1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

غزہ کے عوام کا عرب وزرائے خارجہ کو پیغام: غزہ تمہیں خوش آمدید نہیں کہتا / شہداء کی تعداد 135

'انقلابی تحریکیں' میں موضوعات آغاز کردہ از اعتصام, ‏نومبر 21، 2012۔

  1. ‏نومبر 21، 2012 #1
    اعتصام

    اعتصام مشہور رکن
    جگہ:
    sukkur sindh
    شمولیت:
    ‏فروری 09، 2012
    پیغامات:
    483
    موصول شکریہ جات:
    678
    تمغے کے پوائنٹ:
    130

    غزہ کے عوام نے ایک سماجی نیٹ ورک میں اپنے پیج پر عرب وزرائے خارجہ کے دورہ غزہ پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے لکھا ہے: غزہ تمہیں خوش آمدید نہيں کہتا۔


    اہل البیت نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کے مطابق غزہ کے نیٹ صارفین نے لکھا ہے: غزہ میں درجنوں افراد شہید ہوچکے ہیں اور ایک ہزار سے زائد زخمی ہوئے ہیں اور ان کا خانہ و کاشانہ ویران ہوچکا ہے جبکہ عرب حکمران ابھی تک زبانی جمع خرچ پر اکتفا کررہے ہیں چنانچہ ان کا دورہ غزہ بھی ان کے مجموعی کردار کی مانند مہمل اور بے فائدہ ہے چنانچہ غزہ ان کا خیر مقدم کرنے کےلئے ہرگز تیار نہیں ہے۔
    اس پیج پر عرب وزراء سے کہا گیا ہے: ممکن ہے کہ "عرب سورما" غزہ کے شہداء کے ساتویں روز کی رسومات میں شرکت کریں اور اسرائیل کو مزید تجاوز اور جارحیت کے لئے مزید مواقع بھی فراہم کریں اور جس طرح کہ عرب حکمرانوں اور وزیروں کے اجلاس کا نتیجہ ہمیشہ کی طرح ای بہت بڑا "صِفر" تھا لہذا غزہ عرب وزراء کے وفد سے واضح طور پر کہتا ہے: "میں تمہیں خوش آمد نہیں کہتا؛ مجھے تمہارے اظہار خیال اور اظہار ہمدردی کی ضرورت نہیں ہے؛ دفع ہوجاؤ"۔
    واضح رہے کہ عرب لیگ کے وزرائے خارجہ نے پیر کے روز قاہرہ میں غزہ کی صورت حال کا جائزہ لینے کے لئے ایک اجلاس منعقد کیا جس کے بعد عرب وزرائے خارجہ کے وفد نے غزہ کا دورہ کیا۔

    ادھر غزہ سے موصولہ اطلاعات کے مطابق صہیونی حملوں میں اب تک 135 افراد شہید اور 1100 زخمی ہوگئے ہیں۔ کل کے صہیونی حملوں میں کئی بچوں سمیت 35 فلسطینی شہید ہوگئے۔
    صہیونیوں نے جبالیا میں ایک مسجد کے سامنے فلسطینوں کو نشانہ بنایا اور زمین، فضا اور سمندر سے غزہ پر گولہ باری جاری رہی۔
    صہیونیوں نے غزہ کے حقائق کی عالمی کوریج روکنے کے لئے ایک بار پھر میڈیا سینٹر کو نشانہ بنایا اور اس حملے میں دو خبرنگار شہید ہوگئے۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔

    /110

    حمد بن جاسم آل ثانی: اسرائیل بھیڑیا نہيں ہے بلکہ ہم (عرب) بھیڑیں ہیں
     
  2. ‏نومبر 23، 2012 #2
    اعتصام

    اعتصام مشہور رکن
    جگہ:
    sukkur sindh
    شمولیت:
    ‏فروری 09، 2012
    پیغامات:
    483
    موصول شکریہ جات:
    678
    تمغے کے پوائنٹ:
    130

    شامی باغیوں کیلئے اسلحہ کے جہاز ارسال کرنیوالے غزہ کیلئے ایک گولی ارسال کرنیکی جرات نہیں رکھتے، سید حسن نصراللہ

    Tuesday, 20 November 2012 13:06

    حزب اللہ لبنان کے سربراہ سید حسن نصراللہ نے غزہ پٹی کے لئے اسلحے کی ترسیل نہایت ضروری قرار دی ہے۔ سید حسن نصراللہ نے ماہ محرم کی مناسبت سے گذشتہ رات اپنے ایک خطاب میں غزہ پٹی پر حملے میں عرب ممالک کے شرمسارانہ کردار پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت غزہ پٹی کے لئے ہتھیار بھیجنا ہر واجب سے زیادہ ضروری ہے۔ سید حسن نصراللہ نے کہا کہ اسرائیلی سمجھیں گے کہ فلسطینی تحریک مزاحمت کے میزائل ختم ہو چکے ہيں اور مزاحمت کی سرگرمیاں رک گئی ہيں۔ لہذا اسلامی ممالک پر واجب ہے کہ اپنی سرحدوں کو کھول دیں اور غزہ پٹی کے لئے مزید میزائل بھیجیں۔
    حزب اللہ لبنان کے سربراہ نے غزہ پٹی میں صیہونی فوجیوں کے ہاتھوں فلسطینی بچوں، عورتوں اور عام شہریوں کے قتل عام کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اس اقدام سے اسرائیل کا مقصد، فلسطینی تحریک مزاحمت پر دباؤ ڈالنا ہے، تاکہ انھیں اپنی شرائط سے پیچھے ہٹنے پر مجبور کیا جاسکے۔ حزب اللہ کے سیکرٹری جنرل کا کہنا تھا کہ اس وقت عرب ممالک سے یہ توقع تھی کہ غزہ پٹی کے عوام کے ساتھ رہيں نہ کہ اسرائیل اور غزہ پٹی کے درمیان ثالثی کا کردار ادا کریں۔ واضح رہے کہ غزہ پٹی کے مختلف علاقوں پر صیہونی فوج کے گذشتہ چھ روز سے جاری حملوں میں سو تیرہ سے زیادہ فلسطینی شہید اور نو سو سے زائد زخمی ہو چکے ہيں۔
    دیگر ذرائع کے مطابق سید حسن نصراللہ کا بعض عرب ممالک کی طرف سے شام کے باغیوں کے لئے اسلحہ ارسال کرنے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہنا تھا کہ شامی حکومت کے مخالفین کے لئے اسلحے سے بھرے بحری جہاز ارسال کرنیوالے عرب ممالک غزہ کے مظلوموں کے لئے حتی ایک گولی بھیجنے کی جرات بھی نہیں رکھتے۔ اپنی تقریر کے آخر میں حزب اللہ کے سیکرٹری جنرل کا تاکید کرتے ہوئے کہنا تھا کہ ایران، شام اور حزب اللہ ہرگز غزہ کے عوام کی حمایت ترک نہیں کریں گے، اور جس طرح گذشتہ سالوں میں ہم ان کے ساتھ تھے، اب بھی ان کے ساتھ کھڑے ہوں گے اور یہ ہمارا دینی، ایمانی، ملی اور انسانی فرض ہے۔
     
  3. ‏نومبر 23، 2012 #3
    محمد ارسلان

    محمد ارسلان خاص رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 09، 2011
    پیغامات:
    17,865
    موصول شکریہ جات:
    40,798
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,155

    صاف ظاہر ہے جن پر اتنا ظلم ہو رہا ہے وہاں کے دکھ بھرے دل والے لوگ یہی نہ کہیں گے تو اور کیا کہیں گے؟
    57 اسلامی ممالک اور یہ ممالک کوئی بھوکے ننگے نہیں بلکہ ایٹمی طاقت اور دولت مند ملک ہونے کے باوجود بھی اپنے نہتے مسلمان بھائیوں کے خلاف آواز نہ اٹھا سکے تو وہاں کے مظلومین یہ نہیں کہیں گے تو اور کیا کہیں گے۔
    فائدہ ایسی دولت کا جہاں روزانہ کھربوں روپے کا تیل نکلتا ہو وہاں فلسطین کے لوگ بھوکے مریں تو ایسی دولت کا کیا فائدہ؟

    فلسطینیوں اللہ تمہارے حالات کو درست کرے آمین۔
     
  4. ‏نومبر 23، 2012 #4
    nasirmazahiri

    nasirmazahiri مبتدی
    جگہ:
    مرزاپور
    شمولیت:
    ‏نومبر 23، 2012
    پیغامات:
    1
    موصول شکریہ جات:
    1
    تمغے کے پوائنٹ:
    0

    سچائی یہی ہے جوکہی گئی
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں