1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

غامدی صاحب اور مسائل وراثت کی غلط تفہیم :

'دفاع حدیث' میں موضوعات آغاز کردہ از محمد عامر یونس, ‏جنوری 09، 2019۔

  1. ‏جنوری 09، 2019 #1
    محمد عامر یونس

    محمد عامر یونس خاص رکن
    جگہ:
    karachi
    شمولیت:
    ‏اگست 11، 2013
    پیغامات:
    16,951
    موصول شکریہ جات:
    6,501
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,069

    غامدی صاحب اور مسائل وراثت کی غلط تفہیم :

    ابوبکر قدوسی

    وراثت کے مسائل کو نصف علم کہا جاتا ہے - یعنی یہ مسائل دیگر مسائل کی نسبت مشکل اور دقیق ہوتے ہیں - اس لیے تمام علوم ایک طرف اور یہ ایک طرف شمار کیے جاتے ہیں - اس لیے ان مسائل میں ٹھوس علم کے بنا بات کرنا نامناسب امر ہے -

    غامدی صاحب کو وراثت کے مسائل کو بنا کسی دلیل کے بیان کرنا مناسب نہیں ہے - انہوں نے وراثت کے مسایل کے حوالے سے ایک ویڈیو جاری کی ہے جس میں باقاعدہ مسائل کی غلط تفہیم کی گئی ہے اور تکلیف دہ امر یہ ہے کہ اپنے موقف کے حق میں کوئی دلیل تک بیان نہیں کی گئی -

    موصوف اس ویڈیو میں فرماتے ہیں کہ آپ اپنے مال میں سے کسی ضرورت مند کے لیے جتنا چاہے مال وصیت کر سکتے ہیں (مفھوم ) اور محترم نے جن کے لیے وصیت کی جا سکتی ہے اس فہرست میں اولاد کو بھی شامل کیا ہے البتہ ساتھ ساتھ بہت تاکید سے فرمایا ہے کہ اس نامزدگی کی اور وصیت کی وجہ ضرور بیان کرنا ہو گی -

    غامدی صاحب کے اس بلا دلیل موقف کے بالمقابل شریعت اسلامیہ کا واضح اور دو ٹوک فیصلہ ہے کہ وارث کے حق میں وصیت نہیں ہو سکتی -

    اب اگر غامدی صاحب کے موقف کی روشنی میں دیکھا جائے تو عجیب سی تقسیم بنتی ہے - بطور مثال ایک شخص فوت ہو جاتا ہے اور اس کا مال یعنی ترکہ ایک لاکھ روپے پر مشتمل ہے اور اس کی ایک بیٹی اور ایک ہی بیٹا ہے - اب وہ غامدی صاحب کے فتوے کے مطابق باون ہزار روپے اپنی بیٹی کے نام وصیت کر جاتا ہے تو تقسیم یوں ہو گی کہ بیٹی کو وصیت کی بنیاد پر باون ہزار روپے مل جائیں گے ..باقی بچے اڑتالیس ہزار روپے - اس میں سے بیٹی کا شرعی حصہ ایک تہائی بنتا ہے یعنی تقریبا سولہ ہزار روپے اور بیٹے کو بتیس ہزار روپے ملیں گے -اس طرح [ ناجائز ] وصیت کے سبب بیٹی کو کل ارسٹھ ہزار روپے ملیں گے جب کہ بیٹے کو بتیس ہزار روپے - اندازہ کیجئے کہ کس قدر غیر منصفانہ تقسیم ہو رہی ہے - اور یہی نا انصافی ہوتی ہے جس کے سبب معاشرے میں بگاڑ اور فساد جنم لیتا ہے -

    میں کہتا ہوں کہ اس غیر منصفانہ تقسیم کو بھی ہم تسلیم کر لیں گے کہ چلو ہمارے غامدی صاحب نے کہا ہے - لیکن خرابی یہ ہے کہ موصوف نے اس کے لیے دلیل کوئی بھی پیش نہیں فرمائی - اب یہ تو ہو نہیں سکتا نا کہ وراثت کے دقیق ترین مسائل کو بنا دلیل کے تسلیم کر لیا جائے صرف اس بنا پر کہ وقت کے "عظیم محقق " کا فرمان ہے - کیونکہ ممکن ہے کہ "ناہنجار " بیٹا اس اصول وراثت کو تسلیم کرنے سے انکار کر دے اور دلیل کی طلب کرے - اور شریعت کا اٹل فیصلہ ہے کہ وارث کے حق میں وصیت نہیں ہو سکتی -

    اس جملے کا مطلب یہ ہے کہ ایسے افراد کہ جو ترکے کے مال کے وارث ہوں گے ان کے لیے صاحب جائداد کوئی الگ سے "پیکج " جاری نہیں کر سکتا -یعنی وصیت کے ذریعے آپ اپنی اولاد ، بیوی یا کسی اور وارث کو مال کے کسی ادنی حصے کے لیے بھی نام زد نہیں کر سکتے -

    جیسا کہ رسول اللہ ﷺ ارشاد فرماتے ہیں :

    ’’إن اللہ قد أعطی کل ذی حق حقہ فلا وصیۃ لوارث‘‘(سنن ابی داود مع عون المعبود 3 / 290، جامع الترمذی مع تحفۃ الاحوذی 6 / 258 وصححہ الألبانی کما ھو موجود فی صحیح سنن أبی داود 2 / 554)
    اللہ تعالی نے ہر صاحب حق کو اس کا حق دے دیا ہے (یعنی ورثاء کے حصے مقرر کر دیئے ہیں) پس اب کسی بھی وارث کے حق میں وصیت نہیں کی جاسکتی-

    نبی کریم کے اس واضح فیصلے کے بعد یہ کہنا کہ صاحب مال کسی بیٹی یا بیٹے کے لیے اس کی کسی خدمت کے سبب مال کا کچھ حصہ وصیت کر سکتا ہے بہت ہی عجیب اور بلا دلیل موقف ہے -

    جہاں تک غامدی صاحب کہ یہ کہنا ہے کہ یہ بتانا ہو گا کہ وصیت کا سبب کیا ہے ؟- یہ بھی بہت ہی عجیب سی بات ہے - اس کا مطلب ہے کہ اگر کوئی باپ اپنی کسی اولاد کے حق میں ظلما وصیت کرنے جا رہا ہے تو وہ محض یہ بتانے کا پابند ہے کہ اس وصیت کا سبب کیا ہے - اور یہ سبب بتا کے وہ جیسے چاہے ظلم کرے - اسلام کا قانون وراثت ایسا شان دار ہے کہ اس میں ظلم کا کوئی دور دور تک شائبہ نہیں ہے - جب کہ وصیت کی اس بیان کردہ صورت میں کوئی ظلم کرنے میں آزاد ہے -

    غامدی صاحب نے اس وصیت کی حدود کو مزید لامحدود کرتے ہوے فرمایا ہے کہ اپنے مال میں سے جتنا چاہے وصیت کر سکتا ہے - محترم کی یہ بات بھی بنا دلیل ہے - اسلام میں اس کی تحدید ہے - کوئی شخص بھی مرتے وقت یا اس سے پہلے اپنے مال میں سے ایک تہائی سے زیادہ وصیت نہیں کر سکتا - یعنی اپنے مال کا تیسرا حصہ کسی غیر وارث کو دے سکتا ہے یا کسی رفاعی کام میں وقف کر سکتا ہے - اس حد بندی کا مقصد یہ ہے کہ کسی کو بہت شوق بھی چڑھے تو اپنے وارثین کو ایک تہائی سے زیادہ سے محروم نہ کر سکے - ہمارے ہاں بعض افراد ایسا کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ اولاد چاہے بھوکی مر رہی ہو لیکن جناب آپ سارا مال کسی ہسپتال کو عطیہ کر جاتے ہیں - اسلام کی نظر میں یہ غلط عمل ہے - آپ اپنے مال کا صرف تیسرا حصہ وصیت کر سکتے ہیں ، باقی مال آپ کی اولاد اور بیوہ و دیگر ورثا کا ہے -ان سے یہ حق چھیننا غلط ہے -

    غامدی صاحب نے یہ جو کہا ہے کہ جتنا چاہے وصیت کر لے - اس کی کوئی دلیل نہیں اور ان کا یہ موقف انسانی حقوق کے بھی خلاف ہے اور فہم فراست و ہم دردی کے بھی -

    البتہ قران کریم میں یہ جو وصیت کی ترغیب دی گئی ہے اس کا مقصد وہ غریب رشتے دار اور ملازمین وغیرہ ہیں جو آپ کی وراثت کے حق دار نہیں ہوتے - مثلا ایک ایسا ملازم کہ جس نے پچاس برس آپ کے گھر میں گزار دیے لیکن ظاہر ہے کہ وہ کبھی بھی آپ کے مال کا وارث نہیں بن سکتا - ایسے افراد کے لیے وصیت کا کہا گیا جیسا کہ حدیث میں بھی اس کی مزید وضاحت ہے :

    ’’أنظر قرابتک الذین یحتاجون ولایرثون فأولئک فأوص لھم من مالک بالمعروف حقا علی المتقین‘‘ (فتح القدیر از امام شوکانی رحمہ اللہ 1 / 179) سورہ بقرہ: 180 کی تفسیر کے ذیل میں )
    یعنی تم اپنے رشتہ داروں کو دیکھوجو محتاج ہیں اور وارث نہیں بنتے ہیں۔ پس تم اپنے مال کا کچھ حصہ منصفانہ طریقے سے انہیں وصیت کردو،

    البتہ حقیقی ورثا کے حق کو محفوظ کرنے کے لیے اس کی حد ایک تہائی مقرر کر دی گئی -

    خلاصہ یہ ہے کہ جو لوگ آپ کے مال کے وارث بنتے ہیں ان کے لیے وصیت کرنا جائز نہیں ، اور وصیت غیر وارثوں کے لیے ہوتی ہے جیسے کہ غلام ملازم غریب رشتہ دار حتی کہ کوئی غریب اہل محلہ بھی - اور یہ وصیت تمام مال کے ایک تہائی سے زیادہ بھی جائز نہیں -
     
    Last edited: ‏جنوری 09، 2019
  2. ‏جنوری 09، 2019 #2
    محمد عامر یونس

    محمد عامر یونس خاص رکن
    جگہ:
    karachi
    شمولیت:
    ‏اگست 11، 2013
    پیغامات:
    16,951
    موصول شکریہ جات:
    6,501
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,069

    کیا اولاد کو جائیداد میں سے عاق کیا جا سکتا ہے ؟

    ابوبکر قدوسی

    ہمارے معاشرے میں یہ عام چلن ہے بلکہ اخبارات میں کلاسیفائیڈ اشتہارات میں ایک گوشے میں ایسے اشتہارات مستقل موجود ہوتے ہیں کہ جن پرعاق نامہ لکھ کے ایسے اعلانات شائع ہوے ہوتے ہیں -
    سوال یہ ہے کہ کیا اسلام میں ایسے کسی اقدام کی اجازت ہے ؟
    مختصر جواب یہ ہے کہ اسلام میں کسی بھی وارث کو وراثت سے محروم رکھنے کا کوئی اختیار کسی کو حاصل نہیں ہے -
    بعض ایسی صورتیں ہیں کہ انسان وراثت سے محروم ہو جاتا ہے جیسا کہ اگر کسی مسلمان کا بیٹا کافر ہو جاتا ہے یا کافر باپ کا بیٹا مسلمان ہے تو وراثت میں اس کا کوئی حق نہیں ہے -

    جیسا کہ اللہ کے رسول ﷺ کا فرمان ہے :

    لا یرث المسلم الکافر ولا الکافر المسلم

    (صحیح البخاری کتاب الفرائض)

    ’’نہ مسلمان کافر کا وارث ہوتا ہے نہ کافر مسلمان کا‘‘۔

    اسی طرح قاتل بھی مقتول کا وارث نہیں بن سکتا -

    عبد اللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :

    لا یرث القاتل شیاء

    (سنن ابی داؤد ،کتاب الدیات)

    ’’قاتل کسی بھی چیز کا وارث نہیں بنے گا‘‘

    یعنی اگر بیٹا اپنے باپ کو قتل کر دے تو اس کا حق وراثت ختم ہو جائے گا البتہ اس حدیث سے واضح ہوتا ہے کہ قاتل مقتول سے کوئی اور بھی رشتہ وراثت رکھتا ہو گا تو وراثت سے محروم ہو جائے گا ..مثلا اگر کوئی بھائی یا بہن کو قتل کرے اور وراثت میں اس کا حصہ بنتا بھی ہو گا تو اب اس قتل کے سبب ختم ہو گیا -
    وراثت کا خاتمہ الگ سے تفصیل طلب معاملہ ہے کہ اس کی کیا کیا صورتیں ہیں -

    البتہ ہمارے معاشرے میں جس عاق نامے کا عمومی چلن ہے اس کی کوئی دلیل قران و حدیث میں موجود نہیں اور نہ ہی ایسا کرنا جائز ہے -

    نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی واضح حدیث ہے کہ
    ’لا وصیت لوارث‘‘
    وارث کے لیے کوئی وصیت نہیں ہے --
    ظاہر سی بات ہے کہ اگر اس حدیث کی بنا پر کسی وارث کو اس کے حصے سے زیادہ دینا غلط ٹھہرتا ہے تو اسی حدیث کا دوسرا مفھوم یہ بھی واضح کرتا ہے کہ کوئی بری اور حق تلفی کی وصیت بھی کیونکر جائز ہو سکتی ہے -

    رہا کسی کی نافرمانی کے سبب عاق کرنا تو اس کی بھی کوئی دلیل قران و سنت میں موجود نہیں -

    اس بات کا ہر دم امکان موجود رہتا ہے کہ جس بیٹے کو آپ آج کی نافرمانی کے سبب عاق کر رہے ہیں اور جائداد سے نکال باہر کر رہے ہیں کل کو آپ کی وفات کے بعد وہی بدل جائے اور آپ کے لیے اپنے نیک اعمال کے سبب ایسا صدقہ جاریہ ہو جائے کہ جس کا آپ نے کبھی تصور بھی نہ کیا ہو -

    قران کریم میں ہے :

    اٰبَاۗؤُكُمْ وَاَبْنَاۗؤُكُمْ لَا تَدْرُوْنَ اَيُّھُمْ اَقْرَبُ لَكُمْ نَفْعًا (النساء:11)

    ’’تمہارے باپ ہوں یا تمہارے بیٹے ، تمہیں نہیں معلوم کہ ان میں سے کون تمہیں نفع پہنچانے میں زیادہ قریب ہے۔‘‘

    اور ہمارے معاشرے میں تو اس کی بہت سی مثالیں موجود ہیں کہ لوگ بہت برے ہوتے ہیں اور کبھی ایسے نفع مند اور نیک ہو جاتے ہیں کہ ماں باپ کے لیے عزت کا سبب بن جاتے ہیں -

    عاق کرنے کی دوسری قباحت یہ بھی ہے کہ اس طرح آپ اس "نالائق " بیٹے کی اولاد کو بھی اس کے حق سے محروم کر دیتے ہیں - اب برا تو وہ تھا ہی لیکن آپ اس کو اس کا حصہ دیتے تو یہی روپیہ اس کی اولاد کے کام آتا کہ ممکن تھا کہ خود بھی اپنے باپ کی نالائقی سے ستائی ہوتی -
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں