1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

علماء و صالحین کی صحبت اہل ایمان کیلئے بہترین ہے ؛

'تحقیق حدیث سے متعلق سوالات وجوابات' میں موضوعات آغاز کردہ از ابو حسن, ‏اکتوبر 05، 2019۔

  1. ‏اکتوبر 05، 2019 #1
    ابو حسن

    ابو حسن رکن
    شمولیت:
    ‏اپریل 09، 2018
    پیغامات:
    139
    موصول شکریہ جات:
    17
    تمغے کے پوائنٹ:
    57

    السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ

    شیوخ محترم اس روایت کی تحقیق درکار ہے۔

    قَالَ : قِيلَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيُّ جُلَسَائِنَا خَيْرٌ ؟ قَالَ : مَنْ ذَكَّرَكُمُ اللَّهَ رُؤْيَتُهُ ، وَزَادَ فِي عِلْمِكُمْ مَنْطِقُهُ ، وَذَكَّرَكُمْ بِالْآخِرَةِ عَمَلُهُ

    اسی طرح

    قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِخَيْرِ جُلَسَائِكُمْ ؟ مَنْ ذَكَّرَكُمُ اللَّهَ رُؤْيَتُهُ ، وَزَادَكُمْ فِي عِلْمِكُمْ مَنْطِقُهُ ، وَذَكَّرَكُمْ فِي الْآخِرَةِ عَمَلُهُ
     
    Last edited by a moderator: ‏اکتوبر 05، 2019
  2. ‏اکتوبر 05، 2019 #2
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    6,303
    موصول شکریہ جات:
    2,377
    تمغے کے پوائنٹ:
    791

    وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
    محترم بھائی !
    یہ دونوں الفاظ دراصل ایک ہی روایت کے ہیں ؛
    امام أبو بكر عبد الله بن محمد المعروف بابن أبي الدنيا (المتوفى: 281هـ) اپنی کتاب ’’ الاولیاء ‘‘ میں روایت کرتے ہیں کہ :

    حدثنا عبد الله، ذكر الفضل بن سهل، نا عبيد الله بن موسى، أنا مبارك بن حسان، عن عطاء، عن ابن عباس، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «ألا أخبركم بخير جلسائكم؟ من ذكركم الله رؤيته، وزادكم في علمكم منطقه، وذكركم في الآخرة عمله»
    (الأولياء لابن أبي الدنيا ،صفحہ ۱۷ ،حدیث نمبر ۲۵ )

    اور امام أبو يعلى أحمد بن علي الموصلي (المتوفى: 307هـ) اپنی مسند میں روایت کرتے ہیں :
    حدثنا عبد الله بن عمر بن أبان، حدثنا علي بن هاشم بن البريد، عن مبارك بن حسان، عن عطاء، عن ابن عباس قال: قيل: يا رسول الله " أي جلسائنا خير؟ قال: «من ذكركم الله رؤيته، وزاد في علمكم منطقه، وذكركم بالآخرة عمله»
    مسند ابو یعلی الموصلی ۲۴۳۷
    [حكم حسين سليم أسد] : إسناده لين
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ترجمہ :
    سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اکرم ﷺ سے پوچھا گیا :ہمارے لئے کیسے لوگ بہترین ہم نشین ہیں ؟ فرمایا جنہیں دیکھ تمہیں اللہ کی یاد آئے ،اور جس کی گفتار تمہارے علم میں اضافہ کا سبب بنے ،اور جس کے اعمال تمہیں آخرت کی یاد دلائیں؛
    (شعب الایمان ۹۰۰۰ )
    یہ روایت ضعیف ہے ؛
    شعب الایمان ،طبع مكتبة الرشد للنشر والتوزيع بالرياض بالتعاون مع الدار السلفية ببومباي بالهند
    جو ڈاکٹرعبد العلي عبد الحميد حامد کی تحقیق و تخریج سے شائع ہے اس کی بارہویں جلد میں اس حدیث کی تخریج میں لکھا ہے :
    اسناده ضعيف ،
    مبارك بن حسان السلمي ابو يونس أو ابو عبدالله البصري ،نزيل مكة لين الحديث ، من السابعة ، وثقه ابن معين ، وقال الازدي :يرمي بالكذب، وقال أبو داود :منكرالحديث ، وقال النسائي : ليس بالقوي ،وقال ابن حبان : يخطئ ويخالف )
    راجع: التهذيب ، والكامل في الضعفاء ، والميزان ، والجرح والتعديل ووالتاريخ الكبير )
    وضعفه الالباني في " ضعيف الترغيب والترهيب 79 "
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں