1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔۔
  2. محدث ٹیم منہج سلف پر لکھی گئی کتبِ فتاویٰ کو یونیکوڈائز کروانے کا خیال رکھتی ہے، اور الحمدللہ اس پر کام شروع بھی کرایا جا چکا ہے۔ اور پھر ان تمام کتب فتاویٰ کو محدث فتویٰ سائٹ پہ اپلوڈ بھی کردیا جائے گا۔ اس صدقہ جاریہ میں محدث ٹیم کے ساتھ تعاون کیجیے! ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔ ۔

عیسی علیہ السلام کا نزول اور شریعت محمدیہ کی پاسداری

'ایمانیات' میں موضوعات آغاز کردہ از مقبول احمد سلفی, ‏مارچ 10، 2016۔

  1. ‏اگست 10، 2016 #11
    مقبول احمد سلفی

    مقبول احمد سلفی مشہور رکن
    جگہ:
    اسلامی سنٹر،طائف، سعودی عرب
    شمولیت:
    ‏نومبر 30، 2013
    پیغامات:
    884
    موصول شکریہ جات:
    287
    تمغے کے پوائنٹ:
    158

    آمین
     
  2. ‏اکتوبر 26، 2016 #12
    عامر عدنان

    عامر عدنان رکن
    جگہ:
    انڈیا،بنارس
    شمولیت:
    ‏جون 22، 2015
    پیغامات:
    498
    موصول شکریہ جات:
    199
    تمغے کے پوائنٹ:
    79

    جزاک اللہ خیراً
    اہل علم سے گزارش ہے کہ مجھے علماء کے اقوالات بھی دے دیں جس میں انھوں نے کہا ہو کہ عیسی علیہ السلام ایک امتی کی حیثیت سے آئیں گے تھوڑا ارجینٹ ہے مدد کریں
    جزاک اللہ خیراً
     
  3. ‏اکتوبر 26، 2016 #13
    عمر اثری

    عمر اثری سینئر رکن
    جگہ:
    نئی دھلی، انڈیا
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 29، 2015
    پیغامات:
    3,573
    موصول شکریہ جات:
    937
    تمغے کے پوائنٹ:
    323

  4. ‏اکتوبر 27، 2016 #14
    muslimengineer123

    muslimengineer123 مبتدی
    شمولیت:
    ‏ستمبر 12، 2015
    پیغامات:
    3
    موصول شکریہ جات:
    1
    تمغے کے پوائنٹ:
    10

    السلام عليكم ورحمة الله وبركته



    Sent from my iPhone using Tapatalk
     
  5. ‏اکتوبر 27، 2016 #15
    مقبول احمد سلفی

    مقبول احمد سلفی مشہور رکن
    جگہ:
    اسلامی سنٹر،طائف، سعودی عرب
    شمولیت:
    ‏نومبر 30، 2013
    پیغامات:
    884
    موصول شکریہ جات:
    287
    تمغے کے پوائنٹ:
    158

    وعلیکم السلام ورحمۃاللہ وبرکاتہ
     
  6. ‏دسمبر 15، 2016 #16
    zubairandnasir

    zubairandnasir مبتدی
    شمولیت:
    ‏نومبر 29، 2016
    پیغامات:
    13
    موصول شکریہ جات:
    0
    تمغے کے پوائنٹ:
    6

    جس کی حیثیت شخص قانونی کی ہے،، سمجھا نہیں میں؟؟

    Sent from my XT1058 using Tapatalk
     
  7. ‏دسمبر 15، 2016 #17
    zubairandnasir

    zubairandnasir مبتدی
    شمولیت:
    ‏نومبر 29، 2016
    پیغامات:
    13
    موصول شکریہ جات:
    0
    تمغے کے پوائنٹ:
    6

    محترم یہی تو آپ کا قیاس فاسد ہے... نہ تو کسی جاہل کو علامہ محدث بننے کا حکم کیا گیا ہے. نہ ہی کسی علامہ کو امام العرب والعجم بننے کا حکم کیا گیا ہے... سوال یہ ہے "جتنا علم حاصل کیا اس پر عمل کتنا کیا؟".
    اور جاہل (عامی) کا عالم (مفتی) سے قرآن حدیث کی روشنی میں مسئلہ پوچھنا ہی نص سے ثابت ہے. اور اسے پیروی باالدلیل کہا جاتا ہے. اور آپ اسی چیز کو تقلید باور کروانے پر بضد ہیں..
    اگر کسی سے کچھ پوچھنے اور سیکھنے کو آپ تقلید کہتے ہیں تو ایک بار صرف ہاں لکھ دیں .....


    Sent from my XT1058 using Tapatalk
     
  8. ‏دسمبر 18، 2016 #18
    اشماریہ

    اشماریہ سینئر رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏دسمبر 15، 2013
    پیغامات:
    2,351
    موصول شکریہ جات:
    680
    تمغے کے پوائنٹ:
    224

    شخص قانونی کے بارے میں میں جو بتاؤں گا اسے آپ مان لیں گے یا شخص قانونی کا نام قرآن و حدیث سے تلاش کریں گے؟

    کیوں خیریت؟ آپ نے اس پر کوئی مباحثہ کرنا ہے؟
     
  9. ‏دسمبر 19، 2016 #19
    محمد علی جواد

    محمد علی جواد سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏جولائی 18، 2012
    پیغامات:
    1,861
    موصول شکریہ جات:
    1,477
    تمغے کے پوائنٹ:
    304

    السلام و ءعلیکم و رحمت الله -

    محترم- آپ کی باتیں سمجھ سے بالاتر ہیں -

    آپ کہتے ہیں "میں اپنا ذاتی رجحان عرض کروں تو اتباع عالم کر سکتا ہے، غیر عالم نہیں۔" آگے پھر مذید فرماتے ہیں کہ " درحقیقت میں نے دلیل تو لی ہی نہیں ہے، میں نے تو دلیل میں آپ کی بات مانی ہے یعنی آپ کی تقلید کی ہے۔ ہر کوئی کسی نہ کسی حد تک تقلید کرتا ہے۔"

    تو کیا اس "تقلید" میں انبیاء کرام کو بھی شامل کریں گے؟؟ مثال کے طور پر نبی کریم صل الله علیہ و آ له وسلم کا معراج کے موقع پر الله کی مختلف نشانیوں کے بارے میں فرشتوں سے استفسار کرنا کیا ان فرشتوں کی تقلید تھی ؟؟- حضرت موسی علیہ سلام کا حضرت خضر علیہ سلام سے تین عقل سے ماورا واقعات سے متعلق استفسار کرنا کیا ان کی تقلید تھی ؟؟ مزید یہ کہ صحابہ کرام رضوان الله اجمعین پیدائشی مجتہد تو نہی تھے تو کیا رسول الله صل الله علیہ و آ له وسلم کے مقلد تصور کیے جائیں گے؟؟-

    مزید یہ کہ اگر تقلید صرف عامی کے لئے ہے- عالم کے لئے نہیں ہے تو پہلی بات یہ کہ ہر شخص پیدائشی عالم یا مجتہد نہیں ہوتا - اب چایے وہ امام ابو حنیفہ یا امام شافعی کیوں ںا ہوں- تو ان پر بھی تقلید کا واجب ہوںا ضروری ہوںا چاھیے (جب کہ ایسا ہے نہیں) - دوسرے یہ کہ دنیا میں بے شمار ایسے علما ء و مشائخ پیدا ہؤے جنہوں ںے عامی سے عالم اور پھر عالم سے مجتہد ہوںے کا سفر مکمل کیا- لیکن زندگی بھر"تقلید" ان سے ساقط نہیں ہوئی - وہ مرتے دم تک کسی ںا کسی امام کے مقلد ہی رہے - جب کہ آپ کے اصول کے تحت انھیں تقلید سے مستثنی ہوںا چاھیے تھا ؟؟ کیوں کہ وہ اب عامی نہیں رہے ؟؟-ایسا کیوں -
     
  10. ‏دسمبر 19، 2016 #20
    اشماریہ

    اشماریہ سینئر رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏دسمبر 15، 2013
    پیغامات:
    2,351
    موصول شکریہ جات:
    680
    تمغے کے پوائنٹ:
    224

    وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ و برکاتہ

    ذرا سا غور فرمائیے تو کچھ ایسی مشکل بھی نہیں ہیں۔ البتہ براہ کرم توجہ سے پڑھیے گا۔

    اس بات میں تو شاید کسی کو بھی اختلاف نہ ہو کہ اتباع، تقلید اور حصول علم الگ الگ چیزیں ہیں۔ علم حاصل کرنے کو کوئی بھی تقلید نہیں کہتا۔ میں نے عرض کیا:
    یہ بدیہی بات ہے کہ مجھے پیدائشی طور پر عربی کا ترجمہ نہیں آ سکتا چاہے میں عربی خاندان میں ہی پیدا کیوں نہ ہو جاؤں۔ عرب بچہ بھی عربی کو سمجھنا عمر کے ساتھ ساتھ اپنے ارد گرد سے سیکھتا ہے۔ یہ عربی جو میں مختلف اساتذہ اور کتب سے سیکھوں گا تو یہ تحصیل علم ہے۔ میں اس میں جب ید طولی حاصل کر لوں گا تو مجھے اس سے ترجمہ کرنے کا ملکہ حاصل ہو جائے گا۔ اب میں اس ترجمے میں الفاظ کے انتخاب اور تعبیرات کی تعیین میں اجتہاد کروں گا۔
    لیکن اگر میں نے یہ علم حاصل نہیں کیا اور میں ایک عالم کے پاس گیا اور اس سے پوچھا کہ الید العلیا خیر من الید السفلی کا کیا مطلب ہے تو وہ مجھے مطلب بتا دے گا۔ میں اس سے دلیل پوچھوں گا تو وہ مجھے کہے گا کہ الید موصوف ہے اور العلیا صفت، موصوف صفت مل کر مبتدا ہو رہا ہے۔ خیر اسم تفضیل ہے، 'من' جارہ اور الید السفلی موصوف صفت مجرور مفضل منہ، اسم تفضیل اپنے مفضل منہ کے ساتھ مل کر خبر ہوا اور یہ جملہ خبریہ ہوا جس نے یہ خبر دی۔
    آپ مجھے عامی فرض کرنا اگر چھوڑ بھی دیں تو فورم کے کسی بھی غیر عالم ساتھی سے کہیے کہ وہ اس گورکھ دھندے کو سمجھ کر دکھائے۔
    اگر میں ایک عامی شخص ہوں تو ظاہر ہے مجھے یہ سب سمجھ نہیں آ سکتا۔ نتیجہ یہ نکلے گا کہ میں اس عالم کی بات مان لوں گا اور یہ سمجھوں گا کہ اس نے دلیل دی ہے البتہ میں دلیل کو سمجھ نہیں سکا۔ اب ذرا سا غور کر کے مجھے بتائیے کہ اس ترجمے کو آگے بیان کرنے میں، میں تقلید کر رہا ہوں گا یا نہیں؟
    یہ فرق ہے حصول علم اور تقلید میں۔
    انبیاء کرامؑ حصول علم فرماتے تھے اور صرف انبیاء نہیں بلکہ ہر دور کے علماء حصول علم کی راہ پر چل کر ہی عالم بنے ہیں۔

    یہ حصول علم تھا۔

    تقلید کی تعریف یہ کی جاتی ہے کہ دلیل کا مطالبہ کیے بغیر کسی کی پیروی کی جائے۔ لیکن ہم سب جانتے ہیں کہ و ما ینطق عن الہوی، ان ہو الا وحی یوحی کے بموجب نبی کریم ﷺ کے تمام اقوال مبارکہ خود ہی دلیل ہیں۔ اب جب کسی صحابی رض نے نبی کریم ﷺ سے کوئی مسئلہ پوچھا اور آپ نے جواب ارشاد فرمایا تو یہ جواب بذات خود دلیل ہے چاہے اس میں مزید دلیل دی گئی ہو یا نہیں۔ اس لیے اس پر تقلید کی تعریف صادق نہیں آتی۔
    ویسے اگر انہیں نبی پاک ﷺ کا مقلد کہا بھی جائے تو اس میں کون سی برائی کی بات ہے۔ آپ کے ہر ارشاد پر دلیل مانگے بغیر گردن کٹانا ہی عین ایمان ہے۔ اگر دلیل مانگ لی تو ایمان کیسا ہوا؟

    یہ کون کہتا ہے کہ ایسا نہیں ہے؟ ایسا ہی ہے کہ جب تک کوئی بھی عالم کسی مسئلہ کا کامل علم نہیں رکھتا وہ زیادہ علم والے کی تقلید کرتا رہتا ہے۔ امام شافعیؒ بچپن سے علم میں کامل اور مجتہد تو نہیں ہو گئے تھے۔ تو اس وقت وہ مسائل میں کیا کرتے تھے؟ نمازیں کیسے پڑھتے تھے؟ دیگر مسائل میں کیا کرتے تھے؟
    اگر آپ کہیں کہ وہ حدیث مبارکہ معلوم کر کے اس پر عمل کرتے تھے تو ایک تو یہ بات محتاج دلیل ہے۔ دوسرا وہ اس حدیث کی تصحیح و تضعیف کیسے کرتے تھے؟ اگر وہ بھی معلوم کرتے تھے تو گویا اس میں دوسرے کی رائے لیتے تھے اور اس پر عمل کرتے تھے تو اسی کو تقلید کہتے ہیں۔
    ہر عالم اپنی زندگی کے اس حصے میں جس میں وہ علم نہیں رکھتا کسی علم والے کے راستے پر چلتا ہے۔ پھر جیسے جیسے اسے علم حاصل ہوتا رہتا ہے اس کے سامنے اس کی اپنی راہ واضح ہوتی جاتی ہے۔
    ایک اہل حدیث عالم جب بچپن گزارتا ہے تو اسے سب سے پہلے یہ پتا چلتا ہے کہ نماز میں رفع الیدین کرنا ہے۔ پھر ممکن ہے کہ اس کے دلائل بھی پتا چل جاتے ہوں۔ اور ممکن ہے کہ تصحیح و تضعیف بھی وقت کے ساتھ ساتھ پتا چل جاتی ہو۔ لیکن ذرا بنظر انصاف فرمائیے کہ کیا وہ اس عمر میں بغیر علم کے یہ فیصلہ کر سکتا ہے کہ اس کے عالم (مثال کے طور پر زبیر علی زئیؒ) نے اسے جو تصحیح و تضعیف بتائی ہے وہ صحیح ہے بھی یا نہیں؟؟؟ ظاہر ہے وہ یہ فیصلہ نہیں کر سکتا اور اپنے عالم پر اعتماد کرتا ہے کہ ٹھیک بتایا ہوگا۔ یہ تقلید ہے۔

    یہ بھی درست نہیں۔ ہر کوئی اپنے علم کے مطابق تقلید سے نکلتا جاتا ہے۔ پھر امام مزنیؒ کے الفاظ میں اس کی رائے امام کی رائے کے موافق ہو جاتی ہے تو وہ اس امام کے مسلک پر کہلاتا ہے۔ ورنہ وہ حقیقتاً کامل مقلد نہیں ہوتا۔
    اس کے لیے فقہاء احناف نے مجتہد فی المذہب، اصحاب تمییز وغیرہ قسمیں کی ہیں اور شوافعؒ نے مجتہد منتسب وغیرہ الفاظ ذکر کیے ہیں۔ شاہ ولی اللہؒ نے غالباً الانصاف میں اس پر طویل گفتگو فرمائی ہے۔
    ان چیزوں کا عموماً لوگوں کو علم ہی نہیں ہوتا تو ان کے ذہن میں یہ اشکالات پیدا ہوتے ہیں۔ اور بعض اوقات جاننے والے بھی تعصب کا شکار ہو جاتے ہیں (حفظنا اللہ منہ)
    البتہ ایک چیز اور ہے۔ انسانی طبائع مختلف ہیں۔ بعض لوگوں کی یہ طبیعت ہوتی ہے کہ ان کی اپنی رائے جتنی بھی مدلل ہو انہیں اطمینان نہیں ہوتا۔ اس لیے وہ کسی عالم کی رائے پر عمل کرنے کو ترجیح دیتے ہیں کیوں کہ اس میں بے اطمینانی نہیں ہوتی۔ لا یکلف اللہ نفساً الا وسعہا۔
    قول مرجوح پر عمل کرنے کی مختلف وجوہات ہوتی ہیں جنہیں ابن تیمیہؒ نے ذکر فرمایا ہے اور ان کی تصویب کی ہے۔
    ھذا ما ظہر لی۔ و اللہ اعلم بالصواب
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں