1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

غیر مقلد عالم کی خلیفہ راشد رضی اللہ عنہ کی شان میں گستاخی

'اہل حدیث' میں موضوعات آغاز کردہ از sahj, ‏مارچ 08، 2014۔

  1. ‏مارچ 08، 2014 #1
    sahj

    sahj مشہور رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏مئی 13، 2011
    پیغامات:
    458
    موصول شکریہ جات:
    655
    تمغے کے پوائنٹ:
    110

    کتاب : طریق محمدی
    مصنف: جونا گڑھی
    گستاخانہ عبارت

    [​IMG]

    جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے



    "اگر میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو وہ عمر بن خطاب (رضی اﷲ عنہ) ہوتا"(ترمذی)





    اور غیر مقلد عالم صاحب نے فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کو بے خبر کہہ دیا !!!معاذ اللہ

     
    • ناپسند ناپسند x 2
    • غیرمتفق غیرمتفق x 1
    • لسٹ
  2. ‏مارچ 08، 2014 #2
    کنعان

    کنعان فعال رکن
    جگہ:
    برسٹل، انگلینڈ
    شمولیت:
    ‏جون 29، 2011
    پیغامات:
    3,564
    موصول شکریہ جات:
    4,376
    تمغے کے پوائنٹ:
    521

    السلام علیکم

    سمائل کے ساتھ! آپ نے بھی لولی جیسا سلسلہ شروع کر دیا، لولی کو کفایت صاحب کے کسی بھی خاص ممبر نے سپورٹ نہیں کیا اس لئے آپ تھریڈ کی شکل میں اپنے اس سلسلہ کو روک دیں، ورنہ نقصان مسلمانوں کا ہی ہو گا۔ جزاک اللہ خیر!

    والسلام
     
  3. ‏مارچ 08، 2014 #3
    یوسف ثانی

    یوسف ثانی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    پاکستان
    شمولیت:
    ‏ستمبر 26، 2011
    پیغامات:
    2,760
    موصول شکریہ جات:
    5,268
    تمغے کے پوائنٹ:
    562


    میں تو اس بات کا قائل ہوں کہ اس طرح کا سلسلہ خواہ کسی بھی مکتبہ فکر کے خلاف ہو، کسی بھی مکتبہ فکر کی طرف سے ہو ۔۔۔ انتہائی غیر سود مند ہے۔ اس سے صرف نفرتوں میں اضافہ اور فرقہ بندی میں شدت ہی پیدا ہوتی ہے۔ اصلاح کی یہ صورت کبھی نہیں ہوا کرتی۔

    کیا کسی بھی مکتبہ فکر کے کسی بھی عالم یا علماء کی خطاؤں کی ذمہ داری اس مکتبہ فکر سے وابستہ تمام افراد پر عائد ہوتی ہے؟ پرگز نہیں۔ پھر ایسی نشاندہیوں کے ذریعہ اس مخصوص مکتبہ فکر کے تمام افراد کو تنقید و تضحیک کا نشانہ بنانا کہاں کی دانشمندی ہے۔ قرآن و سنت کی تعلیمات کا پرچار کیجئے۔ معاشرے میں مروج غلط عقائد اور اعمال (رکھنے اور کرنے والوں پر تبرا بھیجے بغیر ) کی قرآن و احادیث سے تصحیح کیجئے۔ پڑھنے والا اگر اپنے اندر ایسے عقائد و اعمال کو پائے گا، اور اللہ اسے توفیق دے گا تو وہ راہ راست پر آجائے گا۔

    یہ تو بنیادی طور پر منتظمین فورم کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے فورم کو ایسی ”آلودگیوں“ سے پاک رکھنے کی کوشش کریں۔ عام ارکان فورم تو سب کچھ پوسٹ کرسکتے ہیں۔ اور کرتے رہیں گے۔ جب انہیں اور ان کے ایسے مراسلوں کی گرفت کی جائے گی تب ہی وہ ایسے کام سے باز آئیں گے۔
     
    • متفق متفق x 4
    • مفید مفید x 3
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
  4. ‏مارچ 08، 2014 #4
    خضر حیات

    خضر حیات علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    طابہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 14، 2011
    پیغامات:
    8,769
    موصول شکریہ جات:
    8,335
    تمغے کے پوائنٹ:
    964

    گستاخی کوئی بھی کرے چاہے کوئی مقلد ہو غیر مقلد ہو اس کی مذمت ہونی چاہیے ۔
    لیکن جونا گڑھی صاحب کی اس عبارت میں گستاخی بالکل نہیں ہے ۔ بلکہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے لیے ایک بہترین عذر تلاش کیا گیا ہے ۔ کیونکہ یہ کہنا کہ ان کو سب کچھ معلوم تھا اور احادیث جانتےتھے اس کے باوجود انہوں نے مخالفت کی یہ کوئی عقلمندی کی بات نہیں بلکہ بقول ابن حزم زندقہ و کفر ہے ۔
    عمر رضی اللہ عنہ اگر نبی ہوتے تو یقینا اللہ تعالی ان کو بذریعہ وحی باخبر رکھتے ۔ چونکہ نبی نہیں تھے اور انبیاء کے سوا کامل علم کسی کے پاس نہیں ہوتا اس لیے دیگر صحابہ کرام و أئمہ عظام کی طرح ان سے بھی یہ تسامحات ہوئے ۔
    صحابہ کرام اور علماء عظام کی گستاخیاں دیکھنی ہیں تو ’’ تأنیب الخطیب للکوثری ‘‘ ملاحظہ کرلیں ۔
     
  5. ‏مارچ 08، 2014 #5
    یوسف ثانی

    یوسف ثانی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    پاکستان
    شمولیت:
    ‏ستمبر 26، 2011
    پیغامات:
    2,760
    موصول شکریہ جات:
    5,268
    تمغے کے پوائنٹ:
    562

    کبھی کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ کوئی ”شخصیت“ ہی بحث کا موضوع بن جاتی ہے۔ جیسے ڈاکٹر طاہر القادری، ڈاکٹر فرحت ہاشمی، جاوید غامدی وغیرہ۔ ان کے بہت سے نظریات اور خیالات ایسے ہیں جن سے امت کے علمائے کرام کو شدید اختلافات ہیں۔ لہٰذا ایسے افراد کا نام لے کر ان کے غلط عقائد اور اعمال کو زیر بحث بنایا جاسکتا ہے۔ تاہم اس عمل کے دوران بھی تضحیک و تحقیر کا رویہ اختیار نہیں کرنا چاہئے۔ کیونکہ ان کا بھی وسیع حلقہ اثر ہے۔ اگر ہم ایسا کریں گے تو ان کے فالوورز کو اپنا مخالف بنانے کے سوا کچھ نہین کرسکیں گے۔ لیکن اگر تہذیب کے دائرے میں ان کے باطل عقائد و اعمال کا جائزہ لیا جائے تو کسی کو برا بھی نہیں لگے گا۔ اور عین ممکن ہے کہ حق کو جان کر ان کے فالوورز راہ راست پر آجائیں۔ یہی حال تنظیموں اور اداروں کے ساتھ بھی کیا جاسکتا ہے۔ جیسے جماعت اسلامی، تبلیغی جماعت وغیرہ۔ ان کا جائزہ لیتے ہوئے ان کے اجتماعی غلط باتوں (وابستگان کے انفرادی نہیں) کی نشاندہی بھی کی جاسکتی ہے اور تصحیح بھی۔ لیکن یہ کام بھی علمی انداز میں اور غیر تحقیری انداز میں ہونا چاہئے۔ جبکی بالعموم ہم ایسا نہیں کرتے۔

    گذشتہ دنوں ایک کتاب ” دو بھائی مودودی اور خمینی“ پڑھنے کا اتفاق ہوا۔ پڑھنے میں وقت ہی برباد ہوا۔ ”محقق“ صا حب کتاب میں ایسا کوئی ”ثبوت“ پیش کرنے سے قاصر رہے، جس سے یہ پتہ چلتا ہو کہ یہ دونوں دراصل ”ایک“ ہی تھے یا ایک ہی سکے کے دو رخ تھے۔ دونوں کی ملاقاتیں، ایک دوسرے کے لئے خیر سگالی کے جذبات اور خیالات یا خمنی انقلاب کے بعد جماعت اسلامی کی جانب سے اس انقلاب کی ”حمایت“ سے کہیں بھی یہ ”ثابت“ نہیں ہوتا کہ جماعت اسلامی ”شیعہ عقائد“ کی حامل ہے یا اس کے وابستگان ”شیعہ اعمال“ کو درست قرار دیتے ہیں۔ محقق صاحب نے تو مودودی صاحب کی جانب سے اپنے لئے کسر نفسی اور خاکساری تک کے الفاظ کو بھی ”لغوی معنی“ میں لے کر یہ ثابت کرنے کی ”کوشش“ کی ہے کہ (مثلاً) مودودی صاحب اپنے ہی ”بیان“ کے مطابق نہ تو انگریزی زبان پر عبور رکھتے ہیں اور نہ ہی دین پر۔ شیعہ عقائد اور اعمال ہم سب کے سامنے ہیں۔ اسی طرح جماعت اسلامی (کے وابستگان) کے عقائد و اعمال بھی چھُپے ہوئے نہیں بلکہ چھَپے ہوئے ہیں۔ محقق صاحب نے کہیں بھی ان میں کوئی ”مماثلت“ نہیں دکھلائی یا بتلائی۔ انہوں نے جماعت اسلامی کے دوسرے امیر میاں طفیل محمد کے اس اہم پریس کانفرنس کو بھی نظر انداز کردیا جو انہوں نے خمینی انقلاب کی جماعت اسلامی کی طرف سے حمایت کے ”گناہ“ کے ”کفارہ“ کے طور پر کی تھی۔ شیعہ عقائد پر مبنی ایک مستند تحقیقی کتاب پڑھنے کے بعد میاں طفیل محمد نے لاہور میں (غالباً بحیثیت امیر جماعت) ایک پریس کانفرنس میں دوٹوک الفاظ میں کہا تھا کہ ایران میں خمینی کا انقلاب ایک شیعہ انقلاب ہے، یہ اسلامی انقلاب نہیں ہے ۔ تاہم یہ بھی حقیقت ہے کہ اس اعلان کے باجود ایرانی انقلاب سے جماعت اسلامی کے (تاحال) تعلقات ”خوشگوار“ ہی رہے۔ بالخصوص قاضی حسین کے ادوار میں۔
    واللہ اعلم بالصواب
     
    • پسند پسند x 6
    • معلوماتی معلوماتی x 2
    • لسٹ
  6. ‏مارچ 09، 2014 #6
    بلال احمد

    بلال احمد رکن
    شمولیت:
    ‏نومبر 23، 2013
    پیغامات:
    9
    موصول شکریہ جات:
    2
    تمغے کے پوائنٹ:
    43

    Masha allah
     
  7. ‏مارچ 09، 2014 #7
    خضر حیات

    خضر حیات علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    طابہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 14، 2011
    پیغامات:
    8,769
    موصول شکریہ جات:
    8,335
    تمغے کے پوائنٹ:
    964

    بہت خوب ۔ متفق ۔
     
    • پسند پسند x 4
    • شکریہ شکریہ x 3
    • لسٹ
  8. ‏مارچ 09، 2014 #8
    lovelyalltime

    lovelyalltime سینئر رکن
    جگہ:
    سعودی عرب
    شمولیت:
    ‏مارچ 28، 2012
    پیغامات:
    3,735
    موصول شکریہ جات:
    2,842
    تمغے کے پوائنٹ:
    436



    آپ کو پہلے بھی کہا تھا کہ مقلد ھو یا غیر مقلد ​
    بریلوی ھو ​
    دیوبندی ھو ​
    اہلحدیث ھو ​
    کوئی بھی ھو ​
    جس کی بات بھی قرآن اور صحیح احادیث کے خلاف ھو گی ​
    رد کر دی جا ے گی ​
    یہ تو آپ کا کام ہے کہ اپنے بابوں کی جھوٹی کتابوں کا دفاع کرتے پھریں ​
     
    • زبردست زبردست x 3
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
  9. ‏مارچ 09، 2014 #9
    Dua

    Dua سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 30، 2013
    پیغامات:
    2,579
    موصول شکریہ جات:
    4,379
    تمغے کے پوائنٹ:
    463


    الحمد للہ۔خاص تو وہ ہے جو اللہ کے نزدیک خاص ہے۔سمائل کے ساتھ!
    باقی بہتر ہوتا کہ موضوع سے متعلق کوئی رد لکھتے۔ورنہ معذرت کے ساتھ بھائی ہر تھریڈ میں موضوع ہی تبدیل کر دینے کی روش بھی اچھی نہیں ہے۔
    امت مسلماں کو اس طرح بھی نقصان ہی ہے۔جزاک اللہ خیرا۔۔۔


    یوسف بھائی اس سے قبل بھی آپ ے اعتراض ملاحظہ کیئے ہیں۔اسے آلودگی نہیں کہا جا سکتا کیونکہ مقصد صحیح عقیدہ کی ترویج کرنا اور دعوت دینا ہے۔
    وہ چاہے تحریر کر دیں ٭جو کہ فورم کی ڈیمانڈ بھی ہے٭یا اعتراض شدہ مواد کا سکین شدہ صفحہ پیش کر دیں بات تو ایک ہی ہے۔اگر غلط ہے تو انداز! وہ طریقہ!
    جس سے "ناشائستگی"جھلکے ، یا کسی فرد کی ذاتیات کو نشانہ بنایا جائے۔نامناسب الفاظ استعمال کیئے جائیں یا زبردستی اپنے موقف کی طرف بلایا جائے۔
    حکمت کے ساتھ اور احسن انداز میں یہ کام کرنے میں کوئی حرج نہیں بھائی۔
     
    • پسند پسند x 3
    • زبردست زبردست x 2
    • شکریہ شکریہ x 1
    • مفید مفید x 1
    • لسٹ
  10. ‏مارچ 09، 2014 #10
    محمد ارسلان

    محمد ارسلان خاص رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 09، 2011
    پیغامات:
    17,865
    موصول شکریہ جات:
    40,798
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,155

    جزاك الله خيرا
    یار بہت زبردست
    اللہ ان مقلدین کو یہ بات سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے آمین
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں