1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

علماء بیزاری: اسباب ومحرکات

'امت مسلمہ کے فکری مسائل' میں موضوعات آغاز کردہ از سرفراز فیضی, ‏مارچ 03، 2012۔

  1. ‏مارچ 03، 2012 #1
    سرفراز فیضی

    سرفراز فیضی سینئر رکن
    جگہ:
    ممبئی۔
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 22، 2011
    پیغامات:
    1,091
    موصول شکریہ جات:
    3,772
    تمغے کے پوائنٹ:
    376

    علماء بیزاری: اسباب ومحرکات


    (۱)

    امت کا عروج دین سے اس کی وابستگی کے ساتھ مشروط ہے ۔ دین سراپا خیر ہے اور جوکچھ بھی دین کے خلاف ہے سراپا شر ہے ۔ امت دین سے جتنی دور ہوگی خیروفلاح سے اس کے فاصلے اتنے ہی طویل ہوتے چلے جائیں گے ۔ زوال کے جس مرحلہ پر آج امت کھڑی ہے وہ کوئی اچانک پیش آجانے والا حادثہ نہیں ۔ یہ زوال کے ایک تدریج کے ساتھ امت پر طاری ہوا ہے اور اس تدریج کی ایک تاریخ ہے اور اس تاریخ کا ایمانداری کے ساتھ مطالعہ کرنے والا کوئی بھی شخص اس اصولی حقیقت کا انکار نہیں کرسکتا کہ یہ زوال امت کی دین سے دوری کا نتیجہ ہے ۔ اور دین سے یہ دوری جتنی شدید ہوگی زوال اتنا ہی گہرا ہوتا چلا جائے گا۔
    (۲)

    دین سے امت کی دوری کے بہت سارے اسبا ب میں سے ایک بہت بڑا سبب امت کا علماء حق سے دور ہوجانا ہے ۔ علماء اس امت کے محافظ ہیں ۔ دین کا علم انبیاء کی وراثت ہے اور علماء اس وراثت کے امین ہیں ۔دین کی حفاظت وصیانت ، تفسیر وتشریح اور دعوت وتبلیغ کی عظیم ذمہ داریاں ان کے سپرد کی گئی ہیں ۔ علماء امت اور نبی کے درمیان کا واسطہ ہیں ۔امت کےعلماء سے واسطے میں جتنی کمی آئے گی امت کا نبی سے تعلق ویسا ہیں کمزور ہوتا جائے گا۔
    زمان ومکان کے اعتبار سے علماء بیزاری کے موضوع پر بہت سارے پہلوں سے بات کی جاسکتی ہے ۔ سر دست ہم علماء بیزاری کے مختلف اسباب کی نشاندہی کی کوشش کریں گے۔
    (۳)

    امت کے علماء حق سے دور ہوجانے کے اسبا ب میں سے ایک بڑا سبب دنیا سے علم کا اٹھالیا جانا ہے ۔ اور علم کے اٹھالیے جانے کا مطلب علماء حق کا اٹھایا لیاجانا ہے ۔ جیسا کہ اﷲ کے نبی کا ارشا د ہے ۔
    عن عَبْدِ اﷲِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اﷲِ صلی اﷲ علیہ وسلم یَقُول: إِنَّ اﷲ لاَ یَقْبِضُ الْعِلْمَ انْتِزَاعًا، یَنْتَزِعُہُ مِنَ الْعِبَادِ وَلکِنْ یَقْبِضُ الْعِلْمَ بِقبْضِ الْعُلَمَاء ِ حَتَّی إِذَا لَمْ یُبْقِ عَالِمًا، اتَّخَذَ النَّاسُ رُء ُوسًا جُہَّالاً، فَسُئِلُوا، فَأَفْتَوْا بغَیْرِ عِلْمٍ، فَضَلُّوا وَأَضَلُّوا
    عبداﷲ بن عمرو بن عاص رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ اﷲ علم کو اس طرح نہیں اٹھائے گا کہ بندوں (کے سینوں سے) نکال لے بلکہ علماء کو موت د ے کر علم کو اٹھائے گا، یہاں تک کہ جب کوئی عالم باقی نہ رہے گا تو جاہلوں کو سردار بنالیں گے اور ان سے (دینی مسائل) پوچھے جائیں گے اور وہ بغیر علم کے فتوے دیں گے خود بھی گمراہ ہوں گے اور دوسرں کو بھی گمراہ کریں گے۔
    (البخاری: کتاب العلم: باب کیف یقبض العلم)
    (۴)

    علماء سوء کی بدکرداریاں
    علماء سوء کی بدکرداریاں بھی علماء کی بدنامی اور امت کے ان سے دور ہوجانے کا ایک سبب ہے ۔ علماء کی بدکرداری کے اثرات صرف انہیں تک محدود نہیں رہتے اس کا اثر دین سے لوگوں کے تعلق اور سماج میں علماء کے مقام ومرتبہ پر بھی پڑتا ہے ۔
    اسلام علم کو لیے عدالت کا لازمی شرط قرار دیتا ہے ۔ علماء وہی ہیں جو امانت ودیانت اور تقوی وتدین کی صفت سے متصف ہوں ۔

    اﷲ رب العالمین کا ارشاد ہے ۔
    (إِنَّمَا یَخْشَی اللَّہَ مِنْ عِبَادِہِ الْعُلَمَاء ُ) (فاطر: 28)
    اﷲ کے بندوں میں علماء میں اﷲ کی خشیت سب سے زیادہ ہوتی ہے
    اﷲ کے نبی صلی اﷲ علیہ وسلم کافرمان ہے :
    یَحْمِلُ ہَذَا الْعِلْمَ مِنْ کُلِّ خَلَفٍ عُدُولُہُ
    ہر آئندہ آنے والی جماعت میں سے اس کے عادل لوگ اس علم کو حاصل کریں گے ۔
    ( بیہقی، شیخ البانی نے مشکاۃ کی تخریج میں اس حدیث کو صحیح قرار دیا ہے)
    عالم اگر عدالت کے دائرے سے باہر ہوتو شریعت کی اصطلاح میں اس کا شمار جاہلوں میں ہوتا ہے :
    (قَالَ رَبِّ السِّجْنُ أَحَبُّ إِلَیَّ مِمَّا یَدْعُونَنِی إِلَیْہِ وَإِلَّا تَصْرِفْ عَنِّی کَیْدَہُنَّ أَصْبُ إِلَیْہِنَّ وَأَکُنْ مِنَ الْجَاہِلِینَ)
    یوسف نے کہا اے میرے رب ، قید مجھے منظور ہے بہ نسبت اس کے کہ میں وہ کام کروں جو یہ لوگ مجھ سے چاہتے ہیں۔ اور اگر تو نے ان کی چالوں کو مجھ سے دفع نہ کیا تو میں ان کے دام میں پھنس جاؤں گاور جاہلوں میں شامل ہو جاوں گا۔ (یوسف: 33)
    علماء کے بدکردار ہوجانے کے کیا اسباب ہیں ۔
    نیت کا بگاڑ:
    علم اگر اﷲ کی رضا وخوشنودی اور اس کے دین کی سرفرازی کیلیے حاصل کیا جائے تو صاحب علم کے لیے رحمت وفضل کا سبب بنتا ہے لیکن اگر علم کے حصول کامقصد دنیا کے ناجائز مفادات کی بازیابی ہو تو ایسا علم صاحب علم کو اور ایسا صاحب علم امت کو سوائے نقصان کے اور کچھ نہیں پہنچاتا۔ اﷲ کے نبی صلی اﷲ علیہ سلم کا فرمان ہے ۔
    من طلب العلم لیجاری بہ العلماء أو لیماری بہ السفہاء أو یصرف بہ وجوہ الناس إلیہ أدخلہ اﷲ فی النار
    جس نے اس لیے علم سیکھا کہ اس کے ذریعہ سے علماء کا مقابلہ کرے یا بے وقوف لوگوں سے بحث و جھگڑا کرے اور لوگوں کو اس سے اپنی طرف متوجہ کرے تو اﷲ تعالیٰ ایسے شخص کو جہنم میں داخل کرے گا۔
    (ترمذی ، شیخ البانی نے اس حدیث کو حسن قرار دیاہے ۔ )
    ملوکیت کا بگا ڑ اور علماء سوء کا فروغ :
    سیاست کی دین سے جدائی نے اسلامی خلافت کو ملک عضوض بنا دیا۔ خلافت کا مقصد اسلام اور اہل اسلامی کی خدمت کے بجائے دنیا وی عشرتوں کو حصول بن گیا۔ بگڑے ملوک نے اپنے ناپاک جرائم کو دین کے پردہ میں چھپانے کے لیے اور اپنے ناجائز مقاصد کے حصول کے لیے علماء سوء کا سہارا لیا ۔ ملوک سوء اور علماء سوء کی اس جوڑی نے ایک طرف تو دین کو اپنی تاویل وتحریف کا نشانہ بنایااور علم و علماء کی بدنامی کا سبب بنے تو دوسری طرف علماء حق ہمیشہ ان کی ظلم و استبداد کا شکار رہے ۔
    مسلکی تعصب کا فروغ :
    قرآن وسنت سے دوری نے امت میں بہت سارے اعتقادی اور فقہی فرقوں میں تقسیم کردیا۔ ان فرقوں نے ایسے علماء پیدا کیے جنہوں نے اپنے علم کو دین کی فروغ کے بجائے اپنے باطل مسلک کی تبلیغ کیلیے استعمال کیا ۔ جب دینی حمیت کی جگہ مسلکی تعصب نے لے لی تو علماء سے خلوص رخصت ہوگیااور وہ اپنی باطل فکر کے ثبوت کے لیے جھوٹ ، فریب مکاری ہر چیز کو جائز سمجھا جانے لگا۔
    (۵)

    بد دین معاشرہ:
    معاشرہ میں بڑھی ہوئی بد دینی بھی علماء بیزاری کا ایک سبب ہے۔ بے دین معاشرہ ہمیشہ مصلحین کا دشمن رہا ہے ۔ فاسق اخلاقی اور دینی پابندیوں سے آزادی چایتاہے ۔ اور علماء اس آزادی کے خلاف آواز اٹھانے والے ہوتے ہیں ۔ بے دین افراد اپنی اصلاح کرنے کے بجائے اصلاح کی طرف بلانے والوں کو ہی اپنا دشمن سمجھ لیتے ہیں اور ان کی تحقیر وتذلیل سے اپنی نفس لوامہ کا مقابلہ کرتے ہیں ۔ سماج میں بد دینی جتنی بڑھے گی علماء کے خلاف غم وغصہ کی لہر اتنی ہی تیز ہوگی۔ ہم اپنے ادب کے مطالعہ میں بھی یہ بات محسوس کرسکتے ہیں کہ ہمارے یہاں شراب و شباب کاتذکرہ کتنی عظمت کے ساتھ اور واعظ ، شیخ ، ملا اور مولوی کاتذ کرہ کتنی حقارت سے کیا جاتا ہے ۔
    (۶)

    رویبضہ کی جماعت
    امت کی پیشوائی اور نمائندگی کو سیاسی رسوخ ، میڈیا ئی شہرت اور دولت میں اضافہ کا ذریعہ بنا لیا گیا ہے ۔ دین کا سطحی علم رکھنے والے یا دین کے اصولی اور بنیادی علم سے بھی نا واقف رویبضہ کی ایک پوری جماعت ہے جو دین اور امت کے معاملہ میں بے جا دخل اندازی کرکے دین ، علم دین اور علماء دین کو بدنام کررہی ہے اورخود کو امت کا پیشوا اور رہنما بناکر پیش کررہی ہے ۔ اس جماعت کی طرف سے اپنے ناجائز مقاصد کے حصول کے لیے مکر ، فریب ، جھوٹ ، عیاری، دغاباری ، پارٹی بندی اخبار بازی اور ان جیسے گندی سیاست کے سارے گندے ہتھکنڈے استعمال میں لائے جاتے ہیں ۔ سیاست کی اس گندگی سے متنفر علماء مدارس ، مساجد اور گاوں اور محلہ میں گوشہ نشینی ہی میں عافیت ڈھونڈتے ہیں۔ اس کے علاوہ تنظیمی مناصب پر اسی طرح کے علماء سوء اپنے سیاسی ہتھکنڈوں کے ذریعہ قابض ہوتے ہیں اور اپنی کرسیوں کی حفاظت اور اپنی جہالت کی پردہ پوشی کیلیے علماء حق کو پس منظر میں رکھنے ہی میں عافیت سمجھتے ہیں ۔
    (۷)

    امت کے علماء حق سے دور ہوجانے کی ایک وجہ پچھلی ایک صدی میں تیزی کے ساتھ پھیل جانے والا مذہب بیزاری کا رجحان بھی ہے ۔ کیونکہ علماء مذہب اسلام کے نمائندے ہیں لہذا اگر لوگوں کے زندگی میں مذہب کی اہمیت کم ہوگی تو اس کا اثر سماج میں علماء کی حیثیت پر پڑنا بھی لازمی ہے ۔
    مذہب بیزاری کے پھیلاو کے اسباب کیا ہیں؟
    تاریخ کے ایک دور میں سائنس اور کلیسا کے درمیان ہونے والی کشمکش کو مذہب اور سائنس کی کشمکش سمجھ لیا گیا۔ اہل علم وفن کے خلاف کلیسا کی زیادتیوں نے مذہب کو بدنام کیا اور لوگوں کے دل میں مذہب کے تنگ نظر ہونے کا تاثر قائم ہوگیا ۔ اس کے بعد سائنس کے مقابلہ میں کلیسا کی شکشت کو مذہب کی شکشت سمجھ لیا گیا۔ مغرب میں سائنسی انقلاب آیا ۔ اس انقلاب نے دنیا کا کنٹرول جن ہاتھوں میں دیا مذہب بیزاری ان کی خمیر میں شامل تھی۔ اس طبقہ نے ابلاغ کے سارے ذرائع مذہب بیزاری کے رجحان کو فروغ دینے کیلیے استعمال کیے ۔ سیکولرازم کا نظریہ کو فروغ دیا جس کی بنیاد ہی اس بات پر تھی کے انسانی زندگی سے مذہب کے عمل دخل کو ختم یا آخری حد تک کم کردیا جائے ۔
    مادیت کا فروغ:
    صنعتی انقلاب نے انسانی زندگی کے معیا ر بلند کیے ۔ انسان کی آرزوں طویل ہوگئیں ۔ تکاثر نے نئے انسان کو حد درجہ مصروف ہوکردیا۔ عاجلہ کی فکر نے آخرۃ کی فکر کو ختم یا بڑی حد تک دھیما کردیا ۔ ترقی کے نئے مفہوم کے حصول میں مصروف جدید انسان کے پاس خدا ، مذہب ، دین ، آخرت جیسی مابعد الطبیعاتی چیزوں کے بارے میں سوچنے وقت نہیں بچا۔
    ٖقرآن و سنت سے دوری:
    امت کی دین سے دوری کی وجہ امت میں اگ آنے والے بہت سے باطل فرقے بھی ہیں جنہوں نے اپنے بطلان اور بے ثباتی کو چھپانے کے لیے قرآن و سنت کو علماء کے پڑھنے پڑھانے کی چیز بنا دیا ۔ امت دین سے دور ہوئی تو دنیا سے قریب ہوگئی اور دنیا سے قربت دین سے مزید دوری کا سبب بنی ۔ اس رجحان نے گرچہ لوگوں کے دلوں میں علماء کی عقید ت کو کم نہیں کیا بلکہ ایک حدتک اس عقیدت میں غلو بھی اسی رجحان کے وجہ سے شامل ہوگیا لیکن اس کے بعد عوام میں علماء کی حیثیت صرف مذہبی رسوم ادا کروانے والے مذہبی رہنما کی بن کر رہ گئی ۔
    (۸)

    علماء بیزاری کی ایک وجہ علماء کا اپنے زمانے کے حالات اور اس کے تقاضوں سے غافل رہ جانا بھی ہے ۔ ہندستا ن میں انگریزی استبداد سے پہلے دینی اور عصری تعلیم کی دوئی نہیں تھی ۔ دینی علم اور حکمت ہی دو ایسے شعبے تھے جن سے وابستہ افراد پڑھے لکھے کہلاتے تھے انگریزی استبدادد اور ہندستان کے مغرب کے ساتھ تعلقات ، سائنسی ترقیات، انفارمیشن ٹیکنالوجی کے انقلاب اور عصری علوم کے سیلاب نے بہت سارے ہندستانی مسلمان کے اندر بہت ساری فکری اور سماجی تبدیلیاں پیدا کیں ۔ لیکن ہندستانی علماء زمانے کی اس تبدیلی کے ساتھ خود کو تبدیل کرپائے اورنہ ہی اس تبدیلی کا صحیح تجزیہ کرپائے۔ ۔ نہ مدارس کے نظام تعلیم میں کوئی خاص فرق آیااور نہ ہی نصاب تعلیم زمانے کی ضرورتوں کے مطابق اپ ڈیٹ ہوسکا ۔ جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ علماء کرام اپنے زمانے کے لوگوں سے بہت پیچھے رہ گئے۔ بلکہ وہ اس زمین پر رہتے ہوئے ایک دوسرے سیارے کی مخلوق بن گئے ۔ دینی تعلیم کے ساتھ عصری تعلیم کا امتزاج ایک تفصیلی بحث ہے لیکن من لا یعرف اھل زمانہ فہو جاہل ایک اصولی حقیقت ہے ۔
    (۹)

    علماء بیزاری کے یہ کچھ اسباب تھے جو ہماری سمجھ میں آئے ۔ علماء بیزاری کے بڑھتے ہوئے رجحان کا ازالہ کیسے ہو اور سماج میں علماء کا حقیقی مقام کیسے دلایاجائے یہ ایک موضوع ہے جس پر آئندہ کبھی تفصیل سے گفتگو ہوسکتی ہے ۔
    ( ماہنامہ دی فری لانسر کے ’’ علماء بیزاری نمبر‘‘ میں میرا یہ مضمون شائع ہو چکا ہے۔)
     
    • شکریہ شکریہ x 15
    • زبردست زبردست x 1
    • لسٹ
  2. ‏مارچ 03، 2012 #2
    محمد ارسلان

    محمد ارسلان خاص رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 09، 2011
    پیغامات:
    17,865
    موصول شکریہ جات:
    40,798
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,155

    جزاک اللہ خیرا
     
  3. ‏مارچ 03، 2012 #3
    یوسف ثانی

    یوسف ثانی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    پاکستان
    شمولیت:
    ‏ستمبر 26، 2011
    پیغامات:
    2,760
    موصول شکریہ جات:
    5,268
    تمغے کے پوائنٹ:
    562

    ماشاء اللہ مرض کی کیا خوب نشاندہی کی ہے۔ ہمیں امید ہے کہ ان ہی صفحات پر جلد ہی اس مرض کے علاج پر بھی روشنی ڈالی جائے گی۔
     
  4. ‏مارچ 04، 2012 #4
    ابوالحسن علوی

    ابوالحسن علوی علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    لاہور
    شمولیت:
    ‏مارچ 08، 2011
    پیغامات:
    2,524
    موصول شکریہ جات:
    11,484
    تمغے کے پوائنٹ:
    641

    ان اسباب میں ایک اور سبب کا اضافہ بھی کیا جا سکتا ہے اور وہ معاصر علما میں اعلی اخلاق کی کمی ہے۔ ایک عزیز نے بتلایا کہ وہ ایک بہت بڑے شیخ الحدیث صاحب سے ملاقات کے لیے بڑے جذبے اور شوق سے گئے۔ دروازے پر دستک دی۔ انہوں نے اوپر والی منزل سے جھانک کر پوچھا کہ کون ہے؟ نیچے سے جواب ملا کہ خادم زیارت کے لیے آیا ہے۔ انہوں نے کھڑکی سے چہرہ بال نکال کر کہا کہ زیارت ہو گئی ہے۔ اب آپ جا سکتے ہیں۔ اس قسم اور بہت سے واقعات منقول و معروف ہیں۔

    اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت میں ہمیں یہ ملتا ہے کہ اس معاشرے کی حقیر ترین مخلوق یعنی لونڈی اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو مدینہ کی جس گلی میں پکارے، اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم وہاں حاضر ہو کر اس کی بات سن کر اس کا کام کرنے کے لیے تیار ہوتے تھے۔ آج کل کے علما سے لوگوں کی بیزاری کا ایک سبب یہ بھی ہے کہ علما یہ سمجھتے ہیں کہ ہم دینی اور علمی خدمت میں مصروف ہیں، عام لوگوں کے عام مسائل یا طلبۃ العلم کے لیے ہمارے پاس وقت نہیں ہے۔ واللہ اعلم بالصواب
     
  5. ‏مارچ 04، 2012 #5
    انس

    انس منتظم اعلیٰ رکن انتظامیہ
    جگہ:
    لاہور
    شمولیت:
    ‏مارچ 03، 2011
    پیغامات:
    4,177
    موصول شکریہ جات:
    15,224
    تمغے کے پوائنٹ:
    800

    بہت خوب، بہت عمدہ
    جزاکم اللہ خیرا!
     
  6. ‏مارچ 04، 2012 #6
    یوسف ثانی

    یوسف ثانی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    پاکستان
    شمولیت:
    ‏ستمبر 26، 2011
    پیغامات:
    2,760
    موصول شکریہ جات:
    5,268
    تمغے کے پوائنٹ:
    562

    کسی حد تک یہ بات بھی درست ہے۔ اصل بات یا مسئلہ یہ ہے کہ عوام الناس اور علمائے حق کے درمیان ’کمیونی کیشن گیپ ‘ موجود ہے۔ عوام اپنی دنیا داری میں پھنسے ہوئے ہیں اور انہیں علماء کی محفل میں بیٹھنے کی توفیق نہیں اور علماء کو عوام سے رابطہ کرنے کی فرصت نہیں، یا وہ اسے غیر ضروری سمجھتے ہیں۔ وہ تو اللہ کا بڑا کرم ہے کہ کچھ علماء نے نیٹ کے ذریعہ عوام سے رابطہ کا آغاز کر دیا ہے۔ بلا شبہ علماء کا علمی کام اپنی جگہ اہمیت رکھتا ہے، لیکن اگر یہ علمی کام عوام کی نظروں سے اوجھل رہے تو کس کام کا۔ علماء کی تصنیف کردہ کتب اول تو چھپتی ہی کتنی ہیں، پھر یہ کتب بھی متقی و پرہیز گار گھرانوں میں گردش کرتی رہتی ہیں۔ عوام الناس تک ان کی رسائی شاذ و نادر ہی ہوتی ہیں۔ عوام ان موٹی موٹی کتب اور نامانوس علمی اصطلاحات سے گھبرا کر انہیں چوم کر شیلف میں رکھ دیتے ہیں۔ وہ تو اپنے عام معمولات اور الجھنوں کا راست جواب چاہتے ہیں۔ علماء فردا" فردا" بہت زیادہ لوگوں سے مل بھی نہیں سکتے۔ اور علما کی اکثریت نیٹ لٹریٹ بھی نہیں ہے۔ تاہم یہ وہ واحد طریقہ جس کے ذریعہ اکثر علما اکثر لوگوں سے رابطہ رکھ سکتے ہیں۔ بذریعہ ای میل یا نیٹ فورمز۔ اسلامی نیٹ فورمز کے علاوہ علمائے کرام یا ان کے نامزد کردہ نیٹ لٹریٹ نمائندوں کو عام نیٹ فورمز کا بھی وزٹ کرنا چاہئے جہاں لاکھوں کی تعداد میں عام لوگ وزٹ کرتے ہیں۔ ان کی دینی پیاس بجھانے کا یہ ایک مؤثر طریقہ ہے۔
     
  7. ‏اپریل 26، 2012 #7
    ام نور العين

    ام نور العين رکن
    جگہ:
    پاک سرزمین
    شمولیت:
    ‏جولائی 31، 2011
    پیغامات:
    68
    موصول شکریہ جات:
    271
    تمغے کے پوائنٹ:
    71

    میرے مشاہدے کے مطابق لوگ علماء سے بے زار نہیں ، علماء كرام كا غلط اميج بنانے كے بڑے ذمہ دار وہ بھيڑئیے ہیں جو محض تعلی کے زور پر بھيڑ کے بہروپ ميں گلے میں شامل ہو گئے ہیں ۔ یہ نیم ملا خطرہء ايمان ہیں ۔ عام آدمی جب بھی اصل عالم تک پہچ جاتا ہے اس کے شکوک رفع ہو جاتے ہیں۔ راقمہ آج اگر دين پر كسى ادنى درجے میں ثابت قدم ہے تو صرف اور صرف علماء كرام كے حسن کردار اور مثبت تاثر كى وجہ سے۔
    بہت اچھا جواب ہے۔ آداب ملاقات کو بلائے طاق رکھ کر وقت بے وقت پریشان کرنا کونسا اسلامى فريضہ ہے۔ شیخ الحدیث کی زیارت پانچ وقت مسجد میں بھی ممکن ہے ، اضافی شوق کے لیے وقت لے لینا چاہیے۔
     
  8. ‏اپریل 26، 2012 #8
    شاہد نذیر

    شاہد نذیر سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏فروری 17، 2011
    پیغامات:
    1,940
    موصول شکریہ جات:
    6,202
    تمغے کے پوائنٹ:
    412

    بہت خوب!
     
  9. ‏اپریل 26، 2012 #9
    شاہد نذیر

    شاہد نذیر سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏فروری 17، 2011
    پیغامات:
    1,940
    موصول شکریہ جات:
    6,202
    تمغے کے پوائنٹ:
    412

    السلام علیکم ورحمتہ اللہ!

    علماء بیزاری کے اسباب میں ایک سبب اور داخل کرلیں۔
    جب علماء کے افعال اور اقوال میں تضاد آجائے تو عوام الناس ان سے دور اور بیزار آجاتے ہیں۔ علماء کا اہل باطل کے خلاف بزدلی اور مداہنت دکھانا بھی اس کا ایک اہم سبب ہے۔ ہم نے تو یہ بھی مشاہدہ کیا ہے کہ ان اسباب کے تحت پہلے ایک شخص علماء سے دور اور بیزار ہوتا ہے پھر مایوس ہوکر خود بھی دین کو عملی طور پر چھوڑ بیٹھتا ہے۔علماء کی جانب سے باطل پرستوں کی حمایت اور نرم گوشہ رکھنا بھی صحیح منہج پر عمل پیرا عوام کو ان علماء سے نفرت اور پھر دوری پر مجبور کردیتا ہے۔علماء کو اپنی کمزوریاں دور کرنی چاہیے خصوصا اپنے اندر جرا ءت اور بہادری پیدا کرنی چاہیے ہم نے دیکھا ہے بہت سے معاملات میں علماء خوف کی وجہ سے پیچھے ہٹ جاتے ہیں پھر یہی چیز عوام کو ان سے متنفر کرنے کا سبب بنتی ہے۔واللہ اعلم
     
  10. ‏اپریل 26، 2012 #10
    سرفراز فیضی

    سرفراز فیضی سینئر رکن
    جگہ:
    ممبئی۔
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 22، 2011
    پیغامات:
    1,091
    موصول شکریہ جات:
    3,772
    تمغے کے پوائنٹ:
    376

    مجھے لگتا ہےیہ جواب اخلاق و مروت کے خلاف ہے
    بہر حال اپنی اپنی سوچ
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں