1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

عورتوں کی طہارت کے مخصوص مسائل

'گوشہ خواتین' میں موضوعات آغاز کردہ از کلیم حیدر, ‏اپریل 22، 2012۔

  1. ‏اپریل 22، 2012 #1
    کلیم حیدر

    کلیم حیدر رکن
    جگہ:
    لیہ
    شمولیت:
    ‏فروری 14، 2011
    پیغامات:
    9,403
    موصول شکریہ جات:
    25,973
    تمغے کے پوائنٹ:
    995

    عورتوں کی طہارت کے مخصوص مسائل

    الشیخ صالح الفوزان
    مترجم:حافظ محمد مصطفی راسخ ​

    حیض کی تعریف اور اَحکام
    حیض کا لغوی معنی ’’السیلان‘‘ (بہنا)ہے، جبکہ شرعاً حیض سے مرادوہ خون ہے جو مخصوص ایام میں بغیرتکلیف و بیماری کے عورت کے رحم سے خارج ہوتا ہے۔
    اللہ تعالیٰ نے بنت ِآدم کو اسی جبلت پر پیدا کیا ہے اور اس خون کو حمل کے وقت بچے کی غذا بنا دیا ہے، ولادت کے بعد یہی خون دودھ میں تحویل ہوجاتا ہے۔ جب عورت نہ حاملہ ہو اور نہ ہی مرضعہ، تو اس خون کا کوئی تصرف نہیں رہتا، پس یہ اپنے معلوم اوقات میں حسب عادت خارج ہوتا رہتا ہے جس کوسمجھدار عورتیں پہچان لیتی ہیں۔
    حیض آنے کا عرصہ
    غالباً کم از کم نو سال کی عمر سے لے کر پچاس سال تک عورت کو حیض آتا ہے۔
    ارشاد باری تعالیٰ ہے:
    ’’وَالّٰٓيئِ یَئِسْنَ ‘‘ سے مراد پچاس سال کی عمر کو پہنچ جانے والی عورتیں ہیں جبکہ
    ’’ وَّالّٰئ لَمْ یَحِضْنَ‘‘ سے مراد نو سال سے کم عمر چھوٹی بچیاں ہیں۔
     
    • شکریہ شکریہ x 5
    • علمی علمی x 1
    • لسٹ
  2. ‏اپریل 22، 2012 #2
    کلیم حیدر

    کلیم حیدر رکن
    جگہ:
    لیہ
    شمولیت:
    ‏فروری 14، 2011
    پیغامات:
    9,403
    موصول شکریہ جات:
    25,973
    تمغے کے پوائنٹ:
    995

    حائضہ کے لئے حرام اور مباح اُمور کے احکام
    1۔حالت حیض میں جماع کرنا حرام ہے:
    ارشاد باری تعالیٰ ہے:
    حیض کا خون بند ہوجانے اور اس سے غسل کرلینے تک یہ تحریم قائم رہے گی۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے :
    {وَلَا تَقْرَبُوْھُنَّ حَتّٰی یَطْہُرْنَ فَاِذَا تَطَھَّرْنَ فَأتُوْھُنَّ مِنْ حَیْثُ أَمَرَکُمُ اﷲُ} خاوند کے لئے حائضہ عورت کے ساتھ جماع کے علاوہ فائدہ اٹھانا مباح ہے کیونکہ نبی کریمﷺ نے فرمایا:
    2۔حائضہ عورت اپنی مدت حیض میں نماز اور روزہ چھوڑ دے گی، ان کی ادائیگی اس پر حرام ہے اور نہ ہی یہ عمل اس سے صحیح ثابت ہوں گے۔ کیونکہ نبی کریم ﷺنے فرمایا :
    حائضہ جب حیض سے پاک صاف ہوجائے تو روزہ کی قضا کرے گی جبکہ نماز کی قضا نہیں کرے گی، کیونکہ حضرت عائشہؓ سے مروی ہے:
    نماز اور روزے میں فرق اس لئے ہے کہ نماز مکرر ہے جس کی قضاء میں تنگی اور مشقت ہے اس لئے اس کی قضاء کا حکم نہیں دیا گیا۔ واللہ اعلم۔
    3۔حائضہ پر بلا پردہ مصحف پکڑنا حرام ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
    اور نبی کریمﷺ نے عمرو بن حزمؓ کو خط میں یہ لکھا :
    اور یہ حدیث متواتر ہے کیونکہ اس کو لوگوں کی طرف سے تلقی بالقبول حاصل ہے۔
    شیخ الاسلام امام ابن تیمیہؒ فرماتے ہیں۔ ائمہ اربعہ کا یہی مذہب ہے کہ مصحف کو پاک لوگ ہی چھو سکتے ہیں۔ حائضہ کے لئے مصحف کو چھوئے بغیر زبانی تلاوت کرنے کے بارے میں علماء کا اختلاف ہے اور زیادہ احتیاط اسی میں ہے کہ تلاوت نہ کی جائے الا یہ کہ کوئی سخت ضرورت ہو مثلاً قرآن بھول جانے کا اندیشہ ہو۔ واللہ اعلم۔
    4۔حائضہ پربیت اللہ کا طواف کرنا حرام ہے: کیونکہ جب حضرت عائشہؓ حائضہ ہوگئیں تو آپؐ نے فرمایا:
    5۔حائضہ کے لئے مسجد میں ٹھہرنا حرام ہے، کیونکہ نبی کریمﷺ نے فرمایا:
    دوسری جگہ فرمایا:
    لیکن مسجد میں ٹھہرے بغیر گزر جانا جائز ہے۔ جیسا کہ ایک موقع پر نبی کریمﷺ نے حضرت عائشہ رض کو کہا
    حائضہ کے لئے صبح و شام، سونے جاگنے کا اذکار اور تسبیح، تہلیل، تحمید، تکبیر وغیرہ پڑھنے میں کوئی حرج نہیں ہے اسی طرح کتب تفسیر، حدیث، فقہ کا پڑھنا بھی جائز ہے۔
     
    • شکریہ شکریہ x 4
    • علمی علمی x 1
    • لسٹ
  3. ‏اپریل 22، 2012 #3
    کلیم حیدر

    کلیم حیدر رکن
    جگہ:
    لیہ
    شمولیت:
    ‏فروری 14، 2011
    پیغامات:
    9,403
    موصول شکریہ جات:
    25,973
    تمغے کے پوائنٹ:
    995

    الصفرۃاورالکدرۃ کا حکم
    ’الصفرۃ‘ پیپ کی مانند شئ جس پر زردی غالب ہو۔
    ’الکدرۃ‘ میلے اور گدلے پانی کی مانند شے۔

    جب اَیام حیض میں صفرۃ یا کدرۃ خارج ہو تو اسے حیض ہی سمجھا جائے گا اور حیض کے مذکورہ بالا احکام اس پر لاگو ہوں گے اور اگر عادت سے ہٹ کر ایام حیض کے علاوہ خارج ہو تو اسے کچھ نہیں سمجھا جائے گا بلکہ عورت طاہر ہی شمار ہوگی۔ کیونکہ حضرت اُم عطیہؓ فرماتی ہیں:
    اور بخاری نے ’بعد الطھر‘کے الفاظ کے بغیر ہی نقل کیا ہے۔اہل حدیث کے ہاں اس حدیث کا حکم مرفوع ہے کیونکہ یہ نبی کریمﷺ سے تقریر سمجھی جائے گی۔ اس حدیث کامفہوم مخالف یہ ہے کہ طہر سے پہلے کدرۃ اور صفرۃ حیض کے حکم میں ہے جیسا کہ گذرا ہے۔
     
    • شکریہ شکریہ x 4
    • علمی علمی x 1
    • لسٹ
  4. ‏اپریل 22، 2012 #4
    کلیم حیدر

    کلیم حیدر رکن
    جگہ:
    لیہ
    شمولیت:
    ‏فروری 14، 2011
    پیغامات:
    9,403
    موصول شکریہ جات:
    25,973
    تمغے کے پوائنٹ:
    995

    حیض سے طہارت کی علامت
    کس چیز سے عورت انتہاء حیض کو پہچانے گی؟
    عورت انقطاع خون سے انتہاء حیض جان لیتی ہے اور اس کی دو علامتیں ہیں۔
    1۔سفید چونے کا نزول:
     
    • شکریہ شکریہ x 4
    • علمی علمی x 1
    • لسٹ
  5. ‏اپریل 22، 2012 #5
    کلیم حیدر

    کلیم حیدر رکن
    جگہ:
    لیہ
    شمولیت:
    ‏فروری 14، 2011
    پیغامات:
    9,403
    موصول شکریہ جات:
    25,973
    تمغے کے پوائنٹ:
    995

    غسل کے وجوب اور کیفیت کا بیان
    انتہاء حیض کے وقت عورت پر غسل کرنا واجب ہے بایں طور پر کہ وہ طہارت کی نیت سے پورے جسم پر پانی بہائے۔ کیونکہ نبی کریمﷺ کا فرمان ہے:
    غسل کا طریقہ :
    سب سے پہلے طہارت کی نیت کرے اور نماز والا وضو کرے پھر بسم اللہ کہہ کر اپنے پورے جسم پر پانی بہائے اور بالوں کی جڑوں تک پانی پہنچائے، اگر مینڈھیاں ہوں تو ان کوکھولنا ضروری نہیں ہے صرف پانی سے تر کرے اور جڑوں تک پانی پہنچائے۔ غسل کرتے وقت بیری یاصابون وغیرہ استعمال کرنا مستحسن ہے، غسل کرلینے کے بعد روئی یا کستوری یا کوئی بھی خوشو لگا کر شرمگاہ میں لگانا مستحب ہے، جیسا کہ نبی کریم ﷺنے حضرت اسمائؓ کو ایسا کرنے کا حکم دیا تھا۔ [صحیح مسلم:۵۰۰]
     
    • شکریہ شکریہ x 4
    • علمی علمی x 1
    • لسٹ
  6. ‏اپریل 22، 2012 #6
    کلیم حیدر

    کلیم حیدر رکن
    جگہ:
    لیہ
    شمولیت:
    ‏فروری 14، 2011
    پیغامات:
    9,403
    موصول شکریہ جات:
    25,973
    تمغے کے پوائنٹ:
    995

    نماز کے وقت پاکیزگی حاصل ہوجانے پر کون سی نماز پڑھنا واجب ہے
    اگر حائضہ یا نفاس والی عورت غروب آفتاب سے پہلے پاکیزہ ہوجاتی ہے تو اس پراس دن کی نماز ظہر اور عصر پڑھنا ضروری ہے، اور اگر طلوع فجر سے پہلے پاکیزہ ہوجاتی ہے تو اس پر اس رات کی مغرب اور عشاء پڑھنا ضروری ہے، کیونکہ حالت عذر میں دوسری نماز کا وقت ہی پہلی نماز کا وقت ہے۔
    شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ رح اپنے فتاویٰ [۲۲؍۴۳۴] میں فرماتے ہیں:
    اگر کوئی عورت کسی نماز کا وقت داخل ہوجانے کے بعد نماز ادا کرنے سے پہلے پہلے حائضہ یا نفاس والی ہوجاتی ہے تو قول راجح کے مطابق اس پر قضاء لازم نہیں ہے۔
    شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ ؒ اپنے مجموع فتاویٰ [۲۳؍۳۳۵] میں اس مسئلے سے متعلق فرماتے ہیں:
     
    • شکریہ شکریہ x 4
    • علمی علمی x 1
    • لسٹ
  7. ‏اپریل 22، 2012 #7
    کلیم حیدر

    کلیم حیدر رکن
    جگہ:
    لیہ
    شمولیت:
    ‏فروری 14، 2011
    پیغامات:
    9,403
    موصول شکریہ جات:
    25,973
    تمغے کے پوائنٹ:
    995

    مستحاضہ کے احکام و مسائل
    استحاضہ اس خون کو کہتے ہیں جو بلا وقت بیماری کی وجہ سے ’’عاذل‘‘ نامی رگ سے بہتا رہتا ہے۔ خون استحاضہ کی دم حیض کے ساتھ مشابہت کی وجہ سے مستحاضہ عورت کا معاملہ ذرا مشکل ہوجاتا ہے۔ چونکہ اس عورت کی شرمگاہ سے ہمیشہ یا اکثر اوقات خون بہتا رہتا ہے چنانچہ یہ معلوم کرنا مشکل ہو جاتا ہے کہ یہ حیض کا خون ہے جس میں وہ نماز روزہ چھوڑ دے یا استحاضہ کا خون ہے جس میں وہ نماز روزہ نہ چھوڑے۔
    اس مشکل کی بناء پر مستحاضہ کی تین حالتیں ہیں۔
    ٭ پہلی حالت :معتادۃ
    وہ عورت جس کے مستحاضہ ہونے سے پہلے اس کی عادت حیض معروف تھی کہ وہ پانچ دن یا آٹھ دن مہینے کے شروع، وسط یا آخر میں حائضہ ہوتی تھی۔ وہ دنوں کی تعداد اور وقت کو جانتی ہو ایسی عورت اپنی معروف عادت کے مطابق نماز روزہ چھوڑ دے گی اور اس پر حیض کے احکام لاگو ہوں گے، جب معروف عادت کے دن اور وقت ختم ہوجائے تو اسے چاہئے کہ وہ غسل کرے اور نمازادا کرنا شروع کردے اور باقی خون کو استحاضہ سمجھے۔ جیسا کہ نبی کریمﷺ نے حضرت اُم حبیبہ رض کو کہا:
    حضرت فاطمہ بنت ابی جیش رض کو فرمایا:
    ٭ دوسری حالت :متمیزۃ
    اس عورت کی ’’معروف عادت‘‘ نہ ہو لیکن اس کا خون متمیز ہو جس سے علم ہوجاتا ہو کہ یہ حیض یا استحاضہ کا خون ہے۔ مثلاً دمِ حیض کالا، گاڑھا اور بدبودار ہو جبکہ دمِ استحاضہ سرخ، پتلا اور بلا بدبو ہو، اس حالت میں عورت تمیز کرتے ہوئے متمیز دمِ حیض کے وقت نماز روزہ چھوڑ دے گی اور اس پر حیض کے احکام لاگو ہوں گے۔ جب کہ دمِ استحاضہ کے وقت غسل کرے اور نماز شروع کردے اور اس پر طاہرہ کے احکام لاگو ہوں گے۔ کیونکہ نبی کریمﷺ نے فاطمہ بنت ابی جیشؓ سے کہا:
    اس صورت میں عورت اپنے خون کی تمیز کرتے ہوئے جان لیتی ہے کہ یہ حیض ہے یا استحاضہ ہے۔
    ٭ تیسری حالت : فاقدۃ
    ایسی عورت جس کی نہ تو ’معروف عادت‘ ہو اور نہ ہی ’صفت تمیز‘ ہو۔ یہ حیض کے غالب اوقات کااعتبار کرتے ہوئے مہینے میں چھ یا سات دن تک حائضہ شمار ہوگی کیونکہ اکثر عورتوں کی یہی عادت ہے۔ جیسا کہ نبی کریمﷺ نے حضرت حمنہ بنت حجش رض کو فرمایا:
     
    • شکریہ شکریہ x 4
    • علمی علمی x 1
    • لسٹ
  8. ‏اپریل 22، 2012 #8
    کلیم حیدر

    کلیم حیدر رکن
    جگہ:
    لیہ
    شمولیت:
    ‏فروری 14، 2011
    پیغامات:
    9,403
    موصول شکریہ جات:
    25,973
    تمغے کے پوائنٹ:
    995

    نتیجہ
    مذکورہ بالا بحث کا حاصل یہ ہے کہ معتادۃ (معروف عادت والی) اپنی معروف عادت کا اعتبار کرے گی جب کہ متمیزہ (صفت تمیز والی) تمیز کا اعتبار کرے گی اور فاقدہ چھ یا سات دن تک اپنے آپ کو حائضہ شمار کرے گی اور مستحاضہ کے متعلق یہ تینوں حالتیں ہی نبی کریمﷺ سے وارد ہیں۔
    شیخ الاسلام امام ابن تیمیہؒ فرماتے ہیں:
    یہی وہ تین علامات ہیں جن پر سنت اور اعتبار دلالت کرتا ہے۔ پھر امام ابن تیمیہ ؒ نے بقیہ تین علامتوں کو ذکرکر کے النھایۃمیں فرمایا: کہ زیادہ صحیح اور درست امر یہی ہے کہ سنت سے ثابت انہی (پہلی)تین علامات کااعتبار کیا جائے اور دیگر منقول علامات کو لغو (ختم) کردیا جائے۔
     
    • شکریہ شکریہ x 4
    • علمی علمی x 1
    • لسٹ
  9. ‏اپریل 22، 2012 #9
    کلیم حیدر

    کلیم حیدر رکن
    جگہ:
    لیہ
    شمولیت:
    ‏فروری 14، 2011
    پیغامات:
    9,403
    موصول شکریہ جات:
    25,973
    تمغے کے پوائنٹ:
    995

    طہارت مستحاضہ کے اَحکام
    1-مذکورہ بالا علامات کے مطابق معتبر حیض کی انتہاء پر مستحاضہ کے لئے غسل کرنا واجب ہے۔
    2-ہر نماز کے وقت باہر سے اپنی شرمگاہ کو اچھی طرح دھوئے تاکہ گندگی صاف ہوجائے اور سوراخ میں روئی وغیرہ رکھ کر مضبوطی سے باندھ لے تاکہ گر نہ سکے۔ پھر ہرنماز کے لئے وضو کرے۔ کیونکہ نبی کریمﷺ نے مستحاضہ کے بارے میں فرمایا:
    آج کل موجود طبی پیمپرز Pampers بھی استعمال کئے جاسکتے ہیں۔
     
    • شکریہ شکریہ x 4
    • علمی علمی x 1
    • لسٹ
  10. ‏اپریل 22، 2012 #10
    کلیم حیدر

    کلیم حیدر رکن
    جگہ:
    لیہ
    شمولیت:
    ‏فروری 14، 2011
    پیغامات:
    9,403
    موصول شکریہ جات:
    25,973
    تمغے کے پوائنٹ:
    995

    نفاس اور اس کے اَحکام
    نفاس سے مراد وہ خون ہے جو ولادت کے وقت رحم مادر سے جاری ہوتا ہے اور عموماً چالیس دن تک تھوڑاتھوڑا بہتا رہتا ہے۔ بسااوقات یہ خون ولادت سے پہلے بھی جاری ہوجاتا ہے۔ جس کی مدت فقہاء نے دو تین دن تک محدود کردی ہے۔ غالباً ولادت کے وقت ہی جاری ہوتا ہے۔ اور معتبر ولادت اس وقت ہوتی ہے جب انسان کی خلقت واضح ہوجائے، اور انسان کی خلقت واضح ہونے کی کم از کم مدت ۸۱ دن یا غالب مدت تین ماہ ہے۔ اگر کسی عورت سے اس مدت سے پہلے کوئی شئ ساقط ہوگئی اور اس کے ساتھ خون جاری ہوگیا تو اس کی طرف توجہ نہیں دی جائے گی اس خون کی وجہ سے عورت نماز روزہ نہیں چھوڑے گی کیونکہ یہ فاسد خون ہے اور ا س کا حکم مستحاضہ کا ہوگا۔
    عموماً مدت نفاس ولادت یاولادت سے دو تین دن پہلے سے لے کر چالیس دن تک ہوتی ہے۔ جیسا کہ حضرت اُم سلمہؓ کی حدیث ہے:
    اور اس امر پر اہل علم کا اجماع ہے جیساکہ ترمذی وغیرہ نے نقل کیا ہے۔
    اگر کوئی عورت چالیس دن سے پہلے ہی طاہرہ (پاکیزہ) ہوجاتی ہے اور اس کا خون منقطع ہوجاتا ہے تو اس کو چاہئے کہ وہ غسل کرے اور نماز پڑھے۔ کیونکہ نفاس کے خون کی کم از کم کوئی حد متعین نہیں ہے۔ اور نہ ہی کسی سے اس کی تحدید ثابت ہے اور اگر چالیس دن مکمل ہوجانے کے بعد بھی خون جاری ہے اور منقطع نہیں ہوا تو اگر وہ عادت حیض کے موافق ہے تو اس کو حیض شمار کیا جائے گا اور اگر عادت حیض کے موافق نہیں ہے تو استحاضہ ہوگا اور عورت چالیس دن گذر جانے کے بعد اپنی عبادات کو ترک نہیں کرے گی۔
     
    • شکریہ شکریہ x 5
    • علمی علمی x 1
    • لسٹ
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں