1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

علمائےاہل حدیث کا ذوق تصوف

'عملی تصوف' میں موضوعات آغاز کردہ از عبقری ریڈر, ‏جنوری 14، 2014۔

  1. ‏فروری 07، 2014 #241
    محمد فیض الابرار

    محمد فیض الابرار سینئر رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏جنوری 25، 2012
    پیغامات:
    3,033
    موصول شکریہ جات:
    1,194
    تمغے کے پوائنٹ:
    402

    اصطلاح تصوف کو ثابت کریں پھر اگلی بات کروں گا ہر بات کا جواب دوں گا لیکن پہلے لفظ تصوف کو کتاب و سنت سے ثابت کریں کہ اس پر آپ کی زندگی اور موت کا انحصار ہے اور آخری بات دین خیر خواہی کا نام ہے اس لیے ایک چھوٹی سی نصیحت ہے میری آپ سے ایک موضوع پر بحث ہو رہی ہے لیکن آج آپ ذاتیات پر اتر آئے ہیں اور دشنام طرازی کا اسلوب اختیار کر لیا ہے لہذا میرے لیے بہتری اسی میں ہے کہ آپ سے مزید بات نہ کی جائے صرف ایسا کریں کہ جس پوسٹ میں آپ نے تصوف کو کتاب و سنت سے ثابت کیا ہو اس کا حوالہ دے دیں میری مجبوری ہے کہ میں آپ کی طرح ذاتیات پر نہیں اتر سکتا اور نہ ہی آپ کا اسلوب استعمال کر سکتا ہوں جزاک اللہ خیرا اور اللہ آپ کو ہدایت دے
     
    • پسند پسند x 1
    • متفق متفق x 1
    • لسٹ
  2. ‏فروری 07، 2014 #242
    محمد ارسلان

    محمد ارسلان خاص رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 09، 2011
    پیغامات:
    17,865
    موصول شکریہ جات:
    40,798
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,155

    اللہ کے ذکر سے ہی دلوں کو سکون ملتا ہے، لیکن صوفی کیسا ذکر کرتے ہیں کہ چھلانگیں لگا رہے ہوتے ہیں، زمین پر لوٹ پوٹ ہو رہے ہوتے ہیں، گول گول گھوم رہے ہوتے ہیں، کبھی ننگے پڑے ہیں، کبھی نہا نہیں رہے، کبھی کیا حرکتیں کر رہے ہیں اور کبھی کیا، کیا اسے سکون کہتے ہیں، سکون واقعی ملتا ہے لیکن موحدوں کو، صحابہ کرام کی زندگیاں پڑھ کر دیکھو ان کو اللہ کے ذکر سے کیسے سکون ملتا تھا، آج بھی ہمیں اللہ کے ذکر سے سکون ملتا ہے، کیونکہ ہم مسنون طریقے سے ذکر کرتے ہیں، آپ کی طرح بدعتی طریقے سے نہیں۔
     
    • پسند پسند x 1
    • متفق متفق x 1
    • لسٹ
  3. ‏فروری 08، 2014 #243
    محمد فیض الابرار

    محمد فیض الابرار سینئر رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏جنوری 25، 2012
    پیغامات:
    3,033
    موصول شکریہ جات:
    1,194
    تمغے کے پوائنٹ:
    402

    ابو ریحان الیرونی نے کتاب الہند میں لکھا ہے کہ تصوف اصل "س" سے تھا یعنی سوف جس کا معنی یونانی زبان میں حکمت کے ہیں پھر استعمال کے بعد یہ "ص" سے صوف بنا۔صوفی بمعنی حکیم و دانا- الغزالی 260۔
    نوالڈ کے نے اس اشتقاق کو رد کیا ہے کہ یونانی زبان میں ایسا کوئی لفظ نہیں جس سوفوس اور صوفی کی درمیانی صورت کہا جاسکے۔"اردہ معارف اسلامیہ جلد 7 صفہ418 "۔
    اسامی محققین صوفیاء نے تصوف کو صوف سے مشتق مانا ہے۔ "اسلامی اخلاق اور تصوف ص 169 "۔ "اگر یہ اسلامی جیز ہوتی تو قرآن یا حدیث، صحابہ، تابعین سے اسکی واضح تعریف منقول ہوتی۔ بقول علامہ اقبال: اس میں ذرا شک نہیں کہ تصوف کا وجود ہی سرزمین اسلام میں ایک اجنبی پودا ہے جس نے عجمیوں کی دماغی آب و ہوا میں پرورش پائی ہے۔ "سید سلمان ندوی کے نام خط1917ء"
    بعض اہل قلم نے تصوف کے بارے میں کچھ اسطرح اظہارخیال کیا ہے:
    حقیقی تصوف یہودیت سے شروع ہوا ہے جب ان کے مذہبی پیشواوں نے اسکندریہ میں یونانی فلسفہ کا مطالعہ کیا اور وہاں اس فلسفہ اور اپنے معتقدات کے امتزاج سے ایک نیا مذہب ایجاد کیا۔ فیلو اس مذہب کا امام ہے جبکہ تصوف کا ابولاباء دراصل افلاطون کو کہا جاسکتا ہے۔ جس نے سب سے پہلے یہ تصور پیش کیا تھا کہ اس عالم محسوس کے اوپر ایک اور عالم مثال ہے وہ عالم حقیقی ہے اور یہ عالم صرف اسکا پرتو ہے۔ افلاطون کے اس فلسفہ کی نشاۃ ثانیہ بعد کے فلاسفروں کے ہاتھوں ہوئی جن کا امام فلاطینس تھا ان میں سے ایک فلاسفر نے ہندوستان کا سفر کیا اور وہاں کے برہمنوں سے ہندی تصوف سیکھا۔ فلاطینس رومی لشکر کے ساتھ ایران گیا وہاں کے مغوں سے مجوسی تصوف کی تعلیم حاصل کی اسکے تعد ان فلاسفروں نے فلاطینس کی زیر سرکردگی افلاطون کے فلسفہ قدیم کو ان ہندی اور ایرانی تصورات کے ساتھ ملا کر ایک جدید قالب میں ڈھالا۔ اسکا نام نوفلاطونی فلسفہ ہے اس فلسفہ کا مرکز اسکندریہ تھا جہاں فیلو کا یہودی تصوف اس سے متاثر ہوا۔ اسکا سب سے پہلا تاثر یہ پیدا ہوا کہ تورات کی شریعت معرفت اور حقیقت میں بدل گئی۔
    یہودیوں کی ایک اہم کتاب زہار میں لکھا ہے:تورات کی روح درحقیقت اس کے باطنی معنوں میں پوشیدہ ہے۔ انسان ہر مقام پر خدا کا جلوہ دیکھ سکتا ہے بشرطیکہ وہ تورات کے ان باطنی معانی کا راز پا جائے۔
     
  4. ‏فروری 08، 2014 #244
    عبقری ریڈر

    عبقری ریڈر رکن
    شمولیت:
    ‏ستمبر 08، 2013
    پیغامات:
    180
    موصول شکریہ جات:
    163
    تمغے کے پوائنٹ:
    41


    جیسا آپ بتا رہے ہیں ایسا منشور ہمارا نہیں ہے ۔
     
  5. ‏فروری 08، 2014 #245
    محمد فیض الابرار

    محمد فیض الابرار سینئر رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏جنوری 25، 2012
    پیغامات:
    3,033
    موصول شکریہ جات:
    1,194
    تمغے کے پوائنٹ:
    402

    شریعت اور تصوف کا فرق
    1- تصوف میں شریعت نہیں "جس کو اللہ تعالی نے شرع لکم من الدین ما وصی بہ۔۔۔۔۔کہا ہے" بلکہ طریقت ہے۔ شریعت اور طریقت کیا جیز ہے؟ کہتے ہیں دراصل اس کائنات میں ہر ایک چیز کی مانند بندگی کے بھی دو رخ ہیں، ایک ظاہر دوسرا باطن۔ ظاہر میں بندگی نماز، روزہ، حج، زکوۃ کی ادائیگی سے پوری ہوجاتی ہے مگر باطن میں بندگی کا تعلق ان ارکان کی حقیقت سے ہے اس میں ایمان، محبت، خلو، خوف خدا، رضائے الہی، توکل، اور امیر غیب و شہود کی تعلیم و تربیت اور اس پر عمل سے واسطہ پڑتا ہے۔ "اسلامی اخلاق اور تصوف صفحہ 184 "۔
    اب قرآن و حدیث میں اول الذکر کا حکم ہے ثانی الذکر متوازی دین ہے یا نیہں ؟ یہ ظاہر شریعت کی تنسیخ یا تردید نہیں ہے؟
    2- تصوف کا علم اس طریقہ سے اخذ نہیں کیا جاتا جس طریقہ سے اسلامی شریعت کا علم حاصل ہوتا ہے۔ اسلام کی تعلیمات قرآن و حدیث میں موجود ہیں اور ان کے حصول کیلئے اللہ تعالی نے فرمایا ہے کہ "فاسئلوا اھل الذکر ان کنتم لا تعلمون، النحل:43 ترجمہ "پس تم پوچھ لیا کرو علم والے لوگوں سے اگر تم "کوئی مسئلہ یا بات" نہیں جانتے"۔
    اور یہ بھی ارشاد ہے کہ تم میں سے ایک جماعت ایسی ہو جو دین کا علم حاصل کرے اور پھر واپس آکر اپنی قوم کوخبردار کرے۔ التوبہ: 122۔
    جبکہ تصوف کا طریقہ حصول اس طرح ہے۔
    تصوف ایک مخصوص وسیع اور مشکل ترین علم ہے اسکی بنیاد تمام تر احساس و مشاہدہ پر ہے اور احساس و مشاہدہ کا تعلق عمل اور تجربہ سے ہے۔۔۔۔ چنانچہ یہ علم، علم سفینہ نہیں علم سینہ کی تعریف میں آتا ہے یعنی بات سینہ بہ سینہ چلتی ہے اور انتہائی رازداری اور پوری احتیاط کے ساتھ حقائق پیر کے قلب سے مرید کے قلب کی جانب منتقل ہوتے ہیں۔ چنانچہ اس میں استاد کامل یعنی پیر طریقت کی رہنمائی اور اسکی کامل اتباع نہایت ضروری ہے اور اسکے لئے برسوں کی کٹھن، صبر آزما مسلسل ریاضت، لگن اور یکسوئی درکارہے۔ "ایضا"۔
    اس عبارت سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ تمام اصطلاحات فارسی ہیں خصوصا پیر، اسی طرح پیر کی اتباع ضروری ہے "جبکہ اسلام میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع لازمی قرار دی گئی ہے"۔ اسکا علم پیرکے قلب سے مرید کے قلب پر منتقل ہوتا ہے.
    جبکہ دین اسلام صحابہ کرام رضی اللہ عنھم، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے باقاعدہ پڑھتے تھے اور آپ پڑھاتے، لکھواتے تھے۔ قرآن، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لکھوایا جبکہ تصوف علم سینہ ہے۔ قرآن کو اللہ نے آسان کیا ہے جبکہ تصوف کو مشکل بنادیا گیا ہے بقول اقبال "یہ ایرانیوں کی کوشش ہے، اسکا ثبوت مندرجہ ذیل اصطلاحات تصوف سے بخوبی ہوسکتا ہے۔
     
    • پسند پسند x 1
    • معلوماتی معلوماتی x 1
    • لسٹ
  6. ‏فروری 08، 2014 #246
    محمد فیض الابرار

    محمد فیض الابرار سینئر رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏جنوری 25، 2012
    پیغامات:
    3,033
    موصول شکریہ جات:
    1,194
    تمغے کے پوائنٹ:
    402

    یہ فورم پر ایک بھائی ہیں ان کا نام ہے ساجد تاج یہ ان کی تحریر سے دو اقتباسات لیے ہیں مجھے وہ طریقہ نہیں آتا جس طرح آپ بھائی کسی تحریر سے اقتباس لیتے ہیں تو متا چل جاتا ہے اسی لیے مجھے الگ سے یہ لکھنا پڑ رہا ہے
     
    • شکریہ شکریہ x 1
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
  7. ‏فروری 08، 2014 #247
    محمد فیض الابرار

    محمد فیض الابرار سینئر رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏جنوری 25، 2012
    پیغامات:
    3,033
    موصول شکریہ جات:
    1,194
    تمغے کے پوائنٹ:
    402

    فصوص الحکم کو بعض لوگ قرآن کی طرح سبقا سبقا پڑھتے تھے۔ جیسے عفیف الدین تلسمانی، یہی تلسمانی کہتا ہے قرآن میں توحید کہاں، وہ تو پورے کا پورا شرک سے بھرا ہوا ہے جو شخص اسکی اتباع کرے گا وہ کبھی توحید کے بلند مرتبے پر نہیں پہنچ سکتا-"امام ابن تیمیہ از کوکن عمری ص321" اعاذنا اللہ من ھذہ الھفوات-
    تلسمانی کی توحید کیا ہے یعنی وحدۃ الوجود، اس کی مثال ملاحظہ فرمائیں۔ تلسمانی کے شاگرد شیخ کمال الدین نے ایک مرتبہ اعتراض کیا کہ اگر عالم کی تمام چیزیں ایک ہیں جیسا کہ تمہارا عقیدہ ہے تو پھر تمہارے نزدیک جورو، بیٹی، اور ایک اجنبی عورت میں کیا فرق ہے؟ تلسمانی نے جواب دیا ھمارے ھاں کوئی فرق نہیں چونکہ محجوبوں "اہل شریعت " نے انکو حرام قرار دیا ہے تو ہم بھی کہہ دیتے ہیں کہ یہ چیزیں تم پر حرام ہیں ورنہ ہم پر کوئی چیز حرام نہیں۔" امام ابن تیمیہ از کوکن عمری ص321"۔
    یہ ہے وحدت الوجود جس میں ماں، بیٹی اور اجنبی عورت سب جائز ہیں۔ اس عقیدہ کے بارہ میں دیوبند کے مشہور صوفی عالم امداد اللہ مہاجر مکی کہتے ہیں۔ نکتہ شناسا مسئلہ وحدالوجود حق و صحیح ہے اس مسئلہ میں کوئی شک و شبہ نہیں ہے۔ فقیر و مشائخ فقیر اور جن لوگوں نے فقیر سے بیعت کی ہے سب کا اعتقاد یہی ہے۔"شمائم امدادیہ ص32"
     
  8. ‏فروری 08، 2014 #248
    محمد فیض الابرار

    محمد فیض الابرار سینئر رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏جنوری 25، 2012
    پیغامات:
    3,033
    موصول شکریہ جات:
    1,194
    تمغے کے پوائنٹ:
    402

    عبقری صاحب اللہ آپ کو جزائے خیر دے آپ نے اس بدعت سے برات کا اظہار کیا لیکن عملا اہل تصوف کا ذکر ایسا ہی ہوتا ہے جیسا کہ ارسلان بھائی نے لکھا ہے اور بعض مساجد میں تو نماز کے بعد اللہ ہو اللہ ہو اللہ ہو سب بلند آواز سے یک زبان ہو کر یہ ذکر کرتے ہیں اور قطع نظر اس امر کے یہ انداز مسنون ہے یا غیر مسنون کیا یہ سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صریح مخالفت نہیں ہے کہ آپ نے نماز کے بعد باقاعدہ اذکار کا بیان کیا کہ کس طرح کیے جائیں اب اذکار مسنونہ کو چھوڑ کر خود ساختہ بدعتی اذکار کا اختیار کرنا کیا سنت کی توہین نہیں ہے
     
    • پسند پسند x 1
    • متفق متفق x 1
    • لسٹ
  9. ‏فروری 08، 2014 #249
    محمد فیض الابرار

    محمد فیض الابرار سینئر رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏جنوری 25، 2012
    پیغامات:
    3,033
    موصول شکریہ جات:
    1,194
    تمغے کے پوائنٹ:
    402

    پھر ابن عقیل رحمہ اللہ ان کے زندقہ اور کفر کا حال بیان کرتے ہوئے بتاتے ہیں کہ کس طرح انہوں نے اپنے خیال میں شریعت اور حقیقت کے درمیان تفریق کی۔ اور نشہ آور حشیش (گانجا اور بھنگ وغیرہ) کو حلال ٹھہرایا۔ بلکہ یہی وہ گروہ ہے جس نے پہلے پہل اس (گانجے) کا انکشاف کیا۔ اور مسلمانوں کے درمیان اس کو رواج دیا۔ اسی طرح انہوں نے گانے اور مرد و عورت کے درمیان اس کو رواج دیا۔ اسی طرح انہوں گانے اور مرد و عورت کے اختلاط کو حلا ل ٹھہرایا۔ اور یہ کہہ کر کفر و زندقہ کے اظہار کو بھی حلال ٹھہرایا کہ یہ احوال شطحیات ہیں۔ اور ضروری ہے کہ ان پر نکیر نہ کی جائے۔ کیونکہ یہ مجذوب لوگ ہیں۔ یا (ان کے خیال میں) بارگاہ پروردگار کے مشاہدہ میں مشغول لوگ ہیں۔
    ابن عقیل کہتے ہیں کہ سب سے پہلے تو انہوں نے نام گھڑ ے۔ اور حقیقت و شریعت کا بکھیڑا کھڑا کیا۔ حالانکہ یہ بری بات ہے۔ کیوں کہ شریعت کو حق تعالیٰ نے مخلوق کی ضروریات کے لئے وضع کیا ہے تو اب اس کے بعد حقیقت نفس کے اندر شیطان کے القاء کیے ہوئے وسوسوں کے سوا اور کیا چیز ہوسکتی ہے۔ جو شخص بھی شریعت سے الگ ہوکر کسی حقیقت کا متلاشی ہو وہ بیوقوف اور فریب خوردہ ہے۔
     
  10. ‏فروری 08، 2014 #250
    محمد علی جواد

    محمد علی جواد سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏جولائی 18، 2012
    پیغامات:
    1,986
    موصول شکریہ جات:
    1,495
    تمغے کے پوائنٹ:
    304

    محترم عامر رضا صاحب -

    اگر آپ کو ٹائم ملے تو لنک میں دی گئی کتاب "آسمانی جنّت اور درباری جہنم: مصنف امیر حمزہ" کا مطالعہ ضرور کیجئے گا -خاص کر اس کتاب کے فصل ششم کا مطالعہ امید ہے کہ آپ پر صوفیت کے حقیقت کو واضح کرنے میں کافی مفید ثابت ہو گا- عنوان ہے "کیا برصغیر میں اسلام صوفیاء کے ذریے پھیلا ؟؟؟ " اور اہل حدیث مسلک سے متعلق آپ کی غلط فہمیوں کو دور کرنے میں معاون ثابت ہو گا -

    http://www.scribd.com/doc/67996662/Aasmani-Jannat-Aur-Darbari-Jahannum

    آپ کے کمنٹس کا انتظار رہے گا -

    والسلام
     
    • شکریہ شکریہ x 1
    • پسند پسند x 1
    • زبردست زبردست x 1
    • لسٹ
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں