1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

علم روایت میں تقسیم آحاد و تواتر

'علم القراءات' میں موضوعات آغاز کردہ از ساجد, ‏مارچ 28، 2012۔

  1. ‏مارچ 28، 2012 #21
    ساجد

    ساجد رکن ادارہ محدث
    جگہ:
    قصور(بھاگیوال)
    شمولیت:
    ‏مارچ 02، 2011
    پیغامات:
    6,602
    موصول شکریہ جات:
    9,357
    تمغے کے پوائنٹ:
    635

    ٭ حافظ ابن حجر﷫ ’شرح نخبۃ الفکر‘ (ص:۱۰) میں متواتر کی ماہیت کے تحقق کے لئے چار شرائط نقل کرنے کے بعد فرماتے ہیں:
    ’’وقد یقال: إن الشروط الأربعۃ إذا حصلت استلزمت حصول العلم، وھو کذلک في الغالب، وقد یتخلف عن البعض لمانع‘‘
    ’’بسا اَوقات کہا جاتا ہے کہ جب مذکورہ چاروں شروط پائی جائیں تو علم حاصل ہوجاتا ہے۔ غالباً ایسا ہی ہوتا ہے لیکن بسا اَوقات کسی مانع کی وجہ سے حصول علم پیچھے رہ جاتا ہے۔‘‘
    ٭ امام ابن حجر﷫کے قول: ’’وھو کذلک في الغالب‘‘ ’’غالباً ایسا ہی ہوتا ہے۔‘ ‘سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کے نزدیک جمیع شروط پائے جانے کے باوجود ضروری نہیں ہے کہ متواتر جمیع احوال میں جمیع لوگوں کے لیے علم قطعی کا فائدہ دے۔
    ٭ امام أجھوری ’شرح نخبۃ‘ (ورقہ:۱۵) میں الکمال سے نقلا ً فرماتے ہیں:
    ’’المتواتر قد لا یفید العلم، لکون العلم الذي یحصل بہ حاصل عند السامع، أو لکونہ عالما بنقیضہٖ لامتناع اجتماع النقیضین‘‘
    ’’متواتر بسااَوقات علم کا فائدہ نہیں دیتا، کیونکہ کبھی کبھار متواتر سے حاصل ہونے والا علم سامع کو پہلے سے ہی معلوم ہوتا ہے یا سامع اس علم کی نقیض کو جانتا ہوتا ہے۔‘‘
    یہ قول اِس اَمر پر دلالت کرتا ہے کہ متواتر کبھی کبھی اپنی نقیض سے متصادم ہوتا ہے اور جوچیز اپنی نقیض سے مناقض ہو وہ صدق و کذب کے باب میں داخل ہوتی ہے اور صدق محض کے دائرہ سے خارج ہوجاتی ہے۔
     
    • شکریہ شکریہ x 1
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
  2. ‏مارچ 28، 2012 #22
    ساجد

    ساجد رکن ادارہ محدث
    جگہ:
    قصور(بھاگیوال)
    شمولیت:
    ‏مارچ 02، 2011
    پیغامات:
    6,602
    موصول شکریہ جات:
    9,357
    تمغے کے پوائنٹ:
    635

    ٭ أبویعلی الحنبلي ’العدۃ‘ (۳؍۸۴۵) میں فرماتے ہیں:
    ’’والعلم الواقع بالأخبار المتواترۃ لیس من شرطہ أن یجمع الناس کلھم علی التصدیق بہ۔‘‘
    ’’اَخبار متواترہ کے ساتھ واقع ہونے والے علم کے لیے یہ شرط نہیں ہے کہ اس کی تصدیق پر تمام لوگ جمع ہوجائیں۔‘‘
    آل ابن تیمیہ﷫ نے ’المسودۃ‘ (۱؍۴۶۸) میں بھی ایسا ہی کہا ہے۔
    امام قرافی﷫ نے ’التنقیح‘ (ص:۳۵) میں ، اور ابوعلی الشوشاوی نے ’رفع النقاب‘ (۵؍۳۲) میں ذکر کیا ہے:
    ’’ونحن لا ندعي حصول العلم أي بالمتواتر في جمیع الصور، بل ادعینا أنہ قد یحصل، وذلک لا ینافي عدم حصولہ في کثیر من الصور۔‘‘
    ’’ہم جمیع صورتوں میں (متواتر سے) حصول علم کا دعویٰ نہیں کرتے بلکہ ہمارا دعویٰ ہے کہ بسااوقات متواتر سے علم حاصل ہوجاتا ہے اور یہ قول کثیر صورتوں میں علم کے عدم حصول کے منافی نہیں ہے۔‘‘
    اسی طرح اِمام عینی﷫ نے ’العمدۃ‘ (۲۰؍۳۰۷) میں فاطمہ بنت قیس کی حدیث کا حکم لگاتے ہوئے فرمایا ہے کہ یہ حدیث متعدد صحیح متواتر وجوہ سے مروی ہے، لیکن اس کے باوجود اکثر حنفی اُصولیوں نے اس کو منکر کہا ہے اور کتب فقہ میں ایسی متعدد اَمثلہ موجود ہیں۔
    کائنات میں سینکڑوں ایسے جھوٹ اور شیطانی عقائد ہیں جو تواتر کے ساتھ پھیل رہے ہیں، جنہیں کروڑوں لوگوں نے اپنایا ہوا ہے اور وہ ان کے صدق اور صحت پر یقین راسخ رکھتے ہیں جیسے یہود و نصاریٰ اور ہندوؤں کے عقائد وغیرہ۔
     
    • شکریہ شکریہ x 1
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
  3. ‏مارچ 28، 2012 #23
    ساجد

    ساجد رکن ادارہ محدث
    جگہ:
    قصور(بھاگیوال)
    شمولیت:
    ‏مارچ 02، 2011
    پیغامات:
    6,602
    موصول شکریہ جات:
    9,357
    تمغے کے پوائنٹ:
    635

    لہٰذا اصولیوں کا اس اَمر پر اِصرار کرنا کہ جھوٹ، وہم اور خطا متواتر نہیں ہوتے یا یہ کہنا کہ متواتر صدقِ محض ہوتا ہے غلط اور فاسد ہے۔
    حق بات یہی ہے کہ اَخبار میں صدق و کذب ایسی چیز ہے جو کثرت محضہ کے علاوہ کسی دوسری چیز پر موقوف ہے۔کثرت تو ایک اَمر اضافی ہے وہ جس طرح سچ کے ساتھ جمع ہوجاتاہے اسی طرح جھوٹ کے ساتھ بھی جمع ہوجاتا ہے۔لہٰذا محقق پر واجب ہے کہ وہ موجبات صدق و کذب کو دقت نظر سے دیکھے اور احتیاط سے حکم لگائے۔ شرع نے اس کے لیے اسلام، عدالت، اَمانت اور تقویٰ و غیرہ جیسی صفات کا اعتبار کیا ہے بلکہ حقیقت یہ ہے کہ مذکورہ صفات کے بغیر انسان کی کوئی قیمت نہیں ہے،جیسا کہ محدثین کا مذہب ہے۔ جنہوں نے احادیث رسول کی حفاظت فرمائی۔ اللہ تعالیٰ انہیں جزائے خیر عطا فرمائے۔
     
    • شکریہ شکریہ x 1
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
  4. ‏مارچ 28، 2012 #24
    ساجد

    ساجد رکن ادارہ محدث
    جگہ:
    قصور(بھاگیوال)
    شمولیت:
    ‏مارچ 02، 2011
    پیغامات:
    6,602
    موصول شکریہ جات:
    9,357
    تمغے کے پوائنٹ:
    635

    (٩) متعدد اُصولیوں نے متواتر کی تعریف ’’أن المتواتر ما أفاد العلم‘‘کی ہے۔ یعنی متواتر وہ ہے جو علم کا فائدہ دے۔ پھر وہ اس کی تقسیم کرنے بیٹھ گئے کہ اخبار متواترہ میں سے بعض بنفسہ قطعیت کا فائدہ دیتی ہیں اور بعض دیگر قرائن کے ساتھ مل کر قطعیت کا فائدہ دیتی ہیں۔
    اور یہ جملہ بھی… اﷲ اعلم… جلد بازی، تغافل اور سوئِ تفکیر کا نتیجہ ہے، کیونکہ ان کے نزدیک محض عدد بنفسہٖ یا دیگر قرائن کے ساتھ مل کر قطعیت کو لازم نہیں ہے، جیسا کہ ہم نے تفصیل کے ساتھ بیان کیا ہے،بلکہ قطعیت کے حصول کے لیے عدد، موجبات قطعیت کا محتاج ہے اور وہ موجبات یا تو مخبرین (رواۃ) ہیں جن میں اسلام، عدالت، تقوی، اختلاف اماکن، اَھواء اور اَقوال وغیرہ جیسی صفات پائی جاتی ہوں یا وہ اخبار کے مواد کی طبیعت ہے یعنی وہ چیز مشاہدہ، محسوسہ یا اعیان کی جنس سے تعلق رکھتی ہو۔ جیسے مکہ، بغداد، امام شافعی﷫، امام احمد﷫ وغیرہ یا وہ ایسے حوادثات سے متعلقہ ہو جن کا حِس یا مشاہدہ سے کوئی تعلق نہ ہو۔
    یاوہ موجبات خبر کا مزاج ہے کہ اُسے قبول کرنا آسان ہے یا مشکل ہے۔
    یا وہ سامع کا فہم ہے کہ وہ ذہین و فطین ہے یا غبی اور کند ذہن ہے۔
     
    • شکریہ شکریہ x 1
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
  5. ‏مارچ 28، 2012 #25
    ساجد

    ساجد رکن ادارہ محدث
    جگہ:
    قصور(بھاگیوال)
    شمولیت:
    ‏مارچ 02، 2011
    پیغامات:
    6,602
    موصول شکریہ جات:
    9,357
    تمغے کے پوائنٹ:
    635

    عدد قلیل ہو یا کثیر، سامع کو قطعیت کا فائدہ دینے کے لیے مذکورہ موجبات کا محتاج ہے۔ اس اِعتبار سے عدد کی چار معروف متداول صورتیں ہیں۔
    (١) عدد کثیر ہو لیکن مجہول القدر ہو اور اس کے ساتھ موجباتِ قطعیت بھی موجود ہوں، اس کو وہ متواتر کہتے ہیں ۔
    (٢) عدد قلیل ہو لیکن مجہول القدر ہو اور اس کے ساتھ موجبات قطعیت بھی موجود ہوں، اس کو وہ خبر واحد المحتف بالقرائن کہتے ہیں۔
    (٣) عدد قلیل ہو لیکن مجہول القدر ہو اور اس کے ساتھ موجبات قطعیت نہ ہوں۔
    (٤) عدد کثیر ہو لیکن مجہول القدر ہو اور اس کے ساتھ موجبات قطعیت نہ ہوں۔ آخری دونوں صورتوں کو وہ مطلقاً خبر واحد کہتے ہیں۔
    یہ ہے اس قضیہ کی حقیقت، اگر تقسیم میں اَساسی اعتبار موجبات قطعیت کا ہے تو پھر اَخبار میں تفریق کے تکلفات کا کوئی فائدہ نہیں ہے کہ ایک خبر بنفسہ قطعیت کا فائدہ دیتی ہے اور ایک خبر بغیرہ قطعیت کا فائدہ دیتی ہے یا یہ تقسیم کرنا کہ ایک خبر علم ضروری جبکہ دوسری خبر علم نظری کا فائدہ دیتی ہے۔ کیونکہ قطعیت کے موجبات و قرائن، جو متواتر میں پائے جاتے ہیں بعینہٖ وہی خبر واحد المحتف بالقرائن میں پائے جاتے ہیں۔ اس حیثیت سے ان دونوں میں کوئی فرق نہیں ہے۔
    ان دونوں کے درمیان تفریق… واﷲ أعلم… یا تو خیال صفراوی ہے یا وہم سوداوی ہے یا پھر یونانی مسیحی فلسفہ کے سامنے عقلی و فکری مرعوبیت کانتیجہ ہے۔ ’العیاذ باﷲ‘ کہ انہوں نے بھی انہی کی تقسیم کو اپنے اُوپر واجب کرلیا ہے اور اس سے نجات حاصل کرنے کی کوشش نہیں کی۔ اور اگر اَساسی اعتبار قلت و کثرت عدد کا ہو تو پھر عدد کی کثرت و قلت کو مخصوص عدد کے ساتھ منضبط ہونا چاہئے، جو اس تقسیم کے لیے مناسب ہو ورنہ تقسیم ٹوٹ جائے گی، اَقسام فاسد ہوجائیں گی اور عدد کا اعتبار باطل ہوجائے گا اور معاملہ توضیح و تفصیل سے ہٹ کر تعمیم اور تجھیل کی طرف لوٹ جائے گا۔
     
    • شکریہ شکریہ x 1
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
  6. ‏مارچ 28، 2012 #26
    ساجد

    ساجد رکن ادارہ محدث
    جگہ:
    قصور(بھاگیوال)
    شمولیت:
    ‏مارچ 02، 2011
    پیغامات:
    6,602
    موصول شکریہ جات:
    9,357
    تمغے کے پوائنٹ:
    635

    (١٠) اس اصطلاح میں پایا جانا والا اِضطراب، تناقص اِبہام اور عدم اِنضباط ایک خطرناک معاملہ ہے۔ جس نے علمی اَقدار کو بنیادوں سے لے کر چوٹی تک فاسد کردیا ہے۔ لہٰذا فلاسفہ کی اس اصطلاح تواتر کی دو وجوہ سے اصلاح کرنا ضروری ہے:
    (١) اَخبار کو قطعیت و یقین کا لحاظ کیے بغیر فقط عددی اعتبار سے تقسیم کیا جائے۔ جیسا کہ محدثین کرام﷭ نے مشہور، عزیز اور غریب کی تقسیم کی ہے یعنی اگر عدد تین سے کم نہ ہو تو مشہور، اگر دو سے کم نہ ہو تو عزیز اور اگر دو سے کم ہو تو غریب۔ ان تینوں اَقسام پر چوتھی قسم (متواتر) زیادہ کرلی جائے کہ اگر عدد چار سے کم نہ ہو تو وہ متواتر ہے۔اس سے اخبار کی تقسیم منضبط ہوجائے گی اور اَقسام ایک دوسرے سے ممتاز ہوجائیں گی۔
    باقی رہا قطعیت و یقین کا معاملہ تو وہ مذکورہ تقسیم کے اعتبار سے ایک اَمر اضافی ہے، کیونکہ اس کے متعدد دیگر موجبات ہیں۔ جن کے تحقق سے یقین متحقق ہوتا ہے اور ا ن کے عدم سے یقین منعدم ہوتا ہے۔ اس اعتبار سے مجرد عدد اور قطعیت کے درمیان لازم و ملزوم کا کوئی رابطہ نہیں ہے۔
     
    • شکریہ شکریہ x 1
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
  7. ‏مارچ 28، 2012 #27
    ساجد

    ساجد رکن ادارہ محدث
    جگہ:
    قصور(بھاگیوال)
    شمولیت:
    ‏مارچ 02، 2011
    پیغامات:
    6,602
    موصول شکریہ جات:
    9,357
    تمغے کے پوائنٹ:
    635

    (٢) اَخبار کو عدد کا لحاظ کیے بغیر فقط قطعیت وظنیت کے اعتبار سے تقسیم کیا جائے۔ جیسا کہ معظم اَہل علم کا مذہب ہے۔ ان کے نزدیک ہر وہ چیز جو کسی بھی اِعتبار سے قطعیت کا فائدہ دے وہ متواتر ہے اور جو قطعیت کا فائدہ نہ دے وہ متواتر نہیں ہے۔
    عدد مجہول اور قطعیت کو جمع کرنا یا مجہول عددی کثرت سے یقین و قطعیت کو پیدا کرنے کی کوشش کرنا، پھر مولود (پیدا کردہ قطعیت) اور والدہ (مجہول عددی کثرت) دونوں کو متواتر یا تواتر کا نام دینا ایک فعل عبث ہے۔ اس طریقہ سے کوئی عدد منضبط نہیں ہوتا اور نہ ہی اس سے قطعیت حاصل ہوتی ہے بلکہ یہ حقیقت کی بجائے فتنہ کے زیادہ قریب ہے۔
    نوٹ
    یہ تحریر نور الانوار فی شرح المنار از ملا جیون پر محترم حافظ ثناء اللہ زاہدی﷾ کی تحقیق انیق ’تحقیق وتعلیق علیٰ نور الانوار‘ جلد ۳ صفحہ ۲۰۱ -۲۱۵ کا ترجمہ ہے۔

    ٭_____٭_____٭
     
    • شکریہ شکریہ x 2
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
  8. ‏جنوری 23، 2015 #28
    محمد نعیم یونس

    محمد نعیم یونس خاص رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 27، 2013
    پیغامات:
    26,377
    موصول شکریہ جات:
    6,597
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,207

    جزاک اللہ خیرا
     
  9. ‏جنوری 23، 2015 #29
    خضر حیات

    خضر حیات علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    طابہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 14، 2011
    پیغامات:
    8,730
    موصول شکریہ جات:
    8,322
    تمغے کے پوائنٹ:
    964

لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں