1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔۔
  2. محدث ٹیم منہج سلف پر لکھی گئی کتبِ فتاویٰ کو یونیکوڈائز کروانے کا خیال رکھتی ہے، اور الحمدللہ اس پر کام شروع بھی کرایا جا چکا ہے۔ اور پھر ان تمام کتب فتاویٰ کو محدث فتویٰ سائٹ پہ اپلوڈ بھی کردیا جائے گا۔ اس صدقہ جاریہ میں محدث ٹیم کے ساتھ تعاون کیجیے! ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔ ۔

علوم

'مالی معاملات' میں موضوعات آغاز کردہ از محمد نعیم یونس, ‏جنوری 28، 2017۔

  1. ‏جنوری 28، 2017 #1
    محمد نعیم یونس

    محمد نعیم یونس خاص رکن
    شمولیت:
    ‏اپریل 27، 2013
    پیغامات:
    25,361
    موصول شکریہ جات:
    6,444
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,143

    السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
    محترم شیخ @اسحاق سلفی حفظک اللہ
    ایک بھائی نے پوچھا ہے:

    انسانی قوانین جو شریعت کے مخالف ہوں، ان کو معاوضہ کے عوض پڑھانا کیسا ہے؟
    جیسے انکم ٹیکس آرڈینس C.A میں پڑھایا جاتا ہے وغیرہ ـ
     
  2. ‏جنوری 29، 2017 #2
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    4,465
    موصول شکریہ جات:
    1,965
    تمغے کے پوائنٹ:
    639

    وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
    اس سوال کا جواب شیخ عبدالعزیز بن باز ؒ نے درج ذیل دیا ہے ؛
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    تعلم القوانين الوضعية
    السؤال الثالث من الفتوى رقم (6901)
    س3: ما حكم تعلم القوانين الوضعية ومحاولة تطبيقها، مع الاعتراف بأن شرع الله أفضل منه؟ وما حكم تدريس تلك القوانين والفلسفة والمنطق وعلم النفس؟ حيث تحتوي على باطل كثير، كالخوض في ذات الله وصفاته وأسمائه، وفي التحليل والتحريم، وتحتوي على دراسة العقيدة الشيوعية، والوجودية، والإباحية، فما حكم المدرس والطالب؟ وخاصة إذا كانت مقررة على مستوى الدولة، والطالب والمدرس ليسا من طلاب العلم الشرعي، بل هم من عوام المسلمين، الذين لو شككوا قد يشكون، فإذا قيل لهم: هذا خطأ، قالوا: ماذا نفعل هذا باب للرزق وهذا طلب للعلم.
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    الجواب:
    لا يجوز تعلم القوانين الوضعية لتطبيقها، ما دامت مخالفة لشرع الله، وتجوز دراستها وتعلمها لبيان ما فيها من دخل وانحراف عن الحق، ولبيان ما في الإسلام من العدل والاستقامة، والصلاح، وما فيه من غنى وكفاية لمصالح العباد. ولا يجوز لمسلم أن يدرس الفلسفة والقوانين الوضعية ونحوهما، إذا كان لا يقوى على تمييز حقها من باطلها خشية الفتنة والانحراف عن الصراط المستقيم، ويجوز لمن يهضمها ويقوى على فهمها بعد دراسة الكتاب والسنة؛ ليميز خبيثها من طيبها، وليحق الحق ويبطل الباطل، ما لم يشغله ذلك عما هو أوجب منه شرعا، وبهذا يعلم أنه لا يجوز تعميم تعليم ذلك في دور العلم ومعاهده، بل يكون لمن تأهل له من الخواص؛ ليقوموا بواجبهم الإسلامي من نصرة الحق ودحض الباطل.
    وبالله التوفيق وصلى الله على نبينا محمد وآله وصحبه وسلم.
    اللجنة الدائمة للبحوث العلمية والإفتاء
    عضو ... عضو ... نائب رئيس اللجنة ... الرئيس
    عبد الله بن قعود ... عبد الله بن غديان ... عبد الرزاق عفيفي ... عبد العزيز بن عبد الله بن باز

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ترجمہ :
    وضع کردہ قوانین كی تعلیم حاصل كرنا
    سوال: وضع کردہ قوانین کے سیکھنے اور ان کی تطبیق کی کوشش کرنے کا کیا حکم ہے، اس بات کا اعتراف کرتے ہوئے کہ اللہ کی شریعت ان سے افضل ہیں؟ اور یہ قوانین نیز فلسفہ، منطق اور علم نفس پڑھانے کا کیا حکم ہے؟
    کیونکہ یہ علوم بہت سی باطل چیزوں پر مشتمل ہوتے ہیں، جیساکہ ذات باری تعالی اور اس کی صفات اور اس کے اسماء میں غور وخوض کرنا، اور کسی چیز کی حلت وحرمت میں غور وخوض کرنا، اور یہ کمیونزم، وجودیت اور اباحیت جیسے عقیدوں کی تعلیم پر مشتمل ہوتے ہیں، تو ان کے مدرس اور طالب علم کا کیا حکم ہے؟ اور خاص کر جب یہ علوم ملکی سطح پر نصاب تعلیم میں شامل ہوں، اور طالب علم اور استاذ دونوں شرعی طالب علم بھی نہیں ہیں، بلکہ وہ عام مسلمان ہیں اگر انہیں شک میں ڈال دیا گیا تو وہ شک کرنے لگیں گے، اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ یہ صحیح نہیں ہے، تو وہ کہتے ہیں: ہم کیا کریں یہ رزق کا ذریعہ ہے اور یہ علم کی طلب ہے؟
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    جواب :
    وضع کردہ قوانین(یعنی انسانوں کے وضع کردہ قوانین ) کو تطبیق (اپلائی ، پیروی ، نفاذ )کی غرض سے سکھینا جائز نہیں ہے جب کہ وہ قوانین اللہ کی شریعت کے مخالف ہوں، اور ان کو یہ بات بیان کرنے کی غرض سے پڑھنا اور پڑھانا جائز ہے کہ ان میں یہ خرابی ہے اور یہ دین حق سے منحرف ہیں، اور ان کو یہ بات بیان کرنے کی غرض سے پڑھنا پڑھانا کہ دیکھو اسلام میں عدل، استقامت اور بھلائی ہے اور اسلام میں بے نیازی اور بندوں کے تمام مصالح کا پورا خیال رکھا گیا ہے۔ اگر کوئی مسلمان حق وباطل کے درمیان تمیز کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا تو فتنے میں پڑنے اور صراط مستقیم سے منحرف ہونے کے اندیشے کی وجہ سے اس مسلمان کے لئے فلسفہ اور وضع کردہ قوانین وغیرہ پڑھنا جائز نہیں ہے، اور جو مسلمان کتاب وسنت کی تعلیم کے بعد ان علوم کو سمجھنے کی طاقت رکھتا ہو اور انہیں برداشت کر سکتا ہو تو اس کے لئے پڑھنا جائز ہے تاکہ وہ بری اور اچھی چیز کے درمیان فرق بیان کر سکے، اور حق کو حق اور باطل کو باطل ٹھہرا سکے، بشرطیکہ یہ علوم اسے اس سے زیادہ واجب شرعی احکام سے غافل نہ کریں، اور اس سے معلوم ہوگیا کہ ان علوم کی تعلیم کو مدرسوں اور علمی اداروں میں عام کرنا جائز نہیں ہے، بلکہ یہ علوم ان خواص کے لئے ہیں جو سمجھنے کی اہلیت رکھتے ہیں؛ تاکہ وہ دین حق کی نصرت اور رد باطل سے اپنا اسلامی فریضہ ادا کر سکیں۔
    وبالله التوفيق۔ وصلى الله على نبينا محمد، وآله وصحبه وسلم۔
    علمی تحقیقات اور فتاوی جات کی دائمی کمیٹی
    ممبر ممبر نائب صدر برائے کمیٹی صدر
    عبد اللہ بن قعود عبد اللہ بن غدیان عبدالرزاق عفیفی عبدالعزیز بن عبداللہ بن باز
    فتاوى اللجنة الدائمة ، سوال نمبر 3 - فتوی نمبر 6901
    ( جلد کا نمبر 12، صفحہ 135)
    ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
    حكم دراسة القوانين الوضعية
    ما حكم دراسة القوانين الوضعية ، وتدريسها ؟.

    الحمد لله
    " لا ريب أن الله سبحانه أوجب على عباده الحكم بشريعته والتحاكم إليها ، وحذر من التحاكم إلى غيرها ، وأخبر أنه من صفة المنافقين ، كما أخبر أن كل حكم سوى حكمه سبحانه فهو من حكم الجاهلية ، وبين عز وجل أنه لا أحسن من حكمه ، وأقسم عز وجل أن العباد لا يؤمنون حتى يحكموا رسوله صلى الله عليه وسلم فيما شجر بينهم ثم لا يجدوا في أنفسهم حرجا من حكمه بل يسلموا له تسليما ، كما أخبر سبحانه في سورة المائدة أن الحكم بغير ما أنزل كفر وظلم وفسق ، كل هذه الأمور التي ذكرنا قد أوضح الله أدلتها في كتابه الكريم ، أما الدارسون للقوانين والقائمون بتدريسها فهم أقسام :

    القسم الأول :

    من درسها أو تولى تدريسها ليعرف حقيقتها ، أو ليعرف فضل أحكام الشريعة عليها ، أو ليستفيد منها فيما لا يخالف الشرع المطهر ، أو ليفيد غيره في ذلك ، فهذا لا حرج عليه فيما يظهر لي من الشرع ، بل قد يكون مأجورا ومشكورا إذا أراد بيان عيوبها وإظهار فضل أحكام الشريعة عليها ، وأصحاب هذا القسم حكمهم حكم من درس أحكام الربا وأنواع الخمر وأنواع القمار ونحوها كالعقائد الفاسدة ، أو تولى تدريسها ليعرفها ويعرف حكم الله فيها ويفيد غيره ، مع إيمانه بتحريمها كإيمان القسم السابق بتحريم الحكم بالقوانين الوضعية المخالفة لشرع الله عز وجل وليس حكمه حكم من تعلم السحر أو علمه غيره .

    لأن السحر محرم لذاته لما فيه من الشرك وعبادة الجن من دون الله فالذي يتعلمه أو يعلمه غيره لا يتوصل إليه إلا بذلك أي بالشرك بخلاف من يتعلم القوانين ويعلمها غيره لا للحكم بها ولا باعتقاد حلها ولكن لغرض مباح أو شرعي كما تقدم .

    القسم الثاني :

    من يدرس القوانين أو يتولى تدريسها ليحكم بها أو ليعين غيره على ذلك مع إيمانه بتحريم الحكم بغير ما أنزل الله ، ولكن حمله الهوى أو حب المال على ذلك فأصحاب هذا القسم لا شك فساق وفيهم كفر وظلم وفسق لكنه كفر أصغر وظلم أصغر وفسق أصغر لا يخرجون به من دائرة الإسلام ، وهذا القول هو المعروف بين أهل العلم وهو قول ابن عباس وطاووس وعطاء ومجاهد وجمع من السلف والخلف كما ذكر الحافظ ابن كثير والبغوي والقرطبي وغيرهم ، وذكر معناه العلامة ابن القيم رحمه الله في كتاب ( الصلاة ) وللشيخ عبد اللطيف بن عبد الرحمن بن حسن رحمه الله رسالة جيدة في هذه المسألة مطبوعة في المجلد الثالث من مجموعة ( الرسائل الأولى ) .

    والمعلمون للنظم الوضعية والمتعلمون لها يشبهون من يتعلمون أنواع الربا وأنواع الخمر والقمار أو يعلمونها غيرهم لشهوة في أنفسهم أو لطمع في المال مع أنهم لا يستحلون ذلك ، بل يعلمون أن المعاملات الربوية كلها حرام ، كما يعلمون أن شرب المسكر حرام والمقامرة حرام ، ولكن لضعف إيمانهم وغلبة الهوى أو الطمع في المال لم يمنعهم اعتقادهم التحريم من مباشرة هذه المنكرات وهم عند أهل السنة لا يكفرون بتعاطيهم ما ذكر ما داموا لا يستحلون ذلك .

    القسم الثالث :

    من يدرس القوانين أو يتولى تدريسها مستحلا للحكم بها سواء اعتقد أن الشريعة أفضل أم لم يعتقد ذلك فهذا القسم كافر بإجماع المسلمين كفرا أكبر . لأنه باستحلاله الحكم بالقوانين الوضعية المخالفة لشريعة الله يكون مستحلا لما علم من الدين بالضرورة أنه محرم فيكون في حكم من استحل الزنا والخمر ونحوهما ، ولأنه بهذا الاستحلال يكون قد كذب الله ورسوله وعاند الكتاب والسنة ، وقد أجمع علماء الإسلام على كفر من استحل ما حرمه الله أو حرم ما أحله الله مما هو معلوم من الدين بالضرورة ومن تأمل كلام العلماء في جميع المذاهب الأربعة في باب حكم المرتد اتضح له ما ذكرنا .

    "مجموع فتاوى الشيخ ابن باز" (2/325-331) باختصار .

    ترجمہ :
    بلا شبہ اللہ تبارک وتعالی نے بندوں پر اپنی شریعت کے حکم اور اس كے مطابق فیصلہ کرنے کو واجب قرار دیا ہے، اور اس کے علاوہ دیگر قوانین سے فیصلہ کرنے سے پرہیز کرنے کا حکم دیا ہے، اور خبر دی کہ یہ منافقوں کی صفت ہے، اور اسی طرح خبردار کیا کہ اللہ سبحانہ وتعالی کے حکم کے علاوہ جو بھی حکم ہو وہ حکم جاہلی ہے، اور اللہ عز وجل نے بیان فرمایا کہ وہ اس کے حکم سے بہتر نہیں ہوسکتا، اور اللہ تعالی نے یہ قسم کھائی کہ جب تک اس کے بندے اپنے آپسی جھگڑوں میں اللہ کے رسول صلى الله عليه وسلم کو حاکم نہ مان لیں، بلکہ جب تک آپ کے فیصلے کو دل سے قبول نہ کرلیں، وہ ایمان والے نہیں ہوسکتے، اور اس طرح اللہ تعالی نے سورہ مائدہ میں ارشاد فرمایا کہ اللہ کے نازل کردہ حکم کے علاوہ دیگر قوانین سے فیصلہ کرنا کفر، ظلم اور فسق ہے، اور تمام امور جو ہم نے ذکر کئے اللہ تعالی نے اس کی دلیلوں کو اپنی مبارک کتاب میں واضح فرمایا ہے، رہے وضعی قوانین کو پڑھنے اور پڑھانے والے تو ان کی چند اقسام ہیں:
    پہلی قسم:
    جو اسے سیکھے یا اس کی منصب تدریس پر فائز ہو تاکہ وہ اس کی حقیقت کو جانے یا اس پر احکام شرع کی افضلیت کو جان سکے یا اس سے ایسے امور میں فائدہ حاصل کرے،
    جو شریعت مطہرہ کے خلاف نہ ہو یا اس سے دوسرے کو فائدہ پہنچائے تو میری رائے میں اس میں کوئی شرعی قباحت نہیں، بلکہ وہ کبھی ماجور ومشکور ہوگا، جبکہ وہ اس کے عیبوں کو بیان کرنے یا اس پر شریعت کے احکام کی فضیلت کو ظاہر کرنے کا ارادہ کرے، تو اس قسم كے لوگوں کے پیچھے نماز پڑھنے سے نماز کی درستگی پر کوئی اثر نہیں ہوگا، اور ان کا حکم اس شخص کے حکم کی طرح ہے جو سود، شراب اور قمار بازی یا اسی کی طرح عقائد فاسدہ کو پڑھے، یا اس کی منصب تدریس پر فائز ہو تاکہ وہ ان کو جان سکے اور ان سے متعلق اللہ تعالی کے احکام کی معرفت حاصل کرے اور دوسروں کو فائدہ پہنچائے، اور اس کا یہ ایمان ہو کہ یہ چیزیں حرام ہیں، بالکل اسی طرح یہ ایمان ہو کہ ان وضعی قوانین کے ذریعے فیصلے کرنا حرام ہے۔ اور ان وضعی قوانین کو حاصل کرنے والے یا اس کی تدریسی خدمات انجام دینے والے کا حکم جادو سیکھنے یا اسے دوسرے کو سکھانے والے کے حکم کی طرح نہیں ہے؛ اس لئے کہ جادو قطعاً حرام ہے؛ کیونکہ اس میں شرک اور اللہ کے علاوہ جنوں کی عبادت کرنا ہے، تو جو اسے سیکھے یا دوسرے کو سکھائے، وہ اس تک اس شرک کے ذریعے ہی پہنچے گا، بر خلاف اس کے جو ان قوانین کو سیکھے اور دوسروں کو سکھائے، اور اس کا مقصد اس سے فیصلہ کرنا یا اس کے جائز ہونے کا ایمان نہ ہو، بلکہ صرف مباح یا شرعی غرض کے لئے ہو، جیساکہ اس کا بیان گذر چکا ہے۔

    دوسری قسم:
    جو وضع کردہ قوانین کو سیکھے یا اس کے منصب تدریس پر فائز ہو، تاکہ وہ اس سے فیصلہ کرسکے یا دوسروں کو اس کام کے لئے مقرر کرے، اور اس کا یہ ایمان ہو کہ اللہ کی شریعت کے حکم کے خلاف فیصلے کرنا حرام ہے، اور خواہشات نفس یا مال کی محبت نے ایسا کرنے پر اسے ابھارا ہو، تو اس قسم کے لوگوں کے فاسق ہونے میں کوئی شک نہیں، اور اس میں کفر، ظلم اور فسق ہے، لیکن کفر اصغر، فسق اصغر اور ظلم اصغر ہے، اور وہ اس کے ارتکاب کرنے سے دائرہ اسلام سے خارج نہیں ہونگے، اور یہ قول اہل علم کے نزدیک مشہور ہے اور یہ قول حضرت ابن عباس ، طاووس، عطاء اور مجاہد اور تمام متقدمین اور متاخرین کا ہے جیسا کہ اسے حافظ ابن کثیر، بغوی، قرطبی اور ان کے علاوہ دیگر علماء نے ذکر کیا ہے، اور اس کا مطلب علامہ ابن قیم - رحمه الله - نے اپنی کتاب ( نماز) میں ذکر کیا ہے اور شیخ عبدالطیف بن عبد الرحمان بن حسن - رحمه الله - نے اپنے ايک عمدہ رسالے میں اس مسئلے کو بیان کیا ہے، جو تیسری جلد

    (الرسائل الاولى) میں مطبوع ہے اور بلا شبہ اس قسم کے لوگ بڑے خطرے میں ہیں اور ان کے مرتد ہونے کا خوف ہے، رہا ان کے پیچھے یا ان جیسے دوسرے فاسقوں کے پیجھے نماز پڑھنے کا مسئلہ تو اس میں مشہور اختلاف ہے، اور شرعی دلیلوں سے زیادہ ظاہر یہ ہے کہ ان تمام کے پیچھے نماز پڑھنا جن کا فسق کفر اکبر تک نہ پہنچا ہو درست ہے، اور یہ اہل علم کی ایک بڑی جماعت کا قول ہے اور اسی کو شیخ الاسلام ابن تیمیہ نے اختیار کیا ہے اور ان کا اس سلسلے میں ایک عمدہ کلام ہے جس کی عبارت کو ہم بڑے فائدے کی غرض سے نقل کر رہے ہیں، آپ نے مجموع الفتاوى ج 23 ص 351 میں فرمایا: مرد کے لئے پنجگانہ نمازیں جمعہ اور دوسری نمازیں اس امام کے پیجھے پڑھنا جائز ہے جس کی بدعت یا فسق کے بارے میں اسے علم نہ ہو، اس پر چاروں اماموں اور ان کے علاوہ دوسرے ائمہ کا اتفاق ہے، اور امام بنانے کی لئے مقتدی کا اپنے امام کے عقیدے کو جاننا یا اس کا امتحان لینا شرط نہیں ہے اس طور پر کہ وہ پوچھے تیرا عقیدہ کیا ہے؟ بلکہ جس کا حال معلوم نہ ہو اس کے پیجھے نماز پڑھ لے، اور اگر وہ ایسے شخص کے پیچھے نماز پڑھتا ہے جس کے فاسق یا بدعتی ہونے کو وہ جانتا ہو تو اس کی نماز کی صحت میں مذہب امام احمد، امام مالک، امام شافعی اور امام ابو حنیفہ میں اس کے درست ہونے میں دو مشہور قول ہیں۔
    اور قائل کا یہ قول کہ میں انجان شخص کو اپنا مال سپرد نہیں کرتا، اور اس کی مراد یہ ہو کہ میں اس کے پیچھے نماز نہیں پڑھتا جس کو میں نہیں جانتا ہوں، جس طرح کہ اپنے مال کو صرف اسی شخص کے سپرد کرتا ہوں جس کو میں جانتا ہوں، تو یہ جاہلانہ کلام ہے ائمہ اسلام میں سے کسی نے ایسا نہیں کہا، اس لئے کہ مال کو جب کوئی کسی انجان شخص کو دے، تو کبھی وہ اس میں خیانت کرتا ہے اور کبھی اس کو ضائع کردیتا ہے، اور رہا امام اگر وہ خطا کرے یا اس سے بھول ہوجائے، تو مقتدی اس کا مؤاخذہ نہیں کرے گا، جیساکہ بخاری شریف وغیرہ میں ہے کہ نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے فرمایا: تمہارے ائمہ حضرات تمہارے لئے اور اپنے لئے نماز پڑھتے ہیں تو اگر وہ درست ہيں تو تمہارے لئے اور اپنے لئے ہیں اور اگر ان سے خطا سرزد ہو جائے تو تمہاری نماز درست ہے اور خطا ان پر ہے تو آپ نے امام کی خطا کو صرف امام پر منحصر کردیا نہ کہ مقتدیوں پر، اور حضرت عمر نے حالتِ جنابت میں نماز پڑھائی - اور دوسرے صحابہ رضي الله عنهم نے پڑھی- تو آپ نے اس کا اعادہ کیا اور مقتدیوں کو اس کا اعادہ کرنے کا حکم نہیں دیا، اور یہ جمہور علماء امام مالک، شافعی اور امام احمد کا مشہور مذہب ہے ۔

    اور اسی طرح امام نے اگر کوئی ایسا کام کیا جو اس کے نزدیک جائز ہے، اور وہ مقتدیوں کے نزدیک نماز کو باطل کردیتا ہے، جیسے امام پچھنہ لگوائے اور بغیر وضو کئے نماز پڑھ لے یا اپنے آلہ تناسل کو چھوئے یا تسمیہ ترک کردے، اور امام کا یہ یقین ہے کہ اس کے باوجود اس کی نماز درست ہے، اور مقتدی یہ ایمان رکھتے ہیں کہ اس سے نماز نہ ہوگی، تو جمہور علماء کے نزدیک مقتدیوں کی نماز درست ہے، جیسا کہ مذهب امام مالک اور احمد کی دونوں روایتوں کا ظاہری مفہوم، بلکہ امام احمد سے منقول دو روایتوں میں سب سے زیادہ صریح روایت یہی ہے۔ اور یہ مذہب امام شافعی میں ایک رائے ہے، اور اسے قفال وغیرہ نے اختیار کیا ہے۔
    اور اگر یہ اندازہ ہو کہ امام نے عمداً بغیر وضو نماز پڑھائی، اور مقتدی کا انتقال ہوجائے، تو اللہ تعالی مقتدی سے اس کا مؤاخذہ نہیں فرمائے گا، اور اس پر مسلمانوں کا اتفاق ہے کہ اس پر کوئی گناہ نہیں، برخلاف اس شخص کے جسے یہ معلوم ہو کہ امام بغیر وضو نماز پڑھاتا ہے، تو اس کے لئے جائز نہیں ہے کہ اس کے پیجھے نماز ادا کرے؛ کیونکہ یہ امام نماز نہیں پڑھ رہا ہے بلکہ کھیل رہا ہے، اور اگر اسے نماز کے بعد معلوم ہوا کہ اس نے بغیر وضو نماز پڑھائی تو اس نماز کے اعادہ کرنے میں اختلاف ہے، اور اگر مقتدی کو معلوم ہو کہ امام بدعتی ہے جو اپنی بدعت کی دعوت دیتا ہے یا فاسق معلن ہے اور وہ امام تنخواہ پر رکھا گیا ہو اور اس کے علاوہ کے پیچھے نماز پڑھنا ممکن ہی نہ ہو، جیسے جمعہ اور عیدین کا امام اور عرفہ میں نماز حج کا امام وغیرہ تو متقدمین اور متاخرین کے نزدیک مقتدی اس کے پیجھے ہی نماز پڑھیں اور یہی امام احمد امام شافعی اور امام ابو حنیفہ وغيرہ کا مذہب ہے، اسی وحہ سے انہوں نے عقائد کے بارے میں یہ کہا کہ: جمعہ اور عید کی نماز ہر امام کے پیجھے پڑھی جائے گی، چاہے وہ نیکوکار ہو یا بدکار، اسی طرح جب گاؤں میں صرف ایک ہی امام ہو تو جماعت کی نمازیں اس کے پیچھے ادا کی جائے، کیونکہ جماعت سے نماز پڑھنا تنہا شخص کی نماز سے بہتر ہے، اگرچہ امام فاسق ہو، یہی جمہور علماء امام احمد بن حنبل اور شافعی وغیرہ کا مذہب ہے، بلکہ مذہب امام احمد کے مذہب ظاہر میں جماعت سے نماز پڑھنا لوگوں پر واجب ہے، اور جس نے جمعہ اور دوسری جماعت کی نمازیں فاجر امام کے پیچھے ترک کیں، تو امام احمد وغيره اہل سنت کے ائمہ کے نزدیک وہ شخص بدعتی ہے، جیساکہ عبدوس اور ابن مالك اور عطار کے رسالے میں اس کا ذکر ہوا ہے۔

    اور صحیح یہ ہے کہ وه ان نمازوں کو ادا کرے اور اعادہ نہ کرے، اس لئے کہ صحابہ کرام جمعہ اور جماعت کی نمازیں فاجر اماموں کے پیچھے ادا کرتے تھے اور ان کا اعادہ نہیں کرتے تھے، جیساکہ ابن عمر رضی اللہ عنہ حجاج کے پیچھے نماز پڑھتے تھے، اور ابن مسعود وغيره وليد بن عقبہ کے پیچھے نماز پڑھتے تھے، اور وہ شراب پیتا تھا، یہاں تک کہ اس نے ایک بار نماز فجر چار رکعت پڑھا دی، پھر اس نے سوال کیا کہ: کای میں تم پر نماز زیادہ کررہا ہوں؟ تو ابن مسعود نے فرمایا: ہم تو اسی دن سے تیرے ساتھ زیادہ پڑھتے ہوئے آئے ہیں، اور اسی سبب لوگوں نے ابن مسعود کو عثمان کے پاس پیش کیا۔
    اور صحیح بخاری میں ہے کہ حضرت عثمان رضي الله عنه کو جب محصور کرلیا گیا تو ایک شخص نے لوگوں کو نماز پڑھائی، تو کسی نے حضرت عثمان سے پوچھا آپ تمام لوگوں کے امام ہیں، اور وہ شخص جو لوگوں کو نماز پڑھا رہا ہے وہ تو امام فتنہ ہے، تو آپ نے فرمایا: اے میرے بیٹے بیشک نماز اس کی ہے جو لوگوں کے کام کو اچھا جانے تو جب لوگ بھلائی کریں تو تو ان کے ساتھ بھلائی کر اور اور جب برائی کریں تو ان کی برائی سے پرہیز کر اور اس طرح کی مثالیں بہت ہیں۔

    اور فاسق و بدعتی ان کی نمازیں در حقیقت درست ہیں، اگر مقتدی ان کے پیچھے نماز ادا کرے تو ان کی نماز باطل نہ ہوگی، بلکہ ان کے پیچھے نماز پڑھنے میں کراهت کا اظہار کرنا یہ مکروہ ہے، اس لئے کہ بھلائی کا حکم دینا اور برائی سے روکنا واجب ہے، اور اسی میں سے یہ ہے کہ جو بدعت یا فسق و فجور کا اظہار کرے اسے مسلمانوں کا امام نہ بنایا جائے، اس لئے کہ وہ سزا کا حقدار ہے یہاں تک کہ وہ توبہ کر لے، اور اگر توبہ کرنے تک اس کو چھوڑنا مناسب ہو، تو یہی بہتر ہے، اور بعض لوگ ایسے ہوتے ہیں کہ اگر ان کے پیچھے نماز پڑھنا چھوڑ دیا جائے، اور دوسرے کے پیچھے نماز پڑھی جائے، تو اس کا اثر یہ ہوتا ہے کہ وہ توبہ کرلیتا ہے یا اسے معزول کردیا جاتا ہے یا لوگ اسے اس طرح کے گناہ سے روک لیتے ہیں، تو اس جیسے امام کے پیچھے نماز نہ پڑھنے میں فائدہ ہے، البتہ مقتدی جمعہ اور جماعت کی نمازیں فوت نہ کریں، لیکن اگر نماز کا ترک کرنا جمعہ یا جماعت کو فوت کردے، تو اس کے پیچھے نماز پڑھنا نہ جھوڑا جائے سوائے اس بدعتی امام کے جو صحابہ اکرام رضي الله عنهم کا مخالف ہو۔ اور اسی طرح اگر امام حاکم کا مامور کردہ ہو اور نماز کو اس کے پیچھے ترک کرنے میں کوئی مصلحت نہ ہو، تو اس کے پیچھے نماز پڑھنا ترک کردینا جائز نہیں ہے، بلکہ نیک و صالح امام کے پیچھے نماز پڑھنا افضل ہے، اور یہ تمام اس وقت ہے جب امام کے اندر فسق یا بدعت ظاہر ہوجائے جو قرآن و سنت کے مخالف ہو، جیساکہ روافض اور جہمیہ وغیرہ کی بدعت، " اور یہاں آپ رحمه الله کا کلام ختم ہوا۔
    تو جہاں تک میری رائے ہے اس سے واضح ہوجاتا ہے کہ اس شخص کی بات حجت نہیں ہے جو فاسق کے پیچھے نماز کے عدم صحت کا قائل ہے، اور وضع کردہ قوانین کے اساتذہ اور طالب علم کی مثال ان لوگوں کی طرح ہے جو سود، شراب یا قمار بازی کی اقسام کا علم حاصل کرتے ہیں، یا اسے دوسروں کو خواہشات نفسانی یا مال کے لالچ میں آکر سکھاتے ہیں باوجود اس کے کہ وہ اسے حلال نہیں جانتے۔ بلکہ وہ جانتے ہیں کہ تمام تر سودی معاملات حرام ہیں، جیساکہ وہ جانتے ہیں نشہ آور شراب حرام ہے اور جوا کھیلنا حرام ہے، لیکن وہ اپنے ایمان کے کمزور، نفسانی خواہشات کے غلبہ اور مال کی خواہش کے سبب رک نہ سکیں، اور ان کے اعتقاد میں یہ برائیاں حرام ہوں، تو یہ لوگ اہل سنت کے نزدیک ان کے ارتکاب سے کافر نہیں ہونگے جب تک کہ وہ اسے اپنے لئے حلال نہ کرلیں، جیساکہ ما سبق میں اس کا بیان گذر چکا ہے۔

    (تیسری قسم)

    جو قوانین کا علم حاصل کرتا ہے یا جو اس کی منصب تدریس پر اس حال میں فائز ہوتا ہے کہ وہ اس کے فیصلے کو حلال جانتا ہو، چاہے اس کا اعتقاد ہو کہ شریعت کا علم افضل ہے، یا یہ اعتقاد نہ ہو، تو اس قسم کا مرتکب مسلمانوں کے اجماع سے کفر اکبر کا ارتکاب کرنے کے سبب کافر ہے؛ اس لئے کہ اس کا اللہ كى شریعت کے مخالف وضع کردہ قوانین کو حلال جاننا، گویا کہ وہ ضروریات دین کا منکر ہے؛ اس لئے کہ وہ حرام ہے، تو اس کا حکم ان لوگوں کی طرح ہے جنہوں نے زنا یا شراب وغیرہ کو حلال کرلیا ہو، اور اس لئے کہ وہ اسے حلال کرکے اللہ اور اس کے رسول کو جھوٹا ثابت کرتا ہے اور قرآن و سنت کی مخالفت کرتا ہے، اور علماء اسلام کا اللہ کے حرام کردہ امور کو حلال کرنے والے شخص کے کافر ہونے پر اجماع ہے، یا اس شخص کے کافر ہونے پر اجماع ہے جس نے اللہ کے حلال کردہ امور کو حرام کرلیا ہو، جبکہ وہ ضروریات دین میں سے ہوں، اور جو مرتد کے حکم سے متعلق چاروں مذاہب کے علماء کے کلام میں غور و فکر کرے اس پر یہ بات واضح ہوجائے گی جس کا ذکر کیا گیا۔

    اور اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ وہ طلباء جو بعض وضع کردہ قوانین کو پڑھتے ہیں، یا وہ ان کے یہاں تعلیم گاہ کے نصاب یا ادارے کی تعلیم گاہ میں داخل نصاب ہے، تو اس كو پڑھنے سے ان کا مقصد اللہ کی شریعت کے خلاف فیصلہ کرنا نہیں ہوتا ہے، بلکہ ان کا مقصد یہ ہوتا ہے یا میں ان سے امید کرتا ہوں کہ وہ اس سے اسلامی شریعت کے احکام اور اس کے درمیان مقارنہ کریں گے، تاکہ وہ وضع کردہ قوانین کے برخلاف شریعت مطہرہ کے احکام کی افضیلت کی معرفت کو حاصل کرسکیں، اور کبھی وہ اس پڑھائی سے دوسرے فوائد حاصل کرتے ہیں جو انہیں شریعت میں تفقہ کے حصول میں افزودگی اور اس کے فیصلوں پر اطمئنان دلانے میں ان کے لئے معاون ہوتے ہیں، اور اگر یہ مان لیا جائے کہ ان کے درمیان ایسے لوگ بھی ہوتے ہیں جو اسلامی شریعت کے بدلےوضعی قانون کو فیصل بنانے کا ارادہ رکھتے ہیں، وضعی قانون کو حلال سمجھتے ہیں، تو جائز نہیں ہے کہ ان کے سبب ہم باقی دیگر لوگوں پر بھی یہی حکم لگائیں، اس لئے کہ الله سبحانہ وتعالی نے فرمایا: ﻛﻮﺋﯽ ﺑﻮﺟﮫ ﻭﺍﻻﻛﺴﯽ ﺍﻭﺭﰷ ﺑﻮﺟﮫ ﺍﭘﻨﮯ ﺍﻭﭘﺮ ﻧﮧ ﻻﺩﮮﮔﺎ نبی کریم- صلى الله عليه وسلم - فرماتے ہیں: گنہگار اپنے اوپر ہی ظلم کرتا ہے تو جناب عالی ما سبق میں جو کچھ ذکر ہوا اس سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ مذکورہ طالب علموں کی امامت میں نکتہ چینی کرنا، اور ان کے پیچھے نماز کی عدم صحت کا حکم دینا ایسا معاملہ ہے جس کو شریعت مطہرہ جائز نہیں کرتی ہے، اور نہ اہل علم کے نزدیک یہ معتبر ہے، اور اس کی نہ کوئی اصل ہے جس کی جانب رجوع کیا جائے، اور میں امید کرتا ہوں کہ جناب عالی کے دل میں پہلی قسم میں مذکور طالب علموں سے متعلق جو شک واقع ہوا ہے، یا ان کے فاسق یا کافر ہوجانے کے قائلین کا دعوی کے لئے میرا ذکر کیا ہوا جواب زائل کرنے میں معاون ہوگا، رہی دوسری قسم تو اس میں ان کے فسق میں کوئی شبہ نہیں ہے، اور رہی تیسری قسم تو اس کے اہل کے کفر اور ان کے پیچھے نماز کے درست نہ ہونے میں کوئی شک نہیں ہے۔
    اور میں اللہ تعالی کے اسماء حسنی اور اس کی اعلی صفات کے وسیلے سے یہ دعاء کرتا ہوں کہ وہ مجھے، آپ کو اور تمام اسلامی بھائیوں کو اپنے دین کی سمجھ اور اس میں ثابت قدمی عطا فرمائے، ہم سب کو ہمارے نفسوں، ہمارے اعمال اور فتنوں کی گمراہیوں کے شروں سے اپنی پناہ عطا فرمائے، بیشک وہ سننے والا اور قریب ہے۔ و السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔
     
    Last edited: ‏جنوری 29، 2017
    • علمی علمی x 3
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
  3. ‏جنوری 29، 2017 #3
    محمد نعیم یونس

    محمد نعیم یونس خاص رکن
    شمولیت:
    ‏اپریل 27، 2013
    پیغامات:
    25,361
    موصول شکریہ جات:
    6,444
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,143

    جزاکم اللہ خیرا واحسن الجزاء
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں