1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

عمرہ میں دعاؤں کی جگہیں اوردعاؤں کے الفاظ

'عمرہ اور حج' میں موضوعات آغاز کردہ از محمد عامر یونس, ‏جولائی 19، 2017۔

  1. ‏جولائی 19، 2017 #1
    محمد عامر یونس

    محمد عامر یونس خاص رکن
    جگہ:
    karachi
    شمولیت:
    ‏اگست 11، 2013
    پیغامات:
    16,873
    موصول شکریہ جات:
    6,486
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,069

    میں عمرہ کی ادائیگی کےلیے مکہ جارہی ہوں اورمجھے دعاؤں کا علم نہيں کیا آپ میرا تعاون کرسکتے ہیں ؟

    Published Date: 2011-05-15

    الحمد للہ :

    عمرہ کے دوران پڑھی جانے والی دعائيں اوراذکار صحیح احادیث میں وارد ہیں ، مسلمان کے لیے ان سے استفادہ کرنا اورانہيں یاد کرکے انہیں سمجھنا اوراس کے مطابق عمل کرنا ممکن ہے ان میں سے چندایک دعائیں ذیل میں دی جاتی ہيں :

    ا - میقات پراحرام باندھتے وقت :

    مسلمان شخص کےلیے عمرہ اورحج کا احرام باندھنے سے قبل اللہ اکبر اور سبحان اللہ اور لاالہ الا اللہ کہنا مسنون ہے ۔

    انس رضي اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے تو آپ نے مدینہ شریف میں ظہر کی چار رکعات نماز ادا فرمائي اورعصرکی نماز ذوالحلیفہ میں دو رکعت ادا کی اور پھر وہیں پر رات بسر کی پھر صبح سوار ہوئے اورجب چٹیل میدان میں پہنچے تو اللہ تعالی کی حمد بیان کی اورسبحان اللہ اور اللہ اکبر کہا پھر حج اورعمرہ کا تلبیہ کہا اور لوگوں نے بھی ان دونوں کا تلبیہ کہا ۔ صحیح بخاری حدیث نمبر ( 1476 ) ۔

    حافظ ابن حجررحمہ اللہ تعالی کہتے ہیں :

    یہ حکم ( احرام سے قبل تسبیح کرنا اوراس کےساتھ مذکوراعمال مباح ہیں ) ثابت ہونے کے باوجود بہت ہی کم ذکر ہوتا ہے ۔

    دیکھیں : فتح الباری ( 3 / 412 ) ۔

    ب - مکہ جاتے ہوئے میقات سے لیکر کعبہ جانے تک :

    کثرت سے تلبیہ کہنا مسنون ہے اور مردوں کے لیے بلند آواز سے کہنا مسنون ہے لیکن عورتیں اپنی آواز بلند نہيں کریں گی تا کہ اجنبی مرد اس کی آواز نہ سن سکیں ۔

    عبداللہ بن عمررضي اللہ تعالی عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب مسجدذوالحلیفہ کے قریب کھڑی اپنی سواری پرسوار ہوئے تونیت کرتے ہوئے تلبیہ کہا :

    ( لبيك اللهم لبيك لبيك لا شريك لك لبيك إن الحمد والنعمة لك والملك لا شريك لك ) اے اللہ میں حاضرہوں میں حاضرہوں ، میں حاضرہوں تیراکوئي شریک نہيں میں حاضرہوں ، یقینا تعریف اورنعمت تیرےلیے ہی ہے ، ا ورملک بھی تیرےلیے ہے، تیرا کوئي شریک نہیں ۔

    صحیح بخاری حدیث نمبر ( 5571 ) صحیح مسلم حدیث نمبر ( 1184 )

    ج - دوران طواف :

    ہرچکرمیں جب بھی حجر اسود کےبرابر پہنچے تو اللہ اکبر کہے :

    امام بخاری رحمہ اللہ تعالی ابن عباس رضي اللہ تعالی عنہما سے بیان کرتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیت اللہ کا طواف کیا توجب بھی رکن ( حجراسود ) کے پاس آئےآپ کے پاس جوچيزتھی اس کے ساتھ حجراسود کی طرف اشارہ کیا اوراللہ اکبر کہا ۔

    اور طواف کرنے والا حجر اسود اور رکن یمانی کے مابین مندرجہ ذيل دعا پڑھے :

    عبداللہ بن سائب رضي اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کودونوں رکنوں کے مابین یہ کہتے ہوئے سنا :

    ( ربنا آتنا في الدنيا حسنة وفي الآخرة حسنة وقنا عذاب النار ) اے ہمارے رب ہمیں دنیا میں بھی بھلائي عطا فرما اورآخرت میں بھی بھلائي عطا فرما اورہمیں آگ کے عذاب سے نجات دے ۔

    سنن ابوداود حدیث نمبر ( 1892 ) علامہ البانی رحمہ اللہ تعالی نے صحیح ابوداود میں اسے حسن قرار دیا ہے ۔

    د - صفا پہاڑی پر چڑھنے سے قبل :

    جابربن عبداللہ رضي اللہ تعالی عنہما بیان کرتے ہیں ۔۔۔ پھرنبی کریم صلی اللہ وسلم دروازے سے صفا کی جانب نکلے اورجب صفا کے قریب پہنچے توآپ نے یہ آیت تلاوت فرمائي :

    { إن الصفا والمروة من شعائر الله } یقینا صفا اورمروہ اللہ تعالی کی نشانیوں میں سے ہیں ۔

    اورفرمایا : میں وہیں سے ابتداء کرتا ہو جہاں سے اللہ تعالی نے ابتداء کی ہے ، لھذا صفا سے شروع کیا اور صفا پہاڑی پر چڑھے حتی کہ بیت اللہ نظرآنے لگا تو قبلہ رخ ہو کر اللہ تعالی کی توحید بیان کی اورتین بار یہ دعا پڑھی :

    ( لا إله إلا الله وحده لا شريك له له الملك وله الحمد وهو على كل شيء قدير ، لا إله إلا الله وحده أنجز وعده ونصر عبده وهزم الأحزاب وحده ) اللہ تعالی کے علاوہ کوئي عبادت کے لائق نہيں وہ اکیلا ہے اس کا کوئي شریک نہیں اسی کے لیے ملک ہے اوراسی کے لیے حمد ہے اوروہ ہرچيزپرقادر ہے ، اللہ تعالی کے علاوہ کوئی عبادت کے لائق نہيں وہ اکیلا ہے ، اس نے اپنا وعدہ پورا کردیا اوراپنے بندے کی مدد فرمائي اوراکیلے ہی لشکروں کوشکست سے دوچارکردیا ۔

    آپ نے اسی طرح تین بارکیا ۔ صحیح مسلم حدیث نمبر ( 1218 ) ۔

    ہ - مروہ پہاڑی پرچڑھتے وقت :

    مروہ پربھی وہی کام کیا جائے گا جو صفا پر کیا گیا لیکن آيت نہيں پڑھی جائے گی بلکہ دعا وہی پڑھیں گے ۔

    جابررضي اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ : پھرنبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مروہ کی طرف اترے حتی کہ جب وادی کے درمیان پہنچے تو دوڑ لگائي اور جب آپ کے پاؤں اوپر اٹھ گئے تو عام حالت میں چلنے لگے اور مروہ پر آکر وہی کام کیا جو صفا پرکیا تھا ۔ صحیح مسلم حدیث نمبر ( 1218 ) ۔

    زمزم کا پانی پیتے وقت پانی پینے والا دنیا وآخرت کی بھلائي کے لیے جوچاہے دعا مانگ سکتا ہےکیونکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے :

    زمزم کا پانی اسی لیے ہے جس لیے پیا جائے ۔

    دیکھیں : سنن ابن ماجہ حدیث نمبر ( 3062 ) علامہ البانی رحمہ اللہ تعالی نے صحیح ابن ماجہ ( 5502 ) میں اسے صحیح قرار دیا ہے ۔

    اوراسی طرح طواف اور سعی میں کثرت سےاللہ تعالی کا ذکر کرنا مشروع ہے اور اس میں دعا بھی شامل ہوتی ہے ، لھذا مسلمان شخص کو چاہیے کہ وہ اللہ تعالی کی جانب سے اس کے لیے جو دعا بھی اس کے دل میں ڈالی جائے وہ مانگے ، اور اپنے طواف اور سعی میں اس کے لیے قرآن مجید کی تلاوت کرنے میں بھی کوئي حرج نہیں ۔

    اور آج کل جو لوگ طواف اور سعی کے ہر چکر میں علحیدہ علیحدہ دعائيں پڑھتے ہیں شریعت میں اس کی کوئي دلیل اوراصل نہيں ملتی ۔

    شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ تعالی کہتے ہیں :

    طواف کرنے والے کے لیے طواف میں اللہ تعالی کا ذکر اورمشروع دعاء کرنا مستحب ہے ، اوراگرآہستہ آوازمیں قرآن مجید کی تلاوت بھی کرلے تواس میں کوئي حرج نہیں ، اورطواف میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کسی ذکر کی تعین نہیں ملتی نہ توآپ کے حکم سے نہ ہی تعلیم اورقول کے ذریعہ اس کی تعین ہوتی ہے ، بلکہ طواف میں ساری شرعی دعائيں مانگی جاسکتی ہیں ۔

    اور پرنالے وغیرہ کےنیچے کچھ لوگ جوخاص دعائيں کرتے ہیں اس کی کوئي اصل اوردلیل نہیں ملتی ۔

    اورنبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم دونوں رکنوں کے مابین ( ربنا آتنا في الدنيا حسنة وفي الآخرة حسنة وقنا عذاب النار ) اے ہمارے رب ہمیں دنیا اورآخرت میں خیروبھلائي عطا فرما اورہمیں آگ کے عذاب سے نجات عطا فرما ، پڑھ کرطواف کا چکرختم کیا کرتے تھے جیسا کہ آپ ساری دعا بھی اس کے ساتھ ختم کرتے تھے ، اورعلماء کرام اس پرمتفق ہیں کہ اس میں کوئي بھی دعا واجب نہيں ۔

    دیکھیں : مجموع الفتاوی ( 26 / 122 - 123 ) ۔

    واللہ اعلم .

    الاسلام سوال وجواب

    https://islamqa.info/ur/34744
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں