1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

فرقہ پرستی سے اسلام کی طرف لوٹنے کا دعوت نامہ

'منہج' میں موضوعات آغاز کردہ از سید طہ عارف, ‏جنوری 24، 2017۔

  1. ‏جنوری 24، 2017 #1
    سید طہ عارف

    سید طہ عارف مشہور رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 18، 2016
    پیغامات:
    719
    موصول شکریہ جات:
    134
    تمغے کے پوائنٹ:
    104

    دعوت نامہ ۔ رضوان خالد
    کیا آپ میری دعوت پر چند لمحات کے لئے صرف مسلمان بن سکتے ہیں؟ میں چاہتا ہوں کہ آپ میرے ساتھ مل کراسلام کی ابتدائی صدیوں کا جائزہ لیں پھرآپ چاہیں تو مسلمان ہی رہیں اور چاہیں تو واپس شیعہ، سُنی، دیو بندی، بریلوی یا وہابی بن جائیں جو بہرحال اسلام نہیں اسلام سے ملتے جلتے الگ الگ مذاہب ہیں۔
    میں یہ فرض کرتے ہوئے اپنی بات آگے بڑھاتا ہوں کہ آپ نے میری دعوت قبول کر لی ہے اور اس لمحے آپ صرف مسلمان ہیں۔
    اب خود کو اُس دور میں موجود تصور کیجئے کہ حضرت محمدﷺ کے وصال کو 80سال گزر چکے ہیں۔ ایک بھی صحابی زندہ نہیں ہے البتہ وہ لوگ موجود ہیں جنہوں نے صحابہ کو دیکھا تھا۔ اس وقت نہ ابو حنیفہ پیدا ہوئے تھے نہ امام مالک نہ امام جعفر صادق اور نہ فقہ لکھنے والا کوئی اورامام پیدا ہوا تھا۔ آپ ایک ایسے دور میں پہنچ گئے ہیں کہ حدیث کی ایک بھی کتاب موجود نہیں ہے۔ اور امام بخاری اور مسلم سمیت دیگر محدثین پیدا ہونے میں ابھی سوا سو سال سے زیادہ عرصہ ہے۔ یہ تو بڑی مشکل صورتحال ہےاب آپ کو سُنت کیسے پتہ چلے گی؟ فرائض کیسے پتہ چلیں گے؟ لوگ آخر کیسے مسلمان ہیں کہ ہمارے اماموں میں سے کوئی پیدا ہی نہیں ہواجن کے کئے ہوئے کام کےبعد ہم آج شیعہ اور سُنی، حنبلی اور شافعی وغیرہ بنے۔
    دیوبند اور بریلوی مدرسہ تو ابھی سوا ہزار سال بعد بنے گا لہذا آپ دیوبندی بریلوی بھی نہیں بن سکتے، وہابی بھی نہیں ہو سکتے کیونکہ وہابی فرقے کی شروعات میں ابھی سوا ہزار سال کا عرصہ ہے، اہلِ حدیث تو تب بنیں جب حدیث کی کوئی کتاب ہو۔جس دور میں آپ پُہنچ گئے ہیں اُس وقت لوگ ہدیث نبویﷺ کو لکھنے کا تصوّر بھی نہیں کرتے تھے کیونکہ حضرت مُحمدﷺ نے صاف صاف کہا تھا کہ اگر کسی نے مجھ سے سُن کر قُرآن کے علاوہ کُچھ لکھ لیا ہے تو وہ مٹا دے۔ اور لوگوں کو اپنے بزرگوں سے سُنی ہوئی یہ باتیں یاد ہیں کہ حضرت ابو بکر صدیقؓ اور حضرت عُمر فاروقؓ اپنے اپنے ادوار میں لوگوں کی اپنے نبیﷺ کی مُحبت میں لکھی جانے والی احادیث کو اکٹھا کر کے آگ لگوا چُکے ہیں۔ اُنھیں جلیلُ القدر صحابہ کی یہ نصیحت یاد ہے کہ نبیﷺ نے قُرآن اور اپنی سُنت کے علاوہ کُچھ نہیں چھوڑا لہٰذا آپ اہل حدیث تو ہو ہی نہیں سکتے۔ صحابہ میں سے کوئی زندہ نہیں ۔ بڑی مشکل میں ہیں ہم اب کہاں جائیں۔
    اتنے میں مسجد میں اذان کی آواز آتی ہے، آپ مسجد پہنچتے ہیں تو کیسے نماز پڑھیں گے، ہاتھ باندھ کر یا ہاتھ چھوڑ کر؟
    آپ یقیناً ویسے ہی نماز پڑھیں گےجیسے وہاں کی مسجد میں لوگ پڑھ رہے ہوں گے۔ یعنی سُنت مسلمانوں میں رائج ہےاس کے لئے حدیث کی ضرورت نہیں۔ فرائض کا پتہ ویسے ہی قرآن سے چل رہا ہے اور قرآن تو تب بھی وہی تھا جو آج ہے۔ یعنی اُس دور کے مُسلمان قُرآن اور مُعاشرے میں رائج سُنّت کے سہارے ہم سے کہیں بہتر مُسلمان تھے۔ احادیث قُرآن کے نزول کے ساتھ ساتھ اُس کی تشریح کو سُنّت کی شکل میں ابتدائی اسلامی مُعاشرے میں رائج کرنے کے لیے تھیں اور ہر سُنّت قُرآن کی تکمیل کے ساتھ ہی اسلامی مُعاشرے میں رائج ہو چُکی تھی۔ قُرآن کی تکمیل کے ساتھ ہی سُنّت کی بھی تکمیل ہو چُکی تھی۔ یعنی احادیث اپنی ضرورت پُوری کر چُکی تھی۔ تبھی ابوبکرؓ اور عُمرؓ نے احادیث کے ذخیروں کو آگ لگوائی تاکہ قُرآن و سُنّت ہی آنے والی نسلوں کے لیے اسلام کا ماخذ ہو۔ تبھی آخری حج کے موقع پر حضرت مُحمدﷺ نے دین کی تکمیل کا اعلان کرتے ہی صحابہؓ سے کہا کہ جو یہاں موجود نہیں اُن تک دین پہںچائیں جسے ایک آیت بھی سمجھ آئی ہو وہی باقیوں کو پہنچائے۔ بعض روایات میں ہے کہ اکثر صحابہ اُس حکم کے بعد حج ادھورا چھوڑ دیا اور مکّہ سے قُرآن اور آپﷺ کا عمل جو اُنہوں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا (یعنی سُنّت) لے کر نکلے اور آدھی سے زیادہ دُنیا میں پھیل گئے۔
    جن صحابہ نے نبیﷺ کو ہاتھ باندھ کر نماز پڑھتے دیکھا تھا ویسے ہی سکھایا جنہوں نے ہاتھ چھوڑ کر یا رفع یدین کرتے دیکھا تھا اُنہوں نے آگے ویسے ہی سکھایا۔ کوفے کی طرف جو صحابہ گئے وہ آپﷺ کو ہاتھ باندھ کر نماز پڑھتا دیکھتے رہے تھے لہٰذا عراق کے سب مُسلمانوں کی اگلی نسلیں اُسی سُنت پر عمل کرنے لگیں افریقہ اور کُچھ دیگر علاقوں میں جو صحابہؓ پہنچے اُنہوں نے ہاتھ چھوڑ کر نماز پڑھنے کی سُنت سکھائی لہٰذا آج تک افریقہ کے کڑوروں مُسلمان ہاتھ چھوڑ کر نماز پڑھتے اور عین سُنت نبوی ﷺ پر عمل کرتے ہیں۔ رفع یدین کرنا بھی سُنّت ہے نہ کرنا بھی عین سُنّت۔ نماز تو ایک مثال ہے۔ ہر مُلک کے مُسلمانوں نے مُختلف مُعاملات اور عبادات میں الگ الگ صحابہ سے الگ الگ سُنّت سیکھی لہٰذا سبھی تھوڑے تھوڑے مُختلف ہونے کے باوجود سُنّت پر ہی عمل کرتے ہیں۔ اللہ نے صحابہؓ کے ذریعے ہر وہ طریقۂ عبادت کسی نہ کسی مُلک میں رائج کروا دیا جو نبیﷺ نے کبھی نہ کبھی اختیار کیا تھا۔ اُس وقت کے مُسلمان جب حج کے لیے مُختلف ملکوں سے اکٹھے ہوتے تو ان اختلافات کو بھی مُحبت کی نظر سے دیکھتے تھے۔ عراق والے کہتے کہ ہاتھ باندھ کر نماز کا طریقہ زیادہ مؤدّبانہ ہے مدینہ والوں کی دلیل ہوتی کہ حضوری کا احساس ہاتھ چھوڑ کر نماز پڑھنے سے زیادہ آتا ہے یہ علمی مذاکرے چلتے رہتے لیکن کوئی اس اختلاف کی بُنیاد پر ایک دوسرے کو غلط نہ کہتا۔
    اب اپنی آنکھیں بند کر دوبارہ کھولیں۔ ہم اس وقت120ہجری یعنی حضرت محمدﷺ کے وصال کے 110سال بعد کے مدینہ میں موجود ہیں۔ مدینہ شہر میں امام مالک موجود ہیں اور مدینے میں ہی امام جعفر صادق بھی ہیں۔ یہ دونوں امام اپنی اپنی فقہ ترتیب دے رہے ہیں تاکہ مسلمانوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کے لیے نت نئے پیدا ہونے والے مسائل میں رہنمائی ہوسکے ان کا یہ مقصد ہرگز نہیں کہ یہ امت کو فرقوں میں بانٹیں۔ یہ ایک دوسرے کی بے پناہ عزت کرتے ہیں۔ عین اسی وقت عراق کے شہر کوفے میں امام ابو حنیفہ بھی فقہ لکھ رہے ہیں، انٹرنیٹ اور ٹیلیفون کا دور تو ہے نہیں اور نہ ہی اخبارات یا رسالے چھپتے ہی۔ ایک ملک سے دوسرے ملک کے سفر کے لئے مہینوں لگ سکتے ہیں لہذا مختلف امام اپنے اپنے لوگوں کی آسانی کے لئے مخلتف ملکوں میں فقہ لکھ رہے ہیں۔ امام شافعی اب سے کچھ سال بعد غزہ فلسطین میں اپنی فقہ لکھیں گے اور امام احمد بن حنبل بغداد میں یہی کام کریں گے۔
    آپ کو یہ حال سن کر شاک لگ سکتا ہے کہ باقی سب امام دور دراز ملکوں میں ہیں۔ اور نبی کے شہر میں پیدا ہونے اور اور مسجدِ نبوی میں اپنی زندگی کی سب نمازیں پڑھنے والے امام دو ہی ہیں یعنی مالک اور جعفر صادق، اور دونوں ہی اپنی اپنی فقہ میں ہاتھ چھوڑ کر نماز پرھنے کا طریقہ بتاتے ہیں۔کیا آپ تصور کر سکتے ہیں کہ حضرت محمدﷺ کی وفات کے سو سال بعد ہی مسجدِ نبوی میں نماز کا طریقہ بدل گیا تھا جو ان دونوں اماموں نے ہاتھ چھوڑ کر نماز پڑھنے کو اسلامی طریقہ بتایا۔ نہ صرف یہ بلکہ طلاق کے لیے بھی یہ الگ الگ مواقع پردی گئی طلاق کو ہی صحیح سمجھتے ہیں ان دونوں کے نزدیک ایک موقع پر بیس دفعہ دی گئی ایک طلاق ہی شُمار ہو گی۔ ایسے ہی مدینہ کے یہ دونوں امام اکثر مُعاملات میں عقلی دلیلں دیتے ہیں کہ عقل کے استعمال کا حُکم قُرآن میں سات سو چھپن بار ہے اور مدینے میں ابھی مُحمدﷺ کے قائم کردہ اثرات باقی تھے۔
    ایسے میں آپ دیکھتے ہیں کہ اسلام کا ایک عظیم طالب علم کوفے سے علمِ دین سیکھنے مدینہ آتا ہے، جی ہاں یہ نعمان بن ثابت ہے جسے آپ ابو حنیفہ کہتے ہیں، یہ امام جعفر صادق کی شاگردی اختیار کرتا ہے اور جلد ہی اسکی شہرت پورے مکے مدینے میں پھیل جاتی ہے۔ امام مالک جب بھی اسے ملتے ہیں احتراماً اٹھ کر کھڑے ہوجاتے ہیں۔ یہ امام بھی اپنی فقہ لکھ رہا ہے اور ہاتھ باندھ کر نماز پڑھنے اور رفع یدین نہ کرنے کا طریقہ بیان کرتا ہے جس پر نہ امام مالک اعتراض کرتے ہیں اور نہ امام جعفر صادق بلکہ امام مالک اب بھی جیسے ہی امام ابو حنیفہ کو دیکھتے ہیں احتراماً اٹھ کر کھڑے ہوجاتے ہیں، ان کے شاگرد پوچھتے ہیں آپ تو کسی کے لئے بھی کھڑے نہیں ہوتے پھر انکے لئے کیوں کھڑے ہوتے ہیں تو امام مالک کہتے ہیں اسلام کے ایسے عالم اور عاشقِ رسول کا احترام مجھ پر واجب ہے،۔ واضح رہے کہ امام مالک نے ایک حج کے علاوہ کبھی مدینے سے باہر کا سفر نہیں کیا کہ کہیں محمد کے شہر سے باہر موت نہ آجائے۔
    ہر نماز مسجدِ نبوی میں ادا کی کبھی جوتے نہیں پہنے کہ میں کہیں ایسی جگہ جوتا نہ رکھ دوں جہاں محمدﷺ ننگے پاؤں گزرے ہوں۔ کبھی سواری پر نہ بیٹھے کہ کہیں میں کسی ایسی جگہ سوار ہو کر نہ گزر جاؤں جہاں سے محمدﷺ پیدل گزرے ہوں۔ لیکن وہی امام مالک جو رفع یدین اور ہاتھ چھوڑ کر نماز پڑھنے کا طریقہ بتاتے ہیں ایک ایسے عالم کا احترام کرتے ہیں جو رفع یدین نہ کرنے اور ہاتھ باند کر نماز کا طریقہ بتاتا ہے اور وہ ابو حنیفہ امام جعفر کی شاگردی اختیار کئے ہوئے ہیں جو ہاتھ چھوڑ کر نماز پڑھتے ہیں اور جنہیں اب شیعہ امام سمجھا جاتا ہے۔
    غزہ سے ایک اور امام یعنی امام شافعی مدینہ آتے ہیں وہ خود ہاتھ باندھ کر نماز پڑھنے کا طریقہ اپنی فقہ میں لکھ چکےہیں اور برملا یہ بھی کہتے ہیں کہ روئے زمین پر امام مالک سے بڑا حدیث اور فقہ کا کوئی عالم موجود نہیں۔
    مجھے یقین ہے کہ یہ دیکھ کر آپ پر حیرت کے پہاڑ ٹوٹ پڑیں گے کہ آپکے دور میں تو رفع یدین، ہاتھ چھوڑ کر یا ہاتھ باندھ کر نماز پڑھنا اور ایسی ہی دیگر باتوں پر بیسیوں فرقے ایک دوسرے کو کافر کہتےہیں اور یہ آئمہ کرام ایک دوسرے کا اتنا احترام کرتے ہیں کہ اگر کوئی امام کسی دوسرے امام کے علاقے میں جائے دوسری فقہ کے لوگ انہیں جماعت کروانے کو کہیں تو وہ اپنے طریقے سے نہیں اسی امام کے طریقے سے نماز پڑھاتا ہے جس امام کی وہ مسجد ہے۔
    یہ دیکھتے ہی آپکو پتہ چل جائے گا کہ آپکے علما آپکو مسلمان سے حیوان بنا رہے تھے۔ بھائیوں کو شیعہ، سُنی، دیوبندی، بریلوی، وہابی وغیرہ بنا کر لڑواتے تھے۔ آپکو اپنے دور کے مُلا سے نفرت اور ان آئمہ سے محبت محسوس ہو گی اور آپ مختلف طریقوں سے نماز روزہ اور دیگر عبادات کرنے والے لوگوں کو اختلاف کے باوجود محبت کی نظر سے دیکھ کر اپنے جیسا مسلمان سمجھیں گے۔
    اگر میں آپ سے کہوں کہ فرقوں میں بٹ جانا شرک ہے تو شاید آپکو یقین نہ آئے کیونکہ آپکو علما نے کبھی سورہ روم کی آیت نمبر 31اور 32کے بارے میں تو نہیں بتایا ہوگا ان آیات میں اللہ کہتا ہے کہ ’’اسی کی طرف رجوع کرتے رہو اور اس کا تقویٰ اختیار کرو اور نماز قائم کرو اور مشرکوں میں سے مت ہوجاؤ، اُن مشرکوں میں سے جنہوں نے اپنے دین کو فرقوں میں بانٹ دیا اور گروہ در گروہ ہوگئے۔ ہر گروہ اسی پر مگن ہے جو اس کے پاس ہے‘‘۔
    کیا اس آیت کے اس کھلے حکم کے بعد بھی آپ دیوبندی، بریلوی، شیعہ، حنفی شافعی یا مالکی کہلوانا پسند کریں گے؟
    آپ سب چاہتے ہین کہ قیامت کے دِن حضرت ﷺ آپکی شفاعت کریں لیکن میں آپکو بتاتا چلوں کہ اللہ سورہ انعام کی آیت150میں اپنے نبی کو کیا حکم دے رہے ہیں۔ ’’بے شک جن لوگوں نے اپنے دین کو فرقوں میں تقسیم کیا آپﷺ کا کسی چیز میں اسے کوئی تعلق نہیں‘‘
    کیا یہ آیت جان کر بھی آپ شیعہ، سُنی، دیوبندی، بریلوی وغیرہ بننا پسند کریں گےیا مسلمان ہونا چاہیں گے؟
    جب اسلام آیا تو لوگ قبیلوں میں بٹے ہوئے تھے آپس میں نفرتیں تھیں لیکن اللہ کی رسی یعنی قرآن نے انہیں بھائی بنا دیا، سُنتِ نبوی نے انکے دِل جوڑ دئیے لیکن مسلمان پھر سے فرقوں میں بٹ کر ایک دوسرے کے دشمن اور جہنم سے قریب تر ہوگئے۔ اللہ سورہ آل عمران میں فرماتے ہیں ’’اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو اور فرقوں میں نہ بٹ جانا‘‘
    کیا آپ بھی وہابی، اہلِ حدیث یا اہلِ قرآن جیسے کسی فرقے سے منسوب ہونا پسند کریں گےیا مسلمان ہونا چاہتے ہیں؟
    کیوں نہ ہم صحابہ کے دور کے مسلمان بن جائیں جو قرآن کو اسلامی علم کا بنیادی ماخذ مانتے تھے۔ ان کے سامنے جب کوئی حدیث پیش کی جاتی تو وہ یہ دیکھتے کہ کہیں وہ حدیث قرآن سے تو نہیں ٹکراتی، اگر ایسا ہوتا تو وہ فوراً کہہ دیتے نبیﷺ ایسا نہیں کہہ سکتے، یہ قرآن کے خلاف ہے۔ راوی سے سننے کی غلطی ہوئی ہو گی۔ اگر حدیث قرآن کے خلاف نہ ہو تو اسے سر آنکھوں پر رکھتے۔
    کیوں نہ ہم سب اماموں کو اپنا لیں۔ سب کی عزت کریں اور جس امام کی بھی فقہ سے جو حکم آسانیاں پیدا کرےوہ لے لیں لیکن خود کو کسی بھی امام سے منسوب نہ کریں اور بس بغیر کسی فرقہ کے پہلے دور کے مُسلمان بن جائیں۔ کیوں نہ ہم عقل سے کام لینا شروع کر دیں کہ قُرآن عقل کے استعمال کا سات سو چھپن بار حکم دیتا ہے۔
    میں آپ کو فرقوں سے نکل کر مُحمدﷺ کے دین اور صحابہ او تمام آئمّہ کے اسلام میں آنے کی دعوت دیتا ہوں۔ رضوان خالد
     
  2. ‏جنوری 24، 2017 #2
    سید طہ عارف

    سید طہ عارف مشہور رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 18، 2016
    پیغامات:
    719
    موصول شکریہ جات:
    134
    تمغے کے پوائنٹ:
    104

    السلام علیکم ورحمته اللی وبركاته
    یہ تحریر واٹسآپ پر ایک صاحب نے بھیجی ہے۔ علماء کرام سے درخواست ہے کہ وہ اس تحریر کا علمی محاکمہ کریں۔
    شیخ محترم @اسحاق سلفی
    شیخ محترم @خضر حیات
     
  3. ‏جنوری 24، 2017 #3
    سید طہ عارف

    سید طہ عارف مشہور رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 18، 2016
    پیغامات:
    719
    موصول شکریہ جات:
    134
    تمغے کے پوائنٹ:
    104

  4. ‏جنوری 24، 2017 #4
    سید طہ عارف

    سید طہ عارف مشہور رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 18، 2016
    پیغامات:
    719
    موصول شکریہ جات:
    134
    تمغے کے پوائنٹ:
    104

  5. ‏جنوری 24، 2017 #5
    خضر حیات

    خضر حیات علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    طابہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 14، 2011
    پیغامات:
    8,763
    موصول شکریہ جات:
    8,333
    تمغے کے پوائنٹ:
    964

    طہ بھائی ! ایک بات ذہن میں رکھیے گا ، مستند بات کرنا مشکل ہوتا ہے ، لیکن ہوائیاں چھوڑنا بہت آسان ہوتا ہے ، پڑھنا ان کو چاہیے ، جو مستند بات کرتے ہوں ، ہوائیاں تو کیسی بھی چھوڑی جاسکتی ہیں ۔
    افسانہ نگاری باقاعدہ ایک فن ہے ، لیکن اس کی قدر و قیمت ’ استناد ‘ کے اعتبار سے ایک فیصد بھی نہیں ، اور دین سب ’ سند ‘ پر کھڑا ہے ، افسانہ نگاری کی اس میں کہیں کوئی اجازت نہیں ۔
    کسی نے افسانہ نگاری کرنی ہے ، الف لیلی قصے کہانیاں لکھے ، لیکن اگر دین بر بات کرنی ہے تو دینی بات کے معیار کے مطابق کرے ۔ جو نہیں کرتا ، اسے اہمیت دینے کی ضرورت نہیں ۔

    بالا تحریر کا مرکزی خیال تفرقہ بازی سے باز رکھنا ہے ۔ یہ ایک اچھی چیز ہے ، لیکن تفرقہ بازی کیا ہے ؟ یہ صاحب تحریر کو نہیں پتہ ۔ جس ’ اختلاف ‘ کو یہ لوگ ’ تفرقہ بازی ‘ سمجھتے ہیں ، اللہ کی حکمت ہے کہ وہ دین کے بہت سارے مسائل میں موجود ہیں ، تاکہ حق کی تلاش میں لوگ جد و جہد اور محنت کریں ۔
    اگر اس اختلاف کو تفرقہ بازی قرار دیکر ان مسائل کی اہمیت کم کرنی ہے ، تو پھر دین کے بہت سارے اہم شعائر ختم ہوجائیں گے ۔( عقل پرست لوگ شعوری و لاشعوری طور پر یہی چاہتے ہیں )
    بالا تحریر تضادات کا مجموعہ ہے ، کچھ مثالیں :
    جو کچھ رائج ہے وہ فرقہ پرستی ہے ۔
    نماز اس سنت کے مطابق پڑھیں جو رائج ہے ۔
    ( ویسے احادیث بھی صدیوں سے مسلمانوں میں رائج ہیں ، منکرین حدیث تو صدی پہلے کی بات ہے )
    حدیث لکھنے سے حضور نے منع کردیا تھا ۔
    یہ حضور کا منع کرنا بھی تو حدیث ہی ہے !
    ( کچھ احادیث سے استدلال اور کچھ کا انکار ؟! )
    احادیث ، جو مستند حوالوں کے ساتھ موجود ہیں ، ان پر تو عمل نہیں کرنا چاہیے
    لیکن عقل پرستوں کی ہوائیوں کو لے لینا چاہیے ، جن کا حوالہ سرے سے ہے ہی نہیں ۔
     
    • پسند پسند x 6
    • متفق متفق x 2
    • مفید مفید x 1
    • لسٹ
  6. ‏جنوری 24، 2017 #6
    اشماریہ

    اشماریہ سینئر رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏دسمبر 15، 2013
    پیغامات:
    2,684
    موصول شکریہ جات:
    740
    تمغے کے پوائنٹ:
    290

    طہ بھائی یہ صحیح و غلط کا مکسچر ہے۔ اغلاط پر صحیح باتوں کا رنگ چڑھایا گیا ہے۔ افسانہ آرائی نے اسے دلچسپ بنا دیا ہے۔
    مثال کے طور پر۔۔۔

    میں نے خود کو اس دور میں موجود تصور کیا۔
    یہ 90 ہجری ہے۔ سرور کائنات صلی اللہ علیہ و سلم کی رحلت کو 80 سال گزر چکے ہیں۔ میں کوفہ کی مسجد میں موجود ہوں اور یہاں ايك جانب ابراہیم النخعی کا حلقہ موجود ہے جن کی علمی ہیبت سے لوگ ایسے ڈرتے ہیں جیسے امیر شہر سے ڈرتے ہیں۔ دوسری جانب عامر بن شرحبیل الشعبی کا عظیم الشان حلقہ موجود ہے۔ دونوں بزرگ حافظہ میں وہ کمال رکھتے ہیں کہ کبھی ایک لفظ لکھتے تک نہیں۔ ایک اگر علم ابن مسعود رض کا امین ہے تو دوسرا کہتا ہے کہ میں نے کبھی یہ پسند نہیں کیا کہ کوئی مجھے حدیث سنائے اور مجھے اس کو دہروانے کی ضرورت پڑے۔ ایک جانب مسئلہ آتا ہے اور روایت موجود نہیں ہوتی تو لوگ نخعی کی جانب دیکھتے ہیں اور دوسری جانب وقت کے فقیہوں کے سردار شعبی مسائل کو حل کرتے ہیں۔ لوگ اپنے اپنے مسائل لے کر ان کی مجالس میں آتے ہیں اور قرآن، سنت اور آثار سے اس کا حل پا کر اپنے اذہان کو تازہ اور دلوں کو سیراب کرتے ہیں۔
    میں مدینے کی جانب چلا۔ محمد مصطفیٰ ﷺ کے شہر میں داخل ہوتے ہی احترام سے نظریں جھک جاتی ہیں۔ میں نے علم کی مجالس کو تلاش کرنا چاہا اور مجھے وہ جھکی نظریں اٹھانا بھی نہ پڑیں کہ كسی نے مجھے ایک مجلس میں لے جا کھڑا کیا۔ قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صدا سن کر جو نظریں اٹھائیں تو میں حدیث کے مدون اول ابن شہاب زہری کی مجلس میں کھڑا تھا۔ حفظ و فقہ کے ایک اور کامل شاہکار جنہوں نے نہ کبھی کسی عالم سے کوئی چیز بار دگر سمجھنا چاہی اور نہ دہرانے کی استدعا کی۔ میں نے لوگوں کو دیکھا کہ وہ جوق در جوق ان کی مجلس میں طلب علم کے لیے آئے جا رہے تھے۔ وہ اپنے مسائل لے کر آتے اور زہری ان کے مسائل کا حل قرآن و حدیث کی روشنی میں اللہ کے عطا کردہ فہم و فراست سے بتاتے۔ دس سے زائد سال سے شام اور حجاز کے درمیان سفر کر رہے تھے اور مجالس علم کا سلسلہ جاری تھا۔
    مجھے حیرت ہوئی۔ کیا محمد ﷺ کی امت نے ان کے دیے ہوئے علم کو ہر زمانے میں ہر مکان میں ایسے ہی سنبھالا ہے؟ کیا ائمہ مقتدین سے پہلے بھی ائمہ موجود تھے؟ میں نے مکے کا رخت سفر باندھا۔ یہاں مجھے تلاش کی زحمت بھی نہ اٹھانی پڑی۔ مکہ کے فقیہ اور محدث عطاء بن ابی رباح کا حلقہ سامنے تھا۔ ایک بار پھر وہی منظر تھا۔ لوگ مسائل کی گٹھریاں لے کر آتے تھے اور مکہ کے عظیم مفتی کے فتاوی میں ان کا حل پاتے تھے۔
    میں حیرت کے سمندر میں ڈوبا یہ سب دیکھتا گیا۔ پھر آنکھیں بند کر کے دوبارہ کھولیں۔ اب کی بار یہ 120 ہجری ہے۔۔۔۔۔۔

    یہ سب تو افسانہ نگاری ہے۔ قاری پڑھے تو ڈوب جائے۔ عوام اسی سے متاثر ہوتے ہیں چاہے حقیقت کچھ اور ہو۔ میں نے جو کچھ لکھا ہے یہ تصویر کا دوسرا رخ ہے جو رضوان خالد صاحب نے چھپا لیا۔
    خان آصف کی "سفیران حرم" پڑھیے۔ امام شافعیؒ کا ذکر کمال کا کیا ہے لیکن اس کا مدار سفرنامے پر ہے جس کی نسبت جعلی ہے۔ عوام کو کیا پتا۔ وہ سمجھتے ہیں کہ امام نے اپنے سفرنامے میں خود یہ سب تحریر فرمایا ہے۔
     
    • پسند پسند x 6
    • زبردست زبردست x 3
    • لسٹ
  7. ‏فروری 04، 2017 #7
    عبدہ

    عبدہ سینئر رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    لاہور
    شمولیت:
    ‏نومبر 01، 2013
    پیغامات:
    2,038
    موصول شکریہ جات:
    1,160
    تمغے کے پوائنٹ:
    425

    یا تو یہ بھائی جاہل ہونے کی وجہ سے معذور ٹھرتے ہیں یاپھر خطرناک تلبیس کا کام کررہے ہیں
    طہ بھائی میرا عموما یہ طریقہ رہا ہے کہ جب بھی کسی سے اختلاف ہو اور اسکی صلاح کرنا مقصود ہو تو کوشش یہ کرنی چاہے کہ جس کو وہ دلیل مانتا ہو اسی کو اسکے خلاف دلیل استعمال کیا جائے پس یہ اس بات کی دعوت دے رہا ہے کہ جو جیسا کرتا رہے اسکو غلط نہ کہنا چاہئے
    تو اس سے پھر کہیں کہ کوئی اگر کسی امام سے منسوب ہے تو اسکو بھی اسکا پورا حق دیں اسکو غلط کیوں کہ رہے ہیں پس جب یہ اسکو دکھائیں گے کہ تم خود اس دلیل کو درست نہیں مانتے کہ جو جیسا کرتا رہے اسکو غلط نہ کہو سرے درست ہیں تو دوسروں کو اسکی دعوت کیوں دے رہے ہو

    اوپر بھائیوں نے یہ واضح کر دیا ہے کہ اسکی بہت سی باتوں میں بہت زیادہ اختلاف ہے یعنی ایک بات دوسرے کے خلاف یعنی بالکل الٹ ہے یہ خود کو یہ ظااہر کر رہا ہے کہ یہ فرقہ پرست نہیں ہے لیکن ایک سلیم الفطرت فرقہ پرستی کا دشمن بھی اس کی تحریر کو پڑھے گا تو وہ گواہی دے گا کہ اسکی تحریر فرقہ پرستی سے کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی ہے البتہ شیطان نے اسکو زین لھم الشیطن اعمالھم کے تحت مزین کیا ہوا ہے
    اسکی آخری چند باتوں کو نمبر دے کر (اقتباس لے کر) لکھتا ہوں اور پھر نمبر کے حوالے سے ہی ان پہ بات کرتا ہوں
    ۱۔
    اس بھائی کو یہ ہی نہیں پتا کہ منسوب ہونا یا نہ ہونا فرقہ پرستی نہیں کہلاتا بلکہ فرقہ پرستی تو عمل سے ہوتی ہے اگر آپ کسی کے طریقے پہ عمل کرتے ہیں اور آپ اس سے منسوب نہ بھی ہوں مگر لوگ خود بخود ہی آپ کو ان سے منسوب کر دیں گے مثلا کوئی ٹی ٹی پی سے اپنے آپ کو منسوب نہ بھی کرے مگر ان جیسے عمل شروع کر دے تو لوگ ہی انکو کو ان سے منسوب کرنا شروع کر دیں گے اسی طرح ابراھیم کو یہودی زبردستی اپنے ساتھ اور عیسائی اپنے ساتھ منسوب کرتے تھے تو اللہ نے کہا کہ ما کان ابراھیم یہودیا ولا نصرانیا۔ اسی طرح مشرکین مکہ ہر مسلمان ہونے والے صحابی کو صابی (انکے ہاں بددین) سے منسوب کر دیتے تھے جس فرقے کا ذکر قرآن میں بھی ہے
    پس خالی منسوب ہونے یا کرنے سے فرقہ پرستی نہیں ہوتی اصل فرقہ پرستی دوسروں کو زبردستی منسوب کرنے اور عمل کرنے سے ہوتی ہے یعنی صرف اسی فرقہ کے مطابق عمل کرنے کو ہی درست سمجھنے سےفرقہ پرستی ہو سکتی ہے
    (یہاں ہو سکتی ہے لکھا ہے ہوتی ہے نہیں لکھا کیونکہ اگر وہ فرقہ ہی صرف حق پر ہے تو پھر اسی کو درست سمجھنا اور اسی کے مطابق عمل کروانے کی دعوت دینا بھی فرقہ پرستی کی تعریف سے نکل جائے گا جیسا کہ قرآن میں کہا گیا ہے کہ واعتصموا بحبل اللہ جمیعا ولا تفرقوا یعنی پہلے ایک خاص فرقے کو لازم پکڑنے کا کہا گیا اور اسی کے مطابق عمل کا کہا گیا پھر باقی کو تفرقہ بازی کہا گیا ہے )

    ۲۔
    یہاں تلبیس ابلیس کی انتہا کی گئی ہے اور عام لوگوں کو دھوکا دینے کی کوشش کی گئی ہے
    دیکھیں اوپر دعوی کو دو طرح سے لکھا جا سکتا تھا

    ۔کیوں نہ ہم صحابہ کے دور کے مسلمان بن جائیں جو قرآن کو اسلامی علم کا بنیادی ماخذ مانتے تھے۔

    ۔کیوں نہ ہم صحابہ کے دور کے مسلمان بن جائیں جو صرف قرآن کو اسلامی علم کا بنیادی ماخذ مانتے تھے۔

    پہلے اور دوسرے طریقے سے لکھنے میں فرق صرف لفظ صرف کا ہے لیکن اس نے یہاں لفظ صرف نہیں لکھا اور یہ لفظ صرف ہی وہ ہڈی ہے کہ جو وہ نہ نگل سکتا ہے نہ اگل سکتا ہے لیکن اسنے صرف کونگلنے کی کوشش کی ہے لیکن ایسا کرنا اسکی ساری دعوت کو بکھیر کر رکھ دیتا ہے
    دیکھیں اگر صرف نہ لکھیں جیسا کہ اسنے لکھا ہے تو اسکی بات کا مطلب یہ ہو گا کہ ہم صحابہ کے دور کی طرح مسلمان بن جائیں جو قرآن کو اسلام کا بنیادی ماخذ مانتے تھے تو پھر تو ہم سارے درست ہیں ہم بھی قرآن کو بنیادی ماخذ مانتے ہیں ہم میں سے کون ہے جو اسکو بنیادی ماخذ نہیں مانتا پھر تو اس کی دعوت ہی غلط ہو گئی
    دوسری طرف اگر وہ اس کو صرف کے ساتھ پڑھتا ہے یعنی کہتا ہے کہ ہم صحابہ کے دور کے مسلمان بن جائیں جو صرف قرآن کو بنیادی ماخذ مانتے تھے تو پھر یہ تو وہی اہل قرآن والی بات ہو جائے گی اور اہل قرآن سے منسوب ہونے کا وہ اوپر انکار کر چکا ہے
    پس یہ صرف والی وہ ہڈی ہے جو نہ نگل سکتا ہے نہ اگل سکتا ہے ویسے میرے مطابق وہ ان اہل قرآن سے ہے جو اہل ھواء ہیں کیونکہ اہل قرآن میں کچھ نیک نیت بھی ہوتے ہیں مگر زیادہ خواہش کے تابع ہوتے ہیں
    جاری ہے۔۔۔۔۔
     
  8. ‏فروری 04، 2017 #8
    عبدہ

    عبدہ سینئر رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    لاہور
    شمولیت:
    ‏نومبر 01، 2013
    پیغامات:
    2,038
    موصول شکریہ جات:
    1,160
    تمغے کے پوائنٹ:
    425

    ۳۔
    قرآن کے بارے پہلے یہ بتائیں کہ کیا قران ہر کوئی اپنی مرضی سے سمجھ سکتا ہے اور سب کی سمجھ ایک جیسی ہو گی یا نہیں
    مثلا پاکستان میں اہل قرآن کہلوانے والے کئی فرقے ہیں کچھ نماز یعنی الصلوۃ کو ایک طرح سمجھتے ہیں یعنی ریس کورس میں جا کر قرزش کر لینا ہی الصلوۃ ہے اور کچھ نماز پڑھنے کو لازم کہتے ہیں اب کیا ایسی صورت میں حدیث کو دیکھیں گے یا نہیں
    پس اہل قرآن میں سے پرویز کے بیٹے کی پیروی کرنے والے نماز کو ریس کورس کی ورزش ہی کہتے ہیں پس انہوں نے نماز کی جو تعریف کر لی پھر نماز والی ساری احادیث تو اس قرآن فہمی کے خلاف ہو جائیں گی اسی طرح وہ ربا کو لوٹ کا مال یا زیادتی سے لیا گیا مال ہی سمجھتے ہیں پس ربا والی احادیث قرآن کے خلاف ہو گئیں اسی طرح شرک کرنے والے بھی نور من نور اللہ قرآن سے نکال کر شرک والی ساری احادیث نکال دیں گے اسکا کیا کریں گے

    ۴۔
    تو کیا جو بھی جس امام کو بھی مان لے اس پہ آپ کو اعتراض کیوں ہے مثلا کوئی حنفی ہے تو آپ اسکے حنفی ہونے پہ معترض کیوں ہیں اہل الحدیث پہ معترض کیوں ہیں
    یعنی مختلف اماموں نے قرآن و حدیث کی مختلف تعبیر کی ہے اب حنفی کہتے ہیں کہ امام ابو حنیفہ کی تعبیر لے لیں اہل حدیث کہتے ہیں کہ جو حدیث سے زیادہ موافق لگے اسکی تعبیر کو لے لیں اور آپ کہتے ہیں کہ جو آسان ہو اسکو لے لیں اب ان تینوں میں آپ کی بات درست ہے اور حناف اور اہل الحدیث کی غلط ہیں اس پہ آپ کی کیا دلیل ہے کچھ تو غور کریں خود ایک چیز فکس کر رہے ہیں کہ جی صرف اس امام کی تعبیر لیں جو آسانیاں پیدا کرے اور دوسروں کو اسکو فکس کرنے نہیں دے رہے پھر فرقہ پرست تو خود آپ ہوئے

    ۵۔
    بھائی جان منسوب نہ کرنے کے بعد اصل مسئلہ تو عمل کا ہی ہے مثلا دیکھیں ڈاکٹر ذاکر نائیک خود کو کسی فرقے سے منسوب نہیں کرتا یعنی اہل الحدیث سے منسوب نہیں کرتا لیکن عمل سارے اہل الحدیث کے مطابق کرتا ہے اور دعوت بھی اسی کی دیتا ہے تو کیا آپ اس سے راضی ہو جائیں گے کہ وہ خود کو کسی سے منسوب نہیں کرتا
    یعنی پوچھنا یہ ہے کہ پہلے دور کے مسلمان کیسے بنیں اگر اس طرح بنیں جو اوپر آپ نے لکھا ہے کہ صرف قرآن پہ عمل کریں تو پھر تو اہل قرآن بننا پڑے گا
    یعنی ہمارا سوال یہ ہے کہ آپ کو اعتراض صرف منسوب نہ کرنے سے ہے یا پھر عمل سے بھی ہے
    اور میرا یہ دعوی ہے کہ آپ کا اعتراض صرف منسوب کرنے پہ نہیں ہے بلکہ آپ عمل بھی اپنے صرف قرآن کے مطابق کروانا چاہیں گے تو پھر یہ خالی منسوب منسوب کی رٹ لگانے کی ضرورت کیوں ہے لوگوں کو دھوکہ دینے کے لئے۔
     
  9. ‏فروری 04، 2017 #9
    عبدہ

    عبدہ سینئر رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    لاہور
    شمولیت:
    ‏نومبر 01، 2013
    پیغامات:
    2,038
    موصول شکریہ جات:
    1,160
    تمغے کے پوائنٹ:
    425

    ۶۔
    دیکھیں آپ کہتے ہیں کہ قرآن کی اتباع کریں لیکن اسکی تعتعبیر کون سی ہونی چاہئے اس پہ متذبذب ہیں یعنی لا إِلَى هَؤُلاءِ وَلا إِلَى هَؤُلاءِ وَمَنْ يُضْلِلِ اللَّهُ فَلَنْ تَجِدَ لَهُ سَبِيلا
    ایک جگہ آپ کہ رہے تھے کہ اماموں میں جو آسانیاں پیدا کرنے والا ہو اسکی تعبیر کو لے لیں یہاں کہ رہے ہیں کہ قرآن نے عقل کے استعمال کا حکم دیا ہے عقل کی تعبیر کو لیں گے مگر عقل تو اہل القرآن کی مختلف ہے جیسا کہ بتایا ہے کہ نماز کے تعبیر میں ہی اہل القرآن اختلاف رکھتے ہیں تو کس کی عقل کو لیا جائے گا جو پی ایچ ڈی ہو گا
    جہاں تک قرآن میں عقل کے استعمال کا سات سو بار حکم دیا گیا ہے وہاں قرآن میں ایمان بالغیب کا بھی حکم دیا گیا ہے کہ جہاں عقل پیچھے چھوڑنا پڑتی ہے
    اور عقل کے بارے آپ کو بتاتا چلوں کہ ہماری عقل کی ایک حد ہوتی ہے مثلا قدیم گریکس (یونانی) یہ سمجھتے تھے کہ سارج گھوم رہا ہے اور زمین ساکن ہے بعد میں انسان کی عقل نے ترقی کی تو اسکو علم ملا کہ زمین گھوم رہی ہے اور سورج ساکن ہے پھر اور موجودہ دور میں ترقی ہوئی تو پتا چلا کہ سورج بھی اپنے مدار میں گھوم رہا ہے اور وہ جس گلیکسی (کہکشاں) میں گھوم رہا ہے وہ خود بھی ساکن نہیں اب اللہ نے تو قرآن میں چودہ سو سال پہلے کہ دیا تھا کہ کل فی فلک یسبحون تو اس وقت اگر کسی کو عقل پہ ناز ہوتا تو وہ تو قرآن کا ہی انکار کر دیتا یا پھر وہ کسی اہل قرآن کو ڈھونڈتا کہ جو تحریف معنوی کر کے اپنا مطلب نکال لیتا

    ۷۔
    جی یہی تو میں پوچھنا چاہ رہا ہوں کہ یہ کوئی خاص اعمال کی دعوت ہے یا پھر خالی لفظوں کی دعوت ہے اگر اعمال کی دعوت ہے تو اسکا کوئی نہ کوئی سکیچ تو ہمیں بتائیں کہ ان اعمال کے لئے ہمارے پاس ماخذ کیا ہوں گے کیا صرف قرآن ہو گا یا کچھ اور بھی ہو گا
    اصل مسئلہ وہی ماخذ کا ہے بھیا
     
    • پسند پسند x 2
    • علمی علمی x 1
    • لسٹ
  10. ‏فروری 21، 2017 #10
    عثمان خان

    عثمان خان مبتدی
    شمولیت:
    ‏فروری 21، 2017
    پیغامات:
    1
    موصول شکریہ جات:
    0
    تمغے کے پوائنٹ:
    18

    کشف المحجوب کے مقدمہ میں شیخ علی بن عثمان ہجویری نے لکھا: خدا معاف کرے، ہمارے زمانے میں مساجد جنگ و جدل کا گڑھ بن گئی ہیں۔
    فرقہ پرستی اور فرقہ پرست لوگ، دیوار میں چنوائے گئے ہیں۔ ان کے فرقوں سے باہر ایک کائنات کفر آباد ہے۔ اس کے اندر ہی آفیت ہے۔ باہر تو خدا ہے۔ اندر ہی سلامتی ہے۔
    اللہ مجھے اور آپکو نفس کی انڈرسٹینڈنگ عطا کرے۔ آمین
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں