع التحفة صفحہ 2؍362

    14. سنن ابن ماجہ ،صفحہ2؍281 طبع مصر

    15. سنن ابی داؤد سنن نسائی

    16. سنن ابی داؤد مع العون صفحہ 3؍66

    17. مجمع الزوائد صفحہ 4؍57

    18. تحفۃ المودود صفحہ 47

    19. تحفۃ المودود صفحہ 47

    20. سنن أبي داود و ترمذي والنسائي و ابن ماجة وغیرها عن سمرة بن جندبؓ

    21. سنن بیہقی ج9 صفحہ303 و إسنادہ، ضعیف

    22. مستدرک حاکم ج4 صفحہ 238۔239
    i. مؤطا امام مالک میں مذکور ہے: ''جلیل القدر صحابی حضرت عبداللہ بن عمرؓ او عروۃ بن زبیر تابعی رحمہ اللہ اپنی اولاد کا عقیقہ کیا کرتے تھے۔'' اور مؤطا اما محمد کے حاشیہ پر یہ تصریح موجود ہے کہ:
    ''آنحضرتﷺ کے وصال کے بعص صحابہ کرامؓ عقیقہ کیا کرتے تھے۔''(تعلیق الممجد حاشیہ مؤطا امام محمد، طبع کراچی صفحہ 291 حاشیہ نمبر 2)
    ii. ملاحظہ ہو ماہنامہ محدث لاہور ، جلد 14 عدد نمبر 11 صفحہ 419
    iii. لیکن یہ حدیث نبویؐ نہیں بلکہ قول صحابیؓ ہے او رپھر اس کی سند میں صالح بن حیان متروک الحدیث ہے۔ (ادارہ)

    iv. کیونکہ ''عقوق'' کا معنی ''نافرمانی'' بھی ہے۔

    v. تربیة الأولاد في الإسلام تالیف أستاد عبداللہ ناصح علوان صفحہ 1؍94 مطبع دارالسلام حلب ۔

    vi. تربیة الأولاد في الإسلام تألیف استاذ شیخ عبداللہ ناصح علوان صفحہ 1؍93 طبع حلب

    vii. شاہکار اسلامی انسائیکلو پیڈیا مرتبہ سید قاسم محمود صفحہ 1082 طبع

    مصدر:
    https://magazine.mohaddis.com/shuma...aor-us-k-ahekam?_e_pi_=7,PAGE_ID10,3871269847

    ~~~~~~


    عقیقہ اور اُس کے احکام
    غازی عزیر
    (قسط 3)

    عقیقہ کے دن بچہ کا نام رکھنا:

    عمرو بن شعیب اپنے والد سے اور وہ ان کے دادا سے روایت کرتے ہیں:
    ''أن النبي صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم أمر بتسمیة المولود یوم سابعه ووضع الأذٰی عنه والعق'' 1
    ''نبی ﷺ نے مولود کا نام اس کے ساتویں دن رکھنے، اس کی تکلیف دور کرنے اور عقیقہ کرنے کا حکم فرمایا''

    اس حدیث کو شارح صحیح مسلم امام نووی رحمہ اللہ نے اپنی مشہور کتاب ''الاذکار''i او رامام ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے ''صحیح الکلام الطیب''ii میں بھی نقل کیا ہے۔بعض دوسری احادیث میں بھی عقیقہ کے دن یعنی ساتویں روز بچہ کا نام رکھنے کااشارہ ملتا ہے۔مثلاً :
    ''کل غلام رھین بعقیقته تذبح عنه یوم سابعه و یحلق و یسمیٰ''
    (سنن أبي داود والترمذي و النسائي و ابن ماجة عن سمرة بن جندبؓiii)
    ''عق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عن حسن و حسین یوم السابع و سماھما و أمر أن یماط عن رؤوسھما الأذٰی'' وغیرہ

    امام نووی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ:
    ''سنّت یہ ہے کہ مولود کا نام پیدائش کے ساتویں دن یا پیدائش ہی کے دن رکھا جائے۔''2

    لیکن جس بچہ کا عقیقہ نہ کیا جائے اس کا اسی دن نام رکھنا چاہیے۔اس سلسلہ میں امام بخاری رحمہ اللہ نے اپنی صحیح کے ''کتاب العقیقہ'' میں ایک باب باندھا ہے جو اس طرح ہے:
    ''باب في تسمیة المولود غداة یولد لمن لم یعق عنه و تحنیکه''
    ''یعنی جس بچے کا عقیقہ نہ کیا جائے اس کا اسی روز نام رکھنا او رتحنیک کرنا۔''

    اس باب میں امام موصوف رحمہ اللہ نے پانچ روایات جمع کی ہیں۔

    عقیقہ کا جانور کیسا ہو؟
    ذیل میں عقیقہ کے جانور کے متعلق بعض عام احکام پیش ہیں جن کی رعایت ضروری ہے:
    (الف) بعض علماء کا خیال ہے کہ جو باتیں ذبیحہ اضحیہ میں ضروری ہیں، ان کا لحاظ ذبیحہ عقیقہ میں بھی ضروری ہے۔ فقہائے حنفیہ کے نزدیک ذبیحہ اضحیہ کے دو معیار یہ ہیں: (1) جانور کی عمر (2) جانور کا صحیح سالم اور عیوب سے پاک ہونا۔

    اوّل الذکر معیار کی تفصیل یہ ہےکہ جانور عموماً ایک سال عمر مکمل کرنے کے بعد دوسرے سال میں داخل ہوچکا ہو۔ خواہ بکرا بکری ہو یا بھیڑ اور دنبہ، لیکن بھیڑ اور دنبہ کے لیے اس کی جسمانی نشوونما کے باعث تھوڑی رعایت بھی ملتی ہے۔ اگر بھیڑ یا دنبہ جسمانی اعتبار سے کافی تندرست اور فربہ ہوں توان کی قربانی چھ ماہ کی عمر پوری کرنے پر بھی کی جاسکتی ہے، بشرطیکہ اگر اسے ایک سال کے جانوروں کے درمیان چھوڑ دیا جائے تو جسمانی نشوونما کے باعث اس کی تمیز نہ کی جاسکے۔ لیکن بکرا بکری کے معاملہ میں محض صحت و تندرسی کا کوئی لحاظ نہیں کیا جائے گا، اس کے لیے ایک سال کی عمر مکمل کرکے دوسرے سال میں داخل ہونا ضروری ہے۔iv

    آخر الذکر معیار کی تفصیل یہ ہےکہ قربانی کا جانور تمام عیوب سے پاک او رجسمانی اعتبار سے مکمل او رسالم ہونا چاہیے۔ عمیاء، عوراء، عجفا، عرجاء، ہتماء، سکاء اور تولاء جانوروں کی قربانی جائز نہیں ہے۔ عمیاء ،سے مراد بالکل اندھا، عوراء، سے مراد ایک آنکھ کا اندھا، عجفاء، سے مراد نہایت دُبلا پتلا اور نحیف، حتیٰ کہ اس کی ہڈیوں میں گودا بھی باقی نہ بچا ہو۔ عرجاء، سے مراد ایسا لنگڑا جانور جو خود چل کر مقام ذبح تک نہ جاسکتا ہو، ہتماء، سےمراد ایسا جانور جس کے اکثر دانت گر چکے ہوں۔ سکاء، سے مراد ایسا جانور جس کے بحسب خلقت کان نہ ہوں اور تولاء، سے مراد ایسا جانور جواس درجہ پاگل ہو کہ اس کا پاگل پن اس کے غذ چرنے میں مانع ہو۔ اسی طرح وہ جانور جس کے کان اور دُم ایک تہاوی سے زیادہ کٹے ہوں یا جس کی سینگ ایک تہائی سے زیادہ ٹوٹی ہوئی ہو، ایسے تمام جانوروں کا ذبیحہ درست نہیں ہے۔ لیکن وہ جانور جن میں یہ عیوب بہت معمولی ہوں ان کا عقیقہ و اضحیہ دونوں جائز و درست ہیں۔ مثلاً اگر کسی جانور کا کان یا دم کٹی ہوئی ہو یا سینگ ٹوٹا ہوا لیکن دو تہائی یا دو تہائی سے زیادہ حصہ باقی موجود ہو، یا جانور اگر پاگل ہو مگر اس کا پاگل پن اسے غذا چرنے سے نہ روکتا ہو۔ یا اگر جانور کے بعض دانت گرے ہوئے ہوں، مگر اکثر دانت موجود ہوں یا جانور اتنا لنگڑا ہو کہ اپنے باقی سالم پیروں کے ساتھ اس ٹوٹے ہوئے پیر کو بھی زمان پر رکھ کر چل سکتا ہو یا اتنا کمزور جانور کہ جائے ذبح تک بہ آسانی خود چل کر جاسکتا ہو تو ایسے جانوروں کے ذبح کرنے میں کوئی مضائقہ نہیں ہے۔

    (ب) عقیقہ کے لیے ایک جیسے جانوروں کا انتخاب:
    لڑکے کے عقیقہ کے ذبیحہ کے لیے دو ایک جیسے جانوروں کا انتخاب بھی عقیقہ کے جانور کا ایک اضافی معیار ہے۔ جانورون کے ایک جیسے ہونے سے مراد قد، جنس اور عمر میں یکسانیت ہے۔

    ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہؓ او راُم کرز کعبیہؓ بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
    ''عن الغلام شاتان مکافئتان و عن الجاریة شاة'' ''لڑکے پرایک جیسی دو بکریاں اورلڑکی پر ایک بکری'' 3

    حضرت عائشہ صدیقہؓ سے ایک اور حدیث میں مروی ہے:
    ''أن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم أمرھم عن الغلام شاتان مکافئتان و عن الجاریة شاة''
    ''رسول اللہﷺ نے انہیں حکم فرمایا کہ لڑکے کی طرف سے دو ایک جیسی بکریاں او رلڑکی کی طرف سے ایک بکری۔'' 4

    ایک اور حدیث میں ''شاتان مکافئتان'' کی جگہ ''شاتان مثلان'' کے ہم معنی الفاظ بھی ملتے ہیں:
    ''عن الغلام شاتان مثلان و عن الجاریة شاة'' ''لڑکے کی طرف سے دو ایک جیسی بکریاں اور لڑکی کی طرف سے ایک بکری'' 5


    ایک او رمقام پر حضرت عائشہ صدیقہؓ بیان فرماتی ہیں:
    ''ما قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم شاتان مکافئتان'' 6
    ''جو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ( وہ یہ ہے کہ) دو ایک جیسی بکریاں''

    (ج) عقیقہ کے لیے بکرا بکری یا اسے سے مشابہ جانور مثلاً بھیڑ یا مینڈھا اور دنبہ ہی ذبح کرنا چاہیے جیسا کہ اوپر بیان کی ہوئی تمام احادیث سے ثابت ہے، البتہ جانوروں کے انتخاب میں ایک جیسے ہونے، جانوروں کی عمر ایک سال مکمل ہونے اور غالب جسمانی عیوب سے پاک ہونے کے علاوہ کوئی او رمعیار نہیں ہے۔ مثلاً رنگ اور وزن وغیرہ ۔ جانوروں کا قد، عمر او رجنس میں یکسانیت جانوروں کے ایک جیسا ہونے کے لیے کافی ہے۔ جنس سے مرا دیہ ہے کہ اگر بکری سے عقیقہ کرنا ہے تو دونوں جانور بکریاں ہی ہوں، ایک بکری اور ایک بھیڑ نہ ہو۔ ذبیحہ کے جانوروں میں نر و مادہ کی تمیز بھی نہیں کی جائے گی جیساکہ مندرجہ ذیل حدیث سے ثابت ہے۔

    ام کرز کعبیہؓ بیان کرتی ہین کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے عقیقہ کے متعلق دریافت کیا تو آپؐ نے فرمایا:
    ''عن الغلام شاتان و عن الأنثیٰ واحدة ولا یضرکم ذکرانا أوأناثا'' 7
    ''لڑکے پر دو بکریاں ہیں او رلڑکی پرایک، اور تم پر کوئی حرج نہیں خواہ جانور نر ہوں یا مادہ''

    بعض لوگوں میں یہ بات مشہور ہے کہ لڑکے کے لیے نر جانور ذبح کرنا چاہیے او رلڑکی کے لیے مادہ جانورv، اس کی کوئی اصل نہیں ہے۔ یہ بات محض لا علمی او رجہالت پر مبنی ہے۔
    (جاری ہے)

    حوالہ جات
    1. سنن الترمذی مع التحفۃ صفحہ 3؍28، وقال حدیث حسن غریب

    2. کتاب الاذکار للنووی رحمہ اللہ صفحہ 254

    3. رواہ أحمد و ترمذي عن عائشة سنن أبي داود، کتاب الأضاحي باب في العقیقة، و سنن نسائي کتاب العقیقة عن أم کرز الکعبیة بالأسانید الصحیحة

    4. سنن نسائي، کتاب العقیقة و ترمذي، کتاب الأضاحي باب في العقیقة و إسنادہ، جید

    5. سنن أبي داود، کتاب الأضاحي باب في العقیقة و إسنادہ جید

    6. الطحاوی ج1 ص457 باسناد صحیح

    7. مسنداحمد و سنن الترمذی مع التحفہ صفحہ 2؍362

    i.کتاب الأذکار المنتخبة من کلام سید الأبرار صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تألیف امام نووی رحمہ اللہ ،صفحہ 254

    ii.صحیح الکلم الطیب لإمام ابن تیمیة رحمہ اللہ مع تحقیق و اختصار، اس شیخ ناصر الدین البانی

    iii.کتاب الاذکار صفحہ 254، طبع مصر

    iv. اہل حدیث کے نزدیک اضحیہ میں دانت کا لحاظ رکھنا ضروری ہے۔بکرا اور بکری کے لیے دو دانت ہونا قربانی کے لیے شرط ہے۔ اسی طرح بھیڑ دنبہ کے لیے چھ ماہ کی بجائے کھیرا ہونا شرط ہے۔ (ادارہ)

    v.تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو، راقم الحروف کا مضمون ''اسلام اور حقوق اطفال'' قسط دوم ، ماہنامہ میثاق لاہور ، جلد10 عدد1 ،2 صفحہ 72

    مصدر:
    https://magazine.mohaddis.com/shuma...aor-us-k-ahekam?_e_pi_=7,PAGE_ID10,1093291180

    ~~~~~~


    عقیقہ اور اس کے احکام
    غازی عزیر

    کیا عقیقہ پر گائے، بھینس او راونٹ ذبح کرنا درست ہے؟

    عقیقہ صرف بکری، مینڈھا اور دنبہ سے ہی کیا جانا چاہیے جیساکہ اوپر ذکر کیا گیا ہے۔بھینس ، گائے اور اونٹ ذبح کیے جانے کے متعلق کووی صحیح او رقابل اعتماد حدیث موجود نہیں ہے۔لہٰذا اس مسئلہ میں اکثر علمائے سلف و خلف، ائمہ حدیث اور مجتہدین کا عمل اور فتویٰ یہی ہے کہ بھیڑ،یا بکری یا دُنبہ کے علاوہ کسی دوسرے جانور سے عقیقہ کرنا سنت مطہرہ سے ثابت اور صحیح نہیں ہے۔1

    عقیقہ میں اونٹ ذبح کرنے کے متعلق حضرت انسؓ سے مروی ایک حدیث ملتی ہے جسے طبرانی نے المعجم الصغیر کے صفحہ 278 پر روایت کیا ہے اور امام ابن القیم رحمہ اللہ نے انس بن مالکؓ کے متعلق بیان کیاہے: ''انہوں نےاپنے بچوں کا عقیقہ اونٹ سے کیا تھا۔''2 اسی طرح ابی بکرہؓ سے مروی ہےکہ : ''انہوں نے اپنے بیٹے عبدالرحمٰن کے عقیقہ پر اونٹ ذبح کیا تھا او راس سے اہل بصرہ کی دعوت کی تھی۔''3

    بعض علمائے خلف جو اونٹ، بھینس اور گائے کے عقیقہ پر ذبح کرنے کی اجازت دیتے ہیں ان کی دلیل طبرانی کی مذکورہ روایت اوربعض صحابہؓ کے عمل کے علاوہ امام بخاری رحمہ اللہ او رابن منذر کی وہ روایت ہے جس میں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے:
    ''مع الغلام عقیقة فأھر یقوا عنه دما''
    یعنی ''لڑکے کےساتھ عقیقہ ہے، لہٰذا اس کی طرف سے خون بہاؤ''

    چونکہ اس روایت میں رسول اللہ ﷺ نے ''دم'' کے بجائے لفظ ''دماً'' ارشاد فرمایا ہے، چنانچہ حدیث کے ظواہر او رلفظ ''دما'' کے عموم سے مولود پر صرف بھیڑ، بکری اور دُنبہ کو خاص کرنا صحیح نہیں ہے بلکہ اس لفظ کے عموم میں گائے، بھینس اور اونٹ بھی ذبح کرنے کی اجازت اور گنجائش موجود ہے۔لیکن گائے اور بھینس کے ذبیحہ کے لیے شرط ہے کہ وہ دو سال کی عمر مکمل کرکے تیسرے سال میں داخل ہوچکی ہو، اسی طرح اونٹ پانچ سال کی عمر مکمل کرکے چھٹے سال میں داخل ہوچکا ہو۔

    طبرانی کی جس حدیث کا اوپر ذکر کیا گیاہے، اس کے متعلق محدثین و محققین اس بات پر متفق ہیں کہ یہ حدیث موضوع ہے۔4اسلاف میں سے بعض بزرگوں کا فعلاً عقیقہ کے موقع پر اونٹ ذبح کرنا اگر واقعة ثابت بھی ہوجائے تو بھی مقبول اور مشہو راحادیث کی موجودگی میں ان بزرگوں کا قول و فعل قابل قبول او رحجت تسلیم نہیں کیا جائے گا۔ اس بات کے امکان کو بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا ہے کہ ان بزرگوں کو اس وقت تک رسول اللہ ﷺ کی صحیح احادیث نہ پہنچی ہوں او رانہوں نے اجتہاداً ایسا کیا ہو۔

    بعض احادیث5 میں صحیح سند کے ساتھ مروی ہے کہ عقیقہ پر اونٹ ذبح کرنا درست نہیں ہے۔ صحابہ کرامؓ اس عملی سنت رسولؐ اور ارشادات نبویﷺ کے سرموخلاف عمل کرنے سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگا کرتے تھے۔ چنانچہ ایک دفعہ جب اُم المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہؓ سے عقیقہ پر اونٹ ذبح کیے جانے کے متعلق استفسار کیا گیا تو آپ ؓ نے نہایت فیصلہ کن انداز میں اس کی مخالفت فرمائی:
    ''نفس لعبد الرحمٰن بن أبي بکر غلام فقیل لعآئشة رضی اللہ عنها یا أم المؤمنین ! عقي عنه جزوراً فقالت: معاذ اللہ ولٰکن ما قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم شاتان مکافئتان'' i
    ''حضرت عبدالرحمٰن ابن ابی بکرؓ کےہاں لڑکا پیدا ہوا تو حضرت عائشہ صدیقہؓ سے استفسار کیا گیا کہ '' اے ام المؤمنین! اس کے عقیقہ پر اونٹ ذبح کیا جائے؟'' آپؓ نے فرمایا: ''اللہ کی پناہ، اس کے بجائے جو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا (یعنی ) ایک جیسی دو بکریاں''

    کیا جن جانوروں میں سات حصّے قربانی ہوسکتی ہے،
    ان میں سات عقیقے بھی ہوسکتے ہیں؟

    جیسا کہ اوپر صحیح احادیث کی روشنی میں واضح اور ثابت کیا جاچکا ہے کہ سوائے بکری، بھیڑ اور دُنبہ کے کسی دوسرے جانور سے عقیقہ کرنا سنت مطہرہ کے صریح خلاف ہے۔ اور مجدثین و مجتہدین اور علمائے سلف و خلف کی ایک بڑی جماعت گائے، بھینس اور اونٹ سے عقیقہ کرنا درست نہیں سمجھتی، اُم المؤمنین او رکبار صحابہؓ ایسا کرنے سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگتے تھے، پس جن جانوروں سے عقیقہ کرنا ہی درست نہیں ان میں سات بچوں کا عقیقہ کرنا کیوں کر درست ہوسکتا ہے؟

    جو بعض علمائے خلف گائے، بھینس او راونٹ سے عقیقہ کرنا درست سمجھتے ہیں وہ بھی اس میں اشتراک کے قائل نہیں ہیں۔چنانچہ الاستاذ شیخ عبداللہ ناصح علوان فرماتے ہیں:
    ''عقیقہ میں اشتراک صحیح نہیں ہے جس طرح کہ سات آدمی، اونٹ میں اشتراک کرتے ہیں کیونکہ اگر اس میں اشتراک صحیح ہو تو بچہ کی طرف سے '' إهراقة الدم'' کا مقصد حاصل نہیں ہوتا۔ حالانکہ عقیقہ کا ذبیحہ مولود کی طرف سے فدیہ ہوتا ہے۔ بھیڑ ، یا بکری کے بدلہ میں اونٹ یا گائے ذبح کرنا درست ہے ، بشرطیکہ یہ ذبیحہ ایک مولود کے لیے ایک جانور کی صورت میں ہو۔'' ii

    کیا عیدالاضحیٰ کی قربانی میں عقیقہ کا حصّہ شامل کیا جاسکتا ہے؟
    بعض لوگ ایسا کرتے ہیں کہ عیدالاضحیٰ کے ایک جانور میں جس میں سات آدمی شریک ہوسکتے ہیں، پانچ حصے قربانی کے اور باقی دو حصے ایک لڑکے کی طرف سے یا دو لڑکیوں کی طرف سے عقیقے کے شامل کردیتے ہیں۔ اور ایک ہی جانور ذبح کرکے قربانی کے تمام شرکاء کی قربانی اور عقیقے کے شرکاء کے عقیقوں سے ایک ساتھ سبکدوش ہوجاتے ہیں، ایسا کرنا بھی سنت رسول اللہ ﷺ کی صریح خلاف ورزی ہے۔ اس کی حقیقت بھی ''اشتراک فی العقیقہ'' ہی کی ایک صورت ہے جس کا حکم اوپر بیان ہوچکا ہے۔

    کیا عقیقہ کے جانور کی قیمت کسی غریب محتاج یارفاہ عام کے کاموں میں دینا درست ہے؟
    عقیقہ کے جانور کی قیمت کسی غریب و محتاج کی مدد پر یا بیمار کے علاج و خبرگیری میں صرف کرنا یا اُسے کسی اجتماعی و رفاہی کام میں خرچ کردینا، عقیقہ کے مقصد و احکام کے صریح خلاف ہے۔ ایسا کرنا نہ رسول اللہ ﷺ سے ثابت ہے او رنہ ہی آپؐ کے صحابہؓ و تابعین رحمہ اللہ و اسلاف امت میں سے کسی ایک سے ! علمائے فقہ و اجتہاد بھی اس بات کو خلاف سنت قرار دیتے ہیں۔ کسی قرض دار یا غریب و محتاج کی مدد یا بیمار کا علاج یا اسی طرح قحط یا سیلاب یا زلزلہ یا طوفان یا فساد یا آتش زدہ لوگوں کی مدد یا دوسرے رفاہ عام کے کاموں پر مال خرچ کرنا کسی طرح بھی عقیقہ کا بدل نہیں ہوسکتا۔ واللہ اعلم بالصواب۔

    عقیقہ کا جانور مولود کے نام پر ذبح کرنا اور عقیقہ کی دعاء :
    عقیقہ کا جانور مولود کا نام لے کر ذبح کرنا مستحب ہے۔ حضرت عائشہ صدیقہؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا:
    ''اذبحوا علی اسمه فقولوا، بسم اللہ اللھم لك وإلیك ھٰذہ عقیقة فلان'' iii
    ''(مولود) کے نام پر ذبح کرو او ریہ دعا پڑھو۔''
    ''بسم اللہ اللھم لك وإلیك ھٰذا عقیقة فلان''
    (فلاں کی جگہ مولود کا نام لیا جائے)''

    (جاری ہے)

    حوالہ جات
    1. تربیة الأولاد في الإسلام تألیف استاذ عبداللہ ناصح علوان الجزء الاوّل صفحہ 98

    2. تحفة المودود في احکام المولود مصفنہ امام ابن القیم رحمہ اللہ

    3. تحفة المودود في أحکام المولود مصفنہ امام ابن القیم رحمہ اللہ

    4. إرواء الغلیل ج4 صفحہ 393

    5. مستدرک حاکم ج4 صفحہ 238۔239 و الطحاوی ج1 صفحہ 457

    i. معاني الآثار للطحاوي صفحہ 1؍457 و اسنادہ جید

    ii. تربیة الأولاد في الإسلام الجزء الاّول صفحہ 98

    iii. رواہ ابن المنذر و کذا في حصن حصین لابن الجزري

    مصدر :
    http://magazine.mohaddis.com/shumara/193-april1986/2319-aqeeqa-aor-us-k-ahekam

    ~~~~~~


    عقیقہ اور اس کے احکام
    غازی عزیر

    اگر ذبح کرنے والا شخص عقیقہ کے متعلق صرف نیت کرلے اور ''بسم اللہ اللہ أکبر'' پڑھ کر ذبح کرڈالے او رمولود کا نام نہ لے تو بھی عقیقہ ہوجائے گا۔

    عقیقہ کے گوشت کی تقسیم اور استعمال
    عقیقہ کے گوشت کی تقسیم و استعمال کے متعلق جو ذبیحہ اضحیہ کے احکام ہیں، وہی ذبیحہ عقیقہ کے بھی ہیں۔ یعنی اس میں سے خود اہل خانہ کھائیں، صدقہ کریں، ہدیتہً اپنے اعزاء و اقرباء و اصدقاء کو دیں۔اہل خانہ میں سے ماں باپ، بہن بھائی، نانا نانی، خالہ ماموں، چچا تایا، دادا دادی اور پھوپھی وغیرہ او ران کے اہل و عیال سب ہی لوگ بلا استثناء عقیقہ کا گوشت استعمال کرسکتے ہیں۔ بعض جہلاء نے مشہور کررکھا ہے کہ بچہ کی ماں اور ماں کے اہل خاندان مثلاً خالہ، ماموں، نانا او رنانی وغیرہ عقیقہ کا گوشت نہیں کھا سکتے، یہ قطعاً درست نہیں ہے۔1 اسی طرح صدقہ کے لیے صدقہ کے لیے بھی ایک تہائی یا دو تہائی یا نصف یا چوتھائی یا او رکسی خاص مقدار کی کوئی قید نہیں ہے۔ سید قاسم محمود صاحب عقیقہ کے گوشت کی تقسیم کے سلسلہ میں لکھتے ہیں:
    ''عقیقہ کے گوشت کا زیادہ حصہ فقیروں اور رشتہ داروں میں تقسیم کیا جاتا ہے۔''2

    او رجناب مفتی ماہنامہ اقراء ڈائجسٹ کراچی فرماتے ہیں:
    ''عقیقہ کے گوشت کا ایک تہائی حصہ مساکین کو تقسیم کردینا افضل ہے۔ الخ''3

    اس سلسلہ میں حق بات یہ ہے کہ صدقہ جتنا زیادہ کیا جائے وہ باعث خیر و برکت و اجر ہے۔ لیکن ''ایک تہائی'' یا ''زیادہ تر حصہ ''فقراء و مساکین اور رشتہ داروں میں تقسیم کرنے کو معیار بنا لینا صحیح اور منصوص نہیں ہے۔

    اگر کوئی شخص عقیقہ کے گوشت سے اپنے عزیز و اقارب اور دوست واحباب کی دعوت و ضیافت کا اہتمام کرے تو ایسا کرنے میں بھی کوئی حرج نہیں ہے، بہت سے فقہاء نے اس کی اجازت د ی ہے۔ اس دعوت کو عرف الناس میں''طعام الخرس''4یا ''طعام الحقیقة'' کہتے ہیں۔

    اپنی خوشی میں دائی یا دایہ کو شریک کرتے ہیں، عقیقہ کا گوت اسے دینا درست ہے، لیکن یہ گوشت اس کی اجرت کے طور پر نہیں بلکہ بطور ہدیہ دیا جائے۔ حضرت علی ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے حضرت حسین ؓ کے عقیقہ پر حضرت فاطمة الزہراؓ کو اس طرح ہدایت فرمائی تھی:
    ''وزني شعر الحسین و تصد قي بوزنه فضة وأعطي القابلة رجل العقیقة''5
    ''حضرت حسینؓ کے بالوں کو وزن کیا جائے، اس کے وزن کے مساوی چاندی صدقہ کی جائے گی اور دائی کو عقیقہ (کے جانور کا) ایک پیر دیا جائے۔''

    ایک اور روایت میں مروی ہے:
    ''أن ابعثوا إلی القابلة منھا برجل الخ'' 6
    ''اس میں سے ایک پایہ دائی کو بھیج دو۔''

    نوٹ: عقیقہ کے جانور کی کھال اجرت میں قصاب کو نہ دی جائے بلکہ اس کا صدقہ کردینا بہتر ہے۔

    عقیقہ کے جانور کی ہڈی توڑنے کی کراہت
    مولود کے عقیقہ کے امور میں جن چند باتوں کی رعایت ضروری ہے، ان میں سے ایک یہ بھی ہے کہ ذبح کرنے او رکھانے کے وقت کے علاوہ جانور کی ہڈی میں سے کوئی چیز توڑی نہ جائے۔ ذبیحہ کو کاٹتے وقت ہر ہڈی کوجوڑ پر سے بغیر توڑے ہوئے علیحدہ کرنا مستحب ہے۔ جعفر بن محمدؓ نے اپنے والد سے روایت کی ہے نبی ﷺ نے حضرات حسن و حسین رضی اللہ عنہما کے عقیقوں کے موقعہ پر فرمایا:
    ''أن ابعثوا إلی القابلة منھا برجل وکلوا وأطعموا ولا تکسروا منھا عظما'' 7
    ''اس میں سے ایک پیر دائی کوبھیج دو ، کھاؤ اور کھلاؤ مگر اس کی کوئی ہڈی نہ توڑو''

    ابن جریج نے عطاء سے روایت کی ہے کہ ایسا فرماتے تھے:
    ''تقطع جدولا ولا یکسر لھا عظم'' 8
    ''اس کے اعضاء الگ الگ کاٹو لیکن اس کی ہڈی نہ توڑو''

    ابن منذر نے بھی عطاء سے او رانہوں نے حضرت عائشہ صدیقہؓ سے اسی کے مثل روایت کی ہے۔ استاذ شیخ عبداللہ ناصح علوان اس بات کی دو حکتمیں بیان کرتے ہیں۔ ''اوّل یہ کہ اس سے فقراء و اقرباء کے درمیان ہدیہ و طعام کے شرف کا اظہار ہوتا ہے کیونکہ کسی عضور میں سے کچھ توڑا او رکاٹ کر علیحدہ نہ کرنا بلکہ سالم عضو کسی کو ہدیہ میں پیش کرنا جو دواکرام کی عظیم مثال ہے۔ دوم اس سے مولود کے اعضاء و قوت و صحت اور سلامتی کی نیک خواہش کا اظہار ہوتا ہے۔''9

    عقیقہ سے متعلق بعض مروجہ رسوماتِ باطلہ
    ہندوستان و پاکستان میں عام طور پر غیر تعلیم یافتہ طبقہ میں عقیقہ کو محض ایک رسم سمجھا جاتا ہے ، جو سراسر اسلامی مزاج کے خلاف ہے۔ اس موقع پر بعض بُری رسومات بھی دیکھنے میں آتی ہیں۔ مثلاً ناچ رنگ و ڈھول، گانے باجے یا مجلس میلاد کا اہتمام، گھوڑے پر بچہ کو سوار کرا کر کسی مسجد یا بزرگ کے مزار تک لے جانا،بچہ کے سر پرپھول یا سہرا باندھنا، نظر بد سے بچانے کے یے اس کے چہرے پر کالا ٹیکہ لگانا، منت کے طور پر لڑکے کے کان چھیدنا، سرخ و پیلے رنگ یا کالے و ہرے رنگ کا دھاگا گلے میں لٹکانا یا بازو اور کمر پر باندھنا، کوئی سکہ یا ہڈی کا ٹکڑا یا کانٹا یا لوہے یا چاندی یا سونے کا چاقو گلے میں لٹکانا، بچہ کے سر کے چاروں طرف روپیہ یا زیو رکئی بار گھما کر اس کا صدقہ او ربلائیں اتارنا، بچہ کے بازو پر امام ضامن باندھنا، کمر میں پٹہ اور تلوار لٹکانا، آبِ زمزم پلانا، نیاز و فاتحہ کرنا اور اس کی شیرینی تقسیم کرنا، ماں باپ کا سج سنور کر دولہا دلہن بننا، جانور ذبح کرنے کے بجائے چائے پارٹی کا اہتمام کرنا وغیرہ یہ سب غیر شرعی اور جاہلانہ رسوم و اختراعات ہیں۔ ان سے خود بچنا اور دوسروں کو بھی روکنا چاہیے۔10

    عقیقہ کی تشریح کی اہمیت، حکمت اور فوائد
    1۔ اسلام میں نومولود کے حقوق بھی اپنا ایک اہم مقام رکھتے ہیں، ان حقوق مین عقیقہ بھی شامل ہے۔ 11
    2۔ بعض روایات میں ہے کہ ''جب تک (مولود کا) عقیقہ نہ کیا جائے، برکت و سعادت میں سے اسے بہت کم حصہ ملتا ہے'' 12
    3۔ امام احمدبن حنبل رحمہ اللہ عقیقہ کی اہمیت و حکمت بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
    ''ھٰذا في الشفاعة یرید أنه إذا لم یعق فمات طفلا لم یشفع في أبویه''13
    ''عقیقہ کا تعلق شفاعت سے ہے ۔ اگر مولود بچپن میں مرگیا او راس کا عقیقہ نہ کیا گیا ہو تو وہ اپنے والدین کی شفاعت نہیں کرے گا۔''
    4۔ صحیح بخاری کی سلمان بن عامر الضبی والی حدیث کی رُو سے عقیقہ کرنے سے بچہ کی اذیت14 دور ہوتی ہے۔15
    5۔ عقیقہ، مولود کی طرف سے مصائب و آفات سے محفوظ رہنے کا فدیہ ہے۔ 16
    6۔ شرائع اسلام کی اقامت پر فرحت و مسرت کا اظہار ہے۔
    7۔ احیائے سنت رسولؐ کے ساتھ خیر و برکت اور اجر عظیم کا باعث ہے۔
    8۔ مولود کی ولادت پر اللہ تعالیٰ کے شکر ادا کرنے کا ایک ذریعہ ہے۔
    9۔ مولود پر والدین کی شفاعت کی ذمہ داری کا نعم البدل ہے۔
    10۔ مولود کی امد کی خوشی میں دعوت طعام کے لیے جمع ہونے والوں کے مابین عدل اجتماعی، الفت و محبت او رمعاشرہ کے اجتماعی روابط کا قائم و مکمل اور مستحکم ہونا۔
    11۔ طعام عقیقہ پر جمع ہونے والوں کا مولود کے لیے اجتماعی طور پر صحت و عافیت کی دعا کرنا۔
    12۔ معاشرہ کے پسماندہ، غریب، فاقہ زدہ اور محروم طبقہ کی مدد ہونا وغیرہ۔

    ان سب خصوصیات کے باعث عقیقہ، اجتماعیت اور شریعت کی ایک اہم اساس اور ضرورت بن جاتا ہے۔

    وآخر دعوانا أن الحمدللہ رب العلٰمین والصلوٰة والسلام علی رسوله الکریم

    حوالہ جات
    1. تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو راقم الحروف کا مضمون ''اسلام اور حقوق اطفال'' قسط دوم، ماہنامہ ''میثاق'' لاہور جلد نمبر 30 عدد 1، 2 صفحہ 72

    2. شاہکار اسلامی انسائیکلو پیڈیا مرتبہ سید قاسم محمود صفحہ 1083

    3. ماہنامہ اقراء ڈائجسٹ کراچی ج نمبر1 شمارہ نمبر 7 صفحہ 185 مجریہ ماہ ستمبر 1985ء

    4. طعام الخرس دراصل یوم پیدائش کی دعوت کو کہتے ہیں۔(لسان المیزان ج7 ص363 اور تحفة المودود صفحہ 53) ادارہ

    5. رواہ البیہقی ج9 صفحہ 304

    6. رواہ ابوداؤد فی المراسیل

    7. مراسیل ابی داؤد صفحہ 16

    8. سنن البیہقی ج9 صفحہ 302

    9. تربیة الأولاد في الإسلام تالیف شیخ عبداللہ ناصح علوان الجزء الأوّل صفحہ 96، 97

    10. تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو راقم الحروف کا مضمون ''اسلام اور حقوق اطفال'' قسط دوم ماہنامہ میثاق لاہور ،ج30 عدد 1 ،2۔ صفحہ72۔73 مجریہ ماہ جنوری و فروری 1981ء

    11. تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو راقم الحروف کا مضمون ''اسلام اور حقوق اطفال'' طبع شدہ بالاقساط عدیدہ در ماہنامہ میثاق لاہور

    12. شاہکار اسلامی انسائیکلو پیڈیا مرتبہ سید قاسم محمود صفحہ 1082

    13. فتح الباری شرح صحیح البخاری ج1 ص594 طبع مصر

    14. اذیت سے مراد آلائش و گندگی ہے۔ (ادارہ)

    15. صحیح بخاری، کتاب العقیقہ

    16. تربية الأولاد في الإسلام تالیف عبداللہ ناصح علوان الجزء الأوّل

    مصدر:
    https://magazine.mohaddis.com/shuma...aor-us-k-ahekam?_e_pi_=7,PAGE_ID10,8206666762

    .

    Sent from my itel A44 Pro using Tapatalk
     
  4. ‏مئی 06، 2019 #4
    خضر حیات

    خضر حیات علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    طابہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 14، 2011
    پیغامات:
    8,626
    موصول شکریہ جات:
    8,289
    تمغے کے پوائنٹ:
    964

    یہ تکرار کیوں اتنا؟
     
  5. ‏مئی 07، 2019 #5
    zahra

    zahra مبتدی
    شمولیت:
    ‏دسمبر 04، 2018
    پیغامات:
    137
    موصول شکریہ جات:
    5
    تمغے کے پوائنٹ:
    25

    nice sharing amazing one keep sharing its awesome appreciated
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں