1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

غیرمقلدین کیلئے لمحہ فکریہ

'تقلید واجتہاد' میں موضوعات آغاز کردہ از جمشید, ‏اکتوبر 26، 2012۔

  1. ‏اکتوبر 26، 2012 #1
    جمشید

    جمشید مشہور رکن
    شمولیت:
    ‏جون 09، 2011
    پیغامات:
    873
    موصول شکریہ جات:
    2,325
    تمغے کے پوائنٹ:
    180

    ترک تقلید کی تحریک کوئی بہت پرانی نہیں ہے بالخصوص برصغیر ہندوپاک میں اس کا سلسلسہ ڈیڑھ صدی سے زیادہ قدیم نہیں ہے۔ جب تک انسان اہل علم کی اطاعت تقلید کرتارہااورجواہل علم تھے وہ اپنے علم کی حدود میں اپنے پیشرئوں سے اختلاف کرتے رہے معاملہ بخیرتھا لیکن جب سے ترک تقلید نے ایک تحریک کی صورت اختیار کی اورہرکہہ ومہ کو یہ اختیار دیاکہ وہ اپنی عقل اپنے فہم اوراپنے علم پر بھروسہ کرے تب سے فتنوں کا نیادروازہ کھل گیا اورہرشخص مجتہد بننے کا خواب دیکھنے لگا
    اقبال علیہ الرحمہ نے ایک زمانے میں کہاتھا۔
    تقلید کی روش سے توبہترہے خودکشی
    لیکن پھر بعد میں انہیں ہی یہ بھی کہناپڑ
    زاجتہاد عالمان کم نظر
    اقتداء بارفتگاں اولی اتراست​
    یہ کہنے کی ضرورت نہیں ہے کہ اقبال کو اس نتیجے پر کن واقعات نے پہنچایاہوگا اوران کی دوراندیش نگاہوں نے کن خطروں کو بھانپا
    عوام کیلئے تقلید کیوں ضروری ہے اوراس تقلید کوبھی صرف چارمسالک ممیں کیوں منحصر کردیاگیاہے اس کی وجہ مشہور مورخ اورعمرانیات کے بانی ابن خلدون کی زبانی سنئے


    تقلید پر کیوں اکتفاء کیاگیا​
    تقلید ان ہی چارمدارس فقہ میں منحصر ہوکر رہ گئی۔ اوراس باب میں نزاع وخلاف کا دروازہ بند کردیاگیا۔اس رکاوٹ اوراقرارعجز کی وجہ یہ تھی کہ فقہی اصطلاحات کی کثرت،رتبہ اجتہاد پر فائز نہ ہونے کے خطرے اوراندیشے نے کہ مبادالوگ ایسے لوگوں کی اطاعت کرنے لگیں اورایسے لوگوں کو امام فقہ ٹھرانے لگیں کہ نہ جن کی رائے پر بھروسہ ہوسکتاہے اورنہ ان کے دین پر اعتماد کیاجاسکتاہے۔اس بناء پر اجتہاد سے روک دیاگیااورکہاگیاکہ ان چاروں میں سے کسی ایک کی ہی تقلید کی جائے۔
    چنانچہ اب حاصل فقہ یہ ہے کہ لوگ دیکھ لیں کہ یہ اصول جن کو ہم نقل کررہے ہیں آیاان ائئمہ تک بہ سند پہنچے ہیں یانہیں۔ اس سے زیادہ نہیں
    اورکسی مدعی اجتہاد کی بات اس باب میں نہیں سنی جائے گی کیونکہ اس سے خطرہ ہے کہ دین بازیچہ اطفال نہ بن جائے۔


    بحوالہ افکار ابن خلدون صفحہ٢٢٢
     
    • شکریہ شکریہ x 3
    • غیرمتفق غیرمتفق x 1
    • لسٹ
  2. ‏اکتوبر 26، 2012 #2
    شاکر

    شاکر تکنیکی ناظم رکن انتظامیہ
    جگہ:
    جدہ
    شمولیت:
    ‏جنوری 08، 2011
    پیغامات:
    6,595
    موصول شکریہ جات:
    21,360
    تمغے کے پوائنٹ:
    891

    جمشید صاحب،
    ہمارے لئے لمحات فکریہ کے ببول چننے کی بجائے، اپنا کوئی ایک موقف تو طے کر لیں۔ جب اپنے مسلک کو آئمہ کی عظمت کے بیان کے ساتھ کیش کروانے کی ضرورت ہوتی ہے تو چار آئمہ کی شان میں قصیدے پڑھے جاتے ہیں اور جب آپ خود کو تقلید شخصی کے اثبات کے لئے دلائل کے میدان میں نہتا پاتے ہیں تو اسے تقلید حکمی کہہ کر گلوخلاصی کرانے لگ جاتے ہیں۔ ابن خلدون کے مطابق حاصل فقہ تو یہ ہے کہ:
    سوال یہ ہے کہ آپ اپنی کتنے فیصدی فقہ امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ سے بسند صحیح ثابت کر سکتے ہیں؟
    دوسرا سوال یہ ہے کہ نجات کا مدار تو عقائد پر ہے اور اعمال یا فقہ اس کے تحت ہیں۔ آپ کے بارے میں معلوم نہیں کہ عقائد میں "غیر مقلد" ہیں یا "اشعری" ، "ماتریدی" وغیرہ ہیں۔
    • اگر "غیر مقلد" ہیں تو مبارک ہو آپ ہمارے لئے جس لمحہ فکریہ کی فکر میں مبتلا ہیں، اس کی زد میں خود بھی آتے ہیں۔
    • اور اگر آپ عقائد میں اشعری ماتریدی وغیرہ ہیں۔ تو فرصت کے چند لمحات ڈھونڈ کر خود پر افسوس ہی کر لیجئے کہ چار آئمہ کی ہر دم مالا جپنے کے باوجود عقائد کے میدان میں آپ بھی ہر کہ و مہ کے مقلد ہیں۔
    رہی ہماری بات۔ تو محترم، گزشتہ چند روز سے فورم پر جاری مباحث میں مجھے ایک اطمینان تو ہو گیا ہے۔ کہ
    1۔ دیوبندیوں کے نزدیک بھی، اہلحدیث سے لاکھ اختلافات کے باوجود، اہلحدیث کے عقائد میں کوئی کفریہ شرکیہ عقیدہ نہیں ہے۔ کم سے کم دور حاضر کے اہلحدیث کی اکثریت (جس سے میں تعلق رکھتا ہوں) میں نہیں ہے۔
    2۔ جبکہ اہلحدیث کے نزدیک، دیوبندیوں کے بعض عقائد کفر و شرک کی حد تک پہنچتے ہیں۔

    میرے اطمینان کی وجہ یہ بھی ہے کہ میں اب بھی ذاتی طور پر اہلحدیث کے بعد کسی فرقہ کو اسلام کے قریب سمجھتا ہوں تو وہ دیوبندی ہیں۔ اور ان کی جانب سے ہمارے عقائد کے بارے میں یہ شہادت کافی اہم ہے۔ لہٰذا میں جس بزنس سے منسلک ہوں، اس کی اصطلاح میں ہم زیادہ "محفوظ حالت" میں ہیں۔ ان شاء اللہ۔ باقی اہل حدیث کے نزدیک الحمدللہ، دلیل کی پیروی ہی دین ہے۔ نا کہ آئمہ دین کی۔ وہ خود اسی دلیل کی پیروی کیا کرتے تھے۔ رہی ہر کہ و مہ کے اجتہاد کی بات۔ تو جمشید صاحب، کبھی غور کیجئے گا۔ جس قدر اجتہاد اہلحدیث کرتے ہیں اس سے کہیں بڑھ کر دیوبندی علماء کرتے ہیں۔ فرق صرف یہ ہے کہ اہلحدیث علماء کو اس لئے اجتہاد کرنا پڑتا ہے کہ وہ درست شرعی حکم تک پہنچ سکیں۔ اور دیوبندی علماء کا اجتہاد اس بنا پر ہوتا ہے کہ اپنے امام سے "منسوب" قول کو دلائل مہیا کر سکیں۔
    ورنہ جس قسم کے مسائل پر اہلحدیث علماء نے کتاب و سنت کے دلائل سے کتب لکھی ہیں۔ ان میں سے کون سا ایسا مسئلہ ہے جس کو دیوبندی علماء نے اس وجہ سے "ٹچ" نہ کیا ہو کہ ہم اجہتاد کے لائق نہیں؟


    برسبیل تذکرہ یہ بھی بتا دیجئے کہ اقبال کے بارے میں آپ کو الہام ہوا ہے یا کوئی دلیل بھی ہے کہ ترک تقلید والا شعر پہلے کا ہی ہے ؟ اور معاملہ اس کے برعکس نہیں ہے؟
     
  3. ‏اکتوبر 26، 2012 #3
    ابو مالک

    ابو مالک رکن
    شمولیت:
    ‏اگست 05، 2012
    پیغامات:
    115
    موصول شکریہ جات:
    453
    تمغے کے پوائنٹ:
    57

    اُلٹا چور کوتوال کو ڈانٹے!

    یہ آپ کی غلط فہمی اور حقائق کو موڑنے والی بات ہے۔ ترکِ تقلید کی ابتداء نزول قرآن کے ساتھ ہی ہوگئی تھی، جب اللہ رب العٰلمین نے فرمایا تھا:

    ﴿ وَإِذا قيلَ لَهُمُ اتَّبِعوا ما أَنزَلَ اللَّـهُ قالوا بَل نَتَّبِعُ ما أَلفَينا عَلَيهِ ءاباءَنا ۗ أَوَلَو كانَ ءاباؤُهُم لا يَعقِلونَ شَيـًٔا وَلا يَهتَدونَ ١٧٠ ﴾ ۔۔۔ سورة البقرة
    ﴿ اتَّبِعوا ما أُنزِلَ إِلَيكُم مِن رَ‌بِّكُم وَلا تَتَّبِعوا مِن دونِهِ أَولِياءَ ۗ قَليلًا ما تَذَكَّر‌ونَ ٣ ﴾ ۔۔۔ سورة الأعراف
    ﴿ اتَّخَذوا أَحبارَ‌هُم وَرُ‌هبـٰنَهُم أَر‌بابًا مِن دونِ اللَّـهِ وَالمَسيحَ ابنَ مَر‌يَمَ وَما أُمِر‌وا إِلّا لِيَعبُدوا إِلـٰهًا وٰحِدًا ۖ لا إِلـٰهَ إِلّا هُوَ ۚ سُبحـٰنَهُ عَمّا يُشرِ‌كونَ ٣١ ﴾ ۔۔۔ سورة التوبة
    ﴿ وَما أَر‌سَلنا مِن قَبلِكَ إِلّا رِ‌جالًا نوحى إِلَيهِم ۚ فَسـَٔلوا أَهلَ الذِّكرِ‌ إِن كُنتُم لا تَعلَمونَ ٤٣ بِالبَيِّنـٰتِ وَالزُّبُرِ‌ ۗ ﴾ ۔۔۔ سورة النحل


    آپ کو خود معلوم ہے کہ تقلید کا لفظ قابلِ مذمت ہے، لہٰذا آپ کو خود اس کے ساتھ اطاعت کا لفظ استعمال کرنا پڑا، میرے بھائی! للہ تعصّب کو چھوڑ دیجئے، یہ ہمیں کسی کام کا نہیں چھوڑے گا۔

    دل کے بہلانے کو غالب یہ خیال اچھا ہے!

    یہ ترکِ تقلید کی آپ کی خانہ ساز تشریح ہے۔

    فرمانِ الٰہی: ﴿ فَسـَٔلوا أَهلَ الذِّكرِ‌ إِن كُنتُم لا تَعلَمونَ ٤٣ بِالبَيِّنـٰتِ وَالزُّبُرِ‌ ۗ ﴾ ۔۔۔ سورة النحل اور فرمانِ نبوی: «ألا سألوا إذا لم يعلموا، فإنما شفاء العي السؤال » ۔۔۔ صحيح أبي داؤدہمارے لئے مشعلِ راہ ہے۔

    ظاہر ہے کہ نصوص کی عدمِ دستیابی پر اس قسم کے فلسفوں کیلئے قائد محمد علی جناح یا ڈاکٹر محمد اقبال کے ’اقوال زرّیں‘ ہی سب سے بڑی دلیل ہیں۔

    یہاں شیوخ الحدیث بھی عوام کالانعام میں شامل ہیں۔

    کس نے منحصر کیا؟؟؟ اپنے اپنے مسالک کے متعصّبین نے؟ یہ سب تو آپ کے نزدیک بھی حجّت نہیں، تو اہل الحدیث کو ان کی تقلید پر کیوں مجبور کیا جا رہا ہے؟؟؟

    آپ تو ایسے بات کر رہے ہیں کہ جیسے کسی آسمانی وحی نے تقلید کو چار مسالک میں منحصر کر دیا ہے؟؟؟ کیا آپ کے پاس اپنے اس موقف کی کوئی دلیل ہے؟؟؟

    گویا اجتہاد کا دروازہ بند! اس سارے ڈھگوسلے کی کوئی دلیل؟؟؟
     
  4. ‏اکتوبر 26، 2012 #4
    جمشید

    جمشید مشہور رکن
    شمولیت:
    ‏جون 09، 2011
    پیغامات:
    873
    موصول شکریہ جات:
    2,325
    تمغے کے پوائنٹ:
    180

    شاعر نے کہاہے

    گلشن پرست ہوں مجھے گل ہی نہیں عزیز
    کانٹوں سے بھی نباہ کئے جارہاہوں میں


    لہذا میرے لئے یہ ضروری ہوجاتاہے کہ اپنے گلستاں کو عزیز رکھنے کے ساتھ ساتھ جوبھائی ببول کے خاروں میں پھنسے ہیں ان کی جانب بھی توجہ کی جائے اورفکر ونظرکی جس گمراہی میں وہ مبتلاہیں اس کو ان پر واضح کیاجائے کیاپتہ کسی کادل اس سے اثرلے ۔

    ویسے یہ تحریر اصلاان صاحب کے جواب میں ہے جو مقلدین کو غوروفکر کی دعوت دے رہے تھے توان کو فکر کے کچھ لمحات مہیاکئے گئے ہیں کہ وہ اس میں اپنے موقف پر سنجیدگی سے غورکریں ۔ اشارہ توسمجھ ہی گئے ہوں گے اگرعاقلی ایک اشارہ بسست

    چاروں ائمہ کی عظمت ہماری قصیدہ گوئی کی محتاج نہیں ہے کہ جب ہم قصیدہ پڑھیں گے توان کی عزت بڑھے گی ؟
    بات جہاں تک تقلید شخصی اورتقلید حکمی کی ہے توثابت کردیجئے کہ اس کو تقلید حکمی کہناغلط ہے اوریہ تقلید شخصی ہی ہے ۔

    ہاتھ کنگن کو آرسی کیا اورپڑھے لکھے کو فارسی کیا توفورا اس موضوع پرخامہ فرسائی کرکے ثبوت دے دیجئے کہ آپ پڑھے لکھے بھی ہیں اورفارسی بھی جانتے ہیں ۔




    جواب یہ ہے کہ آپ کو کتنے فیصدی چاہئے ۔ اوراسی کے ساتھ سوال یہ ہے کہ فقہ مین ’’سند صحیح‘‘ سے کیامراد ہے ۔ یہ آج کل کے جید جاہلین کو جوچھوڑاہواشوشہ ہے کہ فقہ میں سند صحیح چاہئے وہ دیگر متقدمین علماء کی روش اورطرز پر غورکریں اورویسے ایک اورنصیحت جو وہ دوسروں کو کرتے رہتے ہیں یاایسے مراسلات پر شکریہ کے بٹن دباتے رہتے ہیں کہ اگرسابق میں کسی اہل علم کے ذہن میں اس طرح کا اعتراض نہیں آیاتوآپ کا یہ اعتراض بھی بے کار اوربکواس ہے کبھی اپنے اس خیال پر بھی اسی بکواسی حیثیت سے نظرڈال لیں کہ ماضی کے اجلہ علماء نے جس سند صحیح کامطالبہ نہیں کیا اس کامطالبہ کرنے والے دورجدید کے یہ فرقہ شاذہ قلیلہ منبوذہ ہے کون !

    دوسری بات جو عقائد کی چھیڑی ہے توبراہ کرم موضوع کو خلط ملط نہ کریں منتظم کی حیثیت سے توخود اس کا خیال رکھناچاہئے کہیں ایساتو نہیں ہے کہ باڑھ ہی کھیت کھانے لگی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


    علامی شبلی نعمانی علیہ الرحمہ مولاناحالی کی ’’حیات جاوید‘‘ جو سرسید کے حالات زندگی پر لکھی گئی تھی ،کومدلل مداحی اورکتاب المناقب کہاکرتے تھے ۔ اسی طرح آپ کے جن جملوں کو راقم نے کوٹ کیاہے اس سے مجھے معلوم ہے کہ جہالت کی ایک قسم مدلل جہالت کی بھی ہے۔ یہ جہالت والی بات اس تبصرہ کے تعلق سے کہی گئی ہے آپ کو نہیں کہی گئی ہے ۔ کیونکہ جس طرح یہ عین ممکن ہے کہ ایک شخص کفریہ عقیدہ کا حامل ہو لیکن معین طورپر اسے کافرنہ کہاجائے توبعینہ یہ بھی ممکن ہے کہ کسی کا کوئی اقتباس مدلل جہالت ہو لیکن شخص مذکور کو جاہل نہ کہاجائے۔

    خلاصہ آپ کی تحریر کا یہ ہے کہ
    ١ دیوبندی اہل حدیث کے عقائد کو شرکیہ نہیں کہتے
    ٢ اہل حدیث دیوبندیوں کے بعض عقائد کو شرکیہ کہتے ہیں

    ٣ نتیجہ یہ نکلاکہ اہل حدیث’’محفوظ حالت ‘‘ میں ہیں۔​


    لیکن ظاہر سی بات ہے کہ اس طرح کے استنباطات سے وہی شخص متاثریامحظوظ ہوسکتاہے جس کی فرق وملل پر نگاہ نہیں ہے ۔
    اسی اصول پر استنباط کریں کہ



    صحابہ کرام اورتابعین عظام خارجیوں کو گمراہ سمجھتے تھے
    خارجی صحابہ کرام کوکافرسمجھتے تھے

    نتیجہ ’’محفوظ حالت میں خارجی ہوئے (اناللہ واناالیہ راجعون)​



    چلئے خارجیوں کی بات توماضی کی ہوگئی

    دورحاضر میں ایک فرقہ جوخود کو توحید کا داعی کہتاہے لیکن دیگر لوگ اس کو تکفیری کہتے ہیں



    دورحاضر میں کچھ گروپ ایسے ہیں جو عام مسلمانوں کوکافر مان کر ان کی جان لینادرست سمجھتے ہیں
    جمہور علماء ایسے گروپ کو گمراہ سمجھتے ہیں

    محفوظ حالت میں کون ہوا ​



    اس منطق اوراصول کا تقاضاہواکہ جوشدت پسند ہیں وہ محفوظ حالت میں اورجوبے چارے معتدل ہیں وہ حالت جنگ میں

    دیوبندی حضرات اپنے اسی اعتدال اورمیانہ روی کی وجہ سے ایک طرف بریلیوں کی تنقید کانشانہ بنتے ہیں کہ یہ وہابی ہیں
    اوراہل حدیث حضرات انہیں شرکیہ اورکفریہ عقائد کا حامل سمجھتے ہیں
    زاہد تنگ نظرنے مجھے کافرجانا
    اورکافریہ سمجھتاہے کہ مسلمان ہوں میں

    یہ توہوا دعویٰ اس دعوی کی دلیل کیاہے ۔ ویسے یہ اقتباس شاہد نذیرسے متاثرہ جملے لگ رہے ہیں وہ بھی اسی طرح کے اوٹ پٹانگ دعوے کیاکرتے ہیں اوردلیل کچھ نہیں بس اپوزیشن پارٹی کا حال ہے کہ کچھ بھی بول دو بولنا ہے ۔ ویسے اہل حدیث علماء اجتہاد بھی کرتے ہیں ان کے اجتہاد کے کچھ نمونے توپیش کیجئے گاکس طرح کے اجتہاد ہوتے ہیں یاپھر کاپی پیسٹ ہواکرتاہے
    کاپی پیسٹ سے ناراض ہونے کی ضرورت نہیں ہے مراد یہ ہے کہ
    کچھ شوافع سے لیا کچھ مالکیہ سے اخذ کیا کچھ حنابلہ سے استمداد کیا اورحنفیہ کے سامنے پیش کیا دیکھو یہ ہوتاہے ہمارااجتہاد لیکن ظاہر سی بات ہے کہ یہ اجتہاد نہیں بلکہ ’’مانگے کا اجالا‘‘ہے

    اورمانگے کے اجالے کو اپنی روشنی سمجھنے والے یاتوغاصب ہوتے ہیں یاپھر احمق ۔


    سبحان اللہ کیاشاندار مغالطہ ہے اسی کو بدل کرہمارسوال یہ ہے کہ اہل حدیث علماء نے کتاب وسنت کے دلائل سے مملو،لبریز لبالب بلکہ لبالب سے بھی زیادہ بھرکر چھلکتی ہوئی جوکتابیں لکھی ہیں ان میں سے کون سامسئلہ ایسابیان کیاہے جس کو فقہائے احناف پہلے ہی’’ ٹچ‘‘ نہیں کرچکے ہیں ۔

    پوری کتاب وسنت لائبریری کے ماشاء اللہ مختارکل ہیں توذرا ادب وشعر کی کتابیں پڑھیں، اقبال پر لکھی گئی کتابوں کا مطالعہ کریں اقبال کا اول الذکر شعر جس کتاب میں ہے اورثانی الذکر جس کتاب میں اس کو جاننے کی کوشش کریں۔ اقبال کے ذہن وفکر اورآخر میں ان کے خیالات کیاتھے اس کو سمجھنے کی کوشش کریں توانشاء اللہ یہ عقدہ لاینحل نہیں رہے گابلکہ حل ہوجائے گا۔ اگرچہ اس میں تھوڑی سے زحمت ہوگی لیکن دلیل کی رٹ لگانے والوں کو اتنی تھوڑی سے تکلیف توگواراکرناچاہئے
    کیونکہ اگرچہ حقیقت نہیں کم ازکم نام کاتوپردہ پڑارہے ۔ اگرنام کا جوپردہ ہے وہ بھی چاک ہوگیا توساری ساکھ جو ماضی قریب سے اب تک بڑی محنت سے ’’دلیل کی اتباع ‘‘کے نام سے بنائی گئی ہے وہ لمحوں میں پادر ہواہوجائے گی

    اورشاعر کہنے پر مجبور ہوجائے گاکہ
    لمحوں نے خطاکی تھی صدیوں نے سزاپائی ​
    یاپھر فارسی شاعر کے الفاظ میں
    یک لمحہ غافل بودم صد سالہ راہم دور شد​

    امید ہے کہ یہ جواب جوآپ کی ہی ’’بحر‘‘اورردیف وقافیہ میں دیاگیاہے خاطراقدس پر گراں نہ گزرے گا
    والسلام
     
  5. ‏اکتوبر 26، 2012 #5
    خضر حیات

    خضر حیات علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    طابہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 14، 2011
    پیغامات:
    8,777
    موصول شکریہ جات:
    8,337
    تمغے کے پوائنٹ:
    964

    شاکر بھائی اور ابو مالک بھائی کی مشارکات سے آپ کو اندازا ہوگیا ہوگا کہ اس سلسلےمیں ہم کافی غورو خوض اور فکر کر چکے ہیں ۔البتہ جس مشارکت کے جوا ب کا آپ دعوی کر رہے ہیں وہ ہنوز آپ کی منتظر کھڑی ہے ۔
    http://www.kitabosunnat.com/forum/ت...د-کو-دعوت-غور-و-فکر-۔۔۔-از-امام-محمد-بن-9091/
     
  6. ‏اکتوبر 28، 2012 #6
    جمشید

    جمشید مشہور رکن
    شمولیت:
    ‏جون 09، 2011
    پیغامات:
    873
    موصول شکریہ جات:
    2,325
    تمغے کے پوائنٹ:
    180

    شاید اس تھریڈ میں بین السطور پیغام جوپوشیدہ تھا وہ آپ تک نہیں پہنچا۔ایساہوتاہے کچھ لوگوں کو ہرچیز کھول کھول کر بیان کرنی پڑتی ہے اشارات کنایات ان کے پلے نہیں پڑتا
    آپ نے ایک اقتباس پیش کیا ۔ جس میں مقلدوں کو دعوت اجتہاد دیاگیاہے
    دوسرااقبتاس ہم نے پیش کیا جس میں غیرمقلدوں کو حد میں رہنے کی دعوت یعنی تقلید کی دعوت دی گئی ہے
    گزارش یہ ہے کہ محض کسی کا کوئی اقتباس پیش کردینا علمی مباحث میں مفید نہیں ہاں اگریہ چیز ازقبیل فوائد ہوتو دوسری بات ہے یعنی مقصود صرف اس قدر ہوکہ قارئین ایک نئی بات معلوم کرسکیں۔
    لہذا یہ اقتباس کا کھیل چھوڑ کر کوئی مفید کام کریں ورنہ ایسے اقتباسات ہمارے پاس بہت زیادہ پڑے ہوئے ہیں اورانشاء اللہ وقتافوقتااسے شیئر بھی کیاجاتارہے گا ۔ والسلام
     
  7. ‏اکتوبر 28، 2012 #7
    شاکر

    شاکر تکنیکی ناظم رکن انتظامیہ
    جگہ:
    جدہ
    شمولیت:
    ‏جنوری 08، 2011
    پیغامات:
    6,595
    موصول شکریہ جات:
    21,360
    تمغے کے پوائنٹ:
    891

    بعض لوگوں کو ہر بات کھول کر بیان کرنی پڑتی ہے۔ ایسا ہوتا ہے، کچھ لوگ اشاروں کنایوں کی بات سمجھنے سے خود معذور ہوتے ہیں اور دوسروں کو ہمہ وقت اسی کا طعنہ دیتے نظر آتے ہیں ۔چاروں ائمہ کی عظمت تو واقعی آپ کی قصیدہ گوئی کی محتاج نہیں اور نہ ہم نے اس پر اعتراض ہی کیا ہے۔ اصل اعتراض یہ تھا کہ اپنے مسلک کی سچائی اور حقانیت کے ثبوت کے لئے ان شخصیتوں کی شان میں قصیدے پڑھتے ہیں، گویا کہ ان شخصیات کی عظمت، بجائے خود آپ کے مسلک کی حقانیت کو مسلم ہے اور جب یہ پوچھا جاتا ہے کہ محترم ایک شخص کو پکڑ کر اس کی ہر غلط و صحیح بات کو دین مان لینا، کس دلیل سے ثابت ہے تو پھر آپ مکر جاتے ہیں کہ ہم تو شخصی تقلید کرتے ہی نہیں؟ تو جناب اس تعارض کو تو (محاورتاً) دفع ہونے سے قبل رفع فرما لیتے۔

    مجھے تو اپنی علمی بے بضاعتی کا احساس بھی ہے اور قلت مطالعہ کا اقرار بھی۔ لہٰذا اس موضوع پر خامہ فرسائی تو آپ ہمارے ان علمائے کرام سے کیجئے۔ جنہوں نے نیٹ پر جگہ جگہ آپ کے ڈھول کے خوب پول کھول رکھے ہیں۔ اور کچھ اس ادا سے کھولے ہیں کہ اب آپ وہاں جانے کی زحمت تک گوارا نہیں کرتے۔

    آپ کے غصے سے اندازہ ہوا کہ گھاؤ کچھ گہرا لگ گیا ہے۔ تب ہی یہ "بکواس" ، "جید جاہلین" ، "فرقہ شاذہ قلیلہ منبوذہ" جیسے "سستے" الفاظ کے استعمال سے دفاع پر مجبور ہوئے ہیں۔ معذرت خواہ ہوں۔ لیکن آپ بھی تو سوچئے کہ:

    خود ہی اقتباس پیش کرتے ہیں، جس کا "حاصل مطالعہ" یہ ہے کہ سند صحیح کا امام تک پہنچنا ضروری ہے۔ تو ہم نے تو فقط اس پر سوال کیا ہے کہ کتنے فیصد سند صحیح سے فقہ ثابت ہے۔ جواب کا آپ کو خوب اندازہ ہے کہ ایک فیصد بھی نہیں۔ اب اس بات پر غصے ہوکر مہذب گالیاں دینے کے بجائے وضاحت کر دیتے تو کیا حرج تھا۔ وہی گھسا پٹا جھوٹ دہرا دیتے کہ جی فقہائے کرام کی کمیٹی بیٹھا کرتی تھی اور ایک ایک مسئلے پر طویل بحثیں ہوتی تھیں اور وہ ایک کتاب میں لکھ دی جاتی تھیں۔ اور یہ وہی کتاب ہے جسے اہل تشیع کا بارہواں امام غالباً غار میں لے کر چھپ گیا ہے۔ ایسا کچھ علمی جواب دے دیتے تو ہم بھی آپ کی وہ واہ کرنے والوں میں شامل ہو جاتے۔

    چلیں ہمارے نزدیک "سند صحیح" کا جو مطلب ہے وہ تو "جید جاہلین" ہوئے۔ آپ کے اپنے نزدیک فقہ میں "سند صحیح" سے جو مراد لی جاتی ہے وہ پیش کر دیں۔ غالباً جھوٹے لوگوں کا سند میں ہونا، کتاب کا اپنے مصنف سے ثابت نہ ہونا، سند کے بیچ واسطوں کا مجہول ہونا وغیرہ حدیث میں تو "سند ضعیف" کا باعث ہوتے ہوں گے۔ لیکن فقہ کی "سند صحیح" کچھ ایسی پکی اینٹوں سے تیار کی گئی ہوگی، کہ اس جیسی علتیں فقہ کی "سند صحیح" کا کچھ نہیں بگاڑ سکتی ہوں گی۔ اور آپ کے علم و فضل سے ہمیں تو بڑی امیدیں ہیں کہ آپ نے اسے بھی "ثابت" کر ہی دینا ہے اور اس پر بھی آپ کے "ضعیف مقلدین" آپ کے نام کے ساتھ کچھ مزید سابقے لاحقے لگا کر داد پیش
    کریں گے۔

    ویسے آپ کی انشاء پردازی کی داد نہ دینا زیادتی ہوگی۔ تقلید حکمی سے لے کر اجتہاد تک، بلکہ علامہ اقبال کے اشعار کے بارے میں لکھے گئے جملہ معترضہ تک پر آپ نے پورا پورا پیراگراف لکھا ہے۔ اور جو بات عین موضوع سے متعلق تھی یعنی "غیر مقلدین کے لئے لمحہ فکریہ" میں لفظ "غیر مقلدین" کے انتساب کی، تو وہ "خلط ملط" بحث۔

    بے شک میانِ حرف سے شمشیر کھینچ دوست
    پہلے مگر یہ آنکھ کا شہتیر کھینچ دوست
    ہم آپ سے عقائد کی بات کہاں چھیڑ رہے ہیں۔ ہم تو فقط عقائد میں "تقلید" کی بات چھیڑ رہے ہیں۔ اور تقلید تو عین موضوع سے متعلق بحث ہے۔ یہ دام ہمرنگ زمیں جو آپ نے ہمارے لئے بچھایا تھا، جب خود اپنے ہی گلے آ رہا ہے تو آپ کا یہ پھڑ پھڑانا بہت پرلطف ہے۔ بھئی اس چھوٹی سی بات کی وضاحت میں کیا حرج ہے کہ آپ عقائد میں "مقلد" ہیں یا "غیر مقلد"۔ سوائے اس کے کہ آپ کا جواب جو بھی ہو، آپ کے گلے کی ہڈی ہی بنے گی۔ نہ اگل سکیں گے نہ نگل سکیں گے۔

    اور یہ مغالطہ آمیزی کی ٹرافی بلا شرکت غیرے اور بلامقابلہ جناب کی ہوئی۔

    اللہ کے بندے، میں نے عقائد کی بات کی تھی اور آپ شخصیات و گروہ پر حکم کی بات کر رہے ہیں۔ جبکہ دونوں کے لازم و ملزوم نہ ہونے پر بھی آپ کے ہمارے بیچ اتفاق ہے۔
    جس "استنباط" کا آپ مظاہرہ کر رہے ہیں، اس کے مطابق تو اہلحدیث کے نزدیک ، دیوبندی اور دیوبندیوں کے نزدیک اہلحدیث مسلمان ہیں۔ کوئی بھی کسی کے نزدیک کافر نہیں ہے۔ کہ "محفوظ حالت" کا مصداق آپ خارجیوں کو یا تکفیریوں کو قرار دے ڈالیں۔

    آپ ہمارے عقائد میں کفر و شرک کی نشاندہی نہیں کر سکتے۔ لہٰذا ہم فاسق ہو سکتے ہیں، لیکن عقائد میں شرک نہ ہونے کی بنا پر ان شاء اللہ والعزیز روز آخرت معافی کے مستحق رہیں گے۔ (اللہ تعالیٰ سب کے گناہوں کو معاف فرمائے اور انہیں نادانستگی میں بھی کفر و شرک کے ارتکاب سے اپنی پناہ میں رکھے۔ آمین یا رب العالمین)۔ کیونکہ شرک کے علاوہ تمام گناہوں کی معافی کا امکان ہے۔

    دیوبندیوں کے عقائد میں ہم کفر و شرک کی نشاندہی کر سکتے ہیں۔ لہٰذا اگرچہ دنیاوی طور پر ان پر کافر یا مشرک ہونے کا حکم تو نہیں لگتا۔ لیکن یہ امکان ضرور ہے کہ جن لوگوں پر حجت تمام ہو چکی ہے، تکفیر کی شرائط موجود اور موانع زائل ہو چکے ہیں، وہ آخرت میں بھی عقیدہ کی خرابی کی بنا پر جہنم کا ایندھن بنیں۔ (اللہ تعالیٰ آپ سمیت ہم سب مسلمانوں کو جہنم سے محفوظ فرمائیں اور دنیا ہی میں ایسے شرکیہ عقائد سے سچی توبہ کی توفیق عطا فرما دیں۔ آمین یا رب العالمین۔) کیونکہ شرک کی معافی ، اللہ نے دینی ہی نہیں ہے۔

    محترم، میں آپ کی طرح نہ مناظر ہوں، نہ انشا پرداز اور نہ متعصب۔ لہٰذا میں تو اپنی آخرت کی فکر (نا کہ کسی مسلک سے وابستگی یا کسی مسلک سے مخالفت) کے تحت فقط اپنے لئے فیصلہ کرتا ہوں کہ میرے لئے "محفوظ حالت" کیا ہے۔ اور اس میں آپ سے مشارکت کے بعد اگر اس فیصلے میں خود کو گمراہ پاؤں گا تو اسے تسلیم کرنے میں ذرہ برابر بھی نہیں ہچکچاؤں گا۔ ان شاء اللہ۔

    پتہ نہیں ہمارے سادہ سے سوال میں بھی آپ کو مغالطہ بلکہ شاندار مغالطہ کیسے نظر آ جاتا ہے۔ عینک کا رنگ لال ہوگا، واللہ اعلم۔ اور اپنے شاندار تضادات بھی آپ کو نظر نہیں آتے۔ آپ کا ابتدائی دعویٰ یہ تھا کہ ہر کہہ و مہ کا اجتہاد کرنا ہی فتنوں کا دروازہ کھولنا تھا۔ اور اب آپ ان مجتہدین کو "مانگے کی روشنی" کا طعنہ دیتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ جب انہوں نے "مانگے کی روشنی" اور "کاپی پیسٹ اجتہاد" کے علاوہ اجتہاد کیا ہی نہیں تھا، تو یہ فتنوں کا الزام اصل مجتہدین کے سر جاتا ہے یا ان "مانگے کی روشنی کے مجتہدین" پر؟

    آپ کے دعوے پر ہمارا آپ سے یہ سوال کرنا بالکل حق بجانب تھا کہ "آخر ان کہہ و مہ نے وہ کون سا اجتہاد دور حاضر میں کیا ہے جسے دیوبندی مجتہدین نے فقط اس بنا پر چھوڑ دیا ہو کہ جی ہم میں تو اجتہاد کی صلاحیت نہیں اور ویسے بھی یہ کہ اجتہاد کا دروازہ بند ہو گیا ہے"۔ لیکن اس سوال کے جواب میں آپ کا الزامی سوال کہ " اہلحدیث نے ایسا کون سا اجتہاد کیا ہے جسے فقہائے احناف پہلے ہی ٹچ نہیں کر سکے" بنتا ہی نہیں۔ اور وہ اس لئے کہ ہمارا تو یہ دعویٰ ہی نہیں کہ اجتہاد کا دروازہ بند ہے یا کسی ایک شخص کا اجتہاد تمام زمانوں کے لئے ہے۔ جب ہمارا یہ دعویٰ ہی نہیں تو اہلحدیث تو اجتہاد کریں گے چاہے اسے فقہائے احناف نے پہلے ٹچ کیا ہے یا نہیں۔ لیکن ہمارا سوال تو ٹھوس بنیادوں پر قائم ہے اور جواب بھی آپ پر ادھار ہے کہ آخر اہلحدیث نے ایسا کون سا اجتہاد کر ڈالا ہے جس نے فتنوں کا دروازہ کھول دیا ہو اور دیوبندیوں نے ایسے اجتہاد کو "ٹچ" نہ کیا ہو کیونکہ وہ اجتہاد کے اہل نہیں یا کیونکہ اجتہاد کا دروازہ اب بند ہے۔ جو کچھ اہلحدیث علماء اپنی تقریر و تحریر میں دلیل سے بیان کرتے ہیں، کیا اس سے بڑھ کر دیوبندی علماء ایسا ہی نہیں کرتے؟ پھر وہ کیا وجہ ہے کہ اہلحدیث کا کتاب و سنت کے دلائل بیان کرنا تو ان پر "مجتہدین" اور "ہر کہہ و مہ کے اجتہاد" کی پھبتی کا مستحق ہے اور وہی کام دیوبندیوں کا کرنا، نہ تو اجتہاد کہلاتا ہے اور نہ فتنوں کا دروازہ کھولنا۔ دیکھئے گا ذرا لینے اور دینے کے باٹ یہاں پر ایک جیسے ہی ہیں یا یہ بھی آپ کی لال عینک کے مطابق ہمارا "شاندار مغالطہ" ہے۔
     
  8. ‏اکتوبر 28، 2012 #8
    انس

    انس منتظم اعلیٰ رکن انتظامیہ
    جگہ:
    لاہور
    شمولیت:
    ‏مارچ 03، 2011
    پیغامات:
    4,178
    موصول شکریہ جات:
    15,224
    تمغے کے پوائنٹ:
    800

    جمشید صاحب کی گذشتہ وحالیہ روش سے یہی معلوم پڑتا ہے کہ وہ اس دھاگے میں بھی موضوع پر رہنے یا دوٹوک جواب دینے کی بجائے سوال در سوال یا ادبیّت کا سہارا لیں گے کہ ان کے مدارس میں منطق وفلسفہ کے نام پر یہی پڑھایا جاتا ہے۔

    ’دورۂ حدیث‘ کے نام پر ایک سال میں صحاح ستہ میں موجود نبی کریمﷺ فداہ ابی وامی کی احادیث مبارکہ سے جو مذاق کیا جاتا اور ’مخصوص احادیث‘ کے ردّ پر کئی کئی دن جو بعض مرتبہ ہفتوں پر محیط بھی ہوجاتے ہیں، لگائے جاتے ہیں وہ سب کے سامنے عیاں ہے۔
     
  9. ‏اکتوبر 28، 2012 #9
    جمشید

    جمشید مشہور رکن
    شمولیت:
    ‏جون 09، 2011
    پیغامات:
    873
    موصول شکریہ جات:
    2,325
    تمغے کے پوائنٹ:
    180

    صحیح فرمایا!اسی لئے سابقہ مراسلہ میں اس کی وضاحت کردی گئی ہے کہ کن لوگوں کو اشارات وکنایات سمجھ میں نہیں آتے ۔

    ’’دلیل کی رٹ‘‘لگانے والوں کو تو بات دلیل کے ساتھ کہنی چاہئے۔ ’’مستند ہے میرافرمایا ہوا ‘‘آپ کاخیال ہوسکتاہے لیکن اسے خیال تک محدود رکھیں توکیابراہے ۔حقیقت کی دنیا میں دلیل سے ہی کام لیاکریں۔ امام ابوحنیفہ کی شان میں قصیدے اس لئے پڑھ جاتے ہیں کہ وہ ان قصیدوں کے بجاطورپر مستحق ہیں لیکن ان قصیدوں کو مسلک کی حقانیت کس نے کہاہے ذرا حوالہ کے ساتھ کوٹ کریں۔ کہ حنفی مسلک کا مسئلہ اس لئے بہتر ہواکہ امام ابوحنیفہ کی شان میں فلاں قصیدہ کہاگیاہے؟
    کتاب المناقب الگ چیز ہے اورباب المسائل الگ ۔ دوبارہ گزارش ہے کہ مباحث میں خلط مبحث نہ کریں۔ ویسے خلط مبحث آپ اگرکریں بھی توانس نظر صاحب اس کا شکوہ شاید مجھی سے کریں گے کہ اس تھریڈ میں بات موضوع سے بات میری وجہ سے ہٹتی جارہی ہے۔
    آپ ثابت کردیجئے کہ اس کو تقلید حکمی کہناغلط اورتقلید شخصی کہنا صحیح ہے؟
    لیکن ظاہرسی بات ہے کہ اس میں آپ فوری علمی بے بضاعتی کا سہارالیناشروع کردیں گے اورقلت مطالعہ کا مستند حوالہ پیش کردیں گے ظاہرسی بات ہے کہ اس کے بعد کوئی اورآپ سے کیاگزارش کرسکتاہے ۔ لیکن اس علمی بے بضاعتی اورقلت مطالعہ کے مستند حوالہ کے باوجود یہ اکڑبھی جاری رہے گی کہ آپ میرے فلاں علماء سے توٹکر لیجئے ۔ یعنی بھروسہ خود پر نہیں شخصیات پر ہے اوراس پر بھی دلیل کی رٹ ہے ۔
    ویسے جس موضوع کی جانب اشارہ کیاہے۔ اسی موضوع پر تقلید واجتہاد کے زمرہ میں تقلید کی جامع ومانع تعریف کے سلسلے میں آپ کے علماء کے مشارکات کی ضرورت ہے کہ وہ تقلید کی جامع مانع تعریف پیش کرکے بتائیں ۔ جو ندوی صاحب نے ان کے جامع مانع تقلید کی تعریف پر کئے ہیں لیکن ظاہر سی بات ہے کہ یہ باتیں آپ کو نظراس لئے نہیں آئیں گے کہ آپ نے اگرچہ ’’لال رنگ کاچشمہ ‘‘ نہیں پہن رکھاہے لیکن ’’آنکھیں ضرور بند‘‘ کررکھی ہیں اوریہ کوئی عشق وشق کا معاملہ توہے نہیں کہ ’’آنکھوں کو بند کرتے ہیں دیدار کیلئے‘‘۔یہاں توآنکھیں کھولنے کی ضرورت ہے۔
    راقم الحروف اگرچہ اس قسم کی باتوں سے اجتناب کرتاہے لیکن ضرورتاکبھی اس قسم کے حوالے ضروری ہوجاتے ہیں ۔

    مطلب یہ کہ گھائو لگانے کی صلاحیت سے نہ صرف متصف ہیں بلکہ ’’گہراگھائو‘‘ لگانے کی صلاحیت رکھتے ہیں تو ایک دوسرے تھریڈ میں خواہ مخواہ مجھے ’’اول انعام‘‘کا حقدار قراردے رہے تھے جب کہ اس کے سب سے زیادہ مستحق آپ ہیں ۔شاید خاکساری اورانکساری کا جذبہ غالب آگیاہوگا لیکن اتنی فروتنی بھی اچھی نہیں ۔ حق بحقداررسید سب سے بہتر ہے۔ لہذا یہ ٹرافی کو خود لینی چاہئے۔
    الفاظ کے ریٹ طئے کرنے کی دکان شاید آپ نے ہی کھول رکھی ہے اسی لئے اس کو سستے الفاظ سے تعبیر کیاہے۔ ظاہر سی بات ہے کہ یہی آپ کا فیلڈ ہے ۔ دن رات یہی مشغلہ ہوگا لہذا یہ طئے کرنے میں کوئی دشواری محسوس نہیں ہوئی کہ یہ ’’سستے‘‘ ہیں۔ شاید’’مہنگے‘‘آپ کے پاس ہیں۔
    ویسے یہ دوکان آپ نے کھولی کہاں ہے کبھی اس کے بارے میں کچھ سنابھی نہیں ۔ ویسے جب مال اس قسم کا’’نایاب‘‘ ہو تودکان شہر سے الگ اورعلیحدہ میں کھولنے کی ضرورت ہوتی ہے۔
    مال ہے نایاب پرگاہک ہیں اکثر بے خبر
    شہر میں کھولی ہے حالی نے دکاں سب سے الگ​

    ویسے استفادہ کی نیت سے پوچھ رہاہوں کوئی اورنیت نہیں ہے کیااس دوکان سے کچھ محدث فورم کے ممبران کوبھی مال کی سپلائی ہوتی ہے ۔ کیونکہ وہ اپنے مراسلات میں ائمہ احناف کے خلاف جس طرح کی زبان استعمال کرتے ہین وہ بہت’’مہنگے ‘‘ہوتے ہیں ۔

    ایک اہم نکتہ پر غورکریں اوربات آپ کے ہم مسلک شخصیت کے حوالہ سے توشاید زیادہ اثر پڑے
    البانی امام ابوحنیفہ کی تضعیف کرنے کے باوجود کہتے ہیں کہ ان کی شخصیت فقہ میں بہت بڑی ہے اورفقہ اوراس کے دقائق میں ان کی مہارت مسلم ہے۔ پھر حافظ ذہبی کا یہ فقرہ کوٹ کیاہے ان الفقہ ودقائقہ مسلمۃ الی ھذالامام
    مطلب یہ ہواکہ ایک محدث اگرحفظ وضبط کے اعتبار سے کمزور ہوا توناکارہ لیکن اگر ایک فقیہ حفظ وضبط میں کمزر ہوا تویہ کوئی عیب کی بات نہیں
    پھر محدثین کی طرح سند صحیح کا مطالبہ کس منطق سے جائز ہوسکتاہے۔
    محدثین میں حفظ وضبط کا مطالبہ کیاجاتاہے اوراسی کے بعد ان کی شخصیت کو تسلیم کیاجاتاہے۔ لیکن فقہاء میں ایسانہیں ہے توپھر جب بنیاد میں ہی فرق ہے توپھر اس بنیاد پر بات کو آگے بڑھانے کیلئے کچھ بچتاہے۔ اس سوال پر اگرسنجیدگی سے غورکریں گے تو بہت سارے معمے جو حل نہیں ہوئے وہ حل ہوجائیں گے۔
    اس جواب سے قطع نظر ایک سوال یہ ہے کہ میرے حوالے میں جہاں ابن خلدون کاکوٹ کردہ جملہ ہے۔ وہاں سند کے ساتھ صحیح کابھی لاحقہ کہاں ہے ذرامجھے تودیکھائیں۔ کہیں آپ کو سند کے ساتھ صحیح کا لاحقہ اس لئے تونظرنہیں آرہاکہ ’’لال چشمہ‘‘پہن رکھاہے۔
    دوسراسوال یہ ہے کہ جب کسی فضیلۃ الشیخ نے یہ جواب دیاکہ یہ اعتراض ماضی کے کسی اہل علم نے کیاہے یانہیں اگرنہیں کیاتویہ اعتراض لغو ہے۔ ایسے مراسلات پر شکریہ کا بٹن دبانے والے سے ہم اتناسوال توکرہی سکتے ہیں کہ فقہ میں سند صحیح کا مطالبہ ماضی کے کسی اہل علم نے کیاہے۔

    ابن حزم نے کہیں یہ اعتراض کیاہے کہ ابوحنیفہ کی فقہ سند صحیح سے مروی نہیں۔
    امام شافعی نے باوجود بعض مسائل میں اختلاف اوررد کرنے کے یہ اعتراض کیاہے۔
    ابن تیمیہ نے کہیں پر لکھاہے کہ حنفیوں کی فقہ اس لئے غیرمعتبر کہ ان کے پاس سند صحیح نہیں ہے۔
    اگرماضی کے کسی اہل علم نے یہ اعتراض نہیں کیاتوکیاہمیں حق نہیں پہنچتاکہ ہم ایسے اعتراض کو لغو ،بکواس اورناقابل التفات قراردے دیں۔
    ویسے بنیادی بات یہ ہے کہ سند کے تعلق سے اہل حدیث کا بنیادی نقطہ نظر ہی کجی کا شکاری ہے لہذا نوبت یہاں تک پہنچی ہے کہ محدث فورم میں ممبران کے تعارف میں بھی مجہول اورمعروف کی گران شروع ہوجاتی ہے۔ دعاکریں کہ اللہ کبھی اس بنیادی کجی کو دور کرنے کے اقدامات کی توفیق دے۔
    ہماری باتیں تومہذب گالیاں ہیں لیکن جوکچھ آپ نے فرمایاہے اگراسے بھی مہذب گالی توشاید آپ ناراض ہوں گے کہ مجھ اتناکمتر سمجھالہذا کیامناسب نہ ہوگاکہ آپ کے فقروں اورجملوں کو مہذب گالیاں کے بجائے ’’ننگی گالیاں‘‘قراردیاجائے ۔ مرتبہ فزوں ہوجائے گا۔
    اگرچہ اس کا جواب کسی حد تک کفایت اللہ صاحب کے شیخ الاسلام والے تھریڈ میں دیاگیاہے۔ لیکن وہاں ڈھونڈنااورپھر نقل کرنا بہت مشکل کام ہے۔
    حدیث کی سند صحیح توشاید معلوم ہو فقہ میں سند کا مطلب یہ ہوتاہے کہ علماء نے اس پر اعتبار کیاہویہی مطلب ابن خلدون کے نزدیک تھا اسی بنائ پر ایک جانب وہ یہ بھی کہتاہے کہ کسی مدعی اجتہاد کی بات اب نہیں سنی جائے گی اوردوسری جانب فقہ میں سند کا مطالبہ کرتاہے۔
    اوپر یہ بات آچکی ہے کہ
    فقیہہ اورمحدث کا وظیفہ اصولی طورپر الگ ہے لہذا نقل روایت وفقہ میں دونوں سے یکساں مطالبہ کرنابھی اصولی طورپر غلط ہے۔
    جی ہاں جیسے ’’شیخ الکل فی الکل،شیخ العرب والعجم،محدث العصر،فضیلۃ الشیخ،سماحۃ الشیخ اوراسی قبیل کے کچھ اوربھی سابقے اورلاحقے۔
    دعامیں اللہ نے بڑی تاثیر رکھی ہے لایرد القضاء الا الدعاء۔ آپ اگرخلوص دل کے ساتھ دعاکریں توشاید ان تمام کا مستحق ہوجائوں۔
    تقلید سے لے کراجتہاد تک اور علامہ اقبال کے شعر تک میں ایسی کوئی بات نہیں تھی کہ جس پر لمبی بات چلے اوراس مقولہ کی صداقت یوں ثابت ہے کہ اس مراسلے میں آنجناب نے اقبال کے مراسلے پر ’’چپی سادھ‘‘لی ہے۔
    اورعقائد میں تقلید کاموضوع بحث ہی دوسرا ہے۔ آپ کے علماء کرام خواہ جوکچھ ہوں اورجوکوئی ہوں انہوں نے تقلید کی تعریف میں جوکچھ لکھاہے تواس تعریف کا احاطہ صرف فقہ فروعی تک ہے یااس میں ایمان وعقیدہ بھی شامل ہے؟
    اس سوال کے جواب میں ہی آپ کے سوال کا جواب پوشیدہ ہے کہ اس موضوع پر بات کرنے سے احتیاط کیوں کیاجارہاہے۔ ویسے ایک دوسراتھریڈ کھول سکتے ہیں لیکن پھر علمی بے بضاعتی اورقلت مطالعہ کا مستند حوالہ نہ پیش کیجئے گا۔
    اس کا منشاء سمجھنامشکل نہیں ہے کہ آپ عقائد کی جانب بات کو کیوں موڑناچاہتے ہیں کیونکہ ’’بات نکلے گی تو پھر دورتلک جائے گی‘‘اورجوموضوع بحث ہے ’’فقہ میں عدم تقلید‘‘ وہ کسی گوشہ میں رہ جائے گی!اس لئے میں کوشش کررہاہوں کہ چاہے آپ کتنابھی ’’پھرپھرائیں یاہاتھ پیر ماریں‘‘بات کو موضوع تک محدود رکھاجائے۔

    انس نظرصاحب کہتے ہیں کہ منطق اورفلسفہ ہمارے مدارس میں پڑھایاجاتاہے لیکن استعمال آپ کررہے ہیں
    کیاکوئی عقیدہ شخصیات اورگروہ سے مجرد ہوکر بھی وجود میں آتاہے؟
    آپ نے جس عقیدہ کی بات کی تھی اس میں بھی اہل حدیث اوردیوبندیوں کا ذکر موجود ہے۔ ویسے کوشش کے باوجود یہ فلسفہ میری سمجھ میں نہیں آیاہے۔
    مسئلہ یہ ہے کہ جو منطق استعمال کی ہے آپ نے اس کے لحاظ سے اگرحکم اورعقیدہ کی بحث نکال بھی دی جائے تو فرق کیاپڑے گا۔ اگرمان لیں کہ ایساہو

    صحابہ کرام خارجیوں کو گمراہ سمجھتے ہیں
    ٰخارجی صحابہ کرام کے بعض عقائد کو کفریہ وشرکیہ سمجھتے ہیں

    محفوظ حالت میں کون ہوا؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟ نتیجہ نکالئے۔
    ایسی ’’غلط منطق‘‘پیش کرنے کی نوبت کیوں آئی وجہ یہ ہے کہ منطق وفلسفہ پڑھایانہیں جاتا لہذا منطقی استدلال کی بنیاد ہی غلط ٹھہری اوراس پر تعمیرہ شدہ قصر منہدم

    جس استنباط کا مظاہرہ فرماکر آپ اہل حدیث کے ’’محفوظ حالت‘‘میں ہونے پر محظوظ ہورہے تھے بس اسی استنباط پر چند نظائر پیش کی گئی ہیں۔ یہ اوربات ہے کہ اس استنباط کے گہرائی سے تجزیہ کے بعد اس کے نتائج کو گواراکرناخود آپ کیلئے مشکل ہورہاہے ۔

    اپنے استنباط کوغلط کہنے کا حوصلہ نہیں
    اس استنباط واجتہاد کے نتائج گواراکرنہیں سکتے

    لہذا نہ اگلتے بن رہاہے اورنہ ہی نگلاجارہاہے۔ ہاں ایک تیسراچوردروازہ نکالنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ یہ کوشش مبارک ہو لیکن بات بننے والی ہے نہیں۔

    شاید دیوبندیوں نے آپ کو کوئی تحریر لکھ کر دی ہے کہ ہمارے عقائد کفریہ وشرکیہ ہیں اوراہل حدیث فاسق ہوسکتے ہیں لیکن کوئی اہل حدیث غلط عقیدہ نہیں رکھ سکتا۔؟ جبھی اتنے وثوق سے اس قسم کی باتیں کررہے ہیں۔
    جہاں تک آپ نے میرے انشاء پرداز،مناظراورمتعصب ہونے کی بات کہی ہے تو بات جہاں تک مناظرہ کی ہے توراقم الحروف کی کوشش ہے کہ ائمہ احناف پر یافقہ احناف پر جوالزامات کم علمی جاہت اورتعصب کی بنیاد پر عائد کئے جاتے ہیں اس کاغیرجانبدار قارئین کو دوسراپہلو دکھایاجائے۔ اوربس!مناظرہ کرنامیرے بس کا روگ نہیں اورنہ ہی عملی زندگی میں کبھی کسی مناظرہ میں حصہ لیاہے اورنہ ہی کسی مناظرہ کو دیکھاتک ہے۔
    انشاء پردازی وہ آپ کا حسن ظن ہے اورمتعصب ہونے کی جہاں تک بات ہے توشاید بقول کسے کچھ لوگ اپنی ہربرائی کو مشرف بہ اسلام کرلیتے ہیں اسی طرح کچھ لوگاں کا حال اپنے تعصب کے تعلق سے یہ ہوتاہے کہ وہ اس کو احقاق حق اورابطال باطل قراردے کر مشرف بہ اسلام کرلیتے ہیں اوردوسروں کے دفاع کو بھی تعصب کے خانہ میں ڈال دیتے ہیں۔
    اللہم ارناالحق حقا وارزقنااتباعہ وارناالباطل باطلاوارزقنااجتنابہ
    جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
     
  10. ‏اکتوبر 29، 2012 #10
    جمشید

    جمشید مشہور رکن
    شمولیت:
    ‏جون 09، 2011
    پیغامات:
    873
    موصول شکریہ جات:
    2,325
    تمغے کے پوائنٹ:
    180

    عینک پہننے کا شوق آپ کی جماعت کو زیادہ ہے راقم الحروف معاملات کو کھلی آنکھ سے دیکھنازیادہ پسند کرتاہے۔
    مسئلہ یہ ہے کہ جب ابن خلدون کی عبارت پر بحث نہیں ہوگی اورقیل وقال کا دروازہ کھل جائے گا تب بحث کے کسی بھی نتیجہ پر پہنچنے کا امید نہیں ہے۔ ابن خلدون نے اس خدشہ کااظہار کیاہے کہ اگر اجتہاد کا دروازہ چوپٹ ہرایک کیلئے کھول دیاگیاتو پھراس میدان میں ایسے اشخاص بھی داخل ہوں گے جواس کے اہل نہیں ہیں اورنتیجہ کیاہوگا وہ اندازہ لگانامشکل نہیں ہے۔
    اوریہ کوئی نظربات نہیں ہے جب عالم اسلام کو سیاسی طورپر ضعف ہوا اورآزادی کی ہواچلی اور پھر اجتہاد کرنے اورتقلید سے باہر نکلنے کی تحریک نے زورپکڑا تواسی وقت تجدد کی تحریکوں نے بھی زور پکڑا اوراس کا نتیجہ ہم ہرآئے دن دیکھ رہے ہیں کہ ہرشخص اپنی ایسی تحقیقات پیش کررہاہے جس کو نہ قرآن سے مس ہے نہ حدیث سے تعلق اورنہ اسلاف سے کوئی ربط۔
    دوسری بنیادی بات یہ ہے کہ آپ کے نزدیک اجتہاد کے شرائط بہت نرم اورڈھیلے ڈھالے ہیں اس لئے مجتہدین تھوک کے حساب سے تیار ہوتے ہیں زبیرعلی زئی مجتہد، توصیف الرحمن مجتہد اورطالب الرحمن صاحبان مجتہد اورہرشخص جو درس نظامی سے فارغ ہو وہ مجتہد

    ہربوالہوس نے حسن پرستی شعار کی
    اب آبروئے شیوہ اہل نظر گئی ​

    لیکن دیگر جمہور علمائ اس کے قائل نہیں ان کے یہاں اجتہاد کی شرائط بڑی کڑی ہیں اورکچھ ہی اشخاص اس کسوٹی پر پورااترتے ہیں۔

    تحریک عدم تقلید یاغیرمقلدیت سے فتنہ پھیلاہے اورتجدد کی تحریکوں کو اس سے تقویت ملی ہے اس میں کوئی شک نہیں آج جب کوئی شخص اپنے کسی ایسے رائے کا اظہار کرتاہے جس کو کتاب وسنت اوراسلاف سے ربط نہیں اوراس کو ٹوکاجاتاہے تویہی جواب آتاہے کہ ہم ماضی کے علماء کے مقلد نہیں ہیں ۔ اپنی رائے کااظہار ہماراحق ہے وغیرذٌک
    تویہ فتنوں کے تعلق سے بات تھی جس کے اندیشہ کا بجاطورپر ابن خلدون نے اظہار کیا اورجوہماری آنکھون کے سامنے وقوع پذیر ہے۔
    اس تفصیل سے واضح ہوگیاکہ مانگے کے اجالے اورفتنے کا الزام دونوں کے درمیان ربط قراردے کر ائمہ مجتہدین کو بھی بیچ میں کھڑاکرناغلط ہے۔
    جہاں تک مانگے کے اجالے کی بھی بات ہے تو یہ میری نگاہ میں کم ازکم غلط نہیں ۔


    بات بنیادی صرف اتنی ہے کہ دیوبندیوں نے کوئی ایسااجتہاد نہیں کیاہے جس پر کسی نہ کسیی حیثیت سے فقہاءے احناف نے کلام نہ کیاہو۔ میرے علم اورمطالعہ کی حد تک ۔ لہذا یہ اعتراض ہی غلط ہوجاتاہے کہ اہل حدیث نے وہ کون سااجتہاد کیاہے جسے دیوبندیوں نے محض اس بناء پر اجتہاد نہیں کیاہو کہ وہ اجتہاد کے درکے کھلے ہونے کے مدعی نہیں ہیں۔
    ائمہ اہل حدیث حضرات جوکچھ اجتہاد کرچکے ہیں اس سے ہمیں فی الحال سروکار نہیں ۔ سروکار توہمیں برصغیر کے اہل حدیث حضرات سے ہے کہ ان کے اجتہادات کے نمونے توپیش کئے جائیں جس سے لگے کہ ان میں مجتہدانہ شان نمایاں ہے۔ اوردیگر اہل علم بھی اس کو اجتہاد تسلیم کریں۔
    میں نے توشیخ الکل فی الکل میاں نذیر حسین صاحب سے لے کر نواب صدیق حسن خان اورمولانا اسماعیل سلفی اوردیگر بزرگان اہل حدیث کی نگارشات اور’’تحریرات‘‘کا مطالعہ کیا لیکن اجتہاد کی شان کہیں بھی لگی نہیں۔ شاید یہ میری کوتاہی ہوگی ۔ یاہوسکتاہے کہ ان حضرات کی وہ تحریریں جن میں شان اجتہاد نمایاں ہومیری نگاہوں سے نہ گزری ہوں ان تحریروں کا حوالہ دے دیں۔
    اگران حضرات کی تحریروں میں شان اجتہاد اوراجتہادانہ ملکہ مجھے نظرآیاتواسی لمحہ میں اپنی بات کے غلط ہونے کا اعتراف کرلوں گا اوریہ کہنے میں مجھے کوئی باک اورجھجک نہیں ہوگی کہ میں غلط تھا اورشاکر محمود صاحب درست تھے۔
    میں نے تحقیق کی جس شاہراہ پر چلناقبول کیاہے اپنے لئے اسی کی وجہ سے میں مسلک اہل حدیث یاغیرمقلدیت سے ہٹ کر حنفیوں سے قریب ہوا۔ اگرکل مجھے لگے کہ علمی اورتحقیقی طورپر مسلک اہل حدیث زیادہ بہتر ہے تواس کوبھی قبول کرنے میں کوئی ہچکچاہٹ نہیں ہوگی ۔ والسلام
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں