1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

علما متاخرین اور خدمات علوم احادیث

'علوم حدیث' میں موضوعات آغاز کردہ از aqeel, ‏مئی 08، 2013۔

  1. ‏مئی 08، 2013 #1
    aqeel

    aqeel مشہور رکن
    جگہ:
    راولپنڈی
    شمولیت:
    ‏فروری 06، 2013
    پیغامات:
    299
    موصول شکریہ جات:
    307
    تمغے کے پوائنٹ:
    119

    یہ اقتباس عبد الرشید عراقی صاحب کی ایک تحریر سے لیا گیا ہے
    بارہویں صدی ہجری میں حاملین بالقرآن والحدیث کی تعداد بکثرت نظر آتی ہے۔ جنھوں نے کتاب وسنت کی اشاعت وترویج میں گراں قدر خدمات انجام دیں اور ان کی یہ خدمات برصغیر(پاک وہند) کی اسلامی تاریخ میں سنگ میل کی حیثیت رکھتی ہے جن میں مولانا محمد فاخر الہ آبادی (م۱۱۶۴ھ) مولانا شاہ محمد اسحاق بہراوی (م۱۲۳۴ھ)مرزا مظہرجان جاناں شہید(م۱۱۹ھ) امام شاہ ولی اللہ دہلوی (م۱۱۷۶ھ) تھے۔
    شاہ ولی اللہ دہلوی (۱۱۷۶ھ) کے بعد ان کے مشن کو ان کے چاروں صاحب زدگان عالی مقام یعنی شاہ عبدالعزیز (م۱۲۳۹ھ) شاہ رفیع الدین دہلوی(م۱۲۲۲ھ) شاہ عبدالقادر دہلوی (م۱۲۳۰ھ) اورشاہ عبدالغنی دہلوی(۱۲۲۷ھ) نے جاری رکھا۔ اور ان کے بعد شاہ ولی اللہ دہلوی کے پوتے مولانا شاہ اسماعیل شہید دہلوی (ش۱۲۴۶ھ) کے تجدیدی کارناموں نے ایک انقلاب عظیم برپا کر دیا۔ آپ کی کتاب تقویۃ الایمان نے لاکھوں بندگان خدا کو کتاب وسنت کا متبع بنادیا۔ علامہ سید سلیمان ندوی (م۱۳۷۳ھ) لکھتے ہیں ۔
    اہل حدیث کے نام سے ملک میں جو تحریک اس وقت جاری ہے حقیقت کی رو سے وہ قدم نہیں صرف نقش قدم ہے۔ مولانا شاہ اسماعیل شہید جس تحریک کو لے کر اٹھے۔ وہ فقہ کے چند مسائل نہ تھی۔ بلکہ امامت کبری توحید خالص اور اتباع رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی بنیادی تعلیمات تھیں ۔
    بہرحال اس تحریک کے جواثرات پیدا ہوئے اوراس زمانے سے آج تک اس دور ادبار کی ساکن سطح میں اس سے جو جنبش ہوئی وہ بھی ہمارے لیے بجائے خود مفید اورلائق شکریہ ہے ۔بہت سی بدعتوں کا استیصال ہوا۔ توحید کی حقیقت نکھاری گئی۔ قرآن پاک کی تعلیم وتفہیم کاآغاز ہوا۔قرآن پاک سے ہمارا رشتہ براہ راست جوڑاگیا۔ حدیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم وتدریس اورتالیف واشاعت کی کوششیں کامیاب ہوئیں اوردعوی کیا جا سکتا ہے کہ ساری دنیا اسلام میں ہندوستان ہی کو صرف اس تحریک کی براہ راست یہ دولت نصیب ہوئی نیز فقہ کے بہت سے مسئلوں کے چھان بین ہوئی اوراس کے ساتھ دلوں سے اتباع نبوی کا جو گم ہو گیا تھا وہ سالہا سال کے لیے دوبارہ پیدا ہو گیا۔
    [تراجم علماء اہلحدیث ہندص۳۵]
    خاندان ولی اللہ دہلوی نے حدیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم واشاعت میں جو کارہائے نمایاں سرانجام دیے۔ وہ قابل ستائش ہیں ۔ حضرت شاہ عبدالعزیز دہلوی (م۱۲۳۹ھ) کے بعد ان کے جانشین ان کے نواسہ حضرت شاہ محمد اسحاق (م۱۲۶۳ھ) نے اپنے نانا کے مشن کو جاری رکھا جب مولانا شاہ محمد اسحاق نے اپنے برادر خورد مولانا شاہ محمد یعقوب (م۱۲۸۳ھ) کے ہمراہ مکہ معظمہ کی طرف ہجرت کی تواپنا جانشین شیخ الکل مولانا سید محمد نذیر حسین دہلوی (م۱۳۲۰ھ) کو مقرر کر گئے مولانا سید محمد نذیر حسین دہلوی نے ۶۲ سال تک حدیث کا درس دیا۔ اوران سے بے شمار حضرات مستفیض ہوئے جن میں بعد میں بعض مسند حدیث کے مالک بنے اورانھوں نے وہ علمی خدمات انجام دیں جن کا تذکرہ ان کا انشاء اللہ رہتی دینا تک باقی رہے گا۔
    علامہ سید سلمان ندوی (م۱۳۷۳ھ) تراجم علمائے حدیث ہند کے مقدمہ ص۳۶ پر لکھتے ہیں :
    ’’علماء اہلحدیث کی تدریسی وتصنیفی خدمات بھی قدر کے قابل ہیں ۔‘‘
    پچھلے عہد میں نواب صدیق حسن خان(م۱۳۱۷ھ) کے قلم سے اورمولانا سید نذیر حسین دہلوی (م۱۳۲۰ھ) کی تدریس سے بڑا فیض پہنچا۔ بھوپال ایک زمانہ تک علمائے حدیث کا مرکز رہا۔ قنوج، سہوان اوراعظم گڑھ کے بہت سے نامور اہل علم اس ادارہ میں کام کر رہے تھے۔ شیخ حسین بن محسن یمنی (م ۱۳۲۷ھ) ان سب کے سرخیل تھے۔ اوردہلی میں مولانا سید محمد نذیر حسین صاحب کی مسنددرس بچھی تھی۔ اورجوق درجوق طالبین حدیث مشرق ومغرب سے ان کی درسگاہ کا رخ کر رہے تھے۔
    بھوپال میں محی السنہ مولانا نواب صدیق حسن خان (م ۱۳۱۷ھ) کی زیر نگرانی علمی وتحقیقی کام ہو رہا تھا۔ خود نواب صاحب دولہ نے عربی، فارسی اوراردو میں تفسیر، حدیث،عقائد، فقہ ، تردید فلسفہ ،سیاست، تاریخ وسیر، مناقب، علوم وادب، اخلاق، تردید شیعیت اورتصوف پر چھوٹی بڑی ۲۲۲ کتابیں لکھیں ۔ بھوپال میں بہت سے علماء فضلاء جمع تھے جن میں شیخ حسین بن محسن یمنی (م۱۳۲۷ھ)،مولانا محمد بشیر سہسوانی(م۱۳۲۶ھ) مولانا سعادت اللہ جے پوری (م۱۳۲۲ھ) خاص طور پر قابل ذکر ہیں ۔
    اس کے علاوہ نواب صاحب مرحوم نے کئی علمائے کرام کے ماہانہ وظائف مقرر کر رکھے تھے۔ جن سے دفاع حدیث اور رد بدعات کے سلسلے میں کتابیں لکھوا کر شائع کی جاتیں تھیں ۔ ان میں خصوصیت کے ساتھ مولانا وحید الزمان حیدرآبادی (م۱۳۳۸ھ) مولانا محمد سعید بنارسی (م۱۳۲۲ھ) اورابوالمکارم محمد علی مئوی (م۱۳۵۲ھ) قابل ذکر ہیں ۔
    مولانا سید محمد نذیر حسین دہلوی کے تلامذہ نے پوری برصغیر میں پھیل کر خدمت اسلام کا ایک ایک میدان سنبھال لیا۔ اورپوری زندگی کتاب وسنت کی اشاعت اورشرک وبدعت کی تردید میں بسر کردی۔ حضرت میاں صاحب دہلوی کے تلامذہ نے اشاعت اسلام اور احیائے سنت کے سلسلہ میں جو کار ہائے نمایاں سرانجام دیے۔ ان کو مندرجہ ذیل طبقات میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔
    1۔ درس وتدریس
    2۔ دعوت وتبلیغ کے ذریعہ تحریک واصلاح وتجدید کی آبیاری
    3۔ تصوف، سلوک کی راہوں سے آئی ہوئی بدعات کی تردید
    4۔ تصنیف وتالیف
    5۔ باطل انکارونظریات کی تردید اور مسلک حق کی تائید
    6۔ تحریک جہاد
    درس وتدریس اورکثرت تلامذہ میں مولانا سید محمد نذیر حسین دہلوی کے تلامذہ ان کے جانشین استاذپنجاب شیخ الحدیث مولانا حافظ عبدالمنان محدث وزیر آبادی (م۱۳۳۴ھ) مولانا حافظ عبداللہ غازی پوری(۱۳۳۷ھ) مولانا محمد بشیر سہسوانی (م۱۳۲۶ھ) مولانا عبدالوہاب ملتانی(۱۳۵۱ھ) مولانا احمد اللہ محدث پرتاب گڑھی (م۱۳۲۶ھ)مولانا عبدالجبار امرپوری (م۱۲۳۴ھ) مولانا غلام حسن سیالکوٹی (م۱۳۲۱ھ) مولانا سید عبداللہ غزنوی (م۱۳۱۲ھ) مولانا ابوسعید شرف الدین دہلوی (م۱۳۸۱ھ) رحمہم اللہ اجمعین وغیرہم تھے۔
    ان حضرات نے ساری زندگی حدیث پڑھنا اورپڑھانا مشغلہ رکھا، دعوت وتبلیغ کے ذریعے جن علمائے اہلحدیث نے کتاب وسنت کی اشاعت اورشرک وبدعت کی تردید اور خود عقیدہ کی اصلاح وتجدید کی آبیاری کے لیے پورے ہندوستان کو اپنی تگ وتاز کا مرکز بنائے رکھا، ان میں مولانا حافظ ابراہیم آروری(م۱۳۱۹ھ) مولانا عبدالعزیز رحیم آبادی (م۱۳۲۶ھ) مولانا سلامت اللہ جیراج پوری (م۱۳۲۲ھ) مولانا عبدالغفار میدانوی (م۱۲۱۵ھ) اورمولانا عبدالرحیم بنگالی (م۱۳۳۸ھ) وغیرہ سرفہرست ہیں ۔
    تصوف وسلوک کی راہوں سے آئی ہوئی بدعات ومحدثات کی تردید اور اسلامی زہد و عبادت اورروحانیت کا درس دیا۔ اور عوام وخواص کی تربیت کی۔ اورمسلمانوں کی سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے روشناس کرایا۔ اوربدعت ومحدثات کی نشاندہی کی۔ ان میں مولانا سید عبداللہ غزنوی (م۱۲۹۸ھ) مولانا شاہ عین الحق پھلواری (م۱۳۲۲ھ) مولانا غلام رسول آف قلعہ میاں سنگھ (م۱۲۹۱ھ) مولانا حافظ محمد لکھوی (م۱۲۱۳ھ) مولانا سید عبدالجبارغزنوی (م۱۳۳۱ھ) اورمولانا غلام نبی الربانی سوہدروی (م۱۳۴۸ھ) وغیرہ سرفہرست ہیں ۔
    تصنیف وتالیف کے سلسلہ میں حضرت میاں صاحب دہلوی کے تلامذہ میں جن علمائے اہل حدیث نے اشاعت اسلام ،خدمت حدیث اورشرک وبدعت کی تردید میں گراقدر علمی خدمات انجام دیں ان میں مولانا شمس الحق عظیم آبادی (م۱۳۲۹ھ) مولانا محمد سعید بنارسی (م۱۳۲۲ھ) عظیم محدث مولانا وحید الزماں حیدرآبادی (م۱۳۳۸ھ) مولانا حافظ ابو الحسن محمد سیالکوٹی (م۱۳۲۵ھ) مولانا عبدالرحمن مبارکپوری(م۱۳۵۳ھ) اورمولانا عبدالسلام مبارکپوری (م۱۳۴۲) قابل ذکر ہیں ۔
    باطل افکار ونظریات کی تردیداورمسالک حق کی تائید میں علمائے اہل حدیث کی خدمات قدر کے قابل ہیں مولانا سعید محمد بٹالوی (م۱۳۳۸ھ) مولانا ابوالوفاء ثناء اللہ امرتسری (م۱۳۶۷) مولانا قاضی محمد سلیمان منصورپوری (م۱۳۴۹ھ) مولانا عبداللہ صاحب تحفہ الہند (م۱۳۱۰ھ) مولانا ابوالقاسم سید بنارسی (م۱۳۲۹ھ) مولانا محمد ابراہیم میر سیالکوٹی (م۱۳۷۵ھ) وغیرہ شامل ہیں ۔
    ان علمائے کرام نے قادیانیت گرید سماج، عیسائیت، شیعیت، انکار حدیث اور بریلویت کا قلع قمع کر کے اسلام کی حقانیت اورمسلک اہل حدیث کی سچائی ظاہر کی اوراپنے مقصد میں کامیاب رہے۔ تحریک جہاد میں حضرت میاں صاحب دہلوی کے تلامذہ نے علمائے صادق پور کے ساتھ مل کر اس تحریک کو منظم کیا اور اس سلسلہ میں بڑی بڑی قربانیاں دیں ۔
    اورہمیشہ فرنگی حکمرانوں کی نظروں میں کھٹکتے رہے تحریک جہاد میں مولانا حافظ ابراہیم آروی (م۱۳۱۹ھ) اورمولانا عبدالعزیز رحیم آبادی (م۱۳۳۶ھ) مولانا حافظ عبداللہ غازی پوری (م۱۳۳۷ھ) مولانا محمد اکرم خاں (م۱۹۶۸ھ) وغیرہ قابل ذکر ہیں ۔ اور ان کی خدمات جلیلہ ان شاء اللہ رہتی دنیا تک یاد رکھی جائیں گی۔
    حضرت شیخ الکل مولانا سید محمد نذیر حسین محدث دہلوی کے شاگردوں کے سلسلہ میں مولانا حافظ محمد محدث گوندلوی (م۱۹۸۰ئ) حضرت العلام مولانا سید عبدالجبار غزنوی (م۱۳۳۱ھ) کے شاگرد تھے۔ اورشیخ الحدیث مولانا محمد اسماعیل سلفی (م۱۳۸۷ھ) جو استاد پنجاب مولانا حافظ عبدالمنان محدث وزیر آبادی (م۱۳۳۴ھ) کے شاگرد تھے۔
    ان حضرات نے درس وتدریس ،تصنیف وتالیف اور باطل افکاراورنظریات کی تردید اورمسلک حق کی تائید اوردین اسلام کی نصرت وحمایت میں اپنی زندگیاں بسر کر دیں اسی سلسلہ میں مولانا عطاء اللہ حنیف بھوجیانی (م۱۹۸۷ئ) جومولانا ابوسعید شرف الدین دہلوی (م۱۳۸۱ھ) اورمولانا حافظ محمد گوندلوی (م۱۹۸۰ئ) کے شاگرد تھے درس وتدریس تصنیف وتالیف میں کارہائے نمایاں سرانجام دیے۔
    اورعلاوہ ازیں اورحضرت العلام حافظ محمد گوندلوی کے کئی اور تلامذہ نے درس وتدریس، تصنیف وتالیف میں قابل قدر علمی خدمات انجام دیں ۔ اورادیان باطلہ ومذاہب محدثہ کی تردید میں عربی ، فارسی ،انگریزی اور اردو میں کتابیں تصنیف کر کے نمایاں خدمات انجام دیں ۔ اوردوسری مسلک حق کی تائید میں بھی کتابیں لکھیں ۔ وجزاہم اللہ احسن الجزاء
    ایک مسلمان کی کامیابی اور نجات کے لیے ضروری ہے کہ اس کا عقیدہ بالکل صحیح ہو اور اس کے عقیدہ میں کسی قسم کی کجی اور بے راہ روی نہ ہو ۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ۱۳ سال مکی زندگی میں عقائد کی اصلاح کی طرف پوری توجہ دی۔ اگر کسی شخص کا عقیدہ ہی صحیح نہیں تو پھر اس کی نجات مشکل اورناممکن ہے۔ اگر عقیدہ صحیح ہے توپھر اس کی نجات کی پوری طرح امید ہے۔
    مولانا محمد یحییٰ گوندلوی نے’’عقیدہ اہل حدیث‘‘کتاب لکھ کر دین اسلام اور مسلک اہل حدیث کی بہت بڑی خدمت انجام دی ہے اور اس کتاب میں درج تمام مسائل کی تشریح وتوضیح قرآن مجید اوراحادیث صحیحہ مرفوعہ سے کی ہے اورضعیف روایت کا سہارا نہیں لیا۔
    کتاب’’عقیدہ اہل حدیث‘‘ ایک ابتدائیہ اور ۹ ابواب پر مشتمل ہے ۔مصنف نے اس کے ابتدائیہ میں قدامت اہل حدیث اور وجہ تسمیہ اہل حدیث تحریک اہل حدیث پر روشنی ڈالی ہے۔ اوراس کے بعد میں کتاب میں مبادیات عقیدہ وتوحید کے مسائل شرکیہ عقائد کی توضیح وتشریح اور فرشتوں پر ایمان ، انبیاء کرام پر ایمان ، معجزات عصمت انبیائ، ختم نبوت، فضائل صحابہ کرام ، مشاجرات صحابہ، منصب خلافت، عورت کی حکمرانی اورمسئلہ تقدیر او رایمان بالآخرت اوراس کے متعلقہ مسائل پر سیر حاصل بحث کی ہے۔
    یہ کتاب اپنے موضوع کے اعتبار سے بڑی جامع عمدہ اور نفیس ہے اوراپنے اسلوب عام فہم انداز اور تسلسل کے لحاظ سے بالکل منفرد حیثیت کی حامل ہے۔ عقائد کی اصلاح کے بارے میں اردو میں ایسی کتاب اس سے پہلے نہیں لکھی گئی۔ اللہ تعالیٰ مصنف کی محنت قبول فرمائے اورعوام کو اس سے مستفید ہونے کی توفیق بخشے۔آمین
    عبدالرشید عراقی
    سوہدرہ۔ضلع گوجرانوالہ جون1999ء
     
  2. ‏مئی 08، 2013 #2
    aqeel

    aqeel مشہور رکن
    جگہ:
    راولپنڈی
    شمولیت:
    ‏فروری 06، 2013
    پیغامات:
    299
    موصول شکریہ جات:
    307
    تمغے کے پوائنٹ:
    119

    تیرھویں صدی میں امام محدیث محمد بن علی الشوکانی الصنعانی المتوفی1250 ھ‘شاہ عبد العزیز محدث دہلوی المتوفی 1229ھ‘امام مجاہد شاہ اسمٰعیل شہید المتوفی 1246ھ‘علامہ خرم علی بلہوری المتوفی1271 ھ‘علامہ محمد حامدسندھی المتوفی1257 ھ‘امام الدعوة شیخ محمد بن عبد الوہاب نجدی المتوفی 1206ھ جن کے نام سے آج تک انگرز ڈرتے رہے ہیں ۔ان کے پوتے علامہ عبد الرحمن بن حسن المتوفی 1285ھ‘علامہ احمد طحطاوی حنفی المتوفی1231 ھ‘قاضی ثناءاللہ پاتی المتوفی1225 ھ‘علامہ حیدر علی طوکی المتوفی 1273ھ جنہوں نے رفع الیدین کے ثبوت میں ایک مستقل رسالہ لکھا ۔(نزہة الخواطر )
    علامہ عبد العزیز پڑھیاروی ملتانی جن کی کتاب کوثر النبی ﷺ مشہور ہے ۔اس میں لکھتے ہیں وہ علماءجو انبیائے کرام کے وارث ہیں ۔وہ صرف اہلحدیث ہیں اور امام احمد سے ثابت کرتے ہیں کہ جس جماعت کے ہمیشہ حق پر ہونے کے متعلق رسول اللہ ﷺ نے جو پیشین گوئی فرمائی ‘وہ اہلحدیث ہیں وغیرہم ۔
    چودھویں صدی میں لاتعداد اللہ کے بندے گزرے ہیں ۔شیخ الکل میاں سید نذیر حسین دہلوی المتوفی1320 ھ جنہوں نے پچاس برس سے زیادہ ایک جگہ پر بیٹھ کر حدیث کا درس دیا ۔دنیا میں علم حدیث والے زیادہ تر ان کے شاگرد یا ان کے شاگردوں کے شاگرد ہیں ۔آپ کی کتاب معیار الحق مسلک کو ظاہر کرنے کیلئے کافی ہے ۔نواب صدیق حسن خان المتوفی 1307امجد ابو تراب رشد اللہ شاہ راشدی المتوفی 1340ھ جن کے رسالے اہلحدیث مذہب کے تعارف کے لئے مشہور ہیں ۔امام المفسرین الاستاذ ابو الوفا ثناءاللہ امرتسری المتوفی1377 ھ جن کی خدمات کو دنیا کے اہلحدیث ہمیشہ یاد کرتے رہتے ہیں ۔آپ کا ہفت روزہ اخبار اہلحدیث برسہا برس دنیا میں اپنے نام کے ساتھ چمکتا رہا ۔نواب وحید الزمان المتوفی1328 ھ محدث وقت علامہ حافظ عبد اللہ روپڑی المتوفی1384 ھ جن کا اخبار تنظیم اہلحدیث دعوت دین دیتا رہا ۔علامہ السیف القاطع محمد جونا گڑھی المتوفی1360 ھ جن کے محمدی نام سے بے شمار رسالے مشہور ہیں اور کئی برس تک آپ کا اخبار محمدی کام کرتا رہا ۔شیخ المشائخ محدث علامہ محمد بشیر سہسوانی المتوفی1306 ھ علامہ الزمان مولانا ابو القاسم سیف بنارسی المتوفی1361 ھ فخر المحدثین علامہ ابو العلی عبد الرحمن مبارکپوری المتوفی1353 ھ مناظر لاجواب شیخ عبد الرحیم رحیم آبادی المتوفی1320 ھ ‘علامہ اہل اللہ شیخ سراج الدین مدھو پوری المتوفی1380 ھ شیخ علامہ خلیل ہراس المتوفی 1392ھ علامہ سید رشید رضا مصری المتوفی 1353ھ مناظر اسلام احمد دین گکھڑوی ‘علامہ ابو المعالی محمود شکری آلوسی علامہ ابو سعید شرف الدین الدھلوی المتوفی 1381ھ علامہ شیخ عبد الستار دہلوی المتوفی1386 ھ امام الہند ابو الکلام آزاد المتوفی1377 ھ علامہ بدیع الزمان لکھنﺅی المتوفی1304 ھ مولانا انور شاہ کشمیری المتوفی1352 ھ علامہ عبد الحی بن فخر الدین اور دوسرے بھی بہت سے عالم اسی صدی میں گزرے ۔مثلاً علامہ عبدالتواب ملتانی ‘علامہ عبد الحق ملتانی ‘علامہ عبد الحق بہاولپوری ‘علامہ محمد اسمٰعیل سلفی ‘علامہ محمد داﺅد غزنوی ‘علامہ خان مہدی زماں ‘علامہ رشید احمد گنگوہی ‘محدث علامہ محمد حسین بٹالوی ‘قاضی محمد سلیمان منصوری ‘علامہ محمد ابراہیم میر سیالکوٹی وغیر ہم جن احصاءاور شمار ممکن نہیں ۔
    اسی طرح موجودہ پندرھویں صدی ہمارے سامنے ہے جن میں بعض تو وفات پاچکے ہیں ۔مثلاً حافظ فتح محمد جہلمی مہاجر مکی ‘حافظ محمد محدث گوندلوی ‘مولانا محمد عمر ڈیپلائی شارح مشکوٰ ة سندھی‘ شیخ عبد اللہ بن حمید نجدی ‘مولانا محمد صادق سیالکوٹی ‘علامہ احسان الہٰی ظہیر شہیدؒ‘مولانا عبالخالق قدوسی شہید ؒ‘مولانا حبیب الرحمن یزدانی شہید ؒوغیرہم ۔ان کے علاوہ جو زندہ ہیں اور کام کر رہے ہیں ۔وہ لاتعداد ہیں ۔دنیا کے ہر ملک میں جماعت اہلحدیث موجود ہیں۔الحمد للہ۔۔۔

    اس طرح رسول اللہ ﷺ کی پیش گوئی درست ثابت ہوئی کہ آپ ﷺ نے فرمایا کہ قیامت تک امیری امت میں ایک جماعت حق پر قائم رہے گی ۔کسی کی بھی مخالفت یا دشمنی اس کو نقصان نہیں پہنچا سکتی ۔بحمد للہ !یہ جماعت تا ابد الاباد زندہ اور متحرک رہے گی (ان شاءاللہ تعالیٰ)
    یہ اقتباس (تاریخ اہل حدیث) مولاناسید بدیع الدین شاہ راشدی رحمة اللہ علیہ سے لیا گیا ہے
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں