1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

علامہ البانی رحمہ اللہ کا میلاد کے موضوع پر ایک میلادی سے دلچسپ مکالمہ!

'بدعت' میں موضوعات آغاز کردہ از عامر عدنان, ‏نومبر 17، 2018۔

  1. ‏نومبر 17، 2018 #1
    عامر عدنان

    عامر عدنان مشہور رکن
    جگہ:
    انڈیا،بنارس
    شمولیت:
    ‏جون 22، 2015
    پیغامات:
    860
    موصول شکریہ جات:
    241
    تمغے کے پوائنٹ:
    118

    السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ

    FB_IMG_1542451675742.jpg
    FB_IMG_1542451678475.jpg
    FB_IMG_1542451680927.jpg
    FB_IMG_1542451683021.jpg
    FB_IMG_1542451685090.jpg
    جزاک اللہ خیرا
     
  2. ‏نومبر 17، 2018 #2
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    6,372
    موصول شکریہ جات:
    2,402
    تمغے کے پوائنٹ:
    791

    امام البانی رحمہ اللہ اور قائل جشن میلاد النبی کے مابین مکالمے کی روداد
    مدثر بن ارشد لودھی
    مجلہ اسوہ حسنہ ( 4نومبر2018 )
    ــــــــــــــــــــــــــ
    علامہ البانی رحمہ اللہ:جشن میلاد النبی شریف خیر ہے یا شر؟

    میلادی ھداہ اللہ:خیر ہے۔

    علامہ البانی رحمہ اللہ:کیا رسول اللہ ﷺ اور آپکے صحابہ اس ’’خیر‘‘سے ناواقف تھے؟

    میلادی ھداہ اللہ :نہیں۔

    علامہ البانی رحمہ اللہ:صرف ”نہیں“ کہنا کافی نہیں، آپ کو اس سوال کا فوراً یہ جواب دینا چاہیے تھا کہ :یہ ممکن ہی نہیں کہ رسول اللہ ﷺ اور آپ کے صحابہ اس ’’خیر‘‘سے لاعلم رہیں، حالانکہ اسلام و ایمان کی ساری باتیں ہمیں محمد ﷺ کے ذریعے سے ہی معلوم ہوئی ہیں تو یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ ایک کام کو ہم ’’خیر‘‘جانتے ہوں اور نبی کریم ﷺ اس سے ناواقف ہوں؟ یہ ناممکن ہے۔

    میلادی ھداہ اللہ:دراصل میلاد النبی آپ ﷺکے ذکر کا احیاء ہےاور اس میں آپکی تکریم ہے۔

    علامہ البانی رحمہ اللہ:یہ فلسفہ ہم پہلے بھی سن چکے ہیں ،یہ بتائیں جب رسول ﷺ نے لوگوں کو دعوت دینا شروع کی تو انہیں اسلام کے سبھی احکامات کی دعوت دی یا توحید کی؟

    میلادی ھداہ اللہ:توحید کی۔

    علامہ البانی رحمہ اللہ:سب سے پہلے توحید کی دعوت دی ، نماز ، روزہ ، حج وغیرہ اسکے بعد فرض کئے گئے ، لہذا آپ بھی قدم بقدم اسی طریقے پر چلیں ۔

    اب تک ہم دونوں متفق ہیں کہ ایسی کوئی ’’خیر‘‘نہیں جو ہم جانتے ہوں لیکن رسول اللہ ﷺ اس سے بے خبر ہوں، اس بارے میں کوئی بھی دو فرد اختلاف نہیں رکھتے ،

    اور میرا ماننا ہے کہ جو اس بات میں شک کرے گا وہ مسلمان نہیں ۔

    اور رسول اللہ ﷺ کی حدیث بھی اس بات کی تائید کرتی ہے ، ارشاد فرمایا:​
    ما تركتُ شيئاً يقربكم إلى الله إلا وأمرتكم به
    میں نے کوئی ایسی بات نہیں چھوڑی جو تمہیں اللہ سے قریب کرتی ہو مگر میں نے تمہیں اسکا حکم دے دیا ہے۔(رواه الطبراني بإسناد صحيح )
    پس اگر میلاد منانا ایسی ’’خیر‘‘ہے جو ہمیں اللہ سے قریب کرتی ہے تو رسول اللہ ﷺ نے ہمیں اسکے بارے میں ضرور بتایا ہوگا، صحیح یا غلط؟

    کیا آپ میری اب تک کی گفتگو سے مکمل متفق ہیں؟

    میلادی ھداہ اللہ:متفق ہوں۔

    علامہ البانی رحمہ اللہ:جزاك اللہ خیراً

    اب ہم میلاد کے قائلین سے پوچھتے ہیں :

    تمہارے بقول میلاد منانا ’’خیر‘‘کا کام ہے تو رسول اللہ ﷺ نے اس بارے میں ہمیں کچھ بتایا ہوگا یا نہیں بتایا ہوگا ، اگرتم کہو بتایا ہے تو ہم کہتے ہیں کہ :
    هَاتُوا بُرْهَانَكُمْ إِنْ كُنْتُمْ صَادِقِينَ
    اپنی دلیل پیش کرو اگر تم سچے ہو۔

    ہم اس بارے میں علوی کے کتابچے پڑھ چکے ہیں انکے پاس کوئی دلیل نہیں سوائے اس کے کہ یہ بدعت حسنہ ہے۔گویا میلاد منانے کو جائز کہنے والے اور اسکا انکار کرنے والے سب متفق ہیں کہ:

    یہ جشن رسول اللہ ﷺ کے عہد مبارک میں نہیں تھا نہ ہی عہد صحابہ کرام میں نہ ہی عہد ائمہ اعلام میں ۔

    لیکن میلاد کے قائلین کہتے ہیں کہ :میلاد منانے میں کیا حرج ہے ؟ یہ رسول اللہ ﷺ کا ذکر ہے اور اس میں آپ پر صلاۃ و سلام پڑھا جاتا ہے؟ہم جواب دیتے ہیں کہ اگر یہ کام ’’خیر‘‘کا ہوتا تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اسے ہم سے پہلے کرچکے ہوتے۔

    آپ کو حدیث کا علم ہے :
    خير الناس قرني ثم الذين يلونهم ثم الذين يلونهم
    سب سے بہترین زمانہ میرا ہے ، پھر میرے بعد والوں کا پھر انکے بعد والوں کا۔

    آپ ﷺ کا زمانہ وہ ہے جس میں آپﷺ اور آپکے صحابہ رضی اللہ عنہم جیتے رہے ، پھر تابعین کا زمانہ ہے پھر تبع تابعین کا زمانہ ہےرحمہم اللہ۔

    اس بارے میں بھی کوئی اختلاف نہیں ہے۔

    تو کیا آپ سوچ سکتے ہیں کہ ایسی بھی ’’خیر‘‘ہے کہ ان سے پہلے جسکا علم ہمیں ہوگیا اور ہم اس پر عمل پیرا ہیں ۔

    میلادی ھداہ اللہ: سائنس کے اعتبار سے دیکھا جائے تو اگر رسول اللہ ﷺ اپنے زمانے کے لوگوں کو بتاتے کہ زمین گھومتی ہے..۔

    علامہ البانی رحمہ اللہ:معاف کیجیےگا ، مضمون سے مت ہٹیں، میں نے آپ سے دو چیزوں کے متعلق پوچھا ہے،’’علم اور عمل‘‘ علم سے میری مراد علم شرعی ہے ، کوئی اور علم نہیں ، مثلاً اگر کو ئی کہے کہ فلاں ڈاکٹر طب میں ابن سینا سے بڑا عالم ہے تو اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ وہ زمانہ خیر القرون سے آگے بڑھ گیا ، ہم علم شرعی کی بات کررہے ہیں ، نہ کہ جغرافیہ یا فلکیات یا کیمسٹری یا بائیولوجی کی ، فرض کریں اگر آج کا کو ئی کافر شخص ان علوم کو سب انسانوں سے زیادہ جانتا ہو تو کیا یہ چیز اسے اللہ کا مقرب بنادیگی ؟

    میلادی ھداہ اللہ:نہیں۔

    علامہ البانی رحمہ اللہ: لہذا اب ہم سائنس کی نہیں بلکہ اس علم کی بات کررہے ہیں جو اللہ تبارک و تعالیٰ سے قریب کرتا ہے ، ہماری گفتگو جشن میلاد کے متعلق چل رہی تھی ،

    میں دوبارہ سوال کرتا ہوں اور واضح جواب کی امید کرتا ہوں:

    کیا آپ اپنی عقل و فہم کے مطابق مانتے ہیں کہ ہم علم شرعی میں صحابہ ، تابعین ، اور ائمہ مجتہدین سے زیادہ ہیں ، خیر اور اللہ سے قریب کرنے والے اعمال میں ان سلف صالحین پر سبقت لے گئے ہیں؟

    میلادی ھداہ اللہ:علم شرعی سے آپکی مراد علم تفسیر ہے ؟

    علامہ البانی رحمہ اللہ:وہ ہم سے زیادہ علم والے تھے ، تفسیر قرآن کا علم ہو یا حدیث رسول کی تفسیر کا علم ہو یا شریعت اسلام کا علم ہو۔

    میلادی ھداہ اللہ:تفسیر قرآن کا علم تو آج کے دور میں عہد رسول ﷺ سے زیادہ ہے ، مثلاً، قرآن کی آیت:

    وَتَرَى الْجِبَالَ تَحْسَبُهَا جَامِدَةً وَهِيَ تَمُرُّ مَرَّ السَّحَابِ صُنْعَ اللَّهِ الَّذِي أَتْقَنَ كُلَّ شَيْءٍ إِنَّهُ خَبِيرٌ بِمَا تَفْعَلُونَ (النمل:88)
    آپ پہاڑوں کو ٹھہرا ہوا محسوس کریں گے حالانکہ وہ چلتے ہیں جیسے بادل چلتے ہیں ، اللہ کی کاریگری ہے ، جس نے ہر شے کو مستحکم کیا، تم جو کچھ کرتے ہو وہ اس سے باخبر ہے۔

    اگر رسول اللہ ﷺ اپنے زمانہ میں کسی سے کہتے کہ زمین گھومتی ہے تو کوئی بھی آپکی تصدیق نہیں کرسکتا تھا۔

    علامہ البانی رحمہ اللہ:یعنی آپ چاہتے ہیں کہ ہم آپکو دوبارہ یاد دلائیں کہ آپ موضوع سے ہٹ رہے ہیں ،

    میرے بھائی میں آپ سے کُل کے متعلق پوچھ رہا ہوں نہ کہ جزء کے متعلق ، عام سوال ہے کہ اسلام کے متعلق سب سے زیادہ علم کس کے پاس تھا؟

    میلادی ھداہ اللہ:لازمی سی بات ہے رسول اللہ ﷺ اور آپکے صحابہ رضی اللہ عنہم کے پاس۔

    علامہ البانی رحمہ اللہ:ہم آپ سے اس جواب کی امید کررہے تھے۔نیز آپ جس تفسیر کی بات کررہے ہیں اسکا عمل سے کوئی تعلق نہیں ، بلکہ فکر و فہم سے ہے ،

    اور اس آیت سے جو لوگ زمین کے گھومنے کا اثبات کرتے ہیں وہ غلطی پر ہیں ،کیونکہ اس آیت کا تعلق روز قیامت سے ہے اور ہم اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ یہ ممکن ہے کہ بعد میں آنے والا کوئی شخص علم سائنس یا علم فلکیات میں صحابہ یا تابعین سے زیادہ علم رکھتا ہو ، جس طرح کفار ان علوم میں مسلمانوں سےآگے ہیں لیکن اس سے انہیں کیا حاصل ہوا ؟

    کچھ نہیں ، تو ہم اس بے فائدہ شے کے متعلق بات نہیں کرنا چاہتے بلکہ اس شے کے متعلق بات کررہے ہیں جو ہمیں اللہ سے قریب کردے ، ہم میلاد النبی شریف کے متعلق بات کررہے ہیں ، اور ہم متفق ہیں کہ اگر یہ ”خیر“کا کام ہوتا تو سلف صالحین اور ان کے سرداریعنی رسول اللہ ﷺ اسے ہم سے زیادہ جانتے اور ہم سے پہلے اس پر عمل پیرا ہوتے،کیا اس میں کوئی شک ہے؟

    میلادی ھداہ اللہ:نہیں ، کوئی شک نہیں۔

    علامہ البانی رحمہ اللہ:اب آپ سائنسی علوم کی جانب متوجہ نہ ہونا جن کا عملی طور پراللہ تعالیٰ کے تقرب سے کوئی تعلق نہیں ، نیز سب ہی اس بات پر متفق ہیں کہ یہ میلاد نبی کریم ﷺ کے زمانے میں نہیں تھا، گویا یہ ”خیر“ نبی ﷺ کے زمانے میں اور صحابہ و تابعین و ائمہ مجتہدین کے زمانے میں نہیں تھی ۔ان پر یہ ”خیر“ کیسے مخفی رہی ؟

    ہم دو میں سے ایک بات ہی کہہ سکتے ہیں:

    1وہ ہم سے زیادہ اس ”خیر“سے واقف تھے ، یا

    2 وہ اس ”خیر“سے واقف نہیں تھے۔

    اگر ہم کہیں کہ وہ اس سے واقف تھے اور قائلین میلاد کے نزدیک یہی قول معتبر ہے تو انہوں نے اس پر عمل کیوں نہیں کیا؟کیا ہم ان سے زیادہ اللہ کے مقرب ہیں ؟

    ان میں سے کسی ایک صحابی یا تابعی یا عالم یا عابد نے، غلطی سے ہی صحیح ،اس خیر پر عمل کیوں نہ کیا؟کیا آپکی عقل مانتی ہے کہ اس خیر پر عمل کرنے کا موقع ان میں سے کسی کو نہ مل سکا ؟حالانکہ وہ لاکھوں کی تعداد میں تھے ،

    اور ہم سے زیادہ عالم اور ہم سے زیادہ صالح اور اللہ کے مقرب تھے۔

    میرا خیال ہے آپ رسول اللہ ﷺ کی حدیث جانتے ہوں گے:

    لا تسبوا أصحابي؛ فوالذي نفس محمد بيده لو أنفق أحدكم مثل جبل أُحدٍ ذهباً ما بلغ مُدَّ أحدهم ولا نَصيفَهُ

    میرے صحابہ کو برا نہ کہنا ،اس ذات کی قسم جسکے ہاتھ میں میری جان ہے اگر تم میں سے کوئی احد پہاڑ کے برابر سونا خرچ کردے تو ان (صحابہ) کے ایک یا آدھے مد کے برابر نہیں پہنچ سکتا۔

    کیا آپ نے ہمارے اور ان کے مابین موجود فرق دیکھا؟یہ فرق اس لئے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ملکراللہ تعالیٰ کی راہ میں جہاد کیا ، اور آپ سے براہ راست علم حاصل کیا ، ان تمام واسطوں کے بغیر جو ہمارے اور نبی ﷺ کے درمیان ہیں جیسا کہ ایک صحیح حدیث میں آپ ﷺ نے اس جانب اشارہ کیا ، فرمایا:
    من أحب أن يقرأ القرآن غضاً طرياً فليقرأهُ على قراءة ابن أم عبد
    جو قرآن کو تروتازہ پڑھنا چاہتا ہو تو وہ ابن ام معبدکی طرز پر قرآن پڑھے۔یعنی عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی طرز پر۔

    ہم سوچ بھی نہیں سکتے کہ سلف صالحین جن کے سردار صحابہ کرام تھے کسی بھی ایسی ”خیر“ سے لاعلم رہے ہوں جو انہیں اللہ کا مقرب بناتی ہو ، اور جب ہم نے مان لیا کہ وہ اس ”خیر“ کو جانتے تھے جسطرح ہم اسے جانتے ہیں تو ہم یہ کہنے کا سوچ بھی نہیں سکتے کہ انہوں نے اس ”خیر“ کو یونہی عمل کئے بغیر چھوڑدیا ہوگا۔

    شاید اب آپ پر واضح ہوگیا ہوگا کہ میں کیا نقطہ بیان کرنا چاہ رہا ہوں؟

    میلادی ھداہ اللہ:الحمد للہ

    علامہ البانی رحمہ اللہ:جزاک اللہ خیراً

    ایک بات اوربہت سی آیات و احادیث بتاتی ہیں کہ دین اسلام مکمل ہوچکا ، میرا خیال ہے کہ آپ اس حقیقت سے آگاہ ہوں گے ، عالم ہو یا طالب علم یا عام مسلمان سب ہی جانتے ہیں کہ اسلام مکمل ہوگیا ، یہ یہود و نصاریٰ کے دین کی مانند نہیں ہے کہ اس میں آئے دن تبدیلیاں ہوتی رہی ہوں۔

    بطور مثال میں آپکو اللہ تعالیٰ کا ایک فرمان یاددلاتا ہوں:
    الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ الْأِسْلامَ دِيناً
    آج کے دن میں نے تمہارے لئے تمہارا دین مکمل کردیا
    اور تم پر اپنی نعمت تمام کردی اور تمہارے لئے اسلام کو بطور دین چن لیا۔

    اب ایک سوال ہے اور یہ جشن میلاد کے خیر نہ ہونے کو دوسرے طریقے سے واضح کرتا ہے ،

    پہلا طریقہ یہ تھا کہ اگر میلاد منانا کار ”خیر“ ہوتا تو سلف صالحین جو ہم سے زیادہ عالم و عبادت گذار تھے اس پر ضرور عمل پیرا ہوتے۔سوال یہ کہ اگر میلاد نبوی خیر کا کام ہے تو اسکا تعلق اسلام سے ہوگا ، کیا ہم سب میلاد کے قائلین اور منکرین سب ہی اس بات پر متفق ہیں کہ اگر میلاد کار خیر ہے تو اسکا تعلق اسلام سے ہوگااور اگر یہ کارِ خیر نہیں تو اسکاتعلق اسلام سے نہیں ہوسکتا؟بالکل اسی طرح جسطرح ہم نے اتفاق کیا تھا کہ نبی کریمﷺ کے زمانے میں میلاد نہیں تھا۔

    جس دن یہ آیت نازل ہوئی:الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ
    آج کے دن میں نے تمہارے لئے تمہارا دین مکمل کردیا۔

    اسوقت تک جشن میلاد نہیں منایا گیا تھا ، تو کیا آپکے خیال میں یہ دین کا حصہ ہوا ؟

    میں چاہتا ہوں کہ :آپ مجھے دوٹوک جواب دیں ، یہ نہ سوچیں کہ میں ان علماء میں سے ہوں جو طلباء کو ڈانٹ کر خاموش کروادیتے ہیں بلکہ عام لوگوں کو بھی کہ خاموش رہو تم کچھ نہیں جانتے ، تمہیں کیا پتہ نہیں ، آپ مطمئن رہیں ، گویا آپ اپنے جیسے کسی ایسے شخص سے ہمکلام ہیں

    جو علم اور عمر میں آپ سے کم ہے ، اگر آپ متفق نہ ہوں تو کہیں کہ میں متفق نہیں ہوں۔

    پس اب اگر میلاد منانا خیر کا کام ہے تو اسکا تعلق اسلام سے ہوگا اور اگر یہ کار خیر نہیں تو اسکا اسلام سے کوئی تعلق نہ ہوگا،اور ہم سب متفق ہیں کہ مذکورہ آیت کے نزول کے وقت جشن میلاد النبی نہیں تھا ، پس صاف واضح ہے کہ اسکا اسلام سے کوئی تعلق نہیں۔ اپنی اس بات کی تاکید میں امام دارالھجرۃ امام مالک رحمہ اللہ کے قول سے کرتا ہوں انہوں نے کہا:
    من ابتدع في الإسلام بدعة يراها حسنة فقد زعم أن محمداً صلى الله عليه وسلم خان الرسالة ".
    جس نے اسلام میں کوئی بدعت ایجاد کی جسے وہ اچھا سمجھتا ہو تو گویا اس نے دعوی کیا کہ محمد ﷺ نے اللہ کا پیغام پہنچانے میں خیانت(کمی )کی۔

    غور کریں ، صرف ایک بدعت نہ کہ بہت سی بدعات، یہ بہت ہی خطرناک صورتحال ہے ، امام صاحب کی دلیل کیا ہے ؟انہوں نے فرمایا:​
    اقرؤا إن شئتم قول الله تعالى:((الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ الْأِسْلامَ دِيناً)) فما لم يكن يومئذٍ ديناً لا يكون اليوم ديناً.
    اگر چاہو تو اللہ تعالی کا یہ فرمان پڑھ لو:” آج کے دن میں نے تمہارے لئے تمہارا دین مکمل کردیا اور تم پر اپنی نعمت تمام کردی اور تمہارے لئے اسلام کو بطور دین چن لیا “۔

    جو کام اس دن دین نہ تھا وہ آج بھی دین نہیں ہوسکتا۔

    امام مالک رحمہ اللہ نے یہ بات کب کہی تھی ؟ دوسری صدی ہجری میں جسکے خیر پر ہونے کی شہادت خود نبی کریم ﷺ نے دی، توچودھویں صدی کے متعلق آپکا کیا خیال ہے؟یہ قول سونے کے پانی سے لکھنے کےلائق ہے، لیکن ہم اللہ تعالیٰ کی کتاب سے اور رسول اللہ ﷺ کی حدیث سے اور اپنے اماموں کے اقوال سے غافل ہوگئے کہ جنکو ہم اپنا راہنما مانتے ہیں ۔

    امام صاحب فرمارہے ہیں کہ جو اس وقت دین نہ تھا وہ آج بھی دین نہیں ہوسکتا ، لیکن آج جشن میلاد النبی کو دین بنادیا گیا ، اگر اسے دین کا حصہ قرار نہ دیا گیا ہوتا تو سنت کے ساتھ تمسّک کرنے والے علماء اور بدعت کا دفاع کرنے والے علماء کے درمیان یہ اختلاف پیدا ہی نہ ہوتا۔

    یہ دین کا حصہ کیسے ہوسکتا ہے ؟جبکہ یہ نہ تو رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں تھا نہ ہی صحابہ کے دور میں اورنہ ہی تابعین یا تبع تابعین کے عہد میں۔امام مالک تبع تابعین میں سے ہیںاور ان لوگوں میں شامل ہیں جن پر یہ حدیث صادق آتی ہے ۔
    خير الناس قرني ثم الذين يلونهم ثم الذين يلونهم
    سب سے بہتر زمانہ میرازمانہ ہے پھر ان لوگوں کا جو میرے بعد آئیں گے پھر ان لوگوں کا جو ان کے بعد آئیں گے۔

    امام مالک رحمہ اللہ فرمارہے ہیں کہ جو اس وقت دین نہیں تھاوہ آج بھی دین نہیں ہوسکتا اور اس امت کا آخر درست نہیں ہوسکتا مگر اسی طریقے سے جس سے اسکا اول درست ہوا۔

    اس کا اول کس شے سے درست ہوا؟دین میں نت نئے کام ایجاد کرکے؟ اور ایسے اعمال کو اللہ تعالیٰ کے قرب کا ذریعہ مان کر جنہیں نبی کریمﷺ نے اختیار نہیں کیا ؟

    حالانکہ رسول ﷺ فرمارہے ہیں کہ:​
    ما تركتُ شيئاً يُقربكم الى الله إلا وأمرتكم به
    میں نے کوئی ایسا عمل نہیں چھوڑا جو تمہیں اللہ سے قریب کرتا ہو مگر میں نے تمہیں اس کا حکم دے دیا۔(رواه الطبراني بإسناد صحيح )
    لیکن رسول اللہ ﷺ نے ہمیں اپنا یوم ولادت منانے کا حکم کیوں نہیں دیا ؟ اس سوال کا ایک جواب ہے ۔

    میلاد نبوی کا ایک شرعی طریقہ ہے جو مروجہ جشن میلاد کے برعکس ہے ، وہ شرعی طریقہ نبی کریم ﷺ کے زمانے میں بھی موجود تھا ، جبکہ مروجہ طریقہ اس زمانے میں موجود نہ تھا، ان دونوں طریقوں میں واضح فرق ہے:

    میلاد شرعی عبادت ہے اور اس پر سبھی مسلمان متفق ہیں۔

    میلاد شرعی ہر ہفتے ہوتا ہے ، جبکہ غیر شرعی میلاد سال میں ایک بار آتا ہے۔

    یہ دو بنیادی فرق ہیں میلاد شرعی اور میلاد بدعی کے درمیان،پہلا عبادت ہے اورہر ہفتے آتا ہے ،اسکے برعکس غیر شرعی میلاد نہ تو عبادت ہے نہ ہی ہر ہفتے آتا ہے۔

    میں یہ بات ایسے ہی بلادلیل نہیں کررہا ، ایک حدیث نقل کرتا ہوں صحیح مسلم میں سیدنا ابوقتادۃ الانصاری رضی اللہ عنہ نے کہا کہ:
    جاء رجل إلى النبي صلى الله عليه وسلم فقال:يا رسول الله: ما تقول في صوم يوم الإثنين؟قال : ذاك يومٌ وُلِدتُ فيه، وأُنزل القرآن عليَّ فيه
    ایک شخص نبی کریمﷺ کے پاس آیا اور پوچھنے لگا کہ اللہ کے رسول پیر کے دن روزے کے متعلق آپ کیا فرماتے ہیں ؟فرمایا:اس دن مجھے پیدا کیا گیا اور اس دن مجھ پر قرآن نازل کیا گیا۔

    اس کلام کا مطلب کیا ہے ؟گویا آپ فرمارہے ہیں کہ تم مجھ سے اس دن کے متعلق پوچھ رہے ہو تو اس دن مجھے اللہ تعالیٰ نے زندگی عطا کی اور مجھ پر وحی نازل کی ،یعنی اس دن تمہیں اللہ کا شکر ادا کرتے ہوئے روزہ رکھنا چاہیے کہ اس نے اس دن مخلوق پر میری تخلیق اور مجھ پرانزال وحی کا احسان کیا ۔

    یہ یہود کے عاشورہ کے روزے کی مانند ہے اور شاید آپ کو معلوم ہو کہ ماہ رمضان کے روزوں کی فرضیت سے قبل
    عاشورہ کا روزہ مسلمانوں پر فرض تھا۔

    ایک حدیث میں آیا ہے کہ جب نبی کریمﷺ نے مدینہ کی جانب ہجرت کی تو یہود کو عاشورہ کا روزہ رکھتے پایا،جب ان سے اسکی وجہ دریافت کی تو انہوں نےکہا کہ اس دن اللہ نے سیدنا موسی علیہ السلام اور انکی قوم کو فرعون اور اس کے لشکر سے نجات دی تھی،لہذا ہم اس دن بطور شکرانے کے روزہ رکھتے ہیں ۔

    تو نبی ﷺ نے فرمایا:(نحن أحق بموسى منكم )
    تم سے زیادہ ہم موسی کے قریب ہیں ۔

    چنانچہ آپ نے یوم عاشوراء کا روزہ رکھا اور اس دن روزہ رکھنے کا حکم دیاچنانچہ یہ فرض ہوگیا حتی کہ اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان نازل ہوا:
    شَهْرُ رَمَضَانَ الَّذِي أُنْزِلَ فِيهِ الْقُرْآنُ هُدىً لِلنَّاسِ وَبَيِّنَاتٍ مِنَ الْهُدَى وَالْفُرْقَانِ فَمَنْ شَهِدَ مِنْكُمُ الشَّهْرَ فَلْيَصُمْهُ
    رمضان وہ مہینہ ہے جس میں قرآن نازل کیا گیا جو لوگوں کے لئے ہدایت ہے اور ہدایت کے واضح دلائل ہے پس تم میں سے اس ماہ میں حاضر ہو وہ اس کا روزہ رکھے۔

    اسکے بعد عاشورہ کا روزہ سنت ہوگیا اور اسکی فرضیت منسوخ ہوگئی۔

    یہاں استدلال یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے یہود کے ساتھ شرکت کی عاشوراء کے روزے میں تاکہ اللہ کا شکر ادا کریں کہ اس نے اس دن موسی کو فرعون سے بچایا۔

    پس ہمارے لیے شکرانے کا باب کھل گیا پیر کے دن روزے کے ذریعے کہ اس دن رسول اللہ ﷺ کو پیدا کیا گیا اور اس دن آپ پر وحی نازل کی گئی۔

    اب میں آپ سے پوچھتا ہوں کہ یہ لوگ جو غیر شرعی میلاد مناتے ہیں جس میں خیر کی کوئی صورت نہیں ،کیا وہ پیر کا روزہ رکھتے ہیں جسطرح جمعرات کا روزہ رکھتے ہیں ؟نہیں، وہ پیر کا روزہ نہیں رکھتے جبکہ اکثر مسلمان سال میں ایک مرتبہ میلاد النبی مناتے ہیں،تو کیا یہ حقائق کو بدلنا نہیں ہے ؟(یعنی میلاد کے نام پر سال میں ایک دن جشن منالیتے ہیںجو کہ غیر شرعی ہے جبکہ جو میلاد شرعی ہے یعنی ہر پیر کو روزہ رکھنا تو یہ عمل نہیں کرتے)ان لوگوں پر اللہ تعالیٰ کا یہود سے متعلق یہ فرمان صادق آتا ہے:
    أَتَسْتَبْدِلُونَ الَّذِي هُوَ أَدْنَى بِالَّذِي هُوَ خَيْرٌ
    کیا تم بہتر کے بدلے میں کمتر شے کا سوال کرتے ہو۔

    یہ خیر جس پر مسلمان متفق ہیں پیر کے دن کا روزہ ہے جبکہ اکثر مسلمان پیر کا روزہ نہیں رکھتے۔ہم دیکھتے ہیں کہ پیر کے دن روزہ رکھنے والے جونہایت کم ہیں کیا وہ اس دن روزے کی حکمت جانتے ہیں؟نہیں ،وہ نہیں جانتے۔تو کہاں ہیں وہ علماء جو میلاد غیر شرعی کی حمایت کرتے ہیں، وہ لوگوں کو کیوں نہیں بتاتے کہ

    پیر کے دن کاروزہ ہی میلاد کا شرعی طریقہ ہے،اسکے بجائے وہ غیر شرعی میلاد کی ترغیب دیتے ہیں۔

    اللہ تعالیٰ نے سچ فرمایا:​
    أَتَسْتَبْدِلُونَ الَّذِي هُوَ أَدْنَى بِالَّذِي هُوَ خَيْرٌ
    کیا تم بہتر کے بدلے میں کمتر شے کا سوال کرتے ہو۔

    اور رسول اللہ ﷺ نے بھی سچ فرمایا:​
    للتتبعنَّ سَنن من قبلكم شبراً بشبر وذراعاً بذراع حتى لو دخلوا جحر ضب لدخلتموه
    تم پہلے لوگوں کے نقش قدم پر چلو گے ، بالشت برابر،بازو برابر،اگر وہ سانڈے کے بل میں گھسے تو تم بھی گھسو گے۔

    ایک اور روایت کے الفاظ نہایت خطرناک ہیں:​
    حتى لو كان فيهم من يأتي أمه على قارعة الطريق لكان فيكم من يفعل ذلك
    اگر ان میں کسی نے برسرراہ اپنی ماں سے بدکاری کی تو تم میں بھی ایسا کرنے والے ہوں گے۔

    ہم نے یہود کی روش اختیار کرلی ، وہ دن جو بہتر تھا اس دن سے بدل ڈالا جو کمتر ہے،ہم نے ہر پیر کا روزہ رکھ کر شرعی میلاد منانے کو سال کے ایک دن کے میلاد غیر شرعی سے بدل ڈالا۔

    آپ شرعی میلاد منائیں، پیر کا روزہ بطور شکرانے کےرکھ کراور اس حکمت کو خاطر میں رکھ کر کہ اس دن اللہ نے رسول اللہ ﷺ کو پیدا کیا اور اس دن آپ پر وحی نازل کی۔

    میں اپنی گفتگو کا اختتام نبی کریم ﷺ کے اس فرمان پر کرتا ہوں:​
    أبى الله أن يقبل توبة مبتدع
    اللہ نے بدعتی کی توبہ قبول کرنے سے انکار کردیا۔

    اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
    يَا أَيُّهَا الرَّسُولُ بَلِّغْ مَا أُنْزِلَ إِلَيْكَ مِنْ رَبِّكَ وَإِنْ لَمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَّغْتَ رِسَالَتَهُ وَاللَّهُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ

    اے رسول ، آپکی جانب آپکے رب کی طرف سے جو کچھ نازل کیا جائے اسے پہنچادیں اور اگر آپ نے نہ کیا تو آپ نے اسکی رسالت کا حق ادا نہ کیا اور اللہ آپکو لوگوں سے بچاتا رہے گا۔

    میلادی ھداہ اللہ:کیا نبی کریمﷺ کی سیرت کو بیان کرنا آپکی تکریم نہیں ہے؟

    علامہ البانی رحمہ اللہ:ہاں ہے۔

    میلادی ھداہ اللہ:میلاد میں بھی اللہ کی جانب سے اس خیر(یعنی سیرت بیان کرنے) کا ثواب ملتا ہے؟

    علامہ البانی رحمہ اللہ:ہر خیر کا ثواب ملتا ہے ،

    لیکن آپ اس سوال سے کیا فائدہ حاصل کرنا چاہتے ہو ، میں آپ سےپوچھتا ہوں:کیا کوئی آپ کو نبی کریم ﷺ کی سیرت پڑھنے سے روکتا ہے؟(یعنی ہم میلاد سے روکتے ہیں ، لیکن سیرت بیان کرنے سے نہیں روکتے)

    لیکن ایک سوال کا جواب دیں:ثواب کا کوئی بھی کام جو مشروع ہو لیکن رسول اللہ ﷺ نے اسکے لئے نہ تو کوئی وقت مخصوص کیا نہ ہی اسکی کیفیت مخصوص کی تو کیا ہمارے لئے جائز ہے کہ ہم خود اس عبادت کا وقت یا کیفیت مخصوص کردیں؟

    کیا آپکے پاس کوئی جواب ہے؟

    میلادی ھداہ اللہ:نہیں میرے پاس اس بات کا کوئی جواب نہیں۔

    علامہ البانی رحمہ اللہ:اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

    أَمْ لَهُمْ شُرَكَاءُ شَرَعُوا لَهُمْ مِنَ الدِّينِ مَا لَمْ يَأْذَنْ بِهِ اللَّهُ

    کیا انکے شرکاء نے انکے لئےاس کام کو دینی شریعت قرار دیا جس کام کا حکم اللہ نے نہیں دیا۔

    نیز فرمایا:

    اتَّخَذُوا أَحْبَارَهُمْ وَرُهْبَانَهُمْ أَرْبَاباً مِنْ دُونِ اللَّهِ وَالْمَسِيحَ ابْنَ مَرْيَمَ وَمَا أُمِرُوا إِلَّا لِيَعْبُدُوا إِلَهاً وَاحِداً لا إِلَهَ إِلَّا هُوَ سُبْحَانَهُ عَمَّا يُشْرِكُونَ

    انہوں نے اپنے علماء اور درویشوں کو اللہ کے سوا رب بنالیا، اور مسیح بن مریم کو حالانکہ انہیں ایک حکم دیا گیا تھا کہ

    وہ ایک معبود کی عبادت کریں،جسکے سوا کوئی معبود برحق نہیں،جو ان سے پاک ہے جنہیں وہ اسکا شریک قرار دیتے ہیں۔

    جب سیدناعدی بن حاتم رضی اللہ عنہ (جو مسلمان ہونے سے پہلے عیسائی تھے )نے یہ آیت سنی تو انہیں اسے سمجھنے میں مشکل ہوئی اور انہوں نے کہا کہ ہم نے تو انکی عبادت نہیں کی،تو نبی ﷺ نے ان سے فرمایا:

    أليس يحرمون ما أحل الله فتحرمونه ويحلّون ما حرم الله، فتحلونه؟ فقال: بلى. قال: فتلك عبادتهم

    کیا وہ (علماء و درویش) حرام نہیں کرتے تھے اس شے کو جسے اللہ نے حلال کیا ہو پس تم اسے حرام مان لیتے اور وہ حلا ل کہتے اس شے کو جسے اللہ نے حرام کیا پس تم اسے حلال مان لیتے؟انہوں نے کہا:ہاں بالکل۔تو آپ نے فرمایا:یہی انکی عبادت(علماء و درویشوں کورب بنالینا) ہے۔

    اس سے اللہ تعالیٰ کے دین میں بدعت نکالنے کی خطرناکی واضح ہوگئی ۔

    علامہ البانی رحمہ اللہ تعالیٰ کے” سلسلۃ النور والھدیٰ“

    نامی بیانات پر مشتمل کیسٹ سے ماخوذ ، اختصار اور تفہیم کے ساتھ،کیسٹ نمبر:1/94

    نیزعلامہ البانی رحمہ اللہ تعالیٰ کی ویب سائٹ ملاحظہ ہو۔
    وما علینا الا البلاغ المبین
     
    Last edited: ‏نومبر 18، 2018
  3. ‏نومبر 17، 2018 #3
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    6,372
    موصول شکریہ جات:
    2,402
    تمغے کے پوائنٹ:
    791

    كیا جشن عید میلاد النبی صلی اللہ علیہ و سلم بدعت حسنہ هے؟


    Written by فائزہ صدیقی19 Feb,2012

    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت مبارکہ کے حوالے سے موجود نظریات میں اعتدال کا دامن اختیار کرنا بہت مشکل ہے کیوں کہ امت مسلمہ کی اکثریت اس حوالے سے انتہاپسندی کا موقف اختیار کیے ہوئے ہے ۔اگر ایک طرف جشن عید میلاد النبی کو عین اسلام اور عبادت الہی کا بہت بڑا ذریعہ اور وسیلہ گمان کیا جاتا ہے تو دوسری جانب جشن عید میلاد النبی منانے والوں پر کفر و شرک کے فتاوی جات کی کثرت ہے ۔جس کی وجہ سے امت مسلمہ کے ہر دو گروہ آپس میں لعن و طعن اور تشنیع کا کثرت سے استعمال کرتے ہیں جس سے ہمارے معاشرے کی فضا مسموم ہوتی ہے اور آپس میں منافرت کا اضافہ ہوتا ہے ۔مسلمانوں کو ایک امت ہونا چاہیے لیکن اس موضوع پر پائی جانے والی انتہا پسندی نے مجھے مجبور کیا کہ چند سطور قلم بند کروں جو ہر سال جاری ہو جانے والے اس فتنہ منافرت میں کمی کر سکے انشاء اللہ العزیز۔

    اہل علم پر اس موقع پر فرض ہے کہ اس مسئلہ کی حقانیت کو واضح کریں جس کی عدم وضاحت کی وجہ سے آپس میں بغض و کینہ میں اضافہ در اضافہ ہوتا جا رہا ہے ایسے کتنے ہی لوگ موجود ہیں جو ایسے کلمات اپنی زبان سے نکالتے ہیں کہ مجھے فلاں سے نفرت ہے جو یہ شرکیہ اور بدعتی کام کرتا ہے یا وہ کتنا گستاخ اور دشمن اسلام ہے جو رسول اللہ کی ولادت کا دن منانے کا مخالف ہے تو مجھے حیرانی ہوتی ہے کہ اس شخص کو دشمن اسلام گردانا جاتا ہے اور بغض کا اظہار کیا جاتا ہے جو ایک بدعت کی مخالفت کرتا ہے جبکہ اصولا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات کی روشنی میں ایسے شخص کی بات کو سراہنا چاہیے نہ کہ اس سے بغض کا اظہار کریں ۔بلکہ اس سے بھی بڑھ کر جس نظریہ کو رائج کیا جا رہا ہے وہ یہ کہ جو شخص اس عمل کو بدعت گردانتا ہے اس کے بارے میں یہ باور کرایا جاتا ہے کہ وہ شخص اللہ کے رسول سے محبت نہیں کرتا بلکہ ان سے بغض رکھتا ہے ۔کتنی بڑی جہالت ہے کہ ایک دوسرے پر کفر و شرک کی تہمتیں اور الزامات ۔استغفراللہ العظیم
    یہ کلمات نہ تو کسی جماعت کی حمایت میں ہیں اور نہ ہی کسی جماعت کی مخالفت میں بلکہ اس کا مقصد صرف اور صرف حق کو دلائل کی مدد سے واضح کرنا ہے ایسا حق جس کی دلیل صرف جذبات اور عقیدت ہی نہیں بلکہ ایسی عقیدت جس کی بنیاد کتاب و سنت اورسلف صالحین کا طرز عمل ہو۔

    اصل موضوع کی طرف آنے سے قبل بہتر ہے کہ کچھ ایسے امور بیان کر دیے جائیں جن کا تذکرہ بار بار کیا جائے گا ۔بلکہ ان امور کی مدد سے ہم دین اسلام میں ایسے بے شمار مسائل کا حل معلوم کر سکتے ہیں جن کی نوعیت اس مسئلہ سے ملتی جلتی ہے ۔
    اللہ رب العزت نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خوبصورت وجود کو بنی نوع انسان کی راہنمائی اور ہدایت کے لیے مبعوث کیا تاکہ وہ لوگوں کے لیے حق کو سورج کی طرح واضح اور چمکتا ہوا بنا دیں جس میں کوئی شک اور شبہ نہ رہے جیسا کہ قرآن مجید میں ہے :​

    يَا أَيُّهَا النَّاسُ قَدْ جَاءَكُمْ بُرْهَانٌ مِنْ رَبِّكُمْ وَأَنْزَلْنَا إِلَيْكُمْ نُورًا مُبِينًا فَأَمَّا الَّذِينَ آمَنُوا بِاللَّهِ وَاعْتَصَمُوا بِهِ فَسَيُدْخِلُهُمْ فِي رَحْمَةٍ مِنْهُ وَفَضْلٍ وَيَهْدِيهِمْ إِلَيْهِ صِرَاطًا مُسْتَقِيمًا } (سورة النساء/174 ، 175)
    ان آیات سے یہ بات واضح ہو ئی کہ ہدایت او ر فلاح ابدی وحی الہی کے بغیر ناممکن ہے اور وحی الہی ہمارے سامنے موجود ہے جس کی وضاحت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات طیبہ سے بھی ہوتی ہے کیونکہ اللہ تعالی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دین اسلام کی تبلیغ کا حکم دیا اور آپ نے دین کو مکمل پہنچادیا یہ مطلب ہے اس جملہ کا جو اہل علم اپنے کلام میں عموما کہا کرتے ہیں کہ اللہ تعالی وحی کرتا ہے اور رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر اس کے ابلاغ کی ذمہ داری ہے اور مسلمانوں پر اس پر عمل كرنا فرض ہے ۔

    عیدمیلاد النبی صلى اللہ علیہ وسلم کے بارے میں لوگ دو گروہوں میں بٹے ہوئے ہیں،
    ان میں سے ایک گروہ تو کہتا ہے کہ یہ بدعت ہے کیونکہ نہ تو یہ نبی کریم صلى اللہ علیہ وسلم کے دور میں منائی گئی اور نہ ہی صحابہ کے دور میں اور نہ تابعین کے دور میں۔ اور دوسراگروہ اسکا رد کرتے ہوئے کہتا ہے کہ ہمارے پاس علم رجال اور جرح وتعدیل نامی اشیاء ایسی ہیں اور انکا انکار بھی کوئی شخص نہیں کرتا حالانکہ انکار میں اصل یہ ہے کہ وہ بدعت نئی ایجاد کردہ ہو اور اصل کی مخالف ہو-اورجشن عید میلاد النبی صلى اللہ علیہ وسلم کی اصل کہاں ہے جسکی مخالفت ہوئی ہے، اوربھی بہت سارے اختلافات اس موضوع کے اردگرد گھومتے ہیں۔
    لفظ موالد،مولِد کی جمع ہے ،اس کے معنی اورمطلب ہر اسلامی ملک میں ایک ہی ہیں ،البتہ یہ لفظ خاص ’’مولد’’ (مولود) ہر اسلامی ملک میں نہیں بولا جاتا ،کیونکہ مغرب اقصی یعنی مراکش کے لوگ اس کو ’’مواسم ’’ کے نام سے یاد کرتے ہیں ،چنانچہ کہا جاتا ہے مولائی ادریس کا موسم ، اور مغرب اوسط یعنی جزائر کے لوگ اس کو ’’زرد’’ کا نام دیتے ہیں جو ’’زردہ’’ کی جمع ہے ۔
    اور اب مولود نبوی شریف سے وہ اجتماعات مراد ہیں جو مسجدوں میں اورمالدار مسلمانوں کے گھروں میں ہوتے ہیں، جو اکثر پہلی ربیع الأول سے بارہ ربیع الأول تک ہوتے ہیں ،جن میں سیرت نبویہ کا کچھ حصہ پڑھا جاتا ہے ،مثلا نسب پاک ،قصہ ولادت اورحضور صلی اللہ علیہ و سلم کے بعض جسمانی اوراخلاقی شمائل اورخصوصیات اورساتھ ہی بارہ ربیع الأول کو عید کا دن مناتے ہیں ، جس میں اہل وعیال پر خرچ کرنے پر وسعت کرتے ہیں اورمدارس ومکاتب بند کردئیے جاتے ہیں اوربچے اس دن طرح طرح کے کھیل کودکھیلتے ہیں ،
    اسکا طریقہ یہ ہوتا ہے کہ جانورذبح کئے جاتے ہیں کھانا تیار ہوتا ہے دوست واحبا ب ورشتہ دار اورتھوڑے سے فقیر ومحتاج لوگ بھی بلالئے جاتے ہیں ، پھر سب لوگ سننے کے لئے بیٹھتے ہیں ، ایک خوش آوازنوجوان آگے بڑھتا ہے ، اوراشعار پڑھتا ہے اورمدحیہ قصیدے ترنم کے ساتھ پڑھتا ہے ، اورسننے والے بھی اس کے ساتھ صلوات پڑھتے ہیں اس کے بعد ولادت مبارکہ کا قصہ پڑھتا هے ، اورجب یہاں پہنچتا ہےکہ آمنہ کے شکم مبارک سے آپ مختون پیدا ہوئے ،تو سب لوگ تعظیم کے لئے کھڑے ہوجاتے ہیں اورکچھ دیررسول صلی اللہ علیہ وسلم کے حضرت آمنہ کے شکم مبارک سے پیدائش کا تخیل باندہ کر تعظیم وادب کے ساتھ کھڑے رہتے ہیں ، پھر دھونی اورخوشبو لائی جاتی ہے ، اور سب لوگ خوشبو لگاتے ہیں ، اس کے بعد حلال مشروب کے پیالےآتے ہیں ، اور سب لوگ پیتے ہیں پھر کھانے کی قابیں پیش کی جاتی ہیں ، اس کو لوگ کھا کر اس اعتقاد کے ساتھ واپس ہوتے ہیں کہ انهوں نے بارگاہ الہی میں بہت بڑی قربت پیش کرکے اللہ کا تقر ب حاصل کرلیا ہے ۔
    یہاں اس بات پر متنبہ کردینا ضروری ہے کہ اکثر قصیدے اورمدحیہ اشعار جو ان محفلوں میں ترنم کے ساتھ پڑھے جاتے ہیں وہ شرک اورغلو سے خالی نهیں ہوتے ،جس سے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے منع فرمایا ہے جیسا کہ آپ کا فرمان ہے​

    (لاتطرونی کما أطرت النصاری عیسی ابن مریم وإنما أنا عبداللہ ورسولہ ،فقولو ا عبداللہ ورسولہ )

    (بخاری ومسلم)​

    ’’تم مجھے حد سے نہ بڑھانا ،جس طرح نصارى نے عیسی بن مریم کو حد سے بڑھایا ، میں اللہ کا بندہ اور رسول ہوں ، پس اللہ کا بندہ اوراسکا رسول کہو’’ اسی طرح یہ محفلیں ایسی دعاؤں پر ختم ہوتی ہیں جس میں توسل کے غیر شرعی الفاظ اور شرکیہ و حرام کلمات ہوتے ہیں ، کیونکہ اکثر حاضرین عوام ہوتے ہیں ،یا اس باطل کی محبت میں غلو کرنے والے ہوتے ہیں جن سے علماء نے منع فرمایا ہے ،جیسے بجاہ فلاں اوربحق فلاں کہ کردعا کرنا۔ والعیاذباللہ
    یہ ہے وہ مولدجو اپنے ایجاد کے زمانہ یعنی ملک مظفرکے عہد625ھ سے آج تک چلی آرہی ہے۔

    سب سے پہلى بات تو يہ ہے كہ علماء كرام كا نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كى تاريخ پيدائش ميں اختلاف پايا جاتا ہے اس ميں كئى ايك اقوال ہيں جنہيں ہم ذيل ميں پيش كرتے ہيں: چنانچہ ابن عبد البر رحمہ اللہ كى رائے ہے كہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم سوموار كے دن دو ربيع الاول كو پيدا ہوئے تھے۔
    اور ابن حزم رحمہ اللہ نے آٹھ ربيع الاول كو راجح قرار ديا ہے۔
    اور ايك قول ہے كہ دس ربيع الاول كو پيدا ہوئے، جيسا كہ ابو جعفر الباقر كا قول ہے۔
    اور ايك قول ہے كہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كى پيدائش بارہ ربيع الاول كو ہوئى، جيسا كہ ابن اسحاق كا قول ہے۔
    اور ايك قول ہے كہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كى پيدائش رمضان المبارك ميں ہوئى، جيسا كہ ابن عبد البر نے زبير بكّار سے نقل كيا ہے۔ (السيرۃ النبويۃ لابن كثير ( 199 - 200
    ہمارے علم كے ليے علماء كا يہى اختلاف ہى كافى ہے كہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم سے محبت كرنے والے اس امت كے سلف علماء كرام تو نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كى پيدائش كے دن كا قطعى فيصلہ نہ كر سكے، چہ جائيكہ وہ جشن ميلاد النبى صلى اللہ عليہ وسلم مناتے، اور پھر كئى صدياں بيت گئى ليكن مسلمان يہ جشن نہيں مناتے تھے، حتى كہ فاطميوں نے اس جشن كى ايجاد كى۔
    شيخ على محفوظ رحمہ اللہ كہتے ہيں: ’’ سب سے پہلے يہ جشن فاطمى خلفاء نے چوتھى صدى ہجرى ميں قاہرہ ميں منايا، اور انہوں نے ميلاد كى بدعت ايجاد كى جس ميں ميلاد النبى صلى اللہ عليہ وسلم، اور على رضى اللہ تعالى عنہ كى ميلاد، اور فاطمۃ الزہراء رضى اللہ تعالى عنہا كى ميلاد، اور حسن و حسين رضى اللہ تعالى عنہما، اور خليفہ حاضر كى ميلاد، منانے كى بدعت ايجاد كى، اور يہ ميلاديں اسى طرح منائى جاتى رہيں حتى كہ امير لشكر افضل نے انہيں ختم كيا۔ اور پھر بعد ميں خليفہ آمر باحكام اللہ كے دور میں پانچ سو چوبيس ہجرى ميں دوبارہ شروع كيا گيا حالانكہ لوگ تقريبا اسے بھول ہى چكے تھے۔
    اور سب سے پہلا شخص جس نے اربل شہر ميں ميلاد النبى صلى اللہ عليہ وسلم كو ايجاد كىا وہ ابو سعيد ملك مظفر تھا جس نے ساتويں صدى ہجرى ميں اربل كے اندر جشن میلاد النبی منائى، اور پھر يہ بدعت آج تك چل رہى ہے، بلكہ لوگوں نے تو اس ميں اور بھى وسعت دے دى ہے، اور ہر وہ چيز اس ميں ايجاد كر لى ہے جو ان كى خواہش تھى، اور جن و انس كے شياطين نے انہيں جس طرف لگايا اور جو كہا انہوں نے وہى اس ميلاد ميں ايجاد كر ليا ’’ ( الابداع في مضار الابتداع ’’ ( ص 251 )
    اب رہا شریعت اسلامیہ میں اس کے حکم کا سوال تو جب اس بحث سے یہ معلوم ہوگیا کہ میلادساتویں صدی کی پیداوار ہے ، اورہر وہ چیز جس كی رسو ل صلی اللہ علیہ وسلم اورصحابہ کرام کے عہد میں دینی حیثیت سے نہ تھی ، وہ بعد والوں کے لئے بھی دینی حیثیت اختیار نہ کرے گی ۔
    میلاد منعقد کرنے والے جو پانچ دلیلیں دیتے ہیں ، ان سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس میں شریعت کو چھوڑ کر اتباع نفس کارفرما ہے ،دلیلیں درج ذیل ہیں :-
    ۱۔ سا لانہ یاد گار ہونا، جس میں مسلمان اپنے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی یادگار مناتےہیں ، جس سے نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھ ان کی عظمت اورمحبت میں اضافہ ہوتا ہے
    ۲۔ بعض شمائل محمدیہ کا سننا اورنسب نبوی شریف کی معرفت حاصل کرنا ۔
    ۳۔رسول صلی اللہ علیہ و سلم کی پیدائش پر اظہار خوشی ،کیونکہ یہ محبت رسول اورکمال ایمان کی دلیل ہے
    ۴۔ کھانا کھلانا اوراسکا حکم ہے اور اس میں بڑا ثواب ہے خصوصاً جب اللہ تعالى کا شکراداکرنے کی نیت سے ہو۔
    ۵۔ اللہ تعالی کا ذکر یعنی قرأت قرآن اورنبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم پر درود شریف کے لئے جمع ہونا ۔
    یہ وہ پانچ دلیلیں ہیں ، جنہیں میلاد کو جائز کہنے والے بعض حضرات پیش کرتے ہیں ، اورجیسا کہ آپ دیکھ رہے ہیں یہ دلیلیں بالکل ناکافی ہیں اورباطل بھی ہیں ، کیونکہ اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ شارع علیہ الصلوۃ والسلام سے کوئی بھول ہوگئی تھی جس کی تلافی اس طرح کی گئی ہے کہ ان چیزوں کو ان لوگوں نے مشروع کردیا ، جن کو شارع علیہ الصلوۃ والسلام نے باوجود ضرورت کے مشروع نہیں کیا تھا ، اوراب قاری کے سامنے یکے بعد دیگرے ان دلیلوں کا بطلان پیش كیا جارهاہے ۔​

    پہلی دلیل: اس وقت دليل بن سكتی ہے ، جبکہ مسلمان ایسا ہو کہ وہ نبی اکرم کا ذکر دن بھرمیں دسیوں مرتبہ نہ کیا کرتا ہو تو اس کے لئے سالانہ یا ماہانہ یادگاری محفلیں قائم کی جائیں ، جس میں وہ اپنے نبی کا ذکرکرے تاکہ اس کے ایمان ومحبت میں زیادتی ہو ، لیکن مسلمان تو رات اوردن میں جو نماز بھی پڑھتا ہے اس میں اپنے رسول کا ذکرکرتا ہے ، اوران پر درود وسلام بھیجتا ہے اورجب بھی کسی نماز کا وقت ہوتا ہے ، اورجب بھی نماز کے لئے اقامت کہی جاتی ہے تو اس میں رسول صلی اللہ علیہ و سلم کا ذکر اورآپ پر درود سلام ہوتا ہے ، بھول جانے کے اندیشہ سے تو اسکی یاد گار قائم کی جاتی ہے جسکا ذکر ہی نہ ہوتا ہو ، لیکن جس کا ذکر ہی ذکرہوتا ہو جوبھلایا نہ جاسکتا ہو ، بھلا اس کے نہ بھولنے کے لئے کس طرح کی محفل منعقد کی جائےگی ۔
    دوم : نبی کریم کے بعض خصائل طیبہ اورنسب شریف کا سننا ۔
    یہ دلیل بھی محفل میلاد قائم کرنے کے لئے کافی نہیں ہے ، کیونکہ آپکے خصائل اورنسب شریف کی معرفت کے لئے سال بھر میں ایک دفعه سُن لینا کا فی نہیں ہے ، ایک مرتبه سننا کیسے کافی ہوسکتا ہے جب کہ وہ عقیدہ اسلامیہ کا جزء ہے ؟

    ہرمسلمان مرد اورعورت پر واجب ہے کہ اپنے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے نسب پاک اوران کی صفات کو اس طرح جانے جس طرح اللہ تعالی کو اس کے ناموں اورصفتوں کے ساتھ جانتا ہے اوریہ وہ چیز ہے کہ جس کی تعلیم انتہائی ضروری اورناگزیر ہے ، اس کے لئے سال میں ایک مرتبہ محض واقعہ پیدائش کا سن لینا کافی نہیں ہے ۔​

    سوم : تیسری دلیل بھی بالکل كمزور دلیل ہے ،کیونکہ خوشی رسول صلی اللہ علیہ و سلم کی ہے یا اس دن کی ہے جس میں آپ کی پیدائش ہوئی ، اگرخوشی رسول صلی اللہ علیہ و سلم کی ہے تو ہمیشہ جب بھی رسول صلی اللہ علیہ و سلم کا ذکرآئے خوشی ہونی چاہئے ، اورکسی وقت کے ساتھ خاص نہیں ہونا چاہئے ، اور اگرخوشی اس دن کی ہے جس دن آپ پیدا ہوئے تو یہی وہ دن بھی ہے جس میں آپ کی وفات ہوئی ، اورمیں نہیں سمجھتا کہ کوئی بھی ایسا عقلمند شخص ہوگا جو اس دن مسرّت اورخوشی کا جشن منائے گا جس دن اس کے محبوب کی موت واقع ہوئی ہو حالانکہ رسول صلی اللہ علیہ و سلم کی وفات سب سے بڑی مصیبت ہے جس سے مسلمان دوچار ہوئے حتى کہ صحابہ کرام رضوان اللہ علہیم اجمعین کہا کرتے تھے کہ !جس پر کوئی مصیبت آئے تو اس کو چاہئے کہ اس مصیبت کویاد کرلے جو رسول صلی اللہ علیہ و سلم کی وفات سے پہنچی ہے، نیز انسانی فطرت اس کی متقاضی ہے کہ انسان بچہ کی پیدائش کے دن خوشی مناتا ہے اوراسکی موت کے دن غمگین ہوتا ہے ،لیکن تعجب ہے کہ کس دھوکہ میں یہ انسان فطرت کو بدلنے کے لئے کوشاں ہے ۔
    4
    -چوتھی دلیل یعنی کھانا کھلانا:
    یہ پچھلی سب دلیلوں سے زیادہ کمزور ہے ، کیونکہ کھانا کھلانےکی ترغیب اس وقت دی گئی جب اس کی ضرورت ہو، مسلمان مہمان کی مہمان نوازی کرتا ہے ، بھوکے کو کھانا کھلاتا ہے اور صدقہ وخیرات کرتا ہے اور یہ پورے سال ہوتا ہے ، اس کے لئے سال میں کسی خاص دن کی ضرورت نہیں ہے کہ اسی دن کھانا کھلائے، اس بناء پر یہ ایسی علت نہیں ہے کہ جس کی وجہ سے کسی بھی حال میں کسی بدعت کا ایجاد کرنا لازم ہو ۔
    5
    - پانچویں دلیل یعنی ذکر کے لئے جمع ہونا :
    یہ علت بھی فاسد اورباطل ہے ، کیونکہ بیک آواز ذکر کےلئے اجتماع سلف کے یہاں معروف نہیں تھا۔ اسلئے یہ اجتماع فی نفسہ ایک قابل نکیر بدعت ہے اورطرب انگیز آواز سے مدحیہ اشعار اورقصائد پڑھنا تو اور بھی بدترین بدعت ہے ، جسے وہی لوگ کرتے ہیں جنہیں اپنے دین پر اطمینان نہیں ہوتا ، حالانکہ ساری دنیا کے مسلمان رات اوردن میں پانچ مرتبہ مسجدوں میں اورعلم کے حلقوں میں علم ومعرفت کی طلب کے لئے جمع ہوتے ہیں ، اس لئے ان کو ایسے سالانہ جلسوں اورمحفلوں کی ضرورت نہیں ہے جن میں اکثر طرب انگیز اشعار کے سننے اورکھانے پینے کا جذبہ کار فرما ہوتا ہے ۔

    دوم: سوال ميں ميلاد النبى كے قائلين كا يہ قول بيان ہوا ہے كہ:
    جو تمہيں كہے كہ ہم جو بھى كرتے ہيں اس كا نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم يا عہد صحابہ يا تابعين ميں پايا جانا ضرورى ہے ‘‘
    اس شخص كى يہ بات اس پر دلالت كرتى ہے كہ ايسى بات كرنے والے شخص كو تو بدعت كے معنى كا ہى علم نہيں جس بدعت سے ہميں رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے بچنے كا بہت سارى احاديث ميں حكم دے ركھا ہے؛ اس قائل نے جو قاعدہ اور ضابطہ ذكر كيا ہے وہ تو ان اشياء كے ليے ہے جو اللہ كا قرب حاصل كرنے كے ليے كى جاتى ہيں يعنى اطاعت و عبادت ميں يہى ضابطہ ہو گا۔
    اس ليے كسى بھى ايسى عبادت كے ساتھ اللہ كا قرب حاصل كرنا جائز نہيں جو ہمارے ليے رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے مشروع نہيں كى، اور يہ چيز نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے جو ہميں بدعات سے منع كيا ہے اسى سے مستنبط اور مستمد ہے، اور بدعت اسے كہتے ہيں كہ: كسى ايسى چيز كے ساتھ اللہ كا قرب حاصل كرنے كى كوشش كى جائے جو اس نے ہمارے ليے مشروع نہيں كى، اسى ليے سیدناحذيفہ رضى اللہ تعالى عنہ كہا كرتے تھے:
    ’’ ہر وہ عبادت جو رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كے صحابہ نے نہيں كى تم بھى اسے مت كرو ‘‘
    اور اسی کے مثل امام مالک نے فرمایا:’’جو چیز اسوقت دین نہ تھی ،آج بھی دین نہ ہوگی‘‘
    يعنى جو رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كے دور ميں دين نہيں تھا، اور نہ ہى اس كے ساتھ اللہ كا قرب حاصل كيا جاتا تھا تو اس كے بعد بھى وہ دين نہيں بن سكتا
    پھر سائل نے جو مثال بيان كى ہے وہ جرح و تعديل كے علم كى ہے، اس نے كہا ہے كہ يہ بدعت غير مذموم ہے، جو لوگ بدعت كى اقسام كرتے ہوئے بدعت حسنہ اور بدعت سئيہ كہتے ہيں ان كا يہى قول ہے كہ يہ بدعت حسنہ ہے، بلكہ تقسيم كرنے والے تو اس سے بھى زيادہ آگے بڑھ كر اسے پانچ قسموں ميں تقسيم كرتے ہوئے احكام تكليفيہ كى پانچ قسميں كرتے ہيں:
    وجوب، مستحب، مباح، حرام اور مكروہ عزبن عبد السلام رحمہ اللہ نے يہ تقسيم ذكر كي ہے اور ان كے شاگرد القرافى نے بھى ان كى متابعت كى ہے۔
    اور شاطبى رحمہ اللہ قرافى كا اس تقسيم پر راضى ہونے كا رد كرتے ہوئے كہتے ہيں:
    ’’ يہ تقسيم اپنى جانب سے اختراع اور ايجاد ہے جس كى كوئى شرعى دليل نہيں، بلكہ يہ اس كا نفس متدافع ہے؛ كيونكہ بدعت كى حقيقت يہى ہے كہ اس كى كوئى شرعى دليل نہ ہو نہ تو نصوص ميں اور نہ ہى قواعد ميں، كيونكہ اگر كوئى ايسى شرعى دليل ہوتى جو وجوب يا مندوب يا مباح وغيرہ پر دلالت كرتى تو پھرى كوئى بدعت ہوتى ہى نہ، اور عمل سارے ان عمومى اعمال ميں شامل ہوتے جن كا حكم ديا گيا ہے يا پھر جن كا اختيار ديا گيا ہے، چنانچہ ان اشياء كو بدعت شمار كرنے اور يہ كہ ان اشياء كے وجوب يا مندوب يا مباح ہونے پر دلائل دلالت كرنے كو جمع كرنا دو منافى اشياء ميں جمع كرنا ہے اور يہ نہيں ہو سكتا۔
    رہا مكروہ اور حرام كا مسئلہ تو ان كا ايك وجہ سے بدعت ہونا مسلم ہے، اور دوسرى وجہ سے نہيں، كيونكہ جب كسى چيز كے منع يا كراہت پر كوئى دليل دلالت كرتى ہو تو پھر اس كا بدعت ہونا ثابت نہيں ہوتا، كيونكہ ممكن ہے وہ چيز معصيت و نافرمانى ہو مثلا قتل اور چورى اور شراب نوشى وغيرہ، چنانچہ اس تقسيم ميں كبھى بھى بدعت كا تصور نہيں كيا جا سكتا۔
    اورامام قرافى رحمه الله نے بدعت كے انكار پر اصحاب سے جو اتفاق ذكر كيا ہے وہ صحيح ہے، اور اس نے جو تقسيم كى ہے وہ صحيح نہيں، اور اس كا اختلاف سے متصادم ہونے اور اجماع كو ختم كرنے والى چيز كى معرفت كے باوجود اتفاق ذكر كرنا بہت تعجب والى چيز ہے، لگتا ہے كہ انهوں نے اس تقسيم ميں بغير غور و فكر كيے اپنے استاد ابن عبد السلام رحمه الله كى تقليد و اتباع كى ہے۔
    پھر انہوں نے اس تقسيم ميں ابن عبد السلام رحمہ اللہ كا عذر بيان كيا ہے اور اسے ’’ مصالح مرسلہ ’’ كا نام ديا ہے كہ يہ بدعت ہے، پھر كہتے ہيں:
    ’’ ليكن اس تقسيم كو نقل كرنے ميں قرافى كا كوئى عذر نہيں كيونكہ انہوں نے اپنے استاد كى مراد كے علاوہ اس تقسيم كو ذكر كيا ہے، اور نہ ہى لوگوں كى مراد پر بيان كيا ہے، كيونكہ انہوں نے اس تقسيم ميں سب كى مخالفت كى ہے، تو اس طرح يہ اجماع كے مخالف ہوا ’’ (الاعتصام 152 - 153 )
    امام عز بن عبد السلام رحمہ اللہ نے بدعت واجبہ كى تقسيم كى مثال بيان كرتے ہوئے كہا ہے:
    ’’ بدعت واجبہ كى كئى ايك مثاليں ہيں:
    پہلى مثال: علم نحو جس سے كلام اللہ اور رسول اللہ كى كلام كا فہم آئے ميں مشغول ہونا اور سيكھنا يہ واجب ہے؛ كيونكہ شريعت كى حفاظت واجب ہے، اور اس كى حفاظت اس علم كو جانے بغير نہيں ہو سكتى، اور جو واجب جس كے بغير پورا نہ ہو وہ چيز بھى واجب ہوتى ہے۔
    دوسرى مثال:كتاب اللہ اور سنت رسول صلى اللہ عليہ وسلم ميں سے غريب الفاظ اور لغت كى حفاظت كرنا۔
    تيسرى مثال: اصول فقہ كى تدوين۔
    چوتھى مثال: جرح و تعديل ميں كلام كرنا تا كہ صحيح اور غلط ميں تميز ہو سكے، اور شرعى قواعد اس پر دلالت كرتے ہيں كہ شريعت كى حفاظت قدر متعين سے زيادہ كى حفاظت فرض كفايہ ہے، اور شريعت كى حفاظت اسى كے ساتھ ہو سكتى ہے جس كا ہم نے ذكر كيا ہے ’’ (قواعد الاحكام فى مصالح الانام ( 2 / 173
    اورامام شاطبى رحمہ اللہ بھى اس كا رد كرتے ہوئے كہتے ہيں:
    جس كا حاصل يہ هے كہ:
    ان علوم كو بدعت شرعيہ مذمومہ كے وصف سے موصوف كرنا صحيح نہيں، كيونكہ دين اور سنت نبويہ كى حفاظت والى عمومى شرعى نصوص اور شرعى قواعد سے ان كى گواہى ملتى ہے اور جن ميں شرعى نصوص اور شرعى علوم ( كتاب و سنت ) كو لوگوں تك صحيح شكل ميں پہچانے كا بيان ہوا ہے اس سے بھى دليل ملتى ہے۔
    اور يہ بھى كہنا ممكن ہے كہ ان علوم كو لغوى طور پر بدعت شمار كيا جا سكتا ہے، نا كہ شرعى طور پر بدعت، اور شرعى بدعت سارى مذموم ہى ہيں، ليكن لغوى بدعت ميں سے كچھ تو محمود ہيں اور كچھ مذموم۔
    حافظ ابن حجر رحمہ اللہ كہتے ہيں:’’ شرعى عرف ميں بدعت مذ موم ہى ہے، بخلاف لغوى بدعت كے، كيونكہ ہر وہ چيز جو نئى ايجاد كى گئى اور اس كى مثال نہ ہو اسے بدعت كا نام ديا جاتا ہے چاہے وہ محمود ہو يا مذموم ’’ (فتح البارى/13 / 253
    حافظ ابن حجر رحمہ اللہ كا يہ بھى كہنا ہےالبدع يہ بدعۃ كى جمع ہے اور بدعت ہر اس چيز كو كہتے ہيں جس كى پہلے مثال نہ ملتى ہو لہذا لغوى طور پر يہ ہر محمود اور مذموم كو شامل ہو گى، اور اہل شرع كے عرف ميں يہ مذموم كے ساتھ مختص ہو گى، اگرچہ يہ محمود ميں وارد ہے، ليكن يہ لغوى معنى ميں ہو گى ’’ (فتح البارى/13 / 340
    اور صحيح بخارى كتاب الاعتصام بالكتاب و السنۃ باب نمبر 2حديث نمبر ( 7277 ) میں حافظ ابن حجر رحمہ اللہ كى تعليق پر شيخ عبد الرحمن البراك حفظہ اللہ كہتے ہيں:

    ’’ يہ تقسيم لغوى بدعت كے اعتبار سے صحيح ہے، ليكن شرع ميں ہر بدعت گمراہى ہے، جيسا كہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا فرمان ہے: ’’ اور سب سے برے امور دين ميں نئے ايجاد كردہ ہيں، اور ہر بدعت گمراہى ہے ’’

    اور اس عموم كے باوجود يہ كہنا جائز نہيں كہ كچھ بدعات واجب ہوتى ہيں يا مستحب يا مباح، بلكہ دين ميں يا تو بدعت حرام ہے يا پھر مكروہ، اور مكروہ ميں يہ بھى شامل ہے جس كے متعلق انہوں نے اسے بدعت مباح كہا ہے: يعنى عصر اور صبح كے بعد مصافحہ كرنے كے ليے مخصوص كرنا ‘‘
    اور يہ معلوم ہونا ضرورى ہے كہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم اور صحابہ كرام رضی الله عنهم كے دور ميں كسى بھى چيز كے كيے جانے كے اسباب كے پائے جانے اور موانع كے نہ ہونے كو مدنظر ركھنا چاہيے چنانچہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا ميلاد اور صحابہ كرام كى نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم سے محبت يہ دو ايسے سبب ہيں جو صحابہ كرام كے دور ميں پائے جاتے تھے جس كى بنا پر صحابہ كرام آپ كا جشن ميلاد منا سكتے تھے، اور پھر اس ميں كوئى ايسا مانع بھى نہيں جو انہيں ايسا كرنے سے روكتا۔
    لہذا جب نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم اور ان كے صحابہ كرام نے جشن ميلاد نہيں منايا تو يہ علم ہوا كہ يہ چيز مشروع نہيں، كيونكہ اگر يہ مشروع ہوتى تو صحابہ كرام اس كى طرف سب لوگوں سے آگے ہوتے اور سبقت لے جاتے۔


    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔​
     
    Last edited: ‏نومبر 18، 2018
    • پسند پسند x 2
    • شکریہ شکریہ x 1
    • لسٹ
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں