1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

فرض غسل کا صحیح طریقہ

'وضو' میں موضوعات آغاز کردہ از متلاشی حق, ‏جولائی 09، 2011۔

  1. ‏اگست 12، 2011 #11
    انس

    انس منتظم اعلیٰ رکن انتظامیہ
    جگہ:
    لاہور
    شمولیت:
    ‏مارچ 03، 2011
    پیغامات:
    4,176
    موصول شکریہ جات:
    15,224
    تمغے کے پوائنٹ:
    800

    غسل کا ایک طریقہ کار یہ بھی ہے کہ مکمل وضوء کرنے کے بعد پورے جسم پر پانی بہائے، گویا اس میں سر کا مسح بھی ہوگا، پھر پاؤں دھوئے جائیں گے، پھر سر پر پانی بہایا جائے گا۔

    مزید تفصیل کیلئے دیکھئے:
    Islam Question and Answer - غسل جنابت كا طريقہ
    واللہ تعالیٰ اعلم!
     
  2. ‏اگست 14، 2011 #12
    رفیق طاھر

    رفیق طاھر رکن مجلس شوریٰ رکن انتظامیہ
    جگہ:
    ارض اللہ
    شمولیت:
    ‏مارچ 04، 2011
    پیغامات:
    790
    موصول شکریہ جات:
    3,974
    تمغے کے پوائنٹ:
    323

    لیکن یہ طریقہ درست نہیں
    کتاب وسنت اس پر دلالت نہیں کرتے
    واللہ اعلم
     
  3. ‏اگست 14، 2011 #13
    رفیق طاھر

    رفیق طاھر رکن مجلس شوریٰ رکن انتظامیہ
    جگہ:
    ارض اللہ
    شمولیت:
    ‏مارچ 04، 2011
    پیغامات:
    790
    موصول شکریہ جات:
    3,974
    تمغے کے پوائنٹ:
    323

    سر کا مسح کرنا دوران غسل کتاب وسنت سے ثابت نہیں
    رہیں وہ احادیث جن میں یہ ہے کہ نماز کے وضوء جیسا وضوء کرتے ... الخ تو وہ مجمل ہیں اسی اجمال کی تفصیل انہی کتب احادیث میں وارد ہے اور انہی صحابہ سے مروی ہے جن میں سر کا مسح ذکر نہیں اور مسح کی نفی کی دلیل میں نے نقل کردی ہے
    لہذا ابو الحسن علوی صاحب کی یہ رائے سہو و خطا پر مبنی ہے !
    خوب سمجھ لیں
     
  4. ‏اگست 14، 2011 #14
    آزاد

    آزاد مشہور رکن
    جگہ:
    فی ارض اللہ
    شمولیت:
    ‏مارچ 09، 2011
    پیغامات:
    363
    موصول شکریہ جات:
    915
    تمغے کے پوائنٹ:
    125

    مسح نہ کرنے کی دلیل یہ حدیث ہے:
    السنن الصغرى - كتاب الغسل والتيمم
    باب ترك مسح الرأس في الوضوء من الجنابة - حديث:‏421‏
    أخبرنا عمران بن يزيد بن خالد قال : حدثنا إسماعيل بن عبد الله هو ابن سماعة قال : أخبرنا الأوزاعي ، عن يحيى بن أبي كثير ، عن أبي سلمة ، عن عائشة ، وعن عمرو بن سعد ، عن نافع ، عن ابن عمر ، أن عمر سأل رسول الله صلى الله عليه وسلم عن الغسل من الجنابة - واتسقت الأحاديث على هذا - " يبدأ فيفرغ على يده اليمنى مرتين أو ثلاثا ، ثم يدخل يده اليمنى في الإناء فيصب بها على فرجه ويده اليسرى على فرجه فيغسل ما هنالك حتى ينقيه ، ثم يضع يده اليسرى على التراب إن شاء ، ثم يصب على يده اليسرى حتى ينقيها ، ثم يغسل يديه ثلاثا ويستنشق ويمضمض ويغسل وجهه وذراعيه ثلاثا ثلاثا حتى إذا بلغ رأسه لم يمسح وأفرغ عليه الماء " فهكذا كان غسل رسول الله صلى الله عليه وسلم فيما ذكر
     
  5. ‏اگست 18، 2011 #15
    محمد ارسلان

    محمد ارسلان خاص رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 09، 2011
    پیغامات:
    17,865
    موصول شکریہ جات:
    40,798
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,155

    السلام علیکم
    اب فائنلی بات کیا ہے؟
    سر کا مسح کرنا یا نہ کرنا۔یا دونوں طریقے ٹھیک ہیں۔
     
  6. ‏اگست 19، 2011 #16
    آزاد

    آزاد مشہور رکن
    جگہ:
    فی ارض اللہ
    شمولیت:
    ‏مارچ 09، 2011
    پیغامات:
    363
    موصول شکریہ جات:
    915
    تمغے کے پوائنٹ:
    125

    وعلیکم السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
    حدیث کا ترجمہ سمجھ میں آگیا ہے آپ کو؟
    اگر ہاں تو پھر میرے خیال میں ایک اہلحدیث کو یہ سوال نہیں کرنا چاہیے جو آپ نے کیا ہے۔
     
  7. ‏اکتوبر 27، 2011 #17
    طارق بن زیاد

    طارق بن زیاد مشہور رکن
    جگہ:
    saudi arabia
    شمولیت:
    ‏اگست 04، 2011
    پیغامات:
    324
    موصول شکریہ جات:
    1,718
    تمغے کے پوائنٹ:
    139

    جزاک اللہ خیر بھائ جان
    بہت مفید باتیں بتائ آپنے اللہ ہمیں عمل کی توفیق عطا فرماے آمین
     
  8. ‏نومبر 09، 2011 #18
    یوسف ثانی

    یوسف ثانی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    پاکستان
    شمولیت:
    ‏ستمبر 26، 2011
    پیغامات:
    2,760
    موصول شکریہ جات:
    5,267
    تمغے کے پوائنٹ:
    562

    میرے خیال سے "فرض غسل" صرف یہی ہیں۔ اس کے علاوہ دیگر مواقع پہ غسل کرنا افضل تو ہے مگر فرض نہیں

    غسل کے صرف تین فرائض ہیں۔
    ١۔ ناک میں اوپر تک پانی ڈال کر ناک کی صفائی
    ٢۔ کلی اورغرارہ کر کے حلق تک پانی پہنچانا (روزہ میں غرارہ نہیں کرنا)
    ٣۔ پورے جسم پر پانی بہانا اس طرح کے جسم کا کوئی حصہ بال برابر بھی خشک نہ رہ جائے
    نوٹ: غسل کے صرف ایک سنت ہے۔ اور وہ یہ کہ غسل سے قبل باقاعدہ وضو کرنا۔ تاہم وضو کئے بغیر براہ راست مذکورہ تین عمل کرنے سے بھی غسل ہوجاتا ہے۔ غسل سے قبل جسم پر لگی ناپاکی کو صاف کرنا، غسل کا حصہ ہے۔

    غیر ضروری تفاصیل:
    آج کل جبکہ شہروں میں عموما" شاور سے غسل کیا جاتا ہے تو بہت سی تفاصیل کی ضرورت ہی نہیں رہتی۔ جیسے:
    (×) برتن میں ہاتھ ڈالنے سے پہلے ہاتھوں کو تین مرتبہ دھوئے۔ بائیں ہاتھ ہر گز پانی میں نہ ڈالیں پانی دائیں ہاتھ سے لیں ۔
    (×) پھر بائیں ہاتھ کو زمین پر دو تین مرتبہ خوب رگڑے اور پھر اسے دھو ڈالے ۔ (آج کل واش رومز میں صابن کا استعمال کیا جاتا ہے۔ البتہ اگر صابن دستیاب نہ ہو تب ایسا کیا جانا چاہئے)
    (×) پھر انگلیاں پانی سے تر کرے اور سر کے بالوں کی جڑوں میں خلال کرے ،
    (×) پھر سر پر تین مرتبہ پانی بہائے ۔
    (×) پھر باقی تمام بدن پر پانی بہائے ۔ پہلے دائیں طرف پھر بائیں طرف ۔
    (×) پھر دونوں پیر ( پاؤں) تین تین مرتبہ دھوئے انگلیوں کے خلال کے ساتھ ، پہلے دائیاں پھر بائیاں۔

    آج انٹر نیٹ یوزر کی بھاری اکثریت شاور سے غسل کرتی ہے، لہٰذا انہیں غسل کا سادہ طریقہ بتا نا چاہئے کہ غسل کے بنیادی فرائض کیا ہیں اور مسنون طریقہ کیا ہے۔ مسنون طریقہ میں غسل سے پہلے وضو شامل ہے۔ اور غسل کے صرف تین فرائض ہیں۔ جیسے علماء نے کہا ھے کہ اگر کوئی برسات میں مکمل بھیگ جائے (جسم میں لگی نجاست بہ جائے) اور وہ صرف کلی ، غرارہ، اور ناک میں پانی ڈال لے لو اس کا فرض غسل ادا ہوجائے گا۔ اسی طرح اگر کوئی نہر وغیرہ میں ڈبکی لگا لے اور اس کے ساتھ کلی ، غرارہ، اور ناک میں پانی ڈال لے تو بھی غسل ادا ہوجائے گا۔ (واللہ اعلم بالصواب)
    اہل علم سے گذارش ہے کہ اگر میرے جواب میں کوئی غلطی ہو تو اسے درست فرما دیں ۔ شکریہ
     
  9. ‏نومبر 11، 2011 #19
    محمد ارسلان

    محمد ارسلان خاص رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 09، 2011
    پیغامات:
    17,865
    موصول شکریہ جات:
    40,798
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,155

    حدیث کا ترجمہ آپ نے لکھا ہی نہیں تو سمجھ کیسے آئے گا؟
    کیا آپ نے حدیث کا ترجمہ لکھا ہے اگر نہیں تو پھر یہ اعتراض نہیں کرنا چاہیے جو آپ نے کیا ہے۔
     
  10. ‏نومبر 11، 2011 #20
    محمد ارسلان

    محمد ارسلان خاص رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 09، 2011
    پیغامات:
    17,865
    موصول شکریہ جات:
    40,798
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,155

    ایک بار پھر توجہ کرنے کی گزارش
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں