1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

علمائےاہل حدیث کا ذوق تصوف

'عملی تصوف' میں موضوعات آغاز کردہ از عبقری ریڈر, ‏جنوری 14، 2014۔

  1. ‏فروری 08، 2014 #251
    عامر رضا

    عامر رضا رکن
    شمولیت:
    ‏ستمبر 25، 2013
    پیغامات:
    138
    موصول شکریہ جات:
    34
    تمغے کے پوائنٹ:
    32

    اصطلاح تصوف کا جواب میں اوپر دے چکا ہوں ، وہی موقف ہے میرا ہے کہ اصطلاح ضرورت کے تحت پیدا ہوئی ہیں تفصیل میں پہلے لکھ چکا ہوں ،مزید وضاحت میں اوپر والے تھریڈ میں کر چکا ہوں ، صوفیاء پر ابن تیمیہ کی رائے بھی پیش کی ہے ، آپ علمی گفتگو کرنے کے بجائے سلف و حلف کو کافر ،مشرک اور بدعتی کہنے پر زور دے رہے ،ابھی تو میں جب ابن حجر ؒ کی سند میں صوفیاء کا ذکر پیش کرونگا تو پھر آپ سے پوچھو گا کہ فتوی تو کفر کا،پھر دیکھتا ہوں آپکا کیا جواب ہوگا ۔چلو اپنے آپ کو آپ اہل حدیث بتاتے ہو ہنددوستان میں تاریخ اہل حدیث پیش کرو ،سترھویں اور آٹھارویں صدی کے مسلک اہلحدیث کے لوگ بتا دو یہ تو بالکل قریب کی تاریخ ہے؟؟
     
  2. ‏فروری 08، 2014 #252
    محمد فیض الابرار

    محمد فیض الابرار سینئر رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏جنوری 25، 2012
    پیغامات:
    3,033
    موصول شکریہ جات:
    1,194
    تمغے کے پوائنٹ:
    402

    میرے بھائی ا
    اصطلاح تصوف کے بارے میں کہاں آپ نے جواب دیا ہے ذرا ایک مرتبہ پھر لکھ دیں اور تصوف کی اصطلاح کے بارے میں جو کچھ میں نے لکھا ہے اس کا بھی جواب دیں صرف اپنی بات لکھ دینا اور یہ سوچ لینا کہ میں نے لکھ دیا ہے تو بس یہی صحیح ہے تو یہ قطعا غیر معقول ہے آپ میری باتوں کا جواب دیں دعوی نہ کریں
    اب اپ نے دو باتیں بیان کرنی ہیں
    1۔ اصطلاح تصوف کے بارے میں آپ نے جو کچھ لکھا وہ برائے مہربانی دوبارہ لکھیں تاکہ میں اس دیکھوں اگر آپ کے دلائل مضبوط ہوئے تو میں آپ کی بات مان لوں گا ورنہ اس پر تنقیدی جائزہ میرا حق ہے
    2۔ تصوف کی جو تعریف میں نے بیان کی ہے اس کا رد بھی مدلل انداز میں کریں
    یعنی اپنی بات مدلل کریں اور رد بھی مدلل ہونا چاہیے پھر اس کے بعد دیگر امور پر بات ہو گی رہی بات ابن حجر کی سند تو وہ آپ اپنا وقت ضائع کریں گے کہ میں اس کا جواب ابھی نہیں دوں گا سب سے پہلے اوپر جن دو باتوں کا ذکر میں نے کیا ہے اس کا جواب ۔باقی سب باتیں بعد میں
    اہل حدیث کی تاریخ بھی بیان کروں گا اور آپ کے تمام اعتراضات کا جواب دوں گا میں موجود ہوں بھاگوں گا نہیں لیکن طریقے سے ایک ایک کر کے کیوں کہ یہ تو ممکن ہی نہیں کہ لفظ تصوف پر ہم کسی نتیجے تک پہنچیں ہی نا اور اگلی باتیں شروع کر دیں
     
  3. ‏فروری 08، 2014 #253
    عامر رضا

    عامر رضا رکن
    شمولیت:
    ‏ستمبر 25، 2013
    پیغامات:
    138
    موصول شکریہ جات:
    34
    تمغے کے پوائنٹ:
    32

    آپ سے کیا گفتگو کی جائے یہ تو آپ کی حالت کہ ادھر ادھر سے کاپی پیسٹ کر لیا،اگر بات کرمی دو ٹوک بات کرو اور ایک موضوع کو لیکر چلو ،منکرین تصوف ہونا ہی اتنی بد نصیبی ہے کہ ان پر علم کے دروازے بند ہو جاتے ہیں ۔
     
    • پسند پسند x 1
    • ناپسند ناپسند x 1
    • لسٹ
  4. ‏فروری 08، 2014 #254
    عامر رضا

    عامر رضا رکن
    شمولیت:
    ‏ستمبر 25، 2013
    پیغامات:
    138
    موصول شکریہ جات:
    34
    تمغے کے پوائنٹ:
    32

    جی یہ کتاب پڑھی ہوئی ہے بات یہ کہ آپ نقل کو دیکھ کر اصل کا انکار نہ کریں آپ مشہور اہلھدیث عالم وصوفی مولانا میر سیالکوٹی ؒ کی سراجا منیر ا کا مطالعہ فرمائیں نیٹ پر ہے۔
     
  5. ‏فروری 08، 2014 #255
    عامر رضا

    عامر رضا رکن
    شمولیت:
    ‏ستمبر 25، 2013
    پیغامات:
    138
    موصول شکریہ جات:
    34
    تمغے کے پوائنٹ:
    32

    کتاب الایمان، مذاہب، ج1ص44پر ہے۔ہمارے اہل حدیث عالم و صوفی سید عبد اللہ محدث روپڑی رحمہ اللہ علیہ ست طریقت اور شریقت کے متعلق پوچھا گیا تو کیا خوب آپ نے جواب دیا،سبحان اللہ ہمارے علماء ایلحدیث تصوف وسلوک کسی سے کم نہیں ہیں چند اقتباس پیش کرتا ہوں،فرماتے ہیں:۔
    رسول اللہﷺ کے زمانہ میں اور اس کے بعد خیر قرون میں شریعت ، طریقت ، حقیقت ، معرفت وغیرہ کوئی خاص اصطلاح نہ تھیں۔ صرف شریعت کا لفظ دین کے معنی میں استعمال ہوتا تھا باقی الفاظ قریباً اپنے لغوی معنی پر تھے۔ اس کے بعد جیسے فقہ والوں نے احکام کے درجات بتلانے کی غرض سے فرض واجب وغیرہ اصطلاحات مقرر کی ہیں۔ اسی طرح صوفیائے کرام نے تہذیب اخلاق یعنی علم تصوف میں سلوک عبد کے درجات کو ظاہر کرنے کی غرض سے یہ الفاظ مقرر کیے۔ مثلاًشریعت عقائد اور ظاہری احکام کا نام رکھا جیسے نماز۔۔۔ روزہ وغیرہ۔ طریقت ان پر عمل کرنے میں ریاضت اور مجاہدۂ نفس کرنا اور اپنے اندر اخلاص اور للٰہیت پیدا کرنا۔ حقیقت ان کے اسرارپر مطلع ہوکر اپنا عمل اس کے مطابق کرنا جیسے شاہ ولی اللہ صاحب نے حجۃ اللہ البالغۃ میں ان احکام کے اسرار لکھے یا نفس اور دل کے امراض پر مطلع ہو کر ہر ایک مرض کا مناسب علاج کرنا اور باطنی صحت قائم رکھنے کے اسباب پیدا کرنا۔ معرفت کشف اور مراقبہ کی حالت ہے۔ جو یقین اور اطمینان قلبی کا اعلیٰ مقام ہے۔ اس وقت اللہ کے سوا کسی شے کی طرف نظر نہیں رہتی اور ذکر الہی میں وہ حلاوت اورلذت پاتا ہے کہ کوئی لذت اس کا مقابلہ نہیں کرسکتی بلکہ ذکر الہی ایک طرح سے اس کی غذا ہوجاتا ہے جس کے بغیر اس کی زندگی مشکل ہے۔
    مثال ان چاروں مراتب کی مثال درخت کی سی ہے۔ مثلاً درخت کے لئے جڑیں اور تنا ہے ان کے بغیر درخت کا وجود ہی نہیں۔ پھر ٹہنے اورشاخیں ہیں یہ بھی درخت کےلئے لازمی ہیں۔ پھر پھل ہے پھر اس کی لذت ہے۔ ٹھیک اسی طرح تصوف ہے۔ شریعت کے بغیر تو تصوف کوئی چیز ہی نہیں۔ نہ وہاں طریقت ہے نہ حقیقت نہ معرفت کیونکہ شریعت بمنزلہ جڑ اور تنے کے ہے۔ اس کے بعد طریقت کا مرتبہ ہے جو بمنزلہ ٹہنوں اورشاخوں کے ہے۔ اس کے بغیر بھی تصوف کالعدم ہے۔ پھر حقیقت پھل کے قائم مقام ہے اورمعرفت اس کی لذت کے قائم مقام ہے۔ جیسے درخت پھل اور اس کی لذت کے بغیر کامل نہیں اس طرح بندہ بھی خدا کے نزدیک کمال کو نہیں پہنچتا جب تک اس کے اندر حقیقت اور معرفت پیدا نہ ہو جائے۔
    اور خلاصہ میں فرماتے ہیں:۔
    خلاصہ خلاصہ یہ کہ شریعت ، طریقت ، حقیقت ، معرفت خواہ الگ الگ شاخیں ہوں یا ایک ہوں اور الگ ہونے کی حالت میں چارہوں یا کم ہوں۔ کسی صورت میں ایک دوسرے سے جدا نہیں ہو سکتے۔ جو ایک دوسرے سے جدا ہونے کے قائل ہیں وہ ان کی حقیقت سے ناواقف ہیں۔ اللہ ان کو سمجھ دے اور راہ راست کی توفیق بخشے۔ آمین ۔بحوالہ فتوی اہل حدیث۔
    بھائی یہ ہما رے نزدیک تصوف ہے ،آپ اس پر جو آپکو اعتراض وہ پیش کریں، اس میں دوسری بات یہ کہ یہ ایک اہلحدیث کا فتوی ہے ،نمبر2 ان کے تعلق تصوف کا ثبوت ہے ،
    اب آپ ان کے صوفی ہونے کی وجہ سے کفر ،بدعتی ،جائل ہونے کا فتو ی پیش کریں۔
    (گفتگو اسی دائرے میں رہ کرنی ہے کاپی پیسٹ کے بجائے دو ٹوک جواب دینا ہے)
    حافظ ابن حجرؒ کا نام میں نے اس لئے لیا کہ وہ محدث بھی تھے ،جب انکی سند میں صوفیاء کا نام آئے گا تو آپکے نزدیک وہ کافر بدعتی مشرک ہوئے تو پھر میں آپ سے پو چھوں گا کہ تواتر توارث سے سند حدیث ثابت کرو ،تو پھر میں دیکھو ں گا کہ کافر مشرک کون ہوتے ہیں یہ کسی سے پوچھ لینا کہ جب کوئی کافر نہ ہو تو اسے کافر کہا جائے تو ایسے بد نصیب فتوی گو کے بارے میں اللہ رسول کا کیا حکم ہے۔
     
  6. ‏فروری 08، 2014 #256
    محمد علی جواد

    محمد علی جواد سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏جولائی 18، 2012
    پیغامات:
    1,986
    موصول شکریہ جات:
    1,495
    تمغے کے پوائنٹ:
    304

    چلیں پڑھ لیں گے -

    صوفیت کی حقیقت کو جاننے کے لئے یہ کتاب بھی مفید ہے - "مطالعہ تصوف : مصنف غلام قادر لون " اگر نہیں پڑھی تو ضرور پڑھیں -لنک نہیں ہے اس کتاب کا لیکن میرے پاس موجود ہے -
     
  7. ‏فروری 08، 2014 #257
    محمد ارسلان

    محمد ارسلان خاص رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 09، 2011
    پیغامات:
    17,865
    موصول شکریہ جات:
    40,798
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,155

    تو پھر آپ کا منشور کیا ہے؟
    آپ اپنا منشور مختصرا بیان کرنا چاہیں گے؟
     
  8. ‏فروری 08، 2014 #258
    محمد ارسلان

    محمد ارسلان خاص رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 09، 2011
    پیغامات:
    17,865
    موصول شکریہ جات:
    40,798
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,155

    بھائی! آپ اقتباس کرنے کا طریقہ یہاں سے سیکھیں۔
    اقتباس
     
  9. ‏فروری 08، 2014 #259
    محمد ارسلان

    محمد ارسلان خاص رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 09، 2011
    پیغامات:
    17,865
    موصول شکریہ جات:
    40,798
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,155

    ابتسامہ
    یہ ہے صوفی اور بات دو ٹوک کرنا چاہتا ہے۔۔۔ ابتسامہ
     
  10. ‏فروری 08، 2014 #260
    محمد ارسلان

    محمد ارسلان خاص رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 09، 2011
    پیغامات:
    17,865
    موصول شکریہ جات:
    40,798
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,155

    واہ جی واہ! قارئین حضرات ذرا اس شخص کی "پہاڑ" دلیل دیکھیں جو دے کر اس نے "میدان مار لیا" ہے۔
    اگر یہ شخص تصوف کی دلیل دیتے ہوئے لکھتا:


    تو میں، محمد علی جواد بھائی اور محمد فیض الابرار بھائی قائل ہوئے بغیر نہیں رہ سکتے تھے۔ لیکن قرآن و حدیث سے دلیل دینا اس صوفی کے بس میں کہاں؟ یہ قرآن و حدیث پڑھتا تو کیا صوفی رہتا؟

    اس کا سارا زور اہلحدیثوں کو صوفی بنانے پر ہے، پتہ نہیں یہ نیا فتنہ کہاں سے اٹھا ہے، ویسے سوچنے کی بات ہے اگر یہ اتنی محنت، اتنا وقت قرآن و حدیث کو فہم صحابہ رضی اللہ عنھم اجمعین کے مطابق سمجھنے میں کرے تو کتنا فائدہ ہو

    اللہ ہمیں فضول کاموں سے بچا کر مثبت اور مسنون کام کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین
     
    • پسند پسند x 1
    • زبردست زبردست x 1
    • لسٹ
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں