1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

علامہ محمد ناصر الدین البانی ؒاور ضعیف احادیث

'موضوع ومنکر روایات' میں موضوعات آغاز کردہ از کلیم حیدر, ‏جولائی 08، 2012۔

  1. ‏جولائی 08، 2012 #1
    کلیم حیدر

    کلیم حیدر رکن
    جگہ:
    لیہ
    شمولیت:
    ‏فروری 14، 2011
    پیغامات:
    9,403
    موصول شکریہ جات:
    25,973
    تمغے کے پوائنٹ:
    995

    علامہ محمد ناصر الدین البانی ؒاور ضعیف احادیث

    مولانا ارشاد الحق اثری ﷾​

    ۱۹۹۹ء کا یہ سال، عالم اسلام بالعموم اور سلفی حضرات کے لئے بالخصوص’عامِ حزن‘ ہے جس میں یکے بعد دیگرے نامور اسلامی شخصیات اس جہانِ فانی سے رخصت ہو کر اپنے خالق حقیقی کے پاس پہنچ گئیں اور عالم اسلام ان کے علم وفضل سے محروم ہوگیا۔ اناللہ وانا الیہ راجعون!… اسی سال داغِ مفارقت دینے والے حضرات میں حضرت شیخ مصطفی زرقا، شیخ مناع قطان، شیخ عطیہ سالم، شیخ علی طنطاوی، مولانامحمد عبدہ الفلاح، شیخ محمد عمر فلاتہ، شیخ عبدالقادر حبیب اللہ سندھی، شیخ علامہ عبدالعزیز بن باز اور آخر میں محدث العصر حضرت علامہ شیخ الالبانی رحمہم اللہ سرفہرست ہیں۔ ان حضرات نے دین حنیف کی کس قدر خدمات سرانجام دیں، کتاب و سنت کی تعلیمات کو پھیلانے اور مردہ دلوں کو نورِ ایمان سے منور کرنے میں جو سعی ٔبلیغ کی اس کی داستان نہایت طویل ہے۔ ان میں بالخصوص شیخ ابن باز اور شیخ البانی کی خدمات کا دائرہ تو اتنا وسیع ہے کہ ع سفینہ چاہئے اس بحر بے کراں کے لئے!!
    حدیث و سنت کے باب میں ان کی سب سے بڑی کاوش یہ ہے کہ انہوں نے اس رجحان کی آبیاری کی کہ اَحکام و مسائل میں صحیح اور حسن حدیث کا ہی اہتمام کیا جائے ، ضعیف پر قطعاً عمل نہ کیا جائے ۔ اسی طرح فضائل و مستحبات میں بھی ضعیف پر اعتماد نہ کیا جائے۔ اسی بنا پر انہوں نے ذخیرئہ احادیث میں سے صحیح اور ضعیف روایات کو چھانٹ کر رکھ دیا۔سلسلۃ الأحادیث الصحیحۃ، سلسلۃ الأحادیث الضعیفۃ، صحیح جامع الصغیر، ضعیف جامع الصغیر کے علاوہ صحیح ابی داود، ضعیف ابی داود، صحیح الترمذی، ضعیف الترمذی، صحیح النسائی، ضعیف النسائی، صحیح ابن ماجۃ، ضعیف ابن ماجۃ، صحیح الترغیب و الترھیب، ضعیف الترغیب والترھیب، صحیح الأدب المفرد، ضعیف الأدب المفرد اور صحیح الکلم الطیب وغیرہ اسی سلسلۃ الذھب کی کڑیاں ہیں۔ ان کے صحت و ضعف کے حکم پر نقد و تبصرہ اہل علم کا حق ہے۔ کیونکہ شیخ البانی بھی انسان ہیں اور سہو و خطا سے کون انسان ہے جو محفوظ رہا ہو۔ خود راقم الحروف ناچیزبھی کئی مقامات پر شیخ مرحوم سے متفق نہیں۔ لیکن اس کا یہ مطلب قطعاً نہیں کہ ان کی چند ایسی خطائوں کی بنا پر ان کی خدمات ِجلیلہ کو ہدفِ تنقید بنالیا جائے اور محض معاصرانہ چشمک میں بات کا بتنگڑ بنا دیا جائے۔ مثلا ً یہی دیکھئے کہ شیخ ابوغدہ، شیخ ابو عوامۃ وغیرہ کو الصحیحۃ اور الضعیفۃ کی تقسیم و تفریق ہی نہیں بھاتی۔ جس کی تفصیل ’’أثر الحدیث الشریف فی إختلاف الأئمۃ الفقھاء لأبی عوامۃ اور حواشی ظفر الأمانی لأبی غدۃ میں دیکھی جاسکتی ہے۔
     
    • شکریہ شکریہ x 2
    • پسند پسند x 1
    • زبردست زبردست x 1
    • مفید مفید x 1
    • لسٹ
  2. ‏جولائی 08، 2012 #2
    کلیم حیدر

    کلیم حیدر رکن
    جگہ:
    لیہ
    شمولیت:
    ‏فروری 14، 2011
    پیغامات:
    9,403
    موصول شکریہ جات:
    25,973
    تمغے کے پوائنٹ:
    995

    ہم یہاں اس مسئلہ میں شیخ البانی کے موقف کی وضاحت کرنا چاہتے ہیں اور بتلانا چاہتے ہیں کہ ان کا یہ موقف نیا نہیں۔ امام بخاری امام مسلم وغیرہ کا بھی یہی موقف تھا ،چنانچہ موصوف فرماتے ہیں:
    ضعیف حدیث پر عمل نہ کرنے کی جو دلیل اصولی طور پر علامہ البانی ؒنے پیش کی ہے۔ صحیح خبر واحد کو ظنی کہہ کر درخور اعتنا نہ سمجھنے والوں کے لئے باعث ِتامل ہے۔ ضعیف کی حیثیت تو ’’ظن مرجوح‘‘ کی ہے اور اس پر عمل بھی بقول حافظ ابن حجر ؒ اس شرط پر ممکن ہے کہ اس کے ثبوت کا اعتقاد نہ ہو تاکہ نبی کریمﷺ کی طرف ایسی چیز منسوب نہ ہوجائے جو آپﷺ نے نہیں کہی۔ چنانچہ ضعیف حدیث پر عمل کے لئے شروطِ ثلاثہ کا ذکر کرتے ہوئے آپ ؒتیسری شرط یہی بیان کرتے ہیں:
    بلکہ خود حافظ ابن حجر ؒ کے الفاظ اس بارے میں انتہائی غور طلب ہیں، چنانچہ لکھتے ہیں:
     
    • شکریہ شکریہ x 3
    • زبردست زبردست x 1
    • علمی علمی x 1
    • لسٹ
  3. ‏جولائی 08، 2012 #3
    کلیم حیدر

    کلیم حیدر رکن
    جگہ:
    لیہ
    شمولیت:
    ‏فروری 14، 2011
    پیغامات:
    9,403
    موصول شکریہ جات:
    25,973
    تمغے کے پوائنٹ:
    995

    حافظ ابن حجر ؒ کے الفاظ سے دو باتیں نکھر کر سامنے آتی ہیں:
    سوال یہ ہے کہ ضعیف حدیث پر فضائل میں عمل کر لینے کے موقف کو اپنانے کے بعدعلمائِ امت نے ان شرائط کو ملحوظ رکھا ؟ قطعاً نہیں بلکہ اس دائرہ کو اس قدر وسیع کر دیا کہ فضائل اعمال میں موضوع (بناوٹی) احادیث تک کو قبول کر لیا گیا۔ چنانچہ ایک حدیث جو یومِ عرفہ کی فضیلت میں ان الفاظ سے مروی ہے:
    اسی روایت کے بارے میں علامہ ملا علی قاری ؒ فرماتے ہیں:
    باعث ِتعجب ہے کہ علامہ لکھنوی ؒ نے بھی علامہ ملا علی قاری ؒ کی خاموش تائید ہی کی ہے۔ حالانکہ امر واقع یہ ہے کہ یہ روایت صرف ضعیف نہیں بلکہ باطل محض ہے۔ علامہ ابن قیم ؒ رقمطراز ہیں:
    مگر ملاحظہ فرمایا آپ نے کہ اس بے اصل روایت کو بھی فضائل اعمال کے معرو ف اصول کی بنا پر قبول کر لیا گیا۔ اس نوعیت کی روایات کو یہاں جمع کیا جائے تو یہ مختصرمضمون طویل ہوجائے گا۔ بلاشبہ علامہ ابن ہمام ؒ اور انہی کی پیروی میں بہت سے علماء نے کہا ہے کہ ضعیف حدیث سے استحباب ثابت ہوتا ہے مگر قابل غور بات یہ ہے کہ کیا استحباب احکامِ شرعیہ میں سے ہے یا نہیں؟ (علم اصولِ فقہ میں احکامِ خمسہ یوں ہیں:فرض، مستحب، جائز، مکروہ او رحرام )…مولانا عبدالحی لکھنوی ؒ نے علامہ ابن ہمامؒ کی رائے کے ساتھ ساتھ محقق جلال الدین الدوانی سے اس کے برعکس یہ بھی نقل کیا ہے کہ:
    اور انہی احکام خمسہ میں ایک مستحب بھی ہے۔ لہٰذا جب استحباب کا درجہ بھی شریعت کے احکام میں شامل ہے تو اس کوضعیف حدیث سے ثابت کرلینا
    کے زمرہ میں نہیں آتا ہے؟ …اسی کے بارے میں حافظ ابن حجر ؒ نے ’’فیشرع مالیس بشرع‘‘ کے الفاظ سے اشارہ کیا ہے۔ ضعیف حدیث پر عمل تو محض ظن مر جوح پر مبنی ہے، ظن غالب یا ظن صحیح اس کی بنیاد نہیں۔ ایسی صورت میں جبکہ کسی چیز کے ثبوت یا عدمِ ثبوت میں اشتباہ ہو تو فقہاء ِکرام احتیاطاً عدمِ ثبوت کو ترجیح دیتے ہیں ۔سنت اور بدعت میں اشتباہ ہو تو وہاں بھی اس عمل کو چھوڑ دینا راجح قرار دیتے ہیں۔ اسی طرح جہاں ظن مرجوح اور شریعت کی تشریح کا پہلو ہو تو احتیاط کا تقاضا ہے کہ اسے چھوڑ دیا جائے۔ بالخصوص جبکہ اس اصول کی آڑ میں بہت سی بے اصل روایات کو بھی قابل اعتنا سمجھا گیا ہے اور بہت سی بدعات کو اس سے سہارا دیا گیا ہے۔شیخ الاسلام حافظ ابن تیمیہ ؒ اسی مسئلہ کی وضاحت کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
     
    • شکریہ شکریہ x 2
    • علمی علمی x 1
    • مفید مفید x 1
    • لسٹ
  4. ‏جولائی 08، 2012 #4
    کلیم حیدر

    کلیم حیدر رکن
    جگہ:
    لیہ
    شمولیت:
    ‏فروری 14، 2011
    پیغامات:
    9,403
    موصول شکریہ جات:
    25,973
    تمغے کے پوائنٹ:
    995

    شیخ الاسلام ؒ نے ایک دوسرے مقام پر بڑی تفصیل سے اس مسئلہ پر بحث کی ہے جو ان کے مجموعہ فتاویٰ کی جلد ۱۸ کے ص۶۵،۶۸ پر دیکھی جاسکتی ہے۔ جس میں انہوں نے فرمایا ہے کہ استحباب حکم شرعی ہے جو دلیل شرعی سے ہی ثابت ہوسکتا ہے اور جو بغیر دلیل شرعی کے خبر دیتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کو فلاں عمل محبوب ہے تو وہ دین میں ایسا طریقہ مشروع قرار دیتا ہے جس کی اجازت اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے نہیں دی۔
    شیخ البانی رحمہ اللہ نے مقدمہ صحیح الترغیب و الترہیب (ص۲۸،۳۱) میں شیخ الاسلام کی اس عبارت کو مکمل نقل کیا ہے اور اس کے بعد علامہ ابواسحق شاطبی ؒکی معروف کتاب ’’الاعتصام‘‘ ج۱ ص۲۴۹ سے اس کی مزید تائید تفصیلاً نقل کی ہے جس کا خلاصہ یہی ہے کہ
    شیخ الاسلام ابن تیمیہ ؒ اور علامہ شاطبی ؒ کے علاوہ امام یحییٰ بن معین ؒ، امام بخاری ؒ، امام مسلم ؒ، علامہ ابن العربی ؒ، علامہ ابن حزم رحمہم اللہ کا بھی یہی موقف ہے جیسا کہ علامہ جمال الدین قاسمی ؒ نے قواعد التحدیثص ۹۴ میں نقل کیا ہے اور یہی موقف علامہ البانی ؒ کا ہے۔ الباعث الحثیث ص ۱۰۱ کے حواشی میں علامہ احمد شاکر نے بھی یہی موقف اختیار کیا ہے۔ علامہ البانی ؒ نے اسی سلسلہ میں امام ابن حبان ؒ کا کلام ان کی کتاب المجروحین کے مقدمہ سے تمام المنۃ ص۳۳، ۳۴ میں اور امام مسلم ؒ کا کلام مقدمہ صحیح الترغیب و الترہیب ص۲۶ میں درج کیا ہے۔ امام ابوشامہ ؒ تو یہاں تک لکھتے ہیں:
    مولانا عبدالحی لکھنوی ؒ نے الأجوبة الفاضلة اور ظفر الأمانی میں اس موضوع پر تفصیلاً بحث کی ہے اور محقق جلال الدین الدوانی کا کلام ان کے رسالہ انموذج العلوم سے نقل کیا ہے۔جس سے ضعیف حدیث سے استحباب کے ثبوت کی حیثیت واضح ہوجاتی ہے۔ جس میں خلاصہ کلام کے طور پر آخر میں لکھتے ہیں:
    گویا ضعیف حدیث سے استحباب کا محض شبہ ہوتا ہے اور احتیاطاً اس پر عمل کو اختیار کیا گیا ہے مگر اس شبہ کا ازالہ علامہ البانی ؒ کے کلام میں پہلے گزر چکا کہ ضعیف پرعمل ظن مرجوح کی بنیاد پر ہے جس کی پیروی کا ہمیں اللہ تبارک و تعالیٰ نے حکم ہی نہیں دیا اور یہاں شبہ استحباب پر احتیاطاً عمل کی بجائے دوسرا پہلو بھی برابر کا ہے کہ فی الحقیقت یہ فضیلت نہ ہو تو ایسی صورت میں یہ اپنی طرف سے ایک عمل شریعت بنا دینے کے مترادف ہو ۔ ان دونوں صورتوں میں احتیاط تو ترک میں ہے نہ کہ اس پر عمل کرنے میں جیسا کہ اس کی وضاحت ہم پہلے کرچکے ہیں۔
    سخت حیرت کی بات ہے کہ یہ اصول بنانے والوں نے تو اس سلسلے میں ایک روایت ہی بنا ڈالی کہ چنانچہ علامہ ابن حجر ہیثمی ؒ اس دعویٰ کہ ’’فضائل میں ضعیف حدیث پر عمل بالاتفاق جائز ہے‘‘ کے بعد فرماتے ہیں کہ ایک ضعیف حدیث میں ہے:
    لیجئے اس موقف پر بلکہ کہئے کہ فضیلت ِعمل میں ضعیف حدیث پر عمل کے لئے ضعیف حدیث بھی موجود لہٰذا اب اس کا انکار کیسے؟… حالانکہ ان الفاظ کے ساتھ ذخیرۂ احادیث میں کوئی حدیث منقول نہیں حتیٰ کہ کتب ِضعفاء و موضوعات میں بھی نہیں ہے۔ جیسا کہ اس کے حاشیہ میں شیخ ابوغدہ ؒ نے وضاحت کردی ہے۔ مگر دیکھا آپ نے اسے ’ضعیف‘ کہہ کر فضائل اَعمال میں اسے بھی قبول کر لیا گیا اور بہت سی بدعات اور مخصوص نمازیں اسی قسم کی ’ضعیف‘ احادیث سے ہی رائج ہیں اور رائج رہی ہیں۔ جیسا کہ علامہ شاطبی ؒ وغیرہ نے کہا ہے بلاشبہ اکثر اہل علم کی رائے یہی ہے مگر جس احتیاط کی بنیاد پر استحباباً عمل جائز قرار دیا گیا اس میں احتیاط کا تقاضا تو اس پر عمل نہ کرنے کو ہے، عمل کرنے کو نہیں۔ اسی بنا پر علامہ البانی ؒ نے اس موقف کو اختیار کیا اور الصحیحۃ اور الضعیفۃکی بنیاد پر احادیث کی حیثیت بیان کرنے اور اس کی صحت و ضعف کو واضح کرنے میں عمرعزیز صرف کردی۔اللہ تعالیٰ ان کی کوشش کو قبول فرمائے اور جو ئندگان راہِ حق کے لئے مشعل راہ بنائے خود ان کا اپنا بیان ہے:
    اسی جذبہ صادقہ نے امام بخاری ؒ کوالجامع الصحیح لکھنے پر مجبور کیا۔ بعض دیگر محدثین نے بھی ان کی پیروی کی اور انہی کے نقش قدم پر چلتے ہوئے علامہ محمد ناصر الدین البانی ؒ نے الصحیحۃ اور الضعیفۃ کو الگ الگ جمع کرنے کی کوشش کی۔ الصحیحۃ میں صحیح، صحیح لغیرہ اور حسن، حسن لغیرہ کا اور الضعیفۃ میں ضعیف، ضعیف جداً، شاذ، منکر، باطل، موضوع، لا أصل لہ، لا یصح، لا أصل لہ مرفوعًا وغیرہ کا درجہ و مرتبہ بادلیل بیان کیا، ان کی اس تحقیق سے اختلاف ممکن ہے۔ لیکن ان کی اس صائب فکر اور قابل قدر کوشش کو تنقیص کی نظر سے دیکھنا کوئی خدمت اور مستحسن رویہ نہیں۔ بدعت کے اس دور میں سلامتی کی وہی راہ ہے جو علامہ البانی ؒ اور ان کے پیشرو حضرات نے اختیار کی ہے۔ سنت کی پیروی، بدعت میں اجتہاد سے بہرنوع بہتر ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں صحیح احادیث پر عمل کرنے کی توفیق بخشے اور بدعات و خرافات سے محفوظ رکھے۔ آمین!
     
    • شکریہ شکریہ x 4
    • زبردست زبردست x 1
    • علمی علمی x 1
    • لسٹ
  5. ‏جون 13، 2013 #5
    ابن بشیر الحسینوی

    ابن بشیر الحسینوی رکن مجلس شوریٰ رکن انتظامیہ
    جگہ:
    Pakistan
    شمولیت:
    ‏اپریل 14، 2011
    پیغامات:
    1,067
    موصول شکریہ جات:
    4,418
    تمغے کے پوائنٹ:
    376

    استاد محترم شیخ اثری حفظہ اللہ کی بات راجح ہے فجزاہ اللہ خیرا
     
  6. ‏جنوری 09، 2018 #6
    خضر حیات

    خضر حیات علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    طابہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 14، 2011
    پیغامات:
    8,777
    موصول شکریہ جات:
    8,337
    تمغے کے پوائنٹ:
    964

    شیخ البانی اور تحقیق حدیث کے حوالے سے آج کل ایک تحریر سوشل میڈیا پر بعض جگہوں پر نظر آرہی ہے ، بطور ریکارڈ اسے یہاں نقل کیا جاتا ہے ۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    احادیث پر ضعف کا حکم لگانے والے شیخ ناصر الدین البانی اور سوشل میڈیا پر انکے حکم کی اشاعت کرنے والوں کے لئے مفتی محمد تقی عثمانی مدظلہ کا جواب حاضرِ خدمت ھے۔

    شیخ البانی کے متعلق شیخ الاسلام مفتی محمد تقی عثمانی صاحب مدظلہ کی رائے


    سوال:نبی کریم کی قبر کی زیارت کے سلسلے میں جتنی احادیث ہیں شیخ ناصر الدین البانی نے ان سب پر ضعیف کا حکم لگایا ہے اسکا کیا جواب ہے؟
    جواب: شیخ ناصرالدین البانی صاحب (اللہ ہم سب کو ہدایت عطا فرمائے) تصحیح وتضعیف کے بارے میں حجت نہیں ہیں،
    چنانچہ انہوں نے بخاری اور مسلم کی بعض احادیث کو ضعیف کہہ دیا، اور عجیب بات یہ ہے کہ ایک حدیث کے بارے میں بڑی شدو مد سے کہہ دیا کہ یہ ضعیف ہے، ناقابل اعتبار ہے، مجروح ہے، ساقط الاعتبار ہے، اور پانچ سال بعد وہی حدیث آئی، اس پر گفتگو کرنے کےلیے کہا گیا تو کہا: کہ یہ بڑی پکی اور صحیح حدیث ہے.......... یعنی جس حدیث پر بڑی شدومد سے نکیر کی تھی آگے جاکر بھول گئے کہ میں نے کیا کہا تھا، تو ایسے تناقضات ایک دو نہیں بیسیوں ہیں، اور کہا جارہا ہے کہ یہ حدیث کی تصحیح وتضعیف کے بارے میں مجدد ھذہ المأۃ ہیں.......... بہرحال عالم ہیں، عالم کے لئے ثقل لفظ استعمال نہیں کرنا چاہیے، لیکن انکے انداز گفتگو میں سلف صالحین کی جو بے ادبی ہے اور انکے طریقہ تحقیق میں جو یک رخا پن ہے جس کے نتیجے میں صحیح حدیثوں کو بھی ضعیف قرار دے دیتے ہیں اور جہاں اپنے مطلب کی بات ہوتی ہے وہاں ضعیف کو بھی صحیح قرار دے دیتے ہیں، اس لئے ان کا کوئی اعتبار نہیں، حدیث کی تصحیح وتضعیف کوئی آسان کام نہیں ہے
    نہ ہر کہ سر بترا شد قلندری داند
    علماء کرام نے فرمایا کہ چوتھی صدی ہجری کے بعد کسی آدمی کا یہ مقام نہیں ہے کہ وہ سلف کی تصحیح و تضعیف سے قطع نظر کر کے خود تصحیح و تضعیف کا حکم لگائے کہ میرے نزدیک یہ صحیح ہے اور یہ ضعیف ہے، یہاں تک حافظ ابن حجر جیسا شخص بھی یہ نہیں کہتا کہ یہ حدیث صحیح ہے یاضعیف ہے ،بلکہ کہتا ہے کہ رجالہ رجال الصحیح، رجالہ ثقات ، یہ الفاظ استعمال کرتے ہیں، اپنی طرف سے تصحیح کا حکم نہیں لگاتے، کہتے ہیں کہ میرا یہ مقام نہیں ہے کہ تصحیح کا حکم لگاؤں۔
    آج جو لوگ کہتے ہیں کہ ھذا عندی ضعیف اس کا جواب وہی جو پہلے ایک شعر بتایا تھا کہ
    یقولون ھذا عندنا غیر جائز
    ومن انتم حتی یکون لکم عند
    باقی حدیث من زار قبری وجبت لہ شفاعتی کے بارے میں صحیح بات یہ ہے کہ محدثین نے اسکوحسن قرار دیاہے، باقی حدیثوں کی اسناد بے شک ضعیف ہیں، لیکن ایک تو تعدد طرق و شواہد کی بناء پر، دوسرا تعامل امت کی بناء پر مؤید ہوکر قابل استدلال ہیں۔
    ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
    انعام الباریجلد: 4صفحہ: 346،347
    الجواب ==
    مفتی محمد تقی عثمانی مدظلہ
     
  7. ‏جنوری 09، 2018 #7
    ابن داود

    ابن داود فعال رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏نومبر 08، 2011
    پیغامات:
    3,313
    موصول شکریہ جات:
    2,651
    تمغے کے پوائنٹ:
    556

    السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
    میری سمجھ میں یہ نہیں آتا، کہ ایسے ''چٹکلے'' ان کے گمان میں آتے کیسے ہیں!
    سوال تو پھریہ کیا جانا چاہیئے کہ ان صاحب کا یہ مقام کیونکر ہوا کہ یہ علم الحدیث میں کلام کریں!
     
    Last edited: ‏جنوری 09، 2018
  8. ‏جنوری 09، 2018 #8
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    6,372
    موصول شکریہ جات:
    2,402
    تمغے کے پوائنٹ:
    791

    یہ کہہ کر مقلد مفتی صاحب نے مشہور محدث علامہ ناصر الالبانیؒ کی بے ادبی کی ہے ،
    ہمیں تو آج تک شیخ البانیؒ کے کلام میں سلف کی بے ادبی نظر نہیں آئی !
     
    • شکریہ شکریہ x 1
    • متفق متفق x 1
    • لسٹ
  9. ‏جنوری 10، 2018 #9
    T.K.H

    T.K.H مشہور رکن
    جگہ:
    یہی دنیا اور بھلا کہاں سے ؟
    شمولیت:
    ‏مارچ 05، 2013
    پیغامات:
    1,097
    موصول شکریہ جات:
    318
    تمغے کے پوائنٹ:
    156

    مفتی صاحب کی تحریر ”علمی“ کم اور ” جذباتی “ زیادہ ہے ۔المختصر اس تحریر میں ” تقلید جامد“ کے سوا کچھ پنہاں نہیں۔
     
  10. ‏جنوری 10، 2018 #10
    عمر اثری

    عمر اثری سینئر رکن
    جگہ:
    نئی دھلی، انڈیا
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 29، 2015
    پیغامات:
    4,360
    موصول شکریہ جات:
    1,079
    تمغے کے پوائنٹ:
    398

    مفتی تقی عثمانی اور مفتی طارق مسعود کو میں اکثر سنتا تھا یا پڑھتا تھا. لیکن مفتی تقی عثمانی صاحب کی اس تحریر سے انکے متعلق کچھ بدگمانی سی ہو گئی ہے
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں