1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

غیر پاکیزہ شاعری کے بارے امیرالمومنین عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ کا سخت رویہ

'شعر' میں موضوعات آغاز کردہ از محمد نعیم یونس, ‏نومبر 07، 2017۔

  1. ‏نومبر 07، 2017 #1
    محمد نعیم یونس

    محمد نعیم یونس خاص رکن
    شمولیت:
    ‏اپریل 27، 2013
    پیغامات:
    26,327
    موصول شکریہ جات:
    6,589
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,157

    غیر پاکیزہ شاعری کے بارے امیرالمومنین عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ کا سخت رویہ اور کارندہ "نعمان بن عدی" کی معزولی

    تھا اک "میسانِ بصرہ" میں جو "نعمانِ" دل زندہ
    امیر المومنین فاروق اعظم کا تھا کارندہ

    اسے جو شاعری سوجھی، کسی مجلس کو گرمایا
    تو اس میں اپنی مے نوشی کا بھی اظہار فرمایا

    کہا معلوم ہوجائے عمر کو، میری مے نوشی
    نہ آئے گی پسند ان کو یہ میری اپنی مدہوشی

    خبر جب ہوگئی اس بات کی اپنے خلیفہ کو
    تو سن لیں آپ، پھر کیا ہوا ہے، اس لطیفہ کو

    بلا بھیجا اسے حضرت نے ایوان خلافت میں
    بلا تاخیر پہنچا جب وہ دیوان خلافت میں

    عمر نے، اس کے طرز شعر کی توسیخ فرمائی
    مذمت کی، ملامت کی، بہت توضع فرمائی

    کہا "نعمان" نے خود عاجزی سے، حضرت والا!
    ہوا ہے اپنی ہی غفلت سے، خود اپنا ہی منہ کالا

    مرے اشعار میں شاعر کے جو آہ و فغان آئے
    یہ ذکرِ خمر و شربِ خمر جو ورد زبان آئے

    کہا جو کچھ ہے میں نے، وہ کلام شاعرانہ تھا
    حقیقت سے ورے تھا، وہ فسانہ ہی فسانہ تھا

    کبھی بھی زندگی میں، میں نے ہرگز کی نہ مے نوشی
    ہوا جو کچھ، تھی مدہوشی، یہ تھی بس اپنی کم کوشی

    امیرالمومنین فاروق نے یہ سن کے فرمایا
    گمانِ بندہ ہے ویسے ہی، جیسے تم نے دہرایا

    میں تیرا عذر، تیرے قول پہ محمول کرتا ہوں
    مگر پھر بھی وظیفے سے تجھے معزول کرتا ہوں

    کوئی کارندہ بکواسی ہمارا ہو نہیں سکتا
    وقار دین و دنیا کو کبھی وہ کھو نہیں سکتا


    صلاح ا لدین مقبول احمد
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں