1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

عید میلاد النبی ﷺ کی شرعی حیثیت

'پی ڈی ایف' میں موضوعات آغاز کردہ از رفیق طاھر, ‏جنوری 29، 2012۔

  1. ‏نومبر 02، 2019 #11
    فرحان

    فرحان رکن
    شمولیت:
    ‏جولائی 13، 2017
    پیغامات:
    40
    موصول شکریہ جات:
    2
    تمغے کے پوائنٹ:
    30


    السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ

    @اسحاق سلفی
    شیخ ایک حنفی مقلد نے سورہ المائدہ کی آیت 114 دلیل دی ہے تیسری عید قرآن میں ہے

    اس کا مختصر جامع جواب چاہیئے

    جزاک اللہ خیر
     
  2. ‏نومبر 03، 2019 #12
    ابن داود

    ابن داود فعال رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏نومبر 08، 2011
    پیغامات:
    3,313
    موصول شکریہ جات:
    2,649
    تمغے کے پوائنٹ:
    556

    السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
    اس کا جواب تو ان شاء اللہ شیخ @اسحاق سلفی دیں گے!
    میں اس ''مقلد مجتہد'' سے یہ پوچھنا چاہوں گا، کہ اگر اس آیت سے خاتم النبیین ، محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کے لئے بھی عید کا اثبات ہوتا ہے!
    تو یہ حضرات اس عید کو کیوں نہیں، مناتے؟
    اور امت محمد صلی اللہ علیہ وسلم میں کس نے اس عید کو منایا ہے؟
    کیا کسی صحابی رضی اللہ عنہ نے یہ عید منائی ہے؟
    یا کیا امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ نے یہ عید منائی ہے؟
    اب جب ان صاحب کے بقول تو قرآن سے اس تیسری عید کا اثبات کیا جا رہا ہے، کیا امام ابو حنیفہ کو قرآن کی یہ آیت سمجھ نہیں آئی تھی؟
    اور جب امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ نے اس آیت سے اس امت کے لئے تیسری عید کا استدلال نہیں کیا، تو تم مقلدوں کو قرآن کی آیات سے استدلال کرنے کا کیا حق ہے؟

    حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ عَنْ هِشَامٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ دَخَلَ أَبُو بَكْرٍ وَعِنْدِي جَارِيَتَانِ مِنْ جَوَارِي الْأَنْصَارِ تُغَنِّيَانِ بِمَا تَقَاوَلَتْ الْأَنْصَارُ يَوْمَ بُعَاثَ قَالَتْ وَلَيْسَتَا بِمُغَنِّيَتَيْنِ فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ أَمَزَامِيرُ الشَّيْطَانِ فِي بَيْتِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَذَلِكَ فِي يَوْمِ عِيدٍ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا أَبَا بَكْرٍ إِنَّ لِكُلِّ قَوْمٍ عِيدًا وَهَذَا عِيدُنَا
    حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ میرے پاس حضرت ابوبکر صدیق ؓ اس وقت تشریف لائے جب انصار کی دو بچیاں وہ شعر گا رہی تھیں جو انصار نے جنگ بعاث کے موقع پر ایک دوسرے کے متعلق پڑھے تھے۔ حضرت عائشہ ؓ نے وضاحت کی کہ وہ بچیاں معروف گلوکارائیں نہ تھیں۔ حضرت ابوبکر ؓ نے یہ دیکھ کر فرمایا:یہ شیطانی ساز، رسول اللہ کے گھر میں موجود ہیں، باعث تعجب ہے۔ یہ واقعہ عید کے دن کا ہے۔ رسول اللہ نے فرمایا: "اے ابوبکر! ہر قوم کے لیے عید ہوتی ہے (جس دن وہ خشیاں مناتے ہیں) یہ ہمارا عید کا دن ہے (اس لیے انہیں خوشیاں منانے
    مترجم: ١. شیخ الحدیث حافظ عبد الستار حماد (دار السلام)

    ‌صحيح البخاري: کِتَابُ العِيدَيْنِ (بَابُ سُنَّةِ العِيدَيْنِ لِأَهْلِ الإِسْلاَمِ(الدُّعَاءُ فِي الْعِيْدِ))
    صحیح بخاری: کتاب: عیدین کے مسائل کے بیان میں تمہید کتاب (باب: اس بارے میں کہ مسلمانوں کے لیے عید کے دن پہلی سنت کیا ہے)

    حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ عَنْ هِشَامٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ دَخَلَ عَلَيَّ أَبُو بَكْرٍ وَعِنْدِي جَارِيَتَانِ مِنْ جَوَارِي الْأَنْصَارِ تُغَنِّيَانِ بِمَا تَقَاوَلَتْ بِهِ الْأَنْصَارُ يَوْمَ بُعَاثَ قَالَتْ وَلَيْسَتَا بِمُغَنِّيَتَيْنِ فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ أَبِمَزْمُورِ الشَّيْطَانِ فِي بَيْتِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَذَلِكَ فِي يَوْمِ عِيدٍ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا أَبَا بَكْرٍ إِنَّ لِكُلِّ قَوْمٍ عِيدًا وَهَذَا عِيدُنَا
    ابو اسامہ نے ہشام سے،انھوں نے اپنے والد(عروہ) سے اور انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی،انھوں نے کہا:حضرت ابو بکر میرے ہاں تشریف لائے جبکہ میرے پاس انصار کی دو بچیاں تھیں۔اور انصار نے جنگ بعاث میں جو اشعار ایک دوسرے کے مقابلے میں کہےتھے،انھیں گارہی تھیں۔کہا:وہ کوئی گانے والیاں نہ تھیں۔حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے(انھیں دیکھ کر) کہا:کیا رسول اللہ کے گھر میں شیطان کی آواز(بلند ہورہی ) ہے؟اور یہ عید کے دن ہوا تھا۔اس پر رسول اللہ نے فرمایا:"ابو بکر!ہر قوم کے لئے ایک عید ہے اور یہ ہماری عید ہے۔"
    مترجم: ١. پروفیسر محمد یحییٰ سلطان محمود جلالپوری (دار السلام)

    صحيح مسلم: كِتَابُ صَلَاةِ الْعِيدَيْنِ (بَابُ الرُّخْصَةِ فِي اللَّعِبِ الَّذِي لَا مَعْصِيَةَ فِيهِ فِي أَيَّامِ الْعِيدِ)
    صحیح مسلم: کتاب: نماز عیدین کے احکام و مسائل تمہید کتاب (باب: عید کے دنوں میں ایسے کھیل کی اجازت ہے جس میں گناہ نہ ہو)

    اس متفق علیہ حدیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم سے معلوم ہوا کہ عید صرف اس قوم، یعنی امت محمدیہ کے لئے ہی مقرر نہیں، بلکہ اس سے قبل امتوں کے لئے بھی مقرر تھی!
    اور پہلی امتوں کی عید کو امت محمدیہ کے لئے عید قرار دینا باطل ہے!
    کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ''وَهَذَا عِيدُنَا'' کے الفاظ سے متعین کر دیا ہے، کہ ''یہ ہماری عید'' ہے،
     
    • متفق متفق x 1
    • زبردست زبردست x 1
    • لسٹ
  3. ‏نومبر 03، 2019 #13
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    6,368
    موصول شکریہ جات:
    2,395
    تمغے کے پوائنٹ:
    791

    وعلیکم السلام ورحمۃاللہ وبرکاتہ
    ایک آیت سے میلاد پر استدلال
    سورۃ المائدہ (114)
    قَالَ عِيْسَى ابْنُ مَرْيَمَ اللّٰهُمَّ رَبَّنَآ اَنْزِلْ عَلَيْنَا مَاۗىِٕدَةً مِّنَ السَّمَاۗءِ تَكُوْنُ لَنَا عِيْدًا لِّاَوَّلِنَا وَاٰخِرِنَا وَاٰيَةً مِّنْكَ ۚ وَارْزُقْنَا وَاَنْتَ خَيْرُ الرّٰزِقِيْنَ ١١٤
    ( عیسیٰ علیہ السلام نے دعاء کی :''اے اللہ ! ہمارے پروردگار! ہم پر آسمان سے خوان نعمت نازل فرما جو ہمارے پہلوں اور پچھلوں سب کے لیے خوشی کا موقع ہو اور تیری طرف سے (میری صداقت کی نشانی ) معجزہ ہو۔ اور تو ہمیں روزی عطا فرما، تو سب سے بہتر رزق دینے والا ہے''
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    اسلامی شریعتوں میں عید کا مطلب یہ نہیں رہا کہ قومی تہوار کا ایک دن ہو جس میں تمام اخلاقی قیود اور شریعت کے ضابطوں کو پامال کرتے ہوئے بے ہنگم طریقے سے طرب و مسرت کا اظہار کیا جائے، چراغاں کیا جائے اور جشن منایا جائے، جیسا کہ آجکل اس کا یہی مفہوم سمجھ لیا گیا ہے اور اسی کے مطابق تہوار منائے جاتے ہیں۔ یہاں بھی حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے اس دن عید منانے کی خواہش کا اظہار کیا ہے اس سے ان کا مطلب یہی ہے کہ ہم تعریف و تمجید اور تکبیر و تحمید کریں۔ بعض اہل بدعت اس عید مائدہ سے عید میلاد کا جواز ثابت کرتے ہیں حالانکہ اول تو یہ ہماری شریعت سے پہلے کی شریعت کا واقعہ ہے جسے اگر اسلام برقرار رکھنا چاہتا تو وضاحت کردی جاتی دوسرے یہ پیارے پیغمبرﷺ کی زبان سے عید بتانے کی خواہش کا اظہار ہوا تھا اور اللہ تعالی کا ہر پیغمبراکرم ﷺبھی اللہ کے حکم سے شرعی احکام بیان کرنے کا مجاز ہوتا ہے،
    تیسرے عید کا مفہوم و مطلب بھی وہ ہوتا ہے جو مذکورہ بالا سطروں میں بیان کیا گیا ہے جب کہ عید میلاد میں ان میں سے کو‏‏ئی بات بھی نہیں ہے لہذا عید میلاد کے بدعت ہونے میں کوئی شک و شبہ نہیں ہے۔ اسلام میں سال کی سطح پرصرف دو ہی عیدیں ہیں جو اسلام نے مقرر کی ہیں، عید الفطر اور عید الاضحٰی۔اور ہفتہ کے دورانیہ میں جمعۃ المبارک کو عیدکہہ سکتے ہیں، ان کے علاوہ کوئی اور عید نہیں۔۔۔۔۔۔۔
    ٭٭٭
    امت مسلمہ میں چودہ صدیوں میں کلام اللہ کے نامور مفسرین میں سے کسی نے اس آیت سے میلاد مروجہ کشید نہیں کی،
    اور اگرسورہ مائدہ کی اس اس آیت کریمہ سے مروجہ میلاد کا اثبات ہوتا،تو یہ استدلال اوراستنباط سلف امت(صحابہ کرام اور تابعین کرام ) سے یقیناً منقول ہوتا،
    جبکہ مروجہ میلاد کےمتعلق خود اہل بدعت کو اعتراف ہےکہ خیرالقرون میں اس جشن اور عید کاوجودہی نہ تھا:
    پاکستان میں بدعات کے بڑےڈسٹری بیوٹر احمد یار خاں نعیمی بریلوی لکھتےہیں :
    لَمْ یَفْعَلْہُ أَحَدٌ مِّنَ الْقُرُونِ الثَّلَاثَۃِ، إِنَّمَا حَدَثَ بَعْدُ .
    میلاد شریف تینوں زمانوں میں کسی نے نہ کیا ، بعد میں ایجاد ہوا ۔''(جاء الحق : ١/٢٣٦)
    مشہور بریلوی عالم غلام رسول سعیدی بریلوی صاحب یوں اعتراف ِحقیقت کرتے ہیں:
    ''سلف صالحین یعنی صحابہ اور تابعین نے محافلِ میلاد نہیں منعقد کیں بجا ہے۔''
    (شرح صحیح مسلم : ٣/١٧٩)
    مشہور بریلوی مبلغ عبد السمیع رامپوری بریلوی لکھتے ہیں :
    ''یہ سامان فرحت و سرور اور وہ بھی مخصوص مہینے ربیع الاول کے ساتھ اور اس میں خاص وہی بارہواں دن میلاد شریف کا معین کرنا بعد میں ہوایعنی چھٹی صدی کے آخر میں۔''(انوارِ ساطعہ : ١٥٩)

    اہلِ بدعت علی الاعلان تسلیم کر رہے ہیں کہ صحابہ و تابعین نے یہ جشن نہیں منایا،تو کیا ان کو قرآن کا صحیح فہم حاصل نہ تھا، یارسول اکرم ﷺ سے محبت نہ تھی ؟
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
     
  4. ‏نومبر 03، 2019 #14
    afrozsaddam350

    afrozsaddam350 مبتدی
    شمولیت:
    ‏اگست 31، 2019
    پیغامات:
    9
    موصول شکریہ جات:
    1
    تمغے کے پوائنٹ:
    4

    السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
    مکہ اور مدینہ میں کون عید میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم شروع کرے ہے اس کی کوئی شرعی دلیل مل سکتی ہے ۔
    ِ[​IMG][​IMG]

    Sent from my JSN-L22 using Tapatalk
     
  5. ‏نومبر 11، 2019 #15
    فرحان

    فرحان رکن
    شمولیت:
    ‏جولائی 13، 2017
    پیغامات:
    40
    موصول شکریہ جات:
    2
    تمغے کے پوائنٹ:
    30

    السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ

    @اسحاق سلفی

    استاد محترم ایک بندہ قادیانی ہوجائے پیسوں کی لالچ میں

    وہ پھر دوبارا مسلم بننا چاہے اس کے لیئے کیا حکم ؟
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں