1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

عورت، گھر اور گھوڑے میں نحوست: حدیث پر اعتراض کا ازالہ

'انکار حدیث' میں موضوعات آغاز کردہ از ابن قدامہ, ‏جون 29، 2015۔

  1. ‏جون 29، 2015 #1
    ابن قدامہ

    ابن قدامہ مشہور رکن
    جگہ:
    درب التبانة
    شمولیت:
    ‏جنوری 25، 2014
    پیغامات:
    1,772
    موصول شکریہ جات:
    421
    تمغے کے پوائنٹ:
    198

    عورت، گھر اور گھوڑے میں نحوست: حدیث پر اعتراض کا ازالہ
    اعتراض:
    ''حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ''تین چیزیں منحوس ہیں گھوڑا، عورت اور مکان'' ... اس ارشاد کا مقصد تو یہی ہوسکتا ہے کہ لوگ ان منحوس چیزوں سے بچیں، لیکن لوگ کیسے بچ سکتے ہیں، جب خود حضور نے ایک گھوڑا، گیارہ بیویاں اور نومکانات اپنے قبضے میں رکھے تھے، اگر کوئی ہم سے پوچھ بیٹھے، کہ کیا یہ قول اسی رسول کا ہے... جس نے فرمایا تھا کہ ''نکاح میری سنت ہے'' ... تو ہم کیا جواب دیں گے۔

    ازالہ
    {کَانَ النَّاسُ اُمَّۃً وَّاحِدَۃً فَبَعَثَ اللہُ النَّبِیّٖنَ} (البقرۃ)
    ''سب لوگ ایک ہی جماعت تھے پس اللہ نے نبیوں کو بھیجنا شروع کر دیا۔''
    بتایے جب سب ایک ہی راستہ پر گامزن تھے، متفق و متحد تھے، کہیں اختلاف و افتراق کا نام و نشام نہیں تھا، تو پھر نبیوں کے بھیجنے کی کیا ضرورت تھی؟ کیا اختلاف پیدا کرنے کے لیے؟ قرآن کی اس آیت سے تو یہی نکلتا ہے؟ کیا یہ قرآن پر اعتراض نہیں ہے؟ لیکن قرآن کی دوسری آیات سے ثابت ہوتا ہے، کہ شروع میں لوگ متحد تھے، جب اختلاف کرنے لگے، تو نبیوں کی ضرورت محسوس ہوئی اور نبی بھیجے جانے لگے، یہ آیات مذکورہ بالا آیت پر سے اعتراض کو دور کر دیتی ہے، ایک آیت کی تشریح دوسری آیت کر دیتی ہے، اور غلط فہمی کا ازالہ کر دیتی ہے یہی حال حدیث کا ہے، ایک حدیث کی تشریح دوسری جگہ موجود ہوتی ہے، اگر کہیں مجمل حدیث ہو، تو غلط فہمی کا امکان تو ضرور ہے لیکن اس کا ازالہ دوسری احادیث سے ہوسکتا ہے جو آگے پیچھے موجود ہوتی ہیں، مگر اس کے لیے تحقیق کی ضرورت ہوتی ہے، معترض نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ کی حدیث نقل کی ہے، ان ہی عبداللہ بن عمر رضی اللہ سے دوسری جگہ اس حدیث کی تشریح موجود ہے، عبداللہ بن عمر رضی اللہ فرماتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
    ان کان الشؤم فی شئی ففی الدار والمرأۃ والفراس (صحیح بخاری)
    ''نحوست اگر کسی چیز میں ہوتی تو ان تین چیزوں میں بھی ہوتی، گھر، عورت، گھوڑا۔''
    حضرت سہل کی روایت کا بھی یہی مضمون ہے، الفاظ یہ ہیں:
    ان کان فی شئی ففی الفرس والمرأۃ والمسکن (صحیح بخاری)
    ''اگر نحوست کا کوئی وجود ہوتا، تو ان تین چیزوں میں بھی ہوتا، گھوڑا، عورت،گھر۔''
    اب اس حدیث کا پس منظر ملاحظہ فرمایے، ایام جاہلیت میں لوگوں کا خیال تھا کہ فلاں فلاں چیزوں میں نحوست ہے، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس باطل عقیدہ کی تردید ان الفاظ میں کر دی، کہ نحوست کا کوئی وجود نہیں، اگر ہوتی تو ان محبوب تریں چیزوں میں بھی ہوتی جن سے کنارہ کشی ناممکن ہے کیا نحوست کی وجہ سے ان چیزوں کو چھوڑاجاسکتا ہے ہرگز نہیں، جب یہ نہیں ہوسکتا تو پھر محض نحوست کےوہم سے دوسری چیزوں کو چھوڑنا لا یعنی ہے، یہ تو ہے حدیث کا منشا،
    ہاں قرآن میں ضرورنحوست کا ذکر ملتا ہے، قوم عاد پر جو عذاب بھیجا گیا، وہ منحوس دنوں میں بھیجا گیا تھا، ارشاد باری ہے:
    {اِنَّآ اَرْسَلْنَا عَلَیْہِمْ رِیحًا صَرْصَرًا فِیْ یَوْمِ نَحْسٍ مُّسْتَمِرٍّ} (القمر)
    ''ہم نے ان پر دائمی منحوس دن میں سخت آندھی کا عذاب بھیجا تھا۔''
    اور اس آیت مبارکہ کا کیا جواب دیں گے ۔

    یا ایھا الذین امنواان من ازواجکم واولادکم عدوالکم (سورہ التغابن ۔آیت 14)
    '' اے ایمان والوں تمہاری بیویاں اور تمہاری اولاد تمہاری دشمن ہیں ۔''

    جس طرح درج بالا آیت میں عداوت کا مطلب اپنے اصل معروف معنوں میں دشمنی مراد لینا پرلے درجے کی ناانصافی ہے۔ بلکہ مراد یہی ہے کہ انسان کے لئے بیوی اور اولاد میں اللہ تعالیٰ نے بہت کشش اور محبت رکھی ہے۔ انسان ان کی محبت میں حلال و حرام کی تمیز کھو بیٹھتا ہے، یا اپنے دیگر فرائض و واجبات میں ان کی وجہ سے کوتاہی کر بیٹھتا ہے۔ لہٰذا دشمنی کی نسبت بیویوں اور اولاد کی جانب کرنا ، دراصل بیویوں اور اولاد کے فتنہ ہونے کی بنا پر ہے۔ بعینہ یہی تشریح حدیث کی بھی ہے فرق اتنا ہے کہ قرآن عورت کی جانب صراحت کے ساتھ دشمنی کی نسبت کرتا ہے اور حدیث میں نحوست کی نسبت کی گئی ہے وہ بھی شرطیہ (اگر نحوست ہوتی تو)۔ اور دونوں کا ماحصل ایک ہی ہے۔ فللہ الحمد
    AntiMunkireHadith
     
  2. ‏جون 30، 2015 #2
    Dua

    Dua سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 30، 2013
    پیغامات:
    2,579
    موصول شکریہ جات:
    4,379
    تمغے کے پوائنٹ:
    463

    السلام علیکم ورحمتہ اللہ
    اعتراض والی حدیث مبارکہ کا حوالہ بھی فراہم کیجیئے اور اگر یہ دو مختلف مواقع اور مفہوم رکھتی ہیں تو آپ ان دو کے مابین تطبیق کیسےدیں گے ؟؟؟

    یہ بیان کر دیں تو جواب زیادہ واضح ہو جائے گا۔ان شاء اللہ
     
    • پسند پسند x 2
    • شکریہ شکریہ x 1
    • لسٹ
  3. ‏جولائی 01، 2015 #3
    خضر حیات

    خضر حیات علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    طابہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 14، 2011
    پیغامات:
    8,726
    موصول شکریہ جات:
    8,322
    تمغے کے پوائنٹ:
    964

    سمعتُ النبيَّ صلَّى اللهُ عليهِ وسلَّمَ يقول : إنما الشؤمُ في ثلاثةٍ : في الفرسِ، والمرأةِ، والدارِ .
    الراوي : عبدالله بن عمر | المحدث : البخاري | المصدر : صحيح البخاري
    الصفحة أو الرقم: 2858 | خلاصة حكم المحدث : [صحيح]

     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں