1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

عیسیٰ علیہ سلام کا آسمان پر اٹھایا جانا اور قرب قیامت آسمان ہی سے ان کا نزول ہونا۔

'ایمانیات' میں موضوعات آغاز کردہ از محمد ڈیفینڈر, ‏اگست 03، 2015۔

  1. ‏اگست 03، 2015 #1
    محمد ڈیفینڈر

    محمد ڈیفینڈر رکن
    شمولیت:
    ‏مئی 23، 2012
    پیغامات:
    83
    موصول شکریہ جات:
    79
    تمغے کے پوائنٹ:
    63

    [​IMG]

    طارق محمود حفظہ اللہ

    محترم ساتھیوں

    السلام علیکم :-

    آج کے اس پرفتن دور میں جہاں مختلف فتنے جابجا سر اٹھا رہے ہیں انہی فتنوں میں سے ایک فتنہ قادیانیت ہے اس فتنے سے ہر مسلمان واقف ہے کیونکہ یہ ختم نبوت کے منکر ہیں اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد بھی مرزا قادیانی کو نبی مانتے ہیں(العیاذ باللہ) ان کے مطابق عیسیٰ علیہ السلام کا وصال ہو چکا ہے اور احادیث میں جن عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کی پیشن گوئی کی گئی ہیں وہ مرزا قادیانی ہے مگر امت مسلمہ کا اجماع ہے کہ عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام قرب قیامت باذن اللہ نازل ہو ں گے اور اس کے متعدد دلائل موجود ہیں۔ نزول عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں موجود احادیث کے بارے میں قادیانیوں کا موقف یہ ہے کہ احادیث میں عیسیٰ علیہ السلام کے صرف نزول کا ذکر موجود ہے ان کے آسمان کی جانب اٹھائے جانے کی کوئی صراحت یا ان کے آسمان پر حیات ہونے اور ان کے نزول سے متعلق روایات میں آسمان سے نزول کی صراحت موجود نہیں ہے۔ چنانچہ وہ نزول سے مراد پیدائش لیتے ہیں جس کو وہ مرزا قادیانی کی طرف منسوب کرتے ہیں لہٰذا آج ہمارا محور موضوع اس مدعا سے متعلق احادیث ہیں جن میں عیسیٰ علیہ السلام کے رفع آسمانی کا ذکر تو موجود نہیں ہے مگران کا آسمان پر حیات ہونا اور آسمان سے نزول ہی کا لفظ موجود ہے۔ اب ہم ترتیب وار آپ کے سامنے وہ احادیث پیش کرتے ہیں۔

    ‘‘یخرج اعور الدجال مسیح الضلالۃ قبل المشرق فی زمن اختلاف من الناس ورقۃ فیبلغ ماشاء اللہ ان یبلغ من الارض فی اربعین یوم اللہ اعلم ما مقدار ھا فیلقی المومنون شدۃ شدیدۃ ثم ینزل عیسیٰ بن مریم صلی اللہ علیہ وسلم من السماء فیؤم الناس فاذا رفع راسہ من رکعتہ قال : سمع اللہ لمن حمدہ قتل اللہ المسیح الدجال وظھرالمسلمون۔۔۔۔الی اخر’’

    (مجمع الزوائد جلد۱۲ رقم ۱۲۵۴۳،مسند البزار رقم ۹۶۴۲)

    ترجمہ:‘‘دجال مشرق سے زمانہ اختلاف میں نکلے گا اوروہ زمین پر چالیس دن رہے گا ان(چالیس دن) کی مقدار اللہ ہی بہتر جانتا ہے اوروہ (دن) مسلمانوں پر بہت ہی شدت والے ہوں گے پھر آسمان سے عیسیٰ علیہ السلام کا نزول ہو گا اور وہ لوگوں کو (نماز) پڑھائیں گے اور جب وہ رکوع سے سر اٹھائیں گے اور کہیں گے سمع اللہ لمن حمدہ ، اللہ نے دجال کو ہلاک کیا اور مسلمانوں کو ظاہر کیا’’

    اول : اس روایت پر قادیانیوں کاپہلا اعتراض یہ ہوتا ہے کہ اس روایت میں ‘‘السمائ‘‘کے الفاظ صحیح نہیں ہے اس کی وجہ یہ بیان کی جاتی ہے کہ امام بیہقی رحمہ اللہ علیہ الاسماء والصفات میں اس روایت کو نقل کرنے کے بعد فرماتے ہیں۔

    ‘‘رواہ البخاری فی الصحیح عن یحییٰ بن بکرو اخرجہ مسلم ومن وجہ اخرعن یونس وانماارادنزولہ من السماء بعد الرفیع الیہ’’

    امام بخاری نے اس کو روایت کیا ہے اورامام مسلم نے ایک اور طریق سے یونس سے روایت کیا ہے اور اس میں اپنی طرف اٹھایا جانے کے بعد آسمان سے نزول ہی مراد ہے۔ اور بخاری میں روایت اور راوی تمام ہیں مگر یہ الفاظ یعنی ‘‘من السماءِ‘‘ نہیں ہیں اس لئے یہ تحریف ہے ۔

    دوئم: ان کا دوسرا اعتراض اس روایت پر یہ ہے کہ اس کا ایک راوی ابو بکر محمد بن اسحاق بن محمدالناقدہے جس کے متعلق یہ موجود ہے کہ وہ روایت بیان کرنے میں تساہل سے کام لیتا تھا اس لئے یہ الفاظ اس راوی کا تساہل ہی ہے اور اس کا ایک اور راوی احمد بن ابراہیم ضعیف ہے اس وجہ سے بھی یہ روایت حجت نہیں ہے ۔

    سوئم: تیسرا اعتراض یہ کرتے ہیں کہ بیہقی کا قلمی نسخہ پہلی بار ۱۳۲۸ہجری میں چھپا تھا یعنی مرزا غلام احمد کے جہنم واصل ہونے کے بعد چھپا تھا اس لئے اس میں یہ الفاظ تحریف کر دیئے گئے تھے اور اس کے ثبوت کے طور پر امام جلال الدین سیوطی رحمہ اللہ کے حوالے سے نقل کرتے ہیں کہ انہوں نے اپنی تفسیر میں بھی اس روایت کو نقل کیا مگر ‘‘من السماء’’کے الفاظ نقل نہیں کیے ہیں۔

    اعتراض کا جواب :

    ان کے تمام اعتراضات کے جواب ان ہی کے اعتراضات میں موجود ہیں کیونکہ جب انسان گمراہ ہو جائے تو اس کی عقل بھی ماری جاتی جس کا ثبوت یہ ہے کہ قادیانیوں کے مطابق ‘‘من السماء‘‘ کے الفاظ راوی کا تساھل ہیں اگر یہ راوی کا متساھل ہے تو ۱۳۲۸ ہجری میں تحریف کیسے ہوئی جب راوی کا تساہل ہے تو اس کا مطلب یہی ہے کہ الفاظ بیہقی کی روایت میں موجود تھے اور امام بیہقی نے راوی سے ہی نقل کیے تھے تو یہ تمام اعتراضات از خود باطل ہو گئے اور دوسری بات اس روایت کو ان الفاظ کے ساتھ روایت کرنے والے صرف امام بیہقی رحمہ اللہ ہی نہیں ہیں بلکہ امام بزار نے اپنی مسند میں بھی اس کو روایت کیا ہے جس کو امام ہیثمی رحمہ اللہ نے مسند بزار کے حوالے سے بھی نقل کیا ہے۔

    چنانچہ یہ روایت الحمدللہ ان اعتراضات سے پاک ہے اور جہاں تک اس کی سند کا تعلق ہے تو جن راوۃ پر قادیانی اعتراض کرتے ہیں مسند البزار کی سند میں وہ رواۃ ہی نہیں ہیں امام بزار نے اس کو دوسری سند سے روایت کیا ہے اور اس کے تمام رجال صحیح ہیں اور محدث العصر ناصر الدین البانی رحمہ اللہ نے بھی اپنی کتاب‘‘قص المسیح الدجال و نزول عیسی علیہ سلام’’میں اس روایت کو صحیح قرار دیا ہے۔

    تو یہ روایت صحیح ہے اور اس روایت میں نزول من السماء کے الفاظ سے بالکل واضح ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام کا نزول آسمان سے ہوگا اور قادیانیوں کی تاویل باطل ہے اور وہ عیسیٰ ابن مریم ہی ہیں جن کے بارے میں نبی ﷺ نے خبر دی ہے اوریہ حدیث ان کے آسمان سے نزول کی نہایت واضح دلیل ہے۔

    اب ہم اس حوالے سے ایک اور حدیث پیش کرتے ہیں جو اس باب میں صراحت سے بیان کرتی ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام آسمان پر حیات ہیں اور قرب قیامت ان کا نزول ہو گا یہ حدیث بعض وجوہات کی بنا پر ذخیرہ احادیث سے منظر عام پر نہ آسکی اور اس کی وہ وجہ بھی ہم بیان کریں گے پہلے حدیث آپ کے سامنے پیش ہے۔

    عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ قال لما کان لیلۃ اسری برسول اللہﷺ لقی ابراہیم علیہ السلام و موسی وعیسیٰ علیہ سلام فتذ کروا الساعۃ فبداوا بابراہیم علیہ السلام فسالوہ عنھا فلم یکن عندہ منھا علم ثم سالوا موسی علیہ السلام فلم یکن عندہ منھا علم ، فرد الحدیث الی عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام فقال قد عھد الیَّ فیما دون وجبتھا ، فأما وجبتھا فلا یعلمھا الا اللہ، فذکر خروج الدجال ، قال: فأنزل ، فأقتلہ فیرجع الناس الی بلادھم فیستقبلھم یاجوج، وماجوج(وھم من کل حدب ینسلون) فلا یمرون بماء الا شربوہ، ولا بشیء الا أفسدوہ، فیجأرون الی اللہ، فأ دعو اللہ اَنْ یمیتھم . فتنتن الارض من ریحھم فیجأرون الی اللہ . فأدعو اللہ . فیُرْسل السمائَ بالمائِ فیحملھم فیلقیھم فی البحر . ثم نتسف الجبال و تمد الارض مدٌَ الْادیم . فعھد الیٌَ :متیٰ کان ذلک کانت الساعۃُ من الناس کالحامل التی لا یدری اھلھا متٰی تفجوھم بولادھا۔

    ترجمہ:‘‘جس رات نبی ﷺ کو معراج ہوئی تو آپ کی ملاقات ابراہیم علیہ السلام ،موسیٰ علیہ السلام اور عیسیٰ علیہ السلام سے ہوئی وہ آپس میں قیامت کے بارے میں بات چیت کرنے لگے(۱) سب سے پہلے ابراہیم علیہ السلام سے اس بابت پوچھا مگر انہیں اس کے بابت علم نہ تھا پھر موسیٰ علیہ السلام سے پوچھا انہیں بھی اس کا علم نہ تھا پھر عیسیٰ علیہ السلام سے اس متعلق بات کرنے کو کہا گیا مجھے قیامت قائم ہونے سے قبل کی باتیں بتائی گئی ہیں مگر اس کا قائم ہونا اللہ کے سواء کوئی نہیں جانتا ہے پھر انہوں نے دجال کے ظاہر ہونے کا ذکر کیا اور فرمایا میں نازل ہو کر اسے قتل کروں گا اور لوگ اپنے گھروں کو واپس لوٹ رہے ہوں گے پھر ان کو یاجوج ماجوج ملیں گے وہ ہر ٹیلے سے اتر رہے ہوں گے اور جس (نہر یا چشمے) پر سے گزریں گے تو اس کو ختم کردیں گے اور کوئی چیز ایسی نہ بچے گی جس کو برباد نہ کر دیں پس پھر لوگ اللہ سے فریاد کریں گے اور میں بھی اللہ سے دعا کروں گا کہ ان کو ہلاک کر دے پھر ساری زمین میں ان کے جسموں کی بو پھیل جائے گی پھر لوگ اللہ سے فریاد کریں گے اور میں بھی دعا کروں گا پس اللہ بارش برسائے گا جو ان کو بہا کر سمندر میں پھینک دے گی پھر پہاڑوں کو ریزہ ریزہ کر دیا جائے گا اور زمین کو چمڑے کی طرح کر دیا جائے گا اور مجھے بتایا گیا ہے کہ جب یہ واقع ہوجائے گا تو قیامت اتنی قریب ہو گی کہ جیسے حاملہ عورت (جس کا وقت قریب ہو) کے گھر والوں کو پتا نہیں ہوتا کہ کس وقت زچگی ہو جائے گی’’۔

    اس حدیث میں پوری صراحت سے موجود ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام آسمان میں حیات ہیں اور قرب قیامت ان کا نزول ہو گا اور یہ عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام ہی ہیں جن کے بارے میں نبی ﷺنے بیان فرمایا ہے یہ کوئی پیدا ہونے والا مرزا قادیانی نہیں ہے ۔

    مذکورہ احادیث اور ان جیسی بے شمار احادیث صراحت سے موجود ہیں جن میں عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کی بابت بیان ہوا ہے مگر وہی بات ہے ’جسے اللہ گمراہ کر دے اسے کوئی ہدایت نہیں دے سکتا ‘ اللہ تعالیٰ ہمارے دلوں کو اسلام پر ثابت کر دے۔ (آمین)

    اب اس پر تبصرہ کرتے ہیں جس کی وجہ سے یہ حدیث منظرعام پر نہ آسکی اور نزول عیسیٰ علیہ السلام جیسے معاملے میں اس روایت کو عموماََ بیان نہیں کیا جاتا ہے۔ اس کی بڑی وجہ جو مجھے محسوس ہوئی ہے کہ محدث العصر علامہ ناصر الدین البانی رحمہ اللہ نے اس روایت کو اپنی تحقیق کے مطابق ضعیف قرار دیا ہے اور یہ حدیث ان کی کتاب ‘‘قص المسیح الدجالــ و نزول عیسی علیہ السلام‘‘ میں بھی موجود نہیں ہے مگر پاکستان کے ایک بڑے محقق حافظ زبیر علی زئی(رحمتہ اللہ علیہ) نے اس روایت کو ابن ماجہ کی تخریج میں صحیح قرار دیا ہے۔

    لہٰذا اس مقام پر شیخ البانی رحمہ اللہ اور حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ کے مابین حدیث کی تصحیح اور تضعیف میں اختلاف ہے۔ لہٰذا صحیح ب اور حق کے قریب بات ان دونوں بزرگوں کی تحقیق میں سے کس کی ہے؟ ان شاءاللہ اب ہم اس پر تحقیقی تبصرہ پیش کریں گے۔

    روایت کی تحقیق:

    علامہ ناصر الدین البانی(رحمۃ اللہ علیہ) اپنی معرکۃ الاراء کتاب سلسلہ احادیث الضعیفہ میں اس روایت کے حوالہ جات نقل کرنے کے بعد رقمطراز ہیں۔

    ‘‘عن موثر بن غفارۃ،عن عبداللہ بن مسعود (رضی اللہ عنہ) مرفوعا. وقال الحاکم ‘‘ھذا حدیث صحیح الاسناد’’ وواقفہ الذھبی ثم البوصیری. قلتُ:وفیہ نظر ان موثر بن غفازہ لم یوثقہ ابن حبان ولذلک قال الحافظ‘‘مقبول’’ یعنی عند المتابعۃ و لم اجد لہ متابعاََ ، فالحدیث ضعیف غیر مقبول بھذا السیاق، وبعضہ فی ‘‘مسلم’’ (سلسلہ الضعیفہ: ۴۳۱۸)

    ترجمہ: ‘‘موثر بن غفاز ہ نے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مرفوعا روایت کیا ہے اور امام حاکم نے کہا ہے ـ" اس حدیث کی سند صحیح ہے" اور امام ذہبی اور بوصیری نے اس کی موافقت کی ہے مگر میں(البانی) کہتا ہوں اس میں نظر کی ضرورت ہے کیونکہ موثر بن غفازہ کو ما سوائے ابن حبان کے کسی نے ثقہ نہیں کہا ہے اور حافظ ابن حجر نے اس کو " مقبول" کہا ہے یعنی متابعت کے طور پر مگر میں نے اس کی متابعت کو نہیں پایا پس یہ حدیث اس سیاق سے ضعیف اور غیر مقبول ہے اور اس کا بعض حصہ مسلم میں بھی ہے’’۔

    اس حدیث میں موثر بن غفازہ پر البانی صاحب نے جرح کی ہے اور اسے یا مجہول سے تعبیر کیا ہے یا پھر ان کو اس راوی کی ثقاہت پر اطمینان نہ ہو سکا چنانچہ ہم دونوں پہلوسے اس کا جائزہ لیتے ہیں اگر البانی صاحب نے اس کو مجہول سے تعبیر کرکے اس کو ضعیف قرار دیا ہے تو اگر ہم مجہول کے بارے میں محدثین کے اصول پر نظر ڈالیں تو موثر کسی صورت مجہول ثابت نہیں ہوتا ہے کیونکہ اس کی ثقاہت ثابت ہے چنانچہ مجہول کی تعریف مندرجہ ذیل بیان کی گئی ہے ۔

    مجھول الحال: من روی عنہ اثنان فاکثر لکن لن یوثق (تیسیر مصطلح الحدیث)

    ‘‘مجھول الحال : اس سے روایت کرنے والے دو ہوں یا زیادہ لیکن اس کی توثق نہ کی گئی ہو’’۔

    اور تقریباً یہی بات تقریب تہذیب میں بھی موجود ہے ۔

    ‘‘من روی عنہ اکثر من واحد ولم یوثق الیہ الاشارہ بلفظ ‘‘مستور’’ او‘‘مجھول الحال’’ (تقریب التہذیب ص۵)

    موثر بن غفازۃ: اس روای کی توثیق صرف ابن حبان نے ہی نہیں کی ہے بلکہ امام حاکم ، امام العجلی نے بھی اس کو ثقہ قرار دیا ہے اور حافظ ابن حجر نے اس کوتقریب التہذیب میں مقبول کہا ہے اور جس راوی کو حافظ ابن حجر ـ"مقبول" میں نقل کرتے ہیں اس کے بارے میں تقریب میں یہ اصول بیان ہوا ہے

    ‘‘من لیس لہ من الحدیث الا قلیل ولم یثبت فیہ ما یُترک حدیثہ من اجلہ والیہ الاشارہ بلفظ ‘‘مقبول’’ حیث یتابع والا فلین الحدیث’’

    (تقریب التھذیب)

    ترجمہ: ‘‘جس سے حدیث بہت کم نقل ہوئی ہوں اور اس سے حدیث کو ترک کرنے کی وجہ ثابت نہ ہو سکی ہو اس کا اشارہ لفظ‘‘مقبول’’ سے کیا ہے جہاں بھی موجود ہے ورنہ لین الحدیث ہے’’۔

    حافظ ابن حجر رحمہ اللہ علیہ کے نزدیک اس راوی کی حدیث کو ترک کرنے کی کوئی معقول وجہ ثابت نہیں ہے یعنی اس پر کوئی جرح مفصل ثابت نہیں ہے اور اگر اس کے ثقہ ہونے کی تصدیق ہو جائے تو پھر مجہول الحال والی علت بھی اس پر لاگو نہیں ہو سکتی۔ اب ہم اس کے بارے میں محدثین کے اقوال نقل کرتے ہیں جس سے اس کا ثقہ ہونا ثابت ہوتا ہے ۔

    ‘‘امام العجلی: من اصحاب عبداللہ ثقۃ’’ (تاریخ الثقات: ۱۶۴۹

    ‘‘ اصحاب عبداللہ رضی اللہ عنہ میں سے ہے اور ثقہ ہے’’۔

    ‘‘امام حاکم: لما خرج حدیثہ مصححاََ لہ لیس بمجھول قد روی عن ابن مسعود والبراء بن عازب و روی عنہ جماعۃ بن التابعین’’

    (تہذیب الکمال اکمل)

    ‘‘امام حاکم : اس کی حدیث صحیح ہوتی ہے اور اس پر مجہول کا اطلاق نہیں ہوتا ہے اس نے عبداللہ بن مسعود براء بن عازب سے روایت کیا ہے اور اس سے تابعین کی جماعت نے روایت کیا ہے۔

    ابن حبان نے ثقہ کہا ہے۔ (ابن حبان الثقات ۵۷۳۵)

    امام ذہبی: امام ذہبی نے مستدرک میں اس روایت کی موافقت کی ہے جو اس راوی کی توثیق کی ایک دلیل ہے چنانچہ الکاشف میں موجود ہے

    ‘‘موثر بن غفازۃ عن بن مسعود و عنہ جبلۃ بن سحیم وثق’’ (الکاشف)

    ‘‘موثر بن غفازہ نے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے اور اس سے جبلہ بن سحیم نے اور اس کو ثقہ کہا گیا ہے’’۔

    امام ذہبی کی موافقت سے بھی اس کی ثقاہت ثابت ہوتی ہے۔

    حصول بحث یہ ہے کہ اس راوی میں کسی بھی قسم کا ضعف ثابت نہیں ہوتا ہے اس کی ثقاہت محدثین سے ثابت ہے چنانچہ اس کی بیان کردہ یہ روایت صحیح ہے ۔ جس سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ حافظ زبیر علی زئی(رحمۃ اللہ علیہ) کا موقف صواب ہے۔ واللہ اعلم

    حاصل کلام

    اللہ نے نبی اکرم ﷺ کو خاتم النبینﷺ بنا کر معبوث کیا ہے اور اس میں شک کرنے والا بھی مسلمان نہیں رہے گا یہ ایک ایسا امر ہے جس پر پوری امت مسلمہ پروانوں کی مانند جان نثار کرنے کو تیار ہے مگر شمع ختم نبوت کو کبھی ٹمٹمانے بھی نہیں دیں گے (ان شاء اللہ)۔ اللہ میری دعا قبول کرے اور ہر اس مسلمان کی جو اس شمع ختم نبوت پر نثار ہونا چاہتا ہے۔ اللہ ہم سب کی اس خواہش کو پورا کرے اور اسے اپنی بارگاہ میں قبول کرے۔آمین!

    وما علینا الا البلاغ
     
  2. ‏مئی 13، 2016 #2
    abdullah786

    abdullah786 رکن
    شمولیت:
    ‏نومبر 24، 2015
    پیغامات:
    428
    موصول شکریہ جات:
    23
    تمغے کے پوائنٹ:
    46

    محترم عرض یہ ہے کہ امام ذہبی کے حوالے سے جو توثیق بیان کی ہے وہ اس کے ثقہ ہونے کی جانب اشارہ نہیں کرتی ہے جیسا بیان کیا ہے کہ
    موثر بن غفازۃ عن بن مسعود و عنہ جبلۃ بن سحیم وثق
    چنانچہ البانی سلسلہ ضعیفہ میں لکھتے ہیں "ولذلک اشار الذھبی فی "الکاشف" الی ان التوثیق المزکور غیر موثوق بہ فقال وثق۔(الضعیفۃ 3-377)
    مگر اس کو امام نے مستدرک میں صحیح بھی کہا ہے دیکھیے المستدرک الحاکم رقم 3448 اور 8502)
    میرے خیال سے یہ روایت حسن ہے۔ واللہ اعلم
     
  3. ‏مارچ 09، 2017 #3
    muhammad faizan akbar

    muhammad faizan akbar رکن
    شمولیت:
    ‏جون 11، 2015
    پیغامات:
    397
    موصول شکریہ جات:
    13
    تمغے کے پوائنٹ:
    54

    السلام علیکم!
    راوی ثقہ ہوں اور اس روایت کا جواب قرآن مجید میں واضح واضح مل جائے جو اس ثقہ راوی نے کہی اور وہ روایت واضح متن،مفہوم ،معانی کے لحاظ سے قرآن مجید کے خلاف ہو تو اسے رد کرنا فرض ہے لازم ہے۔اور یہ کہنا لازم ہے کہ یہ نبی کریمﷺ کی بات نہیں ۔۔غلطی ہوئی راوی سے،بھول گیا،سننے میں غلطی وغیرہ ۔۔۔شکریہ۔۔۔
    عیسیٰ علیہ السلام وفات پا چکے ہیں۔قرآن مجید کا فیصلہ
    قرآن مجید حاکم کتاب سب کتابوں کی اور رہے گی ۔۔ان شائ اللہ۔فیصلہ کن کتاب صرف ایک واحد۔۔۔قرآن مجید اس کے بعد دوسری کتابوں کی باری آتی لیکن سب سے پہلی اہمیت کتاب اللہ کی پھر نبی کریم ﷺ کی سنت۔شکریہ۔
     
  4. ‏مارچ 10، 2017 #4
    muhammad faizan akbar

    muhammad faizan akbar رکن
    شمولیت:
    ‏جون 11، 2015
    پیغامات:
    397
    موصول شکریہ جات:
    13
    تمغے کے پوائنٹ:
    54

    سورۃ البقرہ2۔اِن میں ایک دوسرا گروہ اُمیّوں کا ہے ، جو کتاب کا تو علم رکھتے نہیں ، بس اپنی بے بنیاد امیدوں اور آرزوئوں کو لیے بیٹھے ہیں اور محض وہم و گمان پر چلے جارہے ہیں۔ (78)
    سورۃ البقرہ2۔یہ اللہ کی کتاب ہے ، اس میں کوئی شک نہیں ۔ ہدایت ہے اُن پرہیز گارلوگوں کے لیے (2)
    سورۃ البقرہ2۔جو کتاب تم پر نازل کی گئی ہے (یعنی قرآن) اور جو کتابیں تم سے پہلے نازل کی گئی تھیں ان سب پر ایمان لاتے ہیں اور آخرت پر یقین رکھتے ہیں ۔(4)
    سورۃ البقرہ2۔اور اگر تمہیں اِس امر میں شک ہے کہ یہ کتاب جو ہم نے اپنے بندے پر اُتاری ہے ، یہ ہماری ہے یا نہیں ، تو اِس کے مانند ایک ہی سورت بنا لائو ، اپنے سارے ہم نوائوں کو بلا لو ، ایک اللہ کو چھوڑ کر باقی جس کی چاہو ، مدد لے لو ، اگر تم سچے ہو تو یہ کام کر کے دکھائو ۔(23)
    سورۃ البقرہ2۔اور اے پیغمبر ﷺ ، جو لوگ اس کتاب پر ایمان لے آئیں اور (اس کے مطابق) اپنے عمل درست کرلیں اُنہیں خوشخبری دے دو کہ اُن کے لیے ایسے باغ ہیں ، جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی۔ اُن باغوں کے پھل صورت میں دنیا کے پھلوں سے ملتے جلتے ہوں گے ۔ جب کوئی پھل انہیں کھانے کو دیا جائے گا تو وہ کہیں گے کہ ایسے ہی پھل اِس سے پہلے دنیا میں ہم کو دیے جاتے تھے ۔اُن کے لیے وہاں پاکیزہ بیویاں ہوں گی ، اور وہ وہاں ہمیشہ رہیں گے ۔(25)
    سورۃ البقرہ 2۔اور میں نے جو کتاب بھیجی ہے اس پر ایمان لائو ۔ یہ اُس کتاب کی تائید میں ہے جو تمہارے پاس پہلے سے موجود تھی ، لہٰذا سب سے پہلے تم ہی اُس کے منکر نہ بن جائو ۔ تھوڑی قیمت پر میری آیات کو نہ بیچ ڈالو اور میرے غضب سے بچو ۔(41)
    سورۃ آلِ عمران۔اے نبیﷺ ! اس نے تم پر یہ کتاب نازل کی ، جو حق لے کر آئی ہے اور ان کتابوں کی تصدیق کر رہی ہے جو پہلے سے آئی ہوئی تھیں۔ اس سے پہلے وہ انسانوں کی ہدایت کے لیے تورات اور انجیل نازل کر چکا ہے۔(3)

    اللہ تعالیٰ کی اپنی نازل فرمائی گئی کتابوں کی تصدیق اس قرآن مجید سے لی جا رہی ہے۔
    اور آج کے یہ علما کتنے ظالم ہیں جو دوسروی کتابوں کو سامنے رکھ کر اس کے ترجمے اور مفہوم لیتے ہیں پھر قرآن کی تصدیق دوسری کتابوں سے کرتے ہیں۔۔۔۔۔استغفراللہ۔۔۔۔۔
    الَّذِيْنَ اِذَآ اَصَابَتْهُمْ مُّصِيْبَةٌ ۙ قَالُوْٓا اِنَّا لِلّٰهِ وَاِنَّآ اِلَيْهِ رٰجِعُوْنَ ١٥٦؁ۭ
    سورۃ البقرہ2۔اور جب کوئی مصیبت پڑے ، تو کہیں کہ ’’ ہم اللہ ہی کے ہیں اور اللہ ہی کی طرف ہمیں پلٹ کر جانا ہے ‘‘ اُنہیں خوشخبری دے دو ۔(156)

    سورۃ الانعام 6۔اور اُس شخص سے بڑھ کر ظالم کون ہوگا جو اللہ پر جھوٹا بہتان لگائے ، یا اللہ کی نشانیوں کو جھٹلائے ؟ یقینا ایسے ظالم کبھی فلاح نہیں پا سکتے۔(21)
    سورۃ الانعام6۔اور اب تم یہ بہانہ بھی نہیں کر سکتے کہ اگر ہم پر کتاب نازل کی گئی ہوتی تو ہم ان سے زیادہ راست رو ثابت ہوتے ۔ تمہاے پاس تمہارے رب کی طرف سے ایک دلیل روشن اور ہدایت اور رحمت آگئی ہے ، اب اس سے بڑھ کر ظالم کون ہوگا جو اللہ کی آیات کو جھٹلائے اور ان سے منہ موڑے ۔ جو لوگ ہماری آیات سے منہ موڑتے ہیں انہیں اس رُو گردانی کی پاداش میں ہم بدترین سزا دے کر رہیں گے ۔(157)
    سورۃ العنکبوت29۔اس شخص سے بڑا ظالم کون ہو گا جو اللہ پر جھوٹ باندھے یا حق کو جھٹلائے جب کہ وہ اس کے سامنے آچکا ہو؟ کیا ایسے کافروں کا ٹھکانا جہنّم ہی نہیں ہے؟(68)
    سورۃ السجدۃ32۔اور اُس سے بڑا ظالم کون ہوگا جسے اس کے ربّ کی آیات کے ذریعہ سے نصیحت کی جائے اور پھر وہ ان سے منہ پھیر لے ۔ ایسے مجرموں سے تو ہم انتقام لے کر رہیں گے۔(22)
    سورۃ الزمر39۔پھر اس شخص سے بڑا ظالم کون ہوگا جس نے اللہ پر جھوٹ باندھا اور جب سچائی اس کے سامنے آئی تو اسے جُھٹلا دیا ۔ کیا ایسے لوگوں کے لیے جہنم میں کوئی ٹھکانا نہیں ہے؟ (32)
     
  5. ‏مارچ 10، 2017 #5
    difa-e- hadis

    difa-e- hadis رکن
    شمولیت:
    ‏جنوری 20، 2017
    پیغامات:
    196
    موصول شکریہ جات:
    21
    تمغے کے پوائنٹ:
    31


    دوست الله کی کتاب اس حاکم نے ہی ہم کو کہا ہے کہ اگر میرے رموز اسرار سمجھنا چاہتے ہو یا کسی بارے میں وضاحت چاہتے ہو تو اس شارح کتاب کی طرف رجوع کرو چنانچہ سوره النحل میں ارشاد ہوا
    (١)
    وَأَنزَلْنَا إِلَيْكَ الذِّكْرَ لِتُبَيِّنَ لِلنَّاسِ مَا نُزِّلَ إِلَيْهِمْ وَلَعَلَّهُمْ يَتَفَكَّرُونَ

    [FONT=hafs, times, traditional arabic, arial]تو قرآن خود اس بات کی طرف رجوع کرنے کا کہتا ہے تو اپ اس طرف کیوں نہیں آتے اور قرآن کا یہ حکم مان لیں [/FONT]
    [FONT=hafs, times, traditional arabic, arial]اگر اس کے بعد بھی کوئی یہی کہتا ہے کہ ہم قرآن جیسی عظیم کتاب خود اپنی عقل سے سمجھیں گے حالانکہ ایک کورس کی معمولی کتاب بغیر استاد کے سمجھنے پر راضی نہیں مگر قرآن کی حاکمیت کا دم بھرنے والے اس کو ایک معمولی کورس کی کتب سے بھی کم سمجھ کر اس کے شارح کی طرف رجوع کرنے کے بجاے خود سمجھتے ہے وللجب[/FONT]
    [FONT=hafs, times, traditional arabic, arial]ان سے دو سوال ہے اس کا جواب صرف قرآن سے دیں بڑی مہربانی ہو گی [/FONT]
    قرآن نے کہا

    اِنَّ عِدَّۃَ الشُّہُوْرِ عِنْدَ اللّٰہِ اِثْنَا عَشَرَ شَھْرًا فِیْ کِتٰبِ اللّٰہِ یَوْمَ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ مِنْھَا اَرْبَعَۃٌ حُرُمٌ ط ذٰلِکَ الدِّیْنُ الْقَیِّمُ(سوره التوبہ ٣٧)

    کتاب الله میں یہ بارہ مہینے کہاں موجود ہیں کس آیت کے تحت ہیں

    (٢) قرآن میں ہے کہ الله نے انسان کو مرد و زن کی ملاپ سے پیدا کیا ہے سوره اعراف آیت ١٨٩
    اور قرآن ہی کہتا ہے ہم نے عیسیٰ علیہ السلام کو بغیر والد کے پیدا کیا ہے تو اگر کوئی یہ آیت پڑھ کر کہے کہ یہ کیسے ممکن ہے کہ انسان بغیر والد کے کیسے پیدا ہو گا تو ان دونوں میں تدبیق دی جائے گی ایک کو مان کر ایک کو جھٹلایا نہیں جائے گا اسی طرح حدیث بھی وحی ہے ایک کو مان کر دوسرے کو رد نہیں کیا جاتا اگر کوئی ایسا کرتا ہے تو پھر ان دو آیات میں سے کس کو مانے گا .
     
  6. ‏مارچ 10، 2017 #6
    ابن داود

    ابن داود فعال رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏نومبر 08، 2011
    پیغامات:
    3,011
    موصول شکریہ جات:
    2,568
    تمغے کے پوائنٹ:
    556

    السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
    لیکن یہ خلاف واقعی قرآن کے ہو، نہ کہ کسی منچلے کی اٹکل کے!
    کہ اپنی اٹکل کے خلاف کو قرآن کے خلاف کہتا رہے!
    یہ قرآن پر جھوٹ ہے! قرآن پر جھوٹ باندھنے سے گریز کریں!
    اور اس حاکم کتاب نے یعنی قرآن نے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث سے متعلق جو حکم دیا ہے اور اس کی پیروی لازم قرار دی ہے، اس سے روگرادانی کرنے والے قرآن کے اس حکم کا انکار کرکے ، اس حاکم کتاب یعنی قرآن کا منکر بنتا ہے!
    اور اسی فیصلہ کن کتاب نے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان یعنی احادیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کو فیصلہ کن قرار دیا ہے، اور اسی فیصلہ کن کتاب کا فیصلہ ہے کہ جو اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کو فیصلہ کن نہیں مانتا، وہ مسلمان و مومن نہیں ہو سکتا!
    ارے یہ کیا کہہ دیا!
    کتابوں کے اعتبار سے تو بات درست، کہ کتابوں میں قرآن مجید سب سے قبل، لیکن آپ نے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کو اس ترتیب میں کیسے شامل کر دیا!
    میرے خیال ہے کہ آپ کی اٹکل میں یہ بات نہیں آئی! کہ بلحاظ احکام قرآن کی وحی اور قرآن کے علاوہ کی وحی میں ایسی کوئی ترتیب نہیں!
    کہ آپ نے کتابوں کی ترتیب میں باتیں کیں اور پھر اچانک احکام میں وحی کی ترتیب بھی شامل کردی!
    یہ تو وہی کھیل ہوا جسے ''چیل اڑی'' کہا جاتا ہے، کہ اڑنے والے پرندوں کا نام لیتے لیتے اچانک کسی چوپائے کا نام بھی لیتے ہیں، اور بچے روانی میں اس پر بھی انگلی ہوا میں اڑا دیتے ہیں!
    دراصل یہ ایک نفسیاتی کھیل ہوتا ہے، اور وہی نفسیاتی چال بازی یہاں بھی نظر آتی ہے!
     
    Last edited: ‏مارچ 10، 2017
    • زبردست زبردست x 2
    • متفق متفق x 1
    • لسٹ
  7. ‏جنوری 15، 2018 #7
    danish ghaffar

    danish ghaffar رکن
    شمولیت:
    ‏مئی 30، 2017
    پیغامات:
    65
    موصول شکریہ جات:
    9
    تمغے کے پوائنٹ:
    33

    السلام علیکم
    ابن داؤد بھائی کیا عیسیٰ علیہ سلام کے نزول کے بارے میں قرآن کی آیت ہیں ؟؟؟؟؟
     
  8. ‏جنوری 16، 2018 #8
    ابن داود

    ابن داود فعال رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏نومبر 08، 2011
    پیغامات:
    3,011
    موصول شکریہ جات:
    2,568
    تمغے کے پوائنٹ:
    556

    السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
    السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
    دانش غفار بھائی! پہلے تو میں ایک بات یہ عرض کرنا چاہتا ہوں، کہ میرا ایک اسلوب ہے، کہ جب کوئی منکر حدیث، مجھ سے ایسا مطالبہ کرتا ہے کہ مجھے فلاں بات قرآن سے بتلاؤ، تو میں اسے کہتا ہوں کہ میں وحی سے بتلاؤں گا، خواہ وہ وحی قرآن میں ہو، یا قرآن کے علاوہ حدیث میں!
    اور میں حدیث سے ہی بتلاتا ہوں!
    کیونکہ ایک مسلمان کے نزدیک یہ مطالبہ ہی باطل ہے کہ صرف قرآن سے بتلایا جائے!
    یہ میرا اسلوب ہے، اور میں یہ سمجھتا ہوں کہ اگر مسلمان ان منکرین حدیث کے باطل اصول کے تحت اگر دین و اسلام کو ثابت کرنے لگیں، تو کل کو یہ ایک ریت بن جائے گی، اور یہ روش عام ہو جائے گی، کہ لوگ ''صرف قرآن'' سے دلیل کا مطالبہ کرنے لگیں!
    یعنی کہ مسلمانوں کو یہ بات بلکل بلا کسی شک و شبہ کے معلوم ہونی چاہئے، کہ شریعت کی دلیل کا ماخذ وحی ہے، اور وحی دو ہیں، ایک قرآن اور ایک حدیث!
    اب اس میں سے کسی ایک ماخذ سے بھی دلیل بیان کر دی جائے، تو تو وہ حجت ہے!
    یہ قید لگانا کہ قرآن سے دلیل دی جائے، از خود باطل ہے!
    اب جب کوئی شخص قرآن و حدیث دونوں کو وحی مانتا ہے، اور پھر وہ یہ جاننے کے لئے کہ فلاں بات حدیث سے ثابت ہے، اسے تسلیم کرتے کرتے ہوئے، جاننا چاہتا ہے کہ آیا یہ قرآن میں بھی بیان ہوا ہے؟
    تو یہ طریقہ بالکل درست ہے، کہ اس سے قرآن کا علم بھی سکھتا ہے، اور اس مسئلہ پر اس کے علم میں مزید دلائل آتے ہیں اور اس کا ایمان بڑھتا ہے!
    اتنی تفصیل اس لئے بیان کی، کہ اگر آپ کے سامنے بھی ایسا کوئی معاملہ پیش آئے، تو شاید آپ کے لئے مفید ہو!

    آپ نے یقیناً دوسرے اعتبار سے جاننا چاہا ہے، لہٰذا میں عیسیٰ علیہ السلام کی حیات و نزول کے متعلق قرآن سے ایک دلیل پیش کرتا ہوں۔

    وَقَوْلِهِمْ إِنَّا قَتَلْنَا الْمَسِيحَ عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ رَسُولَ اللَّهِ وَمَا قَتَلُوهُ وَمَا صَلَبُوهُ وَلَكِنْ شُبِّهَ لَهُمْ وَإِنَّ الَّذِينَ اخْتَلَفُوا فِيهِ لَفِي شَكٍّ مِنْهُ مَا لَهُمْ بِهِ مِنْ عِلْمٍ إِلَّا اتِّبَاعَ الظَّنِّ وَمَا قَتَلُوهُ يَقِينًا (157) بَلْ رَفَعَهُ اللَّهُ إِلَيْهِ وَكَانَ اللَّهُ عَزِيزًا حَكِيمًا (158) وَإِنْ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ إِلَّا لَيُؤْمِنَنَّ بِهِ قَبْلَ مَوْتِهِ وَيَوْمَ الْقِيَامَةِ يَكُونُ عَلَيْهِمْ شَهِيدًا (159) ﴿سورة النساء﴾
    اور یوں کہنے کے باعث کہ ہم نے اللہ کے رسول مسیح عیسیٰ بن مریم کو قتل کردیا حالانکہ نہ تو انہوں نے اسے قتل کیا نہ سولی پر چڑھایا بلکہ ان کے لئے (عیسیٰ ) کا شبیہ بنادیا گیا تھا یقین جانو کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے بارے میں اختلاف کرنے والے ان کے بارے میں شک میں ہیں، انہیں اس کا کوئی یقین نہیں بجز تخمینی باتوں پر عمل کرنے کے اتنا یقینی ہے کہ انہوں نے انہیں قتل نہیں کیا۔ ﴿﴾ بلکہ اللہ تعالیٰ نے انہیں اپنی طرف اٹھا لیا اور اللہ بڑا زبردست اور پوری حکمتوں والا ہے۔ ﴿﴾ اہل کتاب میں ایک بھی ایسا نہ بچے گا جو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی موت سے پہلے ان پر ایمان نہ لا چکے اور قیامت کے دن آپ ان پر گواہ ہونگے۔ ﴿﴾ ﴿ترجمہ محمد جوناگڑھی﴾
    اب ان آیات میں دیکھیں، کہ اللہ تعالیٰ نے اس بات کی نفی کردی کہ عیسیٰ علیہ السلام کو قتل کیا ، اور یہ بھی بتلایا کہ عیسیٰ علیہ السلام کو اللہ نے اپنی طرف اٹھا لیا!
    مزید اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام کی موت سے قبل تمام اہل کتاب ان پر ایمان لے آئیں گے، یعنی کہ جب عیسیٰ علیہ السلام کی موت واقع ہوگی، اس وقت کوئی بھی اہل کتاب ایسا نہ ہوگا جو عیسیٰ علیہ السلام پر ایمان نہ لایا ہو!
    جب کہ عیسیٰ علیہ السلام کو جب عیسیٰ علیہ السلام کا انکار کرنے والوں نے قتل کرنا چاہا، اور جب اللہ تعالیٰ نے انہیں اپنی طرف اٹھا لیا، اس وقت تو عیسیٰ علیہ السلام کا انکار کرنے والے یہود جو اہل الکتاب میں سے ہیں موجود تھے، اور وہ اس وقت سے آج تک موجود رہے ہیں! (اس بحث کو چھوڑ دیتے ہیں کہ عیسائی بھی اہل الکتاب ہیں، اور وہ بھی عیسیٰ علیہ السلام پر درست ایمان لائیں گے، لیکن اس آیت سے کم از کم یہود کے معاملہ میں تو بلکل واضح ہے)
    لیکن یقیناً ایک وقت ایسا آنا ہے کہ جب یہ یہود بھی عیسیٰ علیہ السلام پر ایمان لے آئیں گے، اور وہ عیسیٰ علیہ السلام کی موت سے پہلے ہونا ہے! اور موت انسان کو زمین پریعنی آسمانِ زمین کے نیچے آتی ہے! اس لئے عیسیٰ علیہ السلام کی موت بھی زمین پر آسمانِ زمین کے نیچے ہونی ہے!
    لہٰذا قرآن میں عیسیٰ علیہ السلام کی حیات اور ان کے دوبارہ آنے پر قرآن میں دلیل موجودہے!
    عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کی کیفیت احادیث میں وارد ہیں!
     
    Last edited: ‏جنوری 16، 2018
  9. ‏جنوری 16، 2018 #9
    danish ghaffar

    danish ghaffar رکن
    شمولیت:
    ‏مئی 30، 2017
    پیغامات:
    65
    موصول شکریہ جات:
    9
    تمغے کے پوائنٹ:
    33

    جزاک اللّه خیرا بھائی

    اب بہتر سمجھے اور پھر خوب بہتر طریقے سے سمجھایا بھی

    اللّه آپ کے علم میں برکتیں نازل کرے آمین
    السلام علیکم ورحمت وبرکاتہ
     
    • پسند پسند x 2
    • شکریہ شکریہ x 1
    • لسٹ
  10. ‏جنوری 24، 2018 #10
    عادل سہیل

    عادل سہیل مشہور رکن
    شمولیت:
    ‏اگست 26، 2011
    پیغامات:
    364
    موصول شکریہ جات:
    940
    تمغے کے پوائنٹ:
    120

لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں