1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

علم اور دولت (ایک مکالمہ)

'متفرقات' میں موضوعات آغاز کردہ از عمر اثری, ‏اپریل 26، 2016۔

  1. ‏اپریل 26، 2016 #1
    عمر اثری

    عمر اثری سینئر رکن
    جگہ:
    نئی دھلی، انڈیا
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 29، 2015
    پیغامات:
    4,370
    موصول شکریہ جات:
    1,082
    تمغے کے پوائنٹ:
    398

    علم اور دولت
    تحریر: عبدالغفار سلفی، بنارس

    یہ مکالمہ دو عظیم قوتوں کے درمیان ہو رہا ہے. دونوں کو اپنی شان و شوکت پر بڑا ناز ہے.ایک طرف علم ہے جو اپنے وقار اور عظمت کا لوہا منوانے کو بیتاب ہے دوسری طرف دولت ہے جو کبر وتعلی کا پہاڑ بنی ہے، رعونت اور تکبر میں کسی کو خاطر ہی نہیں لاتی. علم کہتا ہے کہ میں وہ ہوں کہ جس نے فرشتوں کو آدم کے آگے جھکا دیا. دولت کہتی ہے میں وہ ہوں کہ جس نے شاہان عرب وعجم کے قصور شامخہ میں جگہ پائی ہے. علم کو یہ طرہ کہ موسی جیسے جلالی پیمبر بھی خضر کے پیچھے خاک چھانتے پھر رہے ہیں. دولت کو اس پر ناز کہ بڑوں بڑوں کو خرید کر غلام بنا لیا. علم کی یہ شان بے نیازی کہ کوڑے کھا لیے مگر کمپرومائز نہیں کیا اور دولت کو اس پر اصرار کہ وہ دن دور نہیں جب علم دولت کے قدموں میں ڈھیر ہوگا. علم صدا دیتا ہے کہ سن اے دولت! وہ علم ہی کیا جو سیم وزر کا غلام بن جائے، وہ علم ہی کیا جو بادشاہوں کی دولت کے آگے جبیں سائی کرے، علم نے گردن کٹوائی ہے مگر جھکائی نہیں، قید و بند کی صعوبتیں اٹھائی ہیں مگر اپنی عظمت پر آنچ نہیں دی ہے. دولت سیخ پا ہو کر جواب دیتی ہے کہ اے علم یہ نہ بھول کہ میں نے کئی بار تجھے اپنے قدموں میں جھکایا ہے، چند سکوں کے عوض تجھے خریدا ہے.علم اطمینان سے جواب دیتا ہے: یہ تیری غلط فہمی ہے، جسے تو نے جھکایا وہ علم ہو ہی نہیں سکتا، جو تیرے ہاتھوں فروخت ہوا وہ علم کہلا ہی نہیں سکتا. علم نے پیٹھ پر کوڑے کھائے ہیں مگر اپنی عظمت کا تاج مجروح ہونے نہ دیا. علم تو وہ ہے جس نے تیری عیاشیوں پر قیدخانے کی تاریک کوٹھریوں کو ترجیح دی ہے. اے دولت! یہ نہ بھول کہ دربار شاہی نے کئی بار تھیلیاں بھیج بھیج کر مجھے خریدنے کی کوشش کی ہے مگر میں نے ہمیشہ وہ تھیلیاں لوٹا کر صبر وقناعت کی زندگی کو ترجیح دی ہے.

    اچانک دولت بڑے ناز سے اٹھلاتی ہوئی آگے بڑھتی ہے اور مسکراتے ہوئے کہتی ہے: اے علم! وہ دن اور تھے اب حالات اور ہیں.اب تیری عظمت میری دہلیز پر سر تسلیم خم کر چکی ہے.آ میں تجھے حقیقت سے روشناس کراؤں.

    دولت علم کو چند مناظر دکھاتی ہے. کہیں علم شاہان وقت سے ساز باز کرتا نظر آتا ہے. کہیں علم سیاست کی بساط پر فروخت ہوتا ہوا نظر آتا ہے. کہیں علم امیروں کے آگے سر جھکائے نظر آتا ہے . کہیں علم کے ہاتھوں میں نوٹوں کی گڈیاں تھما کر اس کی غیرت کا گلا گھونٹ دیا جاتا ہے.

    یہ مناظر دیکھ کر علم کا گلا رندھ جاتا ہے. وہ مضمحل لہجے میں جواب دیتا ہے:اے دولت! واقعی یہ تیرے عروج اور میرے زوال کا دور ہے.

    اس کے بعد چشم فلک یہ منظر بھی دیکھتا ہے کہ علم اپنی آخری سانسیں لیتا ہوا اس دنیا سے رخصت ہو جاتا ہے.علم کی جانشینی جہالت کو ملتی ہے. علم کی مجلسیں لہو ولعب کی مجالس میں تبدیل ہو جاتی ہیں. علماء کی مسند پر جہلاء بٹھا دیے جاتے ہیں. دولت اپنی فتح کے جشن مناتی ہوئی علم کے مرثیے پڑھتی نظر آتی ہے.
     
    Last edited: ‏اپریل 26، 2016
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں