1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

غصہ کا علاج !!!

'اصلاح نفس' میں موضوعات آغاز کردہ از محمد عامر یونس, ‏مئی 09، 2014۔

  1. ‏مئی 09، 2014 #1
    محمد عامر یونس

    محمد عامر یونس خاص رکن
    جگہ:
    karachi
    شمولیت:
    ‏اگست 11، 2013
    پیغامات:
    16,950
    موصول شکریہ جات:
    6,501
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,069

    10334392_391781674293433_4065867010319467646_n.jpg
    غصہ کا علاج !!!

    حوالہ :

    عَنْ عَطِيَّةَ قَال قَال رَسُول اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم إِنَّ الْغَضَبَ مِنَ الشَّيْطَان وَإِنَّ الشَّيْطَانَ خُلِقَ مِنَ النَّارِوَإِنَّمَاتُطْفَأُالنَّارُبِالْمَاءِفَإِذَاغَضِبَ أَحَدُكُمْ فَلْيَتَوَضَّأْ»
    ﴿سنن ابی داؤد4786﴾
     
    • پسند پسند x 2
    • زبردست زبردست x 1
    • لسٹ
  2. ‏مئی 09، 2014 #2
    محمد عامر یونس

    محمد عامر یونس خاص رکن
    جگہ:
    karachi
    شمولیت:
    ‏اگست 11، 2013
    پیغامات:
    16,950
    موصول شکریہ جات:
    6,501
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,069

    بسم اللہ الرحمن الرحیم

    غُصّہ کے علاج

    حدیثِ شریف :

    عن سليمان بن صرد رضي الله عنه قال : استب رجلان عند النبي ‏صلى الله عليه وسلم فجعل أحدهما يغضب ويحمر وجهه و تنتفخ أوداجه فنظر ‏إليه النبي صلى الله عليه وسلم فقال : إني لأعلم كلمة لو قالها لذهب ذا عنه :" ‏أعوذ بالله من الشيطان الرجيم " فقام إلى الرجل رجل ممن سمع النبي صلى الله ‏عليه وسلم فقال : تدري ما قاله رسول الله صلى الله عليه وسلم آنفا ؟ قال : لا، ‏قال: إني لأعلم كلمة لو قالها لذهب عنه : أعوذ بالله من الشيطان الرجيم ، فقال ‏له الرجل : أمجنونا تراني؟ .‏

    ‏( صحيح البخاري : 3282 ، بدء الخلق / صحيح مسلم : 2610 ، البر / الفاظ صحیح مسلم کے ہیں )‏
    ترجمہ :

    حضرت سلیمان بن صرد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ دو آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ‏گالی گلوچ کررہے تھے ان میں کا ایک غصے میں آگیا ، اس کا چہرہ سرخ ہوگیا اور اس کی رگیں پھول گئیں ، رسول اللہ ‏صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی طرف دیکھا اور فرمایا :" میں ایک کلمہ جانتا ہوں کہ اگر یہ اسے کہہ لے تو اس کی یہ ‏کیفیت دور ہوجائے ، وہ کلمہ ہے " اعوذ باللہ من الشیطان الرجیم " [ میں شیطان مردود سے اللہ کی پناہ چاہتا ہوں ‏‏]" چنانچہ جن لوگوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان سنا ان میں سے ایک شخص اس غصہ ہونے والے ‏شخص کے پاس گیا اور کہنے لگا : کیا تم جانتے ہو کہ ابھی ابھی اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا فرمایا : اس نے ‏جواب دیا : نہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرمارہے ہیں کہ ہیں میں ایک ایسا کلمہ جانتا ہوں جسے اگر یہ پڑھ لے ‏تو اس کا غصہ جاتا رہے ، وہ کلمہ ہے : " اعوذ باللہ من الشیطان الرجیم " اس شخص نے کہا کہ کیا تو مجھے ‏پاگل سمجھ رہا ہے ۔

    [ صحیح بخاری وصحیح مسلم ]‏
    تشریح :

    غصہ ایک ایسا اخلاقی مرض ہے کہ اگر فوری اور صحیح علاج نہ کیا گیا تو اس کا اثر باہمی نا اتفاقی ، حسد و کینہ ، بغض و نفرت ‏، گالی و گلوچ حتٰی کہ مارپیٹ ، قتل و خونریز ی ، طلاق اور مال و اولاد پر بد دعا کی شکل میں ظاہر ہوتا ہے ، اس لئے اپنے دین و ایمان پر ‏حریص شخص کے لئے ضروری ہے کہ اس مرض کا علاج کرے ۔

    واضح رہے کہ سب سے بہتر اور کامیاب وہ علاج ہے جس کی طرف اسلام نے رہنمائی کی ہے ، چنانچہ جب ہم نصوصِ شرع پر غور ‏کرتے ہیں تو اس مرض کے بہت سے علاج کی طرف ہماری رہنمائی ہوتی ہے -



    اختصار کے ساتھ وہ بعض علاج درج ذیل ہیں :‏


    • اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت‎ :

    ‎یعنی ایک مومن یہ سوچے کہ اللہ اور اس کے رسول نے غُصّہ آنے پر صبر سے کام لینے اور لوگوں ‏کی غلطی کو معاف کردینے کا حکم دیا‎ ‎ہے

    ‎اس آیت کی تفسیر کرتے ہوئے مفسرِ قرآن حضرت ابن عباس رضی اللہ
    عنہ بیان کرتے ہیں ‏کہ ، اس سے مراد غُصّہ کے وقت صبر کرنا اور برائی کو معاف کرنا ہے ۔
    [ صحیح بخاری معلقا ]۔

    • بُرے نتائج پر غور‎ :

    ‎غصہ کو پی جانے کا ایک بہترین علاج یہ ہے کہ دینی و دنیوی نتائج پر غور کرے کہ بسا اوقات ایک شخص غصہ ‏میں ایسی بات کر جاتا ہے یا ایسی حرکت کا مرتکب ہوتا ہے جس سے اس کی دنیا و آخرت برباد ہوجاتی ہے ۔

    • پرہیز‎ :

    ‎ان اسباب سے پرہیز کرے جو غصہ بڑھاتے ہیں ، جیساکہ ان میں اسے بعض کا ذکر پچھلے درس میں آچکا ہے ۔

    • اجر و ثواب کی نیت‎ : ‎

    ثواب و اجر کو پیش نظر رکھے جو غصہ پی جانے کے عوض حاصل ہوتے ہیں ۔ جیسے‎ :‎

    • اللہ و رسول کی محبت‎ : ‎

    اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو قیس کے ایک شخص سے فرمایا : تمہارے اندر دو ایسی ‏عادتیں ہیں جنہیں اللہ اور اس کےرسول پسند کرتے ہیں ، برد باری اور سنجیدگی ۔
    [ صحیح مسلم بروایت ابن عباس ] ۔

    بردباری ‏یعنی غصہ کی حالت میں انتقام کی طاقت کے باوجود صبر سے کام لینا ۔

    • جنت میں داخلہ‎ : ‎

    ایک صحابی نے سوال کیا اے اللہ کے رسول مجھے کوئی ایسا عمل بتلائیے کہ اس پر عمل کرلوں تو مجھے جنت مل ‏جائے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : غصہ نہ کرو تمہیں جنت میں داخلہ مل جائے گا ۔
    [ الطبرانی الاوسط : بروایت ابو داود ]‏

    • اللہ کے غضب سے بچاو‎ :

    ‎ایک شخص نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کرتا ہے کہ وہ کونسا عمل ہے جو مجھے اللہ کے غضب ‏سے محفوظ رکھے آپ نے فرمایا : تم غصہ نہ کرو [ اللہ تعالی تم پر بھی غصہ نہ ہوگا ]

    [مسند احمد بروایت عبدا للہ بن عمرو ]‏

    • بہت بڑے اجر کا حصول‎ :

    ‎ارشاد نبوی ہے کہ : اللہ تعالی کے نزدیک غصہ کا گھونٹ پی جانے سے زیادہ اجر والا کوئی اور ‏گھونٹ پینا نہیں ہے ۔

    [ ابن ماجہ ، بروایت عبد اللہ عمر ‎]
    • جنت کی حور‎ : ‎

    ارشاد نبی صلی اللہ علیہ وسلم : جو شخص انتقام کی قدرت کے باوجود غصہ پی جاتا ہے تو اللہ تعالی قیامت کے دن اس ‏شخص کو تمام مخلوقات کے سامنے بلا کر فرمائے گا کہ آج تم جنت کی جس حور کا انتخاب کرنا چاہو جاکر انتخاب کرلو ۔
    [ ابو داود ‏الترمذی ، بروایت انس بن معاذ ] ‏
    • ذکر الہی‎ : ‎

    جیسے‎ " ‎اعوذ باللہ من الشیطان الرجیم‎ " ‎پڑھنا ۔ جیساکہ زیر بحث حدیث میں بیان ہوا ہے ۔

    • تبدیلیِ‎ :

    ‎جس حالت پرہے اسے بدل دے : نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ جب تم میں سے کسی کو غصہ آئے اگر وہ کھڑا ‏ہوتو بیٹھ جائے اور اگر بیٹھا ہوتو لیٹ جائے ۔
    [ سنن ابو داود ، بروایت ابو ذر ]

    اور اگر مناسب سمجھے تو وہ جگہ چھوڑ کر ہٹ جائے ۔

    • خاموشی‎ : ‎

    آپ صلی اللہ علیہ و سلم کا ارشاد ہے : "سکھاو ، بشارت سناو اور سختی نہ دکھلاو "{ یہ بات آپ نے تین بار فرمائی } پھر ‏دوبارہ فرمایا :" اگر کسی کو غصہ آئے تو وہ خاموش ہوجائے "

    [ مسند احمد بروایت ابن عباس ]‎
    فضیلۃ الشیخ/ مقصود الحسن فیضی حفظہ اللہ
     
    • پسند پسند x 1
    • زبردست زبردست x 1
    • لسٹ
  3. ‏مئی 09، 2014 #3
    نسرین فاطمہ

    نسرین فاطمہ سینئر رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    حیدرآباد سندھ
    شمولیت:
    ‏فروری 21، 2012
    پیغامات:
    1,278
    موصول شکریہ جات:
    3,218
    تمغے کے پوائنٹ:
    396

    بہترین ٹپ ہماری روزمرہ زندگی کے لئے ۔
    اللہ عمل کی توفیق عطا فرمائے ۔آمین
     
  4. ‏مئی 10، 2014 #4
    محمد ارسلان

    محمد ارسلان خاص رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 09، 2011
    پیغامات:
    17,865
    موصول شکریہ جات:
    40,798
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,155

    سبحان اللہ العظیم
    بھائی اس حدیث کی سند کیا ہے؟
     
  5. ‏مئی 14، 2015 #5
    محمد عامر یونس

    محمد عامر یونس خاص رکن
    جگہ:
    karachi
    شمولیت:
    ‏اگست 11، 2013
    پیغامات:
    16,950
    موصول شکریہ جات:
    6,501
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,069

    11079684_546024768869122_4857240221689449932_n.jpg
     
  6. ‏اپریل 01، 2016 #6
    محمد عامر یونس

    محمد عامر یونس خاص رکن
    جگہ:
    karachi
    شمولیت:
    ‏اگست 11، 2013
    پیغامات:
    16,950
    موصول شکریہ جات:
    6,501
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,069

    • جنت کی حور‎ : ‎
    ارشاد نبی صلی اللہ علیہ وسلم : جو شخص انتقام کی قدرت کے باوجود غصہ پی جاتا ہے تو اللہ تعالی قیامت کے دن اس ‏شخص کو تمام مخلوقات کے سامنے بلا کر فرمائے گا کہ آج تم جنت کی جس حور کا انتخاب کرنا چاہو جاکر انتخاب کرلو ۔
    [ ابو داود ‏الترمذی ، بروایت انس بن معاذ ] ‏

    السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ !

    شیخ محترم @اسحاق سلفی بھائی
     
  7. ‏اپریل 01، 2016 #7
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    6,186
    موصول شکریہ جات:
    2,366
    تمغے کے پوائنٹ:
    777

    وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ ؛
    محترم بھائی یہ حدیث سنن الترمذی اور سنن ابوداود اور مسند امام احمد میں ہے اور علامہ البانی (صحیح ابی داود ) اور علامہ شعیب الارناؤط نے (مسند احمد کی تخریج میں ) اسے حسن کہا ہے ؛
    عن سهل بن معاذ بن انس الجهني عن ابيه عن النبي صلى الله عليه وسلم قال:‏‏‏‏ " من كظم غيظا وهو يستطيع ان ينفذه دعاه الله يوم القيامة على رءوس الخلائق حتى يخيره في اي الحور شاء " قال:‏‏‏‏ هذا حديث حسن غريب.(سنن الترمذی ،حدیث نمبر: 2021 )

    معاذ بن انس جہنی رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص غصہ ضبط کر لے حالانکہ وہ اسے کر گزرنے کی استطاعت رکھتا ہو، تو قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اسے لوگوں کے سامنے بلائے گا اور اسے اختیار دے گا کہ وہ جس حور کو چاہے منتخب کر لے“۔
    امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے۔
     
  8. ‏اپریل 02، 2016 #8
    محمد طارق عبداللہ

    محمد طارق عبداللہ سینئر رکن
    جگہ:
    ممبئی - مہاراشٹرا
    شمولیت:
    ‏ستمبر 21، 2015
    پیغامات:
    2,316
    موصول شکریہ جات:
    706
    تمغے کے پوائنٹ:
    224

    جزاک اللہ خیرا
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں