1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔۔
  2. محدث ٹیم منہج سلف پر لکھی گئی کتبِ فتاویٰ کو یونیکوڈائز کروانے کا خیال رکھتی ہے، اور الحمدللہ اس پر کام شروع بھی کرایا جا چکا ہے۔ اور پھر ان تمام کتب فتاویٰ کو محدث فتویٰ سائٹ پہ اپلوڈ بھی کردیا جائے گا۔ اس صدقہ جاریہ میں محدث ٹیم کے ساتھ تعاون کیجیے! ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔ ۔

فضائل اعمال میں ضعیف احادیث

'معاصر بدعی اور شرکیہ عقائد' میں موضوعات آغاز کردہ از مظاہر امیر, ‏دسمبر 16، 2016۔

  1. ‏دسمبر 16، 2016 #1
    مظاہر امیر

    مظاہر امیر مشہور رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏جولائی 15، 2016
    پیغامات:
    1,113
    موصول شکریہ جات:
    313
    تمغے کے پوائنٹ:
    157


    فضائل اعمال ميں ضعيف احاديث كے متعلق ہمارا موقف


    ايسى حديث جس ميں كسى فضيلت يا دعا پر ابھارا گيا ہو ليكن اس كى سند ضعيف ہو كے بارہ ميں علماء كرام كا موقف كيا ہے، برائے مہربانى اس كے متعلق ہم جواب چاہتے ہيں ؟
    الحمد للہ:
    فضائل اعمال ميں ضعيف حديث پر عمل كرنے ميں علماء كرام كا اختلاف پايا جاتا ہے، بعض علماء اس پر عمل كرنے كو كچھ شروط كے ساتھ جائز قرار ديتے ہيں، اور بعض علماء اس پر عمل كرنے سے منع كرتے ہيں.
    حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے ضعيف حديث پر عمل كرنے كى شروط كا خلاصہ بيان كيا ہے جو درج ذيل ہے:
    1 - ضعيف زيادہ شديد نہ ہو، اس ليے كسى ايسى حديث پر عمل نہيں كيا جائيگا جسے كسى ايك كذاب يا متہم بالكذب يا فحش غلط راوى نے انفرادى طور پر بيان كيا ہو.
    2 - وہ حديث معمول بہ اصول كے تحت مندرج ہو.
    3 - اس حديث پر عمل كرتے ہوئے اس كے ثابت ہونے كا اعتقاد نہ ركھا جائے، بلكہ احتياط كا اعتقاد ہو.
    ضعيف حديث پر عمل كرنے كا معنى يہ نہيں كہ كسى ضعيف حديث ميں آنے كى بنا پر ہم اس عبادت كو مستحب قرار ديں، كيونكہ كسى بھى عالم دين نے ايسا نہيں كہا ـ جيسا كہ شيخ الاسلام ابن تيميہ كے كلام ميں آگے آئيگا ـ بلكہ اس كا معنى يہ ہے كہ جب كسى شرعى دليل سے كوئى معين عبادت كا استحباب ثابت ہو مثلا قيام الليل اور پھر قيام الليل كى فضيلت ميں كوئى ضعيف حديث آ جائے تو اس ضعيف حديث پر عمل كرنے ميں كوئى حرج نہيں.
    اس پر عمل كا معنى يہ ہے كہ لوگوں اس عبادت كى ترغيب دلانے كے ليے يہ حديث روايت كى جائے، اور اميد ركھى جائے كہ ضعيف حديث ميں وارد شدہ ثواب عمل كرنے والے كو ملےگا كيونكہ اس حالت ميں ضعيف حديث پر عمل كرنے سے اس پر كوئى شرعى ممانعت مرتب نہيں ہوتى، مثلا كسى ايسى عبادت كو مستحب كہنا جو شريعت ميں ثابت نہيں، بلكہ اگر اسے يہ اجروثواب حاصل ہو جائے تو ٹھيك وگرنہ اسے كوئى نقصان و ضرر نہيں.
    شيخ الاسلام ابن تيميہ رحمہ اللہ كہتے ہيں:
    " شريعت ميں ان ضعيف احاديث پر جو نہ تو صحيح اور نہ ہى حسن ہوں اعتماد كرنا جائز نہيں، ليكن احمد بن حنبل وغيرہ دوسرے علماء نے فضائل اعمال ميں حديث روايت كرنا جائز قرار ديا ہے جبكہ اس كے متعلق يہ معلوم ہے كہ وہ جھوٹ نہيں، يہ اس ليے كہ جب عمل كے متعلق يہ معلوم ہو كہ وہ شرعى دليل كے ساتھ مشروع ہے، اور ايسى حديث روايت كى جس كے متعلق اسے علم نہ ہو كہ وہ جھوٹ ہے تو ثواب كا حق ہونا جائز ہے.
    آئمہ ميں سے كسى نے بھى يہ نہيں كہا كہ كسى ضعيف حديث كى بنا پر كوئى چيز واجب يا مستحب قرار دى جائے، جو بھى ايسا كہتا ہے اس نے اجماع كى مخالفت كى... جس كے متعلق اسے علم ہو كہ يہ جھوٹ نہيں اسے ترغيب و ترھيب ميں روايت كرنا جائز ہے، ليكن اس ميں جس كے متعلق اس مجھول الحال كے علاوہ كسى اور دليل كى بنا پر علم ہو كہ اللہ تعالى نے اس ميں رغبت دلائى ہے، يا اس سے ڈرايا ہو. اھـ
    ديكھيں: مجموع الفتاوى ( 1 / 250 ).
    اور ابو بكر بن العربى نے ضعيف حديث پر مطلقا عدم جواز كا كہا ہے، نہ تو فضائل اعمال ميں اور نہ ہى كسى دوسرے ميں اس پر عمل ہو سكتا ہے.
    ديكھيں: تدريب الراوى ( 1 / 252 ).
    علامہ البانى رحمہ اللہ نے بھى يہى قول اختيار كيا ہے.
    ديكھيں: مقدمہ كتاب: صحيح الترغيب و الترھيب ( 1 / 47 - 67 ).
    فضائل اعمال وغيرہ ميں جو احاديث نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم سے صحيح ثابت ہيں ان پر عمل كر كے ضعيف حديث سے استغناء ہے.
    اس ليے مسلمان كو چاہيے كہ وہ ضعيف اور صحيح حديث كو پہچانے، اور صرف صحيح حديث پر ہى عمل كرے.
    واللہ اعلم .
    الشیخ محمد صالح المنجد
     
    Last edited by a moderator: ‏دسمبر 21، 2016
    • شکریہ شکریہ x 3
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
  2. ‏دسمبر 16، 2016 #2
    عبدالرحمن حمزہ

    عبدالرحمن حمزہ رکن
    شمولیت:
    ‏مئی 27، 2016
    پیغامات:
    183
    موصول شکریہ جات:
    61
    تمغے کے پوائنٹ:
    40

    جزاک اللہ خیر

    کوئی بھائی علامات قیامت کے متعلق ضعیف احادیث کو روایت کرنے پر علماء کا فتوی بھیج سکتا ہے؟
     
  3. ‏دسمبر 20، 2016 #3
    عبدالرحمن حمزہ

    عبدالرحمن حمزہ رکن
    شمولیت:
    ‏مئی 27، 2016
    پیغامات:
    183
    موصول شکریہ جات:
    61
    تمغے کے پوائنٹ:
    40

    شيخ @ كفايت الله
     
  4. ‏دسمبر 21، 2016 #4
    محمد نعیم یونس

    محمد نعیم یونس خاص رکن
    شمولیت:
    ‏اپریل 27، 2013
    پیغامات:
    25,509
    موصول شکریہ جات:
    6,495
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,143

    السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
    درست ٹیگ اس طرح ہے...ابتسامہ!
    محترم شیخ @کفایت اللہ صاحب
     
    • شکریہ شکریہ x 1
    • متفق متفق x 1
    • لسٹ
  5. ‏دسمبر 21، 2016 #5
    خضر حیات

    خضر حیات علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    طابہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 14، 2011
    پیغامات:
    7,355
    موصول شکریہ جات:
    8,005
    تمغے کے پوائنٹ:
    921

    علامات قیامت والی احادیث بھی ’ فضائل اعمال ‘ اور ’ ترغیب و ترہیب ‘ والی روایات کی طرح ہی ہیں ، یا ان سے زیادہ اہمیت رکھتی ہیں ، لہذا ضعیف احادیث سے پرہیز کرنا چاہیے ۔
    جب فضائل اعمال اور ترغیب و ترہیب کا تذکرہ ہوتا ہے ، تو ساتھ ایک اور لفظ کا استعمال بھی کیا جاتا ہے ( رقاق ) یعنی ایسی احادیث جن سے رقت طاری ہوتی ہے ،دل نرم ہوتا ہے ، علامات قیامت کی احادیث کے مضامین بھی اسی نوع کے ہیں ۔
    صحیح بخاری کی ’ کتاب الرقاق ‘ حال ہی میں مستقل اردو ترجمہ و فوائد کے ساتھ شائع ہوئی ہے ۔
     
    • مفید مفید x 3
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
  6. ‏جنوری 13، 2017 #6
    محمد افضل رضوی

    محمد افضل رضوی مبتدی
    شمولیت:
    ‏جنوری 13، 2017
    پیغامات:
    47
    موصول شکریہ جات:
    7
    تمغے کے پوائنٹ:
    28

    1..jpg 2..jpg
     
  7. ‏جنوری 13، 2017 #7
    محمد افضل رضوی

    محمد افضل رضوی مبتدی
    شمولیت:
    ‏جنوری 13، 2017
    پیغامات:
    47
    موصول شکریہ جات:
    7
    تمغے کے پوائنٹ:
    28

    3..jpg 4..jpg
     
  8. ‏جنوری 13، 2017 #8
    ابن داود

    ابن داود سینئر رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏نومبر 08، 2011
    پیغامات:
    2,687
    موصول شکریہ جات:
    2,456
    تمغے کے پوائنٹ:
    489

    السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
    @محمد افضل رضوی صاحب! ان اسکین صفحات کی جس عبارت سے آپ کا مدعا ہے اس عبارت کو دم تحریر میں لائیں ، اور اس پر اپنا مدعا بیان بھی فرمائیں!
    نیز یہ بھی بتلا دیں کہ آپ ''فضائل اعمال'' کسے سمجھتے ہیں؟
     
  9. ‏جنوری 13، 2017 #9
    محمد افضل رضوی

    محمد افضل رضوی مبتدی
    شمولیت:
    ‏جنوری 13، 2017
    پیغامات:
    47
    موصول شکریہ جات:
    7
    تمغے کے پوائنٹ:
    28

    حیرت ہے آپ لوگوں پہ۔۔۔
    بے کارسوالات کرنا شروع ہوگئے۔۔
    میں نے کوئی اعتراض کیا ؟
    یا کیا میری بات موضوع سے ہٹ کے ہے؟؟؟
     
  10. ‏جنوری 13، 2017 #10
    ابن داود

    ابن داود سینئر رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏نومبر 08، 2011
    پیغامات:
    2,687
    موصول شکریہ جات:
    2,456
    تمغے کے پوائنٹ:
    489

    السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
    بھائی جان آپ تو خفا ہو گئے!
    ہم نے تو یہ عرض کیا ہے کہ آپ صرف اسکین صفحہ لگانے پر قناعت نہ کریں، اسے دم تحریر میں بھی لائیں!
    یعنی کہ جو عبارت آپ پیش کرنا چاہتے ہیں اسے یونیکوڈ میں تحریر فرمائیں! اور اگر اس پر آپ کوئی نکتہ بیان کرنا چاہتے ہیں تو اسے بیان فرمادیں!
    اور سوال تو میں نے ایک ہی رکھا ہے کہ آپ ''فضائل اعمال'' کسے سمجھتے ہیں! اس میں حیرت کی کیا بات ہے؟
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں