1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

غزہ پر صہیونی یلغار۔۔۔ ایران کے سات سوشہروں میں احتجاجی مظاہرے

'انقلابی تحریکیں' میں موضوعات آغاز کردہ از اعتصام, ‏نومبر 18، 2012۔

  1. ‏نومبر 18، 2012 #1
    اعتصام

    اعتصام مشہور رکن
    جگہ:
    sukkur sindh
    شمولیت:
    ‏فروری 09، 2012
    پیغامات:
    483
    موصول شکریہ جات:
    678
    تمغے کے پوائنٹ:
    130

    غزہ پر صہیونی یلغار
    ایران کے سات سوشہروں میں احتجاجی مظاہرے

    غزہ پر صہیونی جارحیت کے خلاف تہران سمیت ایران کے مختلف شہروں اور علاقوں میں زبردست احتجاجی مظاہرے ہوئے تہران میں نمازجمعہ کے بعد عوام، فلسطینی مسلمانوں بالخصوص غزہ کے عوام کے حق میں سڑکوں پرنکل آئے اورصہیونی حملوں کی شدیدمذمت کی۔


    ابنا: غزہ پٹی پر صہیونی ریاست کے تازہ جارحانہ حملوں کے خلاف جن میں اب تک ایک سوپندرہ سے زائد فلسطینی شہید اور زخمی ہوچکے آج تہران سمیت ایران کے مختلف شہروں اورعلاقوں میں زبردست احتجاجی مظاہرے ہوئے تہران میں نمازجمعہ کے بعدمسلمان عوام، فلسطینی مسلمانوں بالخصوص غزہ کے عوام کے حق میں سڑکوں پرنکل آئے اورصہیونی حملوں کی شدیدمذمت کی۔ رپورٹ کے مطابق تہرانی مظاہرین کانعرہ تھافلسطین کادفاع ہمارے لئے باعث عزت ہے ، اسرائیل کی نابودی ہماری قوم کامطالبہ ہے۔ تہرانی مظاہرین، امریکہ مردہ باد اسرائیل مردہ باد کانعرہ لگاتے ہوئے فلسطین اسکوائرکی جانب رواں دواں تھے تازہ ترین رپورٹ کے مطابق اسی جیسے مظاہرے اسلامی جمہوریہ ایران کے دوسرے سات سوشہروں میں بھی ہوئے ہیں۔ واضح رہے کہ بین الاقوامی مخالفتوں کے باوجود صہیونی وزیراعظم غزہ پٹی پرجارحانہ حملوں کاسلسلہ پوری شدت سے جاری رکھے ہوئے ہے اوراس حملے کومزید تیز اوروسیع کرنے کے منصوبے کومنظوری دے دی ہے۔ صہیونی وزیراعظم نے تیس ہزارریزروفوج کوفلسطینی عوام کے خلاف لڑنے کے لئے بھیجنے کافرمان جاری کردیاہے۔ صہیونی وزیرجنگ نے اعلان کیاہے کہ غزہ پٹی پر صہیونی فوج کے حملے مسلسل جاری رہیں گے۔ فلسطین کی اسلامی مزاحمت نے بھی صہیونی حملوں کے جواب میں تل ابیت سمیت مقبوضبہ فلسطین کے مختلف علاقوں کومیزائلوں کانشانہ بنایاہے۔ غزہ پرصہیونی فوج کے بڑے پیمانے پرحملے اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ وہ اپنے توسیع پسندانہ مقاصد کوآگے بڑھانے کے لئے فلسطینی علاقوں میں بھرپورجنگ چھیڑناچاہتاہے۔ واضح رہے کہ صہیونی ریاست فلسطینی عوام کی استقامت کے مقابلے میں دوہزارپانچ میں غزہ سے پسپائی اختیارکرنے پرمجبورہوگئی تھی۔ صہیونی فوج غزہ سے پسپائی کابدلہ لینے اورایک بارپھراس پرقبضہ کرنے کے لئے ہمیشہ موقع کی تاک میں رہی ہے تاکہ خوف ووحشت پھیلاکرفلسطینیوں کواپنی توسیع پسندانہ پالیسیوں کے سامنے گھٹنے ٹیکنے پرمجورکردے۔ ان حالات میں امریکہ صہیونی ریاست کی بھرپور حمایت کررہا ہے امریکی صدرباراک اوبامہ کے اعتراف کے مطابق اس وقت امریکی حمایت اپنے عروج پرپہنچ چکی ہے اورصہیونی ریاست نے امریکی حمایت اورعالمی برادری کی خاموشی کافائدہ اٹھاتے ہوئے فلسطینیوں کے خلاف اپنے جرائم تیزکردیئے ہيں۔ لیکن اس میں بھی کوئی شک نہيں کہ فلسطینی مزاحمتی گروہوں کی جانب سے فوری اوربھرپورردعمل نے صہیونی جارحین کوحیرت زدہ اورخوف زدہ کردیاہے اس بنا پر صہیونی ریاست غزہ میں کاروائياں تیزکرکے کسی طرح خود کوفلسطینی مزاحمتی گرہوں کے مقابلے میں ذلت آمیزشکست سے بچانے کی کوشش بھی کررہی ہے صہیونی ریاست کے اس اقدام کوایک طرح سے آگے کی جانب فرار کانام بھی دیاجاسکتاہے۔ موجودہ شواہد سے پتہ چلتاہے کہ صہیونی ریاست کی نئی جنگ افروزی کانتیجہ بھی دوہزارآٹھ میں غزہ پر بائیس روزہ حملے جیسے دوسرے حماقت آمیز اقدامات کی مانند ان حملوں کانتیجہ بھی اس کی ناکامی کے سواکچہ نہيں نکلے گا۔ ان حالات میں سیاسی ماہرین کاخیال ہے کہ نیتن یاھوکاسیاسی انجام بھی دوہزارآٹھ کے اواخرمیں ہونے والی بائیس روزہ جنگ کے دورکے صہیونی وزیراعظم ایھوداولمرت سے بدترہوگااورسابق صیھونی وزیراعظم اولمرت کی مانند وہ بھی ایک عرصے تک سیاسی میدان سے مٹ جائيں گے۔
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں