1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

غوثِ اعظم کون ہے ؟

'توحید وشرک' میں موضوعات آغاز کردہ از محمد عامر یونس, ‏جولائی 31، 2015۔

  1. ‏اگست 06، 2015 #71
    محمد عامر یونس

    محمد عامر یونس خاص رکن
    جگہ:
    karachi
    شمولیت:
    ‏اگست 11، 2013
    پیغامات:
    16,968
    موصول شکریہ جات:
    6,506
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,069

    [​IMG]
     
  2. ‏اگست 06، 2015 #72
    محمد عامر یونس

    محمد عامر یونس خاص رکن
    جگہ:
    karachi
    شمولیت:
    ‏اگست 11، 2013
    پیغامات:
    16,968
    موصول شکریہ جات:
    6,506
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,069

    میرے بھائی ھم اہل حدیث وہ ہے جس کی اصلاح کوئی بھی کرے گا اگر اس کی بات کتاب و سنت کے مطابق ہو گی تو وہ اس کی بات کو قبول کر لے گا -

    @بہرام آپ بھی شرک سے توبہ کرلے اور ساتھ ساتھ صاحبہ کرام رضی اللہ عنہماء کا بغض اپنے دل سے نکال دے - میرے بھائی زندگی کا کوئی بھروسہ نہیں کہ کب ختم ہو جائے - میرے بھائی اپنے عقیدہ کی اصلاح کر لے -



    جب تک سانس ہے، چانس ہے !

    توبہ :

    عن ابن عمر رضي الله عنهما فال قال النَّبيِّ صَلّى اللهُ عَلَيْهِ وسَلَّم: "إِنَّ الله عزَّ وجَلَّ يقْبَلُ توْبة العبْدِ مَالَم يُغرْغرِ"

    ﴿سنن الترمذی3537﴾
    [​IMG]
     
  3. ‏اگست 06، 2015 #73
    بہرام

    بہرام مشہور رکن
    شمولیت:
    ‏اگست 09، 2011
    پیغامات:
    1,173
    موصول شکریہ جات:
    434
    تمغے کے پوائنٹ:
    132

    یہ سوالات بھی آپ ہی کئے گئے ہیں کچھ یہاں بھی نظر کرم فرمادیں اور کاپی پیسٹ کا دھندہ تھوڑی دیر کے لئے موقوف فرمادیں میں مانتا ہوں آپ نے کاپی پیسٹ میں ماسٹر کی ڈگری لی ہوئی ہے
     
  4. ‏اگست 06، 2015 #74
    جوش

    جوش مشہور رکن
    شمولیت:
    ‏جون 17، 2014
    پیغامات:
    621
    موصول شکریہ جات:
    307
    تمغے کے پوائنٹ:
    127

    (ھذا من فضل ربی)کا لفظ ہی بتا رہا ہے کہ یہ تخت معجزانہ طور پر وہاں لایا گیا تھا اسی لئے سلیمان علیہ السلام نے فورا اس حقیقت کا اعتراف کیا کہ یہ میرے رب کا فضل ہے ورنہ مخلوق میں اتنی قدرت کہاں کہ چشم زدن میں تخت لاکر قدموں میں رکھدے ۔ایک مومن ایسے موقعوں پر اللہ کی قدرت پر اس کا شکر ادا کرتا ہے ۔یہاں پر مافوق الاسباب یا ماتحت الاسباب کا کوئی سوال ہی نہیں پیدا ہوتا ۔یہ اور اس جیسے دیگر واقعات اللہ کی قدرت کا مظہر ہیں ۔اسلاف میں سے کسی نے اس واقعہ کو مافوق الاسباب یا ما تحت الاسباب میں نہیں لیا ہے اور نہ ہی سلف میں سے کسی نے اس واقعہ کو مدد کے معنی میں شمار کیا ہے اور نہ ہی لفظ اس معنی پر دلالت کرتا ہے۔
     
  5. ‏اگست 07، 2015 #75
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    6,368
    موصول شکریہ جات:
    2,395
    تمغے کے پوائنٹ:
    791

    اس پوسٹ میں جہالت کے سبب ’‘ اپنے ماتحت کو حکم دینے ’‘ کا نام ’‘ مدد ’‘ رکھ دیا ہے ۔۔۔
    سیدنا سلیمان علیہ السلام کے قرآن میں بیان کئے گئے ’’ خصائص ’‘ اور ’‘ معجزات ’‘ کو حالت ایمان میں پڑھنے والا ۔۔ایسی بونگی نہیں مار سکتا ؛

    لیکن اس کا کیا جائے کہ جب ’’ قرآن ‘‘ کو اپنی کارنر میٹنگز ‘‘ میں تحریف زدہ قرار دینے والے اس کی آیات کو اپنے خود ساختہ ’’ عجمی ، فارسی ‘‘ عقائد کو ثابت کرنے کیلئے استعمال کرنے لگتے ہیں،۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔تو ایسی ہی بونگیاں سامنے آتی ہیں

    اس جہالت کے ازالہ کے لیئے ہم ۔۔سیدنا سلیمان علیہ السلام کے قرآن مجید میں بیان کئے گئے چند ’’ خصائص و معجزات ’‘ بیان کرتے ہیں :
    وَمِنَ الشَّيٰطِيْنِ مَنْ يَّغُوْصُوْنَ لَهٗ وَيَعْمَلُوْنَ عَمَلًا دُوْنَ ذٰلِكَ ۚ وَكُنَّا لَهُمْ حٰفِظِيْنَ (الانبیاء۔82)
    اسی طرح سے بہت سے شیاطین (یعنی سرکش جن ) بھی ہم نے اس کے تابع کئے تھے جو اس کے فرمان سے غوتے لگاتے تھے اور اس کے سوا بھی بہت سے کام کرتے تھے، ان کے نگہبان ہم ہی تھے ‘‘

    اور دوسرے مقام پر فرمایا :
    فَسَخَّرْنَا لَهُ الرِّيْحَ تَجْرِيْ بِاَمْرِهٖ رُخَاۗءً حَيْثُ اَصَابَ (سورہ ص۔36 )
    پس ہم نے ہوا کو ان کے ماتحت کردیا وہ آپ کے حکم سے جہاں آپ چاہتے نرمی سے پہنچا دیا کرتی تھی۔
    وَالشَّيٰطِيْنَ كُلَّ بَنَّاۗءٍ وَّغَوَّاصٍ ( 37)
    اور (طاقتور) جنات کو بھی (ان کے ماتحت کر دیا) ہر عمارت بنانے والے کو اور غوط خور کو ۔

    اور سوہ نمل میں فرمایا :
    وَحُشِرَ لِسُلَيْمٰنَ جُنُوْدُهٗ مِنَ الْجِنِّ وَالْاِنْسِ وَالطَّيْرِ فَهُمْ يُوْزَعُوْنَ ( 17)
    سلیمان کے سامنے ان کے تمام لشکر جنات اور انسان اور پرند میں سے جمع کئے گئے ، ہر ہر قسم الگ الگ درجہ بندی کردی گئی (٢)
    جناب حافظ صلاح الدین یوسف صاحب حفظہ اللہ اس آیت کے تحت لکھتے ہیں :
    ’’ اس میں حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی اس انفرادی خصوصیت و فضیلت کا ذکر ہے، جس میں وہ پوری تاریخ انسانیت میں ممتاز ہیں کہ ان کی حکمرانی صرف انسانوں پر ہی نہ تھی بلکہ جنات، حیوانات اور چرند پرند حتٰی کہ ہوا تک ان کے ماتحت تھی، اس میں کہا گیا ہے کہ سلیمان (علیہ السلام) کے تمام لشکر یعنی جنوں، انسانوں اور پرندوں سب کو جمع کیا گیا۔ یعنی کہیں جانے کے لئے یہ لاؤ لشکر جمع کیا گیا۔
    ( ٢ )یعنی سب کو الگ الگ گروہوں میں تقسیم (قسم وار) کردیا جاتا تھا، مثلًا انسانوں، جنوں کا گروہ، پرندوں اور حیوانات کا گروہ وغیرہ وغیرہ۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    اب جس بادشاہ کیلئے خصوصی طور پر ’’ہوا ۔۔جن ۔۔انس کے لشکر ۔۔اور سرکش جنات کے جتھے مسخر کردیئے گئے ہوں
    وہ اپنے ان ما تحتوں سے ۔۔استغاثہ ،وفریاد ۔۔کرے گا کہ کوئی میری مدد کرو ۔۔یہ تو انکی سخت توہین ہے ؛
    حق اور واضح بات تو یہ ہے کہ انہوں نے بحیثیت ’’حاکم نبی علیہ السلام ‘‘ اپنے ماتحت ،موجود حضرات جن میں جنات بھی تھے ،یہ پوچھا کہ تم میں سے کون ،اس ملکہ کا تخت ۔۔اس کے یہاں پہنچنے سے پہلے ،،میرے پاس لا سکتا ہے ؟

    ان کی اس بات کو ۔۔غیر اللہ سے استغاثہ ۔۔کی دلیل بنانا نری جہالت اور زبردستی ہے ؛
    کیونکہ اتنی سرعت سے پلک چھپکتے عرش کا وہاں آنا تو محض اللہ کی قدرت اور سلیمان علیہ السلام کا معجزہ تھا
    امام ابو حنیفہ کے سکہ بند مقلد ۔۔مشہور حنفی مفسر جناب ابو السعود ؒ اس آیت کریمہ کے ذیل میں لکھتے ہیں :
    ’’ {قَبْلَ أَن يَأْتُونِى مُسْلِمِينَ} لمَا أنَّ ذلكَ أبدعُ وأغربُ وأبعدُ من الوقوعِ عادةً وأدل على عظيم قدرة الله تعالى وصحَّةِ نبُّوتِه عليه الصَّلاة والسَّلام وليكونَ اختبارُها وإطلاعُها على بدائعِ المعجزاتِ في أولِ مجيئِها‘‘
    یعنی عرش کا ایسے اتنی جلد وہاں پہنچنا چونکہ عادۃً انتہائی انوکھا اور عجیب و غریب تھا،اور اللہ کی قدرت عظیمہ پر بہت بڑی دلیل تھا ۔اور سیدنا سلیمان کی نبوت کی حقانیت پر بھی بڑی دلیل تھا،(اس لئے ایسا کیا گیا )اور اس لئے بھی کہ اس ملکہ کو پہلی ملاقات میں امتحان لینا آزمانا ،اور معجزہ نبوی دکھانا مقصود تھا ‘‘

    (إرشاد العقل السليم إلى مزايا الكتاب الكريم )
    اور تقریباً یہی بات چھٹی صدی کے ’‘ معتزلی حنفی ’‘ علامہ زمخشری نے اپنی تفسیر ۔۔الکشاف ۔۔میں لکھی ہے

    اب آنکھیں کھول کر اس حنفی مفسر کے کلام کو دیکھو ،جو واضح لفظوں میں اس واقعہ کو قدرت الہی اور معجزہ پیمبر
    کی حیثیت دے رہے ہیں ؛
    اور نام کے حنفی اسے ۔۔جناب سلیمان ۔۔کا مدد مانگنا ۔۔کہہ رہے ہیں ۔۔انا للہ وانا الیہ راجعون

     
    Last edited: ‏اگست 07، 2015
  6. ‏اگست 07، 2015 #76
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    6,368
    موصول شکریہ جات:
    2,395
    تمغے کے پوائنٹ:
    791

    جناب رسول اکرم ﷺ کے خلیفہ بلا فصل ،خلیفہ اول ، امیر المومنین ،امام برحق سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ
    یقیناً ’’ صدیق ‘‘ ہیں ۔۔اور ان کو صدیق نہ ماننے والا بڑا کاذب، اور بے ایمان ہے ۔
    کیونکہ :
    قال النووي في تهذيب الأسماء: وأجمعت الأئمة على تسميته صديقًا. قال على بن أبي طالب ـ رضي الله عنه: إن الله تعالى هو الذي سمى أبا بكر على لسان رسول الله صلى الله عليه وسلم صديقًا، وسبب تسميته أنه بادر إلى تصديق رسول الله صلى الله عليه وسلم ولازم الصدق، فلم يقع منه هناة ولا وقفة في حال من الأحوال. هـ.
    علامہ نووی رحمہ اللہ تعالی ’’تہذیب الاسماء ‘‘ میں لکھتے ہیں:سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ ،کے صدیق ہونے پر امت مسلمہ کا اجماع ہے ،جناب علی ؓ کہتے ہیں :اللہ تعالی نے اپنے نبی ﷺ ۔کی زبان سے ابوبکر کو ۔۔صدیق ۔۔نام عطا فرمایا ،اور ۔۔صدیق ۔۔ہونے کا اعزاز انہیں دو سبب سے ملا ۔۔ایک تو جناب نبی مکرم ﷺ کی تصدیق میں پہل کیوجہ سے ،اور دوسرے ہمیشہ سچ کو لازم کرنے کی وجہ سے ،
    ونقل هذا الإجماع غير واحد من أهل العلم، كالسيوطي في تاريخ الخلفاء، وابن حجرالهيتمي في الصواعق المحرقة، والصالحي في سبل الهدى والرشاد.
    اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ ،کے صدیق ہونے پر امت مسلمہ کا اجماع ہونے کو کئی اہل علم نے نقل کر رکھا ہے،جیسا کہ سیوطی نے تاریخ الخلفاء میں
    اور ابن حجر ہیتمی نے صواعقہ محرقہ میں اور صالحی نے ۔۔سبل الھدی ۔۔میں ‘‘
     
  7. ‏اگست 07، 2015 #77
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    6,368
    موصول شکریہ جات:
    2,395
    تمغے کے پوائنٹ:
    791

    علامہ الزرقانی ( شرح الزرقاني على المواهب اللدنية بالمنح المحمدية ) میں لکھتے ہیں :

    وروى الطبراني برجال ثقات: أن عليًا كان يحلف بالله أن الله أنزل اسم أبي بكر من السماء الصديق وحكمه الرفع فلا مدخل فيه للرأي،،
    ترجمہ :
    امام طبرانی نے ثقہ روات سے نقل کیا ہے کہ:
    جناب علی رضی اللہ عنہ ۔۔اللہ کی قسم اٹھا کر فرمایا کرتے تھے۔۔ کہ :اللہ تعالی نے آسمان سے ابوبکر کا نام ۔۔الصدیق ۔۔نازل فرمایا ہے ۔۔زرقانی فرماتے ہیں :جناب علی کی یہ بات حکماً مرفوع ۔۔ہے (یعنی حکماً قول رسول ﷺ ہے )
    (یعنی لفظاً تو یہ قول علیؓ ہے ۔مگر ایسی بات صاحب وحی کے علاوہ کوئی نہیں بتا سکتا اور نہ ایسی بات میں رائے کا دخل ہو سکتا ہے ،تو لازماً یہ بات انہوں نے نبی کریم ﷺ سے سنی ہوگی )
     
    Last edited: ‏اگست 07، 2015
    • پسند پسند x 1
    • علمی علمی x 1
    • لسٹ
  8. ‏اگست 07، 2015 #78
    محمد عامر یونس

    محمد عامر یونس خاص رکن
    جگہ:
    karachi
    شمولیت:
    ‏اگست 11، 2013
    پیغامات:
    16,968
    موصول شکریہ جات:
    6,506
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,069

    آپ کا سوال نمبر ایک :

    کیا اللہ اور اس رسول کو ناراض کرکے کوئی جنت میں جاسکتا ہے ؟؟؟

    اللہ رب العزت نے فرمایا:

    ((وَالسَّابِقُونَ الْأَوَّلُونَ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنْصَارِ وَالَّذِينَ اتَّبَعُوهُمْ بِإِحْسَانٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ وَرَضُوا عَنْهُ وَأَعَدَّ لَهُمْ جَنَّاتٍ تَجْرِي تَحْتَهَا الْأَنْهَارُ خَالِدِينَ فِيهَا أَبَدًا ذَلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ)) [التوبة: 100].

    ترجمہ: اور جو مہاجرین اور انصار سابق اور مقدم ہیں اور جتنے لوگ اخلاص کے ساتھ ان کے پیرو ہیں اللہ ان سب سے راضی ہوا اور وہ سب اس سے راضی ہوئے اور اللہ نے ان کے لئے ایسے باغ مہیا کر رکھے ہیں جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی جن میں وہ ہمیشہ رہیں گے یہ بڑی کامیابی ہے۔


    پیارے نبی ﷺ کا فرمان :

    عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «اللَّهَ اللَّهَ فِي أَصْحَابِي، لَا تَتَّخِذُوهُمْ غَرَضًا بَعْدِي، فَمَنْ أَحَبَّهُمْ فَبِحُبِّي أَحَبَّهُمْ، وَمَنْ أَبْغَضَهُمْ فَبِبُغْضِي أَبْغَضَهُمْ، وَمَنْ آذَاهُمْ فَقَدْ آذَانِي، وَمَنْ آذَانِي فَقَدْ آذَى اللَّهَ، وَمَنْ آذَى اللَّهَ فَيُوشِكُ أَنْ يَأْخُذَهُ»روا الترمذي"

    میرے اصحاب کے بارے میں اللہ سے ڈرو اور میرے بعد ان کو ہدفِ طعن و ملامت نہ بنا لینا۔۔ اس لئے کہ جس نے ان (صحابہ) سے محبت رکھی اس نے میری محبت کی وجہ سے ان سے محبت رکھی جس نے ان سے عداوت کی اس نے میری ہی عداوت کی نظر سے ان سے عداوت کی اور جس نے انہیں (صحابہ کو) ایذا دی اس نے مجھے ایذا دی جس نے مجھے ایذا دی اس نے اللہ کو ایذا دی اور جس نے اللہ کو ایذا دی (تو اللہ) اس کو ضرور پکڑے گا (یعنی عذآب میں) ’’

    اس حدیث کو امام ترمذی اور امام احمد ؒ نے روایت کیا۔


    عن أبي هريرة - رضي الله عنه - أنه قال: قال رسولُ الله - صلى الله عليه وسلم -: «إن الله تعالى قال: من عادَى لي وليًّا فقد آذنتُه بالحربِ ..» الحديث.


    ترجمہ: ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اللہ کے رسولﷺ نے فرمایا: اللہ تعالی کا فرمان ہے: جس نے میرے ولی سے دشمنی کی میں اس سے اعلانِ جنگ کرتا ہوں۔

    عظمتِ صحابہ کے بارے میں احادیثِ نبویۃ :

    نبی مکرّم علیہ السلام نےاپنے کسی بھی صحابی کو گالی دینے، بُرا کہنے و سمجھنے سے سخت منع فرمایا ہے،اور یہ بھی فرمایا کہ کوئی بھی مسلمان اپنا سارا مال خرچ کرکے بھی میرے (رسول اکرمﷺکے) کسی بھی ادنیٰ سے صحابی کے رتبہ اور فضیلت کو نہیں پہنچ سکتا، حدیث یہ ہے:

    «لا تسبُّوا أصحابي؛ فلو أن أحدَكم أنفقَ مثلَ أُحدٍ ذهبًا ما بلغَ مُدَّ أحدهم ولا نصيفَه»؛ أخرجه الشيخان في "صحيحيهما".

    ترجمہ: میرے صحابہ کو گالی یا بُرا نہ کہنا، (جان لو کہ )تم میں سے کوئی بھی اُحد پہاڑ کے برابر سونابھی(صدقہ و خیرات میں ) خرچ کرلے تووہ اُن(صحابہ)میں سے کسی بھی ایک کے مکمل یا آدھے مُد (آدھا کلو یا ایک پاؤاناج کےخرچ کرنے کی فضیلت و مقام) تک بھی نہیں پہنچ سکتا

    (بخاری و مسلم)۔


    بے شک اللہ ان سے راضی ہو گیا



    کیا کسی بدعت کا موجد جنت میں جاسکتا ہے ؟؟؟




    [​IMG]
     
  9. ‏اگست 07، 2015 #79
    محمد علی جواد

    محمد علی جواد سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏جولائی 18، 2012
    پیغامات:
    1,986
    موصول شکریہ جات:
    1,495
    تمغے کے پوائنٹ:
    304

    کرے گر غیر بت کی پوجا تو کافر
    جو ٹھرائے بیٹا خدا کا تو کافر

    جھکے آگ پر بہر سجدہ تو کافر

    کواکب میں مانے کرشمہ تو کافر

    مگر مومنوں پر کشادہ ہیں راہیں

    پرستش کریں شوق سے جس کی چاہیں

    نبی کو چاہیں خدا کر دکھائیں

    اماموں کا رتبہ نبی سے بڑھائیں
     
    • پسند پسند x 1
    • متفق متفق x 1
    • لسٹ
  10. ‏اگست 07، 2015 #80
    بہرام

    بہرام مشہور رکن
    شمولیت:
    ‏اگست 09، 2011
    پیغامات:
    1,173
    موصول شکریہ جات:
    434
    تمغے کے پوائنٹ:
    132

    سوال چنا جواب گندم !!!
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں