1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

علمائےاہل حدیث کا ذوق تصوف

'عملی تصوف' میں موضوعات آغاز کردہ از عبقری ریڈر, ‏جنوری 14، 2014۔

  1. ‏فروری 08، 2014 #261
    aqeel

    aqeel مشہور رکن
    جگہ:
    راولپنڈی
    شمولیت:
    ‏فروری 06، 2013
    پیغامات:
    299
    موصول شکریہ جات:
    307
    تمغے کے پوائنٹ:
    119

    دیکھےارسلان صاحب آپ فقط بحث برائےبحث کر رہے،اب یہ حوالہ بھی فتویاہلحدیث سےہے،پھرجس فتنہ کو آپ نیا کہ رہے ہیں اگروہ فتنہ تو اہلحدیث تمام علماء فتنہ گرہوئے،شرم کامقام ہے ۔
     
  2. ‏فروری 09، 2014 #262
    محمد ارسلان

    محمد ارسلان خاص رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 09، 2011
    پیغامات:
    17,865
    موصول شکریہ جات:
    40,798
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,155

    السلام علیکم
     
  3. ‏فروری 09، 2014 #263
    عبقری ریڈر

    عبقری ریڈر رکن
    شمولیت:
    ‏ستمبر 08، 2013
    پیغامات:
    180
    موصول شکریہ جات:
    163
    تمغے کے پوائنٹ:
    41

    www.ubqari.org یہاں سب کچھ موجود ہے
     
  4. ‏فروری 09، 2014 #264
    محمد ارسلان

    محمد ارسلان خاص رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 09، 2011
    پیغامات:
    17,865
    موصول شکریہ جات:
    40,798
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,155

    مختصرا بیان کریں اتنا پڑھنے کا وقت نہیں ہے۔ مختصر کر کے عقائد و اعمال اور آپ جس چیز پر سب سے زیادہ توجہ مرکوز کرتے ہیں ان کو ٹو دی پوائنٹس بیان کر دیں۔
     
  5. ‏فروری 09، 2014 #265
    محمد فیض الابرار

    محمد فیض الابرار سینئر رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏جنوری 25، 2012
    پیغامات:
    3,033
    موصول شکریہ جات:
    1,194
    تمغے کے پوائنٹ:
    402

    عامر صاحب میں نے محدث فورم ویب سائٹ کے مختلف آپشن کے استعمال سے اپنی لاعلمی کا اظہار کیا ہے تو میرا خیال ہے کہ یہ عیب نہیں ہے مجھے ایک بات کا علم نہیں سو میں نے لکھ دیا میرے نزدیک یہ میرے دین کی تعلیمات سے ایک اصول ہے اور اس سے تو معلوم ہوتا ہے کہ آپ کے نزدیک علم ہونے کی سب سے بڑی دلیل انٹر نیٹ کا مکمل استعمال پر عبور حاصل ہونا ہے تو پھر ایسے علم پر ہماری جانب سے سات حرف!!!!!!!!!!!!!
    اور میں ایک ہی موضوع پر بات کر رہا ہوں کہ تصوف کی اصطلاح کو کتاب و سنت سے ثابت کرو وہ تو آپ سے ابھی تک ہو نہیں سکا میں بھی دیکھتا ہوں کہ آپ کب تک میرے اس سوال سے فرار حاصل کرتے رہو گے۔ اور الحمدللہ میں منکرین تصوف سے ہوں کہ میں اس یونانی فلسفہ حیات کو صراحت کے ساتھ گمراہی اور کفر سمجھتا ہوں اور اس پر مجھے اطمئنان قلب بھی حاصل ہے اسی لیے میں یہ کہہ رہا ہوں کہ آپ پہلے لفظ تصوف کو ثابت کرو وہ تو آپ سے ہو نہیں سکا اور قیامت تک ثابت نہیں کر سکو گے اور آپ کے پاس میرے صرف ایک اس سوال کا ایک ہی جواب ہے کہ پہلے آپ ادھر ادھر کی باتیں کرتے تھے اور اب میری ذات پر طعن اور استھزا شروع کر دیا ہے اس سے مجھے اندازہ ہو رہا ہے کہ آپ لاجواب ہو چکے ہو ۔
    کیونکہ جس آدمی کو جواب معلوم ہو وہ اتنی دیر نہیں لگاتا اور لاجواب آدمی کی ایک علامت ہوتی ہے کہ وہ معیار سے اتری ہوئی گفتگو شروع کر دیتا ہے اور مخالف کی ذات پر حملے شروع کر دیتا ہے
     
    • پسند پسند x 1
    • زبردست زبردست x 1
    • لسٹ
  6. ‏فروری 09، 2014 #266
    محمد فیض الابرار

    محمد فیض الابرار سینئر رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏جنوری 25، 2012
    پیغامات:
    3,033
    موصول شکریہ جات:
    1,194
    تمغے کے پوائنٹ:
    402

    عامر صاحب آپ کبھی آپ فلاں اہل حدیث کی بات نقل کرتے ہو کبھی کسی اور کی میرا سوال یہ ہے کہ آپ لفظ تصوف کو کتاب وسنت سے ثابت کرو اس اصطلاح کی اصل کیا ہے میں نے یہ نہیں پوچھا تھا کہ اہل حدیث علما کا اس بارے میں موقف کیا ہے۔
    آپ سے اہل حدیث علما کا تصوف کے بارے میں موقف نہیں پوچھا گیا بلکہ اصطلاح تصوف کے بارے میں پوچھا گیا ہے جس کو ثابت کرنا آپ کے لیے ناممکن ہو رہا ہے۔ یہ تو وہ بات ہو گئی ہے کہ سوال گندم اور جواب چنا!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!
     
  7. ‏فروری 09، 2014 #267
    محمد فیض الابرار

    محمد فیض الابرار سینئر رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏جنوری 25، 2012
    پیغامات:
    3,033
    موصول شکریہ جات:
    1,194
    تمغے کے پوائنٹ:
    402

    جب آپ اصطلاح تصوف کو ثابت کر دوگے تو پھر اہل حدیث علما کا اس کے بارے میں جو بھی موقف ہو گا اس پر تفصیل سے بات کریں گے
     
    • متفق متفق x 2
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
  8. ‏فروری 10، 2014 #268
    عامر رضا

    عامر رضا رکن
    شمولیت:
    ‏ستمبر 25، 2013
    پیغامات:
    138
    موصول شکریہ جات:
    34
    تمغے کے پوائنٹ:
    32

    جی میں جواب لکھ چکا ہوں ۔
    رسول اللہﷺ کے زمانہ میں اور اس کے بعد خیر قرون میں شریعت ، طریقت ، حقیقت ، معرفت وغیرہ کوئی خاص اصطلاح نہ تھیں۔ صرف شریعت کا لفظ دین کے معنی میں استعمال ہوتا تھا باقی الفاظ قریباً اپنے لغوی معنی پر تھے۔ اس کے بعد جیسے فقہ والوں نے احکام کے درجات بتلانے کی غرض سے فرض واجب وغیرہ اصطلاحات مقرر کی ہیں۔ اسی طرح صوفیائے کرام نے تہذیب اخلاق یعنی علم تصوف میں سلوک عبد کے درجات کو ظاہر کرنے کی غرض سے یہ الفاظ مقرر کیے۔ مثلاًشریعت عقائد اور ظاہری احکام کا نام رکھا جیسے نماز۔۔۔ روزہ وغیرہ۔ طریقت ان پر عمل کرنے میں ریاضت اور مجاہدۂ نفس کرنا اور اپنے اندر اخلاص اور للٰہیت پیدا کرنا۔ حقیقت ان کے اسرارپر مطلع ہوکر اپنا عمل اس کے مطابق کرنا جیسے شاہ ولی اللہ صاحب نے حجۃ اللہ البالغۃ میں ان احکام کے اسرار لکھے یا نفس اور دل کے امراض پر مطلع ہو کر ہر ایک مرض کا مناسب علاج کرنا اور باطنی صحت قائم رکھنے کے اسباب پیدا کرنا۔ معرفت کشف اور مراقبہ کی حالت ہے۔ جو یقین اور اطمینان قلبی کا اعلیٰ مقام ہے۔ اس وقت اللہ کے سوا کسی شے کی طرف نظر نہیں رہتی اور ذکر الہی میں وہ حلاوت اورلذت پاتا ہے کہ کوئی لذت اس کا مقابلہ نہیں کرسکتی بلکہ ذکر الہی ایک طرح سے اس کی غذا ہوجاتا ہے جس کے بغیر اس کی زندگی مشکل ہے۔
    مثال ان چاروں مراتب کی مثال درخت کی سی ہے۔ مثلاً درخت کے لئے جڑیں اور تنا ہے ان کے بغیر درخت کا وجود ہی نہیں۔ پھر ٹہنے اورشاخیں ہیں یہ بھی درخت کےلئے لازمی ہیں۔ پھر پھل ہے پھر اس کی لذت ہے۔ ٹھیک اسی طرح تصوف ہے۔ شریعت کے بغیر تو تصوف کوئی چیز ہی نہیں۔ نہ وہاں طریقت ہے نہ حقیقت نہ معرفت کیونکہ شریعت بمنزلہ جڑ اور تنے کے ہے۔ اس کے بعد طریقت کا مرتبہ ہے جو بمنزلہ ٹہنوں اورشاخوں کے ہے۔ اس کے بغیر بھی تصوف کالعدم ہے۔ پھر حقیقت پھل کے قائم مقام ہے اورمعرفت اس کی لذت کے قائم مقام ہے۔ جیسے درخت پھل اور اس کی لذت کے بغیر کامل نہیں اس طرح بندہ بھی خدا کے نزدیک کمال کو نہیں پہنچتا جب تک اس کے اندر حقیقت اور معرفت پیدا نہ ہو جائے۔
    اور خلاصہ میں فرماتے ہیں:۔
    خلاصہ خلاصہ یہ کہ شریعت ، طریقت ، حقیقت ، معرفت خواہ الگ الگ شاخیں ہوں یا ایک ہوں اور الگ ہونے کی حالت میں چارہوں یا کم ہوں۔ کسی صورت میں ایک دوسرے سے جدا نہیں ہو سکتے۔ جو ایک دوسرے سے جدا ہونے کے قائل ہیں وہ ان کی حقیقت سے ناواقف ہیں۔ اللہ ان کو سمجھ دے اور راہ راست کی توفیق بخشے۔ آمین ۔بحوالہ فتوی اہل حدیث۔
    رہا علماء اہلحدیث والا مسلئہ ہے تو عرض یہ کہ ایک جواب میں اپنے الفاظ میں لکھنا چاہتا ہوں اور وہی جواب مجھے علماء سے مل رہا ہے تو مجھے لکھنے کی ضرورت نہیں۔ ان کے الفاظ میرے لفظوں سے بہت بہتر ہیں۔وہ ورع و تقوی اور علم میں مجھ سے بہت اچھے تھے ہاں آپ کے نزدیک کافر ہوسکتے ،مگر جب تک آپ فتوی نہ لیکر آئے گے یہ کافر کہنا فضول ہے
     
  9. ‏فروری 10، 2014 #269
    عبقری ریڈر

    عبقری ریڈر رکن
    شمولیت:
    ‏ستمبر 08، 2013
    پیغامات:
    180
    موصول شکریہ جات:
    163
    تمغے کے پوائنٹ:
    41

    آمین
    ماشاء اللہ بھائی اتنی اچھی وضاحت کی ہے ۔جزاک اللہ خیر
     
  10. ‏فروری 10، 2014 #270
    محمد فیض الابرار

    محمد فیض الابرار سینئر رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏جنوری 25، 2012
    پیغامات:
    3,033
    موصول شکریہ جات:
    1,194
    تمغے کے پوائنٹ:
    402

    یہی کام میں کر رہا تھا تو آپ مجھ پر کاپی پیسٹ کا الزام لگا رہے تھے جب میں نے خود لکھنا شروع کر دیا تو آپ نے کاپی پیسٹ شروع کر دیا
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں