1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

فضائل عشرۂ ذی الحجہ اور ہمارے کرنے کے کام

'واجبات و فرائض' میں موضوعات آغاز کردہ از کلیم حیدر, ‏اکتوبر 13، 2011۔

  1. ‏اکتوبر 13، 2011 #1
    کلیم حیدر

    کلیم حیدر رکن
    جگہ:
    لیہ
    شمولیت:
    ‏فروری 14، 2011
    پیغامات:
    9,403
    موصول شکریہ جات:
    25,973
    تمغے کے پوائنٹ:
    995

    فضائل عشرۂ ذی الحجہ اور ہمارے کرنے کے کام

    حافظ طاہر اسلام عسکری
    اللہ تبارک و تعالیٰ کا اپنے بندوں پر یہ خصوصی فضل و کرم ہے کہ اس نے نیکی و اطاعت کے لیے کچھ خاص اوقات مقرر فرما دیے ہیں جن میں اعمالِ صالحہ کا اجر کئی گنا بڑھ جاتا ہے اور باری تعالیٰ کی رحمتِ کاملہ بطورِ خاص بنی نوع انسان کی طرف متوجہ ہوتی ہے‘ تاکہ لوگ اس میں زیادہ سے زیادہ نیک عمل کر کے اپنے پروردگار کا قرب حاصل کر سکیں۔ بڑے ہی خوش قسمت اور سعادت مند ہیں وہ افراد جو ایسے لمحات کی قدر کر کے ان سے صحیح فائدہ اٹھاتے ہیں اور لاپرواہی‘ سستی اور کوتاہی کی بجائے خوب محنت کرتے ہیں۔ ان اشرف و اعلیٰ اوقات میں عشرئہ ذی الحجہ بھی شامل ہے۔ قرآن اور سنت رسولؐ میں ذی الحجہ کے پہلے دس ایام کی بڑی فضیلت بیان کی گئی ہے۔ذیل میں عشرئہ ذی الحجہ کے فضائل‘ اس میں عمل کی فضیلت اور مستحب اعمال کا ذکر کیا جاتا ہے۔
     
  2. ‏اکتوبر 13، 2011 #2
    کلیم حیدر

    کلیم حیدر رکن
    جگہ:
    لیہ
    شمولیت:
    ‏فروری 14، 2011
    پیغامات:
    9,403
    موصول شکریہ جات:
    25,973
    تمغے کے پوائنٹ:
    995

    عشرئہ ذی الحجہ کا استقبال
    جو اوقات و لمحات خصوصی اہمیت و فضیلت کے حامل ہوں ان کے شایانِ شان اہتمام سے ان کا استقبال کرنا چاہیے۔ اس سلسلے میں چند امور بطورِ خاص قابل لحاظ ہیں:
     
  3. ‏اکتوبر 13، 2011 #3
    کلیم حیدر

    کلیم حیدر رکن
    جگہ:
    لیہ
    شمولیت:
    ‏فروری 14، 2011
    پیغامات:
    9,403
    موصول شکریہ جات:
    25,973
    تمغے کے پوائنٹ:
    995

    (۱) سچی توبہ:
    مسلمان کے لیے سب سے پہلی چیز یہ ہے کہ وہ نیکی واطاعت کی ان بابرکت گھڑیوں کا استقبال سچی توبہ سے کرے اور اللہ کی طرف رجوع کا پکا ارادہ کرے ‘کیونکہ توبہ ہی میں بندئہ مؤمن کے لیے دنیا و آخرت کی کامیابی ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
     
  4. ‏اکتوبر 13، 2011 #4
    کلیم حیدر

    کلیم حیدر رکن
    جگہ:
    لیہ
    شمولیت:
    ‏فروری 14، 2011
    پیغامات:
    9,403
    موصول شکریہ جات:
    25,973
    تمغے کے پوائنٹ:
    995

    (۲) ایامِ فضیلت سے فائدہ اٹھانے کا پختہ عزم:
    مسلمان کو چاہیے کہ ان ایام میں زیادہ سے زیادہ صالح اعمال و اقوال کے ذریعے رضائے الٰہی کے حصول کی کوشش کرے اور اس بات کا عزمِ مصمم کرے کہ ان مبارک اوقات میں وہ بڑھ چڑھ کر نیکی کرے گا۔ جو شخص کسی چیز کا پختہ قصد کر لیتا ہے اللہ تعالیٰ اس کی مدد کرتاہے اور ایسے اسباب مہیا فرما دیتا ہے جو عمل کی تکمیل میں ممدو معاون ثابت ہوتے ہیں۔ اللہ عزوجل کا ارشاد ہے:
     
  5. ‏اکتوبر 13، 2011 #5
    کلیم حیدر

    کلیم حیدر رکن
    جگہ:
    لیہ
    شمولیت:
    ‏فروری 14، 2011
    پیغامات:
    9,403
    موصول شکریہ جات:
    25,973
    تمغے کے پوائنٹ:
    995

    (۳)معاصی سے اجتناب:
    جس طرح اعمالِ صالحہ قربِ الٰہی کا موجب ہیں اسی طرح معصیت اور نافرمانی کے کام اللہ تعالیٰ سے دُوری اور رحمت خداوندی سے بُعد کا سبب بنتے ہیں۔ انسان اپنے گناہوں کی وجہ سے اللہ جل شانہ کی رحمت سے محروم ہو جاتا ہے۔ لہٰذا جو شخص یہ چاہتا ہے کہ اس کے گناہ بخشے جائیں اور جہنم سے نجات حاصل ہو تو اسے ان ایامِ رحمت میں خصوصاً اور دیگر دنوں میں عموماً اللہ کی نافرمانی اور حدودِ الٰہی کی پامالی سے مکمل اجتناب کرنا چاہیے۔
     
  6. ‏اکتوبر 13، 2011 #6
    کلیم حیدر

    کلیم حیدر رکن
    جگہ:
    لیہ
    شمولیت:
    ‏فروری 14، 2011
    پیغامات:
    9,403
    موصول شکریہ جات:
    25,973
    تمغے کے پوائنٹ:
    995

    عشرئہ ذی الحجہ کی فضیلت

    ذو الحجہ کے عشرئہ اوّل کی فضیلت کئی پہلوؤں سے اجاگر ہوتی ہے:
    (۱) خدا تعالیٰ نے ان دنوں کی قسم کھائی ہے: اللہ عزوجل کا کسی شے کی قسم کھانا اس کی عظمت و فضیلت کی واضح دلیل ہے ‘ اس لیے کہ جو ذات خود عظیم ہو وہ صاحب عظمت شے ہی کی قسم کھاتی ہے۔ ارشادِ ربانی ہے:
    مفسرین کی عظیم اکثریت کے مطابق ان دس راتوں سے مرادذو الحجہ کی پہلی دس راتیں ہیں۔ امام ابن کثیرؒنے بھی اپنی تفسیر میں اسی کو صحیح کہا ہے۔
    (۲) یہی ’’ایام معلومات‘‘ ہیں: قرآن مجید میں جن اَیَّامٍ مَّعْلُوْمٰتٍ میں ذکر الٰہی کا بیان خصوصیت سے کیا گیا ہے جمہور اہل علم کے نزدیک وہ یہی دس دن ہیں۔ فرمانِ الٰہی ہے:
    سیدنا ابن عمر اور سیدنا ابن عباس نے بھی ان ایامِ معلومات سے ذو الحجہ کے دس دن ہی مراد لیے ہیں۔
    (۳) رسول اکرمﷺ کی شہادت: حضور نبی کریمﷺ نے ان دنوں کو سب سے اعلیٰ و افضل قرار دیا ہے۔ پیغمبر اعظمﷺ کا ارشادِ گرامی ہے:
    (۴) ان میں ’’یومِ عرفہ‘‘ ہے: حج کا رکن اعظم یومِ عرفہ بھی انہی ایام میں ہے۔ یہ دن انتہائی شرف و فضیلت کا حامل ہے ۔یہ گناہوں کی بخشش اور دوزخ سے آزادی کا دن ہے۔ اگر عشرئہ ذی الحجہ میں سوائے یومِ عرفہ کے اور کوئی قابل ذکر یا اہم شے نہ بھی ہوتی تو یہی اس کی فضیلت کے لیے کافی تھا۔اس سلسلے میں کئی احادیث مروی ہیں۔ حضرت عائشہ سے روایت ہے کہ رسولِ معظمﷺ نے فرمایا:
    ایک اور حدیث نبویؐ ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:
    یوم عرفہ کے روزے کی بھی بہت فضیلت ہے جس کا ذکر آگے آئے گا۔
    (۵) انہی ایام میں ’’یومِ نحر‘‘ ہے: بعض علماء کے نزدیک یومِ نحر پورے سال میں سب سے افضل ہے۔ رسول اکرمﷺ کا ارشاد ہے :
    تنبیہ:
    ’’القر‘‘ قرار (ٹھہرنے) سے ہے۔ اس میں لوگ منیٰ میں قیام کرتے ہیں۔ اس وجہ سے اسے ’’یوم القر‘‘ کہتے ہیں۔
    (۶) اسی عشرہ میں عظیم عبادات جمع ہوتی ہیں: شارح بخاری علامہ ابن حجر عسقلانیؒ فرماتے ہیں کہ
     
  7. ‏اکتوبر 13، 2011 #7
    کلیم حیدر

    کلیم حیدر رکن
    جگہ:
    لیہ
    شمولیت:
    ‏فروری 14، 2011
    پیغامات:
    9,403
    موصول شکریہ جات:
    25,973
    تمغے کے پوائنٹ:
    995

    عشرئہ ذی الحجہ میں عمل کی فضیلت

    سیدنا ابن عباس سے مروی ہے کہ رسولِ معظمﷺ نے فرمایا:
    اسی مفہوم کی روایت سیدنا ابن عمرؓ کے حوالے سے مسند احمد میں بھی موجود ہے۔ معلوم ہوا کہ ذوالحجہ کے پہلے دس ایام میں کیا گیا عمل دیگر دنوں میں کیے گئے نیک اعمال سے اللہ تبارک و تعالیٰ کو زیادہ محبوب ہے۔ یہ اس کے افضل ہونے کی دلیل ہے۔ نیز یہ بھی پتا چلا کہ عشرئہ ذی الحجہ میں اعمالِ صالحہ بجالانے والا اس مجاہد فی سبیل اللہ سے بھی زیادہ اجر و فضیلت کا مستحق ہے جو اپنے مال و جان کے ساتھ بخیریت میدانِ جنگ سے واپس آ جاتا ہے۔
     
  8. ‏اکتوبر 13، 2011 #8
    کلیم حیدر

    کلیم حیدر رکن
    جگہ:
    لیہ
    شمولیت:
    ‏فروری 14، 2011
    پیغامات:
    9,403
    موصول شکریہ جات:
    25,973
    تمغے کے پوائنٹ:
    995

    عشرئہ ذی الحجہ میں مستحب اعمال
    جب یہ بات واضح ہو گئی کہ یہ دن اللہ تبارک و تعالیٰ کی خصوصی عنایت و شفقت کا باعث اور اللہ عزوجل کی جانب سے اپنے بندوں پر اس کے فضل کا موجب ہے تو ہمیں ان بابرکت لمحات میں بڑھ چڑھ کر نیک اعمال کرنے چاہئیں۔ اجر و ثواب کے خاص خاص اوقات کے بارے میں سلف صالحینؒ کا یہی طریقہ کار تھا۔
     
  9. ‏اکتوبر 13، 2011 #9
    کلیم حیدر

    کلیم حیدر رکن
    جگہ:
    لیہ
    شمولیت:
    ‏فروری 14، 2011
    پیغامات:
    9,403
    موصول شکریہ جات:
    25,973
    تمغے کے پوائنٹ:
    995

    عشرئہ ذی الحجہ میں جو اعمال مستحب ہیں اور جنہیں زیادہ سے زیادہ بجا لانا چاہیے وہ یہ ہیں:
     
  10. ‏اکتوبر 13، 2011 #10
    کلیم حیدر

    کلیم حیدر رکن
    جگہ:
    لیہ
    شمولیت:
    ‏فروری 14، 2011
    پیغامات:
    9,403
    موصول شکریہ جات:
    25,973
    تمغے کے پوائنٹ:
    995

    (۱) حج و عمرہ کی ادائیگی:
    عشرئہ ذی الحجہ میں کیے جانے والے تمام اعمالِ صالحہ میں سے افضل عمل حج بیت اللہ اور عمرہ کی ادائیگی ہے ۔جسے اللہ تعالیٰ کی طرف سے خلوص و اخلاص کے ساتھ حج اور عمرہ ادا کرنے کی توفیق میسر آ جائے اس کی جزا صرف جنت ہے۔ حضور نبی کریمﷺ کا ارشاد ہے:
    حج مبرور سے مراد وہ حج ہے جو سنت نبویؐ کے مطابق کیا جائے‘ جس میں ریاکاری ‘ نمود و نمائش‘ شہوت کی بات اور کسی قسم کی معصیت و نافرمانی نہ کی جائے‘ بلکہ نیکی اور بھلائی کے کام زیادہ سے زیادہ کیے جائیں۔
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں