1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

فقہ اسلامی میں غیر محرم لونڈی کے ستر کے احکام

'لونڈی کے احکام' میں موضوعات آغاز کردہ از اسحاق سلفی, ‏اپریل 30، 2016۔

  1. ‏اپریل 30، 2016 #1
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    6,317
    موصول شکریہ جات:
    2,379
    تمغے کے پوائنٹ:
    791

    بسم اللہ الرحمن الرحیم
    ایک محترم بھائی نے " ذاتی پیغام " میں درج ذیل سوال پیش کیا ہے ؛
    السلام عليكم :
    میری گزارش ہے اہل علم سے کے مجھے اس روایت کا ضرور جواب دے ، جب سے میں نے پڑھی ہے دماغ گھوم گیا ہے اگر اس کی سند میں کوئی ضعف ہے تو وہ بتائے یا اس کے ترجمعے میں کوئی غلطی ہے تو اس کی وضاحت کرے یا اس کی صحیح تشریح بیان کردے
    ملاحظہ ہوں
    عَنْ نَافِعٍ , عَنِ ابْنِ عُمَرَ , " أَنَّهُ كَانَ إِذَا اشْتَرَى جَارِيَةً كَشَفَ عَنْ سَاقِهَا وَوَضَعَ يَدَهُ بَيْنَ ثَدْيَيْهَا , وَعَلَى عَجُزِهَا " وَكَأَنَّهُ كَانَ يَضَعُهَا عَلَيْهَا مِنْ وَرَاءِ الثَّوْبِ "
    ترجمہ:۔ نافع کہتے ہیں کہ ابن عمر جب بھی کنیز عورت خریدا کرتے تو وہ کنیز عورت کی ٹانگوں کا معائینہ کرتے، اپنے ہاتھ کنیز عورت کی چھاتی کے درمیان ہاتھ رکھتے اور کولہوں پر ہاتھ رکھتے۔
    حوالہ:۔ سنن الکبری البیہقی
    اس کی سند کو ناصر الدین البانی رحمہ اللہ نے اس روایت کو "صحیح" قرار دیا ہے
    (ارواء الغلیل فی التخریج الاحادیث، حدیث نمبر 1792)
    ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

    ہم پہلے جناب عمار خان ناصر مدیر ماہنامہ الشریعہ گوجرانوالہ کی ایک تحریر اس ضمن میں پیش کرتے ہیں :
    لنک مضمون

    فقہ اسلامی میں غیر محرم لونڈی کے ستر کے احکام


    حنفی فقیہ امام جصاص فرماتے ہیں کہ ::
    "يَجُوزُ لِلْأَجْنَبِيِّ النَّظَرُ إلَى شَعْرِ الْأَمَةِ وَذِرَاعِهَا وَسَاقِهَا وَصَدْرِهَا وَثَدْيِهَا "
    ’’اجنبی آدمی کسی کی لونڈی کے بال، بازو، پنڈلی، سینہ اور پستان دیکھ سکتا ہے۔’’

    مالکی فقہ کی کتاب الشرح الصغیر میں ہے
    فيرى الرجل من المرأة - إذا كانت أمة - أكثر مما ترى منه لأنها ترى منه الوجه والأطراف فقط، وهو يرى منها ما عدا ما بين السرة والركبة، لأن عورة الأمة مع كل واحد ما بين السرة والركبة - (الجزء الأول، ص 290.)
    ’’لونڈی، اجنبی مرد کا جتنا جسم دیکھ سکتی ہے، مرد اس سے بڑھ کر اس کا جسم دیکھ سکتا ہے۔ وہ صرف اس کا چہرہ اور ہاتھ پاوں دیکھ سکتی ہے، جبکہ غیر محرم مرد اس کی ناف ے گھٹنوں تک کے حصے کے علاوہ باقی سارا جسم دیکھ سکتا ہے۔
    شوافع کا مختار مذہب بھی یہی ہے۔المذهب أن عورتها ما بين السرة والركبة (المهذب في فقه الإمام الشافعي ,أبي اسحق الشيرازي، ص 96)

    فتاویٰ عالمگیری کے مطابق
    غیر محرم باندی کے جسم کا جس قدر حصہ دیکھنا حلال ہے، اُس کا چھونا بھی حلال ہے بشرطیکہ اپنی ذات اور اُس کنیز کی ذات پر شہوت طاری ہونے کا ڈر نہ ہو۔

    غیر محرم باندی کے ساتھ خلوت یا اس کو سفر پر ساتھ لے جانے میں مشائخ حنفیہ کے دو قول ہیں۔ مختار یہ ہے کہ ایسا کرنا درست نہیں، جبکہ شمس الائمہ سرخسی فتوی دیتے تھے کہ غیر کی باندی کے ساتھ سفر کرنا یا خلوت کرنا حلال ہے۔
    مشائخ نے کہا ہے کہ لونڈی کو خریدنے کا ارادہ نہ ہو تو بھی لونڈی کے بازووں، پنڈلی اور سینے کو چھونا اور ان حصوں کو ننگا دیکھنا جائز ہے، بشرطیکہ شہوت کی حالت میں نہ ہو۔


    اگر لونڈی کو خریدنا مقصود ہو تو پھر حنفی فقہ کے بعض متون کے مطابق پیٹ اور پیٹھ کے علاوہ اس کے جسم کے حصوں پنڈلی، سینہ، بازو وغیرہ کو دیکھنا بھی جائز ہے اور چھونا بھی، چاہے اس سے شہوت پیدا ہونے کا خوف ہو۔ بعض مشائخ کا کہنا ہے کہ دیکھنا تو درست ہے، لیکن اگر شہوت کا خوف ہو تو پھر چھونا نہیں چاہیے۔
    مصنف عبد الرزاق کی کتاب الطلاق میں ’’باب الرجل یکشف الامۃ حین یشتریھا’’ کے تحت اس حوالے سے صحابہ وتابعین کے متعدد آثار نقل کیے گئے ہیں۔ چند حسب ذیل ہیں۔
    سعید ابن المسیب نے کہا کہ لونڈی کو خریدنے کا ارادہ ہو تو شرم گاہ کے علاوہ اس کا سارا جسم دیکھا جا سکتا ہے۔
    شعبی نے بھی کہا کہ شرم گاہ کے علاوہ اس کا سارا جسم دیکھا جا سکتا ہے۔
    ابن مسعود کے شاگردوں میں سے بعض نے کہا کہ ایسی لونڈی کو چھونا اور کسی دیوار کا ہاتھ لگانا ایک برابر ہے۔


    مصنف عبد الرزاق کے مذکورہ باب کی روایات کے مطابق
    حضرت علی سے لونڈی کی پنڈلی، پیٹ اور پیٹھ وغیرہ دیکھنے کے متعلق پوچھا گیا تو انھوں نے کہا کہ کوئی مضائقہ نہیں۔ لونڈی کی کوئی حرمت نہیں۔ وہ (بازار میں) اسی لیے تو کھڑی ہے کہ ہم (دیکھ بھال کر) اس کا بھاو لگا سکیں۔
    عبد اللہ بن عمر کے تلامذہ بیان کرتے ہیں کہ انھیں جب کوئی لونڈی خریدنا ہوتی تو اس کی پیٹھ، پیٹ اور پنڈلیاں ننگی کر کے دیکھتے تھے۔ اس کی پیٹھ پر ہاتھ پھیر کر دیکھتے تھے اور سینے پر پستانوں کے درمیان ہاتھ رکھ کر دیکھتے تھے۔

    مجاہد کا بیان ہے کہ ایک موقع پر ابن عمر بازار میں آئے تو دیکھا کچھ تاجر لوگ ایک لونڈی کو خریدنے کے لیے الٹ پلٹ کر دیکھ رہے ہیں۔ انھوں نے آ کر اس کی پنڈلیاں ننگی کر کے دیکھیں، پستانوں کے درمیان ہاتھ رکھ کر اس کو جھنجھوڑا اور پھر خریدنے والوں سے کہا کہ خرید لو۔ یعنی اس میں کوئی نقص نہیں۔
     
  2. ‏اپریل 30، 2016 #2
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    6,317
    موصول شکریہ جات:
    2,379
    تمغے کے پوائنٹ:
    791

    اس موضوع پر مکرم اہل علم حضرات مزید معلومات و رہنمائی فرمائیں
     
  3. ‏مئی 01، 2016 #3
    خضر حیات

    خضر حیات علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    طابہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 14، 2011
    پیغامات:
    8,755
    موصول شکریہ جات:
    8,330
    تمغے کے پوائنٹ:
    964

    علامہ ابن حزم رحمہ اللہ لکھتے ہیں :
    وَأَمَّا النَّظَرُ إلَى الْجَارِيَةِ يُرِيدُ ابْتِيَاعَهَا فَلَا نَصَّ فِي ذَلِكَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَلَا حُجَّةَ فِيمَا جَاءَ عَنْ سِوَاهُ.
    وَقَدْ اخْتَلَفَ النَّاسُ فِي ذَلِكَ -: فَصَحَّ عَنْ ابْنِ عُمَرَ إبَاحَةُ النَّظَرِ إلَى سَاقِهَا وَبَطْنِهَا وَظَهْرِهَا، وَيَضَعُ يَدَهُ عَلَى عَجُزِهَا وَصَدْرِهَا - وَنَحْوِ ذَلِكَ عَنْ عَلِيٍّ، وَلَمْ يَصِحَّ عَنْهُ.

    المحلى بالآثار (9/ 162)
    لونڈی خریدتے وقت اس کو دیکھنے کے متعلق اللہ کےر سول سے کوئی نص مروی نہیں ، اور اس کے علاوہ جو منقول ہے وہ قابل حجت نہیں ۔
    اس مسئلے میں اختلاف ہے ، ابن عمر رضی اللہ عنہ سے اس کی پنڈلی ، پیٹ اور پشت کو دیکھنا ثابت ہے ، بلکہ وہ اس کی پشت اور سینے پر ہاتھ رکھا کرتے تھے ، اسی طرح کی بات حضرت علی رضی اللہ عنہ کی طرف بھی منسوب ہے ، لیکن ثابت نہیں ۔
     
    • شکریہ شکریہ x 1
    • علمی علمی x 1
    • لسٹ
  4. ‏مئی 01، 2016 #4
    خضر حیات

    خضر حیات علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    طابہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 14، 2011
    پیغامات:
    8,755
    موصول شکریہ جات:
    8,330
    تمغے کے پوائنٹ:
    964

    @محمد فراز صاحب ! یہاں اپنا نقطہ نظر بیان کریں ۔
     
  5. ‏مئی 01، 2016 #5
    محمد فراز

    محمد فراز رکن
    شمولیت:
    ‏جولائی 26، 2015
    پیغامات:
    524
    موصول شکریہ جات:
    126
    تمغے کے پوائنٹ:
    98

    بھائی جان آپ نے مصنف عبدالرزاق سے جو روایات پیش کی ہے مہربانی فرما کر عربی متن بھی دیے دے یہ والی
    (سعید ابن المسیب نے کہا کہ لونڈی کو خریدنے کاارادہ ہو تو شرم گاہ کے علاوہ اس کا سارا جسم دیکھا جا سکتا ہے۔
    شعبی نے بھی کہا کہ شرم گاہ کے علاوہ اس کا سارا جسم دیکھا جا سکتا ہے۔
    ابن مسعود کے شاگردوں میں سے بعض نے کہا کہ ایسی لونڈی کو چھونا اور کسی دیوار کا ہاتھ لگانا ایک برابر ہے۔
    مصنف عبد الرزاق کے مذکورہ باب کی روایات کےمطابق
    حضرت علی سے لونڈی کی پنڈلی، پیٹ اور پیٹھ وغیرہ دیکھنے کے متعلق پوچھا گیا تو انھوں نے کہا کہ کوئی مضائقہ نہیں۔ لونڈی کی کوئی حرمتنہیں۔ وہ (بازار میں) اسی لیے تو کھڑی ہے کہ ہم (دیکھ بھال کر) اس کا بھاو لگا سکیں۔
    عبد اللہ بن عمر کے تلامذہ بیان کرتے ہیں کہ انھیں جب کوئی لونڈی خریدنا ہوتی تو اس کی پیٹھ،پیٹ اور پنڈلیاں ننگی کر کے دیکھتے تھے۔ اس کی پیٹھ پر ہاتھ پھیر کر دیکھتے تھے اور سینے پر پستانوں کے درمیان ہاتھ رکھ کر دیکھتے تھے۔
    مجاہد کا بیان ہے کہ ایک موقع پر ابن عمر بازار میں آئے تو دیکھا کچھ تاجر لوگ ایک لونڈی کو خریدنےکے لیے الٹ پلٹ کر دیکھ رہے ہیں۔ انھوں نے آ کر اس کی پنڈلیاں ننگی کر کے دیکھیں، پستانوں کے درمیان ہاتھ رکھ کر اس کو جھنجھوڑا اور پھر خریدنے والوں سے کہا کہ خرید لو۔ یعنی اس میں کوئی نقص نہیں۔)
    اور اس پر دو سوال ہے کہ اگر دیکھا جاسکتا ہے تاکہ فائدہ اٹھایا جاسکے تو بھلا وہ کونسا فائدہ ہے اور کیا جس طرح ایک غیرمحرم عورت کا جسم دیکھنا منع ہے ویسے ہی ان کا کیوں نہیں؟ اس کی کیا وجہ ہے؟
     
  6. ‏مئی 01، 2016 #6
    خضر حیات

    خضر حیات علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    طابہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 14، 2011
    پیغامات:
    8,755
    موصول شکریہ جات:
    8,330
    تمغے کے پوائنٹ:
    964

    مصنف عبد الرزاق الصنعاني (7/ 286)
    13200 - عن عبد الله بن عمر، عن نافع، عن ابن عمر، ومعمر، عن أيوب، عن نافع، عن ابن عمر كان إذا أراد أن يشتري جارية، فراضاهم على ثمن، وضع يده على عجزها، وينظر إلى ساقيها وقبلها - يعني بطنها - ".
    13201 - عن معمر، عن الزهري، عن سالم، عن ابن عمر مثله
    مصنف عبد الرزاق الصنعاني (7/ 285)
    13198 - عن ابن جريج، عن عطاء قال: قلت له: الرجل يشتري الأمة، أينظر إلى ساقيها، وقد حاضت، أو إلى بطنها؟ قال: «نعم»، قال عطاء: كان ابن عمر «يضع يده بين ثدييها، وينظر إلى بطنها، وينظر إلى ساقيها، أو يأمر به»
    مصنف عبد الرزاق الصنعاني (7/ 285)
    13199 - عبد الرزاق قال: أخبرنا ابن جريج قال: أخبرني عمرو - أو أبو الزبير -، عن ابن عمر: " أنه وجد تجارا مجتمعين على أمة، فكشف عن بعض ساقها، ووضع يده على بطنها
    مصنف عبد الرزاق الصنعاني (7/ 286)
    13202 - عن معمر، عن عمرو بن دينار، عن مجاهد قال: مر ابن عمر: على قوم يبتاعون جارية، فلما رأوه وهم يقلبونها، أمسكوا عن ذلك، فجاءهم ابن عمر، فكشف عن ساقها، ثم دفع في صدرها، وقال: «اشتروا». قال معمر، وأخبرني ابن أبي نجيح، عن مجاهد قال: وضع ابن عمر يده بين ثدييها، ثم هزها
    مصنف عبد الرزاق الصنعاني (7/ 286)
    13203 - عن ابن عيينة، عن عمرو بن دينار، عن مجاهد قال: كنت مع ابن عمر في السوق، فأبصر بجارية تباع، فكشف عن ساقها، وصك في صدرها، وقال: «اشتروا». يريهم أنه لا بأس بذلك
    مصنف عبد الرزاق الصنعاني (7/ 286)
    13204 - عن ابن عيينة قال: وأخبرني ابن أبي نجيح، عن مجاهد قال: «وضع ابن عمر يده بين ثدييها، ثم هزها»
    مصنف عبد الرزاق الصنعاني (7/ 286)
    13205 - عن ابن جريج، عن نافع، أن ابن عمر: " كان يكشف عن ظهرها، وبطنها، وساقها، ويضع يده على عجزها
    مصنف ابن أبي شيبة (4/ 289)
    20241 - نا علي بن مسهر، عن عبيد الله، عن نافع، عن ابن عمر: «أنه كان إذا أراد أن يشتري الجارية وضع يده على أليتيها، وبين فخذها، وربما كشف عن ساقيها»
    السنن الكبرى للبيهقي (5/ 537)
    10789 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران العدل , ببغداد , أنا إسماعيل بن محمد الصفار , ثنا الحسن بن علي بن عفان , ثنا ابن نمير , عن عبيد الله بن عمر , عن نافع , عن ابن عمر , " أنه كان إذا اشترى جارية كشف عن ساقها ووضع يده بين ثدييها , وعلى عجزها " وكأنه كان يضعها عليها من وراء الثوب
    مصنف عبد الرزاق الصنعاني (7/ 287)
    13206 - عن ابن جريج، عن رجل، عن ابن المسيب، أنه قال: «يحل له أن ينظر إلى كل شيء فيها، ما عدا فرجها»
    مصنف عبد الرزاق الصنعاني (7/ 287)
    13207 - عن الثوري، عن جابر، عن الشعبي قال: «إذا كان الرجل يبتاع الأمة، فإنه ينظر إلى كلها إلا الفرج»
    مصنف عبد الرزاق الصنعاني (7/ 287)
    13208 - عن ابن جريج قال: أخبرني من أصدق عمن، سمع عليا، يسأل عن الأمة تباع أينظر إلى ساقها، وعجزها، وإلى بطنها؟. قال: «لا بأس بذلك، لا حرمة لها، إنما وقفت لنساومها»
    مصنف عبد الرزاق الصنعاني (7/ 287)
    13209 - عن الثوري، عن عبيد المكتب، عن إبراهيم، عن بعض أصحاب عبد الله، أنه قال في الأمة: «تباع ما أبالي إياها مسست، أو الحائط»
     
  7. ‏مئی 01، 2016 #7
    خضر حیات

    خضر حیات علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    طابہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 14، 2011
    پیغامات:
    8,755
    موصول شکریہ جات:
    8,330
    تمغے کے پوائنٹ:
    964

    لونڈی سے کسی بھی طرح کا فائدہ اٹھانا جائز تھا ، جس طرح بیوی سے تعلقات جائز تھے ، اسی طرح لونڈی سے بھی ۔
    لونڈی اور غلام کے عام مردوں اور عورتوں سے کافی سارے احکامات الگ ہیں ۔
    مثال کے طور پر عام عورت زنا کرے تو 100 کوڑے یا رجم ہے ، جبکہ لونڈی اس کا ارتکاب کرے تو آدھی سزا یعنی 50 کوڑے لگیں گے ۔
    اسی طرح ستر کے احکامات بھی الگ ہیں ۔ آزاد عورت کے لیے پردہ کرنا ضروری ہے ، جبکہ لونڈی پردہ نہیں کرے گی ۔ وغیرہ ۔ ( مزید تفصیل : اردو ، عربی )
     
    Last edited: ‏مئی 01، 2016
  8. ‏مئی 01، 2016 #8
    محمد فراز

    محمد فراز رکن
    شمولیت:
    ‏جولائی 26، 2015
    پیغامات:
    524
    موصول شکریہ جات:
    126
    تمغے کے پوائنٹ:
    98

    شکریہ بھائی میرے
    اس پر دو سوال ہے کہ اگر دیکھا جاسکتا ہے تاکہ فائدہ اٹھایا جاسکے تو بھلا وہ کونسا فائدہ ہے اور کیا جس طرح ایک غیرمحرم عورت کا جسم دیکھنا منع ہے ویسے ہی ان کا کیوں نہیں؟ اس کی کیا وجہ ہے؟
     
  9. ‏مئی 01، 2016 #9
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    6,317
    موصول شکریہ جات:
    2,379
    تمغے کے پوائنٹ:
    791

    محترم بھائی : آپ ابھی تک اصل بات سمجھے نہیں !
    اسلام میں لونڈی یا غلام رکھنے کی شرعی حیثیت
    شروع از عبد الوحید ساجد بتاریخ : 19 June 2014 11:40 AM
    السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
    اسلام میں لونڈی یا غلام رکھنے کی کیا حیثیت ہےَ؟اس کے متعلق پوری وضاحت کریں اور اس کی حدود و قیود سے آگاہ فرمائیں؟
    الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال


    وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
    الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

    دین اسلام نے کئی ایک طریقوں سے غلاموں اور لونڈیوں کو آزاد کرنےکی تر غیب دی ہے۔ جس کے نتیجہ میں آج کل لونڈی سسٹم تقریباًناپید ہے۔ اس بنا پر ایسے حالات ذہنی مفروضہ کے علاوہ کچھ نہیں ہیں اور نہ ہی ایسے سوالات کا ضروریات زندگی سے کوئی تعلق ہے، تاہم مسئلہ کی وضاحت ہم کئے دیتے ہیں۔ جس کی تفصیل حسب ذیل ہے:
    (۱)ان پر احسان کرتے ہوئے رواداری کے طورپر انہیں بلامعاوضہ رہاکردیا جائے۔
    (۲)ان سے فی نفر مقررہ شرح کےمطابق فدیہ لے کر انہیں چھوڑ ا جائے۔
    (۳)جو مسلمان قیدی دشمن کےہاں قید ہوں ان سے تبادلہ کرلیا جائے۔
    (۴)انہیں مال غیمت سمجھتے ہوئے مسلمان سپاہیوں میں تقسیم کردیا جائے۔
    اس مؤخر الذکر صورت میں گرفتار شدہ عورتوں سے صنفی تعلقات قائم کرنے کے متعلق ہمارے ذہنوں میں بے شمار خدشات اور شکوک و شبہات ہیں، اس لئے اسلام کےمندرجہ ذیل اصول و ضوابط کو پیش نظر رکھنا ہوگا۔
    (الف)حکومت کی طرف سے کسی سپاہی کو لونڈی کےمتعلق حقوق ملکیت مل جانا ایسا ہی ہے ، جیسا کہ کوئی باپ اپنی بیٹی کا عقد کسی دوسرے سے کردیتا ہے۔ جس طرح باپ نکاح کے بعداپنی بیٹی لینے کا مجاز نہیں ہوتا، اس طرح حکومت کو بھی ملکیت دینے کے بعد وہ لونڈی واپس لینے کا اختیار نہیں ہے۔اس بنا پر مسلمان سپاہی اس عورت کےساتھ صنفی تعلقات قائم کرنے کا مجازہے جو حکومت کی طرف سے اسےملی ہے۔
    (ب)جو عورت جس سپاہی کے حصہ میں آئے صرف وہی اس سے صنفی تعلقات قائم کرسکتا ہے، کسی دوسرے شخص کو اسے ہاتھ لگانے کی اجازت نہیں ہے۔ ہاں، اگر حقیقی مالک کسی کےساتھ نکاح کردے تو ایسی صورت میں دوسرے کو حق تمنع حاصل ہوجاتا ہے لیکن اس صورت میں مالک اس لونڈی سے دیگر خدمات تو لے سکتا ہے لیکن اسے تمتع کی اجازت نہیں ہوگی۔
    (ج)جس شخص کو کسی لونڈی کے متعلق حق ملکیت ملا ہے وہ اس وقت صنفی تعلقات قائم کرسکے گا۔ جب اسے یقین ہوجائے کہ وہ حاملہ نہیں ہے اس کا ضابطہ یہ ہے کہ ایک مرتبہ ایام ماہواری کا انتظار کیا جائے، حمل کی صورت میں وضع حمل تک انتظار کرنا ہوگا۔
    (نوٹ)گھریلو خادمائیں اور کاروباری نوکر چاکر ، غلام اور لونڈی کے حکم سے خارج ہیں۔(واللہ اعلم )
    ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب


    ج2ص455


    محدث فتویٰ
     
  10. ‏مئی 01، 2016 #10
    محمد فراز

    محمد فراز رکن
    شمولیت:
    ‏جولائی 26، 2015
    پیغامات:
    524
    موصول شکریہ جات:
    126
    تمغے کے پوائنٹ:
    98

    شکریہ بھائی جواب کے لیے
    جزاك اللهُ خيرًا
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں