1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

غيبت كا كفارہ

'توبہ' میں موضوعات آغاز کردہ از ابن قدامہ, ‏نومبر 24، 2015۔

  1. ‏نومبر 24، 2015 #1
    ابن قدامہ

    ابن قدامہ مشہور رکن
    جگہ:
    درب التبانة
    شمولیت:
    ‏جنوری 25، 2014
    پیغامات:
    1,772
    موصول شکریہ جات:
    421
    تمغے کے پوائنٹ:
    198

    حسن بصرى رحمہ اللہ تعالى كہتے ہيں:

    غيبت كا كفارہ يہ ہے كہ جس كى غيبت كى ہے اس كے ليے آپ استغفار كى دعا كريں. انتہى

    ديكھيں: مجموع الفتاوى ( 18 / 189 ).
     
  2. ‏نومبر 24، 2015 #2
    ابن قدامہ

    ابن قدامہ مشہور رکن
    جگہ:
    درب التبانة
    شمولیت:
    ‏جنوری 25، 2014
    پیغامات:
    1,772
    موصول شکریہ جات:
    421
    تمغے کے پوائنٹ:
    198

    @اسحاق سلفی بھائی یہ قول درست ہے یا نہیں
     
  3. ‏نومبر 25، 2015 #3
    ابوطلحہ بابر

    ابوطلحہ بابر مشہور رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    راولپنڈی
    شمولیت:
    ‏فروری 03، 2013
    پیغامات:
    663
    موصول شکریہ جات:
    835
    تمغے کے پوائنٹ:
    195

    اسحاق سلفی بھائی ہی اس کا جواب دیں گے البتہ میں آج تفسیر ابن کثیر میں اسی موضوع پر کام کر رہا تھا ،
    تفسیر ابن کثیر میں ہے:
    جمہور علماء کرام فرماتے ہیں غیبت گو کی توبہ کا طریقہ یہ ہے کہ وہ اس خصلت کو چھوڑ دے اور پھر سے اس گناہ کو نہ کرے پہلے جو کر چکا ہے اس پر نادم ہونا بھی شرط ہے یا نہیں ؟ اس میں اختلاف ہے اور جس کی غیبت کی ہے اس سے معافی حاصل کر لے ۔ ¤ بعض کہتے ہیں یہ بھی شرط نہیں اس لیے کہ ممکن ہے اسے خبر ہی نہ ہو اور معافی مانگنے کو جب جائے گا تو اسے اور رنج ہو گا ۔ پس اس کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ جن مجلسوں میں اس کی برائی بیان کی تھی ان میں اب اس کی سچی صفائی بیان کرے اور اس برائی کو اپنی طاقت کے مطابق دفع کر دے تو اولاً بدلہ ہو جائے گا ۔ حوالہ
     
    • شکریہ شکریہ x 1
    • پسند پسند x 1
    • مفید مفید x 1
    • لسٹ
  4. ‏فروری 14، 2016 #4
    ابوطلحہ بابر

    ابوطلحہ بابر مشہور رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    راولپنڈی
    شمولیت:
    ‏فروری 03، 2013
    پیغامات:
    663
    موصول شکریہ جات:
    835
    تمغے کے پوائنٹ:
    195

    Screenshot_25.png
     
  5. ‏فروری 15، 2016 #5
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    6,372
    موصول شکریہ جات:
    2,398
    تمغے کے پوائنٹ:
    791

    امام ابن کثیر (سورہ الحجرات کی اس آیت ۔ولا يغتب بعضكم بعضا أيحب أحدكم أن يأكل لحم أخيه ميتا فكرهتموه ۔)
    کی تفسیر میں لکھتے ہیں :

    والغيبة محرمة بالإجماع، ولا يستثنى من ذلك إلا ما رجحت مصلحته، كما في الجرح والتعديل والنصيحة، كقوله صلى الله عليه وسلم (2) ، لما استأذن عليه ذلك الرجل الفاجر: "ائذنوا له، بئس أخو العشيرة" ( رواه البخاري في صحيحه برقم (3132)) ، وكقوله لفاطمة بنت قيس -وقد خطبها معاوية وأبو الجهم-: "أما معاوية فصعلوك (4) ، وأما أبو الجهم فلا يضع عصاه عن عاتقه" ( رواه مسلم ) . وكذا ما جرى مجرى ذلك. ثم بقيتها على التحريم الشديد، وقد ورد فيها الزجر الأكيد (6) ؛ ولهذا شبهها تعالى بأكل اللحم من الإنسان الميت، كما قال تعالى: {أيحب أحدكم أن يأكل لحم أخيه ميتا فكرهتموه} ؟ أي: كما تكرهون هذا طبعا، فاكرهوا ذاك شرعا؛ فإن عقوبته أشد من هذا وهذا من التنفير عنها والتحذير منها،
    الغرض غیبت حرام ہے اور اس کی حرمت پر مسلمانوں کا اجماع ہے ۔ ‘‘
    لیکن ہاں شرعی مصلحت کی بنا پر کسی کی ایسی بات کا ذکر کرنا غیبت میں داخل نہیں جیسے جرح و تعدیل اور نصیحت و خیر خواہی جیسے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک فاجر شخص کی نسبت فرمایا تھا یہ بہت برا آدمی ہے اور جیسے کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا تھا معاویہ مفلس شخص ہے اور ابو الجہم بڑا مارنے پیٹنے والا آدمی ہے ۔ یہ آپ نے اس وقت فرمایا تھا جبکہ ان دونوں بزرگوں نے حضرت فاطمہ بنت قیس سے نکاح کا مانگا ڈالا تھا اور بھی جو باتیں اس طرح کی ہوں ان کی تو اجازت ہے باقی اور غیبت حرام ہے اور کبیرہ گناہ ہے ۔ اسی لئے یہاں فرمایا کہ جس طرح تم اپنے مردہ بھائی کا گوشت کھانے سے گھن کرتے ہو اس سے بہت زیادہ نفرت تمہیں غیبت سے کرنی چاہیے ۔
    كما قال، عليه السلام، في العائد في هبته: "كالكلب يقيء ثم يرجع في قيئه"، وقد قال: "ليس لنا مثل السوء". وثبت في الصحاح (7) والحسان والمسانيد من غير وجه أنه، عليه السلام، قال في خطبة [حجة] (8) الوداع: "إن دماءكم وأموالكم وأعراضكم عليكم حرام، كحرمة يومكم هذا، في شهركم هذا، في بلدكم هذا" (رواه مسلم في صحيحه برقم (1218) من حديث جابر رضي الله عنه.
    وقال (10) أبو داود: حدثنا واصل بن عبد الأعلى، حدثنا أسباط بن محمد، عن هشام بن سعد، عن زيد بن أسلم، عن أبي صالح، عن أبي هريرة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "كل المسلم على المسلم حرام: ماله وعرضه ودمه، حسب امرىء من الشر أن يحقر أخاه المسلم".
    ورواه الترمذي (11) عن عبيد بن أسباط بن محمد، عن أبيه، به (12) . وقال: حسن غريب.

    جیسے حدیث میں فرمان نبوی ہے اپنے دئیے ہوئے ہبہ کو واپس لینے والا ایسا ہے جیسے کتا جو قے کر کے چاٹ لیتا ہے اور فرمایا بری مثال ہمارے لئے لائق نہیں ۔ حجۃ الوداع کے خطبے میں ہے تمہارے خون مال آبرو تم پر ایسے ہی حرام ہیں جیسی حرمت تمہارے اس دن کی تمہارے اس مہینے میں اور تمہارے اس شہر میں ہے۔ ابو داؤد میں حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا فرمان ہے کہ مسلمان کا مال اس کی عزت اور اس کا خون مسلمان پر حرام ہے انسان کو اتنی ہی برائی کافی ہے کہ وہ اپنے دوسرے مسلمان بھائی کی حقارت کرے ۔
    وحدثنا عثمان بن أبي شيبة (13) ، حدثنا الأسود بن عامر، حدثنا أبو بكر بن عياش، عن الأعمش، عن سعيد بن عبد الله (14) بن جريج، عن أبي برزة الأسلمي قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "يا معشر من آمن بلسانه ولم يدخل الإيمان قلبه، لا تغتابوا المسلمين، ولا تتبعوا عوراتهم، فإنه من يتبع عوراتهم يتبع الله عورته ومن يتبع الله عورته يفضحه في بيته".
    اور حدیث میں ہے اے وہ لوگو جن کی زبانیں تو ایمان لاچکیں ہیں لیکن دل ایماندار نہیں ہوئے تم مسلمانوں کی غیبتیں کرنا چھوڑ دو اور ان کے عیبوں کی کرید نہ کیا کرو یاد رکھو اگر تم نے ان کے عیب ٹٹولے تو اللہ تعالیٰ تمہاری پوشیدہ خرابیوں کو ظاہر کر دے گا یہاں تک کہ تم اپنے گھرانے والوں میں بھی بدنام اور رسوا ہو جاؤ گے ،
    ۔۔۔۔۔
    ابن کثیر مزید لکھتے ہیں :
    قال الجمهور من العلماء: طريق المغتاب للناس في توبته أن يقلع عن ذلك، ويعزم على ألا يعود. وهل يشترط الندم على ما فات؟ فيه نزاع، وأن يتحلل من الذي اغتابه. وقال آخرون: لا يشترط أن يتحلله فإنه إذا أعلمه بذلك ربما تأذى أشد مما إذا لم يعلم بما كان منه، فطريقه إذا أن يثني عليه بما فيه في المجالس التي كان يذمه فيها، وأن يرد عنه الغيبة بحسبه وطاقته، فتكون تلك بتلك،

    جمہور علماء کرام فرماتے ہیں :

    ’’ غیبت گو کی توبہ کا طریقہ یہ ہے کہ وہ اس خصلت کو چھوڑ دے اور پھر سے اس گناہ کو نہ کرے پہلے جو کر چکا ہے اس پر نادم ہونا بھی (قبولیت توبہ کیلئے ) شرط ہے یا نہیں ؟ اس میں اختلاف ہے اور جس کی غیبت کی ہے اس سے معافی حاصل کر لے ۔ بعض کہتے ہیں یہ بھی شرط نہیں اس لیے کہ ممکن ہے اسے خبر ہی نہ ہو اور معافی مانگنے کو جب جائے گا تو اسے اور رنج ہو گا ۔ پس اس کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ جن مجلسوں میں اس کی برائی بیان کی تھی ان میں اب اس کی سچی صفائی بیان کرے اور اس برائی کو اپنی طاقت کے مطابق دفع کر دے تو اس طرح اس غیبت کا بدلہ ہو جائے گا ‘‘
     
    Last edited: ‏فروری 15، 2016
    • پسند پسند x 2
    • شکریہ شکریہ x 1
    • لسٹ
  6. ‏فروری 15، 2016 #6
    محمد طارق عبداللہ

    محمد طارق عبداللہ سینئر رکن
    جگہ:
    ممبئی - مہاراشٹرا
    شمولیت:
    ‏ستمبر 21، 2015
    پیغامات:
    2,387
    موصول شکریہ جات:
    715
    تمغے کے پوائنٹ:
    224

    جزاک اللہ خیرا
     
  7. ‏فروری 16، 2016 #7
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    6,372
    موصول شکریہ جات:
    2,398
    تمغے کے پوائنٹ:
    791

    اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

    ﴿يـٰأَيُّهَا الَّذينَ ءامَنُوا اجتَنِبوا كَثيرً‌ا مِنَ الظَّنِّ إِنَّ بَعضَ الظَّنِّ إِثمٌ ۖ وَلا تَجَسَّسوا وَلا يَغتَب بَعضُكُم بَعضًا ۚ أَيُحِبُّ أَحَدُكُم أَن يَأكُلَ لَحمَ أَخيهِ مَيتًا فَكَرِ‌هتُموهُ ۚ وَاتَّقُوا اللَّهَ ۚ إِنَّ اللَّهَ تَوّابٌ رَ‌حيمٌ ﴿١٢﴾... سورةالحجرات


    کہ"اے لوگو جو ایمان لائے ہو!بہت گمان کرنے سے پرہیز کرو کیونکہ بعض گمان گناہ ہوتے ہیں۔تجسس نہ کرو۔اور تم میں سے کوئی کسی کی غیبت نہ کرے۔کیا تمہارے اندر کوئی ایسا ہے جو اپنے مرے ہوئے بھائی کا گوشت کھانا پسند کرے؟دیکھو تمھیں خود یہ ناپسند ہے۔(پس ) اللہ سے ڈرو،اللہ بڑا توبہ قبول کرنے والا مہربان ہے!"

    توجہ طلب:

    اس فقرے میں اللہ تعالیٰ نے غیبت کو مرے ہوئے بھائی کا گوشت کھانے سے تشبیہ دے کر اس فعل کے انتہائی گھناؤنا ہونے کا تصور دلایا ہے۔مردار کا گوشت کھانا بجائے خود نفرت کے قابل ہے،کجاکہ وہ گوشت بھی کسی جانور کا نہیں بلکہ انسان کا ہو۔اور انسان بھی کوئی اور نہیں خوداپنا بھائی ہو۔پھر اس تشبیہ کو سوالیہ انداز میں پیش کرکے اور زیادہ موثر بنا دیا گیا ہے۔تاکہ ہر شخص اپنے ضمیر سے پوچھ کر فیصلہ کرے کہ آیا وہ اپنے مرے ہوئے بھائی کا گوشت کھانے کےلئے تیار ہے؟اگر نہیں ہے اور اس کی طبیعت اس چیز سے گھنِ کھاتی ہے تو آخر وہ کیسے یہ بات پسند کرتا ہے کہ اپنے ایک مومن بھائی کی غیر موجودگی میں اس کی عزت پر حملہ کرے جہاں وہ اپنی مدافعت نہیں کرسکتا اور جہاں اس کو یہ خبر تک نہیں ہے کہ اس کی بے عزتی کی جارہی ہے؟
    اس ارشاد سے یہ بات معلوم ہوئی کہ غیبت کے حرام ہونے کی بنیادی وجہ اس شخص کی دل آزاری نہیں ہے جس کی غیبت کی گئی ہو ،بلکہ کسی شخص کی غیر موجودگی میں اس کی بُرائی بیان کرنا بجائے خود حرام ہے۔قطع نظر اس سے کہ اس کو اس کا علم ہو یا نہ ہو اور اس کو اس فعل سے اذیت پہنچے یا نہ پہنچے۔ظاہر ہے کہ مرے ہوئے بھائی کا گوشت کھانا اس لئے حرام نہیں ہے کہ مُردے کو اس سے تکلیف ہوتی ہے۔مُردہ بے چارہ تو اس سے بے خبر ہوتا ہے کہ اس کے مرنے کے بعد کوئی اس کی لاش کو بھنبھوڑ رہا ہے۔مگر یہ فعل بجائے خود ایک گھناؤنا فعل ہے۔
    اسی طرح جس شخص کی غیبت کی گئی ہو اس کو بھی اگر کسی ذریعہ سے اس کی اطلاع نہ پہنچے تو وہ عمر بھر اس بات سے بے خبر رہے گا۔کہ کہاں کس شخص نے کب اس کی عزت پر کن لوگوں کے سامنے حملہ کیا تھا اور اس کی وجہ سے وہ کس کس کی نظر میں وہ ذلیل وحقیر ہوکر رہ گیا ہے ؟
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں