1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

عورتوں کی باجماعت نماز ۔۔۔ ایک جائزہ

'امامت' میں موضوعات آغاز کردہ از یوسف ثانی, ‏فروری 14، 2012۔

  1. ‏فروری 18، 2012 #11
    muslim

    muslim رکن
    جگہ:
    کراچی پاکستان
    شمولیت:
    ‏ستمبر 29، 2011
    پیغامات:
    467
    موصول شکریہ جات:
    567
    تمغے کے پوائنٹ:
    86

    السلام علیکم۔

    محترم آج بھی اگر کوئی شخص، اللہ کے کسی بھی نبی کا انکار کرتا ھے تو وہ کافر ھوجائے گا۔
    کسی نبی کی نسبت سے آپ کسی کو یہودی یا عیسائی نہیں کہہ سکتے۔ کیونکہ کسی بھی نبی نے یہودیت یا عیسائیت کی تعلیم نہیں دی۔ بلکہ
    نوح علیہ سلام سے محمد صلی اللہ علیہ وسلم تک، تمام انبیاء نے لوگوں تک اللہ کا پیغام پہنچا یا ھے۔


    آپ نے سورہ شوری آیت ١٣ کے عربی متن پر غور نہیں فرمایا۔ انبیاء کی شریعت ایک ھی ھے۔
    اگر سبت کے احکامات اللہ کی کتاب قران مجید میں موجود ہیں، تو یہ ھی تو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت ھے۔ کیا محمد صلی اللہ
    علیہ وسلم کی شریعت قران کے علاوہ ھو سکتی ھے؟
     
  2. ‏فروری 19، 2012 #12
    یوسف ثانی

    یوسف ثانی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    پاکستان
    شمولیت:
    ‏ستمبر 26، 2011
    پیغامات:
    2,760
    موصول شکریہ جات:
    5,267
    تمغے کے پوائنٹ:
    562

    وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ و برکاتہ
    کیا ’’سبت کے احکامات‘‘ امت محمدیہ پر نافذالعمل ہیں؟؟؟ ’’شریعت‘‘ نافذالعمل شرعی قوانین کا نام ہے نہ کہ ’’غیر نافذ العمل قوانین کے ذکر‘‘ کا۔
     
  3. ‏فروری 19، 2012 #13
    muslim

    muslim رکن
    جگہ:
    کراچی پاکستان
    شمولیت:
    ‏ستمبر 29، 2011
    پیغامات:
    467
    موصول شکریہ جات:
    567
    تمغے کے پوائنٹ:
    86


    السلام علیکم۔

    کیا قران مجید میں آپ احکام سبت ( جن میں سبت کے بارے میں اللہ کے حکم لکھے ہوئے ہوں) کا ریفرنس سورۃ اور آیت نمبر بتا سکتے
    ہیں؟ صرف اللہ کی کتاب سے ہی جواب دیں۔
     
  4. ‏فروری 19، 2012 #14
    یوسف ثانی

    یوسف ثانی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    پاکستان
    شمولیت:
    ‏ستمبر 26، 2011
    پیغامات:
    2,760
    موصول شکریہ جات:
    5,267
    تمغے کے پوائنٹ:
    562

    ویسے تو آپ بحث برائے بحث بھی کر رہے ہیں اور عملا" انکار حدیث بھی، لہٰذا آپ کی اس قسم کی بے نتیجہ خیز گفتگو میں آپ کے اٹھائے گئے سوالات کا جواب دینا بھی فضول ہی ہے ۔ تاہم اتمام حجت کے لئے وہ آیات بلا تبصرہ پیش ہے، جن میں سابقہ شریعت مین سبت کے قانون پر عمل نہ کرنے والوں کا تذکرہ ہے۔

    سُوۡرَةُ البَقَرَة
    وَلَقَدۡ عَلِمۡتُمُ ٱلَّذِينَ ٱعۡتَدَوۡاْ مِنكُمۡ فِى ٱلسَّبۡتِ فَقُلۡنَا لَهُمۡ كُونُواْ قِرَدَةً خَـٰسِـِٔينَ (٦٥)



    سُوۡرَةُ النِّسَاء
    وَرَفَعۡنَا فَوۡقَهُمُ ٱلطُّورَ بِمِيثَـٰقِهِمۡ وَقُلۡنَا لَهُمُ ٱدۡخُلُواْ ٱلۡبَابَ سُجَّدً۬ا وَقُلۡنَا لَهُمۡ لَا تَعۡدُواْ فِى ٱلسَّبۡتِ وَأَخَذۡنَا مِنۡہُم مِّيثَـٰقًا غَلِيظً۬ا (١٥٤)


    سُوۡرَةُ الاٴعرَاف
    وَسۡـَٔلۡهُمۡ عَنِ ٱلۡقَرۡيَةِ ٱلَّتِى ڪَانَتۡ حَاضِرَةَ ٱلۡبَحۡرِ إِذۡ يَعۡدُونَ فِى ٱلسَّبۡتِ إِذۡ تَأۡتِيهِمۡ حِيتَانُهُمۡ يَوۡمَ سَبۡتِهِمۡ شُرَّعً۬ا وَيَوۡمَ لَا يَسۡبِتُونَ‌ۙ لَا تَأۡتِيهِمۡ‌ۚ ڪَذَٲلِكَ نَبۡلُوهُم بِمَا كَانُواْ يَفۡسُقُونَ (١٦٣)


    اگر آپ کو عربی زبان آتی ہے تو ٹھیک ورنہ کسی بھی ترجمہ سے ان آیات کا مفہوم دیکھ لیجئے۔
    اللہ آپ کو خوش رکھے اور قرآن کی تفہیم اپنے عقل سے کرنے کی بجائے احادیث کی روشنی میں سمجھنے کی توفیق دے۔ مجھے افسوس ہے کہ وقت کی تنگی کے باعث میں اس دھاگے میں آپ کے ساتھ مزید وقت ضائع نہیں کرسکتا۔
     
  5. ‏فروری 19، 2012 #15
    muslim

    muslim رکن
    جگہ:
    کراچی پاکستان
    شمولیت:
    ‏ستمبر 29، 2011
    پیغامات:
    467
    موصول شکریہ جات:
    567
    تمغے کے پوائنٹ:
    86


    یہ آیات ہر زمانہ کے لوگوں پر یکساں لاگو ہوتی ہیں۔ افسوس ھے آپ پر جو افتراء آپ کرتے ہیں۔
     
  6. ‏فروری 22، 2012 #16
    انس

    انس منتظم اعلیٰ رکن انتظامیہ
    جگہ:
    لاہور
    شمولیت:
    ‏مارچ 03، 2011
    پیغامات:
    4,177
    موصول شکریہ جات:
    15,224
    تمغے کے پوائنٹ:
    800

    عورتوں کی (عورتوں کو) امامت کرانے والی روایات خود ساختہ یا ضعیف نہیں، سیدہ عائشہ، ام سلمہ اور ام ورقہ بنت نوفل رضی اللہ عنہن کی امامت کرانے والی احادیث مبارکہ ائمہ محدثین کے نزدیک بالکل صحیح اور ثابت ہیں۔
    http://www.kitabosunnat.com/forum/سوالات-وجوابات-174/کیا-عورتوں-کی-جماعت-کرانا-صحیح-ہے؟-2444/#post14385

    الدرر السنية - الموسوعة الحديثية
     
  7. ‏فروری 23، 2012 #17
    انس

    انس منتظم اعلیٰ رکن انتظامیہ
    جگہ:
    لاہور
    شمولیت:
    ‏مارچ 03، 2011
    پیغامات:
    4,177
    موصول شکریہ جات:
    15,224
    تمغے کے پوائنٹ:
    800

    بھائی! عجیب بات ہے، فتاویٰ کا لنک دیا ہے، جس میں سیدہ عائشہ اور ام سلمہ کی حدیث بیان ہوئی ہے کہ وہ عورتوں کی نماز کراتیں اور درمیاں کی کھڑی ہوتی تھیں۔
    اور دوسرے لنک میں بھی آپ کو احادیث مبارکہ پیش کی تھیں، اس کے باوجود آپ کہہ رہے ہیں کہ یہ صرف فتاویٰ ہی ہیں۔

    عن أم ورقة بنت عبد الله بن الحارث الأنصاري وكانت قد جمعت القرآن وكان النبي ﷺ قد أمرها أن تؤم أهل دارها وكان لها مؤذن وكانت تؤم أهل دارها ۔۔۔ صحيح ابن خزيمة، نصب الراية، إرواء الغليل
    کیا یہ فتویٰ ہے؟؟؟
     
  8. ‏فروری 23، 2012 #18
    کلیم حیدر

    کلیم حیدر رکن
    جگہ:
    لیہ
    شمولیت:
    ‏فروری 14، 2011
    پیغامات:
    9,403
    موصول شکریہ جات:
    25,973
    تمغے کے پوائنٹ:
    995

    عزیز بھائی اس مسئلہ ميں علما كرام كا اختلاف ہے كہ كيا عورت نماز ميں عورتوں كى امام بن سكتى ہے يا نہيں؟ ايك گروہ اس كے جواز كا قائل ہے- ايك روايت ميں آيا ہے كہ
    حديث كا مفہوم
    اس حديث كا مفہوم كيا ہے؟ اس كے لئے دو اہم باتيں مدنظر ركهيں :
    اوّل:
    ايك حديث كى شرح ديگر احاديث سے ہوتى ہے ، اس كے لئے حديث كى تمام سندوں اور متون كو جمع كركے مفہوم سمجھا جاتا ہے-
    دوم:
    سلف صالحین (محدثين كرام، راويانِ حديث) نے حديث كى جو تفسیراور مفہوم بيان كيا ہوتا ہے، اسے ہميشہ مدنظر ركها جاتا ہے، بشرطيكہ سلف كے مابين اس مفہوم پر اختلاف نہ ہو-
    اُمّ ورقہ  والى حديث پر امام ابن خزيمہ  (متوفى ٣١١ھ) نے درج ذيل باب باندها ہے:
    امام ابوبكر بن منذر نيسا بورى (متوفى ٣١٨ھ) فرماتے ہيں:
    ان دونوں محدثين كرام كى تبويب سے معلوم ہوا كہ اس حديث ميں أهل دارهاسے مراد عورتيں ہيں، مرد نہيں- محدثين كرام ميں اس تبويب پر كوئى اختلاف نہيں ہے-
    امام ابوالحسن دارقطنى (متوفى ٣٨٥ھ) فرماتے ہيں :
    اس روايت كى سند حسن ہے اور اس پر ابن جوزى كى جرح غلط ہے- ابو احمد محمد بن عبداللہ بن الزبير زبيرى صحاحِ ستہ كا راوى اور جمہور كے نزديك ثقہ ہے، لہٰذا صحيح الحديث ہے-
    اس تفصيل سے معلوم ہوا كہ يہ سند حسن لذاتہ ہے- اس صحيح روايت نے اس بات كا قطعى فيصلہ كر ديا كہ”أهل دارها“ سے مراد امّ ورقہ كے گهر اور محلے قبيلے كى عورتيں ہيں، مرد مراد نہيں ہيں-
    رہا يہ مسئلہ كہ يہ الفاظ سنن دارقطنى كے علاوہ حديث كى كسى دوسرى كتاب ميں نہيں ہيں تو عرض ہے كہ امام دارقطنى ثقہ و قابل اعتماد امام ہيں- شيخ الاسلام ابوطيب طاہر بن عبداللہ طبرى (متوفى ٤٥٠ھ) نے كہا:
    خطيب بغدادى (متوفى٤٦٣ھ) نے كہا:
    حافظ ذہبى نے فرمايا:
    اس جليل القدر امام پر متاخر حنفى فقيہ محمود بن احمد عينى (متوفى ٨٥٥ھ) كى جرح مردود ہے، حتى كہ عبدالحئ لكھنوى حنفى اس عینى كے بارے ميں لكھتے ہيں كہ
    نوٹ:
    جب حديث نے بذاتِ خود حديث كا مفہوم متعين كرديا ہے اور محدثين كرام بهى اس حديث سے عورت كا عورتوں كى امامت كرانا ہى سمجھ رہے ہيں تو پهر لغت اور الفاظ كے ہيرپھیر كى مدد سے عورتوں كو مردوں كا امام بنا دينا كس عدالت كا انصاف ہے؟
    ابن قدامہ لكھتے ہيں:
    يہاں يہ بهى ياد رہے كہ آثارِ سلف صالحین سے صرف عورت كا عورتوں كى امامت كرانا ہى ثابت ہوتا ہے- عورت كا مردوں كى امامت كرانا يہ كسى اثر سے ثابت نہيں ہے-
    چنانچہ ريطہ الحنفية (قال العجلي: كوفية تابعية ثقة) سے روايت ہے كہ
    مشہور تابعی امام شعبى  فرماتے ہيں كہ
    ابن جريج نے كہا:
    معمر بن راشد نے كہا:
    معلوم ہوا كہ اس پر سلف صالحين كا اجماع ہے كہ عورت جب عورتوں كو نماز پڑهائے گى تو صف سے آگے نہيں بلكہ صف ميں ہى ان كے ساتھ برابر كهڑى ہوكر نماز پڑهائے گى- مجهے ايسا ايك حوالہ بهى باسند صحيح نہيں ملا جس سے يہ ثابت ہو كہ سلف صالحين كے سنہرى دور ميں كسى عورت نے مردوں كو نماز پڑهائى ہو يا كوئى مستند عالم اس كے جواز كا قائل ہو-
    ابن رشد (م ٥١٥ھ) وغيرہ بعض متاخرين نے بغير كسى سند و ثبوت كے يہ لكها ہے كہ ابوثور (ابراہیم بن خالد،متوفى ٢٤٠ھ) اور (محمد بن جرير) طبرى، متوفى ٣١٠ھ اس بات كے قائل ہيں كہ عورت مردوں كو نماز پڑها سكتى ہے- (ديكهئے بداية المجتھد:ج١/ ص١٤٥، المغنى فى فقہ الامام احمد: ٢/١٥ مسئلہ:١١٤٠) چونكہ يہ حوالے بے سند ہيں، لہٰذا غير معتبر ہيں-
    نتيجہ تحقيق:
    نوٹ
    یہ اقتباس حافظ زبیر علی زئی صاحب﷾ کےمضامین سے لیا گیا ہے
     
  9. ‏فروری 24، 2012 #19
    کلیم حیدر

    کلیم حیدر رکن
    جگہ:
    لیہ
    شمولیت:
    ‏فروری 14، 2011
    پیغامات:
    9,403
    موصول شکریہ جات:
    25,973
    تمغے کے پوائنٹ:
    995

    عزیز بھائی اگر تھوڑا سا غور سے پڑھ لیا ہوتا تو بات ہی سمجھ آجاتی ۔بریکٹ میں موجود یہ الفاظ (ام ورقہ کو) اس لیے ترجمہ کے اندر شامل کیا گیا ہے کہ کہیں قاری یہ نہ سمجھ لے کہ آپﷺ نے مؤذن کو حکم دیا تھا کہ وہ امامت کروائے۔یہاں ’’اسے‘‘ سے مراد ام ورقہ تھیں اس لیے تمام شبہہ دور کرنے کےلیے ذکر کرنا ضروری سمجھا گیا۔
    اب آپ کے ذہن میں سوال آئے گا کہ اگر ’’اسے‘‘ ام ورقہ کی طرف اشارہ ہے تو یہ اشارہ مؤذن کی طرف بھی ہوسکتا ہے۔؟
    تو اس کا جواب اس حدیث میں ان الفاظ میں آپ کو مل جائے گا۔’’یرورھا‘‘ اور ’’وجعل لھا‘‘ اور ’’وأمرھا‘‘ جس سے پتہ چلے گا کہ یہ حکم ام روقہ کےلیے تھا نہ کہ مؤذن کےلیے۔
    واللہ اعلم
    باقی تفصیل سے اہل علم ہی آگاہ کریں گے۔ان شاءاللہ
     
  10. ‏فروری 29، 2012 #20
    احمد طلال

    احمد طلال مبتدی
    شمولیت:
    ‏فروری 14، 2012
    پیغامات:
    26
    موصول شکریہ جات:
    78
    تمغے کے پوائنٹ:
    0

    میں نے اہلحدیث علماء سے رابطہ کیا تو انہوں نے بھی مجھے یہی جواب دیا ہے اس لئے میں نے اس تھریڈ سے اپنے پیغامات ڈیلیٹ کر دئیے ہیں۔
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں