• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

فقہ اسلامی از ابوہشام (کینیڈا)

محمد آصف مغل

سینئر رکن
شمولیت
اپریل 29، 2013
پیغامات
2,677
ری ایکشن اسکور
4,006
پوائنٹ
436
فقہ سے مستفید ہونے کا طریقہ


اسلامی فقہ کی واقفیت سے آپ بآسانی اپنے اعمال کو حلال وحرام، جائز وناجائز اور مسنون وغیر مسنون وغیرہ ما درجہ دے سکتے ہیں۔ فقہ دراصل کسی بھی مسئلے کی ایک مربوط و مرتب و ضاحت کا نام ہے۔ اس لئے ایک عام آدمی کو فقہ جب مربوط صورت میں ملتی ہے اور وہ اسے پڑھتا ہے۔ تو فقہ کا سمجھنا اس کے لئے آسان تر ہوتا ہے۔

فقہ اسلامی بذات خودکوئی مستقل موضوع نہیں بلکہ قرآن وسنت ہی کا یہ فہم ہوتا ہے۔ اور اس کے تمام موضوعات انہی دونوں سے ہی مأخوذ ہوتے ہیں۔ قرآن میں چونکہ فقہی مضامین خال خال مگر جا بجا بکھرے ہیں۔ اس لئے اس سے بیک وقت کسی مسئلے سے تفصیلی طور پر آگاہ ہونا عام آدمی کے بس کی بات نہیںہاں قرآن مجید کی مطبوعہ موضوعاتی فہارس سے مستفید ہونا ممکن ہے۔ مگر حدیث کی وہ کتب جو سنن کے نام سے معروف ہیں۔ اِن میں دینی مسائل کو فقہی ترتیب دے دی گئی ہے۔ اس لئے پہلا گر یہی ہے کہ ان سنن کی کتب کا مطالعہ کیجئے۔ فقہاء حدیث کے استنباطات کو دیکھئے جو ابواب حدیث سے پہلے صاحب کتاب نے لکھے ہیں، اور اصول و قواعد فقہیہ جو زبان رسول سے ماخوذ ہیں نوٹ کیجئے۔ اور اس اندازِ استدلال کے خوگر بنئے جو محدّثین نے اپنائے ہیں۔ جہاں دلائل ہیں نصوص ہیں قیاسات نہیں ہیں۔ صحیح بخاری بھی اس سلسلے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔

امام بخاری کے بارے میں یہ قول بہت مشہور ہے۔ فِقْہُ الْبُخَارِیِّ فِیْ تَرَاجُمِہِ بہت مشہور ہے۔یعنی امام بخاری کی فقیہانہ شان دیکھنی ہو تو ان کی کتاب کے ابواب chapters پر نگاہ ڈالئے۔ ان کتب کا مختلف زبانوں میں ترجمہ بھی مارکیٹ میں دستیاب ہے۔ ایسی کتب کا مطالعہ شاید ان کتب سے مفید ہو جو صرف اردو میں تو لکھی گئی ہوں مگر Originalنہ ہوں اور شاذونادر ہی ان میں کسی مسئلے کی دلیل دی گئی ہو۔ اگر دی بھی گئی ہے تو وہ بھی ایسی کتب سے جن کا محدثین کیا علماء فقہ کے ہاں بھی کوئی مقام نہیں۔ ان میں زیادہ تر ضعیف وموضوع احادیث کا سہارا لیا جاتا ہے۔ جن پر عمل کرنا تمام اہل علم کے ہاں ناجائز بلکہ بعض صورتوں میں حرام ہوتا ہے۔ ریفرنس کے سلسلے میں بھی انہیں کتب کو اپنا اولین مأخذ بنائیے ۔

دوسرا آسان گر یہ ہے کہ اپنے آپ کو اقوال رجال سے یا ان کتب سے حتی الامکان دور رکھئے جن میں ائمہ مجتہدین کی طرف منسوب ایسے غیر ضروری عجیب وغریب مسائل بیان کئے گئے ہیں جو انہوں نے نہیں کہے۔ آخر وہ کیسے کہہ سکتے ہیں جب کہ سنت رسول میں صراحۃً ان مسائل کے برعکس ایسی احادیث مذکور ہیں۔ جن کا رنگ یا معنی ومفہوم ان سے بالکل مختلف ہے۔ اور اگر بالفرض ان سے منسوب کچھ مسائل ہیں بھی سہی تو وجہ صاف ظاہر ہوتی ہے کہ ایسے مجتہدین وفقہاء کرام کو احادیث نہیں مل سکیں۔
 

محمد آصف مغل

سینئر رکن
شمولیت
اپریل 29، 2013
پیغامات
2,677
ری ایکشن اسکور
4,006
پوائنٹ
436
فقہ اسلامی کے چند مطالبات :


بعض لوگ یہ اعتراض کرتے ہیں کہ جب شریعت ایک ہے اس کا سرچشمہ ایک ہے اللہ کی جانب سے اسے لوگوں تک پہنچانے والا بھی ایک ہے تو اس میں اختلاف کیوںکر رونما ہوا؟ یہ شر یعت تو صرف اس لئے آئی ہے کہ لوگ اس پر عمل کریں اور اپنے تمام امور میں اس کے مطابق فیصلہ کریں تو پھر اختلاف کے کیا معنی؟ بسا اوقات یہ انداز تنقید کا بھی ہوتا ہے۔ بہرحال یہ وہ شریعت ہے جس کی شان میں اللہ تعالی نے قرآن عزیز میں فرمایا:

{وإنہ لکتاب عزیز، لا یأتیہ الباطل من بین یدیہ ولا من خلفہ تنزیل من حکیم حمید}۔یہ تو ایک عالی رتبہ کتاب ہے اس پر جھوٹ کا حملہ نہ آگے سے ہوسکتا ہے اور نہ پیچھے سے ۔ یہ دانا اور خوبیوں والے اللہ کی نازل کردہ ہے۔ فصلت:۴۱، ۴۲

نیز فرمایا:

{إنا نحن نزلنا الذکر وإنا لہ لحفظون۔}بے شک یہ کتاب ہم ہی نے اتاری ہے اور ہم ہی اس کے نگہبان ہیں۔

شریعت کی اساسیات کو جاننے اور فقہ اسلامی کو سمجھنے، اس پر عمل کرنے کے لئے ضروری ہوگا کہ اس اعتراض سے قبل ہم ذیل میں دئیے گئے چند شرعی مطالبات کو سمجھیں :

فقہ سے استفادہ ۔ آیات واحادیث میں جہاں فقہ کا لفظ آیا ہے ان سے وہی معنی ہی مراد لینا چاہئیں جو قرون اولی کی فقہ پر منطبق ہو سکے۔ اسلامی فقہ کی گہرائی اور گیرائی لامحدود ہے۔ مسلکی فقہ اپنے چند اصول یا فروع کے گرد گھومتی ہے جب کہ فقہ اسلامی میں ہر علاقے، قوم اور احوال وحوادث پر فرد واحد کی نہیں بلکہ بے شمار افراد کی متفقہ بصیرت وفہم کا عمل دخل ہوتا ہے۔

تعصب سے اجتناب: فقہ اسلامی ایک الٰہی نعمت ہے اللہ کی نعمت پانے میں ہمیں اللہ کی رضا کو ہی سامنے رکھنا چاہئے۔ اس کا حکم سرآنکھوں پر اور ہر قسم کی محبتیں رسول ﷺ کی محبت پر قربان۔ آپ ﷺ ہی کے لئے ناراضگی اور آپ ﷺ ہی کے لئے رضامندی یہی ہمارے ایمان کا حصہ ہونا چاہئے۔ اس لئے کہ آخرت میں اسی کی قدر ہے۔مگردیکھا یہ گیا ہے کہ دین کی اطاعت کے معاملے میں شخصیت پرستی جب سے در آئی ہے یعنی اللہ کے کسی بندے کی فکر کو عام کرنے کا نظریہ اور اسی میں ہی ہمہ وقت استغراق ،اس نے ہمارے معاشرے میں کوئی بہتر نتائج نہیں چھوڑے۔ بلکہ اس چیز نے تو قبولیت حق یا اس کے اعتراف کے لئے بسا اوقات آنکھوں پہ پردہ ڈال دیا ہے۔ اس نقطہ نظر کو درست قرار دینے کے لئے عموماً دو آراء پائی جاتی ہیں۔

فقہ اسلامی کے چند مطالبات :

بعض لوگ یہ اعتراض کرتے ہیں کہ جب شریعت ایک ہے اس کا سرچشمہ ایک ہے اللہ کی جانب سے اسے لوگوں تک پہنچانے والا بھی ایک ہے تو اس میں اختلاف کیوںکر رونما ہوا؟ یہ شر یعت تو صرف اس لئے آئی ہے کہ لوگ اس پر عمل کریں اور اپنے تمام امور میں اس کے مطابق فیصلہ کریں تو پھر اختلاف کے کیا معنی؟ بسا اوقات یہ انداز تنقید کا بھی ہوتا ہے۔ بہرحال یہ وہ شریعت ہے جس کی شان میں اللہ تعالی نے قرآن عزیز میں فرمایا:

{وإنہ لکتاب عزیز، لا یأتیہ الباطل من بین یدیہ ولا من خلفہ تنزیل من حکیم حمید}۔یہ تو ایک عالی رتبہ کتاب ہے اس پر جھوٹ کا حملہ نہ آگے سے ہوسکتا ہے اور نہ پیچھے سے ۔ یہ دانا اور خوبیوں والے اللہ کی نازل کردہ ہے۔ فصلت:۴۱، ۴۲
نیز فرمایا:

{إنا نحن نزلنا الذکر وإنا لہ لحفظون۔}بے شک یہ کتاب ہم ہی نے اتاری ہے اور ہم ہی اس کے نگہبان ہیں۔

شریعت کی اساسیات کو جاننے اور فقہ اسلامی کو سمجھنے، اس پر عمل کرنے کے لئے ضروری ہوگا کہ اس اعتراض سے قبل ہم ذیل میں دئیے گئے چند شرعی مطالبات کو سمجھیں :

فقہ سے استفادہ ۔ آیات واحادیث میں جہاں فقہ کا لفظ آیا ہے ان سے وہی معنی ہی مراد لینا چاہئیں جو قرون اولی کی فقہ پر منطبق ہو سکے۔ اسلامی فقہ کی گہرائی اور گیرائی لامحدود ہے۔ مسلکی فقہ اپنے چند اصول یا فروع کے گرد گھومتی ہے جب کہ فقہ اسلامی میں ہر علاقے، قوم اور احوال وحوادث پر فرد واحد کی نہیں بلکہ بے شمار افراد کی متفقہ بصیرت وفہم کا عمل دخل ہوتا ہے۔

تعصب سے اجتناب: فقہ اسلامی ایک الٰہی نعمت ہے اللہ کی نعمت پانے میں ہمیں اللہ کی رضا کو ہی سامنے رکھنا چاہئے۔ اس کا حکم سرآنکھوں پر اور ہر قسم کی محبتیں رسول ﷺ کی محبت پر قربان۔ آپ ﷺ ہی کے لئے ناراضگی اور آپ ﷺ ہی کے لئے رضامندی یہی ہمارے ایمان کا حصہ ہونا چاہئے۔ اس لئے کہ آخرت میں اسی کی قدر ہے۔مگردیکھا یہ گیا ہے کہ دین کی اطاعت کے معاملے میں شخصیت پرستی جب سے در آئی ہے یعنی اللہ کے کسی بندے کی فکر کو عام کرنے کا نظریہ اور اسی میں ہی ہمہ وقت استغراق ،اس نے ہمارے معاشرے میں کوئی بہتر نتائج نہیں چھوڑے۔ بلکہ اس چیز نے تو قبولیت حق یا اس کے اعتراف کے لئے بسا اوقات آنکھوں پہ پردہ ڈال دیا ہے۔ اس نقطہ نظر کو درست قرار دینے کے لئے عموماً دو آراء پائی جاتی ہیں۔
 

محمد آصف مغل

سینئر رکن
شمولیت
اپریل 29، 2013
پیغامات
2,677
ری ایکشن اسکور
4,006
پوائنٹ
436
ایک رائے
تو یہ ہے کہ کسی ایک امام کو یا فقہ کو ضرور پکڑ کر چلنا چاہئے۔ اس لئے کہ خواہشات نفس کو روکنے کا یہی ہی ایک طریقہ ہے۔ پھراس کے بارے میں غلو اختیار کرلیا جاتا ہے مثلا یہی امام وفقیہ ہیں جن کی بات مانی جاسکتی ہے اس لئے کہ ان سے بڑھ کر کوئی عالم وفقیہ نہیں۔ عام آدمی جو دین کو صحیح شکل میں دیکھنا اور جاننا چاہتا ہے وہ اس بات پر پریشان ہے کہ کیا ایک کو پکڑنا واقعی ضروری ہے؟ کیا ہماری فقہی کتب میں ایسے مسائل کی کوئی شہادت نہیں کہ امام ابوحنیفہؒ ہوں یا امام شافعیؒ، ان سے ان کے شاگردوں نے تمام مسائل میں سو فیصد اتفاق کیا ہے؟ اگراتفاق نہیں کیا تو کیا یہ جرم ہے؟ کیا ان مسالک میں ایک مسئلے سے دوسرے مسئلے کو نکالنے اور اس کی طرف جانے کی گنجائشیں ، اصول اور قاعدے نہیں ہیں؟۔ شرعی حیلے آخر کیا ہیں؟ کیا جب سبھی فقہاء کرام دین کی خدمت کر گئے تو سبھی سے فائدہ اٹھانا ہمارے لئے بہتر ہوگا یا سب کو جھٹک کر صرف ایک سے مستفید ہونا ہی افضل ہے۔ کیا یہ علم سے محرومی تو نہیں ؟ اور کیا واقعی ایک فقیہ نے مسلمانوں کے سارے مسائل کا حل پیش کر دیا ہے؟

کیا آج جو مسائل زندہ ہیں ان کے دور میں تھے؟ مزید یہ کہ ایک کو پکڑنے کا کون کہتا ہے؟ قرآن؟ سنت رسول؟ صحابہ کرام؟ یا ائمہ کرام کا خودیہ کہنا ہے؟ نیز اس میں کونسی خواہش پرستی ہے اگر ایک مسلمان یہ اصول بنا لے کہ میں ہر اس فقیہ کی بات ماننے کو تیار ہوں جس کی تائید صحیح حدیث کرتی ہو۔ دوسرے الفاظ میں صحیح حدیث اور رسول اللہ ﷺ سے ثابت شدہ مسئلہ خواہش پرستی نہیں بلکہ اطاعت ، محبت اور ایمان بالرسول کا متقاضی ہے جو ہر مسلمان کو رسول اللہ کی اطاعت میں مقید کر دیتی ہے۔سوال یہ ہے کہ آخر یہ مسائل جو صحیح احادیث میں آگئے ہیں ان کا کیا کیا جائے؟ کیا ان احادیث کو کتب حدیث سے نکال دیا جائے یا کتب حدیث کو ہی ختم کر دیا جائے؟ شاید اس نقطہ نظرمیں شدت اس لئے بھی اختیار کرلی گئی ہے کہ حدیث رسول کو اختیار کرنے سے شخصیت پس پردہ چلی جاتی ہے اور یوں مسلک کا وجود ہی ختم ہوجاتا ہے جب کہ مسلمان کے لئے قابل فخر بات اور کیا ہو سکتی ہے کہ وہ دین رسول ﷺ کو زندہ رکھے اسی کے لئے جئے۔ نہ کہ کسی مذہب کو زندہ رکھے اور اس کے لئے جئے۔ دین تو تعصب ختم کرنے کی اور اتفاق پیدا کرنے کی علامت ہے اور شخصیت پرستی مذہبی تعصب جنم دینے کی اور افتراق وانتشار کی!
 

محمد آصف مغل

سینئر رکن
شمولیت
اپریل 29، 2013
پیغامات
2,677
ری ایکشن اسکور
4,006
پوائنٹ
436
دوسری رائے
یہ ہے کہ سب حق پر ہیں اور یہ سب مظاہر دراصل اللہ تعالی کی ایک منشأ ہے کہ وہ رسول اللہ ﷺ کی ہر سنت کو زندہ رکھنا چاہتا ہے۔اس لئے اس نے ہر ایک کو توفیق بخشی ہوئی ہے وغیرہ۔ یہ رائے گو سیاسی ہے مگر پھر بھی ایک مسلمان اپنے معاشرے میں جب معمولی مسائل پر اختلافات کی ایک خلیج دیکھتا ہے تو اسے دین بجائے رحمت کے ایک زحمت نظر آتا ہے۔ وہ سوچتا ہے کہ کیا رسول رحمت نے ہمیں ایسا دین عطا کیا جس میں ایک کام کے لئے مختلف عمل ہوں؟ اور ان مختلف اعمال کی بنیاد پہ شدید تعصبات ہوں؟ کیا یہ سنت رسول کی خدانخواستہ کار ستانی ہے جس کے تکلیف دہ مناظر آج ہم اپنے محلوں کی مساجد یا جلسوں وغیرہ میں دیکھتے ہیں یا شخصی خیالات کی افضلیت کی لڑائی ہے؟ کیا یہ وسعت ہمیں وہاں نظر آتی ہے جو ہماری مسجد میں آکر نماز پڑھ لے یا ہمارے اجتماع میں آشامل ہو؟ کتنی عجیب بات ہے کہ خیالات امتیوں کے ہوں اور انہیں جامہ سنت رسول کا پہنا دیا جائے۔! اپنے اپنے محدود علم ، فہم اور میلانات واحساسات کے اعتبار سے فقہاء کرام کے اجتہادات ومسائل میں گو نمایاں تفاوت موجود ہے مگر یہ شارع کا اختلاف نہیں کیونکہ اس نے نصوص کو اس لئے وضع نہیں کیا کہ ان میں اختلاف پیدا ہو۔

تعصبات کو ختم کرنے کی ولی اللہی تجویز

شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ اپنی دور اندیشی وصاحب بصیرت نگاہ سے ان تعصبات کو ختم کرنے کی مثبت تجاویز دیتے ہیں ،جو آج بھی مسلم امہ کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کر سکتی ہیں، تجاویز درج ذیل ہیں۔

پہلی تجویز: حنفی وشافعی اختلافات قرآن وحدیث کے ظواہر(Apparent Indications) پر پیش کئے جائیں۔ جو ان کے مطابق ہوں یا ان کے قریب ترین ہوں، انہیں تسلیم کر لیا جائے۔ اور جو مسائل فقہی قرآن وحدیث کے خلاف ہوں انہیں ترک کر دیاجائے۔

دوسری تجویز: فقہائے محدثین، قرآن وحدیث کے ظواہر کو تقدس کا اتنا درجہ نہ دیں ،کہ تفقہ بالکل نظر انداز ہو جائے۔ جیسے اہل ظاہر نے کیا۔ اور فقہائے احناف اقوال ائمہ کو اتنی اہمیت نہ دیں کہ قرآن وحدیث کی نصوص (Texts) سے بھی وہ فائق تر ہو جائیں۔ بلکہ بین بین راستہ اختیار کیا جائے۔ فقہاء کرام کی فقہی کاوشوں سے بھی پورا استفادہ کیا جائے لیکن نصوص صریحہ کا بھی پورا احترام وتقدس ملحوظ خاطر رکھا جائے۔ (التفہیمات الالـٰـہیۃ ۱/۲۷۹)

بلا شبہ ہم آج بھی ان تجاویز سے فائدہ اٹھا کرصدیوں سے مبتلا اس امہ میں فقہی جمود کو توڑنے اور مذہبی فقہی منافرت کو ختم کرنے میں کچھ مثبت کردار ادا کرسکتے ہیں ۔
 

محمد آصف مغل

سینئر رکن
شمولیت
اپریل 29، 2013
پیغامات
2,677
ری ایکشن اسکور
4,006
پوائنٹ
436
اختلاف کے باوجود رواداری:
بعض لوگ اخْتِلاَفُ أُمَّتِیْ رَحْمَۃٌ اور أَصْحَابِیْ کَالنُّجُومِ جیسی احادیث سے احتجاج کرتے اور کہتے ہیں : فقہاء کرام اور مجتہدین کا اختلاف باعث رحمت ہے ۔ جب کہ پہلی حدیث بے اصل ہے جس کا سراغ محدثین بھی نہیں نکال سکے۔ اور دوسری حدیث صحیح نہیں۔ امام ابن عبد البرؒ اور ابن حزم ؒنے اسے ناقابل احتجاج سمجھا ہے اور شیخ البانیؒ نے اسے سِلْسِلَۃُالأَحَادِیثِ الضَّعِیفَۃِ میں ذکر کیا ہے۔سوال یہ ہے کہ ضعیف احادیث پر اتنا اصرار کیوں؟ کیا کہیں اپنی اختلافی بات کو اہمیت دینا تو مقصود نہیں تاکہ مسلمان متحد نہ ہوں؟ اور اپنی فقہی حیثیت بھی برقرار رہے؟ یا پھر ہمارے جو حالات ہیں ان میں اگر اختلاف رحمت کا موجب ہوتا تو اتفاق غضب خداوندی کا سبب بنتا! مسائل میں اختلاف عہد صحابہ میں بھی رہا تاہم یہ اختلاف ان کے ما بین بغض وعناد کا سبب نہ بن سکا۔ چونکہ یہ لوگ اپنے ہی اقوال کے اندر حق محدود کرنے کے عادی نہیں تھے اس لئے اپنے رائے پر قائم رہتے ہوئے دوسروں کو عزت واحترام دیتے تھے اور ان کی رائے کی قدر کیا کرتے تھے۔ آج ہم مسلمان ایک دوسرے کے پیچھے نماز پڑھنا جائز نہیں سمجھتے۔مگر مسجد کے باہر باہمی معاملات خوش اسلوبی کے ساتھ سبھی طے کرتے ہیں۔ کیا ہمارے اسلاف کایہی طریقہ تھا؟ امام ابوحنیفہؒ اور امام شافعیؒ کے اصحاب برابر مدینہ کے مالکی ائمہ کے پیچھے نمازیں پڑھتے تھے حالانکہ یہ لوگ بسم اللہ نہ تو سرا ًپڑھتے اور نہ جہراً۔ الحمد للہ حرمین کی طرف کھلی آمدورفت نے عوام میںیہ جذبہ رواداری بیدار کردیا ہے اور وہ حرمین کے ائمہ کے پیچھے اپنی نماز کو نہ صرف شوق سے پڑھتے ہیں بلکہ بلاتردد اسے صحیح سمجھتے ہیں۔شاہ ولی اللہ دہلویؒ لکھتے ہیں:
خلیفہ ہارون الرشید نے امام مالکؒ کے فتوی پر فصد کے بعد وضوء کے بغیر نماز پڑھائی۔ قاضی ابویوسفؒ نے ان کے پیچھے نماز پڑھ لی اور دہرائی نہیں۔ امام احمد ؒبن حنبل نکسیر پھوٹنے اور جسم سے خون نکلوانے کی صورت میں وضو کے قائل تھے۔ ان سے سوال کیا گیا کہ امام کے جسم سے خون نکل آئے اور وہ وضو نہ کرے تو کیا آپ اس کے پیچھے نماز پڑھ لیں گے؟ انہوں نے فرمایا: بھلا امام مالکؒ اور سعید بن المسیبؒ جیسے لوگوں کے پیچھے نماز پڑھنے سے کس طرح انکار کر سکتا ہوں؟۔ قاضی ابویوسفؒ اور محمدؒ بن الحسن کے متعلق روایت ہے کہ یہ لوگ عیدین میں تکبیر ابن عباسؓ کے مذہب کے مطابق کہتے تھے اس لئے کہ ہارون الرشید کو اپنے جد امجد کی تکبیر زیادہ پسند تھی اور وہ ان کے پیچھے نماز پڑھا کرتا تھا۔ امام شافعیؒ نے ایک مرتبہ صبح کی نماز امام ابوحنیفہؒ کے مقبرہ کے قریب مسجد میں پڑھی اور امام صاحب کے مسلک کے احترام میں دعائے قنوت نہیں پڑھی اور فرمایا: ہم بھی کبھی کبھی اہل عراق کے مذہب کو اختیار کرلیتے ہیں۔ قاضی ابویوسفؒ کے متعلق روایت ہے کہ ایک مرتبہ انہوں نے حمام میں غسل کرکے جمعہ کی نماز پڑھائی جب لوگ چلے گئے تو پتہ چلا کہ حمام کے کنویں میں چوہیا مری ہے۔ ان سے ذکر کیا گیا تو فرمایا کچھ مضائقہ نہیں آج ہمارا عمل اہل مدینہ کے مذہب پرہوگا کہ پانی کی مقدار جب دو قلہ ہو جائے تو وہ پلید نہیں ہوتا۔ (الإنصاف )
 

محمد آصف مغل

سینئر رکن
شمولیت
اپریل 29، 2013
پیغامات
2,677
ری ایکشن اسکور
4,006
پوائنٹ
436
فقہاء ہمارا عظیم سرمایہ:
ہم مسلمانوں کی قیادت، اتباع اور اطاعت کے ذریعے رسول اکرم ﷺ کے ہاتھ میں تھما دی گئی ہے آپﷺ ہی کی ذات گرامی ایسی ہے جو معصوم ہے باقی سب خطا کے پتلے ہیں۔ اور ان کی خطا دین وشریعت کی خطا نہیں بلکہ وہ ان کی ذاتی خطا ہے۔ اسی طرح ان کی اجتہادی خطا بھی دین نہیں بلکہ ان کی ذاتی سوچ وفہم کی عکاس ہے۔ چشم بصیرت رکھنے والا ان خطاؤں کی اندھی پیروی کبھی نہیں کرسکتا۔اس لئے کہ خود ان ائمہ محترمین نے اس سے منع فرمایا ہے۔ مختلف فقہاء کرام کو پڑھئے یہ سب ہمارا عظیم سرمایہ ہیں۔ ان کے وہ اجتہادات ہمارے لئے مشعل راہ ہیں جو دین کی صحیح تعبیر اور مقاصد شریعت سے ہم آہنگ وقریب تر ہیں۔ ورنہ صحیح احادیث تو اختلافی صورت میں ہماری راہ بر ہیں ہی۔

٭…ایک اصول ہے
: اولاً صحیح حدیث سے ہی مسئلہ کا حل تلاش کیا جائے اگر صحیح حدیث میں مسئلہ کا حل نہ ملے تو حسن حدیث ہی سہی اگر اس میں بھی نہیں ملتا تو پھر قیاس سے بہتر ضعیف حدیث ہے۔ ورنہ فقہاء کرام کے استنباطات اور اجتہادات سے مستفید ہوا جائے۔

٭…فقہی اختلافات کو ختم کرنے اور فقہی جمود کو توڑنے کے لئے یہ ضروری ہوگا کہ تمام فقہاء کی فقہی کاوشوں سے مستفید ہوا جائے۔ کسی ایک کے علم کو کلی سمجھا جائے اور نہ ہی ایک پر اکتفاء کیا جائے اور نہ ہی اس کے اجتہاد کو حرف آخر سمجھا جائے۔ ایسا کرنے کی نہ کسی فقیہ محترم نے تلقین کی اور نہ ہی وحی الٰہی نے۔ کیونکہ حسب فرمان الٰہی {وَفَوقَ کُلِّ ذِیْ عِلْمٍ عَلِیمٌ}۔ہر عالم کے اوپر ایک عالم ہوتا ہے۔ رہی شریعت تو اس کی وسعت کا اندازہ اس بات سے کیا جاسکتا ہے کہ تمام فقہاء کرام کے علم کو اگر مجتمع کردیا جائے تب بھی وہ فقہ اسلامی کی تکمیل نہیں کر سکتے۔

٭…اس میں بھی کچھ شک نہیں کہ بعض فقہاء کرام کے کچھ فقہی استنباطات اور اجتہادات صحیح حدیث کے خلاف بھی ہیں۔ جس کا یہ مطلب ہرگز نہ لیا جائے کہ خدانخواستہ انہوں نے صحیح حدیث کی عمداً مخالفت کرڈالی۔ بلکہ ہمیں یہ سمجھنا چاہئے کہ ان فقہاء محترم کو حدیث رسول ﷺ نہیں پہنچی ہوگی ورنہ وہ کبھی ایسا اجتہاد واستنباط نہ کرتے۔ مجتہدین کرام اور فقہاء عظام آخر انسان تھے اس لئے ان کے پاس جو بہتر دلیل ان کے علم کے مطابق تھی وہ استنباط کرکے مسئلہ دلیل سمیت بتا دیا کرتے ۔ اس لئے بغیر دلیل نہ اجتہاد ہو تا ہے نہ استنباط۔صرف دلیل کا معیار ہی بتادیتا ہے کہ اجتہاد کس معیار کا ہے تاکہ اسے قبول یا رد کیا جاسکے۔ اجماعی اجتہاد اور استنباط بھی دلیل کا محتاج ہوتا ہے اس لئے کہ یہ ناممکن ہے کہ مجتہدین کرام کسی، کمزور، بے اصل یا کسی دلیل کے بغیر کسی اجتہاد پر اتفاق کرلیں۔

٭…لہٰذا ایسے فتاوی یا اجتہادات جو لوگوں میں معروف ہیں اہل علم پر فرض ہے کہ ان کے حدیثی دلائل کو تحقیق کے بعد بیان کریں کیونکہ فقہ کی عام کتب جن سے ہمارا عام طبقہ زیادہ تررجوع کرتا ہے وہ بے شمار منکر، بے اصل اور موضوع روایات اپنے اندر سموئے ہوئی ہیں۔

٭…امہات کتب فقہ میں بھی جب ایسی احادیث سے مسائل مستنبط کئے گئے تو علماء حدیث وفقہ سے رہا نہ گیا اور انہوں نے ان فقہی کتب میں وارد احادیث کی تخریج کرڈالی تاکہ طلبہ علم صحیح وضعیف اور موضوع احادیث سے واقف رہیں۔مثلا: الہدایہ فقیہ مرغینانی کی کتاب ، المدو نۃ فقیہ ابن القاسم کی کتاب، شرح الوجیز فقیہ الرافعی کی کتاب، المغنی فقیہ ابن قدامہ کی کتاب اور بدایۃ المجتہد فقیہ ابن رشد کی کتاب جو فقہ المقارن کی ایک اچھی کوشش ہے۔ اسی طرح اردو میں موجود فقہی لٹریچر جو انہی کتب سے مستفاد ہے۔

٭… فروع کے استنباط کا مشغلہ ہر دور میں رہا ہے مگرخیر القرون میں کوئی شخص دوسرے کی فقہ کا پابند نہیں رہا۔ ابن القیمؒ فرماتے ہیں:

فَإِنَّا نَعْلَمُ بِالضَّرُورَۃِ أَنَّہُ لَمْ یَکُنْ فِی عَصْرِ الصَّحَابَۃِ رَجُلٌ وَاحِدٌ اتَّخَذَ رَجُلاً مِنْہُمْ: ۶) ہم بخوبی جانتے ہیں کہ عصر صحابہ میں کوئی شخص ایسا نہیں تھا جس نے ان میں سے کسی ایک کو پکڑ رکھا ہو ۔ یعنی اس کی فقہ کو مانتا ہو یا اس کی تقلید کرتا ہو۔

٭…بعینہ یہ سمجھنا کہ دور جدید کے پیدا شدہ مسائل کا حل، قدیم فقہی ذخیرہ میں ملتا ہے تویہ بھی راست فکر نہیں اس لئے کہ:

مَنْ زَعَمَ أَنَّ الدِّیْنَ کُلَّہ فِی الْفِقْہِ بِحَیثُ لَا یَبْقٰی وَرَائَہُ شَیئٌ فَقَدْ عَادَ عَنِ الصَّوَابِ۔ جو یہ سمجھتا ہے کہ سارے کا سارا دین فقہ میں اس طرح آگیا ہے کہ اب کوئی شے باقی نہیں رہی وہ صحیح سوچ سے ہٹا ہوا ہے۔( فیض الباری۲؍۱۰)
 

محمد آصف مغل

سینئر رکن
شمولیت
اپریل 29، 2013
پیغامات
2,677
ری ایکشن اسکور
4,006
پوائنٹ
436
اجتہاد کی ضرورت:
عام لوگوں کو یہ سجھا دیا گیا ہے کہ ائمہ اربعہ نے جو اجتہاد کرنا تھے کر لئے اور جو کچھ کہنا تھا کہہ گئے۔اس لئے موجود فقہ کافی ہے۔ وہی مجتہد مطلق تھے انہی کی بتائی فقہ کا پابند رہ کر ایک مسلمان کو زندگی گذارنی چاہئے نہ کہ وہ اجتہادی کوششیں شروع کردے۔ کیونکہ اجتہاد کی کنجی گم ہوگئی ہے۔اسی تصور نے اجتہاد کا دروازہ بند کرایا ہے۔اس لئے بعدکے اہل علم حضرات انہی حضرات میں سے کسی ایک کے خوشہ چیں اور مقلد رہے ہیں ۔ہاں حسب مراتب ان میںبعض مجتہد منتسب ہیں اور بعض مجتہد فی المذہب ۔مگر مجتہد مطلق، مستقل کوئی نہیں رہا اور نہ رہے گا۔ اس دعوی محض کے بارے میں سوائے اس کے اور کیا کہا جا سکتا ہے کہ امت محمدیہ ایسی بانجھ ثابت ہوئی کہ پندرہ سو سالوں میں اس نے صرف چار مجتہد ہی پیدا کئے؟۔ اس دعوے کی محققین حضرات نے تردید کی ہے بلکہروایتی دور کے ختم ہونے کے بعد جدید دور کے آنے پر امت کے لئے اسے نقصان دہ قرار دیا ہے۔ مولانا لکھنویؒ اسی مسئلہ پر بحث کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

وَالْحَاصِلُ أَنَّ مَنِ ادَّعٰی بِأَنَّہُ قَدِ انْقَطَعَ مَرْتَبَۃُ الاِجْتِہَادِ الْمُطْلَقِ الْمُسْتَقِلِّ بَالأَئِمَّۃِ الأَرْبَعَۃِ انْقِطَاعًا لاَ یُمْکِنُ عَوْدُہُ فَقَدْ غَلِطَ وَخَبَطَ، فَإِنَّ الاجْتِہادَ رَحْمَۃٌ مِنَ اللہِ سُبْحَانَہُ وَرَحْمَۃُ اللہِ لاَ تَقْصُرُ عَلَی زَمَانٍ دُوْنَ زَمَانٍ، وَلاَ عَلَی بَشَرٍ دُوْنَ بَشَرٍ۔ وَمَنِ ادَّعٰی انْقِطَاعَہَا فِی نَفْسِ الأَمْرِ مَعَ اِمْکَانِ وُجُودِ فِی کُلِّ زَمَانٍ فَإِنْ أَرَادَ أَنَّہُ لَمْ یُوجَدْ بَعْدَ الأَرْبَعَۃِ مُجْتَہِدٌ اتَّفَقَ الْجُمْہُورُ عَلَی اجْتِہَادٍ وَسَلَّمُوا اسْتِقْلاَلَہُ کَاتِّفَاقِہِمْ عَلَی اجْتِہَادِہِمْ فَہُوَ مُسْلِمٌ وَإِلاَّ فَقَدْ وُجِدَ بَعْدَہُمْ أیَضًا أَرْبَابُ الِاجْتِہَادِ الْمُسْتَقِلِّ کَأَبِی ثَورٍ الْبَغْدَادِیِّ وَدَاؤدَ الظَّاہِرِیِّ وَمُحَمَّدِ بْنِ إِسْمَاعِیلَ الْبُخَارِیِّ وَغَیرِہِمْ عَلَی مَا لاَ یَخْفٰی عَلَی مَنْ طَالَعَ کُتُبَ الطَّبَقَاتِ۔
حاصل کلام یہ ہے کہ جو اس بات کا مدعی ہے کہ اجتہادمطلق ومستقل کا مرتبہ ائمہ اربعہ کے بعد ختم ہو چکا ہے یہ مرتبہ اب کسی کو حاصل نہیں ہو سکتا تو وہ غلطی اور خبط میں مبتلا ہے کیونکہ مرتبہ اجتہاد اللہ تعالی کی طرف سے رحمت ہے اور اللہ تعالی کی رحمت نہ کسی زمانہ پر منحصر ہے اور نہ ہی کسی انسان پر رک سکتی ہے اور جو امکان کے باوجود اس کے انقطاع کا نفس الأمر میں مدعی ہے تو اس کا منشا اگر یہی ہے کہ ائمہ اربعہ کے بعد کوئی ایسا مجتہد نہیں جس کے اجتہاد پر جمہور کا اتفاق ہو اور انہوں نے اسے اسی طرح مستقل مجتہد تسلیم کیا ہو جیسے ائمہ اربعہ ہیں تو یہ بات قابل تسلیم ہے ورنہ ائمہ اربعہ کے بعد بھی مجتہد مستقل ہوئے ہیں جیسے امام ابوثور بغدادی، امام داؤد ظاہری، امام محمد بن اسماعیل بخاری وغیرہ کتب طبقات کا مطالعہ کرنے والا اسے اچھی طرح جانتا ہے۔ (النافع الکبیر ص: ۹)
 

محمد آصف مغل

سینئر رکن
شمولیت
اپریل 29، 2013
پیغامات
2,677
ری ایکشن اسکور
4,006
پوائنٹ
436
استنباط :
اس لفظ کے مفہوم کو بھی سمجھنا جاہئے۔کنویںسے پانی کے ڈول کو نکالنا استنباط کہلاتا ہے۔ گویا ایک فقیہ، اپنے علم اور خداداد بصیرت کی بناء پر کسی بھی نئے واقعے یا حادثے کا حکم قرآن وحدیث کے الفاظ سے نکالتا ہے جو دوسرے پر مخفی رہا ہو۔ یہی اجتہاد بھی کہلاتا ہے۔ صرف لفظ کو سمجھ لینا استنباط نہیں کہلاتا اور نہ لفظ کا موضوع استنباط سے حاصل ہوتا ہے بلکہ علت سے، معنی سے، شبیہ سے، نظیر سے اور متکلم کے مقصد سے ہی مسائل کا استنباط ہو تا ہے۔ صرف ظاہر لفظ کو سننا ، انہیں اڑا دینا اور شائع کردینا اللہ کے نزدیک مذموم فعل ہے۔ اللہ تعالی نے اہل استنباط کی قرآن مجیدمیں تعریف فرمائی ہے اور انہیں اہل علم سے خطاب فرمایا ہے۔ دنیا میں نت نئے ان گنت حوادث وواقعات رونما ہوئے اور ہوتے رہیں گے۔ یہ حوادث تغیر پذیر ہیں اور ہر لمحہ ان میں تبدیلی اور (Modification) ہوتی رہتی ہے۔ حیات انسانی کے وہ حوادث جن میں تغیر رونما نہیں ہو تا شریعت اسلامیہ نے ان کی تفصیل وتوضیح کرنے کا کوئی دقیقہ فروگذاشت نہیں کیا۔ یہی وجہ ہے کہ ان میں اختلاف کم پایا جاتا ہے مثلا عقائد وعبادات، احکام وراثت، نکاح ووفات سے متعلق احکام ومسائل ۔ یا وہ امور جن کو جدید اصطلاح میں احوال شخصیہ کہا جاتا ہے۔ بخلاف ازیں جو امور تغیر پذیر ہیں ان کے بارے میں شریعت نے ایسے قواعد عامہ وضع کردیے ہیں جن سے تمام حوادث وواقعات کے احکام استنباط کئے جاسکتے ہیں ۔ مجتہدین عظام کا یہی کارنامہ ہے کہ واقعات کو نصوص پر منطبق کرتے ہیں اور ان سے احکام کا استنباط بھی کرتی ہیں۔

جرح وتعدیل:
محدثین نے جرح وتعدیل کے جو اصول ، تابعین ، تبع تابعین اور بعد کے علماء کے بارے میں بنائے یہ صرف حدیث کے راویوں کے لئے نہیں تھے بلکہ یہ ہر فقیہ، محدث، مفسراور متکلم کے لئے تھے۔ سبھی کو ان اصولوں کے تحت پرکھنا ہوگا کہ وہ کیا علمی ، عملی اور ذہنی معیار رکھتا ہے۔ صرف الصحابۃ کلہم عدول صحابہ کرام مستثنی ہیں۔ فقہاء کرام کے بھی درجات ہیں۔ انہیں پڑھ کے اندازہ ہوتا ہے کہ جرح وتعدیل سے مبرا کوئی نہیں۔ اس لئے کسی بھی اجتہاد، استنباط یا شرعی مسئلہ کی وضاحت میں کسی بھی فقیہ کی ثقاہت، عدالت، اس کے عقلی ونقلی دلائل ، اس کے اجتہادات، اس کا شذوذ وغیرہ ان اصولوں کے تحت پرکھنا ہوگا تاکہ فقہی مسائل کی چھانٹی ہوسکے اور صحیح مسائل والے فقیہ یا فقہاء کو ترجیح دی جاسکے۔ یعنی یہ نہیں ہوسکتا کہ نقد وجرح کا پیمانہ ایک خاص گروہ کے لئے تو ہو مگر دوسرے کے لئے نہ ہو۔ اس لئے وہ فقہاء جوفقاہت کے مقام کو چھوتے ہیں ان کے فرمودہ فقہی مسائل میں ثقاہت ، اجتہادا ت کے دلائل سر فہرست ہوتے ہیں۔ مگر غیر ثقہ فقیہ کو کوئی حیثیت نہیں دیتا۔

اس لئے فقہی مسائل میں بقول أئمہ کرام کے، کوئی مسئلہ یا اجتہاد قبول نہیں کیا جائے گا جب تک اس کی قوی دلیل فراہم نہ کردی جائے۔محض یہ کہہ دینا کافی نہیں ہو گا کہ فقہ میں ہے یا فلاں فقیہ کی فلاں کتاب میں ہے یا فلاں فقیہ نے فرمایا ہے۔ جس طرح کوئی حدیث بغیر سند اور اس کے راویوں کی ثقاہت کے قبول نہیں کی جاتی بلکہ اسے تنقیدی اعتبار سے بھی پرکھا جاتا ہے، بعینہٖ اسی طرح فقہاء کے ان اجتھادات و مسائل کی بھی دلائل اور سند کے ساتھ روایت ہوئی ہے۔ ان کو بھی بغیر کسی دلیل وروایت کے قبول نہیں کیا جاسکتا۔ہمیں ضرور دیکھنا ہوگا کہ مسئلہ کیا ہے؟ اس کی دلیل کیا ہے؟ اور کون اس کا راوی ہے؟ درایتی اعتبار سے وہ کیسی ہے تاکہ آپﷺ کے ارشاد کی صحیح تعبیر مخاطب تک پہنچ سکے۔ غیر فقیہانہ مسائل ،ائمہ حضرات کی طرف منسوب اقوال و اجتہادات تو ہونگے مگران کی حیثیت ایک ضعیف یا موضوع حدیث سے کم نہ ہوگی۔ امام عبد اللہ بن المبارکؒ نے دین کا صحیح ادراک کرکے پہلے ہی ہمیں الرٹ کردیا تھا کہ یاد رکھنا: الإِسْنَادُ مِنَ الدِّیْنِ، لَو لاَ الإِسْنَادُ لَقَالَ مَنْ شَائَ مَا شَائَ۔ اسناد یعنی کسی کے قول یا مسئلے یا حدیث کے سلسلہ سند کوپیش کرنا دینی فریضہ ہے اگر اس سلسلے کوغیر اہم سمجھا جاتا تو جو شخص جو کچھ چاہتا کہہ دیتا۔ ملا علی القاری شرح فقہ الأکبر میں فرماتے ہیں: العِلْمُ مَا فِی الإِسْنَادِ، وَمَالَیْسَ فِیِہِ الإسْنَادُ فہُوَ مِنْ وَسْوَسَۃِ الشَّیاَطِینِ۔ علم یعنی فقہ، حدیث کا اصل علم وہ ہے جس میں سند ہو اور جس علم میں سند نہ ہو وہ وساوس شیطانی ہیں۔
 

محمد آصف مغل

سینئر رکن
شمولیت
اپریل 29، 2013
پیغامات
2,677
ری ایکشن اسکور
4,006
پوائنٹ
436
تخریج سے اجتناب:

کتب فقہ کے مطالعہ کے دوران یہ بکثرت محسوس کیا گیا ہے کہ فقہی مسائل میں ایک امام، ان کے شاگرد، پھر ان کے بعد تقریباً ہر صدی میں ظاہر ہونے والے فقہاء کرام کا فقہی نقطہ نظر کافی پھیلتا چلا گیا ہے۔ جب کہ مذہب کے امام نے اس قدر مسائل لکھے نہ بیان کئے۔ مسائل کی یہ وسعت عجیبہ اپنے اندر مختلف نقطہ ہائے نظر بھی رکھتی ہے۔ جس میں شاگرد اپنے شیخ سے اور بعد کے فقہاء کرام اپنے مشایخ سے اختلاف کرتے ہیں۔ مسائل کا حل بھی پیش کیا جارہا ہے ۔ لیکن ان میں جہاں عِندَ أبی حَنیفۃَ، وعِندَ صَاحِبَیْہِ کے الفاظ استعمال ہوتے ہیں وہاں کبھی کبھار عِنْدَنَا کی اصطلاح بھی استعمال ہوتی ہے۔ فقہاء کرام نے اسے نہ تو تقلید کہا اور نہ ہی مذہب سے خروج۔

یہ بات بھی اکثر ذہن میں آتی ہے کہ امام محترم کی طرف منسوب یہ مسائل کوئی سند رکھتے ہیںاور نہ ہی امام محترم کی اس سلسلے میں کوئی معروف فقہی کتاب ہے پھر یہ سب کچھ ایک مخصوص فقہ کیسے بن گئی؟۔ نیز اولین شاگردوں کے پاس اپنے استاد محترم کا اتنا مواد کہاں تھا کہ وہ اس سب کچھ کو امام محترم کی طرف منسوب کرتے؟۔ ان تمام سوالوں کا جواب اسی مسئلہ تخریج میں ہے۔ جس سے مرادیہ ہے کہ اپنے امام کے کسی قول کو یافقہی فرعی مسئلے کو بنیاد بنا کر اس سے مسائل احکام کو اس طرح استنباط کرتے جانا اور مسائل سے مسائل کو تلاش کرتے جانا جیسے ایک مجتہد قرآن وحدیث سے استنباط کرتا ہے۔ اور یوں انہیں امام مذہب کی طرف منسوب کردیا جاتا ہے۔ یہ احکام بعد میں کتب کی زینت بنتے ہیں اور اپنے اپنے مدارس میں پڑھائے جاتے ہیں اس طرح مذہب میں وہ معمول بہا ہوجاتے ہیں۔ معروف مذاہب میں اس کے باقاعدہ متخصص لوگ ہیں۔

تخریج کا یہ انداز کیا تقلید شخصی کی نفی نہیں کرتا؟ مسئلہ تو امام محترم نے بتایا مگر اس سے اصول در اصول اور مسائل در مسائل جب نکلتے گئے تو کیا یہ اجتہاد نہ ہوا؟ پھر تقلید پر اتنا زور کیوں؟پھر تخریج کے اس طفیلی اندازمیں اگر تھوڑی سی وسعت یوں پیدا کرلی جاتی کہ ہر اچھے اور قابل فقیہ کے دلائل کو بھی شامل کرلیا جاتا اور پھر تخریج کی جاتی تو شاید سب کے لئے قابل قبول ہوجاتی۔ کیونکہ اس قسم کی تخریج سے ایسی تشریع واستنباط احکام شروع ہوجاتے ہیں جو براہ راست قرآن وحدیث سے تو ماخوذ نہیں ہوتے بلکہ امام مذہب کے کلام سے مستنبط ہوتے ہیں۔جو ایک اچھے مفہوم کو ذہن میں نہیں لاتی۔ اگر یہ سارا زور قرآن وحدیث کی نصوص پر لگایا جاتا تو یہ سارے دین کی ایک خدمت ہوجاتی۔ اس پربھی ایک بحث ہے کہ کیا ان مخرج مسائل کو امام مذہب کی طرف منسوب کرنا درست ہے؟ کچھ نے تو اس کی اجازت دی ہے اور کچھ نے تخریجی مسئلہ کے ساتھ قید لگانے کا کہا ہے تاکہ کذب کا واہمہ نہ ہو اور امام مذہب کی نصوص سے یہ تخریج الگ رہے۔ بعض فقہاء نے اس کی اجازت نہیں دی۔

سوال صرف اتنا ہے کہ احکام کا شارع اللہ تعالی ہے جو ایک اجماعی بات ہے۔ چونکہ مفتی سے ان احکام کے بارے میں سوال پوچھا جاتا ہے جو شارع سے ثابت ہوں۔ انقطاع وحی کے بعد شرعی احکام کو صرف کتاب وسنت کی نصوص سے ہی سے ثابت کیا جاسکتا ہے یا پھر اجماع و قیاس سے۔ اس تخریج میں یہ اصول کہاں ہیں؟۔ اور مفتی کا یہ فرمانا کہ ہمارے امام کے نزدیک یہ ہے وغیرہ کہاں تک درست ہے؟۔ ہمارا مقصد صحیح اور اصولی بات کرنا ہے جو معتدل ائمہ نے اختیار کی ہے ۔ باقی: ولِلنَّاسِ فِیْمَا یَعْشِقُونَ مَذَاہِبُ۔

٭٭٭٭٭​
 

محمد آصف مغل

سینئر رکن
شمولیت
اپریل 29، 2013
پیغامات
2,677
ری ایکشن اسکور
4,006
پوائنٹ
436
فتویٰ اور مفتی


فتویٰ: فتویٰ کسی بھی مسئلے کے شرعی حل کو طلب کرنا ہوتا ہے۔ یہ حل زبانی طور پر بھی مانگا جاسکتا ہے اور تحریراً بھی۔ فتویٰ اپنی لاعلمی کو دور کرنے یا علم کو پختہ کرنے کیلئے اپنے سے بڑے عالم یا عالم دین سے مانگا جاتا ہے۔ چاہے اس کا تعلق عقائد و عبادات سے ہو یا اخلاق و معاملات سے یا باہمی نزاع سے۔ عالم دین کو رسوا کرنے یا زچ کرنے کے لئے استفتاء نہ ہو۔ کیونکہ یہ طریقہ اہل ایمان کا نہیں۔ جس سے یہ حل مانگا جاتا ہے اسے مفتی کہتے ہیں۔ اور مسئلے کا حل پوچھنا خواہ وہ زبانی ہو یا تحریری، اسے استفتاء کہتے ہیں۔ فتوی دراصل مفتی کی اپنی ایک علمی رائے (Opinion)ہے جسے وہ شرعی حکم بتا کر ظاہر کرتا ہے فتویٰ لینے اور دینے کا سلسلہ نزول ِ قرآن اور رسالت مآب ﷺ کے زمانہ سے ہی شروع ہوا۔ چونکہ اس عمل میں خود رسول اکرم ﷺ ، صحابہؓ، اور علماء فقہاء امت پیش پیش رہے اس لئے "مفتی" کا منصب فتوی دینے سے زیادہ اہم ہے اس لئے اس میںکچھ ایسے خصائص کا ہونا لازمی ہے جو اس کے منصب اور مقام کو مزید جلا بخشیں۔

مفتی اور اس کی شرائط:
مفتی ایک ایسا عالم دین ہو جو احکام شریعت میںبصیرت رکھنے والا ، معتدل مزاج اور مسئلہ کی نوعیت وباریکی کو سمجھتے ہوئے دین کی تمام تر آسانیوں اور گنجائشوں کو مدنظر رکھ کر، تعصب و مسلکی عناد و حب شخصیات سے بالاتر ہو کر مسئلہ کا حل شرعی دلائل کی روشنی میں پیش کرے۔فتوی دینے کا منصب بہت ہی اہم اور ذمہ دارانہ ہے۔ اس منصب کو اللہ رب العزت نے اپنے لئے پسند فرمایا ہے۔ ارشاد ربانی ہے:

{ویستفتونک قل اللہ یفتیکم فی الکلالۃ¡}لوگ آپ سے فتویٰ مانگتے ہیں ۔آپ کہیے اللہ تمہیں کلالہ کے بارے میں فتویٰ دیتا ہے۔

مزید یہ کہ آپ ﷺ بھی فتوی دیا کرتے تھے۔علماء اس منصب کو بہت ہی مشکل دقیق اور انتہائی اہم سمجھتے ہیں اس لئے مفتی کو یہ ضرور خیال رکھنا چائیے کہ وہ کس کی نیابت کر رہا ہے۔ جو بات کہے سچ کہے ، غلط تاویلات نہ کرے یا حیلے بہانوں سے اپنی جان نہ بچائے۔ اور اس یقین کے ساتھ فتویٰ دے کہ کل روز قیامت اس سے بازپرس ہونی ہے اور اسے رب ذوالجلال کے حضور کھڑا بھی ہونا ہے۔احادیث کی روایت جو صحابہ کرام ؓ نے کی، یہ کوئی محض ان کا شوق نہیں تھا۔ بلکہ بیشتر روایات ، سائل کے سوال کا جواب ہوتی تھیں۔ اور یہی ان کے فتاویٰ تھے۔ ان فتاویٰ میں ان کی کمال احتیاط یہ تھی کہ جواب دیتے وقت انہیں الفاظ پر اکتفاء کیا جو آپ ﷺ نے ارشاد فرمائے یا انہی اعمال کی وضاحت کی جو آپ ﷺ کوکرتے دیکھی۔ اپنی طرف سے شاذ ہی کسی لفظ کو ارشاد رسول میںڈالنے کی کوشش کی ہو۔یہی منہج بعد کے اسلاف محدثین وفقہاء کے ہاں رہا۔
 
Top