1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

فرانس میں ججز اس بات پر غور کر رہے ہیں کہ آیا کوئی اپنے بچے کا نام 'جہاد' رکھ سکتا ہے یا نہیں۔

'تازہ مضامین' میں موضوعات آغاز کردہ از عبدالعزيز, ‏اکتوبر 25، 2017۔

  1. ‏اکتوبر 25، 2017 #1
    عبدالعزيز

    عبدالعزيز مبتدی
    جگہ:
    الله کے رحمت کے سائے تلے ان شاء الله
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 24، 2017
    پیغامات:
    169
    موصول شکریہ جات:
    78
    تمغے کے پوائنٹ:
    29

    فرانس میں ججز اس بات پر غور کر رہے ہیں کہ آیا کوئی اپنے بچے کا نام 'جہاد' رکھ سکتا ہے یا نہیں۔

    فرانسیسی نیوز ایجنسی اے ایف پی کے مطابق قانونی ذرائع نے بتایا ہے کہ جنوبی فرانس میں ججز اس معاملے کے متعلق فیصلہ دینے والے ہیں۔

    اگست کے مہینے میں ایک بچے کو 'جہاد' نام سے تولوز شہر کے میئر کے دفتر میں رجسٹر کروایا گیا تھا جس کے بعد دفتر نے اس معاملے کو استغاثہ کے پاس بھیج دیا۔ ممکنہ طور پر والدین کو بچے کا نام تبدیل کرنے کے لیے کہا جائے گا۔

    قانونی ذرا‏ئع نے بتایا: 'اس معاملے میں کارروائی جاری ہے۔'



    خیال رہے کہ دنیا میں 'جہاد' کو انتہا پسندوں کے ساتھ منسلک کیا جاتا ہے جنھوں نے حالیہ برسوں میں فرانس کو بار بار نشانہ بنایا ہے اور ایک اندازے کے مطابق حالیہ برسوں میں 200 سے زیادہ افراد ان کے حملوں میں ہلاک ہو چکے ہیں۔

    فرانس میں حالیہ برسوں میں کئی حملے ہوئے ہیں جن میں 200 سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے ہیں
    فرانس میں اب کوئی کنبہ اپنے بچے کا پہلا نام رکھنے کے لیے آزاد ہے لیکن سنہ 1993 سے قبل انھیں ناموں کی منظور شدہ ایک فہرست سے ہی نام منتخب کرنا ہوتا تھا۔ بہر حال اب بھی مقامی حکام اگر یہ محسوس کریں کہ کوئی نام بچے کے لیے نقصان دہ ہو سکتا ہے تو وہ اس معاملے کو استغاثہ کے پاس بھیج سکتے ہیں۔

    نیس کے ریوائرا شہر کے میئر کے دفتر نے گذشتہ سال نومبر میں ایک بچے کا نام 'محمد میراہ' رکھنے پر معاملے کو استغاثہ کے سپرد کردیا تھا کیونکہ محمد میراہ نام کے بندوق بردار شخص نے سنہ 2012 میں سات افراد کو ہلاک کر دیا تھا جن میں تین یہودی سکول کے طلبہ بھی تھے۔

    اس کے بعد والدین نے اس بچے کا دوسرا نام رکھنے کا فیصلہ کیا۔

    حملے میں شامل لوگ کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ اسلام کے شدت پسند نظریات کے حامل رہے ہیں
    سنہ 2013 میں ایک فرانسیسی ماں اس وقت شہ سرخیوں میں آئی تھی جب انھوں نے جہاد نام کے اپنے بچے کو ایک ایسی ٹی شرٹ میں سکول بھیجا جس میں لکھا تھا: 'میں ایک بم ہوں' اور 'جہاد 11 ستمبر کو پیدا ہوا‘۔
     
    • معلوماتی معلوماتی x 2
    • شکریہ شکریہ x 1
    • لسٹ
  2. ‏اکتوبر 25، 2017 #2
    محمد نعیم یونس

    محمد نعیم یونس خاص رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 27، 2013
    پیغامات:
    26,400
    موصول شکریہ جات:
    6,600
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,207

    السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
    پیارے بھتیجے!!
    خبر کا حوالہ بھی ساتھ لکھ دیا کریں!
    مثلا ایسے۔۔
    http://www.bbc.com/urdu/world-41731458
     
    • شکریہ شکریہ x 1
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
  3. ‏اکتوبر 25، 2017 #3
    عبدالعزيز

    عبدالعزيز مبتدی
    جگہ:
    الله کے رحمت کے سائے تلے ان شاء الله
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 24، 2017
    پیغامات:
    169
    موصول شکریہ جات:
    78
    تمغے کے پوائنٹ:
    29

    وعليكم السلام ورحمتہ الله وبركاتہ
    سوری چاچو جان!
    آگے سے احتیاط رہی گی -
     
    • شکریہ شکریہ x 1
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
  4. ‏اکتوبر 25، 2017 #4
    محمد نعیم یونس

    محمد نعیم یونس خاص رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 27، 2013
    پیغامات:
    26,400
    موصول شکریہ جات:
    6,600
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,207

    ان شاء اللہ
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں