1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

غایۃ المرید فی شرح کتاب التوحید، یونی کوڈ

'یونیکوڈ' میں موضوعات آغاز کردہ از عبدالرحیم رحمانی, ‏جولائی 25، 2016۔

  1. ‏جولائی 25، 2016 #1
    عبدالرحیم رحمانی

    عبدالرحیم رحمانی سینئر رکن
    جگہ:
    کرلا، ممبئی
    شمولیت:
    ‏جنوری 22، 2012
    پیغامات:
    1,082
    موصول شکریہ جات:
    1,046
    تمغے کے پوائنٹ:
    234

    اصل : شیخ الاسلام محمد بن عبد الوہاب رحمہ اللہ

    شرح: صالح بن عبد العزيز بن محمد بن إبراہيم


    مقدمہ اور چند اہم اصطلاحات

    علماء کا اس بات پر اتفاق ہے کے اسلام میں توحید کے موضوع پر کتاب التوحید جیسی کوئی کتاب نہیں لکھی گئی۔ یہ کتاب توحید کی طرف دعوت دینے والی ہے۔ شیخ عبد الوہاب رحمہ اللہ نے اس کتاب میں توحید کے معنی، دلائل توحید کے اصول اور فضیلت بیان کی ہے۔ مزید بر آں توحید کے خلاف امور اور ان سے بچاؤ کے اسباب بھی بیان کئے ہیں نیز اختصار کے ساتھ توحید عبادت ( الوہیت) اور توحید اسماء و صفات کے ارکان بھی بیان کیے گئے ہیں۔ اسی طرح شرک اکبر اور اس کی چند شکلیں ، شرک اصغر اور اس کی چند شکلیں ، اور ہرکسی کے وسائل و ذرائع بھی بیان کئے ہیں۔ توحید کی حفاظت اور اس کے ذرائع، نیز توحید ربوبیت کی چند جزئیات کی بھی وضاحت فرمائی ہے۔ چونکہ یہ ایک عظیم الشان کتاب ہے اس لئے حفظ و تدریس اور وسیع تامل تدبر کے ساتھ اس کا مطالعہ کرنا چاہئے۔ آپ جہاں کہیں بھی ہوں گے، اس کتاب کی ضرورت محسوس کریں گے۔
    توحید


    توحید سے مراد کسی چیز کو یکجا کرنا ہے۔ اللہ تعالی کو ایک ماننا یعنی اکیلے اللہ تعالی کو ہی معبود ماننا۔اللہ تعالی کی کتاب قران مجید میں توحید کی درج ذیل تین اقسام بیان کی گئی ہیں :
    1۔ توحید ربوبیت 2۔ توحید الوہیت 3۔ توحید اسماء صفات۔

    توحید ربوبیت:

    اس کا معنی یہ ہے کہ اللہ تعالی کو اس کے افعال میں منفرد اور یکتا جاننا۔ اللہ تعالی کے بہت سے افعال ہیں ، جن میں سے چند ایک حسب ذیل ہیں۔
    پیدا کرنا، رزق دینا، زندہ کرنا اور موت دینا وغیرہ۔ پس ان چیزوں میں علی وجہ الکمال منفرد و یکتا صرف اللہ تعالی کی ذات ہے۔

    توحید الوہیت یا توحید الاہیت:

    یہ دونوں الہ یا لہ کے مصدر ہیں۔ جس کا معنی یہ ہے کہ وہ معبود جس کی تعظیم و محبت کے ساتھ عبادت کی جائے اور توحید الاہیت کا معنی یہ ہے کہ عبادت کے جملہ افعال کو اللہ تعالی کے لئے خاص کیا جائے۔

    توحید اسماءصفات:

    اس کا مطلب یہ ہے کہ بندہ یہ عقیدہ رکھے کہ اللہ تعالی اپنے اسماءصفات میں یکتا ہے اور ان میں اس کا کوئی مماثل نہیں۔
    مصنف امام محمد رحمہ اللہ نے اس کتاب میں توحید کی مذکورہ بالا تینوں اقسام کا تفصیل کے ساتھ ذکر کیا ہے۔ ان اقسام کو سمجھنے کی اشد ضرورت ہے لیکن اس موضوع پر کتابیں بکثرت دستیاب نہیں۔ مصنف نے توحید الوہیت اور عبودیت اور اس کے ارکان مثلاً : توکل، خوف، اور محبت کی وضاحت فرمائی ہے۔ نیز اسں کے مقابل شرک کی بھی وضاحت کی ہے۔
    ربوبیت یا عبادت یا اسماء و صفات میں اللہ کے ساتھ کسی دوسرے کو شریک کیا جائے تو یہ شرک ہے۔ اس کتاب کی تالیف کا مقصد عبادت میں اللہ تعالی کے ساتھ کسی کو شرک کرنے سے روکنا اور اس کی توحید کا حکم دینا ہے۔کتاب و سنت کی نصوص اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ ایک اعتبار سے شر کی دو قسمیں ہیں :شرک اکبر اور شرک اصغر۔ اور ایک دوسرے اعتبار سے اس کی تین اقسام ہیں۔ شرک اکبر، شرک اصغر اور شرک خفی۔

    شرک اکبر:

    وہ ہے جس کا ارتکاب بندے کو دین سے خارج کر دیتا ہے اور شرک اکبر کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالی کے ساتھ کسی اور کی بھی عبادت کرنا یا عبادت میں سے کسی ایک چیز کو غیر اللہ کی طرف پھیرنا یا عبادت میں اللہ تعالی کے ساتھ کسی کو اس کا شریک بنانا۔

    شرک اصغر:

    وہ ہے جس پر شارع علیہ الصلاۃ والسلام نے شرک کا حکم لگایا ہے تاہم اس میں کسی کو شرک کامل نہیں سمجھا جاتا جو اس کو شرک اکبر کے ساتھ ملتحق کر دے۔ یاد رہے کہ شرک اکبر ظاہری بھی ہے مثلاً بتوں ، قبروں اور مردوں کے پجاریوں کا شرک اور باطنی بھی، مثلاً منافقوں کا شرک یا پیروں فقیروں ، مردوں اور معبودان باطلہ پر توکل کرنے والوں کا شرک۔ ان کا شرک مخفی ہے البتہ یہ باطن میں اکبر ہے گو کہ ظاہر میں نہیں۔علاوہ ازیں کڑے، دھاگے اور تعویذ پہننا اور غیر اللہ کی قسم کھانا بھی شرک اصغر میں شامل ہے۔

    شرک خفی:

    اس سے مراد معمولی قسم کی ریا اور اس طرح کی دیگر کمزوریاں ہیں۔
     
  2. ‏جولائی 25، 2016 #2
    عبدالرحیم رحمانی

    عبدالرحیم رحمانی سینئر رکن
    جگہ:
    کرلا، ممبئی
    شمولیت:
    ‏جنوری 22، 2012
    پیغامات:
    1,082
    موصول شکریہ جات:
    1,046
    تمغے کے پوائنٹ:
    234

    توحید تمام عبادات کی بنیاد ہے
    اللہ تعالی کا ارشاد ہے :
    (وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالإنْسَ إِلا لِيَعْبُدُونِ) (سورۃ الذاريات51 :56)
    “اور میں نے جنوں اور انسانوں کو محض اس لیے پیدا کیا ہے کہ وہ صرف بندگی کریں “۔ (1)
    اللہ تعالی نے فرمایا:
    (وَلَقَدْ بَعَثْنَا فِي كُلِّ أُمَّۃ رَسُولا أَنِ اعْبُدُوا اللَّهَ وَاجْتَنِبُوا الطَّاغُوتَ) (سورۃ النحل16: 36)
    “اور ہم نے ہر امت میں رسول بھیجا کہ (لوگو)صرف اللہ کی بندگی کرو اور طاغوت (غیر اللہ) کی بندگی سے بچو”۔ (2)
    نیز اللہ تعالی کا ارشاد ہے :
    (وَقَضَى رَبُّكَ أَلا تَعْبُدُوا إِلا إِيَّاهُ وَبِالْوَالِدَيْنِ إِحْسَانًا) (سورۃ الإسراء17: 23)
    “اور تیرے رب نے فیصلہ کر دیا ہے کہ تم صرف اسی (اللہ)کی بندگی کرو اور والدین کے ساتھ حسن سلوک کرو”۔ (3)
    نیز اللہ تعالی کا ارشاد ہے :
    (وَاعْبُدُوا اللَّهَ وَلا تُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا) (سورۃ النساء4: 36)
    “اور تم سب اللہ کی بندگی کرو اور اس کے ساتھ کسی بھی چیز کو شریک نہ ٹھہراؤ”۔ (4)
    ایک اور مقام پر اللہ تعالی نے فرمایا:
    (قُلْ تَعَالَوْا أَتْلُ مَا حَرَّمَ رَبُّكُمْ عَلَيْكُمْ أَلا تُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا) (سورۃ الأنعام6: 151)
    (اے محمد ﷺ !)کہہ دیجیے کہ آؤ میں تمہیں وہ چیزیں پڑھ کر سناؤں جو تمہارے رب نے تم پر حرام کی ہیں۔ (وہ)یہ کہ تم اس کے ساتھ کسی بھی چیز کو شریک نہ ٹھہراؤ۔ (5)
    عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں جو شخص محمد ﷺ کی سربمہر (بند کر کے مہر لگائی ہوئی)وصیت ملاحظہ کرنا چاہتا ہو وہ اللہ تعالی کا یہ فرمان پڑھ لے :
    (قُلْ تَعَالَوْا أَتْلُ مَا حَرَّمَ رَبُّكُمْ عَلَيْكُمْ أَلا تُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا وَبِالْوَالِدَيْنِ إِحْسَانًا وَلا تَقْتُلُوا أَوْلادَكُمْ مِنْ إِمْلاقٍ نَحْنُ نَرْزُقُكُمْ وَإِيَّاهُمْ وَلا تَقْرَبُوا الْفَوَاحِشَ مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَمَا بَطَنَ وَلا تَقْتُلُوا النَّفْسَ الَّتِي حَرَّمَ اللَّهُ إِلا بِالْحَقِّ ذَلِكُمْ وَصَّاكُمْ بِهِ لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُونَ (١٥١)وَلا تَقْرَبُوا مَالَ الْيَتِيمِ إِلا بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ حَتَّى يَبْلُغَ أَشُدَّهُ وَأَوْفُوا الْكَيْلَ وَالْمِيزَانَ بِالْقِسْطِ لا نُكَلِّفُ نَفْسًا إِلا وُسْعَهَا وَإِذَا قُلْتُمْ فَاعْدِلُوا وَلَوْ كَانَ ذَا قُرْبَى وَبِعَهْدِ اللَّهِ أَوْفُوا ذَلِكُمْ وَصَّاكُمْ بِهِ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُونَ (١٥٢)وَأَنَّ هَذَا صِرَاطِي مُسْتَقِيمًا فَاتَّبِعُوهُ وَلا تَتَّبِعُوا السُّبُلَ فَتَفَرَّقَ بِكُمْ عَنْ سَبِيلِهِ ذَلِكُمْ وَصَّاكُمْ بِهِ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ) (سورۃ الأنعام6: 151153، جامع الترمذی، التفسیر، تفسیر سورۃ الانعام، ح:3070)
    ” (اے محمد ﷺ)کہ دیجیے کہ آؤ میں تمہیں وہ چیزیں پڑھ کر سناؤں جو تمہارے رب نے تم پر حرام کی ہیں وہ یہ کہ:
    1)تم اس کے ساتھ کسی بھی چیز کو شریک نہ ٹھہراؤ۔
    2)اپنے والدین کے ساتھ حسن سلوک کرو۔
    3)اپنی اولاد کو مفلسی کے ڈرسے قتل نہ کرو، کیونکہ تمہیں بھی اور ان کو بھی رزق ہم ہی دیتے ہیں۔
    4)بے حیائی کے کام ظاہر ہوں یا پوشیدہ، تم ان کے قریب بھی نہ بھٹکو۔
    5)اور جسے قتل کرنا اللہ تعالی نے حرام ٹھہرایا ہے اسے قتل نہ کرو مگر حق اور جائز طریقے سے۔ اس (اللہ) نے تمہیں ان باتوں کی وصیت (ہدایت)کی ہے تاکہ تم عقل سے کام لو۔
    6)اور تم یتیموں کے مال کے قریب بھی نہ جاؤ مگر ایسے طریقے سے جو انتہائی بہترین اور پسندیدہ ہو، یہاں تک کہ وہ (یتیم) اپنی جوانی کی عمر کو پہنچ جائے۔
    7)اور انصاف کے ساتھ ناپ تول پورا کرو، ہم کسی جان کو اس کی طاقت سے بڑھ کر مکلف نہیں کرتے۔
    8)اور جب بات کرو تو انصاف کی کہو خواہ وہ معاملہ اپنے رشتہ دار ہی کا ہو (یعنی کسی ایک کی طرف جھکاؤ سے کام نہ لو)
    9)اور اللہ تعالی کے عہد کو پورا کرو۔ اس (اللہ)نے تمہیں ان باتوں کی وصیت (ہدایت)کی ہے تاکہ تم یاد رکھو۔
    10) اور بے شک یہ میرا سیدھا راستہ ہے تم اسی پر چلو۔ اسے چھوڑ کر دوسری راہوں پر مت چلو، وہ تمہیں اللہ کی راہ سے دور کر دیں گی۔ اس (اللہ) نے تمہیں ان باتوں کی وصیت (ہدایت)کی راہ سے دور کر دیں گی۔ اس (اللہ)نے تمہیں ان باتوں کی وصیت (ہدایت) کی ہے تاکہ تم پرہیزگاربن جاؤ۔ (6)
    حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :
    (كُنْتُ رِدْفَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى حِمَارٍ يُقَالُ لَهُ عُفَيْرٌ فَقَالَ يَامُعَاذُ هَلْ تَدْرِي حَقَّ اللَّهِ عَلَى عِبَادِهِ وَمَاحَقُّ الْعِبَادِعَلَى اللَّهِ قُلْتُ اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ قَالَ فَإِنَّ حَقَّ اللَّهِ عَلَى الْعِبَادِ أَنْ يَعْبُدُوهُ وَلَا يُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا وَحَقَّ الْعِبَادِ عَلَى اللَّهِ أَنْ لَا يُعَذِّبَ مَنْ لَا يُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَفَلَا أُبَشِّرُ بِهِ النَّاسَ قَالَ لَا تُبَشِّرْهُمْ فَيَتَّكِلُوا) (صحیح البخاری، الجھادوالسیر، باب اسم الفرس والحمار، ح: 6267، 5967، 2856 و صحیح مسلم، الایمان، باب الدلیل علی ان مین مات علی التوحید دخل الجنہ قطعا، ح:30)
    ’’ایک دفعہ میں نبی کریم ﷺ کے پیچھے گدھے پر سوار تھا کہ آپ نے مجھ سے فرمایا: ’’اے معاذ (رضی اللہ عنہ!)کیا تم جانتے ہو اللہ کا بندوں پر اور بندوں کا اللہ پرکیا حق ہے ؟‘‘ میں نے عرض کیا، اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں۔ آپ نے فرمایا: اللہ کا بندوں پر یہ حق ہے کہ وہ صرف اسی کی عبادت (بندگی) کریں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائیں ، اور بندوں کا اللہ کے ذمہ یہ حق ہے کہ جو بندہ شرک کا مرتکب نہ ہو وہ اسے عذاب نہ دے۔‘‘ (معاذ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں) میں نے کہا، یا رسول اللہ ﷺ ! (اجازت ہو تو) لوگوں کو یہ خوشخبری سنا دوں ؟ آپ نے فرمایا: نہیں۔ ایسا نہ ہو کہ وہ اسی پر بھروسہ کر کے بیٹھ جائیں (اور عمل کرنا چھوڑ دیں)‘‘ (7)

    مسائل:


    1) جن وانس کی تخلیق میں اللہ تعالی کی حکمت کار فرما ہے۔
    2) دراصل عبادت سے مراد توحید ہے کیونکہ جملہ انبیاء اور ان کی امتوں کے درمیان یہی بات متنازعہ تھی۔
    3) جو شخص توحید پر کار بند نہیں اس نے اللہ تعالی کی عبادت (بندگی)کی ہی نہیں۔
    ’’سورۃ الکافرون‘‘ کی آیت:
    (وَلَا أَنْتُمْ عَابِدُونَ مَا أَعْبُدُ (سورۃ الكافرون190: 3))
    ’’اور جن کی تم پرستش کرتے ہو میں ان کی پرستش کرنے والا نہیں ہوں ‘‘ کا بھی یہی مفہوم ہے۔
    4) بعثت انبیاء ورسل کی حکمت کا بھی پتہ چلتا ہے۔
    5) اللہ تعالی کی طرف سے ہر امت کی ہدایت کے لیے رسول بھیجے گئے۔
    6) تمام انبیاء کا دین یعنی ان کی دعوت کا محور اور مرکزی نقطہ صرف توحید تھا۔
    7) اس سے یہ ایک اہم مسئلہ بھی معلوم ہوا کہ طاغوت کا کفر اور اس کا انکار کیے بغیر اللہ تعالی کی عبادت (بندگی)ممکن ہی نہیں۔
    (فَمَنْ يَكْفُرْ بِالطَّاغُوتِ وَيُؤْمِنْ بِاللَّهِ (سورۃ البقرۃ2: 256))
    کا یہی مفہوم ہے۔
    8) ’’طاغوت‘‘ ہر اس چیز کو کہتے ہیں جس کی اللہ تعالی کے سوا عبادت کی جائے۔
    9) یہ بھی معلوم ہوا کہ سلف صالحین کے نزدیک سورۃ الانعام کی مذکورہ تین محکم آیات کی کس قدر اہمیت اور عظمت تھی۔ ان میں اللہ تعالی کی طرف سے بندوں کو دس احکام اور ہدایت دی گئی ہیں۔ ان میں سب سے اولین ہدایت ’’شرک سے ممانعت‘‘ کی ہے۔
    10) سورۂ بنی اسرائیل (الاسراء) کی محکم آیات میں اٹھارہ مسائل بیان ہوئے ہیں جن کا آغاز ان الفاظ سے ہوا ہے :
    (لَا تَجْعَلْ مَعَ اللَّهِ إِلَهًا آخَرَ فَتَقْعُدَ مَذْمُومًا مَخْذُولًا (سورۃ الإسراء17: 22))
    ’’کہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ ورنہ ذلیل اور بے یار و مدد گار ہو کر بیٹھ رہو گے ‘‘۔
    یعنی ان مسائل میں سب سے پہلے توحید کا بیان ہے اور سب سے آخر میں بھی توحید ہی کا ذکر ہے۔
    (وَلَا تَجْعَلْ مَعَ اللَّهِ إِلَهًا آخَرَ فَتُلْقَى فِي جَهَنَّمَ مَلُومًا مَدْحُورًا (سورۃ الإسراء17: 39))
    ’’اور اللہ کے ساتھ کسی دوسرے کو معبود نہ بنا لینا ورنہ تو ملامت زدہ اور راندۂ درگاہ ہو کر جہنم میں ڈال دیا جائے گا‘‘۔
    اللہ تعالی نے ان مسائل کی اہمیت پر تنبیہ کرتے ہوئے آخر میں فرمایا:
    (ذَلِكَ مِمَّا أَوْحَى إِلَيْكَ رَبُّكَ مِنَ الْحِكْمَۃ (سورۃ الإسراء17: 39))
    یہ دانائی کی ان باتوں میں سے ہیں جو آپ کے رب نے آپ کی طرف وحی کی ہیں۔
    11) سورۃ النساء کی وہ آیت جو حقوق عشرہ والی آیت کہلاتی ہے، اس میں اللہ نے فرمایا:
    (وَاعْبُدُوا اللَّهَ وَلَا تُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا (سورۃ النساء4: 36))
    ’’اور اللہ تعالی کی بندگی کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ‘‘۔
    12) اس میں رسول اللہ ﷺ کی اس وصیت کی طرف بھی توجہ دلائی گئی ہے جو آپ نے وفات کے وقت فرمائی تھی۔
    13) بندوں کے ذمہ اللہ تعالی کا کیا حق ہے ؟
    14) جب بندے اللہ تعالی کا حق ادا کریں تو اللہ تعالی پر ان کا کیا حق ہے ؟
    15) حدیث سے یہ بھی پتہ چلا کہ اس (حدیث معاذ رضی اللہ عنہ) میں مذکور مسئلہ کا بہت سے صحابہ کو علم نہ تھا۔
    16) کسی مصلحت کے پیش نظر کتمان علم (علم کو مخفی رکھنا)جائز ہے۔
    17) کسی مسلمان کو خوش خبری دینا جائز ہے۔
    18) اللہ تعالی کی رحمت پر بھروسہ کر کے ترک عمل جائز نہیں۔
    19) یہ بھی معلوم ہوا کہ جس سے کوئی بات پوچھی جائے اور وہ نہ جانتا ہو تو یوں کہہ دینا چاہئے ’’اَللهُ وَ رَسُوْلُهُ اَعْلَمَ‘‘کہ ’’اللہ تعالی اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں۔‘‘
    20) کسی کو علم سکھانا اور کسی کو محروم رکھنا جائز ہے۔
    21) آپ ﷺ از حد متواضع تھے کہ آپ جلیل القدر ہونے کے باوجود گدھے پر نہ صرف سوار ہوئے بلکہ دوسرے آدمی کو بھی اپنے ہمراہ سوار کر لیا۔
    22) سواری پر اپنے پیچھے دوسرے کو سوار کر لینا جائز ہے۔
    23) حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کی فضیلت بھی عیاں ہوتی ہے۔
    24) مسئلہ توحید کی اہمیت اور عظمت پر بھی خوب روشنی پڑتی ہے۔

    نوٹ:

    (1) میں نے جنوں اور انسانوں کو محض اپنی عبادت کے لیے پیدا کیا ہے۔اسلاف نے إِلا لِيَعْبُدُونِ کی تفسیر اِلا ليُوَحِّدون کی ہے …. کہ میں نے جنوں اور انسانوں کو محض اس لیے پیدا کیا ہے کہ وہ میری توحید کا اقرار و اعلان کریں۔ اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ تمام رسول تو حید اور عبادت سمجھانے کے لیے مبعوث کیے گئے تھے۔
    عبادت کا لغوی اور شرعی مفہوم: عبادت کے مفہوم میں عاجزی اور حد درجہ انکسار پایا جاتا ہے اور جب اس کے ساتھ محبت اور اطاعت بھی شامل ہو تو وہ شرعی عبادت بن جاتی ہے۔
    شرعی طور پر کسی کی محبت، رحمت و شفقت کی امید اور اس کے عذاب کے ڈرسے اس کے اوامر و نواہی پر عمل کرنا عبادت کہلاتا ہے۔
    شیخ السلام ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : انسان کے ایسے تمام ظاہری اور باطنی اقوال و افعال جو اللہ تعالی کو محبوب اور پسند ہوں ، ان تمام کو عبادت کہتے ہیں۔ اس سے ثابت ہوا کہ ہر قسم کی عبادت صرف اللہ کے لیے جائز ہے۔
    (2) یہ آیت عبادت اور توحید کے مفہوم کی تفسیر ہے۔ نیز اس آیت سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالی کے تمام رسول ان دو باتوں کی تعلیم کے لیے مبعوث کیے گئے کہ لوگو! تم صرف اللہ تعالی کی بندگی کرو اور طاغوت کی بندگی سے اجتناب کرو۔ اسی کو توحید کہتے ہیں۔ اس آیت کے پہلے جملہ “اعْبُدُوا اللَّهَ” میں توحید کا اثبات اور اقرار، جبکہ”وَاجْتَنِبُوا الطَّاغُوتَ” میں شرک کی نفی اور انکار ہے۔
    طاغوت: یہ فعلوت کے وزن پر مصدر “الطغیان”سے مشتق ہے۔
    ہر وہ معبود، متبوع یا مطاع چیز جسے انسان اس کی حد سے بڑھا دے اسے “طاغوت”کہتے ہیں۔
    (3) اس آیت میں فیصلے کے معنی امر اور وصیت ہیں یعنی اس نے تمہیں اس بات کا حکم دیا اور وصیت کی ہے کہ تم اس کے علاوہ کسی کی عبادت نہ کرو۔ کلمہ توحید”لا الہ الا اللہ” (کہ اللہ تعالی کے سوا کوئی معبود نہیں) کا بھی بالکل یہی مفہوم ہے۔ یہ آیت توحید کے مفہوم کو پوری طرح واضح کر رہی ہے کہ صرف اللہ تعالی کی عبادت بجا لانا اور کلمہ “لا الہ الا اللہ” کو اچھی طرح سمجھ کر اختیار کرنا ہی اصل توحید ہے۔
    (4) یہ آیت شرک کی تمام انواع سے باز رہنے پر دلالت کرتی ہے خواہ وہ شرک اکبر ہو، اصغر ہو یا خفی۔
    نیز اس آیت سے معلوم ہوا کہ کسی فرشتہ، نبی، صالح شخصیت، پتھر، درخت یا جن وغیرہ کو اللہ تعالی کے ساتھ شریک ٹھہرانے کی قطعاً اجازت نہیں کیونکہ یہ سب چیزیں ہیں۔
    (5) آیت مبارکہ میں “أَلا تُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا“سے پہلے “وَصَّاكُم” محذوف ہے جس کا مفہوم یہ ہے کہ اللہ تعالی نے تمہیں وصیت کی یعنی حکم دیا ہے کہ تم اس کے ساتھ کسی بھی چیز کو شریک نہ ٹھہراؤ۔ یہاں وصیت سے شرعی وصیت مراد ہے۔ اللہ تعالی کی شرعی وصیت کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ وہ امر واجب اور ضروری ہے۔ یہ آیت بھی سابقہ آیات کی طرح توحید کے مفہوم پر دلالت کرتی ہے۔
    (6) ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے فرمان کا مفہوم یہ ہے کہ اگر فرض کر لیا جائے کہ رسول اللہ ﷺ نے کوئی وصیت لکھ کر اس پر اپنی مہر ثبت فرمائی جسے آپ کی وفات اور ملاء اعلی کی طرف سے انتقال فرمانے کے بعد کھولا گیا تو آپ کی وصیت یہی آیات ہوں گی جن میں دس وصیتیں ہیں۔
    ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی یہ حدیث ان آیات کی عظمت اور رفعت شان پر دلالت کرتی ہے جن کا آغاز شرک کی ممانعت سے ہوا ہے۔ اس سے ثابت ہوا کہ توحید کا اثبات اور شرک کی ممانعت تمام امور پر مقدم اور اہم ترین ہے۔
    (7) صرف اللہ تعالی کی عبادت (بندگی) کرنا اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرانا، اللہ تعالی کا حق ہے جو بندوں پر واجب ہے، کیونکہ کتاب و سنت ہی نہیں بلکہ تمام رسولوں نے اللہ تعالی کے اس حق کو بیان اور خوب واضح کیا ہے کہ اللہ تعالی کے تمام حقوق میں سے یہ حق بندوں پر سب سے زیادہ واجب ہے۔ اس کے بعد آپ نے فرمایا: ’’اللہ تعالی کے ذمہ بندوں کا یہ حق ہے کہ جو بندہ اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائے تو وہ اسے عذاب نہ دے۔‘‘
    اہل علم اس بات پر متفق ہیں کہ بندوں کے لیے اللہ تعالی نے یہ حق اپنے اوپر از خود واجب کیا ہے ورنہ کوئی ہستی یا شخصیت ایسی نہیں جو اللہ تعالی پر کسی چیز کو واجب کرسکے۔
    اللہ تعالی از روئے حکمت جس چیز کو چاہے اپنے اوپر واجب یا حرام کر لیتا ہے۔ جیسا کہ ایک حدیث قدسی میں ہے۔
    (إِنِّي حَرَّمْتُ الظُّلْمَ عَلَى نَفْسِي)
    کہ میں (اللہ تعالی)نے ظلم کو اپنے اوپر حرام کر رکھا ہے۔ ’’یعنی میں کسی پر ظلم نہیں کرتا۔
     
  3. ‏جولائی 26، 2016 #3
    عبدالرحیم رحمانی

    عبدالرحیم رحمانی سینئر رکن
    جگہ:
    کرلا، ممبئی
    شمولیت:
    ‏جنوری 22، 2012
    پیغامات:
    1,082
    موصول شکریہ جات:
    1,046
    تمغے کے پوائنٹ:
    234

    باب:1 توحید کی فضیلت اور اس سے گناہوں کے مٹنے کا بیان (1)



    (الَّذِينَ آمَنُوا وَلَمْ يَلْبِسُوا إِيمَانَهُمْ بِظُلْمٍ أُولَئِكَ لَهُمُ الْأَمْنُ وَهُمْ مُهْتَدُونَ (سورۃ الأنعام6: 82))
    ’’جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے اپنے ایمان کو ظلم (شرک)سے آلودہ نہیں کیا، ان ہی کے لیے امن ہے اور وہی راہ راست پر ہیں ‘‘۔ (2)
    عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہﷺ نے فرمایا:
    (مَنْ شَهِدَ أَنْ لاَ إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لاَ شَرِيكَ لَهُ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، وَأَنَّ عِيسَى عَبْدُ اللَّهِ وَرَسُولُهُ، وَكَلِمَتُه أَلْقَاهَا إِلَى مَرْيَمَ وَرُوحٌ مِنْهُ، وَالجَنَّۃ حَقٌّ، وَالنَّارُ حَقٌّ، أَدْخَلَهُ اللَّهُ الجَنَّۃ عَلَى مَا كَانَ مِنَ العَمَلِ) (صحیح البخاری، احادیث الانبیاء، باب قولہ تعالی (يَا أَهْلَ الْكِتَابِ لَا تَغْلُوا فِي دِينِكُمْ) ح:3435 و صحیح مسلم، الایمان، باب الدلیل علی ان مین مات علی التوحید دخل الجنۃ قطعا، ح:28)
    ’’جو شخص اس بات کی گواہی دے کہ:
    ٭ اللہ تعالی کے سوا کوئی معبود نہیں ، وہ یکتا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں۔
    ٭ اور محمد ﷺ اس کے بندے اور رسول ہیں۔
    ٭ اور عیسی علیہ السلام بھی اللہ کے بندے، اس کے رسول اور اس کا کلمہ ہیں جو اس نے سیدہ مریم علیھا السلام کی طرف ڈالا تھا، اور وہ اسی کی طرف سے بھیجی ہوئی روح ہیں۔
    ٭ اور یہ کہ جنت بر حق ہے اور جہنم (بھی)بر حق ہے۔
    تو ایسے شخص کو اللہ تعالی (بہرحال)جنت میں داخل کرے گا خواہ اس کے اعمال کیسے ہی ہوں۔‘‘ (3)
    اور صحیحین ہی میں عتبان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
    (فَإِنَّ اللَّهَ قَدْ حَرَّمَ عَلَى النَّارِ مَنْ قَالَ: لاَ إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، يَبْتَغِي بِذَلِكَ وَجْهَ اللَّهِ) (صحیح البخاری، الصلاۃ، باب المساجد فی ابیوت، ح:425، الرقاق، باب اعمل الذی یبتغی بہ وجه اللہ، ح:6423 و صحیح مسلم، المساجد، الرخصۃ فی التخلف عن الجماعۃ لعذر، ح:273 / 33)
    ’’جو شخص محض رضائے الہی کی نیت سے ’’لاَ إِلَهَ إِلَّا اللَّه‘‘ کا اقرار کرے، اللہ تعالی اس پر دوزخ حرام کر دیتا ہے۔‘‘ (4)
    ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہﷺ نے فرمایا:
    (قال موسى عليه السلام: يا رب! علمني شيئا أذكرك وأدعوك به, قال: قل يا موسى: لا إله إلا الله. قال:كل عبادك يقولون هذا, قال: يا موسى! لو أن السماوات السبع وعامرهن غيري والأرضين السبع في كفۃ، ولا إله إلا الله في كفۃ، مالت بهن لا إله إلا الله) (موارد الظمآن الی زوائد ابن حبان، ح:2324 و المسترک للحاکم:1 / 528 و مسند ابی یعلی الموصلی، ح:1393)
    موسی علیہ السلام نے اللہ تعالی سے عرض کیا، اسے میرے پروردگار! مجھے کوئی ایسی چیز بتائیں جس کے ذریعے میں تیرا ذکر کیا کروں اور تجھے پکارا کروں۔ اللہ تعالی نے فرمایا: اے موسی! ’’لاَ إِلَهَ إِلَّا اللَّه‘‘ پڑھا کرو۔ موسی علیہ السلام نے عرض کیا: اے میرے رب ! یہ کلمہ تو تیرے سب بندے پڑھتے اور کہتے ہیں۔ (مجھے کوئی خصوصی وظیفہ بتایا جائے) تو اللہ تعالی نے فرمایا: اے موسی! اگر ساتوں آسمان اور ان کی مخلوق بجز میرے اور ساتوں زمینیں ترازو کے ایک پلڑے میں ہوں اور ’’لاَ إِلَهَ إِلَّا اللَّه‘‘دوسرے پلڑے میں ہو تو یہ کلمہ ان سب سے وزنی ہو گا‘‘۔ (امام حاکم نے اسے صحیح کہا ہے) (5)
    جامع ترمذی میں حسن سند کے ساتھ، انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، کہتے ہیں میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا:
    ( قَالَ اللَّهُ تَعَالَى:يَا ابْنَ آدَمَ! لَوْ أَتَيْتَنِي بِقُرَابِ الأَرْضِ خَطَايَا ثُمَّ لَقِيتَنِي لَا تُشْرِكُ بِي شَيْئًا لَأَتَيْتُكَ بِقُرَابِهَا مَغْفِرَۃ) (جامع الترمذی، الدعوات، باب یا ابن آدم انک ما دعوتنی، ح: 3540)
    ’’اللہ تعالی فرماتے ہیں :اے ابن آدم! اگر تم میرے پاس زمین بھر گناہ کر کے آئے، پھر تو اس حال میں مجھ سے ملے کہ تو میرے ساتھ کسی بھی چیز کو شریک نہ ٹھہراتا ہو تو میں اسی قدر مغفرت و بخشش لے کر تیرے پاس آؤں گا۔‘‘
    مسائل:


    1) ان احادیث سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالی کا فضل بہت وسیع ہے۔
    2) اللہ تعالی کے ہاں توحید کا ثواب بہت زیادہ ہے۔
    3) توحید کا عقیدہ ثواب کے ساتھ ساتھ گناہوں کا کفارہ بھی ہے۔
    4) سورۃ الانعام کی آیت 82 کی تفسیر بھی واضح ہوئی کہ اس میں ’’ظلم‘‘سے مراد ’’شرک‘‘ہے۔
    5) حدیث عبادہ میں جو پانچ امور مذکور ہیں ان پر غور کیا جائے کہ ان میں سرفہرست شرک نہ کرنا ہے۔
    6) حدیث عبادہ، حدیث عتبان اور اس کے بعد والی مذکورہ احادیث کو جمع کیا جائے تو کلمۂ توحید (لاَ إِلَهَ إِلَّا اللَّه)کا مفہوم مزید نکھر کر سامنے آتا ہے۔ اور جو لوگ اس دھوکے میں مبتلا ہیں کہ محض زبان سے کلمۂ توحید کا اقرار نجات کے لیے کافی ہے، ان کی غلطی بھی واضح ہوتی ہے۔
    7) حدیث عتبان میں مذکورہ شرط بھی قابل توجہ ہے کہ کلمہ گو نے اللہ تعالی کی رضا کے لیے کلمہ پڑھا ہو۔
    8) انبیاء کرام بھی اس کلمہ کی اہمیت و فضیلت کو جاننے کے محتاج تھے۔
    9) یہ امر بھی قابل غور ہے کہ اگرچہ لاَ إِلَهَ إِلَّا اللَّه تمام آسمانوں اور زمینوں سے وزنی ہے اس کے باوجود بہت سے کلمہ گو لوگوں کے پلڑے ہلکے ہوں گے۔
    10) یہ بھی صراحت ہے کہ آسمانوں کی طرح زمینیں بھی سات ہیں۔
    11) آسمانوں اور زمینوں میں اللہ تعالی کی مخلوق آباد ہے۔
    12) اللہ تعالی کی بہت سی صفات ہیں جبکہ فرقہ اشاعرہ اللہ تعالی کی بعض صفات کا انکار کرتے ہیں۔
    13) حدیث انس پر غور کریں تو سمجھ میں آتا ہے کہ حدیث عتبان ’’جو شخص محض رضائے الہی کی خاطر کلمہ ’’لاَ إِلَهَ إِلَّا اللَّه‘‘کا اقرار کرے تو اللہ تعالی اس پر جہنم حرام کر دیتا ہے ‘‘ سے مراد شرک کو کلیۃً چھوڑ دینا ہے۔ محض زبان سے کلمہ پڑھ لینا نجات کے لیے کافی نہیں۔
    14) جناب محمدﷺ اور جناب عیسی علیہ السلام دونوں اللہ تعالی کے بندے اور رسول ہیں۔
    15) ہر چیز اللہ تعالی کے حکم سے پیدا ہونے کی بنا پر اس کا کلمہ ہے تاہم یہاں خصوصی طور پر عیسی علیہ السلام کو اللہ تعالی کا کلمہ کہا گیا ہے۔
    16) عیسی علیہ السلام کو خصوصی طور پر اللہ کی روح کہا گیا ہے۔
    17) ان احادیث سے جنت اور جہنم پر ایمان لانے کی اہمیت اور فضیلت بھی معلوم ہوئی۔
    18) ان تفصیل سے حدیث عبادہ میں ’’عَلَى مَا كَانَ مِنَ العَمَلِ‘‘ (خواہ اس کے اعمال کیسے ہی ہوں)کا مفہوم بھی متعین ہو جاتا ہے کہ جنت میں جانے کے لیے صاحب توحید یعنی موحد ہونا شرط ہے۔
    19) روز قیامت اعمال کا وزن کرنے کے لیے جو ترازو رکھی جائے گی اس کے بھی دو پلڑے ہوں گے۔
    20) حدیث میں اللہ تعالی کے لیے ’’وَجْهٌ‘‘کا لفظ استعمال ہوا ہے جس کا معنی ’’چہرہ‘‘ ہے۔ یعنی اللہ تعالی کی اس صفت (چہرہ)پر ایمان لانا بھی ضروری ہے۔ البتہ ’’لَيْسَ كَمِثْلِه شَيْئٌ‘‘ (اس جیسی کوئی چیز نہیں۔) کی رو سے ہم اس کی کیفیت سمجھنے سے بیان کرنے سے قاصر ہیں۔
    نوٹ:


    (1) یعنی جو بندہ توحید کے اقرار و اعتراف میں جس قدر پختہ ہو وہ اسی قدر جنت میں داخل ہونے کا حق دار ہوتا ہے۔ اس کے اعمال خواہ کیسے ہی ہوں۔ اسی لیے امام محمد بن عبد الوہاب رحمۃ اللہ علیہ نے سورۃ الانعام کی مندرجہ بالا آیت بیان کی ہے۔
    (2) ظلم کا معنی : اس آیت میں ’’ظلم‘‘سے مراد شرک ہے۔ جیسا کہ عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے اس آیت کو اپنے لیے عظیم (بوجھ اور مشکل)سمجھا تو انہوں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول ! ہم میں سے کون ہے جس نے اپنے اوپر ظلم نہ کیا ہو؟ آپ نے فرمایا: ’’اس کا وہ مفہوم نہیں جو تم سمجھتے ہو بلکہ یہاں ’’ظلم‘‘سے مراد ’’شرک‘‘ ہے۔ کیا تم نے اللہ کے نیک بندے (حضرت لقمان) کا یہ قول نہیں سنا:
    (إِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيمٌ (سورۃ لقمان31: 13))
    ’’بے شک شرک بہت بڑا ظلم یعنی گناہ ہے ‘‘۔
    (صحیح بخاری، التفسیر، باب لاتشرک باللہ ان الشرک…..حدیث:4776)
    لہذا اس باب کی مناسبت سے آیت کا ترجمہ یوں ہوا کہ:
    ’’جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے اپنے ایمان کو شرک سے آلودہ نہیں کیا ان ہی کے لیے مکمل امن ہے اور وہی راہ راست پر ہیں۔‘‘پس جو شخص ایمان لایا یعنی اس نے توحید اختیار کی اور اس نے اپنے ایمان کو ظلم سے یعنی عقیدۂ توحید کو شرک سے آلودہ نہیں کیا اس کے لیے مکمل امن اور مکمل ہدایت ہے۔ لہذا بندہ جس قدر ظلم یعنی شرک کا مرتکب ہو کر توحید میں نقص پیدا کر لے گا، اس سے اسی قدر امن اور ہدایت مفقود ہو جائے گی۔
    (3) یعنی وہ شخص عملی طور پر کتنا ہی کم تر کیوں نہ ہو اور اس کے نامۂ اعمال میں کتنے ہی گناہ کیوں نہ ہوں ، اللہ تعالی اسے بالآخر جنت میں ضرور داخل کرے گا۔ یہ اہل توحید کے لیے توحید کے ثمرات میں سے ایک ثمرہ ہے۔
    (4) یہی جملہ لاَ إِلَهَ إِلَّا اللَّه کلمہ توحید ہے۔ اس کلمہ کو اللہ تعالی کی رضا کے لیے زبان سے ادا کرنے اور اس کا دلی طور پر اقرار کرنے والا شخص جب اس کی شرائط اور لوازمات کو صحیح طور پر بجا لائے تو اللہ تعالی جسب وعدہ اس بندے پر جہنم کو حرام کر دیتا ہے۔ یہ اس کا بہت بڑا فضل ہے۔ البتہ جو شخص توحید کا اقرار کرے اور شرک سے بچ کر رہے مگر بتقاضائے بشریت اس سے بعض گناہ بھی سرزد ہو گئے ہوں اور وہ توبہ کیے بغیر فوت ہو جائے تو اس کا معاملہ اللہ تعالی کے سپرد ہے۔ وہ چاہے تو گناہوں کی پاداش میں عذاب دینے کے بعد اسے جہنم سے رہائی دے یا معاف کر دے اور اس پر ابتدائی سے جہنم کو حرام کر دے۔
    (5) وجہ استدلال: اس حدیث سے وجہ استدلال یہ ہے کہ بالفرض کسی بندے کے گناہ سات آسمانوں ، سات زمینوں اور ان کے درمیان موجود تمام انسانوں اور فرشتوں کے وزن سے بھی بڑھ کر ہوں تو کلمۂ توحید لاَ إِلَهَ إِلَّا اللَّه کا پلڑا ان تمام گناہوں سے زیادہ وزنی اور بوجھل ہو گا۔ وہ حدیث جس میں لاَ إِلَهَ إِلَّا اللَّه والے پرزہ کا گناہوں کے طویل و عریض دفاتر سے زیادہ ہونے کا تذکرہ ہے اور پیش نظر باب میں مذکور حدیث انس رضی اللہ عنہ بھی اسی مفہوم پر دلالت کرتی ہیں۔ کلمۂ توحید کی یہ عظیم فضیلت اسی کے لیے ہے جس کے دل میں یہ کلمہ خوب راسخ ہو چکا ہو اور وہ خلوص دل سے اس کا اقرار اور اعتراف بھی کرتا ہو، اس کلمے کے تقاضوں کو اچھی طرح جاننے، سمجھنے، اور ان کی تصدیق کے ساتھ ساتھ ان کا دلی طور پر اعتقاد بھی رکھتا ہو، اور اسے اس کے تقاضوں سے ایسے دلی محبت بھی ہو کہ اس کا حقیقی اثر اور ان کا نور اس کے قلب پر خوب اثر انداز بھی ہو۔ پس جس شخص کا کلمۂ توحید اس معیار کا ہو گا تو اس کی برکت سے اس کے تمام گناہ ’’جل‘‘ (مٹ)جائیں گے۔
     
  4. ‏جولائی 28، 2016 #4
    عبدالرحیم رحمانی

    عبدالرحیم رحمانی سینئر رکن
    جگہ:
    کرلا، ممبئی
    شمولیت:
    ‏جنوری 22، 2012
    پیغامات:
    1,082
    موصول شکریہ جات:
    1,046
    تمغے کے پوائنٹ:
    234

    باب:2 توحید کے تمام تقاضوں کو پورا کرنے والا شخص بلا حساب جنت میں جائے گا (1)

    اللہ تعالی کا ارشاد ہے :
    (إِنَّ إِبْرَاهِيمَ كَانَ أُمَّۃ قَانِتًا لِلَّهِ حَنِيفًا وَلَمْ يَكُ مِنَ الْمُشْرِكِينَ (سورۃ النحل16: 120))
    ’’بے شک ابراہیم (علیہ السلام) لوگوں کے پیشوا، اللہ کے تابع فرمان اور یک سو تھے اور وہ مشرکین میں سے نہ تھے ‘‘۔ (2)
    نیز اللہ تعالی کا فرمان ہے :
    (وَالَّذِينَ هُمْ بِرَبِّهِمْ لَا يُشْرِكُونَ (سورۃ المؤمنون23: 59))
    ’’ (اور اہل ایمان وہ ہیں) جو اپنے رب کے ساتھ (کسی کو)شریک نہیں ٹھہراتے۔‘‘ (3)
    حصین بن عبد الرحمن رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ میں ایک دفعہ سعید بن جبیر رحمۃ اللہ علیہ کی خدمت میں حاضر تھا کہ انہوں نے کہا: تم میں سے کسی نے رات کو ٹوٹتا ہو تارا دیکھا تھا؟ میں نے کہا جی ہاں ، میں نے دیکھا تھا۔ پھر ساتھ ہی یہ بھی کہہ دیا کہ میں اس وقت نماز میں مشغول نہ تھا۔ بلکہ مجھے کسی زہریلی چیز نے ڈس لیا تھا۔
    سعید بن جبیر رحمۃ اللہ علیہ نے پوچھا تو پھر تم نے کیا کیا؟ میں نے بتایا کہ میں نے دم کر لیا تھا۔ انہوں نے پھر دریافت کیا: تم نے ایسا کیوں کیا ؟ میں نے کہا کہ ہمیں شعبی نے ایک حدیث بیان کی ہے، اس کی بنا پر میں نے دم کر لیا۔ انہوں نے پھر پوچھا:شعبی نے تمہیں کون سی حدیث سنائی ہے ؟ میں نے جواب دیا کہ انہوں نے بریدہ حصیب رضی اللہ عنہ سے مروی ایک حدیث بیان کی ہے :
    (لَا رُقْيَۃ إِلا مِنْ عَيْنٍ أَوْ حُمَۃ) (مسند احمد:1 / 271)
    ’’نظر بد اور کسی زہریلی چیز کے ڈسنے کے سوا کسی اور صورت میں دم (جائز)نہیں۔‘‘
    یہ سن کر سعید بن جبیر رحمہ اللہ علیہ نے فرمایا: جس نے جو سنا اور پھر اس پر عمل کیا، اس نے بہت ہی اچھا کیا البتہ ہمیں ابن عباس رضی اللہ عنہ نے نبی کریم ﷺ کی یہ حدیث سنائی ہے، آپ نے فرمایا:
    (عُرِضَتْ عَلَيَّ الْأُمَمُ، فَرَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَعَهُ الرُّهَيْطُ، وَالنَّبِيَّ وَمَعَهُ الرَّجُلُ وَالرَّجُلَانِ، وَالنَّبِيَّ لَيْسَ مَعَهُ أَحَدٌ، إِذْ رُفِعَ لِي سَوَادٌ عَظِيمٌ، فَظَنَنْتُ أَنَّهُمْ أُمَّتِي، فَقِيلَ لِي: هَذَا مُوسَى وَقَوْمُهُ، فَإِذَا سَوَادٌ عَظِيمٌ، فَقِيلَ لِي: هَذِهِ أُمَّتُكَ وَمَعَهُمْ سَبْعُونَ أَلْفًا يَدْخُلُونَ الْجَنَّۃ بِغَيْرِ حِسَابٍ وَلَا عَذَابٍ ثُمَّ نَهَضَ فَدَخَلَ مَنْزِلَهُ فَخَاضَ النَّاسُ فِي أُولَئِكَ فَقَالَ بَعْضُهُمْ: فَلَعَلَّهُمُ الَّذِينَ صَحِبُوا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَالَ بَعْضُهُمْ: فَلَعَلَّهُمُ الَّذِينَ وُلِدُوا فِي الْإِسْلَامِ فَلَمْ يُشْرِكُوا بِاللهِ شَيْئًا، وَذَكَرُوا أَشْيَاءَ فَخَرَجَ عَلَيْهِمْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَخْبَرُوهُ، فَقَالَ: هُمُ الَّذِينَ لَا يَسْتَرْقُونَ، وَلَا يَكْتَوُونَ وَلَا يَتَطَيَّرُونَ، وَعَلَى رَبِّهِمْ يَتَوَكَّلُونَ، فَقَامَ عُكَّاشَۃ بْنُ مِحْصَنٍ، فَقَالَ: ” ادْعُ اللهَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ، قَالَ: أَنْتَ مِنْهُمْ؟ ثُمَّ قَامَ رَجُلٌ آخَرُ، فَقَالَ: ادْعُ اللهَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ، فَقَالَ:سَبَقَكَ بِهَا عُكَّاشَۃ) (صحیح البخاری، الطب، باب من اکتوی او کوی غیره وفضل من لم یکتو، ح :5705 و صحیح مسلم، الایمان، باب الدلیل علی دخول طوائف من المسلمین الجنۃ، ح : 220، و اللفظ له)
    ’’میرے سامنے بہت سی امتیں پیش کی گئیں۔ میں نے دیکھا کہ کسی نبی کے ساتھ تو بہت بڑی جماعت ہے اور کسی کے ساتھ ایک دو آدمی ہیں۔ اور میں نے ایک نبی ایسا بھی دیکھا جس کے ساتھ ایک بھی امتی نہ تھا، اسی اثنا ء میں میرے سامنے ایک بہت بڑی جماعت نمودار ہوئی۔ میں نے سمجھا کہ یہ میری امت ہے۔ لیکن مجھے بتایا گیا کہ یہ موسی علیہ السلام اور ان کی امت ہے۔ پھر میں نے ایک اور بہت بڑی جماعت دیکھی۔ مجھے بتایا گیا کہ یہ آپ کی امت ہے۔ ان میں سے ستر ہزار آدمی بغیر حساب اور عذاب کے جنت میں جائیں گے۔ اتنا فرمانے کے بعد نبی کریم ﷺ اٹھ کر گھر تشریف لے گئے اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ان خوش نصیب ستر ہزار افراد کے بارے میں قیاس آرائیاں کرنے لگے۔ بعض نے کہا شاید یہ وہ لوگ ہوں جو عہد اسلام میں پیدا ہوئے اور انہوں نے اللہ تعالی کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرایا۔ اس کے علاوہ بھی انہوں نے کچھ باتیں کیں۔ اتنے میں رسول اکرم ﷺ تشریف لے آئے تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے آپ کو اپنی گفتگو اور آراء سے آگاہ کیا تو آپ نے فرمایا: ’’یہ وہ لوگ ہیں جو دم کراتے ہیں نہ علاج کی غرض سے اپنے جسم کو داغتے ہیں اور نہ فال نکالتے ہیں بلکہ وہ صرف اپنے پروردگار ہی پر توکل کرتے ہیں۔‘‘ یہ سن کر عکاشہ بن محصن رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور عرض کی اے اللہ کے رسول (ﷺ)!دعا فرمائیں کہ اللہ تعالی مجھے ان لوگوں میں سے بنائے۔ آپ نے فرمایا ’’تو ان میں سے ہے۔‘‘ اس کے بعد ایک اور شخص کھڑا ہوا۔ اس نے بھی درخواست کی : اے اللہ کے رسول (ﷺ)! میرے لیے بھی دعا فرمائیں کہ اللہ تعالی مجھے بھی ان میں سے بنائے۔ آپ نے فرمایا ’’اس دعا میں عکاشہ تم پر سبقت لے گیا۔‘‘ (4)
    مسائل:


    1) توحید کے بارے میں لوگوں کے درجات و مراتب مختلف ہیں۔
    2) توحید کے تقاضے پورے کرنے کا مفہوم بھی واضح ہوا۔
    3) اللہ تعالی نے سیدنا ابراہیم علیہ السلام کی مدح میں فرمایا: ’’وہ مشرکین میں سے نہ تھے۔‘‘
    4) اللہ تعالی نے اس بات پر اولیاء کرام کی بھی مدح فرمائی ہے کہ وہ شرک سے بے زار ہوتے ہیں۔
    5) دم اور جسم داغنے کے طریق علاج کو ترک کرنا، توحید کے تقاضوں کو پورا کرنا ہے۔
    6) ان اوصاف کا احاطہ کرنا ہی در حقیقت توکل ہے۔
    7) صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے علم کی گہرائی اور ان کی حقیقت پسندی کا بھی پتہ چلتا ہے۔ وہ یہ سمجھتے تھے کہ بلا حساب جنت میں جانے والوں کو یہ بلند مقام اور مرتبہ محض عمل کی بدولت حاصل ہو گا۔
    8) یہ بھی واضح ہوا کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم خیر اور نیکی کے کاموں پر کس قدر حریص تھے۔
    9) امت محمدیہ درجات کی بلندی اور کثرت تعداد کے لحاظ سے تمام امتوں سے افضل اور برتر ہے۔
    10) موسی علیہ السلام اور ان کی امت کی فضیلت بھی عیاں ہو رہی ہے۔
    11) نبی کریم ﷺ کے سامنے تمام امتیں پیش کی گئیں۔
    12) ہر امت کو اپنے نبی کے ساتھ الگ اٹھایا جائے گا۔
    13) انبیاء کی دعوت کو بالعموم بہت تھوڑے لوگوں نے قبول کیا۔
    14) جس نبی پر ایک بھی شخص ایمان نہ لایا وہ قیامت کے دن اکیلا ہی آئے گا۔
    15) کثرت تعداد پر مغرور اور قلت تعداد پر پریشان نہیں ہونا چاہیے کیونکہ قلت یا کثرت معیار حق نہیں۔
    16) نظر بد اور زہریلی چیز کے ڈسنے سے دم کرنا جائز ہے۔
    17) سعید بن جبیر رحمۃ اللہ علیہ کے قول (قَدْ أَحْسَنَ مَنِ انْتَهَى إِلَى مَا سَمِعَ) (جس نے اپنی شنید کے مطابق عمل کیا اس نے اچھا کیا) سے سلف صالحین کے علم کی گہرائی کا پتہ چلتا ہے۔ نیز یہ بھی معلوم ہوا کہ پہلی حدیث دوسری حدیث کے خلاف نہیں۔
    18) سلف صالحین، بے جا تعریف و ستائش سے پرہیز کیا کرتے تھے۔
    19) رسول اللہ ﷺ نے عکاشہ رضی اللہ عنہ سے فرمایا ’’أَنْتَ مِنْهُمْ‘‘ کہ تو ان میں سے ہے۔‘‘ آپ کا یہ قول آپ کے صدق اور نبوت کے دلائل میں سے ایک دلیل ہے۔
    20) عکاشہ رضی اللہ عنہ کی فضیلت بھی ثابت ہوتی ہے۔
    21) بوقت ضرورت تصریح کی بجائے اشارہ و کنایہ میں گفتگو کرنا جائز ہے۔ آپ نے عکاشہ کے بعد دوسرے آدمی سے صاف نہیں فرمایا کہ تو ان میں سے نہیں بلکہ یہ فرمایا کہ ’’تم پر عکاشہ سبقت لے گیا۔‘‘
    22) عکاشہ رضی کے بعد دعا کی درخواست کرنے والے دوسرے آدمی کو بڑے احسن انداز کے ساتھ بٹھا دینے اور خاموش کرا دینے سے یہ بھی معلوم ہوا کہ رسول اللہ ﷺ انتہائی اعلی اور احسن اخلاق کے مالک تھے۔
    نوٹ:


    (1) گزشتہ باب میں توحید کی فضیلت بیان ہوئی تھی۔ یہ باب اس سے بھی رفیع اور بلند تر ہے کیونکہ توحید کی فضیلت میں تو تمام اہل توحید مشترک ہیں۔ لیکن اس امت میں برگزیدہ لوگ وہی ہیں جنہوں نے توحید کے تقاضوں کو پورا کرنا ہی اس باب کا مقصود ہے۔
    (2) اس آیت سے ثابت ہو رہا ہے کہ سیدنا ابراہیم علیہ السلام توحید کے تقاضوں کو پورا کرنے والے تھے۔
    وجہ استدلال : اس آیت سے یہ ہے کہ اللہ تعالی نے سیدنا ابراہیم علیہ السلام کی متعدد صفات بیان کی ہیں۔
    (الف) یہ کہ اللہ تعالی نے انہیں ’’امت‘‘ قرار دیا ہے۔ جب کسی اکیلے فرد کو ’’امت‘‘ کہا جائے تو اس سے ایسا امام اور قائد مراد ہوتا ہے جو تمام انسانی اوصاف و کمالات اور جملہ اوصاف حسنہ کا حامل ہو۔ اس کا مطلب ہے کہ کوئی ایسا اچھا و صف نہیں جو ابراہیم علیہ السلام میں نہ تھا۔ توحید کے تقاضوں کو پورا کرنے کا بھی یہی مفہوم ہے۔
    (ب) اس آیت میں اللہ تعالی نے ابراہیم علیہ السلام کو ’’قَانِتًا لله‘‘ یعنی اپنا تابع فرماں قرار دیا ہے۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ وہ اللہ تعالی کے دائمی عبادت گزار اور عقیدۂ توحید کے ایک تقاضے پر پوری طرح کار بند تھے۔
    (ج) نیز اللہ تعال نے ابراہیم علیہ السلام کا ایک وصف ’’حنيف‘‘ بھی بیان کیا ہے۔ یعنی وہ مشرکین کے غلط عقائد و نظریات اور ان کے طور اطوار سے مکمل طور پر گریزاں اور اللہ تعالی کی طرف یک سو تھے کیونکہ مشرکین کے نظریات، شرک و بدعت اور معصیت سے لبریز تھے اور ان میں اللہ تعالی کی طرف انابت، توجہ اور استغفار نام کو بھی نہ تھے۔
    (د) نیز اللہ تعالی نے فرمایا کہ ابراہیم علیہ السلام مشرکین میں سے نہ تھے یعنی وہ کسی بھی قسم کا شرک نہیں کرتے تھے بلکہ وہ اس سے دور رہتے تھے اور ان کا مشرکین سے کوئی تعلق نہ تھا۔ مصنف (الشیخ محمد بن عبد الوہاب)کے ذہن میں مذکورہ تمام معانی موجود تھے، اس لیے انہوں نے پیش نظر باب میں آیت کا ذکر کیا ہے۔
    (3) اس آیت میں بھی شرک کی نفی اور انکار ہے کیونکہ قاعدہ ہے کہ جب فعل مضارع پر حرف نفی آئے تو اس سے اس فعل کے مصدر کی عمومی نفی مراد ہوتی ہے۔ گویا اللہ تعالی نے فرمایا یہ وہ لوگ ہیں جو اپنے رب کے ساتھ شرک اکبر کرتے ہیں نہ شرک اصغر اور نہ شرک خفی۔ یعنی یہ اللہ تعالی کے ساتھ کسی قسم کا شرک نہیں کرتے۔ جو شخص شرک نہ کرے وہ موحد ہوتا ہے۔ اہل علم فرماتے ہیں اس آیت میں ’’بِرَبِهِّمْ‘‘ کی تقدیم اس لیے ہے کہ ربوبیت عبودیت کو مستلزم اور انہی لوگوں کی صفت ہے جنہوں نے توحید کے تمام تقاضوں کو پورا کیا۔ شرک نہ کرنے کا ایک مفہوم یہ بھی ہے کہ انسان اپنی خواہشات کو بھی اللہ کا شریک نہ بنائے کیونکہ جو شخص خواہشات نفس کو اللہ تعالی کا شریک بنا لیتا ہے وہ بدعات پر عمل کرنے لگتا ہے، یا کم از کم معصیت کا مرتکب ضرور ہوتا ہے۔ لہذا شرک کی نفی سے شرک کی تمام اقسام نیز بدعت اور معصیت کی بھی نفی ہو جاتی ہے۔ اللہ تعالی کی توحید کے تقاضے پورے کرنے کا یہی مفہوم ہے۔
    (4) پیش نظر حدیث کا یہ مفہوم قطعاً نہیں کہ موحدین اسباب سے انکاری ہیں یا وہ اسباب کو بالکل اختیار نہیں کرتے۔ جیسا کہ بعض لوگوں کو غلط فہمی ہوئی اور انہوں نے اس حدیث سے یہ مفہوم اخذ کیا کہ توحید کا اعلی درجہ یہ ہے کہ انسان کوئی ذریعہ یا سبب اختیار ہی نہ کرے اور بیمار ہونے کی صورت میں کوئی دوا بھی استعمال نہ کرے۔ یہ مفہوم سراسر غلط ہے کیونکہ رسول اکرم ﷺ کو بھی دم کیا گیا، اور آپ خود بھی دم کیا کرتے تھے، آپ نے خود بھی علاج معالجہ کیا اور امت کو علاج معالجہ اور دوا استعمال کرنے کی اجازت دی۔ نیز آپ نے ایک صحابی کو زخم داغنے کا بھی حکم دیا تھا۔لہذا اس حدیث کا یہ مفہوم قطعاً نہیں کہ بغیر حساب جنت میں جانے والے لوگ اسباب اختیار نہیں کرتے یا وہ علاج معالجہ نہیں کرتے۔ بلکہ اس حدیث میں ان تین امور (دم کرانے، داغنے اور فال نکالنے) کا خصوصیت سے اس لیے ذکر کیا گیا ہے کہ عام طور پر انسان کا دل دم کرنے والے یا داغنے والے کی طرف یا فال نکالنے کی طرف متوجہ رہتا ہے جس سے اللہ تعالی پر توکل میں کمی آ جاتی ہے۔ واضح رہے کہ علاج معالجہ کرنا مشروع ہے۔اس کی مختلف صورتیں ہوسکتی ہیں ، یہ کبھی تو واجب ہوتا ہے اور کبھی محض مستحب اور بسا اوقات علاج معالجہ کرنا مباح ہی ہوتا ہے۔ نبی ﷺ کا ارشاد گرامی ہے :
    (تَدَاوَوْا عِبَادَ اللهِ وَلاَ تَتَدَاوَوْا بِحَرَامٍ)
    ’’اللہ کے بندو!علاج معالجہ کیا کرو البتہ حرام اشیاء کو بطور دوا ستعمال نہ کرو۔‘‘
     
  5. ‏فروری 17، 2019 #5
    MindRoasterMir

    MindRoasterMir رکن
    شمولیت:
    ‏جون 29، 2017
    پیغامات:
    125
    موصول شکریہ جات:
    4
    تمغے کے پوائنٹ:
    37

    محترم کیا یہ کتاب کہیں ایک فائل میں موجود ہے ؟ اگر ہے تو ربط فراہم کر دیں والسلام
     
  6. ‏فروری 18، 2019 #6
    عبدالرحیم رحمانی

    عبدالرحیم رحمانی سینئر رکن
    جگہ:
    کرلا، ممبئی
    شمولیت:
    ‏جنوری 22، 2012
    پیغامات:
    1,082
    موصول شکریہ جات:
    1,046
    تمغے کے پوائنٹ:
    234

    • شکریہ شکریہ x 1
    • معلوماتی معلوماتی x 1
    • لسٹ
  7. ‏فروری 21، 2019 #7
    MindRoasterMir

    MindRoasterMir رکن
    شمولیت:
    ‏جون 29، 2017
    پیغامات:
    125
    موصول شکریہ جات:
    4
    تمغے کے پوائنٹ:
    37

اس صفحے کو مشتہر کریں