1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

علم روایت میں تقسیم آحاد و تواتر

'علم القراءات' میں موضوعات آغاز کردہ از ساجد, ‏مارچ 28، 2012۔

  1. ‏مارچ 28، 2012 #11
    ساجد

    ساجد رکن ادارہ محدث
    جگہ:
    قصور(بھاگیوال)
    شمولیت:
    ‏مارچ 02، 2011
    پیغامات:
    6,602
    موصول شکریہ جات:
    9,357
    تمغے کے پوائنٹ:
    635

    (٢) اَوصاف کے اعتبار سے
    بعض کہتے ہیں کہ یہ کثرت لاتعداد ہو اور ذاتی طور پر اس کا جھوٹ پرمتفق ہونا ناممکن ہو۔ جبکہ بعض کہتے ہیں کہ ذاتی طور پر کی بجائے اسلام، تقویٰ، عدالت، تباین اماکن، تفرق ھمم اور مختلف طبائع و آراء کی بناء پر جھوٹ پرمتفق ہونا محال ہو، اسی طرح دیگر قرائن موجبہ کی وجہ سے جھوٹ پرمتفق ہونا محال ہو، جن سے قطعیت اور یقین حاصل ہوتا ہے۔ جیسا کہ اِمام اتقانی﷫ نے ’التبیین‘ (۱؍۵۸۲) میں، بزدوی نے ’الاصول‘ (۲؍۶۵۸) میں، خبازی نے ’المغني‘ (ص:۱۹۱) میں، سرخسی نے ’الأصول‘ (۱؍۲۸۲) میں، حسامی نے ’المنتخب‘ (۱؍۴۱۷) اور ابویعلی نے ’العدۃ‘ (۳؍۸۵۶) میں نقل کیا ہے۔
    اس سے معلوم ہوتا ہے کہ محض عوامی کثرت جس پر فلاسفہ کے ہاں تواتر کا مدار ہے وہ اپنی اصلی طبیعت میں کسی قطعی یا یقینی شئ کی تحقیق کے لیے مناسب نہیں ہے، ورنہ یہ لوگ اس کی مقدار اور اَوصاف میں اتنا شدید اِختلاف نہ کرتے کہ اختلافی مسائل میں جس کی مثال ملنا مشکل ہے۔
     
    • شکریہ شکریہ x 1
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
  2. ‏مارچ 28، 2012 #12
    ساجد

    ساجد رکن ادارہ محدث
    جگہ:
    قصور(بھاگیوال)
    شمولیت:
    ‏مارچ 02، 2011
    پیغامات:
    6,602
    موصول شکریہ جات:
    9,357
    تمغے کے پوائنٹ:
    635

    (٤) فلاسفہ کے تواتر کی معمولی فکر اور قطعی اُمور کی تحقیق میں اس کے غیر صالح ہونے کی وجہ سے متعدد متقدمین ومتاخرین نے عددی کثرت کا اعتبار کرنا ترک کردیا۔ کیونکہ تنہا عددی کثرت سے قطعیت حاصل نہیں ہوتی۔ جیسا کہ اِمام رازیa فرماتے ہیں:
    ’’غیر مستبعد فی العقل صدور الکذب عنھم‘‘، ’’ان سے جھوٹ کا صدور عقلاً بعید نہیں ہے۔‘‘
    چنانچہ انہوں نے اس کی تعریف میں فقط حصول قطعیت پر اعتماد کیا ہے کہ ’’ما أفاد القطع‘‘ ’جو قطعیت کا فائدہ دے‘ یا ’’ماحصل العلم عندہ‘‘ ’’جس سے علم حاصل ہو‘‘ یا ’’کل خبر أوجب العلم ضرورۃً‘‘’ ’ہر وہ خبر جو علم ضروری کو و اجب کردے، وہ متواتر ہے۔‘‘
    ان تعریفات میں کلمہ ’ما‘ اور ’کل‘ عموم کے صیغے ہیں جو ہراس عددی کثرت یا قلت کو شامل ہیں جو عدالت، ضبط، اِتقان، قرائن موجبہ یا سامع کے مزاج، صلاحیت اور اَحوال کے ساتھ قطعیت کا فائدہ دے۔ ان کے عموم کا تقاضا ہے کہ ہر وہ شئ جو کسی بھی وجہ سے یقین کا فائدہ دے وہ متواتر اصطلاحی ہے۔
    لیکن عام اہل رائے، متکلمین اُصولیین اور اکثر مبتدعہ جیسے اَشاعرہ اور ماتریدیہ وغیرہ نے اپنی کتب اصول میںاس کی مذکورہ تعاریف کی ہیں جو اس کے اِمکان کی تحقیق اور اس کے فہم کو اذہان کے قریب کرنے پر دلالت کرتی ہیں۔ لیکن وہ اپنی فقہی اور عقائدی اَبحاث میں اس کی طرف توجہ نہیں کرتے بلکہ محض عدد کے سقیم نظریے کو ہی ملحوظ رکھتے ہیں۔ چنانچہ وہ اَحادیث پر تواتر اور آحاد کا حکم لگاتے وقت کثرت اور عدم کثرت کا لحاظ رکھتے ہیں۔ مگر ان اَحادیث میں ایسا حکم نہیں لگاتے جو ان کی خواہش، رائے اور بدعت کے موافق ہو۔ چنانچہ اس میں وہ کہتے ہیں کہ یہ متواتر ہے یا پھر متواتر کے حکم میں ہے۔ اَہل رائے اور مبتدعہ میں یہ معروف شئ ہے۔ ونعوذ باﷲ من ذلک۔
    مگر جس شخص کی رگوں میں ارسطو کا فلسفہ خون کی طرح گردش کررہا ہو اس کا معاملہ ان سے مختلف ہے وہ اس شکل میں ’’ یَتَجَرَّعُہٗ وَلاَ یَکَادُ یُسِیْغُہٗ ‘‘ (ابراھیم:۱۷) کا مصداق بن جاتا ہے۔
     
    • شکریہ شکریہ x 1
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
  3. ‏مارچ 28، 2012 #13
    ساجد

    ساجد رکن ادارہ محدث
    جگہ:
    قصور(بھاگیوال)
    شمولیت:
    ‏مارچ 02، 2011
    پیغامات:
    6,602
    موصول شکریہ جات:
    9,357
    تمغے کے پوائنٹ:
    635

    (٥) جب اَخبار میں قطعیت کے حصول کے لیے عددی کثرت کے علاوہ دیگر اَسباب بھی موجود ہیں تو پھر محض عددی کثرت کے جنون میں مبتلا ہونے کی معقولیت سمجھ میں نہیں آتی۔ حقیقت حال یہ ہے کہ قطعیت کے دیگر کئی موجبات موجود ہیں۔
    اگر تواتر سے صرف قطعیت مقصود ہے تو پھر تنہا عددی کثرت کے ساتھ اس کی تعریف کرنا درست نہیں ہے اور اگر اس کا مقصود اَخبار کی عددی تقسیم ہے تو پھر تواتر کی تحقیق کے لیے جمیع اَحوال میں، عدد کو قطعیت کے ساتھ معلق کرنے کی کوئی وجہ نہیں ہے۔ کیونکہ بسا اَوقات مشہور، عزیز اور غریب سے بھی قطعیت حاصل ہوجاتی ہے۔ اس کی عددی تقسیم کے اعتبار سے اس کی ماہیت میں کوئی اضطراب اور محدثین کی اصطلاح میں کوئی اختلاف نہیں ہوتا۔ اور اگر تواتر کا مقصود کما و کیفا مجہول عددی کثرت اور قطعیت کو جمع کرنا ہے جو ان کا مقصود ہے تو اس جمع میںسب فساد ہی فساد ہے۔ کیونکہ مجہول کثرت جمیع اَحوال میں قطعیت کا فائدہ نہیں دیتی اور اگر اس سے قطعیت پیدا ہوبھی جائے تو اس کا کوئی ضابطہ نہیں بنایا جاسکتا۔
    علمی مصطلحات کا تقاضا ہے کہ اس کی ماہیت، شروط اور نتائج معلوم و منضبط ہوں۔ ورنہ یہ مہملات ہوں گی جن سے نفیس حقائق اور شرعی مفاہیم اَخذ کرنا تو درکنار، ان سے علمی مصالح بھی اخذ نہیں کیے جاسکتے۔ مجہول عددی کثرت اور قطعیت کے درمیان فساد کی یہی وجہ ہے۔ متواتر کی تعبیر اور تعریف میں اختلاف اور اہل علم کی عبارات میں تنوع بھی اسی فساد اور مشکل سے نکلنے کی وجہ سے ہے جس کی طرف ہم نے اِشارہ کیا ہے اور یہ مسلسل قائم ہے۔ جن سے صرف دو وجوہ سے نکلا جاسکتا ہے۔
     
    • شکریہ شکریہ x 1
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
  4. ‏مارچ 28، 2012 #14
    ساجد

    ساجد رکن ادارہ محدث
    جگہ:
    قصور(بھاگیوال)
    شمولیت:
    ‏مارچ 02، 2011
    پیغامات:
    6,602
    موصول شکریہ جات:
    9,357
    تمغے کے پوائنٹ:
    635

    (١) یا تو یہ کہا جائے کہ جو بھی قطعیت کا فائدہ دے وہ متواتر ہے۔ خواہ کسی اعتبار سے بھی فائدہ دے، وہ اصطلاحاً متواتر ہے۔ اور عددی کثرت کے جنون سے نکلا جائے۔ جیسا کہ اِمام رازی﷫ ’المعالم‘ (ص:۳۵) میں فرماتے ہیں:
    ’’تواتر کی تین شروط ہیں:
    (١) مخبر عنہ محسوس ہو(٢) مخبرین نے ایسی حالت پر خبر دی ہو جس حالت پر ان کا جھوٹ پر متفق ہونا محال ہو اور جھوٹ کے اِمکان سے مانع یہ حالت کبھی تو مخبرین کی کثرت سے حاصل ہوتی ہے اور کبھی سارے قرائن کے حصول سے حاصل ہوتی ہے۔
    یعنی اِمام رازی﷫ نے (صرف کثرت رواۃ کی بجائے) تمام قرائن کے سبب، جھوٹ کے اِمکان سے مانع حالت کا اِعتبار کیاہے اور اسے اِصطلاحاً تواتر کہا ہے۔ لیکن اس صورت میں یہ (متواتر) حجت لازمہ کی حیثیت سے خارج ہوجائے گا اور دیگر عوارض شخصیہ کی مانند ایک عارضہ باقی رہ جائے گا جوبعض معیّن اشخاص کو معین موجبات کے سبب پیش آتے ہیں جیسے خوشی، غمی، غصہ، کھانسی اور بخار وغیرہ۔ جس طرح ان عوارض کو دوسروں تک متعدی کرنے کا مکلف نہیں بنایا جاسکتا، اسی طرح بعض اشخاص کو حاصل ہونے والی قطعیت کو دیگر پر لازم نہیں کیاجاسکتا۔
     
    • شکریہ شکریہ x 1
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
  5. ‏مارچ 28، 2012 #15
    ساجد

    ساجد رکن ادارہ محدث
    جگہ:
    قصور(بھاگیوال)
    شمولیت:
    ‏مارچ 02، 2011
    پیغامات:
    6,602
    موصول شکریہ جات:
    9,357
    تمغے کے پوائنٹ:
    635

    (٢) یا یہ کہا جائے کہ متواتر وہ ہے جس کے رواۃ کی تعداد فلاں عدد سے کم نہ ہو، جیسا کہ محدثین کے ہاں مشہور، عزیز اور غریب کی تعریف میں کہا گیا ہے اور جمیع اَحوال میں اس (متواتر) کے ساتھ قطعیت کی تحقیق کے جنون سے چھٹکارا پالیا جائے۔ اور یہی کہنا واجب ہے۔ خصوصاً ان لوگوں کے ہاں جو متواتر کے رواۃ میں اسلام اور عدالت وغیرہ جیسی شروط لگاتے ہیں۔ ورنہ یا تو عدد غیر منضبط ہوگا جس سے تقسیم باطل ہوجائے گی یا قطعیت ثابت نہیں ہوگی جس سے تواتر، مشہور، عزیز اور غریب کی تفریق باطل ہوجائے گی اور تواتر شیطانی کھلونا بن جائے گا جسے بیمار دلوں والے اپنی بدعات و خرافات کی ترویج کے لیے استعمال کریں گے۔ اُنہوں نے اسے استعمال کیا، بلکہ مستقبل میں بھی کرتے رہیں گے۔
     
    • شکریہ شکریہ x 1
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
  6. ‏مارچ 28، 2012 #16
    ساجد

    ساجد رکن ادارہ محدث
    جگہ:
    قصور(بھاگیوال)
    شمولیت:
    ‏مارچ 02، 2011
    پیغامات:
    6,602
    موصول شکریہ جات:
    9,357
    تمغے کے پوائنٹ:
    635

    (٣) مصطلحات کو اِیجاد کرنے کا علمی طریقہ یہ ہے کہ اَسباب، شروط اور موجبات کے ذریعے، جن پر اصطلاح کی معنویت قائم ہوتی ہے، نتائج تک پہنچنے کی کوشش کرنا۔ جیسا کہ عدالت،ضبط، اِتصال سند اور عدم علّت و شذوذ کے ذریعے صحت حدیث تک پہنچا جاتا ہے اور اَرکان، اصل، فرع اور علت کے ذریعے وجود قیاس تک پہنچا جاتاہے۔ نہ کہ نتائج کے تحقق کے ذریعے اَسباب تک پہنچا جائے۔ کیونکہ شرائط اورموجبات، جن پرنتائج متحقق ہوتے ہیں، یہی اعتبار اور قیاس کے وقوع کے لیے مصطلحات کی تنسیق کرتے ہیں اور مصطلحات کو اَحکام و اِنضباط کی صنعت سے منضبط کرتے ہیں نہ کہ اثبات، تعریف اور تحقیق میں نتائج کے بعد شرائط و علل بیان کی جائیں۔ مثلاً اگر کوئی شخص کہتا ہے کہ میں صحت خبر کی وجہ سے عدالت، ضبط اور اتصال سند پر استدلال کرتا ہوں یا کہے کہ میں قیاس کے وجود کی وجہ سے اس کے ارکان پر استدلال کرتا ہوں تو ایسے آدمی کو اپنے دماغ میں موفّق علماء کی فکر کا حامل قرار نہیں دیا جاسکتا۔
    اسی طرح اس آدمی کی رائے میں بھی کوئی معقولیت نہیں ہے، جوکہتا ہے کہ متواتر، عدد کثیر اور قطعیت سے عبارت ہے۔ پھر کہتا ہے :
    ’’بأننا بحصول العلم الضروري نستدل علی کمال العدد، لا إنا نستدل بکمال العدد علی حصول العلم۔‘‘
    ’’ہم علم ضروری کے حصول کے ساتھ، کمال عدد پر استدلال کرتے ہیں، نہ کہ کمال عدد کے ساتھ حصول علم پر اِستدلال کرتے ہیں۔‘‘
    جیسا کہ اِمام علاء الدین البخاری﷫ نے کشف الأسرار (۲؍۶۵۸) میں، امام جزری﷫ نے ’جامع الأصول‘ (۱؍۱۲۲) میں، امام سبکی﷫ نے ’جمع الجوامع مع الغیث الھامع‘ (۲؍۴۸۳) میں، امام الکاکی﷫ نے ’جامع الأسرار‘ (۳؍۶۳۷) میں، امام فناری﷫ نے ’الفصول‘ (۲؍۲۱۵) میں، امام الھمام﷫ نے ’التحریر‘ (ص:۳۱۰) میں اور امام قاآنی﷫ نے ’شرح المغني‘ (۲۷) میں نقل کیا ہے۔
     
    • شکریہ شکریہ x 1
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
  7. ‏مارچ 28، 2012 #17
    ساجد

    ساجد رکن ادارہ محدث
    جگہ:
    قصور(بھاگیوال)
    شمولیت:
    ‏مارچ 02، 2011
    پیغامات:
    6,602
    موصول شکریہ جات:
    9,357
    تمغے کے پوائنٹ:
    635

    کیونکہ اس سے عدم اِنضباط لازم آتا ہے اور جو شئ محکم اور عامۃ الناس کے ہاں معتبر اصولوں سے منضبط نہ ہو اسے شخصی فائدہ گردانا جاتا ہے، جو مختلف اَسباب اور مختلف اَوقات میں مختلف لوگوں کوپیش آتا ہے اور وہ حجیت تامہ کی صلاحیت سے محروم ہوجاتا ہے۔ لہٰذا وہ قاعدہ احتجاج اور اِستدلال میں لاکر شئ کی نفی یا اثبات کے وقت مدمقابل پر پیش کرنا مناسب نہیں ہوتا۔
    (٧) خبر شرعی ہو یا غیر شرعی، اِنسان لامحالہ زیادہ سے زیادہ اسے سنتا اور سنانا چاہتا ہے۔ فکر صحیح، عقل سلیم اور منہج مستقیم کا تقاضا ہے کہ اللہ کی شریعت میں سے سچ اور جھوٹ کے موجبات اور اَسالیب کو تلاش کیا جائے۔ پھر تحقیق روایات اور تدقیق اَخبار کے لیے ان اصولوں پر اعتماد کیا جائے جن پر شریعت نے اعتماد کیا ہے۔ یہ غیر معقول اَمر ہے کہ ایسے اصولوں پر اعتماد کیا جائے جن پر شریعت نے اعتماد نہ کیا ہو اور اجتماعی یا شخصی اُمور زندگی میں ان کو ان اُمور کا پابند نہ کیا گیا ہو۔ جن اُمور کا شریعت نے اِعتبار کیا ہے وہ صداقت، عدالت، امانت اور ہر وہ شئ جو جھوٹ کی ضد ہو جیسی صفات کا راوی میں پایا جانا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
    ’’وَأَشْھِدُوْا ذَوَیْ عَدْلٍ مِّنْکُمْ‘‘ (الطلاق:۲) ’’اور تم اپنے میں سے دو عادل لوگوں کو گواہ بنا لو‘‘
    اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
    ’’یَحْکُمُ بِہٖ ذَوَا عَدْلٍ مِّنْکُمْ‘‘ (المائدہ:۹۵) ’’اور تم میں سے دو عادل آدمی اس کا فیصلہ کریں ۔‘‘
    اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
    ’’إِنْ جَآء َکُمْ فَاسِقٌ بِنَبَاٍ فَتَبَیَّنُوْا‘‘ (الحجرات:۶) ’’ اگر تمہارے پاس فاسق کوئی خبر لائے تو اس کی تحقیق کرلیا کرو۔‘‘
    اور اس معنی کی متعدد نصوص موجود ہیں۔اسی طرح شریعت نے ضبط، اتفاق اور سنی ہوئی شئ کو یاد رکھنے جیسی صفات کا اعتبار کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
    ’’ أَنْ تَضِلَّ اِحْدٰٹھُمَا فَتُذَکِّرَ اِحْدٰٹھُمَا الْأُخْریٰ‘‘ (البقرہ:۲۸۲)
    ’’اگر ان میں سے ایک بھول جائے تو دوسری اسے یاد دلائے۔‘‘
     
    • شکریہ شکریہ x 1
    • علمی علمی x 1
    • لسٹ
  8. ‏مارچ 28، 2012 #18
    ساجد

    ساجد رکن ادارہ محدث
    جگہ:
    قصور(بھاگیوال)
    شمولیت:
    ‏مارچ 02، 2011
    پیغامات:
    6,602
    موصول شکریہ جات:
    9,357
    تمغے کے پوائنٹ:
    635

    نبی کریمﷺنے فرمایا:
    ’’ نَضَّرَ اﷲُ امْرَأً سَمِعَ مَقَالَتِيْ فَوَعَاھَا وَأَدَّاھَا کَمَا سَمِعَھَا‘‘۔ (المستخرج علی المستدرک: ۱۳)
    ’’اللہ تعالیٰ ایسے شخص کو تروتازہ رکھے جس نے میری بات کو سنا، اپنے پاس محفوظ کرلیا اور جیسا سنا تھا اسے آگے پہنچا دیا۔‘‘
    نبی کریمﷺنے فرمایا:
    ’’کَفٰی بِالْمَرْئِ کَذِبًا أَنْ یُّحَدِّثَ بِکُلِّ مَا سَمِعَ‘‘۔ (مسلم:۵)
    ’’آدمی کے جھوٹا ہونے کے لیے اتنا ہی کافی ہے کہ ہر سنی سنائی بات کو آگے بیان کردے۔‘‘
    اسی طرح شریعت نے فہم صحیح (غیر فاطئ) کے ساتھ سماع متصل کا اعتبار کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
    ’’وَلَاتَکُوْنُوْا کَالَّذِیْنَ قَالُوْا سَمِعْنَا وَھُمْ لَا یَسْمَعُوْنَ‘‘ (الانفال:۲۱)
    ’’اور تم ان لوگوں کے مانند نہ ہوجاؤ جنہوں نے کہا کہ ہم نے سنا حالانکہ وہ نہیں سنتے ہیں۔‘‘
    اسی طرح شریعت نے عدم شذوذ، عدم انحراف، عدم تفرد اور عدم تطرف کابھی اعتبار کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
    ’’وَمَنْ یُشَاقِقِ الرَّسُوْلَ مِنْ بَعْدِ مَاتَبَیَّنَ لَہٗ الْھُدٰی وَ یَتَّبِعْ غَیْرَ سَبِیْلِ الْمَؤْمِنِیْنَ نُوَلِّہٖ مَا تَوَلّٰی وَ نُصْلِہٖ جَھَنَّمَ وَسَآئَتْ مَصِیْراً‘‘ (النساء:۱۱۵)
    ’’اور جو شخص ہدایت واضح ہوجانے کے بعد رسولﷺ کی مخالفت کرتا ہے اور غیر سبیل المؤمنین کی پیروی کرتا ہے، ہم اُسے اسی طرف ہی پھیر دیتے ہیں جس طرف وہ پھر جاتاہے اور ہم اسے جہنم میں داخل کریں گے جوبہت ہی بُرا ٹھکانہ ہے۔‘‘
     
    • شکریہ شکریہ x 1
    • علمی علمی x 1
    • لسٹ
  9. ‏مارچ 28، 2012 #19
    ساجد

    ساجد رکن ادارہ محدث
    جگہ:
    قصور(بھاگیوال)
    شمولیت:
    ‏مارچ 02، 2011
    پیغامات:
    6,602
    موصول شکریہ جات:
    9,357
    تمغے کے پوائنٹ:
    635

    اِتنی احتیاط کے باوجود اَخبار کو لاحق خفیہ علتوں کی تحقیق و تدقیق کا حکم دیا گیاہے، جن کو صرف خواص ہی جانتے ہیں، عامۃ الناس نہیں جانتے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
    ’’وَلَا تَقْفُ مَالَیْسَ لَکَ بِہٖ عِلْمٌ‘‘ (الاسراء: ۳۶) ’’اور اس چیز کے پیچھے مت چل جس کا تجھے علم نہیں ہے۔‘‘
    نیز اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
    ’’إِنْ جَآء َکُمْ فَاسِقٌ بِنَبَاٍ فَتَبَیَّنُوْا‘‘ (الحجرات:۶۱) ’’ اگر تمہارے پاس فاسق کوئی خبر لائے تو اس کی تحقیق کرلیا کرو۔‘‘
    یعنی فاسق آدمی کی خبر کی تحقیق و تدقیق کا حکم دیا گیا ہے جو اس کی ظاہری صحت سے مانع نہیں ہے۔
    نبی کریمﷺکا فرمان ہے:
    ’’مَنْ أُفْتِيَ بِفُتْیَا مِنْ غَیْرِ ثَبْتٍ فَإِنَّمَا إِثْمُہٗ عَلـٰی مَنْ أَفْتَاہُ‘‘ (دارمی:۱۶۱)
    ’’جس شخص نے بغیر ثبوت کے فتوی دیا اس کا گناہ فتوی دینے والے پر ہے۔‘‘
    یہ ہے اَخبار و رِوایات کی تحقیق و تدقیق کا ربانی منہج، جس پر محدثین کرام چلتے رہے اور اُمت نے اس روشن منہج پر اعتماد کیا۔ یہی وہ کامل منہج ہے جو حق کی باطل سے، مقبول کی مردودسے اور صحیح کی ضعیف سے تمیز کردیتا ہے۔
    لیکن فلاسفہ کا تواتر جو مجہول عوامی کثرت پر قائم ہے وہ متضاد افکار اور تشویشناک تصورات کا مجموعہ ہے۔ اخبار و روایات اور شہادات کی تحقیق و تدقیق میں شریعت نے اس پر اعتماد نہیں کیا۔ عبادات و معاملات جیسی بندوں کی ضروریات کو اس پرمعلق نہیں کیا۔ اللہ کی شریعت کے اصول میں یہ مہجورہ، مرفوضہ اور ملغی (تواتر) ہے۔
     
    • شکریہ شکریہ x 1
    • علمی علمی x 1
    • لسٹ
  10. ‏مارچ 28، 2012 #20
    ساجد

    ساجد رکن ادارہ محدث
    جگہ:
    قصور(بھاگیوال)
    شمولیت:
    ‏مارچ 02، 2011
    پیغامات:
    6,602
    موصول شکریہ جات:
    9,357
    تمغے کے پوائنٹ:
    635

    (٨) متواتر کی ماہیت کو بیان کرنے کے لیے اصولیوں کی ذکر کردہ تعاریف کا خلاصہ یہ ہے کہ متواتر صدق محض ہے یا متواتر صدق ہی ہوتا ہے۔ حالانکہ یہ عقیدہ رکھنا انتہائی فاسد ہے۔ کیونکہ ان کے نزدیک متواتر وہ ہے جس کو کثیر اَفراد نقل کریں اگر تو ان کثیر اَفراد کا جھوٹ پر اکٹھا ہونا محال ہو تو وہ متواتر صدق ہے اور اگر ان کا جھوٹ پر اکٹھا ہونا ممکن ہوتو وہ متواتر نوعیت اور اِمکان کی کمیت کے اعتبار سے خطا اور غلط ہے اور اگر اس کے ساتھ جھوٹ کے قرائن بھی شامل ہوجائیں تو وہ تواتر کذب ہے۔
    جیسا کہ مشہور میں صدق و کذب دونوں کا احتمال ہوتا ہے اور خبر واحد کبھی صادق اور کبھی کاذب ہوتی ہے۔ اسی طرح متواتربھی صادق و کاذب ہوتا ہے، کیونکہ تواتر، شہرت اور احادیث سب کے سب خبر کے انتشار اور پھیلاؤ کے ذرائع ہیں۔ جس طرح سچ ان ذرائع سے پھیلتا ہے اسی طرح وہم، خطا اور جھوٹ بھی ان ذرائع سے پھیلتا ہے۔
    جس طرح تواتر صدق (اپنی کثیر تعداد کے باوجود)جھوٹ پر اکٹھا ہونے کے عدم امکان کا محتاج ہے۔ اِسی طرح تواتر کذب و خطا، جھوٹ اور خطاء پراکٹھا ہونے کے اِمکان کا محتاج ہے۔
     
    • شکریہ شکریہ x 1
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں