1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

علمائےاہل حدیث کا ذوق تصوف

'عملی تصوف' میں موضوعات آغاز کردہ از عبقری ریڈر, ‏جنوری 14، 2014۔

  1. ‏فروری 04، 2014 #221
    محمد فیض الابرار

    محمد فیض الابرار سینئر رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏جنوری 25، 2012
    پیغامات:
    3,036
    موصول شکریہ جات:
    1,194
    تمغے کے پوائنٹ:
    402

    اگر کہیں گے تو اس کتاب سے حوالے سکین کر کے بھی اپلوڈ کر دوں گا
     
  2. ‏فروری 04، 2014 #222
    محمد فیض الابرار

    محمد فیض الابرار سینئر رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏جنوری 25، 2012
    پیغامات:
    3,036
    موصول شکریہ جات:
    1,194
    تمغے کے پوائنٹ:
    402

    ارسلان بھائی عامر صاحب اپنی ہر پوسٹ میں صرف دعوی ہی کر رہے ہیں ایسے دعوی جس پر کوئی دلیل نہیں ہے
     
  3. ‏فروری 04، 2014 #223
    محمد ارسلان

    محمد ارسلان خاص رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 09، 2011
    پیغامات:
    17,865
    موصول شکریہ جات:
    40,798
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,155

    بھائی! یہ صوفی ہیں ان کا دارومدار کتاب و سنت پر نہیں بلکہ اپنی عقل پر ہے، یہ لوگ دلائل کے میدان میں کبھی نہیں آئیں گے، کیونکہ ان کے صوفیت کی بنیاد باطل عقائد پر ہے، ان کی بہت بڑی پہاڑ دلیل یہ ہے جو یہ اب ڈھونڈ آئے ہیں وہ یہ کہ علماء اہلحدیث تصوف کے قائل تھے، اب ان جہلاء کو کون سمجھائے کہ ایسا کچھ نہیں ہے، بالفرض اگر چند علماء اہلحدیث تصوف کے قائل ہوں بھی سہی تو انہیں کہیں دلیل پیش کریں اپنے اپنے موقف کی۔ بس ایسے ہی خوامخواہ یہ لوگ اپنا ٹائم ضائع کر رہے ہیں۔ اللہ ہدایت عطا فرمائے آمین
     
  4. ‏فروری 04، 2014 #224
    محمد فیض الابرار

    محمد فیض الابرار سینئر رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏جنوری 25، 2012
    پیغامات:
    3,036
    موصول شکریہ جات:
    1,194
    تمغے کے پوائنٹ:
    402


    جزاک اللہ خیرا
     
  5. ‏فروری 05، 2014 #225
    عامر رضا

    عامر رضا رکن
    شمولیت:
    ‏ستمبر 25، 2013
    پیغامات:
    138
    موصول شکریہ جات:
    34
    تمغے کے پوائنٹ:
    32

    محترم ! میں نے یہ سوال اس لئے کیا تھا کہ آپ شرعی علوم میں جو اصطلاحات استعمال کی گئی ہیں ،ان پر کوئی دلیل پیش کرتے ،شریعیت جو رہنمائی کرتی ہے کہ اصطلاحات کے لئے یہ طریقہ کار ہے؟ مگر افسوس کے آپ ادھر ادھر کی ہانکتے رہے ،مگر اصل بات کی نہیں۔پھر دوسری بدعت کی تعریف پوچھی تھی؟مگر وہ بھی آپ نہ بتا سکے۔
    محترم بات یہ کہ جب دین پھیلا تو ضرورت کے تحت جہاں مختلف شعبے وجود میں آئے اسی طرح تصوف بھی وجود میں آیا،قرآن کو سمجھانے کے لئے جن نفوس قدسیہ نے حصہ لیا انہیں مفسر کہا گی،اسی طرح خدمات حدیث پر جو لوگ سامنے آئے ،انہیں محدث کہا گیا۔اب ان علوم کو سمجھانے کے لئے ان حضرات نے اصول وضع کئے ،اصطلاحات وجود میں آئی ،اور یہ سب کچھ ضرورت کے تحت تھا،اسی طرح صوفیاء کا شعبہ وجود میں آیا
    کسی بات میں اہل علم کے اختلاف کے یہ معنی ہر گز نہیں ہوتے کہ اس کی کوئی اصل نہیں ،اگر آپ کا کلیہ اصول یہ ہے،تو پھر کل آپ لفظ اللہ سے بھی انکار کر دے گے ،اب بحث لفظ اللہ پر بھی ہے، کہ یہ کس سے مشتق ہے ؟ تو مختلف اقوال ملتے ہیں،تو کیا آپ لفظ اللہ کو ماننے سے بھی انکار کر دے گے۔
    میرے بھائی! تصوف کی بحث یہ نہیں کہ یہ لفظ کس سے بنا ہے،یہ تو اایسے ہی ہے کہ کل آپ کہہ اٹھے کہ میں بخاری شریف کو تب مانوں گا جب آپ لفظ بخاری قرآن و حدیث سے دکھائے گے؟
    بات یہ کہ تصوف کی اصل قرآن و حدیث میں ہے کہ نہیں،تو ہمارے صوفیاء اہلحدیث ؒ میں کابر اہلحدیث عا لم و صوفی فرماتے ہیں:

    "حضو ر علیہ الصلوۃ و السلام نے بعثت کے بعد جو کام سر انجام دیا ،قرآن مجید اسے متعدد جگہوں پر یوں بیان کرتا ہے:۔ یتلو علیھم آیۃ و یز کیھم ویعلمھم الکتاب و الحکمۃ ۔۔۔یہ جو بار بار خدا کہتا ہے:"یزکیھم"یعنی وہ انکا تزکیہ کرتے ہیں ،اسی تزکیہ کے اصول و آداب کو ہم طریقت یا تصوف سے تعبیر کرتے ہیں ۔افسوس ہے کہ ہماری درسگاؤں میں تعلیم کتاب و حکمت کا ہتمام تو کیا جاتا ہے ،لیکن تزکیہ نفس جسکا ذکر قرآن مجید تعلیم کتاب و حکمت کے علاوہ الگ مستقل بالذات بار بار کرتا ہے ،اس کا قطعی طور پر کوئی اہتمام نہیں"۔(حضرت سید داؤد غزنوی ص ۳۶۱)
    مزید اس موضوع پر ارسلان صاحب سے گفتگو ہوئی ہے آپ بھی اسکو ملاحظہ فرمالیں اگر آپکو کوئی اشکال ہے تو بات کر سکتے ہیں،ارسلان صاحب کے اشکال کا جواب اگلی فرصت میں لکھ دونگا۔لنک یہ ہے

    http://forum.mohaddis.com/threads/تصوف-وہ-راہ-ہے۔۔۔۔۔۔.17176/page-2
    نمبر 19 کا مطالعہ فرمائیں ،اگر آپ کو کوئی اشکا ل ہے تو بتائیں۔
     
  6. ‏فروری 05، 2014 #226
    عبقری ریڈر

    عبقری ریڈر رکن
    شمولیت:
    ‏ستمبر 08، 2013
    پیغامات:
    180
    موصول شکریہ جات:
    163
    تمغے کے پوائنٹ:
    41

    ارسلان صاحب آپکی بات توسوال کے برعکس رہی ہے بہرحال ایک دنیاوی مثال سے سمجھانے کی کوشش کرتا ہوں آپ ہر چیز میں دلائل کے قائل ہیں اس وقت میں آپکو ایک دلیل دیتا ہوں آپ تصوف روحانیت پر یقین نہیں رکھتے آپ کا کہنا کہ ثابت کریں
    جس طرح آپ کے پاس موبائل فون تو ہو گا لیکن آپکا کہنا ہے کہ کمرے میں سگنکل پورے نہیں ہیں اب آپکو سگنل دکھائی نہیں دے رہے لیکن آپ یقین اور دعوے سے کہہ رہے ہیں کہ سگنل آرہے ہیں جب کہ وہ آپکو دکھائی نہیں دے رہے پھر بھی یقین ہے اللہ کے بندے جب سگلنل جو دکھائی نہیں دیتے ان پر اتنا پکا یقین جب بات آتی ہے تصوف کی ذکر الہیٰ کی تو پھر دلیل یہ بھی ایسے ہی ہے کہ جس کو تصوف ذکر الہیٰ کی لُو لگ جاتی ہے اس کو کچھ بھی کہو وہ اپنی بات پر ڈٹا ہے جیسے کہ آپ ڈٹے ہیں کہ کمرے میں سگنکل پورے نہیں ہیں۔

    ہم اسی ذکر کی بات کرتے ہیں کہ جو قرآن حکیم میں واضع فرمان ہے
    (الَّذِينَ آمَنُوا وَتَطْمَئِنُّ قُلُوبُهُمْ بِذِكْرِ اللَّهِ أَلا بِذِكْرِ اللَّهِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوبُ) (الرعد:28)
    جو لوگ ایمان لائے ان کے دل اللہ کے ذکر سے اطمینان حاصل کرتے ہیں۔ یاد رکھو اللہ کے ذکر سے ہی دلوں کو تسلی حاصل ہوتی ہے۔
    میرے بھائی ہم کہتے ہیں آئو اللہ کے ذکر کی طرف اپنےویران دلوں کو اللہ کے ذکر سے منور کر لو یہاں سارادن بحث مباحثوں کی بجائے اللہ کے ذکر کو تھام لو جس کا سب سے بڑا گواہ ۡقرآن پاک ہے۔ اس سے بڑی دلیل اور کوئی نہیں۔
     
  7. ‏فروری 05، 2014 #227
    محمد ارسلان

    محمد ارسلان خاص رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 09، 2011
    پیغامات:
    17,865
    موصول شکریہ جات:
    40,798
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,155

    اللہ کا ذکر بھی اسی طریقے سے فائدہ مند ہو گا جس طریقے سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سکھایا ہے، اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقے سے ہٹ کو خود ساختہ طریقے سے کیا گیا ذکر کرنے کا عمل نہ صرف تباہ و برباد ہے، بلکہ کرنے والا جنت کی بجائے جہنم میں جائے گا، کیونکہ یہ بدعت ہے اور بدعت گمراہی ہے اور گمراہی جہنم کی آگ ہے۔

    مجھے آپ ایک بات سمجھا دیں، یہی آیت، صحابہ کرام کے سامنے بھی تھی، انہوں نے تو اس آیت کے پیش نظر کوئی احسان و سلوک کی اصطلاحیں نہیں بنائیں، انہوں نے حجروں کے اندر تو بیٹھ کر ھو ھو نہیں کیا، انہوں نے تو حلول کے عقیدے نہیں رکھے۔

    اگر اہم کام دل کو پاک کرنا، تقویٰ اختیار کرنا، دین اسلام کی طرف راغب ہو جانا، اللہ سے محبت کرنا، اللہ کی خوب عبادت کرنا ہی تصوف کا مقصد ہو تو یہ ساری باتیں دین اسلام میں شریعت اور تقویٰ کے نام سے موجود ہیں، اس میں علیحدہ سے صوفیت کی اصطلاح اور اس میں مروجہ بدعی طریقوں پر زور دینے کی کیا ضرروت ہے؟
     
    • متفق متفق x 1
    • غیرمتعلق غیرمتعلق x 1
    • لسٹ
  8. ‏فروری 05، 2014 #228
    عبقری ریڈر

    عبقری ریڈر رکن
    شمولیت:
    ‏ستمبر 08، 2013
    پیغامات:
    180
    موصول شکریہ جات:
    163
    تمغے کے پوائنٹ:
    41


    اللَّهُ لَا إِلَٰهَ إِلَّا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ ۚ لَا تَأْخُذُهُ سِنَةٌ وَلَا نَوْمٌ ۚ لَّهُ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ ۗ مَن ذَا الَّذِي يَشْفَعُ عِندَهُ إِلَّا بِإِذْنِهِ ۚ يَعْلَمُ مَا بَيْنَ أَيْدِيهِمْ وَمَا خَلْفَهُمْ ۖ وَلَا يُحِيطُونَ بِشَيْءٍ مِّنْ عِلْمِهِ إِلَّا بِمَا شَاءَ ۚ وَسِعَ كُرْسِيُّهُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ ۖ وَلَا يَئُودُهُ حِفْظُهُمَا ۚ وَهُوَ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ ٘(سورۃ البقرۃ آیت255)

    اللَّهُ لَا إِلَٰهَ إِلَّا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ ٘(سورۃ آل عمران آیت 2)
    هُوَ الَّذِي يُصَوِّرُكُمْ فِي الْأَرْحَامِ كَيْفَ يَشَاءُ ۚ لَا إِلَٰهَ إِلَّا هُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ ٘(سورۃ آل عمران آیت 6)
    هُوَ الَّذِي أَنزَلَ عَلَيْكَ الْكِتَابَ(سورۃ آل عمران آیت 7)

    جناب یہ ھو بھی قرآن پاک کا لفظ ہے کوئی خودساختہ چیز نہیں ہے
    اس لفظ اللہ میں بھی ھو ہے اللَّهُ
    ارسلان صاحب ھو کے بغیر تو آپکی آیت الکرسی نہیں مکمل ہوتی باقی کیا بات کرتے ہیں؟اللہ کے بندے قرآن پاک کے ہر لفظ کا احترام کرتے ہیں نہ کہ تنزیہ جیسے آپنے اوپر لکھا ہے اچھی بات نہیں ہے،،،میرے بھائی قرآن پاک کی تاثیر کو سمجھو تو سہی یہ تاثیر تبھی ملے گی جب ہم اس کے ایک ایک لفظ میں کھو جائیں گے۔
     
  9. ‏فروری 05، 2014 #229
    محمد ارسلان

    محمد ارسلان خاص رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 09، 2011
    پیغامات:
    17,865
    موصول شکریہ جات:
    40,798
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,155

    قرآن پاک میں لفظ "ھو" کا میں نے تو انکار نہیں کیا، اصل اعتراض تو مردوں کا حلقہ بنا کر صرف لفظ ھو ھو کر کے سر مارنے والے طریقے پر ہے کہ یہ بدعت ہے۔
     
  10. ‏فروری 05، 2014 #230
    عبقری ریڈر

    عبقری ریڈر رکن
    شمولیت:
    ‏ستمبر 08، 2013
    پیغامات:
    180
    موصول شکریہ جات:
    163
    تمغے کے پوائنٹ:
    41

    جناب یہ تو ایسے ہے جیسا کہ قرآن پاک کوئی نیچی آواز میں پڑھنا پسند کرتا ہے کوئی اونچی آواز میں اب ہم یہ تو نہیں کہ سکتے کہ اونچی میں پڑھو تو بدعت ہے نیچی آواز میں پڑھو تو ٹھیک ہے ذکر ہے جس کی مرضی اونچا پڑھے جس کی مرضی نیچی آواز سے کرے اپنی اپنی کیفیت ہے۔
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں