1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

فرقہ جماعت اہل حدیث یا شیعہ؟

'اہل حدیث' میں موضوعات آغاز کردہ از sahj, ‏مارچ 12، 2014۔

موضوع کا سٹیٹس:
مزید جوابات پوسٹ نہیں کیے جا سکتے ہیں۔
  1. ‏مارچ 12، 2014 #1
    sahj

    sahj مشہور رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏مئی 13، 2011
    پیغامات:
    458
    موصول شکریہ جات:
    655
    تمغے کے پوائنٹ:
    110

    اہل حدیث یا شیعہ؟
    تو یہ آئمہ کی توہین کرنا بالخصوص امام الائمہ ابوحنیفہ رحمۃ اللہ کو جلی کٹی سنانا اور ان کے مقلد حنفی فقہاء و محدثین پر تعن کرنا اور تمام حنفیوں کو مشرک کہنا یہ آج کل غیر مقلدوں کا دن رات کا وظیفہ ہے، اسلئے بحفوائے فتوائے میاں نذیر حسین یہ لوگ چھوٹے رافضی نہیں تو اور کون ہیں ؟
    مولانا قاری عبدالرحمٰن محدث پانی پتی کا تجزیہ
    میاں نزیر حسین کا امام ابوحنیفہ کو بدنام کرنے کے لئے شیعوں سے مدد لینا

    مولانا قاری عبدالرحمٰن محدث پانی پتی لکھتے ہیں،

    ہر انسان اپنے مخالفین کا مقابلہ کرنے کے لئے اپنے ہم مسلک لوگوں کی حمایت حاصل کرتا ہے، تو میاں نزیر حسین جو شیعوں سے امداد لیکر ابوحنیفہ رحمہ اللہ کی مخالفت کو مدلل کرتا ہے تو لازماً یہ ان کا ہم مسلک ہے۔ اس کے شیعہ ہونے میں کوئی شبہ نہیں۔

    قاضی شوکانی زیدی شیعہ تھا اور اس کی پارٹی نیم شیعہ
    محدث پانی پتی لکھتے ہیں،
    اور زیدی شیعوں کو عالمگیری میں کافر لکھا ہے، دیکھئے۔

    جماعت غیر مقلدین کا بانی زیدی شیعہ کا شاگرد تھا اور خود بھی شیعہ ہوگیا تھا جس کی تفصیل آپ پہلے پڑھ چکے ہیں۔ اور زیدی شیعہ کا کوفر کہنا واجب ہے۔ لہٰزہ جماعت غیر مقلدین کو اہل حق میں سے کیسے کہا جاسکتا ہے ؟ نہ ہی ان کو اہل سنت سمجھا جاسکتا ہے ، کیونکہ یہ خود کو اہل سنت کہلوانا پسند نہیں کرتے، ورنہ یہ اپنا نام اہل حدیث نہ رکھتے۔ اسلئے ان کو نرم سے نرم الفاظ میں شیعہ یا چھوٹے رافضی کہہ سکتے ہیں ، ورنہ بقول قاری عبدالرحمٰن محدث ان کا کفر شیعوں سے کہیں بڑھا ھوا ہے۔

    قاری عبدالرحمٰن صاحب کے الفاظ یہ ہیں۔
    غیر مقلدین باالاتفاق علماء دہلی اہل سنت سے خارج اور اہل بدعت میں داخل ہیں۔
    منکر حقانیت مزاہب اربعہ جہنمی ہے، اس کی کوئی عبادت قبول نہیں

    دجال و کذاب غیر مقلدوں سے بچ کر رہنے اور ان کے ساتھ دشمنی رکھنے کے متعلق فرمان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم


    دیکھئے حضرات غیر مقلد جس رفع یدین ،آمین بالجہر، اور فاتحہ خلف الامام پر حنفیوں سے عمل کروانا چاھتے ہیں یہ ہمارے ہاں متعارف اور معمول نہیں اور بزبان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جو لوگ غیر متعارف احادیث اور غیر معمولی سنتوں کو پیش کرکے ان پر عمل کے طالب ہوں ان کو دجال ، کذاب سمجھو ان سے بچ کر رہو اور ان سے دشمنی اختیار کرو۔

    غیر مقلد جدید رافضی ہیں
    قاری عبدالرحمٰن صاحب محدث فرماتے ہیں۔
    غیر مقلد اصولی طور پر اہل سنت سے خارج اور شیعہ ہیں

    غیر مقلد اپنے آپ کو اھل سنت تقیہ سے کہتے ہیں
    محدث پانی پتی صاحب لکھتے ہیں
    دعوٰی اھل حدیث کا مطلب برھمی دین محمدی ہے
    مولانا شاہ اسحٰق صاحب کا فتوٰی
    محدث پانی پتی صاحب لکھتے ہیں۔
    علماء احناف کی خدمت میں۔


    حنفی بزرگوں کو مولانا شاہ محمد اسحٰق صاحب کے اس فتوے سے سبق حاصل کرتے ہوئے غیر مقلدین کے متعلق اپنی مداہنت اور رواداری پر نظرثانی کرنی چاہئے ، کیونکہ ہم نے ان سے رواداری کرکے بہت نقصان اٹھایا ہے، حنفی بزرگ تو یہ سمجھتے رہے کہ ہمارا غیر مقلدوں سے صرف رفع یدین اور آمین بالجہر کا اختلاف ہے جو چنداں مضر نہیں، اور اس میں حق و باطل والی کوئی بات نہیں، مگر یہ لوگ ہمارے عوام کو اغوا کرتے رہے اور حدیث حدیث کے واسطے دے کر انہیں حنفیت سے برگشتہ کرکے غیر مقلد بناتے رہے، میں پورے وثوق سے کہتا ہوں کہ اگر ہمارے بزرگ مداہنت سے کام نہ لیتے اور ان لوگوں پر وہی فتوے لگاتے جو علماء دہلی نے لگایا تھا ، انہیں ضال مضل کہتے جیسے شاہ محمد اسحٰق صاحب نے کہا، انہیں برملہ شیعہ کہتے جیسے قاری عبدالرحمان محدث کہہ رہیں ہیں ، تو یہ فتنہ اپنے پنگھوڑے سے باہر قدم نہ رکھتا بلکہ یہ اپنی موت آپ مرجاتا۔

    اصحاب صحاح اور دیگر محدثین سب مقلد تھے۔

    غیرمقلد یہ کہہ کر عوام کو دھوکا دیتے ہیں کہ ہم محدثین کے مزہب پر ہیں، گویا محدث بھی ان کی طرح غیر مقلد تھے، حاشا و کلا ایسا ہرگز نہیں ۔ دیکھئے محدث پانی پتی صاحب لکھتے ہیں۔
    نواب صدیق حسن خان غیر مقلد نے بھی اپنی تصنیف " الحطہ فی ذکر صحاح ستہ " میں تمام اصحاب صحاح کو مقلد مانا ہے، حضرت شاہ ولی اللہ رحمہ اللہ صاحب نے بھی " الانصاف " میں ایسے ہی لکھا ہے، اور خود طبقات شافعیہ میں انہیں شافعی قرار دیا گیا ہے۔ لہزہ غیر مقلدین کا کہنا کہ ہم محدثین کے مزہب پر ہیں محض دھوکہ اور فراڈ ہے۔
    اجماع امت اور قیاس کی حجیت کے غیر مقلد اور شیعہ دونوں منکر ہیں ۔
    قارئین کو معلوم ہونا چائیے کہ اصول شریعت اسلام بالتفاق علماء امت چار ہیں۔
    نمبر1
    کتاب اللہ
    نمبر2
    سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
    نمبر3
    اجماع امت
    نمبر4
    قیاس شرعی
    انہیں چاروں پر اصول و فروع کا مدار ہے، تمام اہل سنت خواہ وہ حنفی ہوں یا شافعی، مالکی ہوں یا حنبلی، ان چاروں کی حجیت تسلیم کرتے ہیں، اور جو ان چاروں کو حجت نہ مانے اس کو مسلمان تسلیم نہیں کرتے۔ لیکن غیر مقلد ٹولہ ان میں سے پہلے دو کے ماننے کا دعوٰی کرتا ہے مگر دوسرے دونوں کا انکار کرتا ہے ، یہ اجماع امت اور قیاس شرعی کو نہیں مانتے محض اس وجہ سے ان کا آدھا اسلام تو رخصت ہوا۔ باقی آدھا جس کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر مدار ہے اس کو اپنی مرضی سے مانتے ہیں۔ یعنی آیت کی تفسیر اور حدیث کی تشریح میں یہ علماء سلف کے پابند نہیں۔ ان کے ہاں اس کے وہ معنی و مفہوم معتبر ہیں جو ان کی اپنی سمجھ میں آجائے۔ خواہ وہ اجماع امت کے خلاف ہو، فقہا و محدثین کے خلاف ہو ان کو اس کی کوئی پروا نہیں۔ لہٰزہ کتاب و سنت کو ماننا بھی ان کا برائے نام ہے، یہ بھی کوئی ماننا ہے جو تفسیر بالرائے کے زمرے میں آتا ہو ۔ ساری امت کہتی ہے آیت "واذاقری القرآن فاستمعوا لہ و انصتو لعلکم ترحمون" نماز کے متعلق نازل ہوئی مگر یہ بضد ہیں کہ خطبہ کے متعلق ہے۔
    ساری امت متفق ہے کہ اک مجلس کی دی ہوئی تین طلاقیں واقع ہوجاتی ہیں اور بیوی اس سے مغلظ ہوجاتی ہے، اسکے بعد " فلا تحل لہ من بعدہ حتٰی تنکح زوجا غیرہ" کا حکم اس پر لازم آتا ہے ، مگر یہ کہتے ہیں کہ اک مجلس کی دی ہوئی طلاقیں خواہ سو ہو ، وہ ایک ہی بنتی ہے اس سے بیوی مغلظہ نہیں ہوتی بلکہ خاوند کو رجوع کا حق باقی رہتا ہے ۔ اور خدا نا ترس لوگ ایسے کیس میں بیوی کو واپس کرادیتے ہیں۔ وہ ساری زندگی زنا کراتی اور ولد الزنا جنم دیتی ہے۔ جسکا وبال اس پر کم اور ان غلط کار مفتریوں پر زیادہ ہوتا ہے، جنہوں نے اپنے غلیظ فتوے کی آڑ میں اس کو زنا کا موقع فراہم کیا ہے۔ تو یہ قرآن و حدیث کو ماننا نہیں ، اسکو اپنی خواہشات کے مطابق ڈھالنا ہے ۔ جس کو اسلام نہیں کہہ سکتے ، بلکہ یہ تو اسلام کے ساتھ مزاق ہے۔
    اب اجماع و قیاس کو نہ ماننے کا شیعہ وغیر مقلد توافق ملاحظہ فرمائیں۔
    خلفائے ثلاثہ حضرات
    ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ
    عمر فاروق رضی اللہ عنہ
    عثمان غنی رضی اللہ عنہ
    کی خلافتیں امت کے اجماع سے ثابت ہیں ، مگر شیعہ ان کو نہیں مانتے تو وہ اجماع کے منکر ہوئے۔
    حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے جب بیس تراویح رائج کیں، مجلس واحد میں تین طلاقوں کو تین قرار دیا ، نکاح متعہ کی حرمت کا اعلان کیا تو کسی صحابی نے اس سے اختلاف نہیں کیا ، یہ تینوں مسئلے صحابہ رضوان اللہ علیہم کے اجماع سے ثابت ہوئے، پھر ان مسئلوں کو نہ شیعوں نے مانا اور ناہی غیر مقلدوں نے، تو اسطرح یہ دونوں فریق اجماع امت کے منکر ہوئے ۔ اور اجماع امت تیسرا اصول اسلام ہے تو اس کے انکار کی وجہ سے ہم شیعوں کو تو کافر کہتے ہیں ، مگر ابھی غیر مقلدوں کو نہیں ، کیونکہ ان کا انکار ابھی کھل کر علماء کے سامنے نہیں آیا، اور ناں ہی یہ عوام کے علم میں ہے، اسلئے فی الحال ان کے کفر کا فتوٰی نہ دینا ایک احتیاط ہے۔
    لیکن ان کی منہ زوری اور بے لگامی کا یہی حال رہا اور یہ اکابرین اسلاف کرام کی گستاخی بے ادبی تحقیر میں بڑھتے ہی گئے اور اسلام کے مسلمہ اصولوں سے انحراف پر پختہ ہوتے چلے گئے تو پھر وہ وقت بھی آجائے گا کہ یہ اسی مقام پر کھڑے ہوں گے جس مقام پر حضرت مولانا حق نواز شہید رحمہ اللہ کی کوششوں سے آج شیعہ کھڑے ہیں، قدرت ان کے لئے بھی کسی حق نواز کو کھڑا کرے گی۔
    (ان شاء اللہ)
    قیاس شرعی کے انکار میں غیر مقلد اور شیعہ دونوں متفق ہیں

    علامہ ابن تیمیہ رحمہ اللہ اپنی بینظیر کتاب "منہاج السنۃ" میں روافض کا درج ذیل اعتراض نقل کرتے ہیں ، جس کو غیر مقلدین بڑے فخر سے اچھالتے ہیں کہ
    بعینہ یہی اعتراض غیر مقلد احناف پر کرتے ہیں ، حتٰی کہ اگر "قالو" کا فاعل الروافض کی بجائے غیر مقلدین کو فرض کرلیا جائے تو ہوبہو درست ہے۔ غیر مقلدوں کو قیاس کی حجت سے بھی انکار ہے۔ جو اصول اسلام میں سے اور چار مزاہب پر بھی اعتراض ہے کہ یہ مزاہب بدعت ہیں، غیر مقلدوں کو تقلید ائمہ پر بھی اعتراض ہے کہ یہ شرک و کفر ہے۔ دیکھئے بڑے چھوٹے بھائی آپس میں کتنے مشابہہ ہیں۔
    شیعہ کے اعتراض کی تفصیل
    حضرت مولانا شاہ عبدالعزیز رحمہ اللہ صاحب شیعوں کے اس اعتراض کو نقل کرکے اس کا دندان شکن جواب بھی دیتے ہیں ۔ آپ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ
    یہی اعتراض بعینہ غیر مقلدوں کا ہے۔ انکا اک شعر ہے ۔
    اس سے قارئین کو معلوم ہونا چاہیئے کہ غیر مقلدوں نے یہ اعتراض شیعوں سے لئے ہیں جو اپنی طرف سے پیش کرکے بڑے تیس مارخان بنتے ہیں، لیکن یہ جرائت نہیں کہ اپنے بڑوں کا نام لیتے جن سے یہ اعتراض لے کر اہل سنت والجماعت بالخصوص احناف کو کافر و مشرک بناتے ہیں۔
    شاہ عبدالعزیز رحمہ اللہ محدث دہلوی کا جواب
    "یعنی اس مکر کا جواب یہ ہے کہ نبی صاحب شریعت ہوتا ہے نہ کہ صاحب مزہب کیونکہ مزہب تو راہ کا نام ہے جو فہم شریعت کے سلسلے میں بعض امتیوں پر کھولی جاتی ہے۔ اور پھر وہ اپنی عقل و خرد سے چند قواعد مقرر کرتے ہیں ان قواعد کے مطابق شرعی مسائل انکے ماخز (کتاب و سنت و اجماع و قیاس) سے نکالے جاتے ہیں۔ اسی لئے مسائل نکالنے میں خطا و ثواب دونوں کا احتمال ہوتا ہے، یہی وجہ ہے کہ خدا تعالٰی ، جبرائیل و ملائکہ ، و انبیاء علیھم السلام کی طرف مزہب کی نسبت کرنا بے وقوفی ہے (اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا دین کہا کرتے ہیں ۔ اللہ تعالٰی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا مزہب نہیں کہا کرتے، یوں کہنا کہ اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا مزہب یہ ہے ، صریح حماقت اور سخت جہالت ہے)
    یہی حماقت غیر مقلدین کر رہے ہیں کہ دین اور مزہب کو ایک چیز سمجھ کر لوگوں کو ورغلاتے ہیں کہ خدا کا اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا مزہب تو ایک تھا ، مگر ان مقلدوں نے چار مزہب بنالئے ہیں، ہم پھر اسکو ایک کرنا چاہتے ہیں۔عوام بے چارے دین اور مزہب کا فرق کیا سمجھیں ، وہ ان کے چکر میں آجاتے ہیں ۔ حقیقت یہ ہے کہ دین تو سب مقلدین کا اب بھی اک ہے ، لیکن مزہب مختلف ہیں، جیسے چار شخصوں کی منزل تو ایک ہو لیکن وہ چاروں مختلف راستوں سے اس منزل تک پہنچیں ۔ کوئی مشرق سے، کوئی مغرب سے، کوئی شمال سے، کوئی جنوب سے۔ جیسے خانہ کعبہ اور مسجد حرام میں آنے کے لئے کوئی باب السلام سے آئے یا باب عبدالعزیز سے ، کوئی باب صفا سے آئے یا باب عمرہ سے، وہ بہرحال مسجد حرام میں پہنچ جائے گا۔
    مزہب کا معنی راستہ ہے اور راستے کئی ہوسکتے ہیں ، مگر منزل ایک ہی ہوتی ہے۔ اب دین و شریعت کے معروف راستے یہی چار ہیں۔ حنفی،شافعی، مالکی، اور حنبلی ، ان کو تو موٹر وے کہنا چاھئے۔ ان کے علاوہ جو اور لوگوں نے راستے بنائے ہیں یا بنانے کی کوشش کر رہے ہیں وہ غیر معروف برانچیں ہیں، انکے زریعے منزل تک پہنچنا یقینی نہیں۔ وہ راہیں خطرناک اور پر صعوبت ہیں اور دانش مندوں نے کہا ہے۔
    برو راہ راست گرچہ دور است
    اسی لئے سلامتی اور منزل تک یقینی رسائی کا تقاضا یہی ہے کہ انہی معروف شاہراہوں پر چلاجائے جن پر چل کے اکابر ملت منزل پر پہنچے ہیں اور غیر مقلدین کی بنائی ہوئی برانچوں اور پگڈنڈیوں میں اپنی عمر عزیز ضائع نہ کی جائے۔
    غیر مقلدین علامات قیامت میں سے ہیں۔
    امیر المومنین حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
    قارئین ملاحظہ فرمائیں کہ اب پندرھویں صدی کے غیر مقلد کس طرح اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم ،تابعین عظام اور ائمہ مجتہدین پر زبان دراز کرتے ہیں یعنی صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمٰعین کو (معاذاللہ) بدعتی کہتے ہیں۔ جیسے بیس تراویح کے بارے میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو، اور آذان اول کی وجہ سے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو، کبھی فقہ و اجتہاد کی وجہ سے آئمہ مجتہدین کو کہتے ہیں کہ انہوں نے دین محمدی کے بلمقابل اک اور ہی دین بنالیا ہے، اور کبھی تقلید و اتباع کی وجہ سے تمام مقلدین مزاہب اربعہ کو مشرک گردانتے ہیں، جیسا کہ حنفیوں ،شافعیوں،مالکیوں، حنبلیوں کو یہ لوگ گمراہ ، مشرک اور تارک سنت کہتے ہیں۔ اس لحاظ سے اس حدیث کا صحیح مصداق غیر مقلدوں کے سوا دوسرا کوئی نہیں۔ لہزا ہم مقلدین پر بھی لازم ہے کہ ان(فرقہ جدید نام نہاد اہل حدیث )کو گمراہ سمجھتے ہوئے ان سے بچ کر رہیں، ان سے قطع تعلق کریں اور ان کو اپنی مساجد سے دور رکھیں، کیونکہ یہی لوگ وہ فتنہ ہیں جو قیامت کا پیش رو اور اس کا نشان ہیں۔
    فقہ حنفی کی مذمت میں غیر مقلدین شیعہ کے خوشہ چیں ہیں۔
    ہندستان میں فقہ حنفی کی مزمت میں سب سے پہلی کتاب "استصقاءالافحام" لکھی گئی جو ایک متعصب شیعہ حامد حسین کستوری کی تصنیف ہے، اسکے بعد غیر مقلدین کی طرف سے جتنی کتابیں لکھی گئیں ہیں، وہ سب اسی کتاب کی نقالی اور شیعوں کی قے خوری ہے۔ ہماری اس بات کی تصدیق مشہور غیر مقلد عالم مولوی محمد حسین بٹالوی کے قلم سے ملاحظہ فرمائیں۔ وہ لکھتے ہیں۔
    اس کے بعد فقہ حنفی کی مزمت میں دوسری کتاب "الظفرالمبین" ہے، جو ایک برائے نام مسلم "ہری چند کھتری" کی لکھی ہوئی ہے۔ اس سلسلہ نامشکورہ کی تیسری کتاب جس میں فقہ کی حقیقت کم اور امام الآئمہ ، فقیہ الامت، حجرت امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کی توہین و تزلیل زیادہ ہے۔ یہ کتاب دجل و تلبیس اور کزب و افتراء کا شاہکار ہے، اس میں عبارتوں کی قطع و برید ہے، حوالوں کی جعل سازی ہے اور فقہ پر اعتراضات ہیں۔ یہ سب بہت برا توشہ آخرت ہے، جو اس کے بد نصیب مصنف کے لئے تیار کیا ہے۔
    مطلق فقہ سے نفرت و انکار۔
    جسطرح شیعہ حضرات مطلق فقہ اہل سنت کے منکر ہیں اسی طرح غیر مقلدین بھی بلا استثنا چاروں مزاہب کی فقہ کے خلاف ادھار کھائے بیٹھے ہیں۔ فقہ کا نام آتے ہیں ان کی تیوریاں چڑھ جاتی ہیں، تنفس تیز ہوجاتا ہے اور منہ سے کف آنے لگتی ہے۔ حالانکہ فقہ کا حکم قرآن پاک نے دیا ہے اور مطلق فقہ کی فضیلت حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان کی ہے ، دیکھئے قرآن پاک کا کہنا ہے ،
    فلو لا نفر من کل فرقۃ منھم طائفۃ لیتفقھوا فی الدین
    "کہ کیوں نہ نکلی ان کے ہر گروں میں سے اک جماعت جو دین کی فقہ حاصل کرتی؟"
    من یرد اللہ بہ خیرا یفقھہ فی الدین
    "یعنی جس شخص کے ساتھ اللہ تبارک و تعالٰی خیر کا ارادہ کرتے ہیں اسے تفقہ فی الدین کی دولت سے نوازتے ہیں"
    جس کا مفہوم مخالف یہ ہے کہ جس کے ساتھ اللہ تعالٰی "شر" کا ارادہ رکھتے ہیں اسے فقہ کی دولت سے محروم کردیتے ہیں۔ جیسے غیر مقلدین فقہ کی دشمنی اختیار کرکے اس دولت عظمٰی اور نعمت عالیہ سے محروم ہیں اور جو خوش قسمت افراد اس نعمت سے مالا مال ہیں ، جیسے فقہا امت اور مجتہدین ملت یا ان کے خوش نصیب مقلدین یہ لوگ ان کے نام سے جلتے ہیں اور ان کی خداداد شہرت سے انگاروں پر لوٹتے ہیں۔
    فقہ و اجتہاد میں ان کی سعی مشکور کو نیست و نابود کرنے کے مواقع کی تلاش میں ہیں۔ ان کا بس چلے تو فقہ کا تمام دفتر غرق مئے ناب کردیں۔ مگر خداوند تعالٰی گنجے کو کبھی ناخن نہیں دے گا۔ مطلق فقہ حنفی کا آفتاب نصف النہار پر سدا چمکتا دمکتا رہے گا۔(ان شاء اللہ) ان چمگادڑوں کی آنکھیں اس کو دیکھ دیکھ کر خیرہ ہوجائیں گی، مگر یہ فقہ کو کوئی گزند نہیں پہنچا سکیں گے۔ جیسے دنیا بھر کے کفار قرآن پاک کو مٹادینے پر تلے ہوئے ہیں، مگر قرآن پاک کا اک حرف بھی تبدیل نہیں کرسکیں گے اور ناں ہی قرآن پاک کی کسی زیر زبر کو مٹاسکیں گے۔
    فانوس بن کر جس کی حفاظت ہوا کرے
    وہ شمع کیا بجھے جسے روشن خدا کرے
    ساری امت کو گمراہ کہنے والا خود کافر ہے

    واضح ہوکہ امت محمد صلی اللہ علیہ وسلم ، یہ نام ہے اہل سنت والجماعت کا ، جو مزاہب اربعہ میں منقسم ہے۔ حنفی،شافعی،مالکی،حنبلی ان چاروں کو شیعہ بھی کافر کہتے ہیں اور غیر مقلدین بھی مشرک کہتے قرار دیتے ہیں۔ اگر یہ سارے مشرک ہیں تو مسلمان کیا اس شرمئہ قلیلہ اور گروہ آوارہ کا نام ہے جن کی تعداد انگلیوں پر گنی جاسکتی ہیں؟؟؟ کیا روز محشر امتیوں کی ایک سو بیس صفحوں میں سے امت محمدیہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اسی 80 صفحیں ان غیر مقلدین سے بنے گی جو تعداد میں شیعوں سے بھی کم ہیں؟؟؟ اگر ان کی صف بنائی جائے تو لاہور سے لے کر مریدکے تک ختم ہوجائے گی۔ حق یہ ہے کہ ناجی صرف اہل سنت والجماعت ہیں ، جو دنیا کے آخری کناروں تک پھیلے ہوئے ہیں۔ اور واضح رہے کہ قرون اولٰی کے اہل حدیث خود اہل سنت میں شامل تھے ، موجودہ فرقہ اہل حدیثوں کو ان اہل حدیثوں سے کوئی نسبت نہیں ۔ وہ اک علمی طبقہ تھا جس کا کام الفاظ حدیث کی خدمت کرنا اور سند حدیث کو محفوظ کرنا تھا، ان میں سے کوئی بھی جاہل نہیں ہوتا تھا ، بلکہ وہ کم از کم ایک لاکھ حدیث کے حافظ ہوتے تھے،(موجودہ فرقہ اہل حدیث نامیوں کی طرح موچی ڈرائیور اور دودھ فروش نہیں تھے) اور وہ کسی ایک فرقہ سے تعلق نہیں رکھتے تھے وہ حنفی بھی تھے اور شافعی بھی، وہ مالکی بھی تھے اور حنبلی بھی۔ ان مومنین صادقین اہل سنت والجماعت کو جو گمراہ اور مشرک قرار دیتا ہے وہ خود گمراہ اور کافر ہے، جیسا کہ حضرت قاضی عیاض رحمہ اللہ نے اپنی بے مثال تصنیف " الشفاء" میں لکھا ہے کہ آپ فرماتے ہیں،۔

    اس عبارت کے پہلے حصے کے مصداق غیر مقلد ہیں اور دوسرے کے شیعہ، کیونکہ شیعہ تمام صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمٰعین کو کافر کہتے ہیں اور غیر مقلدین جمیع آئمہ اربعہ کو مشرک بتاتے ہیں۔

    جاری ہے
     
  2. ‏مارچ 12، 2014 #2
    sahj

    sahj مشہور رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏مئی 13، 2011
    پیغامات:
    458
    موصول شکریہ جات:
    655
    تمغے کے پوائنٹ:
    110

    وحید الزمان مشہور غیر مقلد عالم فرقہ اہل حدیث کا، شیخین رضوان اللہ علیہم اجمٰعین کی فضیلت کا بھی قائل نہیں
    لکھتا ہے۔
    "یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد امام برحق ابوبکر رضی اللہ عنہ ہیں، پھر عمر رضی اللہ عنہ پھر عثمان رضی اللہ عنہ پھر علی رضی اللہ عنہ پھر حسن بن علی رضی اللہ عنہما ہیں، لیکن ہم یہ نہیں جانتے کہ ان میں سے عنداللہ افضل کون ہے"
    جبکہ اہل سنت والجماعت کے تمام فرقوں کے ہاں حضرات شیخین تمام صحابہ سے افضل ہیں، پھر ان میں سے سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے بھی افضل ہیں۔ گویا افضل الخلائق بعد الانبیاء اہل سنت والجماعت کے نزدیک ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ ہیں۔ چنانچہ حضرت امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ نے فضیلت شیخین و محبت ختنین اور مسح علی الخفین کو اہل سنت کا شعار بتلایا ہے۔

    مولوی وحید الزمان غیر مقلد کے نزدیک حجت کتاب و سنت کی بجائے کتاب و عترت ہے۔ چنانچہ لکھتا ہے،
    واضح ہو کہ یہ بعینیہ شیعوں کا موقف ہے کہ ان کے نزدیک کتاب و سنت کوئی چیز نہیں ، اصل چیز کتاب اللہ اور عترت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہے۔ انہیں سے تمسک پر وہ زور دیتے ہیں ،ہماری حدیث و سنت کو تو وہ مانتے ہی نہیں اور ان کی حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچتی نہیں ۔ وہ آئمہ اطہار پر ہی ختم ہوجاتی ہے۔

    مولوی وحید الزمان غیر مقلد نے پانچ صحابہ کو فاسق لکھا ہے۔ (معاذاللہ)

    چنانچہ وہ نزل الابرار کی جلد 3، کے حاشیہ صفحہ 94 پر لکھتا ہے۔
    تو یہ پانچوں اس کے نزدیک فاسق و فاجر ہیں۔(معاذاللہ)۔جبکہ اہل سنت کے ہاں "الصحابۃ کلھم عدول" کا کلیہ مسلم ہے، یعنی تمام صحابہ عادل اور پرہیز گار ہیں۔ جیسا کہ آیت قرآنی گواہ ہے۔
    " ولکن اللہ حبب الیکم الایمان و زینہ فی قلوبکم و کرہ الیکم الکفر والفسوق والعصیان اولئک ھم الراشدون "
    (سورۃ حجرات)
    "لیکن اللہ تعالٰی نے (اے صحابہ رضی اللہ عنہ) تمہارے لئے ایمان کو محبوب بنادیا ہے اور اسے تمہارے دلوں میں مزین کردیا ہے یہی لوگ راشدوں کی جماعت ہے۔"
    یعنی یہی لوگ "صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمٰعین" ہدایت یافتہ اور عادل و متقی ہیں۔

    قارئین کو معلوم ہونا چاہئے ،کوئی بھی اہل سنت کسی بھی صحابی کے فسق کا قائل نہیں ، یہ غیر مقلد ہی ہیں جن کو شیعہ کی آب چڑھی ہوئی ہے کہ بے دھڑک ایسے عظیم القدر صحابہ کو فاسق کہہ دیتے ہیں۔ حق یہ ہے کہ اگر صحابہ بھی فاسق ہوسکتے ہیں تو پھر ہم لوگوں کا اللہ ہی حافظ ہے۔ہمارے لئے پھر فسق کچھ بھی معیوب نہیں ہوگا۔


    وحید الزمان غیر مقلد کی معاویہ رضی اللہ عنہ سے دشمنی۔

    ترجمہ بخاری شریف میں صفحہ 90 جلد 5 پر حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں لکھتا ہے،
    ایسے ہی ترجمہ بخاری جلد5،صفحہ 61 پر رقم طراز ہے،
    نیز لکھتا ہے،
    ہم "اللہ محفوظ رکھے" وحید الزمان غیر مقلد کی دعا پر آمین کہتے ہیں لیکن امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کو رضی اللہ عنہ کہنے اور حضرت کہنے سے نہیں بلکہ غیر مقلدی سے اور اللہ تبارک و تعالٰی ہم سب مسلمانوں کو غیر مقلدیت سے محفوظ رکھے کیونکہ غیر مقلد ہوکر آدمی صحابہ، آئمہ اور اسلاف کرام کا گستاخ اور بے ادب ہوجاتا ہے۔ وہ خود تو صحابہ کا ادب نہیں کرسکتا لیکن ادب کرنے والوں کو بھی روکتا ہے۔ کہ صحابہ کو حضرت اور رضی اللہ عنہ نہ کہنا۔ نعوذباللہ من العمٰی بعد الھدٰی۔
    وحید الزمان ھرگز اہل سنت نہیں ہوسکتا
    یہ کتنی عجیب بات ہے کہ امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کو فاسق لکھ کر اور حضرت و رضی اللہ عنہ کے القاب سے محروم کرکے بھی یہ اپنے آپ کو اہل سنت سمجھتے ہیں۔ سب کچھ ہوسکتا ہے مگر یہ بے لگام شخص اہل سنت نہیں ہوسکتا۔ جس کے دل میں اک عظیم صحابی ، کاتب وحی ، مسلمانوں کے خالو ، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے برادر نسبتی کے متعلق اتنا بغض اور کینہ بھرا ہوا ہو کہ وہ اس کے لئے تعظیمی الفاظ تک کو ناجائز سمجھتا ہو۔ تفو بر تفو اے چرخ گردان تفو۔
    غیر مقلدین کا مایہ ناز مصنف علامہ وحید الزمان ا قراری شیعہ ہے۔
    وحید الزمان ، بخاری شریف کے ترجمہ جلد 2 صفحہ 193 پر سورت حجر کی آیت "صراط علی مستقیم" کی تفسیر کے حاشیہ میں لکھتا ہے،
    نیز "نزل الابرار،جلد1صفحہ7" پر لکھتا ہے،
    قارئین کرام ! اس قدر واضح بیان کے بعد بھی کیا موصوف کے شیعہ اور رافضی ہونے میں کوئی شبہ باقی رہ جاتا ہے؟ بعض تقیہ باز غیر مقلد ، سادہ لوح مسلمانوں کی آنکھوں میں دھول جھونک کر کہتے ہیں کہ ہم اسے (وحید الزمان) نہیں مانتے ، حالانکہ اسی وحید الزمان کی کتابیں، ان غیر مقلدوں کے ہر گھر اور مسجد کی لائبریریوں کی زینت بنی ہوئی ہیں۔ یقین نہ آئے تو جاکر دیکھ لیں۔
    وحید الزمان غیر مقلد ، کے نزدیک متعہ حلال قطعی ہے۔
    وہ کہتا ہے،

    اس عبارت میں وحید الزمان غیر مقلد نے متعہ کو صرف جائز ہی نہیں کہا ہے ، بلکہ اس کے جواز کے لئے قرآنی اور اجماعی ٹھوس دلائل بھی مہیہ کردئے ہیں جو شاید شیعوں کو بھی نہ سوجھے ہوں۔

    ہوئے تم دوست جس کے، دشمن اس کا آسماں کیوں ہو
    پتانہیں نام نہاد اہل حدیث اپنے اسی محبوب مصنف و محدث کے قطعی فتوے پر عمل کرکے اس کا ثواب عظیم حاصل کرتے اور اپنے علامہ کو اس کا ایصال ثواب پہنچاتے ہیں یا ظنی باتوں پر عمل کرکے اس ثواب عظیم سے محروم رہتے ہیں۔
    غیر مقلدوں کی آبادی چونکہ بہت کم ہے اسلئے انہیں اس فتوے کی آڑ میں اپنی نفری بڑھانے کی بھرپور کوشش کرنی چاھئے۔
    وحید الزمان نے ہدیۃ المہدی کے صفحہ 112 پر بھی متعہ کو جائز قرار دیا ہے۔ اس کے الفاظ ہیں " بااختیار قول اھل مکۃ فی المتعۃ " یعنی متعہ کے بارے میں اہل مکہ کے قول جواز کے اختیار کرنے میں کوئی مضائقہ نہیں۔
    وحید الزمان اھل تقلید کی مخالفت اور اھل تشیع کی موافقت پر بڑا فخر کرتا ھے
    وہ لکھتا ہے،
    دیکھئیے ! حرمت تقلید میں فرقہ امامیہ کی موافقت پر وحید الزمان کتنا خوش ہوتا اور فخر کرتا ہے ،
    یہ بیں کہ از کہ گستی وبا پیوستی
    دیکھ تو لے کہ تونے کس سے توڑی اور کس سے جوڑی؟
    وحید الزمان شیعوں کی طرح پاؤں کے مسح کا قائل تھا۔
    وہ کہتا ہے،
    اس اقتباس میں وحید الزمان غیر مقلد نے پاؤں کے مسح کا جواز ہی نقل نہیں کیا بلکہ اس کے خلاف غسل رجلین پر صحابہ کا اجماع بھی نکل کیا ہے، تعجب ہے کہ پھر بھی مسح کے جواز کا قائل ہے اور اپنی تائید میں صحابہ اور اہل سنت کے آئمہ کو چھوڑ کر شیعوں کے اماموں سے متواتر روایات بیان کرتا ہے ، تو کیا یہ اس کے شیعہ ہونے کی اٹل دلیل نہیں ؟ کہ جن شیعی روایات کی تردید اسے کرنی چاھئیے تھی وہ بڑے فخر سے اپنی تائید میں نقل کرتا ہے۔
    حی علی الفلاح کے بعد حی علی خیر العمل کہیں
    وحید الزمان غیر مقلد کہتا ہے کہ اگر حی علی الفلاح کے بعد حی علی خیر العمل کہا جائےتو کوئی حرج نہیں۔
    اسکے الفاظ یہ ہیں،
    مہربان من ! حرج کیوں نہیں ؟ یہ حی علی خیر العمل شیعوں کی آزان کا شعار ہے پھر وہ اہل حدیث کی آذان میں کیوں ہے؟ اور اگر اسے بے کھٹک لانا ہی ہے تو پھر اہل حدیث کہلوانے کا تکلف کیوں؟ صاف صاف اہل تشیع کہلوائیں۔
    تھوڑے پانی کے ناپاک نہ ہونے میں شیعوں اور غیر مقلدوں کی موافقت
    وحید الزمان نے لکھا ہے،
    ادھر شیعہ کہتے ہیں،
    ساس کے ساتھ زنا کی وجہ سے بیوی کے حرام نہ ہونے پر شیعوں اور غیر مقلدوں کی موافقت
    شیعہ کہتے ہیں ،
    "
    اور غیر مقلد کہتے ہیں،
    مشت زنی کے جواز میں شیعوں اور غیر مقلدوں کی موافقت
    شیعہ کہتے ہیں ،
    فرقہ نام نہاد اہل حدیث یعنی غیر مقلد کہتے ہیں
    ناظرین غور کریں کہ شیعوں نے اس فعل قبیح کو صرف مباح کہا تھا مگر غیر مقلدوں نے اسے ناصرف واجب کا درجہ دے دیا بلکہ اسے سنت صحابہ کے طور پر ثابت کرنے کی سعی نامشکور بھی کی ہے۔
    خنزیر کے اجزاء کی ناپاکی میں شیعوں اور غیر مقلدوں کا توافق۔
    شیعہ کہتے ہیں،
    اور فرقہ اہل حدیث والے غیر مقلد کہتے ہیں،
    جمع بین الصلٰوتین میں شیعوں سے موافقت
    قارئین کو معلوم ہونا چاھئے کہ عرفات میں ظہر اور عصر کی جمع تقلدین اور مزدلفہ میں مٍرب و عشاء کی جمع تاخیر بلاشبہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے، اس کے علاوہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہیں بھی بلاعزر شرعی جمع نہیں فرمائی۔
    حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں،
    "عن عبداللہ کان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یصلی الصلوٰۃ لوقتھا الا بجمع و عرفات۔"
    (نسائی،جلد2،صفحہ36)
    یعنی " حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
    نماز ہمیشہ اپنے وقت پر پڑھا کرتے تھے سوائے مزدلفہ اور عرفات کے۔"
    نیز مسلم شریف میں یہی بات قدرے تفصیل کے ساتھ کہی گئی ہے کہ مزدلفہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مغرب کی اور عشاء کی نمازوں کو جمع کرکے پڑھا۔ اب دیکھئے غیر مقلد اور شیعہ دونوں اس کے برخلاف کیا کہتے ہیں ۔ کہ بغیر عزر کے گھر میں بھی جمع کرکے پڑھنا جائز ہے۔ غیر مقلدوں کا علامہ وحید الزمان ہدیۃ المہدی میں فرماتا ہے۔
    ملاحظہ فرمائیے ! یہاں غیر مقلد مصنف شیعہ اماموں کو اپنی تائید میں پیش کررہا ہے تو پھر اہل سنت کی بجائے شیعوں کے زیادہ قریب نہیں تو اور کیا ہے۔؟
    نماز جنازہ جہراً پڑھنے میں شیعوں اور غیر مقلدوں کی موافقت

    ناظرین کو معلوم ہونا چاھئے کہ جمہور اہل سنت کے نزدیک نماز جنازہ چونکہ دعا ہی کی اک صورت ہے، اور دعا کو آہستہ پڑھنے کا حکم قرآن پاک نے دیا ہے ، اسلئے بالاجماع جنازہ کی دعائیں آہستہ پڑھنی چاھئیں ۔ جیسا کہ قاضی شوکانی غیر مقلد نے بھی اس سے اتفاق کیا ہے۔
    وہ لکھتا ہے،
    مگر اس قول جمہور اور آئمہ اربعہ کے خلاف صرف شیعوں سے موافقت کرنے کے لئے غیر مقلد کہتے ہیں کہ جمازہ کی قرات اور دعائیں جہراً پڑھنی سنت ہے۔ دیکھئے فتاوٰی علمائے حدیث (جلد5صفحہ152) نیز فتاوٰی ثنائیہ میں بھی یہی لکھا ہے کہ جنازہ کی نماز میں سورۃ فاتحہ اور اس کے بعد کی سورۃ بآواز بلند جہراً پڑھنا جائز بلکہ سنت ہے۔(فتاوٰی ثنائیہ جلد2،صفحہ56)
    نماز میں ہاتھ اٹھاکر دعامانگنے میں غیر مقلدوں اور شیعوں کی موافقت
    قارئین کو معلوم ہے کہ شیعہ حضرات نماز میں بار بار ہاتھ اٹھا کر دعامانگتے ہیں ۔ شیعوں کا یہ عمل غیر مقلدین کو اتنا پسند آیا کہ وتروں اور قنوت نازلہ میں بلکہ مطلق نماز میں انہوں نے بھی ہاتھ اٹھا کر دعا مانگنے کو اپنا معمول بنالیا۔
    وحید الزمان لکھتا ہے،
    ہدیۃ المہدی میں وحید الزمان لکھتا ہے،
    حالانکہ یہ کسی حدیث میں نہیں آتا کہ یہاں یہ لوگ اپنے آپ کو شیعوں پر قیاس کرلیتے ہیں پھر ہاتھ ہی نہیں اٹھاتے انہیں دعا پڑھ کر منہ پر بھی پھیر لیتے ہیں جو ہئیت نماز کے بلکل خلاف ہے۔ یہ اک قسم کا عمل کثیر ہے جس سے نماز ہی ٹوٹ جاتی ہے، جبکہ ہمارے پاس دعا میں ہاتھ اٹھانے کی مرفوع حدیث موجود ہے،
    "عن محمد بن یحیٰی الاسلمی قال رایت عبداللہ بن زبیر و راءی رجل رافعا یدیہ
    یدعو قبل ان یفرغ من صلوتہ فلما فرغ منھا قال لہ ان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
    لم یکن یرفع یدیہ حتی یفرغ من صلوٰتہ۔"

    (رواہ ابن ابی شیبہ)
    "یعنی محمد بن یحیٰی اسلمی فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عبداللہ بن زبیر رضٰ اللہ عنہ کو دیکھا کہ آپ نے ایک ایسے آدمی کو دیکھا وہ فراغت سے پہلے نماز میں ہاتھ اٹھاکر دعا مانگ رہا تھا جب وہ فارغ ہوا تو آپ نے اسے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب تک نماز سے فارغ نہ ہوجاتے ہاتھ نہیں اٹھایا کرتے تھے۔"
    عورتوں کے ساتھ وطی فی الدبر میں شیعوں اور غیر مقلدوں میں موافقت
    شیعہ لکھتے ہیں،
    :عن حماد بن عثمان قال سالت ابا عبداللہ علیہ السلام عن الرجل یاتی المراۃ
    فی ذالک الموحع وفی البیت جماعۃ وقال لی ورفع صوتہ قال رسول اللہ صلی اللہ
    علیہ وسلم من کلف مملو کہ مالا یطیق فلیبہ ثم نظر فی وجوہ اھل البیت ثم
    اصغی الی فقال لا باس بہ۔"
    (الاستبصار،جلد2،صفحہ130)
    "یعنی حماد بن عثمان روایت کرتا ہے کہ میں نے حضرت امام جعفر صادق سے دریافت کیا
    کہ اپنی عورت کی دبر میں دخول کر سکتا ہے؟ آپ نے بلند آواز سے یہ فرمایا کہ اپنے غلام
    سے اس کی طاقت سے بڑھ کر کام لینا جائز نہیں بلکہ اسے فروخت کردینا چاھئے، پھر اپنے اہل بیت کے چہروں کو دیکھ کر میری طرف سرجھکایا اور فرمایا کہ اس میں کوئی حرج نہیں۔"
    غیر مقلد مجتہد وحید الزمان بخاری شریف جلد6 صفحہ 37اور38 پر آیت "نساء کم حرث لکم فاتوا حرثکم انی شئتم" کی تفسیر کے حاشیہ میں لکھتا ہے،
    "روایت میں اس کی صراحت موجود ہے کہ (یہ آیت) عورتوں سے دبر میں جماع کرنے کے باب میں اتری۔ ابن عمر رضی اللہ عنہ سے اس کی اباحت منقول ہے۔ اور امام مالک اور امام شافعی بھی پہلے اسکے قائل تھے۔--------یہ آیت "وطی فی الدبر" کی اجازت میں اتری -----ایک جماعت اھل حدیث جیسے بخاری،زیلعی،بزاز،نسائی اور بوعلی نیشاپوری اسی طرف گئی ہے کہ وطی فی الدبر کی ممانعت میں کوئی حدیث ثابت نہیں۔----- مطلب یہ کہ آیت سے وطی فی الدبر کا جواز نکلتا ہے۔"
    یہی رافضی مصنف "نزل الابرار،صفحہ123 پر رقم طراز ہے۔
    "و وطی الازواج و الاماء فی الدبر"
    یعنی اہل حدیث عورتوں اور باندیوں کی دبر میں عطی کرنے کے جواز کا انکار نہیں کرتے۔
    گویا یہ فرقہ اہل حدیث کی خصوصیتوں میں سے ہے کہ وہ اس خلاف وضع فطری فعل کو جائز سمجھتے ہیں۔
    کتے کے پاک ہونے میں شیعوں اور غیر مقلدوں میں موافقت۔
    قارئین جانتے ہیں کہ کتا نجس ہے ،وہ اگر کنویں میں گرجائے تو کنواں ناپاک ہوجاتا ہے اور اس کا سارا پانی نکالنا ضروری ہوتا ہے۔ مگر شیعون کے ہاں صرف پانچ ڈول نکالنے سے کنواں پاک ہوجاتا ہے۔ جیسا کہ فروع کافی کی جلد 1 اور صفحہ 4 پر لکھا ہے کہ،
    لیکن غیر مقلدوں کے ہاں پانچ ڈولوں کی بھی ضرورت نہیں جیسا کہ وحید الزمان نے نزل الابرار میں لکھا ہے،
    اس سے دوسطر پہلے اس نے کہا ،
    لیجئے شیعوں نے تو پانچ ڈول نکالنے کا تکلف کیا تھا مگر ٍیر مقلدوں نے اسے بھی اٹھادیا اور کتے کو مطلق پاک کہہ دیا اور تین سطر بعد لکھا ہے کہ جوشخص کتے کو گود میں اٹھا کر نماز پڑھے اس کی نماز بلکل ٹھیک ہے، اور اس میں کوئی فساد نہیں۔
    اس کے الفاظ یوں ہیں،
    "ولا تفسد صلوٰۃ حاملہ"
    یعنی اس کو اٹھانے والے کی نماز فاسد نہیں ہوگی۔
    گویا کتے کے مسئلے میں غیر مقلدوں نے شیعوں کو بھی پیچھے چھوڑ دیا کہ وہ خود بھی پاک ہے اور اس کا لعاب بھی پاک ہے اور اس کو اٹھا کر نماز پڑھنا بھی جائز ہے۔
    حفظ قرآن سے محرومی میں شیعوں اور غیر مقلدوں کی موافقت۔
    شیعہ لوگ اس قرآن پر ایمان نہیں رکھتے، اسلئے ان کا حفظ کی دولت سے محروم ہونا تو سمجھ میں آسکتا ہے، مگر حیرت کی بات ہے کہ غیر مقلدوں میں بھی نسبتاً حافظ بہت کم ہیں، وجہ یہ ہے کہ حدیث حدیث کی رٹ میں قرآن کی اصل عظمت اور حفظ قرآن کی اہمیت ان کے دلوں سے نکال دی ہے۔ ان کے نزدیک اصل چیز حدیث ہی ہے لہٰزہ اس کے ساتھ قرآن کو بھی دیکھنے کے روادار نہیں، جیسا کہ فاتحہ خلف الامام کے مسئلہ میں یہ صریح قرآن کے خلاف چلتے ہیں، شوافع اور حنابلہ اگر خلف الامام فاتحہ پڑھتے ہیں تو وہ آیت قرآنی میں جہراً کی تاویل کرلیتے ہیں، یعنی مقتدی کو فاتحہ پڑھنا اس وقت منع ہے جب امام جہراً قراءت کررہا ہو لیکن سراً میں منع نہیں ۔ لیکن یہ لوگ مطلقاً قراءت کے قائل ہیں خواہ جہراً ہو یا سراً ہو۔ اور کہتے ہیں کہ "واذا قری القرآن " کا نماز سے کوئی تعلق نہیں ۔ یہ تو خطبہ سے متعلق ہے۔ احمق لوگ یہ نہیں سمجھتے کہ جب خطبہ میں سامعین کی خاموشی مطلوب ہے تو جو نام ہی خشوع اور خضوع کا ہے اور "وقومو للہ قانیتین" کا مصداق ہے، اس میں خاموشی کیوں مطلوب نہیں؟ جبکہ اس آیت کے نماز کے متعلق ہونے پر امت کا اجماع بھی ہے۔
    حضرت امام احمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں۔
    :اجمع الناس علی ان ھٰذہ الآیۃ فی الصلوٰۃ"
    "آیت کا نماز سے تعلق اک اجماعی مسئلہ ہے۔"
    مگر یہ لوگ خودرائی اور ذہنی آوارگی کی تسکین کے لئے اجماع امت کو بھی رد کردیتے ہیں۔
    وقت واحد کی طلاق ثلاثہ کے ایک ہونے پر شیعوں اور غیر مقلدوں کی موافقت۔
    طلاق ثلاثہ تمام اہل سنت والجماعت حنفی،مالکی،شافعی،حنبلی وغیرہ کے ہاں تین ہی قرار دی جاتی ہیں، اور سب کے نزدیک مطلقہ ثلاثہ مغلظ ہوجاتی ہے، اور بغیر حلالہ صحیحہ کے، پہلے خاوند کے پاس بنکاح جدید بھی واپس نہیں آسکتی۔ مگر شیعوں کی ریس میں غیر مقلد کہتے ہیں کہ ایک وقت کی دی تین طلاقیں تین ہوتی ہی نہیں۔ اور وہ صرف ایک واقع ہوتی ہے، اور وہ بھی رجعی کہ بغیر نکاح جدید کے سابق خاوند اس سے رجوع کرسکتا ہے۔
    امت کے اس اجماعی موقف میں سات آٹھ سو سال کے بعد سب سے پہلے ابن تیمیہ نے رخنہ ڈالا اور تین طلاق کے ایک ہونے کا فتوٰی دیا۔ غیر مقلدین نے ابن تیمیہ کے اس تفرد کی تقلید کی،، عجیب بات ہے کہ یہ لوگ ائمہ اربعہ کی تقلید کو حرام کہتے نہیں تھکتے لیکن ابن تیمیہ کی تقلید کو انہوں نے صرف شیعوں کے ساتھ موافقت کی وجہ سے اپنے اوپر لازم کرلیا ہے۔ حالانکہ جب ابن تیمیہ نے یہ موقف اختیار کیا تھا تو جمہور علماء امت نے اس کی سخت مخالفت کی تھی اور ابن تیمیہ کو اس فتوٰی کی وجہ سے بڑے مصائب کا شکار ہونا پڑا تھا۔ دیکھئے کہ مشہور غیر مقلد عالم "ابوسعید شرف الدین دہلوی" نے اس کا کھلے دل سے اعتراف کیا ہے۔
    وہ لکھتے ہیں،
    نواب صدیق حسن خان صاحب نے "اتحاف النبلاء" میں جہاں شیخ الاسلام کے تفردات لکھے ہیں اس فہرست میں طلاق ثلاثہ کا مسئلہ بھی لکھا ہے۔
    انکار تراویح میں غیر مقلدین اور شیعوں کی موافقت
    عام لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ اہل سنت اور غیر مقلدین کا تراویح میں اختلاف تعداد رکعت کے متعلق ہے کہ اہل سنت بیس رکعت سمجھتے ہیں اور غیر مقلد آٹھ رکعت۔ لیکن یہ بات صحیح نہیں، اصل اختلاف یہ ہے کہ تراویح کا وجود ہے کہ نہیں، کیونکہ باتفاق اہل سنت والجماعت تراویح بیس رکعت سے کم نہیں ہیں۔ آٹھ رکعت جس کے یہ مدعی ہیں وہ تراویح ہیں ہی نہیں ، وہ تو تہجد کی رکعت ہیں۔ اسلئے اکثر محدثین نے آٹھ رکعت والی روایات کو باب تہجد میں نقل کیا ہے قیام رمضان میں نہیں۔ پھر امام ترمزی رحمہ اللہ نے جہاں تراویح کے متعلقہ مزاہب نقل کئے ہیں وہاں بیس تراویح یا چھتیس تراویح کا زکر کیا ہے مگر آٹھ تراویح کا کوئی زکر نہیں ہے۔ گویا امام ترمزی رحمہ اللہ کے زمانے تک تراویح بیس رکعات ہی پڑھی جاتی تھیں۔ یہ تو انگریز کے منحوس دور میں غیر مقلدوں کو آٹھ رکعات کی سوچھی ہے تاکہ اس سے امت حنفیہ میں اختلاف پیدہ کیا جائے۔ اور اس مسئلے پر ہر ہر مسجد میں فتنہ و فساد برپا کیا جاسکے۔
    تو گویا جن آٹھ رکعات کو یہ تراویح کہتے ہیں وہ تراویح نہیں تہجد کی رکعات ہیں اور جو بیس رکعت تراویح کی ہیں ان کو یہ پڑھتے ہی نہیں اور نا ہی مانتے ہیں۔
    اس لحاظ سے ان کا اور شیعوں کا مزہب ایک ہی ہے کہ بیس رکعت جو حضرت عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ نے رائج کی تھیں، ہم اس کو نہیں مانتے۔ لہٰزہ دونوں فریق یکساں منکرین تراویح ٹھہرے۔
    مسئلہ رجعت میں شیعوں اور غیر مقلدوں کی موافقت
    ملا باقر مجلسی نے ایک مستقل رسالہ اس مسئلہ میں لکھا ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ امام مہدی علیہ السلام مدینہ منورہ جاکر دریافت کریں گے کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ و عمر رضی اللہ عنہ و عثمان رضی اللہ عنہ اور ان کے تابعین اور حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا و حفصہ رحی اللہ عنہا کہاں مدفون ہیں۔ جب لوگ ان کی قبروں کا نشان دیں گے تو وہ ان کو کھینچ کر زندہ کریں گے اور حضرت علی رضی اللہ عنہ و حسنین اور ان کی ذریت اور شیعوں کو بھی زندہ کریں گے اور ان کے روبرو اصحاب رضی اللہ عنہما و ازواج رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے اتباع کو طرح طرح کی اذیت پہنچا کر ماریں گے اور ان کی لاشوں کو درختوں سے لٹکادیں گے۔ حضرت علی و حسن اور حسین ان کی ذریت اور شیعہ یہ انتقامی منظر دیکھ کر باغ باغ ہوجائیں گے۔(معاذ اللہ ثم معاذ اللہ)
    غیر مقلد عالم ملا معین اپنی کتاب دراسات اللبیت کے صفحہ 219 پر لکھتا ہے،
    تو گویا شیعوں نے سنیوں اور ان کے پیشواوں سے انتقام لینے کے لئے رجعت کا عقیدہ گھڑا ، اور غیر مقلدوں نے امام مہدی کی زیارت پانے کے لئے اس جھوٹ سے اتفاق کیا، تو دونوں ہی من گھڑت عقیدے میں باہم متفق ہیں۔ حالانکہ اہل سنت والجماعت کے ہاں یہ عقیدہ بالکل مردود ہے۔ چنانچہ امام نوی رحمہ اللہ شارح مسلم لکھتے ہیں کہ رفعت باطل ہے اور معتقد اس کے رافضی ہیں ۔ لیکن پتہ نہیں تھا کہ ایک قوم غیر مقلد نامی بھی آئے گی جو اسی عقیدے کی حامل ہوگی۔
    عقیدہ عصمت آئمہ میں شیعوں اور غیر مقلدوں کو موافقت
    حضرت شاہ عبدالعزیز رحمۃ اللہ محدث دہلوی "تحفہ اثنا عشریہ" (مطبوعہ استنبول،صفحہ358) پر شیعوں کا عقیدہ نقل کرتے ہیں،
    حالانکہ یہ عقیدہ قرآن پاک کے خلاف ہے ۔ اسی طرح ٍغیر مقلد عالم ملا معین دراسات اللبیت کے صفحہ 213 پر لکھتا ہے۔
    دیکھئیے ! غیر مقلدین شیعوں کے اس خلاف کتاب و سنت عقیدے میں کس طرح اشتراک و اتفاق کرکے اہل سنت سے خارج ہوئے ہیں۔(کیونکہ اہل سنت کے ہاں تو صرف انبیاء ہی معصوم ہیں)
    گزارشات آخریں

    مزکورہ بالا گزارشات سے آپ نے یقیناً جان لیا ہوگا کہ تحریک اہل حدیث یا دعوت غیر مقلدیت افراد ملت کو حدیث کی طرف لے جانے کی تحریک نہیں بلکہ اس نام سے لوگوں کو اہل سنت سے دور کرنے کی تحریک ہے یا اہل سنت سے نکال کر اہل تشیع کے قریب لانے کی تحریک ہے۔ جیسا کہ آپ نے دیکھ لیا کہ ان "فرقہ اہل حدیث یا غیر مقلدوں" کے اکثر مسائل و اعتقادات اہل سنت کی بجائے اہل تشیع اور روافض سے زیادہ ملتے جلتے ہیں۔ مثلاً
    انکار اجماع
    انکار قیاس
    انکار تقلید
    ظلاق ثلاثہ کو ظلاق واحد کہنا
    انکار تراویح
    جواز متعہ
    جمع بین الصلوٰتین
    توہین سلف
    اکابر پر بدزبانی
    آئمہ پر بدگمانی
    ارسال یسین
    نماز کی دعا میں رفع یدین
    پاؤں کا مسح
    حی علی خیر العمل
    انکار افضلیت شیخین و فضائل صحابہ
    انکار مزاہب اربعہ
    اذان عثمانی
    وغیرہ وغیرہ وغیرہ
    ان تمام مسائل میں غیر مقلدین شیعوں کے ساتھ ہیں تو اب یہ افراد ملت کے سوچنے کا مقام ہے کہ ہم اہل سنت کی عظیم برادری سے نکل کر اہل تشیع یا نام نہاد اہل حدیث بن کر کیا لیں گے ؟؟
    پیچھے کو نظر اٹھا کر دیکھیں
    امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ
    شافعی رحمۃ اللہ علیہ
    مالک رحمۃ اللہ علیہ
    ابن حنبل رحمۃ اللہ علیہ
    محمد بن حسن رحمۃ اللہ علیہ
    ابویوسف رحمۃ اللہ علیہ
    طحاوی رحمۃ اللہ علیہ
    ابن ھمام رحمۃ اللہ علیہ
    ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ
    ابن قیم رحمۃ اللہ علیہ
    بخاری رحمۃ اللہ علیہ
    مسلم رحمۃ اللہ علیہ
    ترمزی رحمۃ اللہ علیہ
    ابوداؤد رحمۃ اللہ علیہ
    ابن ماجہ رحمۃ اللہ علیہ
    نسائی رحمۃ اللہ علیہ
    اور دیگر محدثین
    شیخ شہاب الدین سہروردی رحمۃ اللہ علیہ
    خواجہ بہاؤالحق نقشبندی رحمۃ اللہ علیہ
    معین الدین چشتی رحمۃ اللہ علیہ
    عبدالقادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ
    جنید بغدادی رحمۃ اللہ علیہ
    بایزید بسطامی رحمۃ اللہ علیہ
    ابراہیم بن ادھم رحمۃ اللہ علیہ
    نظام الدین اولیا رحمۃ اللہ علیہ
    قطب الدین بختیار کا کی رحمۃ اللہ علیہ
    علی ھجویری رحمۃ اللہ علیہ
    مجدد الف ثانی رحمۃ اللہ علیہ
    شاہ ولی اللہ دہلوی رحمۃ اللہ علیہ
    سید سلیمان ندوی رحمۃ اللہ علیہ
    شبلی نعمانی رحمۃ اللہ علیہ
    الیاس دہلوی رحمۃ اللہ علیہ
    عطاء اللہ شاہ بخاری رحمۃ اللہ علیہ
    اور سید اسمعیل شہید رحمۃ اللہ علیہ
    اور سید احمد شہید رحمہ اللہ وغیرہ علما اور فقہاء اور محدثین و صوفیاء یہ سب ہم اہل سنت کا سرمایہ ہیں ، کسی غیر مقلد یا شیعہ کا نہیں۔
    غیر مقلد بن کر ان تمام اساطین امت اور اولیاءے امت کو چھوڑنا پڑے گا اور ملے گا کیا ؟؟عبدالقادر روپڑی،پروفیسر سعید،عبداللہ بہاولپوری،وحید الزمان، ساجد میر،ساجد نقوی،طالب کرپالوی،طالب الرحمان،عبدالعلیم یزدانی،اور مرید عباس یزدانی۔؟
    میں سمجھتا ہوں اس سے زیادہ خسارے کا سودہ کوئی نہیں ہوسکتا ۔
    فماربحت تجارتھم وما کانوا مھتدین
    اسلئے اپنے اکابر و اسلاف سے منسلک رہنا آئمہ و فقہ و اجتہاد کی تقلید میں سفر زندگی طے کرنا ہی احوط و اسلم ہے،اس میں کسی قسم کی خودرائی اور اجماع امت کے خلاف ورزی کا کوئی امکان نہیں، بصورت دیگر اپنی من مانی، خودرائی اور نفس پرستی کے سوا کچھ نہیں ہوگا جس میں ہلاکت ہی ہلاکت ہے ، بربادی ہی بربادی ہے۔
    (اللہ تعالٰی ہمیں فتنہ غیر مقلدیت یا فرقہ اہل حدیثیت سے محفوظ فرمائے) آمین
    اللھم ارنا الحق حقا و ارزقنا اتباعہ وارنا الباطل باطلا و ارزقنا اجتنابہ۔
     
  3. ‏مارچ 13، 2014 #3
    محمد عامر یونس

    محمد عامر یونس خاص رکن
    جگہ:
    karachi
    شمولیت:
    ‏اگست 11، 2013
    پیغامات:
    16,968
    موصول شکریہ جات:
    6,506
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,069

    گمراہ فرقوں کی کیا غلطی ہوتی ہیں
    Gumrah Firqon ki kya galati hoti hai - Abu Zaid Zameer
    This video clip is taken from the Course:
    Course name : Hadees ke Baaz Usool
    ***********************************************************
    Follow Abu Zaid Zameer on Twitter:
    http://www.twitter.com/abuzaidzameer
    Join our YouTube Channel:
    Complete lectures :
    بھائی آپ اس لکچر کو پورا سنیں تعصب کے بغیر ان شاءاللہ آپ پر حق واضح ہو جائے گا کہ گمراہ فرقے کون سے ہیں
     
  4. ‏مارچ 13، 2014 #4
    خضر حیات

    خضر حیات علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    طابہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 14، 2011
    پیغامات:
    8,769
    موصول شکریہ جات:
    8,334
    تمغے کے پوائنٹ:
    964

    یہی ’’ لڑی ‘‘ چند دن پہلے فورم سے ہٹا کر سہج صاحب کے کہنے پر انہیں فراہم کی گئی تھی اس گزارش کے ساتھ کہ اس میں سے پھلجڑیاں ختم کریں تاکہ نفیس المزاج آدمی کے لیے اس کا پڑھنا ممکن ہو ۔
    لیکن جو کچھ بھی ہے قارئین کے سامنے ہے ۔
    قبل اس کے کہ کوئی اس اینٹ کا جواب پتھر میں دینے کی غرض سے فورم کی فضا مکدر کرے اس لڑی کو سپرد تالا کیا جاتا ہے ۔
    حذف اس وجہ سے نہیں کر رہا تاکہ سہج صاحب کے دل کو حوصلہ رہے کہ انہوں نےاصلاح امت کے لیے جو کوشش سر انجام دی تھی وہ رائیگاں نہیں گئی ۔
     
    • پسند پسند x 6
    • زبردست زبردست x 1
    • لسٹ
لوڈ کرتے ہوئے...
موضوع کا سٹیٹس:
مزید جوابات پوسٹ نہیں کیے جا سکتے ہیں۔

اس صفحے کو مشتہر کریں