1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

علم اور معاش

'متفرقات' میں موضوعات آغاز کردہ از عامر عدنان, ‏مئی 02، 2019۔

  1. ‏مئی 02، 2019 #1
    عامر عدنان

    عامر عدنان مشہور رکن
    جگہ:
    انڈیا،بنارس
    شمولیت:
    ‏جون 22، 2015
    پیغامات:
    821
    موصول شکریہ جات:
    237
    تمغے کے پوائنٹ:
    118

    [ علم اور معاش]
    ............
    ️ابو تقی الدین ضیاء الحق سیف الدین
    ..................
    اگر آپ یہ سوچتے ہیں کہ ہم علم دین پڑھ کر مالدار بن جائیں گے تو میں کہوں گا آپ کا یہ خیال خام اور زعم باطل ہے، اس لئے کہ حدیث کی پڑھائی"فقیری پڑھائی یا فقیروں کی پڑھائی" ہے،جیساکہ ہمارے بعض سلف(غالباً یہ عبد اللہ بن مبارک کا قول ہے)نے کہا ہے:"علم الحديث صنعة المفاليس" - "علم حدیث پڑھنا مفلسوں کا کام ہے".
    لیکن یہ وہ فقیری ہے جس میں بادشاہی چھپی ہوئی ہے،صرف دو مثالیں پیش کرتا ہوں. (ان شاء اللہ کبھی الگ سے اس پر لکھو گا) :
    1-بکر بن منیر بیان کرتے ہیں کہ بخارا کے گورنر ابوالہیثم خالد بن احمد ذہلی نے امام بخاری کو پیغام بھیجا کہ آپ "الجامع الصحيح، التاريخ الكبير" اور اپنی دیگر کتب لے کر حرمِ شاہی میں آئیں اور یہاں درس دیں تاکہ میں بھی آپ سے استفادہ کر سکوں، آپ نے گورنر کے ایلچی کے ہاتھ یہ جواب کہلا بھیجا کہ میں علم دین کی ناقدری نہیں کر سکتا کہ اسے اٹھا کر لوگوں کے دروازوں کا طواف کرتا پھروں، اگر تم علم دین سیکھنا چاہتے ہو تو میری مسجد یا گھر آجاؤ، میں علم دین کو چھپا کر نہیں رکھتا کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا ہے:
    "من سئل عن علم فكتمه ألجم بلجام من نار يوم القيامة" - "جس شخص سے دین کا کوئی مسئلہ پوچھا گیا لیکن اس نے اسے چھپایا تو قیامت کے دن اسے آگ کی لگام ڈالی جائے گی"
    اگر تمہیں میرا یہ انداز ناگوار محسوس ہو تو تم حاکمِ وقت ہو، تمہارے ہاتھ میں اقتدار کی طاقت ہے، میری درس گاہ کو بند کر دو تاکہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے ہاں میرے پاس عذر موجود ہو" [سير أعلام النبلاء 464/12]
    2-خلیفہ ہارون الرشید کے ساتھ مقام رقہ میں ملکہ زبیدہ بھی موجود تھی اتفاق سے حضرت عبد اللہ بن مبارک کی تشریف آوری رقہ میں ہوئی، امام کی آمد پر ایک شور وغل کی آواز بلند ہوئی، ملکہ زبیدہ نے پوچھا یہ کیا ہے؟ لوگوں نے بتایا کہ حافظ الحدیث عبد اللہ بن مبارک رقہ میں آرہے ہیں، اہل شہر ان کے استقبال میں بھاگ دوڑ رہے ہیں، ملکہ نے کہا :هذا والله الملك - اللہ کی قسم بادشاہ تو ان کو کہتے ہیں، ان کے سامنے ہارون کی بادشاہت ہیچ ہے، کیونکہ امام کی تکریم وتعظیم میں آدمی بے تابی اور اشتیاق سے دوڑ رہا ہے اور ہارون کی آمد پر آدمی صرف پولیس و حکام کے ڈر سے آتے ہیں. [طبقات ابن سعد، العلم والعلما ص/50].
    بہرے حال علم دین کے ساتھ بھی وجہ معاش مل سکتا ہے اگر عالم کو حسب منشا کوئی مدرسہ، کوئی ادارہ نہ ملے تو اپنی تجارت، صنعت وحرفت اور مختلف پیشوں میں لگ کر اپنی زندگی اچھی طرح گزار سکتا ہے، چنانچہ علماء سلف اس طرح زندگی گزاری ہے، چند مثالیں ملاحظہ کیجئے:
    1-امام بخاری کے کاتب اور خادم محمد بن ابی حاتم کہتے ہیں کہ امام بخاری کی کچھ زمین تھی، آپ اسے سات سو درہم سالانہ کے عوض ٹھیکے پر دیتے تھے. [سير أعلام النبلاء 449/12].
    محمد بن ابی حاتم کہتے ہیں ایک دن امام بخاری بڑی بے تکلفی سے کہنے لگے :ابو جعفر! ہمیں سال بھر کے اخراجات کے لئے بہت زیادہ رقم درکار ہے، میں نے پوچھا :کتنی؟ فرمایا :مجھے سال بھر میں چار پانچ ہزار درہم درکار ہیں[سير أعلام النبلاء 450/12]
    2-پندرہویں صدی ہجری کے مجدد، محدث عصر، فقیہ ملت شیخ علامہ ناصر الدین البانی کا تو آپ نے نام سنا ہی ہوگا، تقریباً بائیس سال کے عمر میں انہیں ان کے والد نے ان کے گھر اور دکان سے نکال دیا تھا، کسی سے قرض لے کر انہوں نے ایک دکان کرائے پر لی اور گھڑی سازی کا کام الگ کرنے لگے، تھوڑی سی زمین سستی قیمت پر خرید لی اور اسی پر اپنا گھر بھی بنا لیا اور دکان بھی کھول لی.[مجموعہ مقالات عبد الحمید رحمانی 323/3].
    3-حافظ محمد بن حارث جن کی فن تاریخ میں کئی کتابیں ہیں وہ مفلس اس قدر تھے کہ دکان میں تیل فروخت کرکے گذر بسر کرتے تھے[تذكرة الحفاظ 209/3].
    4-علامہ عبد اللہ بن سادہ اپنے زمانہ کے مشہور ذی علم بزرگ تھے، اشبیلہ میں جلد سازی کرکے کے گزر کے اوقات کرتے تھے. [الفلاكة والمفلوكون،العلم والعلماء ص/41].
    5-امام ابوبکر (سکاف) موچی تھے.
    6-شمس الائمہ حلوائی تھے.
    7-محمد بن سیرین بزاز تھے.
    7-ایوب سختیانی سوداگر تھے.
    8-مالک بن دینار کاغذ فروش تھے.
    9-زاہد مجمع جامہ باف تھے.
    10-حسن ربیع بواری(امام بخاری کے استاد) ٹاٹ بنتے تھے.
    11-امام ابن الجوزی ٹھٹھیر تھے. [دیکھو العلم والعلما ص/42،ندوہ ماہ ستمبر 1911].
    وہ قطب زماں ٹھہرے عطار تھے جو
    بنے مرجع خلق نجار تھے جو
    مولانا عبد الرؤوف جھنڈا نگری مرحوم نے طلبہ کو نصیحت کرتے ہوئے لکھا ہے :
    "مناسب ہے کہ وہ طلبائے کرام جو کبھی علما کا خطاب پائیں گے اگر غریب ہیں تو اپنے اسلاف کی طرح مختلف پیشہ اختیار کرکے گزر بسر کریں اور ہر گز در در کی گدائی، شہر شہر بھیک مانگنا اپنا شغل نہ کریں، الحذر ثم الحذر.
    اور اگر مالدار ہیں تو ان کی اپنی اوسط درجہ کی آمدنی خود کافی ہے اور ہر حالت میں علمی سلسلہ ترک نہ کریں. [العلم والعلما ص /42].
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں