1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

غلط العام اور غلط العوام الفاظ

'بلاغت' میں موضوعات آغاز کردہ از یوسف ثانی, ‏دسمبر 28، 2011۔

  1. ‏دسمبر 28، 2011 #1
    یوسف ثانی

    یوسف ثانی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    پاکستان
    شمولیت:
    ‏ستمبر 26، 2011
    پیغامات:
    2,760
    موصول شکریہ جات:
    5,267
    تمغے کے پوائنٹ:
    562

    السلام و علیکم برادر
    دخل در معقولات کی معذرت ۔۔۔ لفظ ’’مشکور‘‘ کا یہ استعمال غلط ہے بلکہ غلط العوام ہے۔ اگر آپ یہ کہنا چاہ رہے ہیں کہ میں آپ کا شکر گذار ہوں، تو آپ کو یہ کہنا چاہئے کہ میں ’’شاکر‘‘ (شاکر بھائی نہیں) ہوں۔ یا میں ممنون ہوں ۔ ’’مشکور‘‘ تو وہ شخص ہوگا جس کے آپ شکر گذار ہیں۔ جیسے طالب (طلب کرنے والا) و مطلوب (جسے طلب کیا جائے) ، حامد (حمد یا تعریف کرنے والا) ، محمود (جس کی حمد یا تعریف کی جائے) وغیرہ وغیرہ امید ہے دیگر قارئین بھی کسی کے ’’ مشکور‘‘ ہونے سے قبل یہ ضرور غور کر لیں گے کہ وہ حقیقت میں کیا کہنا چاہ رہے ہیں۔ ایسا ہی ایک لفظ ہے ’’تابعدار‘‘ عموما" لوگ اس طرح لکھتے ہیں ’’آپ کا تابعدار شاگرد‘‘ (وغیرہ) لیکن اس کا اصل مطلب ہوگا ’’ میں آپ کو اپنے تابع (ماتحت) رکھتا ہوں ‘‘ یعنی مطلب ہی الٹ ہوگیا۔ لہٰذا ایسے مواقع پر ’’تابعدار‘‘ کی بجائے ’’فرماں بردار‘‘ لکھنا چاہئے۔
     
    • شکریہ شکریہ x 5
    • پسند پسند x 1
    • مفید مفید x 1
    • لسٹ
  2. ‏دسمبر 28، 2011 #2
    یوسف ثانی

    یوسف ثانی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    پاکستان
    شمولیت:
    ‏ستمبر 26، 2011
    پیغامات:
    2,760
    موصول شکریہ جات:
    5,267
    تمغے کے پوائنٹ:
    562

    منتظمین و قارئین کی توجہ کے لئے:
    جواب کا متن ایک بار تو مدون ہوجاتا ہے، دوبارہ یا سہ بار نہیں، پتہ نہیں کیوں؟
    میرے اوپر کے جوابی متن میں بھی کچھ کمپوزنگ غلطیاں رہ گئی ہیں، جو مدون نہیں ہورہیں۔
    لفظ ’’امیڈ‘‘ نہیں بلکہ ’’امید‘‘ ہے، اسی طرح ایک جگہ ’’حم‘‘ نہیں بلکہ ’’حمد‘‘ ہے
     
  3. ‏دسمبر 28، 2011 #3
    خضر حیات

    خضر حیات علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    طابہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 14، 2011
    پیغامات:
    8,683
    موصول شکریہ جات:
    8,304
    تمغے کے پوائنٹ:
    964

    يوسف ثانی بھائی ۔۔ جزاکم اللہ لفظ ’’ مشکور ‘‘ کی تو سمجھ آ گئی ہے ۔۔۔۔ لیکن آپ نےجو یہ فرمایا ہے کہ :
    اس کی سمجھ نہیں آئی ۔۔۔۔ اردو لغت والوں نے ’’ تابعدار ‘‘ اور ’’ فرماں بردار ‘‘ دونوں جملوں کو ہم معنی بتایا ہے ۔۔۔ جبکہ آپ نے ایک کو صحیح اور دوسرے کو غلط قراردیا ہے ۔۔ ؟
     
  4. ‏دسمبر 28، 2011 #4
    یوسف ثانی

    یوسف ثانی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    پاکستان
    شمولیت:
    ‏ستمبر 26، 2011
    پیغامات:
    2,760
    موصول شکریہ جات:
    5,267
    تمغے کے پوائنٹ:
    562

    اس کی وجہ یہ ہے کہ اس مفہوم میں لفظ تابعدار اب "غلط العوام" سے آگے بڑھ کر "غلط العام " کے درجہ میں داخل ہوچکا ہے۔ اور ماہرین لسانیات کے نزدیک غلط العام کو "قبولیت" کا درجہ حاصل ہے۔ البتہ فصاحت و بلاغت کا تقاضہ یہی ہے کہ ممکنہ حد تک غلط العام سے بھی گریزکیا جائے۔
     
    • شکریہ شکریہ x 3
    • پسند پسند x 2
    • لسٹ
  5. ‏دسمبر 28، 2011 #5
    ابو مریم

    ابو مریم مبتدی رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 22، 2011
    پیغامات:
    74
    موصول شکریہ جات:
    492
    تمغے کے پوائنٹ:
    22

    آپ نے واقعتا ایک اہم بات کی طرف توجہ دلائی ہے ، البتہ آپ نے اپنے کلام میں لفظ تقاضا کا املا تقاضہ لکھا ہے کیا یہ بھی غلط العوام نہیں ہے؟
     
    • شکریہ شکریہ x 4
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
  6. ‏دسمبر 28، 2011 #6
    ابو مریم

    ابو مریم مبتدی رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 22، 2011
    پیغامات:
    74
    موصول شکریہ جات:
    492
    تمغے کے پوائنٹ:
    22

    آپ نے واقعتا ایک اہم بات کی طرف توجہ دلائی ہے جس کے لیے ہم آپ کے شاکر ہیں ، لیکن آپ نے اپنے کلام میں لفظ تقاضا کا املا تقاضہ لکھا ہے ، کیا یہ بھی غلط العوام نہیں ہے؟
     
  7. ‏دسمبر 28، 2011 #7
    یوسف ثانی

    یوسف ثانی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    پاکستان
    شمولیت:
    ‏ستمبر 26، 2011
    پیغامات:
    2,760
    موصول شکریہ جات:
    5,267
    تمغے کے پوائنٹ:
    562

    تقاضا یا تقاضہ
    مدیر اعلیٰ یا مدیر اعلا
    طوطا یا توتا
    اس جیسے بہت سے الفاظ ہیں جو اردو زبان و ادب میں ’’اختلافی‘‘ شمار ہوتے ہیں۔ کچھ اساتذہ ایک کے حق میں ہیں تو کچھ دوسرے کے حق میں۔ لہٰذا عوام الناس کودونوں میں سے کسی بھی ایک کو استعمال کرنے کا اختیار حاصل ہے
     
  8. ‏دسمبر 29، 2011 #8
    ابوالحسن علوی

    ابوالحسن علوی علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    لاہور
    شمولیت:
    ‏مارچ 08، 2011
    پیغامات:
    2,524
    موصول شکریہ جات:
    11,482
    تمغے کے پوائنٹ:
    641

    یوسف ثانی بھائی!ممنون بھی تو مشکور کے وزن پر ہے، یعنی اسم مفعول ہے، اس بارے بھی کچھ وضاحت فرما دیں۔
     
  9. ‏دسمبر 29، 2011 #9
    یوسف ثانی

    یوسف ثانی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    پاکستان
    شمولیت:
    ‏ستمبر 26، 2011
    پیغامات:
    2,760
    موصول شکریہ جات:
    5,267
    تمغے کے پوائنٹ:
    562

    جی ابوالحسن بھائی!
    آپ بجا فرماتے ہیں۔ لیکن جیسا کہ آپ بھی جانتے ہیں، شکر، شاکر، مشکور فعل، فاعل اور مفعول کے معنوں میں مستعمل ہیں لہٰذا یہاں اسم مفعول کو اسم فاعل کے معنی میں استعمال کرنا درست نہیں ہو سکتا۔ جبکہ ممنون کسی فعل سے نکلا ہوا لفط نہیں ہے۔ یہ ایک مستقل لفظ ہے جو اتفاقا" مشکور کا ہم وزن بھی ہے۔ کسی بھی مفعول (یا فاعل یا فعل) کے سارے ہم وزن الفاظ مفعول (یا فاعل یا فعل) نہیں ہوتے۔
     
  10. ‏دسمبر 29، 2011 #10
    ابو مریم

    ابو مریم مبتدی رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 22، 2011
    پیغامات:
    74
    موصول شکریہ جات:
    492
    تمغے کے پوائنٹ:
    22

    آپ نے جو مثال دی ہے وہ ہمارے زیر بحث لفظ کے لیے مناسب نہیں، کیونکہ آپ نے تقاضا (جس کے آخر میں الف ہے ) کے آخر میں ہ لگا دی ہے جبکہ آپ کی ذکر کردہ مثال میں اعلی یا اعلا دونوں کے آخر میں الف ہی ہے صرف طریقہ املا میں فرق ہے۔ آپ کی پیش کردہ مثال اس وقت درست تھی اگر آپ نے تقاضا کو تقاضی لکھا ہوتا۔
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں