1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

الرحیق المختوم غزوہ ٔ فتح مکہ

'سیرت النبی ﷺ' میں موضوعات آغاز کردہ از محمد نعیم یونس, ‏اگست 17، 2013۔

  1. ‏اگست 17، 2013 #1
    محمد نعیم یونس

    محمد نعیم یونس خاص رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 27، 2013
    پیغامات:
    26,400
    موصول شکریہ جات:
    6,600
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,207

    غزوہ ٔ فتح مکہ

    امام ابن ِ قیم لکھتے ہیں کہ یہ وہ فتح اعظم ہے جس کے ذریعہ اللہ نے اپنے دین کو ، اپنے رسول کو ، اپنے لشکر کو اور اپنے امانت دار گروہ کو عزت بخشی اور اپنے شہر کو اور اپنے گھر کو ، دنیا والوں کے لیے ذریعۂ ہدایت بنایا ہے۔ کفار ومشرکین کے ہاتھوں سے چھٹکارا دلایا۔ اس فتح سے آسمان والوں میں خوشی کی لہردوڑ گئی، اس کی عزت کی طنابیں جوزاء کے شانوں پر تن گئیں۔ اور اس کی وجہ سے لوگ اللہ کے دین میں فوج در فوج داخل ہوئے اور روئے زمین کا چہرہ روشنی اور چمک دمک سے جگمگا اٹھا۔1
    اس غزوے کا سبب:
    صلح حدیبیہ کے ذکر میں ہم یہ بات بتاچکے ہیں کہ اس معاہدے کی ایک دفعہ یہ تھی کہ جوکوئی محمدﷺ کے عہدوپیمان میں داخل ہونا چاہے داخل ہوسکتا ہے اور جو کوئی قریش کے عہدوپیمان میں داخل ہونا چاہے داخل ہوسکتا ہے اور جو قبیلہ جس فریق کے ساتھ شامل ہوگا اس فریق کا ایک حصہ سمجھاجائے گا۔ لہٰذا ایسا کوئی قبیلہ اگر کسی حملے یا زیادتی کا شکار ہوگا تو یہ خود ااس فریق پر حملہ اور زیادتی تصور کی جائے گی۔
    اس دفعہ کے تحت بنو خُزاعہ رسول اللہﷺ کے عہد وپیما ن میں داخل ہوگئے اور بنو بکر قریش کے عہد وپیمان میں۔ اس طرح دونوں قبیلے ایک دوسرے سے مامون اور بے خطر ہوگئے۔ لیکن چونکہ ان دونوں قبیلوں میں دورِ جاہلیت سے عداوت اور کشاکش چلی آرہی تھی ، اس لیے جب اسلام کی آمد آمد ہوئی ، اور صلح حدیبیہ ہوگئی ، اور دونوں فریق ایک دوسرے سے مطمئن ہوگئے تو بنو بکر نے اس موقع کو غنیمت سمجھ کر چاہا کہ بنو خزاعہ سے پرانا بدلہ چکا لیں۔ چنانچہ نوفل بن معاویہ دیلی نے بنو بکر کی ایک جماعت ساتھ لے کر شعبان ۸ ھ میں بنو خزاعہ پر رات کی تاریکی میں حملہ کردیا۔ اس وقت بنو خزاعہ وتیر نامی ایک چشمے پر خیمہ زن تھے۔ ان کے متعدد افراد مارے گئے۔ کچھ جھڑپ اور لڑائی بھی ہوئی۔ ادھر قریش نے اس حملے میں ہتھیاروں سے بنو بکر کی مدد کی۔ بلکہ ان کے کچھ آدمی بھی رات کی تاریکی کا فائدہ اٹھا کر لڑائی میں شریک ہوئے۔ بہرحال حملہ آوروں نے بنوخزاعہ کو کھدیڑ کر حرم تک پہنچادیا۔ حرم پہنچ کر بنو بکر نے کہا : اے نوفل ، اب تو ہم حرم میں داخل ہوگئے۔ تمہارا الٰہ ! ... تمہارا الٰہ ! ... اس کے جواب میں نوفل نے ایک بڑی بات کہی ، بولا: بنو بکر !آج کوئی الٰہ نہیں۔ اپنا بدلہ چکا لو۔ میری عمر کی قسم ! تم لوگ حرم میں چوری کرتے ہو تو کیا حرم میں اپنا بدلہ نہیں لے سکتے۔
    ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
    1 زاد المعاد ۲/۱۶۰
     
    • پسند پسند x 1
    • زبردست زبردست x 1
    • لسٹ
  2. ‏اگست 17، 2013 #2
    محمد نعیم یونس

    محمد نعیم یونس خاص رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 27، 2013
    پیغامات:
    26,400
    موصول شکریہ جات:
    6,600
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,207

    ادھر بنو خزاعہ نے مکہ پہنچ کر بُدَیْل بن وَرْقَاء خُزاعی اور اپنے ایک آزاد کردہ غلام رافع کے گھروں میں پناہ لی اور عَمرو بن سالم خزاعی نے وہاں سے نکل کر فوراً مدینہ کا رُخ کیا اور رسول اللہﷺ کی خدمت میں پہنچ کر سامنے کھڑا ہوگیا۔ اس وقت آپ مسجد نبوی میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے درمیان تشریف فرماتھے۔ عمرو بن سالم نے کہا :

    یـارب إنـي نـاشـد محمـــدا حلفـنا وحلف أبـیـہ ألا تـلـدا​
    قـد کـنـتم ولــداً وکنا والــدا ثمۃ أسـلمنــا ولـم ننزع یـــدا​
    فـانصر ہداک اللہ نـصـراً أیدا وادع عبــاد اللہ یأتوا مــــددا​
    فـیـہم رسول اللہ قد تجــردا أبیض مثل البدر یسمو صعـدا​
    إن سیـم خـسـفا وجہہ تربـدا في فیلـق کالبحر یجری مزبدا​
    إن قریشاً أخلفـوک الموعــدا ونقضــوا میثـاقک المؤکـــدا​
    وجعلوا لی فـی کـداء رصـدا وزعـموا أن لست أدعوا أحدا​
    وہــــــم أذل وأقـل عـــددا ہــم بیتونــا بالوتیر ہجـــدا​
    وقـتـلـونـــا رکعــــاً وسجـــــــدا​

    ''اے پروردگار ! میں محمدﷺ سے ان کے عہد اور ان کے والد کے قدیم عہد1کی دہائی دے رہا ہوں۔ آپ لوگ اولاد تھے اورہم جننے والے۔2پھر ہم نے تابعداری اختیار کی اور کبھی دست کش نہ ہوئے۔ اللہ آپ کو ہدایت دے۔ آپ پُر زور مدد کیجیے اور اللہ کے بندوں کو پکاریے ، وہ مدد کو آئیں گے۔ جن میں اللہ کے رسول ہوں گے ہتھیار پوش ، اور چڑھے ہوئے چودھویں کے چاند کی طرح گورے اور خوبصورت۔ اگر ان پر ظلم اور ان کی توہین کی جائے تو چہرہ تمتما اٹھتا ہے۔ آپ ایک ایسے لشکر ِ جرار کے اندر تشریف لائیں گے جو جھاگ بھرے سمندر کی طرح تلاطم خیز ہوگا۔ یقینا قریش نے آپ کے عہد کی خلاف ورزی کی ہے اور آپ کا پُختہ پیمان توڑدیا ہے۔ انہوں نے میرے لیے کداء میں گھات لگائی اور یہ سمجھا کہ میں کسی کو (مدد کے لیے ) نہ پکاروں گا۔ حالانکہ وہ بڑے ذلیل اور تعداد میں قلیل ہیں۔ انہوں نے وتیر پر رات میں حملہ کیا اور ہمیں رکوع وسجود کی حالت میں قتل کیا۔''(یعنی ہم مسلمان تھے اور ہمیں قتل کیا گیا۔ ) ''
    ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
    1 اشارہ اس عہد کی طرف ہے جو بنو خزاعہ اور بنو ہاشم کے درمیان عبدالمطلب کے زمانے سے چلا آرہا تھا۔ اس کا ذکر ابتدا کتاب میں کیا جاچکا ہے ۔
    2 اشارہ اس بات کی طرف ہے کہ عبد مناف کی ماں، یعنی قصی کی بیوی حبی بنو خزاعہ سے تھیں۔ اس لیے پورا خاندانِ نبوت بنو خزاعہ کی اولاد ٹھہرا۔
     
  3. ‏اگست 17، 2013 #3
    محمد نعیم یونس

    محمد نعیم یونس خاص رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 27، 2013
    پیغامات:
    26,400
    موصول شکریہ جات:
    6,600
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,207

    رسول اللہﷺ نے فرمایا : اے عَمرو بن سالم ! تیری مدد کی گئی۔ اس کے بعد آسمان میں بادل کا ایک ٹکڑا دکھائی پڑا۔ آپ نے فرمایا: یہ بادل بنو کعب کی مدد کی بشارت سے دمک رہا ہے۔
    اس کے بعد بُدَیْل بن ورقاء خُزاعی کی سرکردگی میں بنو خزاعہ کی ایک جماعت مدینہ آئی اور رسول اللہﷺ کو بتلایا کہ کون سے لوگ مارے گئے اور کس طرح قریش نے بنو بکر کی پشتیبانی کی۔ اس کے بعد یہ لوگ مکہ واپس چلے گئے۔
    تجدید ِ صلح حدیبیہ کے لیے ابو سفیان مدینہ میں:
    اس میں شبہ نہیں کہ قریش اور ان کے حلیفوں نے جو کچھ کیا تھا وہ کھلی ہوئی بدعہدی اور صریح پیمان شکنی تھی۔ جس کی کوئی وجہ جواز نہ تھی، اسی لیے خودقریش کو بھی اپنی بدعہدی کا بہت جلداحساس ہوگیا اور انہو ں نے اس کے انجام کی سنگینی کو مد نظر رکھتے ہوئے ایک مجلس مشاورت منعقد کی۔ جس میں طے کیا کہ وہ اپنے سپہ سالار ابو سفیان کو اپنا نمائندہ بناکر تجدیدِ صلح کے لیے مدینہ روانہ کریں۔
    ادھر رسول اللہﷺ نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو بتایا کہ قریش اپنی اس عہد شکنی کے بعد اب کیا کرنے والے ہیں۔ چنانچہ آپ نے فرمایا کہ ''گویا میں ابو سفیان کو دیکھ رہا ہوں کہ وہ عہد کو پھر سے پختہ کرنے اور مدتِ صلح کو بڑھانے کے لیے آگیا ہے ''
    ادھر ابو سفیان طے شدہ قرارداد کے مطابق روانہ ہوکر عُسفان پہنچا تو بُدَیل بن ورقاء سے ملاقات ہوئی۔ بُدیل مدینہ سے واپس آرہا تھا۔ ابو سفیان سمجھ گیا کہ یہ نبیﷺ کے پاس سے ہوکر آرہا ہے۔ پوچھا : بُدیل ! کہا ں سے آرہے ہو ؟ بُدیل نے کہا : میں خزاعہ کے ہمراہ اس ساحل اور وادی میں گیا ہوا تھا۔ پوچھا : کیا تم محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس نہیں گئے تھے ؟بُدیل نے کہا : نہیں۔
    مگر جب بدیل مکہ کی جانب روانہ ہوگیا تو ابو سفیان نے کہا : اگر وہ مدینہ گیا تھا تو وہاں (اپنے اونٹ کو ) گٹھلی کا چارہ کھلایا ہوگا۔ اس لیے ابو سفیان اس جگہ گیا جہاں بُدیل نے اپنے اونٹ بٹھایا تھا اور اس کی مینگنی لے کر توڑی تو اس میں کھجور کی گٹھلی نظر آئی۔ ابو سفیان نے کہا : میں اللہ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ بُدیل ، محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گیا تھا۔
    بہرحال ابو سفیان مدینہ پہنچا اور اپنی صاحبزادی ام المومنین حضرت ام حبیبہ ؓ کے گھرگیا۔ جب رسول اللہﷺ کے بستر پر بیٹھنا چاہا تو انہوں نے بستر لپیٹ دیا۔ ابو سفیان نے کہا : بیٹی ! کیا تم نے اس بستر کو میرے لائق نہیں سمجھا یا مجھے اس بستر کے لائق نہیں سمجھا ؟ انہوں نے کہا : یہ رسول اللہﷺ کا بستر ہے اور آپ ناپاک مشرک آدمی ہیں۔ ابو سفیان کہنے لگا : اللہ کی قسم ! میرے بعد تمہیں شر پہنچ گیا ہے۔
    پھر ابو سفیان وہاں سے نکل کر رسول اللہﷺ کے پاس گیا اور آپ سے گفتگو کی۔ آپ نے اسے کوئی جواب نہ دیا۔ اس کے بعد ابو بکرؓ کے پاس گیا اور ان سے کہا کہ وہ رسول اللہﷺ سے گفتگو کریں۔ انہوں نے کہا : میں ایسا نہیں کرسکتا۔ اس کے بعد وہ عمر بن خطابؓ کے پاس گیا اور ان سے بات کی۔ انہوں نے کہا : بھلا میں تم لوگوں کے لیے رسول اللہﷺ سے سفارش کروں گا۔ اللہ کی قسم! اگر مجھے لکڑی کے ٹکڑے کے سوا کچھ دستیاب نہ ہوتو میں اسی کے ذریعے تم لوگوں سے جہاد کروں گا۔ اس کے بعد وہ حضرت علی بن ابی طالبؓ کے پاس پہنچا۔ وہاں حضرت فاطمہ ؓ بھی تھیں۔ اور حضرت حسنؓ بھی تھے، جو ابھی چھوٹے سے بچے تھے اور سامنے پھدک پھدک کر چل رہے تھے۔ ابوسفیان نے کہا : اے علی ! میرے ساتھ تمہارا سب سے گہرانسبی تعلق ہے۔ میں ایک ضرورت سے آیا ہوں۔ ایسا نہ ہوکہ جس طرح میں نامراد آیا اسی طرح نامراد واپس جاؤں۔ تم میرے لیے محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے سفارش کردو۔ حضرت علیؓ نے کہا : ابو سفیان ! تجھ پر افسوس ، رسول اللہﷺ نے ایک بات کا عزم کرلیا ہے۔ ہم اس بارے میں آپ سے کوئی بات نہیں کرسکتے۔ اس کے بعد وہ حضرت فاطمہؓ کی طرف متوجہ ہوا ، اور بولا: کیا آپ ایسا کرسکتی ہیں کہ اپنے اس بیٹے کو حکم دیں کہ وہ لوگوں کے درمیان پناہ دینے کا اعلان کرکے ہمیشہ کے لیے عرب کا سردار ہوجائے ؟ حضرت فاطمہ ؓ نے کہا : واللہ ! میرا یہ بیٹا ا س درجہ کو نہیں پہنچاہے کہ لوگوں کے درمیان پناہ دینے کا اعلان کرسکے۔ اور رسول اللہﷺ کے ہوتے ہوئے کوئی پناہ دے بھی نہیں سکتا۔
    ان کوششوں اور ناکامیوں کے بعد ابو سفیان کی آنکھوں کے سامنے دنیا تاریک ہوگئی۔ اس نے حضرت علی بن ابی طالبؓ سے سخت گھبراہٹ ، کش مکش اور مایوسی وناامیدی کی حالت میں کہا کہ ابو الحسن ! میں دیکھتا ہوں کہ معاملات سنگین ہوگئے ہیں ، لہٰذامجھے کوئی راستہ بتاؤ ، حضرت علیؓ نے کہا : اللہ کی قسم ! میں تمہارے لیے کوئی کار آمد چیز نہیں جانتا۔ البتہ تم بنوکنانہ کے سردار ہو ، لہٰذا کھڑے ہوکر لوگوں کے درمیان امان کا اعلان کردو۔ اس کے بعد اپنی سرزمین میں واپس چلے جاؤ۔ ابو سفیان نے کہا : کیا تمہارا خیال ہے کہ یہ میرے لیے کچھ کار آمد ہوگا۔ حضرت علیؓ نے کہا : نہیں اللہ کی قسم! میں اسے کار آمد تو نہیں سمجھتا ، لیکن اس کے علاوہ کوئی صورت بھی سمجھ میں نہیںآتی۔ اس کے بعد ابو سفیان نے مسجد میں کھڑے ہوکر اعلان کیا کہ لوگو! میں لوگوں کے درمیان امان کا اعلان کررہا ہوں، پھراپنے اونٹ پر سوار ہو کر مکہ چلا گیا۔
    قریش کے پاس پہنچاتو وہ پوچھنے لگے پیچھے کا کیا حال ہے ؟ ابو سفیان نے کہا: میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گیا۔ بات کی تو واللہ! انہوں نے کوئی جواب نہیں دیا۔ پھر ابو قحافہ کے بیٹے کے پاس گیا تواس کے اندر کوئی بھلائی نہیں پائی۔ اس کے بعد عمر بن خطابؓ کے پاس گیا تو اسے سب سے کٹر دشمن پایا۔ پھر علیؓ کے پاس گیا تو اسے سب سے نرم پایا۔ اس نے مجھے ایک رائے دی اور میں نے اس پر عمل بھی کیا۔ لیکن پتہ نہیں وہ کارآمد بھی ہے یا نہیں ؟ لوگوں نے پوچھا : وہ کیا رائے تھی؟ ابو سفیان نے کہا: وہ رائے یہ تھی کہ میں لوگوں کے درمیان امان کا اعلان کردوں۔ اور میں نے ایسا ہی کیا۔
    قریش نے کہا : تو کیا محمد نے اسے نافذ قرار دیا۔ ابو سفیان نے کہا : نہیں۔ لوگوں نے کہا : تیری تباہی ہو۔ اس شخص (علی) نے تیرے ساتھ محض کھلواڑ کیا۔ ابو سفیان نے کہا : اللہ کی قسم! اس کے علاوہ کوئی صورت نہ بن سکی۔
     
  4. ‏اگست 17، 2013 #4
    محمد نعیم یونس

    محمد نعیم یونس خاص رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 27، 2013
    پیغامات:
    26,400
    موصول شکریہ جات:
    6,600
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,207

    غزوے کی تیاری اور اخفاء کی کوشش:
    طبرانی کی روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہﷺ نے عہد شکنی کی خبر آنے سے تین روز پہلے ہی حضرت عائشہ ؓ کو حکم دے دیا تھا کہ آپ کا سازوسامان تیار کر دیں لیکن کسی کو پتہ نہ چلے۔ اس کے بعد حضرت عائشہ ؓ کے پاس حضرت ابو بکرؓ تشریف لائے تو پوچھا : بیٹی ! یہ کیسی تیاری ہے ؟ انہوں نے کہا : واللہ! مجھے نہیں معلوم۔ حضرت ا بو بکرؓ نے کہا : یہ بنو اَصْفر یعنی رومیوں سے جنگ کا وقت نہیں۔ پھر رسول اللہﷺ کا ارادہ کدھر کا ہے ؟ حضرت عائشہؓ نے کہا : واللہ مجھے علم نہیں۔ تیسرے روز علی الصباح عمرو بن سالم خزاعی چالیس سواروں کو لے کر پہنچ گیا اور یا رب إني ناشد محمدا ... الخ والے اشعار کہے تو لوگوں کو معلوم ہوا کہ عہد شکنی کی گئی ہے۔ اس کے بعد بدیل آیا۔ پھر ابو سفیان آیا ، اور لوگوں کو حالات کا ٹھیک ٹھیک علم ہو گیا۔ اس کے بعد رسول اللہﷺ نے تیاری کا حکم دیتے ہوئے بتلایا کہ مکہ چلنا ہے اور ساتھ ہی یہ دعا فرمائی کہ اے اللہ ! جاسوسوں اور خبروں کو قریش تک پہنچنے سے روک اورپکڑ لے تاکہ ہم ان کے علاقے میں ان کے سر پر ایک دم جاپہنچیں۔
    پھر کمال اخفاء اور رازداری کی غرض سے رسول اللہﷺ نے شروع ماہ رمضان ۸ ھ میں حضرت ابو قتادہ بن ربعی کی قیادت میں آٹھ آدمیوں کا ایک سریہ بطن اضم کی طرف روانہ فرمایا۔ یہ مقام ذی خشب اور ذی المروہ کے درمیان مدینہ سے ۳۶ عربی میل کے فاصلے پر واقع ہے۔ مقصد یہ تھا کہ سمجھنے والا سمجھے کہ آپ اسی علاقے کا رخ کریں گے اور یہی خبریں اِدھر اُدھر پھیلیں۔ لیکن یہ سریہ جب اپنے مقررہ مقام پر پہنچ گیا تو اسے معلوم ہوا کہ رسول اللہﷺ مکہ کے لیے روانہ ہوچکے ہیں۔ چنانچہ یہ بھی آپ سے جاملا۔1
    ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
    1 یہی سریہ ہے جس کی ملاقات عامر بن اضبط سے ہوئی تو عامر نے اسلامی دستور کے مطابق سلام کیا۔ لیکن محلم بن جثامہ نے کسی سابقہ رنجش کے سبب اسے قتل کردیا اور اس کے اونٹ اور سامان پر قبضہ کرلیا۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی وَلَا تَقُولُوا لِمَنْ أَلْقَىٰ إِلَيْكُمُ السَّلَامَ لَسْتَ مُؤْمِنًا ...الآیہ یعنی ''جوتم سے سلام کرے اسے یہ نہ کہو کہ تو مومن نہیں۔''اس کے بعد صحابہ کرام محلم کو رسول اللہﷺ کے پاس لے آئے کہ آپ اس کے لیے دعاء مغفرت کردیں۔ لیکن جب محلم آپ کے سامنے حاضر ہوا تو آپ نے تین بار فرمایا : اے اللہ ! محلم کو نہ بخش۔ اس کے بعدمحلم اپنے کپڑے کے دامن سے آنسو پونچھتا ہوااٹھا۔ ابن اسحاق کا بیان ہے کہ اس کی قوم کے لوگ کہتے ہیں کہ بعد میں اس کے لیے رسول اللہﷺ نے مغفرت کی دعا کردی تھی۔ دیکھئے : زاد المعاد ۲/۱۵۰ ، ابن ہشام ۲/۶۲۶،۶۲۷،۶۲۸۔
     
  5. ‏اگست 17، 2013 #5
    محمد نعیم یونس

    محمد نعیم یونس خاص رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 27، 2013
    پیغامات:
    26,400
    موصول شکریہ جات:
    6,600
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,207

    ادھر حاطب ابی بلتعہؓ نے قریش کو ایک رقعہ لکھ کر یہ اطلاع دے بھیجی کہ رسول اللہﷺ حملہ کرنے والے ہیں۔ انہوں نے یہ رقعہ ایک عورت کو دیا تھا۔ اور اسے قریش تک پہنچانے پر معاوضہ رکھا تھا۔ عورت سر کی چوٹی میں رقعہ چھپا کر روانہ ہوئی۔ لیکن رسول اللہﷺ کو آسمان سے حاطب کی اس حرکت کی خبر دے دی گئی۔ چنانچہ آپ نے حضرت علی، حضرت مقداد ، حضرت زبیر اور حضرت ابو مرثد غنوی کو یہ کہہ کر بھیجا کہ جاؤ روضۂ خاخ پہنچو۔ وہاں ایک ہودج نشین عورت ملے گی۔ جس کے پاس قریش کے نام ایک رقعہ ہوگا۔ یہ حضرات گھوڑوں پر سوار تیزی سے روانہ ہوئے۔ وہاں پہنچے تو عورت موجود تھی۔ اس سے کہا کہ وہ نیچے اُترے اور پوچھا کہ کیا تمہارے پاس کوئی خط ہے ؟ اس نے کہا: میرے پاس کوئی خط نہیں۔ انہوں نے اس کے کجاوے کی تلاشی لی لیکن کچھ نہ ملا۔ اس پر حضرت علیؓ نے اس سے کہا : میں اللہ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ نہ رسول اللہﷺ نے جھوٹ کہا ہے نہ ہم جھوٹ کہہ رہے ہیں۔ تم یاتو خط نکالو ، یا ہم تمہیں ننگا کردیں گے۔ جب اس نے یہ پختگی دیکھی تو بولی : اچھا منہ پھیرو۔ انہوں نے منہ پھیر ا تو اس نے چوٹی کھول کر خط نکالا اور ان کے حوالے کردیا۔ یہ لوگ خط لے کر رسول اللہﷺ کے پاس پہنچے۔ دیکھا تو اس میں تحریر تھا : (حاطب بن ابی بلتعہ کی طرف سے قریش کی جانب ) پھر قریش کو رسول اللہﷺ کی روانگی کی خبر دی تھی۔ 1رسول اللہﷺ نے حضرت حاطب کو بلا کر پوچھا کہ حاطب ! یہ کیا ہے ؟ انہوں نے کہا : اے محمدﷺ ! میرے خلاف جلدی نہ فرمائیں۔ اللہ کی قسم ! اللہ اور اس کے رسول پر میرا ایمان ہے۔ میں نہ تو مرتد ہوا ہوں اور نہ مجھ میں تبدیلی آئی ہے۔ بات صرف اتنی ہے کہ میں خود قریش کا آدمی نہیں۔ البتہ ان میں چپکا ہوا تھا اور میرے اہل وعیال اور بال بچے وہیں ہیں۔ لیکن قریش سے میری کوئی قرابت نہیں کہ وہ میرے بال بچوں کی حفاظت کریں۔ اس کے بر خلاف دوسرے لوگ جو آپ کے ساتھ ہیں وہاں ان کے قرابت دار ہیں جو ان کی حفاظت کریں گے۔ اس لیے جب مجھے یہ چیز حاصل نہ تھی تو میں نے چاہا کہ ان پر ایک احسان کردوں جس کے عوض وہ میرے قرابت داروں کی حفاظت کریں۔ اس پر حضرت عمر بن خطابؓ نے کہا : اے اللہ کے رسول ! مجھے چھوڑیے میں اس کی گردن ماردوں۔ کیونکہ اس نے اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ خیانت کی ہے اور یہ منافق ہوگیا ہے۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا : دیکھو! یہ جنگِ بدر میں حاضر ہوچکا ہے۔ اور عمر ! تمہیں کیا پتہ ؟ ہوسکتا ہے اللہ نے اہلِ بدر پر نمودار ہوکر کہا ہو تم لوگ جو چاہو کرو ، میں نے تمہیں بخش دیا۔ یہ سن کر
    ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
    1 سہیلی نے بعض مغازی کے حوالے سے خط کا مضمون یہ بیان کیا ہے : اما بعد ! اے جماعت ِ قریش ! رسول اللہﷺ تمہارے پا س رات جیسا سیل رواں کی طرح بڑھتا ہوا لشکر لے کر آرہے ہیں اور واللہ! اگر وہ تنہا بھی تمہارے پاس آجائیں تو اللہ ان کی مدد کرے گا اور ان سے اپنا وعدہ پورا کرے گا۔ لہٰذا تم لوگ اپنے متعلق سوچ لو۔ والسلام
    واقدی نے اپنی ایک مرسل سند سے روایت کی ہے کہ حضرت حاطب نے سہیل بن عمرو، صفوان بن اُمیہ ، اور عکرمہ کے پاس یہ لکھا تھا کہ ''رسول اللہﷺ نے لوگوں میں غزوے کا اعلان کردیا ہے اور میں نہیں سمجھتا کہ آپ کا ارادہ تم لوگوں کے سوا کسی اور کا ہے اور میں چاہتا ہو ں کہ تم لوگوں پر میرا ایک احسان رہے۔'' (فتح الباری ۷/۵۲۱)
     
  6. ‏اگست 17، 2013 #6
    محمد نعیم یونس

    محمد نعیم یونس خاص رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 27، 2013
    پیغامات:
    26,400
    موصول شکریہ جات:
    6,600
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,207

    حضرت عمرؓ کی آنکھیں اشکبار ہوگئیں اور انہوں نے کہا : اللہ اور اس کے رسول بہتر جانتے ہیں۔1
    اس طرح اللہ نے جاسوسوں کو پکڑ لیا اور مسلمانوں کی جنگی تیاریوں کی کوئی خبرقریش تک نہ پہنچ سکی۔
    اسلامی لشکر مکہ کی راہ میں:
    ۱۰ رمضان المبارک ۸ ھ کو رسول اللہﷺ نے مدینہ چھوڑ کر مکے کا رخ کیا۔ آپ کے ساتھ دس ہزار صحابہ کرام تھے، مدینہ پر ابو رھم غفاریؓ کی تقرری ہوئی۔
    جحفہ میں یااس سے کچھ اوپر آپ کے چچا حضرت عباس بن عبد المطلب ملے۔ وہ مسلمان ہوکر اپنے بال بچوں سمیت ہجرت کرتے ہوئے تشریف لارہے تھے۔ پھر اَبوَاء میں آپﷺ کے چچیرے بھائی ابو سفیان بن حارث اور پھوپھی زاد بھائی عبداللہ بن اُمیہ ملے۔ آپ نے ان دونوں کو دیکھ کر منہ پھیر لیا۔ کیونکہ یہ دونوں آپ کو سخت اذیت پہنچایا کرتے اور آپ کی ہجو کیا کرتے تھے۔ یہ صورت دیکھ کر حضرت ام سلمہ ؓ نے عرض کی کہ ایسا نہیں ہونا چاہیے کہ آپ کے چچیرے بھائی اور پھوپھی زاد بھائی ہی آپ کے یہاں سب سے بدبخت ہوں۔ ادھر حضرت علیؓ نے ابو سفیان بن حارث کو سکھا یا کہ تم رسول اللہﷺ کے سامنے جاؤ ، اور وہی کہو جو حضرت یوسف علیہ السلام کے بھائیوں نے ان سے کہا تھا کہ قَالُوا تَاللَّـهِ لَقَدْ آثَرَ‌كَ اللَّـهُ عَلَيْنَا وَإِن كُنَّا لَخَاطِئِينَ (۱۲:۹۱) ''اللہ کی قسم اللہ نے آپ کو ہم پر فضیلت بخشی اور یقینا ہم خطا کار تھے۔''کیونکہ آپﷺ یہ پسند نہیں کریں گے کہ کسی اور کا جواب آپ سے عمدہ رہا ہو۔ چنانچہ ابو سفیان نے یہی کیا اور جواب میں فور اً رسول اللہﷺ نے فر مایا: قَالَ لَا تَثْرِ‌يبَ عَلَيْكُمُ الْيَوْمَ ۖ يَغْفِرُ‌ اللَّـهُ لَكُمْ ۖ وَهُوَ أَرْ‌حَمُ الرَّ‌احِمِينَ (۱۲:۹۲) ''آج تم پر کوئی سرزنش نہیں۔ اللہ تمہیں بخش دے اور وہ ارحم الراحمین ہے ۔''اس پر ابو سفیان نے آپ کو چند اشعار سنائے۔ جن میں سے بعض یہ تھے :

    لـعـمرک إنـي حـین أحمل رأیۃ لـتـغـلب خیــل اللات خیل محمد​
    لکالمدلج الحیران أظلم لیلــہ فہـذا أوانـي حین أہـدی فأہتـــدی​
    ہدانی ہاد غیر نفسی ودلـــنی علی اللہ من طردتہ کل مطـــــــرد​

    ''تیری عمر کی قسم ! جس وقت میں نے اس لیے جھنڈا اٹھایا تھا کہ لات کے شہسوار محمد کے شہسوار پر غالب آجائیں تو میری کیفیت رات کے اس مسافر کی سی تھی جو تیرہ وتار رات میںحیران وسرگردان ہو ، لیکن اب وقت آگیا ہے کہ مجھے ہدایت دی جائے ، اور میں ہدایت پاؤں۔ مجھے میرے نفس کی بجائے ایک ہادی نے ہدایت دی اور اللہ کا راستہ اسی شخص نے بتایا جسے میں نے ہر موقع پر دھتکاردیا تھا۔ ''
    ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
    1 صحیح بخاری ۱/۴۲۲ ، ۲/۶۱۲ ، حضرت زبیر اور حضرت ابو مرثد کے ناموں کا اضافہ صحیح بخاری کی بعض دوسری روایات میں ہے۔
     
  7. ‏اگست 17، 2013 #7
    محمد نعیم یونس

    محمد نعیم یونس خاص رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 27، 2013
    پیغامات:
    26,400
    موصول شکریہ جات:
    6,600
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,207

    یہ سن کر رسول اللہﷺ نے اس کے سینے پر ضرب لگائی اور فرمایا : تم نے مجھے ہر موقع پر دھتکارا تھا۔1
    مرالظہران میں اسلامی لشکر کا پڑاؤ :
    رسول اللہﷺ نے اپنا سفر جاری رکھا۔ آپ اور صحابہ روزے سے تھے لیکن عسفان اور قُدَید کے درمیان کدید نامی چشمے پر پہنچ کر آپ نے روزہ توڑ دیا۔ 2اور آپ کے ساتھ صحابہ کرام نے بھی روزہ توڑدیا۔ اس کے بعد پھر آپ نے سفر جاری رکھا یہاں تک کہ رات کے ابتدائی اوقات میں مرالظہران -وادی فاطمہ - پہنچ کر نزول فرمایا۔ وہاں آپ کے حکم سے لوگوں نے الگ الگ آگ جلائی۔ اس طرح دس ہزار (چولہوں میں) آگ جلائی گئی۔ رسول اللہﷺ نے حضرت عمر بن خطابؓ کو پہرے پر مقرر فرمایا۔
    ابو سفیان دربارِ نبوت میں:
    مر الظہران میں پڑاؤ ڈالنے کے بعد حضرت عباسؓ رسول اللہﷺ کے سفید خچر پر سوار ہوکر نکلے۔ ان کا مقصد یہ تھا کہ کوئی لکڑہارا یا کوئی بھی آدمی مل جائے تو اس سے قریش کے پاس خبر بھیج دیں تاکہ وہ مکے میں رسول اللہﷺ کے داخل ہونے سے پہلے آپ کے پاس حاضر ہوکر امان طلب کرلیں۔
    ادھر اللہ تعالیٰ نے قریش پر ساری خبروں کی رسائی روک دی تھی۔ اس لیے انہیں حالات کا کچھ علم نہ تھا، البتہ وہ خوف اور اندیشے سے دوچار تھے اور ابو سفیان باہر جاجاکر خبروں کا پتہ لگا تا رہتا تھا۔ چنانچہ اس وقت بھی وہ اور حکیم بن حزام اور بدیل بن ورقاء خبروں کا پتہ لگانے کی غرض سے نکلے ہوئے تھے۔
    حضرت عباسؓ کا بیان ہے کہ واللہ ! میں رسول اللہﷺ کے خچر پر سوار جارہا تھا کہ مجھے ابو سفیان اور بدیل بن ورقاء کی گفتگوسنائی پڑی۔ وہ باہم ردوقدح کررہے تھے۔ ابو سفیان کہہ رہا تھا کہ اللہ کی قسم ! میں نے آج رات جیسی آگ اور ایسا لشکر تو کبھی دیکھا ہی نہیں، اور جواب میں بدیل کہہ رہا تھا : یہ اللہ کی قسم! بنو خزاعہ ہیں۔ جنگ نے انہیں نوچ کر رکھ دیا ہے، اور اس پر ابو سفیان کہہ رہا تھا:خزاعہ اس سے کہیں کمتر اور ذلیل ہیں کہ یہ ان کی آگ اور ان کا لشکر ہو۔
    حضر ت عباس کہتے ہیں کہ میں نے ا س کی آواز پہچان لی اور کہا : ابو حنظلہ ؟ اس نے بھی میری آواز پہچان لی اور بولا : ابو الفضل ؟ میں نے کہا : ہاں ، اس نے کہا : کیا بات ہے ؟ میرے ماں باپ تجھ پر قربان ، میں نے کہا: یہ رسول اللہﷺ ہیں لوگوں سمیت۔ ہائے قریش کی تباہی -- واللہ !
    ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
    1 بعد میں ابو سفیان کے اسلام میں بڑی خوبی آگئی۔ کہا جاتا ہے کہ جب سے انہوں نے اسلام قبول کیا حیاء کے سبب رسول اللہﷺ کی طرف سر اٹھا کر نہ دیکھا۔ رسول اللہﷺ بھی ان سے محبت کرتے تھے اور ان کے لیے جنت کی بشارت دیتے تھے۔ اور فرماتے تھے: مجھے توقع ہے کہ یہ حمزہ کا بدل ثابت ہوں گے جب ان کی وفات کا وقت آیا تو کہنے لگے : مجھ پر نہ رونا۔ کیونکہ اسلام لانے کے بعد میں نے کبھی کوئی گناہ کی بات نہیں کہی۔ زاد المعاد ۲/۱۶۲ ، ۱۶۳
    2 صحیح بخاری ۲/۶۱۳
     
  8. ‏اگست 17، 2013 #8
    محمد نعیم یونس

    محمد نعیم یونس خاص رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 27، 2013
    پیغامات:
    26,400
    موصول شکریہ جات:
    6,600
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,207

    اس نے کہا : اب کیا حیلہ ہے ؟ میرے ماں باپ تم پر قربان۔ میں نے کہا: واللہ! اگر وہ تمہیں پاگئے تو تمہاری گردن ماردیں گے۔ لہٰذا اس خچر پر پیچھے بیٹھ جاؤ۔ میں تمہیں رسول اللہﷺ کے پاس لے چلتا ہوں ، اور تمہارے لیے امان طلب کیے دیتا ہوں۔ اس کے بعد ابو سفیان میرے پیچھے بیٹھ گیا اور اس کے دونوں ساتھی واپس چلے گئے۔
    حضرت عباسؓ کہتے ہیں کہ میں ابو سفیان کو لے کر چلا۔ جب کسی الاؤ کے پاس سے گزرتا تو لوگ کہتے : کون ہے ؟ مگر جب دیکھتے کہ رسول اللہﷺ کا خچر ہے اور میں اس پر سوار ہوں تو کہتے کہ رسول اللہﷺ کے چچا ہیں اور آپ کے خچر پر ہیں۔ یہاں تک کہ عمر بن خطابؓ کے الاؤ کے پاس سے گزرا۔ انہوں نے کہا : کون ہے ؟ اور اٹھ کر میری طرف آئے۔ جب پیچھے ابو سفیان کو دیکھا تو کہنے لگے : ابو سفیان ؟ اللہ کا دشمن ؟ اللہ کی حمد ہے کہ اس نے بغیر عہدوپیمان کے تجھے (ہمارے ) قابو میں کردیا۔ اس کے بعد وہ نکل کر رسول اللہﷺ کی طرف دوڑے۔ اور میں نے بھی خچر کو ایڑ لگائی۔ میں آگے بڑھ گیا۔ اور خچر سے کود کر رسول اللہﷺ کے پاس جاگھسا۔ اتنے میں عمر بن خطاب بھی گھس آئے اور بولے کہ اے اللہ کے رسول ! یہ ابو سفیان ہے۔ مجھے اجازت دیجیے میں اس کی گردن ماردوں۔ میں نے کہا : اے اللہ کے رسول ! میں نے اسے پناہ دے دی ہے۔ پھر میں نے رسول اللہﷺ کے پاس بیٹھ کر آپ کا سر پکڑ لیا۔ اور کہا : اللہ کی قسم آج رات میرے سوا کوئی اور آپ سے سرگوشی نہ کرے گا۔ جب ابو سفیان کے بارے میں حضرت عمرؓ نے بار بار کہا تو میں نے کہا : عمر ! ٹھہرجاؤ۔ اللہ کی قسم! اگر یہ بنی عدی بن کعب کا آدمی ہوتا تو تم ایسی بات نہ کہتے۔ عمرؓ نے کہا : عباس ! ٹھہر جاؤ۔ اللہ کی قسم! تمہارا اسلام لانا میرے نزدیک خطّاب کے اسلام لانے سے - اگر وہ اسلام لاتے - زیادہ پسندیدہ ہے اور اس کی وجہ میرے لیے صرف یہ ہے کہ رسول اللہﷺ کے نزدیک تمہارا اسلام لانا خطاب کے اسلام لانے سے زیادہ پسندیدہ ہے۔
    رسول اللہﷺ نے فرمایا : عباس ! اسے (یعنی ابوسفیان کو ) اپنے ڈیرے میں لے جاؤ۔ صبح میرے پاس لے آنا۔ اس حکم کے مطابق میں اسے ڈیرے میں لے گیا اور صبح خدمتِ نبویﷺ میں حاضر کیا۔ آپ نے اسے دیکھ کر فرمایا: ا بو سفیان! تم پر افسوس ، کیا اب بھی تمہارے لیے وقت نہیں آیا کہ تم یہ جان سکو کہ اللہ کے سوا کوئی الٰہ نہیں ؟ ابو سفیان نے کہا: میرے ماں باپ آپ پر فدا ، آپ کتنے بردبار ، کتنے کریم اور کتنے خویش پرورہیں۔ میں اچھی طرح سمجھ چکاہوں کہ اگر اللہ کے ساتھ کوئی اور بھی الٰہ ہوتا تو اب تک میرے کچھ کام آیا ہوتا۔
    آپ نے فرمایا : ابو سفیان تم پر افسوس ! کیا تمہارے لیے اب بھی وقت نہیں آیا کہ تم یہ جان سکو کہ میں اللہ کا رسول ہوں۔ ابو سفیان نے کہا : میرے ماں باپ آپ پر فدا۔ آپ کس قدر حلیم ، کس قدر کریم اور کس قدر صلہ رحمی کرنے والے ہیں۔ اس بات کے متعلق تو اب بھی دل میں کچھ نہ کچھ کھٹک ہے۔ اس پر حضرت عباسؓ نے کہا: ارے ! گردن مارے جانے کی نوبت آنے سے پہلے پہلے اسلام قبول کرلو !اور یہ شہادت واقرار کر لو کہ اللہ کے سوا کوئی لائق عبادت نہیںاور محمدﷺ اللہ کے رسول ہیں۔ اس پر ابو سفیان نے اسلام قبول کرلیا اور حق کی شہادت دی۔
    حضرت عباس نے کہا : اے اللہ کے رسول ! ابوسفیان اعزاز پسند ہے، لہٰذا اسے کوئی اعزاز دے دیجیے۔ آپ نے فرمایا : ٹھیک ہے۔ جو ابو سفیان کے گھر میں گھس جائے اسے امان ہے اور جو اپنا دروازہ اندر سے بند کرلے اسے امان ہے اور جو مسجد ِ حرام میں داخل ہوجائے اسے امان ہے۔
    اسلامی لشکر مر الظَہران سے مکے کی جانب :
    اسی صبح -منگل ۱۷/رمضان ۸ ھ کی صبح - رسول اللہﷺ مر الظہران سے مکہ روانہ ہوئے اور حضرت عباس کو حکم دیا کہ ابو سفیان کو وادی کی تنگنائے پر پہاڑکے ناکے کے پاس روک رکھیں تاکہ وہاں سے گزرنے والی الٰہی فوجوں کو ابو سفیان دیکھ سکے۔ حضرت عباس نے ایسا ہی کیا۔ ادھر قبائل اپنے اپنے پھریرے لیے گزر رہے تھے۔ جب وہاں سے کوئی قبیلہ گزرتا تو ابو سفیان پوچھتا کہ عباس ! یہ کون لوگ ہیں ؟ جواب میں حضرت عباس - بطورِ مثال- کہتے کہ بنو سلیم ہیں۔ تو ابوسفیان کہتا کہ مجھے سلیم سے کیا واسطہ ؟ پھر کوئی قبیلہ گزرتا تو ابو سفیان پوچھتا کہ اے عباس !یہ کون لوگ ہیں ؟ وہ کہتے: مُزَیْنَہ ہیں۔ ابو سفیان کہتا:، مجھے مزینہ سے کیا مطلب ؟ یہاں تک کہ سارے قبیلے ایک ایک کرکے گزر گئے۔ جب بھی کوئی قبیلہ گزرتا توابو سفیان حضرت عباس سے اس کی بابت ضرور دریافت کرتا اور جب وہ اسے بتاتے تو وہ کہتا کہ مجھے بنی فلاں سے کیا واسطہ ؟ یہاں تک کہ رسول اللہﷺ اپنے سبز دستے کے جلو میں تشریف لائے۔ آپ مہاجرین وانصار کے درمیان فروکش تھے۔ یہاں انسانوں کے بجائے صرف لوہے کی باڑھ دکھائی پڑرہی تھی۔ ابو سفیان نے کہا : سبحان اللہ ! اے عباس ! یہ کون لوگ ہیں ؟ انہوں نے کہا : یہ انصار ومہاجرین کے جلو میں رسول اللہﷺ تشریف فرماہیں۔ ابو سفیان نے کہا : بھلا ان سے محاذآرائی کی طاقت کسے ہے ؟ اس کے بعد اس نے مزید کہا کہ ابو الفضل ! تمہارے بھتیجے کی بادشاہت تو واللہ بڑی زبردست ہوگئی۔ حضرت عباسؓ نے کہا : ابو سفیان ! یہ نبوت ہے۔ ابو سفیان نے کہا: ہاں ! اب تو یہی کہاجائے گا۔
    اس موقع پر ایک واقعہ اور پیش آیا۔ انصار کا پھریرا حضرت سعد بن عبادہؓ کے پاس تھا۔ وہ ابو سفیان کے پاس سے گزرے تو بولے:
    الیوم یوم الملحمۃ الیوم تستحل الحرمۃ
    ''آج خونریزی اور مار دھاڑ کادن ہے۔ آج حرمت حلال کرلی جائے گی۔''
    آج اللہ نے قریش کی ذلت مقدر کردی ہے۔ اس کے بعد جب وہاں سے رسول اللہﷺ گزرے تو ابو سفیان نے کہا کہ اے اللہ کے رسول ! آپ نے وہ بات نہیں سنی جو سعد نے کہی ہے ؟ آپ نے فرمایا :سعد نے کیا کہا ہے ؟ ابو سفیان نے کہا: یہ اور یہ بات کہی ہے۔ یہ سن کر حضرت عثمان اور حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہما نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ! ہمیں خطرہ ہے کہ کہیں سعد قریش کے اندر مار دھاڑ نہ مچا دیں۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا : نہیں بلکہ آج کا دن وہ دن ہے جس میں کعبہ کی تعظیم کی جائے گی۔ آج کا دن وہ دن ہے جس میں اللہ قریش کو عزت بخشے گا۔ اس کے بعد آپ نے حضرت سعد کے پاس آدمی بھیج کر جھنڈا ان سے لے لیا اور ان کے صاحبزادے قیس کے حوالے کردیا۔ گویا جھنڈا حضرت سعد کے ہاتھ سے نہیں نکلا۔ اور کہاجاتاہے کہ آپ نے جھنڈا حضرت زبیر کے حوالے کردیا تھا۔
    اسلامی لشکر اچانک قریش کے سر پر:
    جب رسول اللہﷺ ابو سفیان کے پاس سے گزرچکے تو حضرت عباسؓ نے اس سے کہا : اب دوڑ کر اپنی قوم کے پاس جاؤ۔ ابو سفیان تیزی سے مکہ پہنچا اور نہایت بلندآواز سے پکارا : قریش کے لوگو! یہ محمدﷺ ہیں۔ تمہارے پاس اتنا لشکر لے کر آئے ہیں کہ مقابلے کی تا ب نہیں ، لہٰذا جو ابو سفیان کے گھر گھس جائے اسے امان ہے۔ یہ سن کر اس کی بیوی ہند بنت عتبہ اٹھی اور اس کی مونچھ پکڑ کر بولی : مار ڈالو اس چرب دار، کڑے گوشت والے مشک کو۔ بُرا ہوایسے (لینڈ والے ) پیشتر و خبر رساں کا۔
    ابو سفیان نے کہا : تمہاری بربادی ہو۔ دیکھو تمہاری جانوں کے بارے میں یہ عورت تمہیں دھوکا میں نہ ڈال دے۔ کیونکہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم ایسا لشکر لے کر آئے ہیں جس سے مقابلے کی تاب نہیں۔ اس لیے جو ابو سفیان کے گھر میں گھس جائے اسے امان ہے۔ لوگوں نے کہا :اللہ تجھے مارے ، تیرا گھر ہمارے کتنے آدمیوں کے کام آسکتا ہے ؟ ابو سفیان نے کہا : اور جو اپنا دروازہ اندر سے بند کرلے اسے بھی امان ہے۔ اور جو مسجد حرام میں داخل ہوجائے اسے بھی امان ہے۔ یہ سن کر لوگ اپنے اپنے گھروں اور مسجد حرام کی طرف بھاگے۔ البتہ اپنے کچھ اوباشوں کو لگادیا اور کہا کہ انہیں ہم آگے کیے دیتے ہیں۔ اگر قریش کو کچھ کامیابی ہوئی تو ہم ان کے ساتھ ہورہیں گے اور اگر ان پر ضرب لگی تو ہم سے جو کچھ مطالبہ کیا جائے گا منظور کرلیں گے۔ قریش کے یہ احمق اوباش مسلمانوں سے لڑنے کے لیے عِکْرَمَہ بن ابی جہل ، صفوان بن اُمیہ اور سُہَیْل بن عَمرو کی کمان میں خندمہ کے اندر جمع ہوئے۔ ان میں بنو بکر کاایک آدمی حماس بن قیس بھی تھا۔ جو اس سے پہلے ہتھیار ٹھیک ٹھاک کرتا رہتا تھا۔ جس پر اس کی بیوی نے (ایک روز ) کہا : یہ کاہے کی تیاری ہے جو میں دیکھ رہی ہوں ؟ اس نے کہا : محمدﷺ اور اس کے ساتھیوں سے مقابلے کی تیاری ہے۔ اس پر بیوی نے کہا : اللہ کی قسم ! محمدﷺ اور اس کے ساتھیوں کے مقابل کوئی چیز ٹھہر نہیں سکتی۔ اس نے کہا :اللہ کی قسم !مجھے امید ہے کہ میں ان کے بعض ساتھیوں کو تمہارا خادم بناؤں گا۔ اس کے بعد وہ کہنے لگا :
    إن یقبلوا الیوم فما لي علـۃ ہــذا سـلاح کامـل وألــۃ
    وذو غـراریـن سـریع السلـــۃ
    ''اگر وہ آج مد مقابل آگئے تو میرے لیے کوئی عذر نہ ہوگا۔ یہ مکمل ہتھیار، دراز انی والا نیزہ اور جھٹ سونتی جانے والی دودھاری تلوار ہے ''
    خندمہ کی لڑائی میں یہ شخص بھی آیا ہوا تھا۔
     
  9. ‏اگست 17، 2013 #9
    محمد نعیم یونس

    محمد نعیم یونس خاص رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 27، 2013
    پیغامات:
    26,400
    موصول شکریہ جات:
    6,600
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,207

    اسلامی لشکر ذی طویٰ میں:
    ادھر رسول اللہﷺ مر الظہران سے روانہ ہوکر ذی طویٰ پہنچے- اس دوران میں اللہ کے بخشے ہوئے اعزاز ِ فتح پر فرطِ تواضع سے آپ نے اپنا سر جھکا رکھا تھا۔یہاں تک کہ داڑھی کے بال کجاوے کی لکڑی سے جالگ رہے تھے - ذی طویٰ میں آپ نے لشکر کی ترتیب وتقسیم فرمائی۔ خالد بن ولید کو داہنے پہلو پر رکھا - اس میں اسلم ، سُلَیْم، غِفار ، مُزَیْنہ ، جُہَینہ اور کچھ دوسرے قبائل ِ عرب تھے - اور خالد بن ولید کو حکم دیا کہ وہ مکہ میں زیریں حصے سے داخل ہوں ، اور اگر قریش میں سے کوئی آڑے آئے تو اسے کاٹ کررکھ دیں، یہاں تک کہ صفا پر آپ سے آملیں۔
    حضرت زبیر بن عوام بائیں پہلو پر تھے۔ ان کے ساتھ رسول اللہﷺ کا پھریرا تھا۔ آپ نے انہیں حکم دیا کہ مکے میں بالائی حصے، یعنی کداء سے داخل ہوں اور حجون میں آپ کا جھنڈا گاڑ کر آپ کی آمد تک وہیں ٹھہرے رہیں۔
    حضرت ابو عبیدہ پیادے پر مقرر تھے۔ آپ نے انہیں حکم دیا کہ وہ بطن وادی کا راستہ پکڑیں۔ یہاں تک کہ مکے میں رسول اللہﷺ کے آگے اتریں۔
    مکہ میں اسلامی لشکر کا داخلہ:
    ان ہدایات کے بعد تمام دستے اپنے اپنے مقررہ راستوں سے چل پڑے۔
    حضرت خالد اور ان کے رفقاء کی راہ میں جو مشرک بھی آیا اسے سلادیا گیا۔ البتہ ان کے رفقاء میں سے بھی کرزبن جابر فہری اور خُنَیس بن خالد بن ربیعہ نے جامِ شہادت نوش کیا۔ وجہ یہ ہوئی کہ یہ دونوں لشکر سے بچھڑ کر ایک دوسرے راستے پر چل پڑے اور اسی دوران انہیں قتل کردیا گیا۔ خندمہ پہنچ کر حضرت خالدؓ اور ان کے رفقاء کی مڈبھیڑ قریش کے اوباشوں سے ہوئی۔ معمولی سی جھڑپ میں بارہ مشرک مارے گئے اور اس کے بعد مشرکین میں بھگدڑ مچ گئی۔ حماس بن قیس جو مسلمانوں سے جنگ کے لیے ہتھیارٹھیک ٹھاک کرتا رہتا تھا بھاگ کر اپنے گھر میں جاگھسا اور اپنی بیوی سے بولا: دروازہ بند کر لو۔ اس نے کہا : وہ کہاں گیا جو تم کہا کرتے تھے ؟ کہنے لگا :


    إنک لو شہدت یوم الخندمــہ إذ فــر صـفوان وفر عکرمــۃ
    واستقبتنا بالسیوف المسلمــۃ یـقـطعن کل ساعد وجمجمہ
    ضرباً فلا یسمع إلا غمغمـــہ لھـم نہیت خلفنـا وہمہمــہ
    لـــم تنطقی في اللـوم أدنـی کلمـۃ


    ''اگر تم نے جنگ خندمہ کا حال دیکھا ہوتا جب کہ صفوان اورعکرمہ بھاگ کھڑے ہوئے اور سونتی ہوئی تلواروں سے ہمارا استقبال کیا گیا ، جو کلائیاں اور کھوپڑیاں اس طرح کاٹتی جارہی تھیں کہ پیچھے سوائے ان کے شور وغوغا اور ہمہمہ کے کچھ سنائی نہیں پڑتا تھا ، تو تم ملامت کی ادنیٰ بات نہ کہتیں۔''
    اس کے بعد حضرت خالدؓ مکہ کے گلی کوچوں کو روندتے ہوئے کوہِ صفا پر رسول اللہﷺ سے جاملے۔
    ادھر حضرت زبیرؓ نے آگے بڑھ کر حجون میں مسجد فتح کے پاس رسول اللہﷺ کا جھنڈا گاڑ ا۔ اور آپﷺ کے لیے ایک قُبہّ نصب کیا۔ پھر مسلسل وہیں ٹھہرے رہے یہاں تک کہ رسول اللہﷺ تشریف لے آئے۔
    مسجد حرام میں رسو ل اللہﷺ کا داخلہ اور بتوں سے تطہیر :
    اس کے بعدرسول اللہﷺ اُٹھے اور آگے پیچھے اور گرد وپیش موجود انصار ومہاجرین کے جَلو میں مسجد حرام کے اندر تشریف لائے۔ آگے بڑھ کرحجرِ اسود کو چوما اور اس کے بعد بیت اللہ کا طواف کیا۔ اس وقت آپﷺ کے ہاتھ میں ایک کمان تھی ، اور بیت اللہ کے گرد اور اس کی چھت پر تین سو ساٹھ بُت تھے۔ آپﷺ اسی کمان سے ان بتوں کو ٹھوکر مارتے جاتے تھے ، اور کہتے جاتے تھے :
    جَاءَ الْحَقُّ وَزَهَقَ الْبَاطِلُ ۚ إِنَّ الْبَاطِلَ كَانَ زَهُوقًا (۱۷: ۸۱)
    ''حق آگیا اور باطل چلاگیا، باطل جانے والی چیز ہے۔''
    ''حق آگیا اور باطل کی چلت پھرت ختم ہوگئی۔''
    اور آپﷺ کی ٹھوکر سے بُت چہروں کے بل گرتے جاتے تھے۔
    آپﷺ نے طواف اپنی اونٹنی پر بیٹھ کر فرمایا تھا اور حالتِ احرام میں نہ ہونے کی وجہ سے صرف طواف ہی پر اکتفاکیا۔ تکمیل ِ طواف کے بعد حضرت عثمان بن طلحہؓ کو بلا کر ان سے کعبہ کی کنجی لی۔ پھر آپﷺ کے حکم سے خانہ کعبہ کھولا گیا۔ اندر داخل ہوئے تو تصویریں نظر آئیں ، جن میں حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل علیہما السلام کی تصویریں بھی تھیں ،اور ان کے ہاتھ میں فال گیری کے تیر تھے۔ آپﷺ نے یہ منظر دیکھ کر فرمایا: اللہ ان مشرکین کو ہلاک کرے۔ اللہ کی قسم ! ان دونوں پیغمبروں نے کبھی بھی فال کے تیر استعمال نہیں کیے۔ آپﷺ نے خانہ کعبہ کے اندر لکڑی کی بنی ہوئی ایک کبوتری بھی دیکھی اسے اپنے دست مبارک سے توڑدیا اور تصویریں آپﷺ کے حکم سے مٹادی گئیں۔
     
  10. ‏اگست 17، 2013 #10
    محمد نعیم یونس

    محمد نعیم یونس خاص رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 27، 2013
    پیغامات:
    26,400
    موصول شکریہ جات:
    6,600
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,207

    خانہ کعبہ میں رسول اللہﷺ کی نماز اور قریش سے خطاب :
    اس کے بعد آپﷺ نے اندر سے دروازہ بند کرلیا۔ حضرت اسامہؓ اور بلالؓ بھی اندر ہی تھے۔ پھر دروازے کے مقابل کی دیوار کا رخ کیا۔ جب دیوار صرف تین ہاتھ کے فاصلے پر رہ گئی تو وہیں ٹھہر گئے۔ دو کھمبے آپ کے دائیں جانب تھے ، ایک کھمبا بائیں جانب اور تین کھمبے پیچھے تھے- ان دنوں خانہ کعبہ میں چھ کھمبے تھے - پھر وہیں آپﷺ نے نماز پڑھی ، اس کے بعد بیت اللہ کے اندرونی حصے کا چکر لگایا۔ تمام گوشوں میں تکبیر وتوحید کے کلمات کہے۔ پھر دروازہ کھول دیا۔ قریش (سامنے ) مسجد حرام میں صفیں لگائے کھچاکھچ بھرے تھے۔ انہیں انتظار تھا کہ آپ کیا کرتے ہیں ؟ آپﷺ نے دروازے کے دونوں بازوپکڑ لیے۔ قریش نیچے تھے۔ انہیں یو ں مخاطب فرمایا :
    اللہ کے سواکوئی معبود نہیں، وہ تنہا ہے ، اس کا کوئی شریک نہیں۔ اس نے اپنا وعدہ سچ کردکھایا۔ اپنے بندے کی مدد کی اور تنہا سارے جتھوں کو شکست دی۔ سنو ! بیت اللہ کی کلیدبرداری اور حاجیوں کو پانی پلانے کے علاوہ سارا اعزاز یاکمال یا خون میرے ان دونوں قدموں کے نیچے ہے۔ یادرکھو ، قتل ِ خطا شبہ عمد میں - جو کوڑے یاڈنڈے سے ہو - مغلظ دیت ہے ، یعنی سو اونٹ جن میں سے چالیس اونٹنیوں کے شکم میں ان کے بچے ہوں۔
    اے قریش کے لوگو! اللہ نے تم سے جاہلیت کی نخوت اور باپ دادا پر فخر کا خاتمہ کردیا۔ سارے لوگ آدم سے ہیں اور آدم مٹی سے۔ اس کے بعد یہ آیت تلاوت فرمائی :
    يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّا خَلَقْنَاكُم مِّن ذَكَرٍ‌ وَأُنثَىٰ وَجَعَلْنَاكُمْ شُعُوبًا وَقَبَائِلَ لِتَعَارَ‌فُوا ۚ إِنَّ أَكْرَ‌مَكُمْ عِندَ اللَّـهِ أَتْقَاكُمْ ۚ إِنَّ اللَّـهَ عَلِيمٌ خَبِيرٌ‌ (۴۹: ۱۳)
    ''اے لوگو! ہم نے تمہیں ایک مرد اور ایک عورت سے پیدا کیا اور تمہیں قوموں اور قبیلوں میں تقسیم کیا تاکہ تم ایک دوسرے کو پہچان سکو۔ تم میں اللہ کے نزدیک سب سے باعزت وہی ہے جو سب سے زیادہ متقی ہو۔ بیشک اللہ جاننے والا اور خبر رکھنے والا ہے۔''
    آج کو ئی سرزنش نہیں:
    اس کے بعد آپﷺ نے فرمایا : قریش کے لوگو! تمہارا کیا خیال ہے۔ میں تمہارے ساتھ کیسا سلوک کرنے والا ہوں ؟ انہوں نے کہا : اچھا۔ آپ کریم بھائی ہیں۔ اور کریم بھائی کے صاحبزادے ہیں۔ آپﷺ نے فرمایا : تو میں تم سے وہی بات کہہ رہا ہوں جو یوسف علیہ السلام نے اپنے بھائیوں سے کہی تھی کہ لَا تَثْرِ‌يبَ عَلَيْكُمُ الْيَوْمَ ۖ (۱۲: ۹۲) آج تم پر کوئی سرزنش نہیں، جاؤ تم سب آزاد ہو۔
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں