1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

فرض نماز کے وقت سنت پڑھنا

'نماز' میں موضوعات آغاز کردہ از مقبول احمد سلفی, ‏فروری 23، 2016۔

  1. ‏اپریل 11، 2016 #81
    محمد طارق عبداللہ

    محمد طارق عبداللہ سینئر رکن
    جگہ:
    ممبئی - مہاراشٹرا
    شمولیت:
    ‏ستمبر 21، 2015
    پیغامات:
    2,539
    موصول شکریہ جات:
    731
    تمغے کے پوائنٹ:
    276

    @ تمام اہل علم
     
  2. ‏اپریل 11، 2016 #82
    محمد طارق عبداللہ

    محمد طارق عبداللہ سینئر رکن
    جگہ:
    ممبئی - مہاراشٹرا
    شمولیت:
    ‏ستمبر 21، 2015
    پیغامات:
    2,539
    موصول شکریہ جات:
    731
    تمغے کے پوائنٹ:
    276

    نیا تہریڈ ہی مناسب ہوگا
     
  3. ‏اپریل 11، 2016 #83
    عبدالرحمن بھٹی

    عبدالرحمن بھٹی مشہور رکن
    جگہ:
    فی الارض
    شمولیت:
    ‏ستمبر 13، 2015
    پیغامات:
    2,435
    موصول شکریہ جات:
    287
    تمغے کے پوائنٹ:
    165

    دوسروں کی بات کو اپنے معنیٰ دینا کوئی اچھی بات نہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بات کو جیسا صحابہ کرام سمجھتے تھے ایسا یا اس سے بڑھ کر کوئی دوسرا نہیں سمجھ سکتا۔
    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بات کا فہم حاصل کرنا صحابہ کرام کا محتاج ہے کہ انہی لوگوں کے ذریعہ اسلام کے اصل فہم نے پھیلنا تھا اور پھیلا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کسی بات کا کوئی ایسا فہم دینے کی کوشش کرے صحابہ کرام کے قول و فعل سے متصادم ہو تو اس کے اس فہم کو دیوار پر دے مارو یہ زیادہ بہتر ہے نہ کہ صحابہ کرام کو متہم کیا جائے۔
     
  4. ‏اپریل 11، 2016 #84
    عمر اثری

    عمر اثری سینئر رکن
    جگہ:
    نئی دھلی، انڈیا
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 29، 2015
    پیغامات:
    4,370
    موصول شکریہ جات:
    1,082
    تمغے کے پوائنٹ:
    398

    خود غور کر لیں. میں نے اپنا معنی نہیں دیا ھے.
     
  5. ‏اپریل 12، 2016 #85
    اشماریہ

    اشماریہ سینئر رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏دسمبر 15، 2013
    پیغامات:
    2,684
    موصول شکریہ جات:
    740
    تمغے کے پوائنٹ:
    290


    عمر بهائی تفصیل سے پڑھ لیا۔ جزاک اللہ احسن الجزاء
    اب اس پر بات کرتے ہیں۔

    روایت جو آپ نے نقل فرمائی وہ یہ ہے:
    ثنا الربيع بن سليمان المرادي ، ونصر بن مرزوقبخبر غريب غريب قالا : ثنا أسد بن موسى ، ثنا الليث بن سعد ، حدثني يحيى بن سعيد ، عن أبيه ، عن جده قيس بن عمرو ، أنه صلى مع رسول الله صلى الله عليه وسلم الصبح ، ولم يكن ركع ركعتي الفجر ، فلما سلم رسول الله صلى الله عليه وسلم ، قام فركع ركعتي الفجر ، ورسول الله صلى الله عليه وسلم ينظر إليه ، فلم ينكر ذلك عليه "

    اس میں راوی ہیں اسد بن موسی جن کی تحقیق کا آپ نے لنک بھی دیا ہے۔ یہ بلاشبہ ثقہ ہیں۔ لیکن ان میں ایک چھوٹا سا مسئلہ ہے کہ یہ منکر احادیث بھی روایت کرتے ہیں۔
    نسائیؒ کا قول ہے:

    ثقة ولو لم يصنف كان خيراً له
    "ثقہ ہیں۔ اور اگر یہ کتاب نہ لکھتے تو ان کے لیے بہتر ہوتا۔"
    اس کے آگے معلمیؒ یہ تفصیل بیان کرتے ہیں: وذلك أنه لما صنف احتاج إلى الرواية عن الضعفاء فجاءت في ذلك مناكير، فحمل ابن حزم على أسد، ورأى ابن يونس أن أحاديثه عن الثقات معروفة، وحقق البخاري فقال «حديثه مشهور» يريد والله أعلم مشهور عمن روى عنهم فما كان فيه من إنكار فمن قبله
    "یہ اس وجہ سے ہے کہ جب انہوں نے تصنیف کی تو ضعفاء سے روایات کے محتاج ہو گئے تو اس میں مناکیر لے آئے۔ تو ابن حزم نے اسد پر حملہ کیا۔ اور ابن یونس کی رائے یہ ہے کہ ان کی احادیث ثقات سے معروف ہیں۔ اور بخاریؒ نے تحقیق کی تو کہا: ان کی حدیث مشہور ہے۔ ان کا ارادہ تھا (اللہ بہتر جانتا ہے) جن سے انہوں نے روایت کی ہیں ان سے مشہور ہیں اور جو اس میں انکار ہے وہ ان کی طرف سے ہے۔"
    (التنکیل 1۔413، ط: المکتب الاسلامی)
    ظاہر ہے ان میں اگر ہم نکارۃ مان بھی لیں تب بھی اتنی کم ہوگی کہ کوئی حدیث ثقات کے مخالف ثابت ہو جائے تب ہی اسے منکر کہیں گے (ھذا رایی فقط)
    لیکن اب یہاں اس روایت کی طرف آئیے۔
    اسے روایت کیا ہے سفیان بن عیینہ اور عبد اللہ بن نمیر نے۔ سفیان سے امام شافعی اور بیہقی نے اور ابن نمیر سے ابو داودؒ اور کئی نے۔
    ان سب نے روایت کرتے ہوئے یحیی بن سعید کے بجائے سعد بن سعید کا ذکر کیا ہے جس کی سند گزر چکی ہے۔
    سفیان کہتے ہیں عطاء بن ابی رباح نے اس حدیث کو سعد بن سعید سے سنا ہے۔
    رہ گئے سعد کے دو بھائی تو ابو داودؒ فرماتے ہیں کہ عبد ربہ اور یحیی اس حدیث کو مرسلا روایت کرتے ہیں۔
    لیکن جب اسد بن موسی روایت کرتے ہیں تو ایک تو یحیی بن سعید سے روایت کرتے ہیں اور وہ بھی متصل۔
    اسی لیے ابن خزیمہ نے یہ روایت بیان کرتے ہوئے فرمایا ہے: غریب غریب۔ اور لفظ غریب محدثین کے یہاں منکر کے لیے بکثرت استعمال ہوتا ہے۔
    تفصیل کے لیے یہ لنک دیکھ لیجیے۔ رہ گئی بات یہ کہ بقول مبارکپوریؒ حاکم نے اس کے طریق کو صحیح قرار دیا ہے تو حاکم کا تساہل معروف ہے۔

    اس روایت پر دوسرا اشکال سعید بن قیس کے حوالے سے ہے۔ ان کے عدم سماع کا جواب دینے کی کوشش کی گئی ہے لیکن حاکم کے تساہل کی وجہ سے وہ جواب کمزور معلوم ہوتا ہے۔ اور دوسری بات یہ ہے سعید بن قیس مستور الحال ہیں۔ صرف ابن حبان نے ان کے لیے صحابی ہونے کا قول کیا ہے لیکن انہیں شاید ان کے والد یا سعید بن قیس بن صخر رض سے غلطی لگ گئی ہے۔ اور کسی کے یہاں ان کی تعدیل یا جرح نہیں ملتی۔ (یہ مستور ہونے کا قول کسی اور کا ہے۔ اس پر تحقیق کر لی جائے۔ مجھے بھی ان کا ذکر اس حوالے سے کہیں نہیں ملا۔ بخاری اور ابو حاتم رحمہما اللہ نے بھی تعدیل یا جرح نہیں کی۔) و اللہ اعلم

    اس کے علاوہ اگر اس روایت کو صحیح مان لیں تب بھی روایات بخاری سے اس کی تطبیق یا ترجیح کا کیا حل ہوگا؟ جبکہ وہ کثرت میں ہیں اور صریح ہیں۔ اگر یہ کہا جائے کہ یہ عام نوافل کی طرح نہیں ہے بلکہ اس میں کوئی اضافی خصوصیت ہے تو یہ بات خود محتاج دلیل ہوگی۔
    ھذا ما ظہر لی۔ و اللہ اعلم۔ وہو الموفق الی الصواب۔

    (نوٹ: میں ایک طالب علم ہوں۔ مجھے شیخ نہیں کہا کیجیے۔ مجھے یقین ہے کہ علم و عمل میں اور شاید عمر میں بھی آپ مجھ سے زیادہ ہوں گے۔)
     
    • شکریہ شکریہ x 1
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
  6. ‏اپریل 12، 2016 #86
    محمد طارق عبداللہ

    محمد طارق عبداللہ سینئر رکن
    جگہ:
    ممبئی - مہاراشٹرا
    شمولیت:
    ‏ستمبر 21، 2015
    پیغامات:
    2,539
    موصول شکریہ جات:
    731
    تمغے کے پوائنٹ:
    276

    آپ کا احترام آپکی علمی لیاقت سے هے اور انداز تحریر سے ۔ اختلاف الرای اپنی جگہ ۔
    اللہ آپ کے علم میں وسعت دے ، دنیا و آخرت میں سرفرازی عطاء کرے۔
    آمین
     
  7. ‏اپریل 12، 2016 #87
    اشماریہ

    اشماریہ سینئر رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏دسمبر 15، 2013
    پیغامات:
    2,684
    موصول شکریہ جات:
    740
    تمغے کے پوائنٹ:
    290

    آمین
    و لک مثلہ
     
    Last edited: ‏اپریل 12، 2016
  8. ‏اپریل 12، 2016 #88
    محمد طارق عبداللہ

    محمد طارق عبداللہ سینئر رکن
    جگہ:
    ممبئی - مہاراشٹرا
    شمولیت:
    ‏ستمبر 21، 2015
    پیغامات:
    2,539
    موصول شکریہ جات:
    731
    تمغے کے پوائنٹ:
    276

    عبد الرحمن بهٹی صاحب

    پہلے پیار سے سارے اقتباست پڑہیں

     
  9. ‏اپریل 12، 2016 #89
    محمد طارق عبداللہ

    محمد طارق عبداللہ سینئر رکن
    جگہ:
    ممبئی - مہاراشٹرا
    شمولیت:
    ‏ستمبر 21، 2015
    پیغامات:
    2,539
    موصول شکریہ جات:
    731
    تمغے کے پوائنٹ:
    276

    اب درخواست :

    میں خود بهی جاننا چاہتا ہوں ۔
    میں جلد باز نہیں ۔
    بغیر سمجہے کسطرح کہوں ۔
    اگر مجہے سمجہتا تو اشماریہ بهائی کو زحمت کیوں دیتا ۔
    آپ سے کہا تہا انکے جواب کا انتظار کریں اور فرق دیکہیں ۔ کیا فرق دکہا؟
    آپ کی فہم اور خصوصا آپ کے مفہوم دوسروں پر مسلط نا کریں۔
    یہ طنز نہیں ہے اور آخری بار آپ کو سمجہا رہا ہوں ۔
    سیکہنے کے بهی طریقے ہوتے ہیں اور سکہانے کے بهی ۔
    اس صبح سے آپ خود کیلیئے اصول بنا لیں اور ان پر عمل بهی کریں ۔
    الفاظ کے انتخاب میں احتیاط لائیں ۔
    کہاں کہنا اور کہاں چپ رہنا چاہیئے اگر اب بهی نہیں سمجہے تو کب سمجہیں گے ؟
     
  10. ‏اپریل 12، 2016 #90
    محمد طارق عبداللہ

    محمد طارق عبداللہ سینئر رکن
    جگہ:
    ممبئی - مہاراشٹرا
    شمولیت:
    ‏ستمبر 21، 2015
    پیغامات:
    2,539
    موصول شکریہ جات:
    731
    تمغے کے پوائنٹ:
    276

    یہ انداز صحیح العقائد کے لئے کیوں نہیں ہے آپکا جو آپکے ہم فکر کے ساتہ ہے !؟

    یعنی مذہب سے بہلے اختلاف رکہیں اور فکر ایک ہو تو آپکا جواب اور اسلوب اسطرح ہوگا اور فکر اہل حدیث ہو تو آپ کا اسلوب الگ ہوگا ؟
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں