1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

فقہ حنفی کے اصول و ضوابط

'اصول فقہ' میں موضوعات آغاز کردہ از محمد نعیم یونس, ‏جون 13، 2016۔

  1. ‏جون 13، 2016 #1
    محمد نعیم یونس

    محمد نعیم یونس خاص رکن
    شمولیت:
    ‏اپریل 27، 2013
    پیغامات:
    25,725
    موصول شکریہ جات:
    6,542
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,157

    السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
    اس اصول کی سمجھ نہیں آئی..اور یہ اصول کہاں سے اخذ کیا گیا ہے؟

    Screenshot_2016-06-11-03-54-12.png
     
  2. ‏جون 13، 2016 #2
    ابن داود

    ابن داود فعال رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏نومبر 08، 2011
    پیغامات:
    3,039
    موصول شکریہ جات:
    2,571
    تمغے کے پوائنٹ:
    556

    السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
    اس کتاب کا نام ''فقہ حنفی کےاصول و ضوابط'' ہے لیکن مذکورہ بات فقہ حنفی کا کوئی اصول نہیں بلکہ اس کتاب میں امام مالک سے منسوب ایک قول درج کیا گیا ہے!
     
  3. ‏جون 13، 2016 #3
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    5,361
    موصول شکریہ جات:
    2,184
    تمغے کے پوائنٹ:
    701

    وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
    یہ بات امام مالکؒ پر خالص بہتان ہے ، اس دور میں تصوف نام کی ’’ خود ساختہ شئے ‘‘ اسلام میں نہیں تھی ،
    السؤال
    هل ورد عن الإمام مالك رحمة الله تعالى عليه أنه قال: من تصوف ولم يتفقه فقد تفسق، ومن تفقه ولم يتصوف فقد تزندق، مع العلم بأني بحثت في الموطأ ولم أجدها، وهل للإمام مالك كتب غير الموطأ، أفيدونا أفادكم الله؟ وجزاكم الله خيراً.
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    الإجابــة
    الحمد لله والصلاة والسلام على رسول الله وعلى آله وصحبه، أما بعـد:

    فإن هذه المقولة كثر عند المتأخرين نسبتها للإمام مالك رحمه الله تعالى، فقد نسبها له العدوي في حاشيته على شرح الزرقاني لمختصر العزية في الفقه المالكي.

    ولم نر ما يفيد صحة نسبة هذه المقولة للإمام رحمه الله، ومما يدل على عدم صحة نسبتها إليه أن لفظ الصوفية لم يكن معروفاً في القرون الأولى، كما قال ابن تيمية في الفتاوى، وابن الجوزي في التلبيس.

    وأما كتب الإمام مالك فإنما المعروف مما ألفه بنفسه كتاب الموطأ، وقد جمع أسد بن الفرات وسحنون فتاواه التي أفتى بها وأخذوها من ابن القاسم وهي التي تسمى بالمدونة الكبرى أو مدونة الإمام مالك، ولم نر في الكتاب كلاما للإمام عن التصوف، واعلم بأنه قد نسب بعضهم هذه المقولة للشيخ إبراهيم الدسوقي، وهو من شيوخ التصوف.

    هذا؛ ونوصيك بالحرص على البحث عن الحق والتعبد لله بما ثبتت مشروعيته، وأكثر من مدارسة القرآن ومطالعة كتب الترغيب والترهيب وصحبة أهل العلم والاستقامة والحفاظ على حضور مجالس العلم والصلاة في الجماعة.

    والله أعلم.

    اس فتوی کا لنک
     
    Last edited: ‏جون 13، 2016
    • علمی علمی x 3
    • شکریہ شکریہ x 1
    • پسند پسند x 1
    • مفید مفید x 1
    • لسٹ
  4. ‏جون 13، 2016 #4
    محمد طارق عبداللہ

    محمد طارق عبداللہ سینئر رکن
    جگہ:
    ممبئی - مہاراشٹرا
    شمولیت:
    ‏ستمبر 21، 2015
    پیغامات:
    2,245
    موصول شکریہ جات:
    686
    تمغے کے پوائنٹ:
    213

    جزاك الله خيرا
     
  5. ‏اکتوبر 29، 2017 #5
    محمد المالكي

    محمد المالكي رکن
    شمولیت:
    ‏جولائی 01، 2017
    پیغامات:
    401
    موصول شکریہ جات:
    153
    تمغے کے پوائنٹ:
    47

    جزاك الله خير
     
    • شکریہ شکریہ x 1
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں