1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

فلیس منا۔ وہ ہم میں سے نہیں

'ایمانیات' میں موضوعات آغاز کردہ از محمد نعیم یونس, ‏جولائی 26، 2019۔

  1. ‏جولائی 26، 2019 #1
    محمد نعیم یونس

    محمد نعیم یونس خاص رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 27، 2013
    پیغامات:
    26,396
    موصول شکریہ جات:
    6,600
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,207

    ایسے بدنصیب جن کے بارے میں زبان نبوی صلی اللہ علیہ وسلم سے نکلا:
    فلیس منا
    "وہ ہم میں سے نہیں"

    تقریظ
    الحمد لله والصلاة والسلام علي رسول الله عبده وصفيه وخير خلقه، وعلي اله وصحبه ومن تبعھم باحسان الي يوم الدين امابعد
    کسی انسان کا اُمت محمدیہ کا فرد ہونا اُس کی بہت بڑی خوش بختی اور سعادت مندی ہے کیونکہ یہ وہ اُمت ہے جو پہلی تمام امتوں سے بہتر اور افضل ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے:
    "إِنَّكُمْ تَتِمُّونَ سَبْعِينَ أُمَّةً أَنْتُمْ خَيْرُهَا وَأَكْرَمُهَا عَلَى اللَّهِ"
    ”تم ستر امتوں کا تتمہ (و تکملہ) ہو، تم اللہ کے نزدیک ان سب سے بہتر اور سب سے زیادہ باعزت ہو“۔ (ترمذي: 3001)
    یہ ارشادِ گرامی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ سبحانہ وتعالی کے فرمان:
    «كنتم خير أمة أخرجت للناس» کی شرح اور تفسیر کرتے ہوئے فرمایا ہے۔ لیکن قابل غور بات یہ ہے کہ اس انسان کی بدبختی اور بدقسمتی کا انداہ کون لگا سکتا ہے جس کو اس کی بعض بری اور قبیح حرکتوں اور بعض جرموں کی وجہ سے صاحب ھذہ الامۃ سید ولد آدم علیہ السلام اپنی مبارک زبان سے اُمت سے خارج کر دیں یا اُمت سے تعلق و رشتہ ٹوٹ جانے کی خبر سنائیں۔
    نسال اللہ العفو و العافیہ

    محترم جناب عبدالمنان راسخ حفظہ اللہ کی کتاب فلیس منا میں ایسی ہی احادیث مبارکہ کو جمع کیا گیا ہے۔ جن میں ایسے گناہوں کا ذکر ہے جن کے ارتکاب کی بنا پر انسان اس سخت وعید کا حق دار بن جاتا ہے۔ ہم سب کو اپنی اصلاح کرنے کی کوشش کرنی چاہیے اور وہ تمام گناہ اور برے کام چھوڑ دینے چاہئیں، جن کے ارتکاب پہ زبان رسالت سے یہ وعید وارد ہے
    لیس منا او لیس کہ ان گناہوں کے مرتکب کا ہمارے ساتھ کوئی تعلق نہیں۔

    العبد الضعيف
    طارق محمود ثاقب بن محمد علی
     
  2. ‏جولائی 26، 2019 #2
    محمد نعیم یونس

    محمد نعیم یونس خاص رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 27، 2013
    پیغامات:
    26,396
    موصول شکریہ جات:
    6,600
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,207

    گزارشاتِ راسخ

    الحمد لله الذي بنعمته تتم الصالحات۔۔۔۔
    حمد و ثناء، کبریائی، بڑائی اور عظمت اُس قادرِ مطلق اللہ ذوالجلال والاکرام کے لیے جس کی خاص عنایت اور فضل و کرم سے مجھ جیسے ناچیز، حقیر اور کم علم کو احادیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی تشریح و توضیح لکھنے کی توفیق اور سعادت حاصل ہوئی۔
    درود و سلام سید الانبیاء والمرسلین جناب محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات گرامی کے لیے جو ہمارے رہبر و رہنما اور مرشد بن کر اس کائنات میں تشریف لائے اور جن کی سیرت ہمارے لیے بہترین نمونہ ہے۔
    رحمت و بخشش اور بلندی درجات کی دعا آل محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور اصحاب محمد کے لیے جن کی محبت و عقیدت کو میں جزو ایمان اور ذریعہ نجاب سمجھتا ہوں۔
    قارئین کرام! میں نے اس رسالے میں تقریبا وہ تمام احادیث صحیحہ جمع کر دی ہیں جن میں رسول اللہ نے شدید ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے یہاں تک کہہ دیا کہ فَلَيْسَ مِنَّا ایسے شخص کا ہمارے ساتھ کوئی تعلق نہیں۔
    فَلَيْسَ مِنَّا کی مکمل تشریح و توضیح آپ آگے پڑھیں گے۔ میں یہاں صرف یہی گزارش کرنا چاہتا ہوں کہ آپ ان امور و حرکات کو فورا چھوڑ دیں جن کو کرنے سے رسول اللہ کے ساتھ رشتہ اگر مکمل طور پر ٹوٹتا نہیں تو کمزور ضرور ہو جاتا ہے۔ اس قدر سخت وعید کا مستحق ٹھہرنے سے مکمل اجتناب کریں وگرنہ جہاں آپ کا ایمان بگڑے گا وہاں مسلم معاشرے کا امن و امان بھی ضرور تباہ ہو گا کیونکہ اس وعید میں وارد تقریبا تمام احادیث کا تعلق صرف ذاتیات سے نہیں بلکہ معاشرے کے ساتھ ہے ان تمام کاموں کے اچھے برے اثرات معاشرے پر مرتب ہوتے ہیں مثلا سنت سے بے رغبتی، سنگدلی و بے ادبی، جادو، دھوکہ فراڈ، اسلحہ نکالنا، بیوی کو شوہر کے خلاف بھڑکانا وغیرہ۔
    ویسے بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سچے غلاموں کو یہ حرکتیں زیب نہیں دیتیں۔ اللہ تعالی ہمیں اپنے عظیم منصب اور مقام کے مطابق اچھے اور نیک عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔
    الحمد للہ! میں نے اللہ تعالی کی خوشنودی کے لیے قلم اُٹھایا ہے اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم، تابعین رحمھم اللہ اور محدثین حضرات کی محنتوں، کوششوں، کاوشوں اور قربانیوں کی قدر کرتے ہوئے تمام روایات صحیح درج کی ہیں، الحمد للہ اس کتاب میں کوئی ایسی حدیث رسول نہیں جو کہ ضعیف یا غیر ثابت ہو۔ البتہ چند ضعیف روایات تنبیہ کے لیے آخر میں لکھ دی ہیں۔
    دعا ہے کہ اللہ تعالی ہم سب کی تمام حسنات قبول فرمائے اور سئیات سے درگزر فرمائے۔۔آمین ثم آمین
    والسلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
    عبدالمنان الراسخ (حفظہ اللہ)
    حالیاََ استاذ الحدیث جامعہ امام بخاری سرگودھا
     
  3. ‏جولائی 26، 2019 #3
    محمد نعیم یونس

    محمد نعیم یونس خاص رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 27، 2013
    پیغامات:
    26,396
    موصول شکریہ جات:
    6,600
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,207

    فَلَيْسَ مِنَّا کا صحیح مفہوم

    فَلَيْسَ مِنَّا کا معنی ہے وہ ہم میں سے نہیں، یہ جملہ کسی شخص سے نفرت، بیزاری اور براءت کا اظہار کرنے کے لیے بولا جاتا ہے اور اس جملہ کے مفہوم میں چند احتمالات پیدا ہوتے ہیں کہ "وہ ہم میں سے نہیں" سے کیا مراد ہے؟ کیا ہماری اُمت میں سے نہیں، سچے کامیاب مسلمانوں میں سے نہیں، ہمارے طریقے پر نہیں، ہمارے حکم اور فیصلے پر نہیں یا جو لوگ شفاعت کے حق دار ٹھہریں گے ان میں سے نہیں۔
    اس سلسلہ میں پہلے حضرات محدثین کرام اور شارحیں عظام کی توجیہات و تشریحات کا مطالعہ فرمائیں۔
    1- امام ابن حجر اور عبدالرحمن مبارکفوری رحمھما اللہ سمیت کئی اہل علم فرماتے ہیں کہ
    "ليس منا اي من اهل سنتنا و طريقتنا"
    "وہ ہم میں نہیں" سے مراد یہ ہے کہ وہ ہماری سنت اور طریقے پر نہیں
    "وليس المراد به اخراجه عن الدين"
    "اور اس سے مراد کسی آدمی کا دین سے نکلنا نہیں"
    "ولكن فائدة ايراده بھذا اللفظ المبالغة في الردع عن الوقوع في مثل ذلك"
    "اور ان الفاظ کے بولنے کا فائدہ ڈانٹ اور ممانعت میں زیادتی و مبالغہ ہے تا کہ اس طرح کے کاموں میں کوئی واقع نہ ہو۔

    2- اور بعض اہل علم کا خیال ہے کہ "فليس منا اي ليس علي ديننا الكامل" وہ ہم میں نہیں سے مراد یہ ہے کہ وہ ہمارے مکمل دین پر نہیں۔ یعنی اس کا دین غیر مکمل اور ناقص ہے۔

    3- کچھ اہل علم کہتے ہیں کہ "ليس منا اي ليس من ادبنا او ليس مثلنا" وہ ہم میں سے نہیں سے مراد یہ ہے کہ وہ ہمارے ادب پر نہیں یا وہ ہماری طرح نہیں۔
    محدثِ کبیر امام سفیان بن عینیہ رحمہ اللہ تعالی كان يكره الخوض في تاويله ويقول: "ينبغي ان يمسك عن ذلك ليكون اوقع في النفوس وابلغ في الزجر" اس طرح کی تفسیر (جو اوپر لکھی گئی ہیں) کو ناپسند کرتے تھے اور فرماتے تھے اس کی تاویل سے رک جانا بہتر ہے تاکہ وہ دلوں میں زیادہ اُتر کر اور زجر و توبیخ، ڈانٹ ڈپٹ میں زیادہ مبالغہ آمیز ثابت ہو۔"

    قارئین کرام! یہ موقف اگرچہ درست ہے کہ اس جملہ کے بولنے سے آدمی دین سے خارج نہیں ہوتا بلکہ دائرہ اسلام میں ہی رہتا ہے مگر یہ بات ضرور ہے کہ وہ مکمل مسلمان نہیں، اس کا اسلام ناقص اور غیر مکمل ہے اور وہ سخت گنہگار، نافرمان اور باغی ہے۔ آپ اس جملے کی حقیقت اس مثال سے اچھی طرح سمجھ سکتے ہیں کہ کوئی باپ کہے اگر میرے بیٹے نے فلاں کام کیا تو اس کا میرے ساتھ کوئی تعلق نہیں۔
    یعنی اپنے کئے کا وہ خود ذمہ دار ہے اور میری شفقت، توجہ اور تعاون سے مکمل محروم ہے۔ یہ جملہ اگر باپ بیٹے کے متعلق کہے تو یہ اس کے لیے مر جانے کا مقام ہے اور ہمیں یہ سمجھنے میں کوئی مشکل نہیں ہو گی کہ باپ اُس سے حد درجہ بیزار اور تنگ ہے اور اس کا بیٹا نافرمان، سرکش اور باغی ہے۔
    یاد رکھیں! یہی جملہ اگر رحمت اللعالمین کہیں اور اس کا مصداق کوئی شخص ٹھہر جائے تو ایسے شخص کا ایمان بھی خطرے میں ہے اور روزِ حشر اس کی شفاعت بھی مشکل ہو گی۔ لہذا جن کاموں سے نفرت کرتے ہوئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے کرنے والوں سے بیزاری و براءت کا اظہار کیا ہے ان کو فورا چھوڑ دیں اور اپنے پیارے حبیب جناب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مکمل مطیع اور فرماں بردار بن جائیں۔ آمین ثم آمین
    عبدالمنان الراسخ
     
  4. ‏جولائی 26، 2019 #4
    محمد نعیم یونس

    محمد نعیم یونس خاص رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 27، 2013
    پیغامات:
    26,396
    موصول شکریہ جات:
    6,600
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,207

    قرآن مجید کو غنا سے نہ پڑھنے والا ہم میں سے نہیں


    قرآن حکیم اللہ سبحانہ وتعالی کی آخری کتاب ہے خوش قسمتی سے اس کا نزول ہماری رشد و ہدایت کے لیے آخر الزمان پیغمبر جناب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ہوا۔
    قرآن پاک کا ایک ایک لفظ اپنے اندر ایک جہاں رکھتا ہے آیا ت قرآنیہ کی فصاحت و بلاغت اس قدر عالی ہے کہ عرب کے بڑے بڑے شعراء، ادباء اور فصیح اللسان عربی النسل بھی اس کی برابری کرنے میں ناکام رہے اور یہ فیصلہ کرنے پر مجبور ہو گئے کہ "ما ھذا كلام البشر" یہ کسی انسان کا کلام نہیں۔
    اس کلامِ الٰہی میں تاثیر، قوت، لذت اور روحانیت اس قدر زیادہ ہے کہ جاہل سے جاہل شخص بھی اگر غور سے اس کی تلاوت کرے یا تلاوت سنے تو اطمینان و سکون، خوشی و مسرت اور تازگی و فرحت سے شاداں ہو جاتا ہے۔
    جو شخص قرآن مجید سے اپنا تعلق مضبوط رکھتا ہے اللہ اس کو بلندی عطا فرماتے ہیں اور جو اس کی قدر کرتا ہے رب اس کو عزت وعظمت کے اعلی مقام پر فائز کرتے ہیں۔
    لہذا تعلق اور قدر یہ دونوں خوبیاں پیدا کرتے ہوئے بڑے ذوق و شوق اور آداب سے اس کی تلاوت کرنی چاہیے۔ قراءت و تجوید اور ادائیگی تلفظ کو ملحوظِ خاطر رکھنا از حد ضروری ہے۔

    قراء کرام کی خدمت میں:
    الحمد للہ اکثر قراء کرام عمدہ انداز اور صحیح تلفظ کیساتھ بڑے ہی پیارے لہجے میں قرآن کی تلاوت کرتے ہیں، اُن کی پیاری آواز اور اچھے انداز کے پیشِ نظر آدمی تلاوتِ قرآن میں مست ہو کر ایقان و یقین اور ایمان کی بلندیوں کو چھو لیتا ہے۔ اللہ ہمارے ایسے قراء کی حفاظت فرمائے اور وہ زیادہ سے زیادہ تلاوتِ قرآن سنا کر ہمارے دلوں کی بنجر زمین اور ویران بستی کو آباد کرتے رہیں۔
    مگر! کچھ قاری حضرات اس قدر تکلف و تصنع کرتے ہیں کہ کانوں میں انگلیاں دے کر، آنکھیں بند کرتے ہوئے حد درجہ زور لگاتے ہوئے ایک سانس میں آیات کو کھینچنے اور زیادہ پڑھنے کی بڑی کوشش کرتے ہیں حالانکہ یہ طریقہ خود ساختہ، مبنی بر غلو بلکہ آدابِ تلاوت ہی کے سراسر خلاف ہے، اسی طرح کچھ نقال خطباء بھی ترنم کے نشے میں قرآن حددرجہ غلط پڑھتے ہیں۔ قراءت و تجوید اور ادائیگی تلفظ کا ہرگز خیال نہیں رکھتے بلکہ صرف سُر اور راگ کو سیٹ کرنے کے چکروں میں لگے رہتے ہیں۔
    یاد رکھیں! آج کل یہ سب کچھ عوام کو خوش کرنے اور ان سے داد وصول کرنے کے لیے ہو رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایسے خطباء و قراء خود قرآن کی روحانیت حتی کہ ترجمہ تک سے غافل ہوتے ہیں جبکہ ایسے لوگوں کے لیے قرآن میں سخت وعید ہے۔

    سنت کے مطابق اندازِ قراءت:
    احادیث صحیحہ میں وارد ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیشہ ہر آیت پر رُک کر ، ٹھہرتے ہوئے آہستگی کے ساتھ تلاوت کرتے، اگر کوئی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے منہ سے نکلنے والے الفاظ کو شمار کرنا چاہتا تو آسانی سے کر سکتا تھا۔ مگر ہمارے ہاں شروع ہی سے حافظ صاحب کو تیزی، سپیڈ اور جلدی کی ایسی عادت ڈال دی جاتی ہے کہ وہ ساری زندگی قینچی کی طرح آیات قرآنیہ کو کترتا رہتا ہے۔ اسی طرح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی قراءت و تلاوت کی دوسری نمایاں خوبی یہ تھی کہ آپ کے لہجہ میں رقت ہوتی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم رو رو کر، رُک رُک کر تلاوت فرماتے، حتی کہ داڑھی مبارک آنسووں سے تر ہو جاتی۔
    یہی اندازِ صدیقی تھا اور یہی طرزِ فاروقی تھی اور اسی لیے آپ نے ارشاد بھی فرمایا:
    "کہ تم میں سب سے بہتر قاری وہ ہے جو قرآن پڑھتے وقت اللہ تعالی سے ڈر رہا ہو"
    "ان احسن الناس قراءة الذي اذقراء رايت انه يخشي الله" (سلسلۃ :1583)
    یعنی جسے تم دیکھو کہ وہ خشیت الہی کے سائے تلے تلاوت قرآن کر رہا ہے جان لو وہ سب سے افضل اور بہتر قاری ہے۔
    مگر افسوس کہ اُمت کا یہ اندازِ تلاوت نہ رہا۔
    رہ گئی ہے رسمِ اذاں روح بلالی نہ رہی
    فلسفہ رہ گیا تلقینِ غزالی نہ رہی
    مسجدیں مرثیہ خواں ہیں کہ نمازی نہ رہے
    یعنی وہ صاحب اوصافِ حجازی نہ رہے

    قرآن کو غنا سے نہ پڑھنے والا ہم میں سے نہیں:
    سید المحدثین حضرت امام ابوہرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
    " لَيْسَ مِنَّا مَنْ لَمْ يَتَغَنَّ بِالْقُرْآنِ" (صحیح بخاری:7527)
    "قرآن کو غنا سے نہ پڑھنے والا ہم میں سے نہیں"

    غنا کا مفہوم:
    قرآن مجید کو غنا کے ساتھ پڑھنے کا مطلب یہ ہے کہ آدمی آواز سنوار کر پڑھے اپنی فطری آواز کو اچھا، سوہنا اور خوبصور بنا کر تلاوت کرے، تلاوت قرآن کے وقت ایسی بے توجہگی نہ ہو کہ بے رخی اور سستی کے انداز میں قراءت کرے اور دل روحانیت کی بجائے بوریت محسوس کرے۔ سامعین سن کر فورا اُکتا جائیں بلکہ ذوق و شوق کے ساتھ، ٹھہر ٹھہر کر، تلفظ کی درستی اور آواز کی خوبصورتی اور صفائی کے ساتھ تلاوت کرے تا کہ صحیح معنوں میں، تلاوت قرآن کے فیوض و برکات اور تجلیات کو اپنے دامن میں سمیٹا جا سکے۔
    دیگر روایات میں بھی اچھے انداز اور اچھی آواز میں پڑھنے کا حکم دیا گیا ہے، سیدنا حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
    "زينوا القرآن بأصواتكم، فإن الصوت الحسن يزيد القرآن حُسناً" (سنن دارمی، سلسلہ:771)
    "اپنی آواز سے قرآن کو مزین کرو، بے شک اچھی آواز قرآن مجید کے حسن میں اضافہ کرتی ہے۔"
    علقمہ بن قیس رضی اللہ عنہ کو اللہ تعالی نے بہت خوبصورت آواز دی تھی اور بالخصوص قرآن مجید انتہائی پروقار لہجے اور بہترین انداز میں پڑھتے تھے، عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ خصوصی طور پر بلوا کر ان سے تلاوت قرآن سنتے ، جب علقمہ تلاوت ختم کرتے تو آپ فرماتے: اقرا فداک ابی وامی، میرے ماں باپ تجھ پر قربان ہوں اور قراءت کرو۔ پھر عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے آپ فرماتے تھے:
    " حُسْنُ الصَّوْتِ زِينَةٌ الْقُرْآنِ " (سلسلہ:771)
    "اچھی آواز قرآن مجید کی زینت ہے۔"

    قراء و خطباء خصوصی توجہ فرمائیں:
    مسلمان دنیا میں آخرت کی تیاری کے لیے آتا ہے اللہ تعالی کی رضا اور اسی کی خوشنودی مومن کا مقصد ہے۔ اس پر فتن دور میں اپنی آخرت کی فکر کرتے ہوئے نیک اعمال میں آگے بڑھنا سب سے افضل کام ہے، مندرجہ ذیل حدیث مبارکہ کا مطالعہ فرمائیں اور فیصلہ کریں کہ کیا ایسا وقت ہمارے سر پر تو نہیں؟ اگر واقعتاََ ہمارے حالات ایسے ہو چکے ہیں تو پھر ہمیں اللہ کی طرف رجوع کرتے ہوئے اس کے آخری حبیب محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمانبردار بننا چاہیئے۔
    آقا علیہ السلام کا فرمان ہے:
    " بَادِرُوا بِالأَعْمَالِ خِصَالا سِتًّا : إِمْرَةُ السُّفَهَاءِ ، وَكَثْرَةُ الشُّرَطِ ،وَقَطِيعَةُ الرَّحِمِ ،وَبَيْعُ الْحُكْمِ ، وَاسْتِخْفَافٌ بِالدَّمِ ، وَنَشْؤٌ يَتَّخِذُونَ الْقُرْآنَ مَزَامِيَر ، يُقَدِّمُونَ الرَّجُلَ لَيْسَ بِأَفْضَلِهِمْ ، وَلا بِأَعْلَمِهِمْ ، وَلا بِأَفْقَهِهِمْ ، مَا يُقَدِّمُونَهُ إِلا لِيُغَنِّيَهُمْ " . (مسند احمد، سلسلہ:979)
    چھ چیزیں واقع ہونے سے پہلے پہلے نیک اعمال کرنے میں جلدی کرو، بے وقوفوں کی حکومت، پولیس کی زیادتی، قطع رحمی، رشوت سے فیصلے، قتل کو معمولی سمجھنا اور ایسی نئی نسل پیدا ہو گی جو قرآن مجید کو موسیقی بنا لیں گے وہ ایک ایسے آدمی کو امامت کے لیے آگے کریں گے جو ان میں سے زیادہ فقیہ ہو گا اور نہ وہ علم والا اُس کو صرف اس لیے آگے کریں گے کہ وہ انہیں موسیقی کے انداز میں قرآن سنائے۔

    قرآن مجید کو اوپر سے دیکھ کر پڑھنا:
    قرآن مجید کو کھول کر اوپر سے دیکھ کر پڑھنا کوئی کمی یا عیب نہیں بلکہ افضل و بہتر عمل ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد عالی شان ہے کہ:
    "مَنْ سَرَّهُ أنْ يُحِبَّ اللهَ و رسولَهُ فليَقرأْ في " المُصْحَفِ" (سلسلہ:2342)
    جس کو یہ پسند ہو کہ وہ اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرے تو وہ مصحف سے پڑھے۔
    اس حدیث سے معلوم ہوا کہ قرآن اوپر سے دیکھ کر پڑھنا بہت شرف اور مقام کی بات ہے۔
    آخر میں دعا ہے کہ اللہ ہم سب کو سنت رسول کے مطابق قرآن پاک پڑھنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین
     
  5. ‏جولائی 26، 2019 #5
    محمد نعیم یونس

    محمد نعیم یونس خاص رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 27، 2013
    پیغامات:
    26,396
    موصول شکریہ جات:
    6,600
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,207

    جس نے میری سنت سے منہ پھیرا اس کا مجھ سے کوئی تعلق نہیں


    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سچے اُمتی ہونے کی حیثیت سے ہمیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہر ادا، عادت اور سنت سے محبت رکھنی چاہیے۔ اللہ سبحان وتعالی نے اس کی مزید ترغیب و تلقین کرتے ہوئے ارشاد فرمایا:
    لقد كان لكم في رسول الله اسوة حسنة۔۔ سوہ احزاب:21
    "تمہارے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی بہترین نمونہ ہے۔"
    مگر آج کل ہمارے مسلم معاشرہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنتوں سے بہت زیادہ اعراض کیا جاتا ہے اپنے ہر معاملے میں اپنی یا اپنے دوست کی مرضی، خوشی اور پسند کو ترجیح دی جاتی ہے یہی وجہ ہے کہ آج ہماری وضع قطع، لباس اور عادات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کے مطابق نہیں، بلکہ ہم اپنے ماحول، معاشرے اور دوستوں کو خو کرنے کے لیے یہود و ہنود اور انگریز کے پیروکار بن چکے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عادات اور آپ کی سنتوں سے محبت تو درکنار ان کا مذاق اور ان سے نفرت کی جاتی ہے اور جب کوئی اُمت اپنے رسول کے طور طریقے، طرزِ زندگی اور فرامین سے منہ موڑ لے، ان کی اہمیت و حیثیت کو گراتے ہوئے بے قدری پر اُتر آئے تو اللہ جل شانہ ایسے لوگوں پر طرح طرح کے کئی عذاب مسلط فرما دیتے ہیں اور آج ہماری یہی حالت ہے۔

    سنتوں سے مذاق اور ان سے نفرت:
    بد نصیب اور نامراد ہے وہ شخص جو لوگوں اور دوستوں کو خوش کرنے کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنتوں کی مخالفت کرتا ہے اور آوارگی و سرکشی نے اس قدر اُس کو بے لگام کر دیا ہے کہ وہ سر عام ان کا مذاق اُڑاتا ہوا اُن سے نفرت کرتا ہے۔ مثلا
    داڑھی اسلام میں جہاں فرض ہے وہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے کی پہچان اور آپ کی پیاری سنت ہے۔ آپ نے اس کو رکھنے اور بڑھانے کا کئی دفعہ حکم ارشاد فرمایا۔ لیکن اس سب کچھ کے باوجود بڑے بڑے سمجھدار، باشعور اور مذہبی نمازی لوگ بھی سر عام مخالفت کرتے ہوئے اس کو منڈواتے ہیں اور خلافِ رسول، مجوسیوں جیسی شکل بنا کر اپنی عورتوں اور دوستوں کو خوش کرتے ہیں۔ انا للہ وانا الیہ راجعون
    اسی طرح اسلامی و شرعی پردہ دیکھ لیں، بڑے بڑے مذہبی اور دینی لوگوں کے گھروں میں سنت کے مطابق پردہ نہیں ہوتا بلکہ رشتہ داروں کو خوش کیا جاتا ہے۔
    جدید نسل اور پیشہ ور مولوی، ٹخنوں کے اوپر شلوار رکھنا، مسواک کرنا، برتن کو اچھی طرح صاف کرنا، کھانے کے بعد انگلیاں صاف کرنا اپنے لیے معیوب سمجھتے ہیں جبکہ یہ ساری رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبوب سنتیں ہیں۔
    اللہ سبحانہ وتعالی نے ایسے لوگوں کو ہی متنبہ کرتے ہوئے ارشاد فرمایا:
    فَلْيَحْذَرِ الَّذِينَ يُخَالِفُونَ عَنْ أَمْرِهِ أَن تُصِيبَهُمْ فِتْنَةٌ أَوْ يُصِيبَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ ﴿٦٣﴾ سورۃ النور
    "جو لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کی مخالفت کرتے ہیں انہیں ڈرتے رہنا چاہیے کہ کہیں ان پر کوئی زبردست آفت آجائے یا انہیں کوئی دردناک عذاب پہنچ جائے۔"

    زندگی میں بہار اور سکون لانے کا طریقہ:
    اگر آپ اپنے گھر میں رحمت، کاروبار میں برکتے، چہرے پر رونق، گناہوں کی بخشش، فتنوں سے نجات غرض اپنی زندگی میں نو، بہار اور سکون دیکھنا چاہتے ہیں تو اس کا واحد طریقہ اور حل یہی ہے کہ اپنا ہر کام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کے مطابق کریں اپنا ہر قدم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کے مطابق اُٹھائیں۔ یقینا جب آپ سنتِ رسول کے قدردان بن جائیں گے، سنت کی عظمت و قدر آپ کے دل و دماغ میں موجزن ہو گی تو اللہ سبحانہ وتعالی آپ کو ہر موڑ پر کامیاب اور ہر موقعہ پر سرخرو فرماتے ہوئے روز قیامت سرکارِ مدینہ کا ساتھ نصیب فرمائیں گے۔
     
  6. ‏جولائی 29، 2019 #6
    محمد نعیم یونس

    محمد نعیم یونس خاص رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 27، 2013
    پیغامات:
    26,396
    موصول شکریہ جات:
    6,600
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,207

    جاری۔۔
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں