1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

علمِ نجوم سیکھنے کے حکم کا بیان :

'سحر و جادو' میں موضوعات آغاز کردہ از محمد عامر یونس, ‏فروری 19، 2016۔

  1. ‏فروری 19، 2016 #1
    محمد عامر یونس

    محمد عامر یونس خاص رکن
    جگہ:
    karachi
    شمولیت:
    ‏اگست 11، 2013
    پیغامات:
    16,961
    موصول شکریہ جات:
    6,506
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,069

    12745489_10154000363693982_2377822069264714091_n.jpg


    22- بَاب فِي النُّجُومِ

    ۲۲-باب: علم نجوم کا بیان

    سنن ابو داود


    3905- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَمُسَدَّدٌ -الْمَعْنَى- قَالا: حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ عُبَيْدِاللَّهِ ابْنِ الأَخْنَسِ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ عَبْدِاللَّهِ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ مَاهَكَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ : < مَنِ اقْتَبَسَ عِلْمًا مِنَ النُّجُومِ اقْتَبَسَ شُعْبَةً مِنَ السِّحْرِ زَادَ مَا زَادَ >۔

    * تخريج: ق/الأدب ۲۸ (۳۷۲۶)، (تحفۃ الأشراف: ۶۵۵۹)، وقد أخرجہ: حم (۱/۲۲۷، ۳۱۱) (حسن)

    ۳۹۰۵- عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:'' جس نے علم نجوم کا کوئی حصہ اخذ کیا تو اس نے اتنا ہی جادو اخذ کیا، وہ جتنا اضافہ کرے گا اتنا ہی اضافہ ہوگا''۔


    3906- حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ، عَنْ عُبَيْدِاللَّهِ بْنِ عَبْدِاللَّهِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ أَنَّهُ قَالَ: صَلَّى لَنَا رَسُولُ اللَّهِ ﷺ صَلاةَ الصُّبْحِ بِالْحُدَيْبِيَةِ [فِي] إِثْرِ سَمَائٍ كَانَتْ مِنَ اللَّيْلِ، فَلَمَّا انْصَرَفَ أَقْبَلَ عَلَى النَّاسِ فَقَالَ: < هَلْ تَدْرُونَ مَاذَا قَالَ رَبُّكُمْ؟ >، قَالُوا: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ: < قَالَ: أَصْبَحَ مِنْ عِبَادِي مُؤْمِنٌ بِي وَكَافِرٌ: فَأَمَّا مَنْ: قَالَ مُطِرْنَا بِفَضْلِ اللَّهِ وَبِرَحْمَتِهِ فَذَلِكَ مُؤْمِنٌ بِي كَافِرٌ بِالْكَوْكَبِ، وَأَمَّا مَنْ قَالَ: مُطِرْنَا بِنَوْئِ كَذَا وَكَذَا فَذَلِكَ كَافِرٌ بِي مُؤْمِنٌ بِالْكَوْكَبِ>.

    * تخريج: خ/الأذان ۱۵۶ (۸۴۶)، الاستسقاء ۲۸ (۱۰۳۸)، المغازي ۳۵ (۴۱۴۷)، التوحید ۳۵ (۷۵۰۳)، م/الإیمان ۳۲ (۱۲۵)، ن/الاستسقاء ۱۶ (۱۵۲۶)، عمل الیوم واللیلۃ ۲۶۷ (۹۲۴)، (تحفۃ الأشراف: ۳۷۵۷)، وقد أخرجہ: ط/الاستسقاء ۳ (۴)، حم (۴/۱۱۵، ۱۱۶، ۱۱۷) (صحیح)

    ۳۹۰۶- زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے حدیبیہ میں ہمیں صلاۃِ فجر بارش کے بعد پڑھا ئی جو رات میں ہوئی تھی تو جب آپ فارغ ہوگئے اور لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے توفرمایا:'' کیا تم جانتے ہو کہ تمہارے رب نے کیا کہا؟'' ، لوگوں نے عرض کیا: اللہ اور اس کے رسول زیادہ جا نتے ہیں، آپ ﷺ نے فرمایا:'' اس نے کہا: میرے بندوں میں سے کچھ نے آج مو من ہو کر صبح کی، اور کچھ نے کافر ہو کر، جس نے یہ کہا کہ بارش اللہ کے فضل اور اس کی رحمت سے ہوئی وہ میرے اوپر ایما ن رکھنے والاہوا اور ستا روں کا منکر ہوا، اور جس نے کہا کہ ہم فلاں اور فلاں نچھتر کے سبب بر سا ئے گئے تو وہ میرا منکر ہوا اور ستاروں پر یقین کرنے والا ہوا''۔

    ==============


    28- بَاب تَعَلُّمِ النُّجُومِ

    ۲۸-باب: علمِ نجوم سیکھنے کے حکم کا بیان

    سنن ابن ماجه


    3726- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ عُبَيْدِاللَّهِ بْنِ الأَخْنَسِ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ عَبْدِاللَّهِ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ مَاهَكَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: "مَنِ اقْتَبَسَ عِلْمًا مِنَ النُّجُومِ، اقْتَبَسَ شُعْبَةً مِنَ السِّحْرِ، زَادَ مَا زَادَ "۔

    * تخريج: د/الطب ۲۲ (۳۹۰۵)، (تحفۃ الأشراف: ۶۵۵۹)، وقد أخرجہ: حم (۱/۲۲۷، ۳۱۱) (حسن)

    ۳۷۲۶- عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:'' جس نے علم نجوم میں سے کچھ حاصل کیا ، اس نے سحر (جادو ) کا ایک حصہ حاصل کرلیا ، اب جتنا زیادہ حاصل کرے گا گویا اُتنا ہی زیادہ جادو حاصل کیا'' ۱؎ ۔


    وضاحت ۱ ؎ :

    سحر (جادو ) عربی زبان میں مخفی عمل کو کہتے ہیں جو پوشیدہ طور پر ہوتا ہے اور ظاہری طور پر کچھ معلوم نہیں ہوتا، جادو کی وہ قسم جو کفر اور شرک اکبر کے قبیل سے ہے، اس میں شیطان کو استعمال کیا جاتا ہے او ر اس سے مدد لی جاتی ہے، اور شیطان کی عبادت کرکے اس سے تقرب حاصل کیا جاتا ہے، اور اس کے ذریعے سے بعض مقاصد حاصل کئے جاتے ہیں، سحر (جادو) کی فقہاء نے یہ تعریف کی ہے کہ وہ ایسا جھاڑ پھونک اور ایسی تعویذ ہے جس میں پھونکا جاتا ہے، تو اس سے جادو ہوجاتا ہے، جو حقیقی طور پر نقصان پہنچاتا ہے اور حقیقی طور پر آدمی کو بیمار کردیتا ہے، اور حقیقی طور پر قتل کردیتا ہے، تو جادو کی حقیقت یہ ہے کہ اس کی انسان پر تاثیر میں شیطان سے مدد لی جائے اور اس کو استعمال کیا جائے، اور جادو گر اپنے جادو کا اثر شیطان سے تقرب حاصل کئے بغیر انسان تک نہیں پہنچا سکتا، شیطان سے تقرب حاصل کرنے کی صورت میں وہ اسے جادو کئے گئے آدمی کے بدن میں پہنچا دیتے ہیں، ہر جادو گر کے پاس شیطانوں میں سے ایک ایسا خادم ہوتا ہے جو اس کی خدمت کرتا ہے، اور ہر ساحر (جادوگر) شیطان سے مدد چاہتا ہے، حقیقت میں شیطان سے تقرب حاصل کئے بغیر جادو گر کے جادو کا موثر ہونا ناممکن ہے،اسی لئے جادو اللہ کے ساتھ شرک ہے۔

    علم نجوم (ستاروں کا علم) سے متعلق احکام کی دو قسمیں ہیں :

    ایک جائز او دوسری حرام، حرام جادو کی ایک قسم وہ ہے جو کفر وشرک ہے، علم نجوم (ستاروں کے علم) کے ذریعہ غیبی امور کا دعویٰ حرام اور مذموم ستارہ پرستی ہے جو کہانت اور جادو کی ایک قسم ہے۔


    علم نجوم (ستاروں کے علم) سے لوگ تین طرح سے تعلق رکھتے ہیں:

    ۱- تنجیم (ستارہ پرستی ) یعنی ستاروں کے بارے میں یہ اعتقاد رکھنا کہ چیزوں میں ان کی تاثیر بذات خود اور مستقلاً ہے، اور دنیاوی حادثات ستاروں یا ستاروں کے ارادے کے نتیجہ میں رونما ہوتے ہیں، یہی ستارہ پرستی ہے، صابی فرقہ کا مذہب یہی ستارہ پرستی تھا، ان کا یہی اعتقاد تھا، جو ہر ستارے کا اسٹیچو (بت) بناتے تھے، جس میں شیطانی روحیں حلول کرجاتی تھیں، جو ان کو ان بتوں اور مجسموں کی پرستش کا حکم دیتی تھی، یہ باجماع امت کفر اکبر، اور قوم ابراہیم والاشرک ہے۔

    ۲- اس کی دوسری قسم ستارہ کی تاثیر کا علم ہے، یعنی ستاروں کی حرکت اور ان کے ملنے اور جدا ہونے سے، اور ان کے طلوع وغروب سے زمین پر ہونے والے اثرات پر استدلال، ستاروں کی چال کو وہ زمین پر مستقبل میں ہونے والے حوادث پر دلیل بناتے ہیں، یہ کام کرنے والے منجم کے نام سے جانے جاتے ہیں، اور یہ کاہن کی ایک قسم ہے، یہ نجومی افلاک کی گردشوں اور ستاروں کی چالوں سے استدلال کرکے غیبی امور کی اطلاع دیتے ہیں، اور یہ قسم حرام اور گناہ کبیرہ ہے، اور یہ کہانت کی ایک قسم ہے، اور کفر باللہ ہے، اس لئے کہ ستاروں کی تخلیق اس کام کے لئے نہیں ہوئی ہے، ان کاہنوں کے پاس شیاطین آتے ہیں، اور جو چاہتے ہیں ان کو بتاتے ہیں، اور جن میں مستقبل میں ہونے والی چیزیں بھی ہوتی ہیں، اور اس کام کے لئے وہ ستاروں کی حرکت سے استدلال کرتے ہیں۔

    ۳- علم نجوم میں ایک علم علم التسییر ہے یعنی ستاروں کی منزلیں اور ان کی حرکات کا علم تاکہ ان کی مدد سے قبلہ کا رخ جانا جائے، اوقات صلاۃ کی تعیین ہو، اور کھیتی باڑی کے لئے مناسب اور غیر مناسب موسم کا پتہ چلایا جا سکے، پورب ، پچھم اور اتر دکھن کی سمت اس کے ذریعے سے معلوم کی جاسکے، ملک شہر اور بستیوں کی معرفت بھی ان کے ذریعے سے ہوسکے، اور ان کے ذریعے سے ہواؤں کے چلنے کا وقت، اور اللہ کی کائناتی سنت کے مطابق اس وقت کو جاننا جس میں بارش کا نزول ہوتا ہے، وغیرہ وغیرہ۔

    بعض اہل علم نے اس کو جائز قرار دیا ہے، اس لئے کہ ستاروں کی چالوں اور حرکتوں اور ان کے ملنے اور جدا ہونے اور ان کے نکلنے اور ڈوبنے کو وقت اور زمانہ قراردیا جائے، خود ان کو سبب نہ بنایا جائے، تو یہ ستارے ایسے زمانے کی علامت ہوں گے، جس میں فلاں فلاں چیز مفید ہوگی، اور اللہ تبارک وتعالیٰ نے ستاروں کو علامات اور نشانیاں بنایا ہے:

    {وَعَلامَاتٍ وَبِالنَّجْمِ هُمْ يَهْتَدُونَ}

    تو یہ ستارے بہت ساری چیزوں کی علامت ہوتے ہیں-

    جیسے یہ بات جانی جائے کہ فلاں ستارے کے نکلنے پر جاڑے کا وقت شروع ہوجاتا ہے، تو وقت کا شروع ہونا ستارہ کے طلوع ہونے کی وجہ سے نہیں ہے، لیکن ستارہ کے طلوع ہونے سے جاڑے کے شروع ہونے پر استدلال کیا گیا ، خود ستارہ کا نکلنا سردی کا سبب نہیں ہے، اور نہ ہی وہ گرمی اور برسات کا سبب ہے، اور نہ ہی کھجور کی کھیتی یا دوسری کھیتیوں کے موسم ہونے کا یہ سبب ہے، بلکہ یہ ان چیزوں کا ایک وقت ہے، اور ایسی صورت میں اس کے کہنے یا اس کے سیکھنے میں کوئی حرج نہیں ہے، اس لئے کہ ستاروں کے نکلنے اور ڈوبنے کو زمانہ قرار دیا گیا ہے، اور اس کی اجازت ہے۔


    اوپر گزرا کہ علم نجوم جادو کی ایک قسم ہے، اس کے سلسلے میں حدیث رسول ہے:

    ''مَنِ اقتَبسَ شعبةً من النجومِ، فقد اقتبسَ شعبةً من السِّحر، زاد ما زاد''


    تو نجوم (ستاروں) کی تصدیق کرنے والا جادو کی تصدیق کرنے والا ہے، اور جادو کو سچ کہنے والا جنت میں داخل نہ ہوگا۔


    ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کی حدیث ہے کہ رسول اکرم ﷺ نے فرمایا :

    ''ثلاثةٌ لا يدخلونَ الجنَّةَ: مدمِن الخمر، وقاتل الرحم، ومصدّق بالسحر''

    تین آدمی جنت میں داخل نہ ہوں گے، عادی شرابی، قطع رحمی کرنے والا، اور جادو کی تصدیق کرنے والا، یہ تینوں کام گناہ کبیرہ ہیں۔

    (مسند احمد: ۴۳۹۹، صحیح ابن حبان: ۷؍۳۶۶)


    عصر حاضر میں ستارہ پرستی کے رواج کی واضح دلیل اخبارات ومجلات اور دوسرے جدید وسائل ابلاغ (ریڈیو، ٹیلیویژن، انٹرنیٹ) میں ستاروں کی چال سے متعلق مستقل صفحات یا معلومات کا شائع ہونا ہے، جو برج کے نام سے مشہور ہے، اور اس پر سال بھر کے برج کا نقشہ ہوتا ہے، جیسے شیر، بچھو، بیل وغیرہ، اور ہر برج کے آگے اس میں جو کچھ واقع ہوگا وہ لکھا ہوتا ہے، جب مرد عورت کی پیدائش فلاں برج میں ہوگی تو اس سے کہا جائے گا کہ تمہیں فلاں فلاں مہینے میں یہ اور یہ حاصل ہوگا، جیسا کہ کاہن اور نجومی آدمی کی کنڈلی نکال کر اور اس کا زائچہ بنا کر کرتے ہیں، اور وہ اس عمل سے کسی نہ کسی طرح متاثر ہوتا ہے، یہ ستاروں کی تاثیر کا علم ستاروں اور برجوں کے استدلال سے زمین میں اور زمین پر جو کچھ ہوگا، اس پر استدلال ہے ، جو کہانت کی ایک قسم ہے، ذرائع ابلاغ میں اس طرح کی چیزوں کا پایا جانا اس بات کی دلیل ہے کہ کاہنوں کا وجود ہے، اور ایسی صورت میں اس طرح کی شرکیات وکفریات پر نکیر ضروری ہے، اور غیب اور جادو اور ستاروں کی تاثیر کی معرفت کے مدعیان پر بھی نکیر ضروری ہے، اس لئے کہ ستارہ پرستی کا تعلق جادو سے ہے، جس پر نکیر ہر سطح پر اور ہر جگہ ہونی چاہئے، اور ہر مسلمان کی ذمہ داری ہے کہ یہ چیز نہ تواس کے گھر داخل ہو، نہ اس کامطالعہ کرے، اس لئے کہ صرف علم ومعرفت کے لئے ان برجوں اور ستاروں سے آگاہی اس ممانعت میں داخل ہے کہ وہ کاہن کی طرف بغیر اس پر نکیر کئے ہوئے رجوع ہوتا ہے، تو اس صفحے پر یہ پڑھ کر اور جان کر کہ وہ فلاں برج میں پیدا ہوا ہے یا فلاں برج اس کے مناسب ہے، گویا کہ اس نے اس سلسلے میں کاہن سے سوال کیا، تو ایسی صورت میں اس کی چالیس دن کی نمازیں قبول نہ ہوں گی، اور اگر برجوں اور ستاروں کی چالوں کی تصدیق کردی تو رسالت محمدیہ کا انکار کیا، تو ہر مسلمان بھائی کو اس طرح کے کبیرہ گناہ والے اعمال وافعال سے اپنے اور اپنے اہل وعیال اور خاندان والوں کو دور رکھنا چاہئے کہ اس سے کفر اور شرک میں پڑنے کا خطرہ ہے۔

    =================

     
    Last edited: ‏فروری 19، 2016
  2. ‏فروری 19، 2016 #2
    محمد عامر یونس

    محمد عامر یونس خاص رکن
    جگہ:
    karachi
    شمولیت:
    ‏اگست 11، 2013
    پیغامات:
    16,961
    موصول شکریہ جات:
    6,506
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,069

    اللہ سبحان و تعالیٰ کا فرمان ہے -

    وَهُوَ الَّذِي جَعَلَ لَكُمُ النُّجُومَ لِتَهْتَدُوا بِهَا فِي ظُلُمَاتِ الْبَرِّ‌ وَالْبَحْرِ‌ ۗ قَدْ فَصَّلْنَا الْآيَاتِ لِقَوْمٍ يَعْلَمُونَ ﴿٩٧﴾

    اور وہ ایسا ہے جس نے تمہارے لئے ستاروں کو پیدا کیا تاکہ تم ان کے ذریعہ سے اندھیروں میں، خشکی میں اور دریا میں راستہ معلوم کر سکو (١)۔ بیشک ہم نے دلائل خوب کھول کھول کر بیان کر دیئے ان لوگوں کے لئے جو خبر رکھتے ہیں۔

    ٩٧۔١ ستاروں کا یہاں یہ ایک فائدہ اور مقصد بیان کیا گیا ہے، ان کے دو مقصد اور ہیں جو دوسرے مقام پر بیان کئے گئے ہیں۔ آسمانوں کی زینت اور شیطانوں کی مرمت۔ رجو ما للشیطین۔ یعنی شیطان آسمان پر جانے کی کوشش کرتے ہیں تو یہ ان پر شعلہ بن کر گرتے ہی۔

    بعض علماء کا قول ہے۔

    من اعتقد فی ہذاہ النجوم غیر ثلاث فقد اخطاء وکذب علی اللہ


    ان تینوں باتوں کے علاوہ ان ستاروں کے بارے میں اگر کوئی شخص کوئی اور عقیدہ رکھتا ہے تو وہ غلطی پر ہے اور اللہ پر جھوٹ باندھتا ہے، اس سے معلوم ہوا کہ ہمارے ملک میں جو علم نجوم کا چرچا ہے، جس میں ستاروں کے ذریعے سے مستقبل کے حالات اور انسانی زندگی یا کائنات میں ان کے اثرات بتانے کا دعوٰی کیا جاتا ہے وہ بےبنیاد ہے اور شریعت کے خلاف بھی۔

    چنانچہ ایک حدیث میں اسے جادو ہی کا ایک شعبہ بتلایا گیا ہے۔

    من اقتبس علماء من النجوم اقتبس شعبۃ من السحر زاد ما زاد


    ( حسنہ الالبانی صحیح ابی داؤد)

     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں