1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

فہم صحابہ حجت ہے ؟

'اصول فقہ' میں موضوعات آغاز کردہ از علی بہرام, ‏فروری 23، 2014۔

  1. ‏فروری 23، 2014 #1
    علی بہرام

    علی بہرام مشہور رکن
    شمولیت:
    ‏ستمبر 18، 2013
    پیغامات:
    1,216
    موصول شکریہ جات:
    161
    تمغے کے پوائنٹ:
    105

    حالیہ موضوع پر بحث یہاں جاری تھی ۔غیر متعلقہ ہونےکی وجہ سے یہاں نقل کردیاگیاہے۔انتظامیہ
    لیکن محمد جا لندھری تو کہتے ہیں کہ
    "صحابہ کی فہم معتبر نہیں"
     
  2. ‏فروری 23، 2014 #2
    خضر حیات

    خضر حیات علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    طابہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 14، 2011
    پیغامات:
    8,013
    موصول شکریہ جات:
    8,159
    تمغے کے پوائنٹ:
    964

    بے پر کی اڑا تو دی ہے اب حوالہ بھی نقل کردیں ۔ تاکہ سیاق و سباق دیکھ کر کوئی بات کی جاسکے ۔
     
  3. ‏فروری 23، 2014 #3
    علی بہرام

    علی بہرام مشہور رکن
    شمولیت:
    ‏ستمبر 18، 2013
    پیغامات:
    1,216
    موصول شکریہ جات:
    161
    تمغے کے پوائنٹ:
    105

    (تصحیح فرمالیں یہ محمد جا لندھری نے نہیں کہا بلکہ یہ قول محمد جونا گڑھی کا ہے )

    حوالہ کیا میں تو پوری کتاب ہی آپ کی خدمت میں پیش کئے دیتا ہوں
    لیکن اس سے پہلے مذکورہ قول جس صفحہ پر ہے اس کا عکس پیش کئے دیتا ہوں
    [​IMG]
    [​IMG]
    کتاب کا لنک درج ذیل ہے
    شمع محمدی صلی اللہ علیہ وسلم
    مصنف مولانا محمدجونا گڑھی
    ناشر ادارہ اشاعت قرآن وحدیث،پاکستان
     
  4. ‏فروری 24، 2014 #4
    خضر حیات

    خضر حیات علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    طابہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 14، 2011
    پیغامات:
    8,013
    موصول شکریہ جات:
    8,159
    تمغے کے پوائنٹ:
    964

    تو اس میں غلط کیا ہے ؟ صحابہ کامتفقہ فہم قابل حجت ہے ۔ باقی جہاں صحابہ کرام کا اختلاف ہوجائے پھر جس قول کی قرآن وسنت سے تائید ہو اس کو اخذ کیاجائے گا ۔ حافظ ابن حزم علیہ الرحمہ نے اس حوالے بڑی شاندار بحث کی ہے فرماتے ہیں :

    أما قوله صلى الله عليه وسلم عليكم بسنتي وسنة الخلفاء الراشدين فقد علمنا أنه صلى الله عليه وسلم لا يأمر بما لا يقدر عليه ووجدنا الخلفاء الراشدين بعده صلى الله عليه وسلم قد اختلفوا اختلافا شديدا فلا بد من أحد ثلاثة أوجه لا رابع لها :
    ( الوجہ الأول )
    إما أن نأخذ بكل ما اختلفوا فيه وهذا ما لا سبيل إليه ولا يقدر عليه إذ فيه الشيء وضده ولا سبيل إلى أن يورث أحد الجد دون الإخوة بقول أبي بكر وعائشة ويورثه الثلث فقط وباقي ذلك للإخوة على قول عمر ويورثه السدس وباقيه للإخوة على مذهب علي وهكذا في كل ما اختلفوا فيه فبطل هذا الوجه لأنه ليس في استطاعة الناس أن يفعلوه فهذا وجه
    ( الوجہ الثانی )
    أو يكون مباحا لنا بأن نأخذ بأي ذلك شيئا وهذا خروج عن الإسلام لأنه يوجب أن يكون دين الله تعالى موكولا إلى اختيارنا فيحرم كل واحد منا ما يشاء ويحل ما يشاء ويحرم أحدنا ما يحله الآخر وقول الله تعالى {حرمت عليكم لميتة ولدم ولحم لخنزير ومآ أهل لغير لله به ولمنخنقة ولموقوذة ولمتردية ولنطيحة ومآ أكل لسبع إلا ما ذكيتم وما ذبح على لنصب وأن تستقسموا بلأزلام ذلكم فسق ليوم يئس لذين كفروا من دينكم فلا تخشوهم وخشون ليوم أكملت لكم دينكم وأتممت عليكم نعمتي ورضيت لكم لأسلام دينا فمن ضطر في مخمصة غير متجانف لإثم فإن لله غفور رحيم} وقوله تعالى {لطلاق مرتان فإمساك بمعروف أو تسريح بإحسان ولا يحل لكم أن تأخذوا ممآ آتيتموهن شيئا إلا أن يخافآ ألا يقيما حدود لله فإن خفتم ألا يقيما حدود لله فلا جناح عليهما فيما فتدت به تلك حدود لله فلا تعتدوها ومن يتعد حدود لله فأولئك هم لظالمون} وقوله تعالى {وأطيعوا لله ورسوله ولا تنازعوا فتفشلوا وتذهب ريحكم وصبروا إن لله مع لصابرين} يبطل هذا الوجه الفاسد ويوجب أن ما كان حراما حينئذ فهو حرام إلى يوم القيامة وما كان واجبا يومئذ فهو واجب إلى يوم القيامة وما كان حلالا يومئذ فهو حلال إلى يوم القيامة
    وأيضا فلو كان هذا لكنا إذا أخذنا بقول الواحد منهم فقد تركنا قول الآخر منهم ولا بد من ذلك فلسنا حينئذ متبعين لسنتهم فقد حصلنا في خلاف الحديث المذكور وحصلوا فيه شاؤوا أو أبوا ۔۔۔
    فإذ قد بطل هذان الوجهان فلم يبق إلا
    الوجه الثالث
    وهو أخذ ما أجمعوا عليه وليس ذلك إلا فيما أجمع عليه سائر الصحابة رضوان الله عليهم معهم وفي تتبعهم سنن النبي صلى الله عليه وسلم والقول بها وأيضا فإن الرسول صلى الله عليه وسلم إذا أمر باتباع سنن الخلفاء الراشدين لا يخلو ضرورة من أحد وجهين إما أن يكون صلى الله عليه وسلم أباح أن يسنوا سننا غير سننه فهذا ما لا يقوله مسلم ومن أجاز هذا فقد كفر وارتد وحل دمه وماله لأن الدين كله إما واجب أو غير واجب وإما حرام وإما حلال لا قسم في الديانة غير هذه الأقسام أصلا فمن أباح أن يكون للخلفاء الراشدين سنة لم يسنها رسول الله صلى الله عليه وسلم فقد أباح أن يحرموا شيئا كان حلالا على عهده صلى الله عليه وسلم إلى أن مات أو أن يحلوا شيئا حرمه رسول الله صلى الله عليه وسلم أو أن يوجبوا فريضة لم يوجبها رسول الله صلى الله عليه وسلم أو أن يسقطوا فريضة فرضها رسول الله صلى الله عليه وسلم ولم يسقطها إلى أن مات وكل هذه الوجوه من جوز منها شيئا فهو كافر مشرك بإجماع الأمة كلها بلا خلاف وبالله تعالى التوفيق فهذا الوجه قد بطل ولله الحمد وأما أن يكون أمر باتباعهم في اقتدائهم بسنته صلى الله عليه وسلم فهكذا نقول ليس يحتمل هذا الحديث وجها غير هذا أصلا وقال بعضهم إنما نتبعهم فيما لا سنة فيه قال أبو محمد وإذ لم يبق إلا هذا فقد سقط شغبهم وليس في العالم شيء إلا وفيه سنة منصوصة وقد بينا هذا في باب إبطال القياس من كتابنا هذا وبالله تعالى التوفيق

    ( الإحکام فی أصول الأحکام لابن حزم ج 6 ص 76 وما بعدہا)
    اس عبارت کا خلاصہ یوں ہے :
    صحابہ کے ما بین اختلاف ہو تو اب یہاں تین میں سے کوئی ایک صورت ہوسکتی ہے
    اول : سب کی پیروی کی جائے ۔ اور یہ عقلا محال ہے ۔
    ثانی : جس کی دل چاہے مان لی جائے باقی کو چھوڑ دیا جائے ۔ یہ شرعا محال ہے کیونکہ دین کسی کے مرضی پر مبنی نہیں ہے ۔ ویسے بھی کسی ایک کی بات کو مان لینا اور باقی سب کو چھوڑ دینا یہ ان کی سنت کی پیروی نہیں کہلائے گا ۔
    ثالث : اب صرف تیسری صورت بچتی ہے کہ جن مسائل پر ان کا اتفاق ہے اس کی اتباع کی جائے ۔
    اور اسی طرح نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جب ان کی سنت کی پیروی کا حکم دیا ہے تو اس کی دو ہی صورتیں ہو سکتی ہیں :
    اول : یا تو وہ سنت رسول کے خلاف کریں گے ۔ اس بات کا ان کے بارے میں مسلمان تصور بھی نہیں کر سکتا ۔
    ثانی : یا سنت رسول کے مطابق افعا ل سر انجامدیں گے ۔ اور یہی صورت مطلوب و مقصود ہے اور اصلا یہ اتباع سنت رسول ہی ہے ۔
     
    • زبردست زبردست x 3
    • علمی علمی x 2
    • پسند پسند x 1
    • متفق متفق x 1
    • لسٹ
  5. ‏فروری 24، 2014 #5
    علی بہرام

    علی بہرام مشہور رکن
    شمولیت:
    ‏ستمبر 18، 2013
    پیغامات:
    1,216
    موصول شکریہ جات:
    161
    تمغے کے پوائنٹ:
    105

    لیکن کچھ دیر پہلے تو یہ ارشادفرما چکے ہیں
     
  6. ‏فروری 24، 2014 #6
    علی بہرام

    علی بہرام مشہور رکن
    شمولیت:
    ‏ستمبر 18، 2013
    پیغامات:
    1,216
    موصول شکریہ جات:
    161
    تمغے کے پوائنٹ:
    105

    قول امام ؟؟؟؟؟؟؟؟؟
     
  7. ‏فروری 24، 2014 #7
    محمد علی جواد

    محمد علی جواد سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏جولائی 18، 2012
    پیغامات:
    1,913
    موصول شکریہ جات:
    1,483
    تمغے کے پوائنٹ:
    304

    غزوۂ بدر کے موقع پر جب قریشِ مکہ کے ستر بڑے سردار قیدی بن کر دربارِ نبوی میں پیش کئے گئے حسبِ عادت مجلسِ شوریٰ طلب کی اور پھر معاملہ زیرِ بحث آیا۔چناچہ صحیح مسلم میں ہے کہ رسول اللہ صل الله علیہ و آ لہ وسلم نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے اس بارے میں ان کی رائے دریافت کی۔

    چناچہ اس معاملے میں حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ یہ رائے دی کہ چونکہ یہ ہمار ے قرابت دار ہیں چناچہ ان کو ''فدیہ ''لے کر چھوڑدیا جائے اور اس رقم کو جہاد اور دوسرے دینی امور میں استعمال کیاجائے کیونکہ یہ ممکن ہے کہ اللہ ان کی اولاد کو اسلام کی نعمت سے نوازے۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے بالکل اس کے برعکس رائے دی ۔انہوں نے کہا کہ ان سب کو قتل کردیا جائے بلکہ ہم میں سے ہر ایک ان میں سے اپنے قریبی رشتہ دار کو اپنے ہاتھوں سے قتل کرے۔

    رسول اللہ صل الله علیہ و آ لہ وسلم نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی رائے کو پسند کیا۔ لیکن اللہ رب العزت کو کچھ اور ہی مقصود تھا ۔دوسرے دن رسول اللہ صل الله علیہ و آ لہ وسلم اور حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے روتے ہوئے پایا تو اس کی وجہ پوچھی؟ تو آپ صل الله علیہ و آ لہ وسلم نے فرمایا :

    ''مجھ پر مسلمانوں کے لئے عذاب اس درخت سے بھی قریب دکھا یا گیا ہے۔پھر اللہ تعالیٰ نے یہ آیا ت نازل فرمائیں۔



    {مَا کَانَ لِنَبِیٍّ اَنْ یَکُوْنَ لَہٗٓ اَسْرٰی حَتّٰی یُثْخِنَ فِی الْاَرْضِ تُرِیْدُوْنَ عَرَضَ الدُّنْیَا وَاللّٰہُ یُرِیْدُ الْاٰخِرَۃَ وَاللّٰہُ عَزِیْزٌ حَکِیْمٌ o لَوْلاَ کِتٰبٌ مِّنَ اللّٰہِ سَبَقَ لَمَسَّکُمْ فِیْمَآ اَخَذْتُمْ عَذَابٌ عَظِیْمٌ} (الانفال:۶۷تا۶۸)
    '' نبی کے لئے یہ مناسب نہیں تھا کہ ان کو قیدی بناتے جب تک کہ وہ زمین میں خوب خون ریزی نہ کر لیتے ۔اے مسلمانوں کیا تم دنیا کا ساز و سامان چاہتے ہو ؟جبکہ اللہ تعالیٰ آخرت چاہتا ہے اور اللہ تعالیٰ زبردست ہے کمال حکمت والا ہے اور اگر ایک حکم اللہ تعالیٰ کی طرف سے پہلے گزر نہ چکا ہوتا۔یقیناً جو تم نے لیاتم کو اس کی وجہ سے پہنچتابڑا عذاب''۔ (دیکھئے صحیح مسلم ،کتاب الجہاد ،باب اباحۃ الغنائم )


    اس واقعہ اور اس طرح کے اور دوسرے واقعات سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ وہ معاملات جن میں بروقت وہی نازل نہیں ہوتی تھی اس میں الله کے پاک نبی بھی اپنے صحابہ کرام رضوان الله اجمعین سے مشوره طلب کرتے تھے - اور اکثر اوقات قرانی حکم کسی صحابی رسول کے فہم کے مطابق اترتا تھا -جیسا کہ اوپر دیے گئے واقعہ سے پتا چلتا ہے کہ وحی الہی حضرت عمر رضی الله عنہ کہ فہم کے مطابق نازل ہوئی -

    لہذا صحابہ کرام رضوان الله اجمعین کا فہم بھی اپنی جگہ خاص اہمیت کا حامل ہے - کیوں کہ یہ پاک ہستیاں نبی کریم صل الله علیہ و آ لہ وسلم سے براہ راست تربیت یافتہ تھیں - اب جس کے دل میں منافقت ہو وہ صحابہ کرام رضوان الله اجمعین کے فہم و فراست پر صرف تنقید ہی کریگا -

    الله ہم سب کو اپنی ہدایت سے نوازے (آمین )-
     
    • زبردست زبردست x 6
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
  8. ‏فروری 25، 2014 #8
    علی بہرام

    علی بہرام مشہور رکن
    شمولیت:
    ‏ستمبر 18، 2013
    پیغامات:
    1,216
    موصول شکریہ جات:
    161
    تمغے کے پوائنٹ:
    105

    غزوہ بدر میں فریقین کے مقتو لین :
    (غزوہ بدر ) میں چودہ مسلمان شہید ہوئے۔ چھ مہاجرین میں سے اور آٹھ انصار میں سے ، لیکن مشرکین کو بھاری نقصان اٹھا نا پڑا۔ ان کے ستر آدمی مارے گئے اور ستر قید کیے گئے جو عموماً قائد ، سردار اوربڑے بڑے سر بر آوردہ حضرات تھے۔
    الرحیق المختوم : غزوۂ بدر کبریٰ - اسلام کا پہلا فیصلہ کن معرکہ
    صفی الرحمن مبارکپوری اپنی کتاب میں یہ فرمارہے ہیں کہ جنگ بدر میں کفار قریش کا خوب خون بہا یا گیا اور ان کے ستر آدمی مارے گئے
    اور جس آیت کو پیش کرکے یہ کہا جارہا ہے یہ جنگ بدر کے قیدیوں کے بارے میں نازل ہوئی اور ساتھ ہی حضرت عمر کی شان رسول اللہﷺ اور حضرت ابوبکر سے بھی بڑھادی گئی نعوذباللہ اس روایت سے ایسا لگ رہا ہے سوائے حضرت عمر کے سب مسلمانوں پر عذاب آجاتا بشمول نبی کریم ﷺاور ابوبکر کے نعوذباللہ من ذلک
    ویسے تو اس روایت کے جھوٹا ہونے کے لئے اتنا ہی کافی ہے لیکن اگر قرآن مجید کی مذکورہ آیت پر غور کیا جائے تو معلوم ہوگا کہ اس آیت میں اللہ نے کافروں کا خون بہائے بغیر ان کو قید کرنے کی معانت فرمائی ہے جبکہ جنگ بدر میں پہلے ہی ان کفار کا خون بہاتے ہوئے اسلامی لشکر نے 70 کفار قریش کو جہنم وصل کردیا تھا پھر اس آیت کا اطلاق کس بناء پر جنگ بدر کے قیدیوں کے لئے کیا جارہا ہے ؟؟؟
    اور یہ بھی کہا جارہا ہے کہ رسول اللہﷺ نے جنگ بدر کے قیدیوں کے بارے میں حضرت عمر کی رائے کے برخلاف انھیں فدیہ لیکر رہا کرنے کا حکم دیا لیکن اللہ نے حضرت عمر کی رائے کے مطابق قرآن کو نازل کیا اگر یہ بات من و عن مان لی جائے تو قرآن کی کئی آیت کے خلاف ہوگی جیسے کہ سورہ محمد کی آیت 33 کہ جس میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے کہ
    يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَطِيعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ وَلَا تُبْطِلُوا أَعْمَالَكُمْ
    مومنو! اللہ کی اطاعت کرو اور رسول کی اطاعت کرو اور اپنے عملوں کو ضائع نہ ہونے دو
    یہ اور اسی مضمون کی اور بھی بہت سی آیت قرآنی میں اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ ﷺ کے حکم کی پیروی کرنے کو اللہ کے حکم کی پیروی کرنا کہا ہے اور جنگ بدر کے قیدیوں کو فدیہ لے رہا کرنے کا حکم رسول اللہﷺ نے دیا تھا تو یہ حکم اللہ ہی کا تھا
    قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ جنگ بدر طرز کی لڑائی جس میں 70 کافروں کی گردنیں اڑائی گئی کے بارے ارشاد فرماتا ہے

    فَإِذَا لَقِيتُمُ الَّذِينَ كَفَرُوا فَضَرْبَ الرِّقَابِ حَتَّىٰ إِذَا أَثْخَنتُمُوهُمْ فَشُدُّوا الْوَثَاقَ فَإِمَّا مَنًّا بَعْدُ وَإِمَّا فِدَاءً حَتَّىٰ تَضَعَ الْحَرْبُ أَوْزَارَهَا ذَٰلِكَ وَلَوْ يَشَاءُ اللَّهُ لَانتَصَرَ مِنْهُمْ وَلَٰكِن لِّيَبْلُوَ بَعْضَكُم بِبَعْضٍ وَالَّذِينَ قُتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَلَن يُضِلَّ أَعْمَالَهُمْ
    سورہ محمد : 4
    جب تم کافروں سے بھڑ جاؤ تو ان کی گردنیں اُڑا دو۔ یہاں تک کہ جب ان کو خوب قتل کرچکو تو (جو زندہ پکڑے جائیں ان کو) مضبوطی سے قید کرلو۔ پھر اس کے بعد یا تو احسان رکھ کر چھوڑ دینا چاہیئے یا کچھ مال لے کر یہاں تک کہ (فریق مقابل) لڑائی (کے) ہتھیار (ہاتھ سے) رکھ دے۔ (یہ حکم یاد رکھو) اور اگر خدا چاہتا تو (اور طرح) ان سے انتقام لے لیتا۔ لیکن اس نے چاہا کہ تمہاری آزمائش ایک (کو) دوسرے سے (لڑوا کر) کرے۔ اور جو لوگ خدا کی راہ میں مارے گئے ان کے عملوں کو ہرگز ضائع نہ کرے گا

    یہ اللہ حکم جنگ بدر جیسی جنگ کے لئے ہے جس میں کافروں کی گردنیں اڑانے اور ان کو خوب قتل کرنے کے بعد جو زندہ پکڑے جائیں ان کو قید کرنے کے بعد یا تو انہیں فدیہ لے کر چھوڑ دیا جائے یا پھر ان پر احسان رکھ کر چھوڑ دیا جائے اور ایسی حکم کی پاسداری رسول اللہﷺ نے جنگ بدر کے قیدیوں کے بارے میں فرمائی یعنی کسی کو فدیہ لے کر چھوڑا گیا اور جن لوگوں کے پاس مال و اسباب نہیں تھا انھیں فرمایا کہ مدینہ کے بچوں کو لکھنا پڑھنا سکھاؤ یہی تمہارا فدیہ ہے یعنی ان پر احسان کیا گیا ۔
    لیکن برا ہو صحابہ پرستی کی بیماری کا کہ اس بیماری میں یہ نظر نہیں آتا کہ ایسی روایت سے کس درجہ کی تنقيص نبی کی جارہی ہےنعوذباللہ جبکہ ان صحابہ پرستوں کو جب یہ حدیث صحیح پیش کی جاتی ہے کہ
    جاء النبيُّ صلَّى اللهُ عليهِ وسلَّمَ أُناسٌ من قريشٍ فقالوا يا محمدُ إنا جيرانُك وحلفاؤكَ وإنَّ من عبيدِنا قد أتَوك ليس بهم رغبةٌ في الدِّينِ ولا رغبةٌ في الفقهِ إنما فَرُّوا من ضياعِنا وأموالِنا فاردُدْهم إلينا فقال لأبي بكرٍ ما تقولُ فقال صدقوا إنهم لَجيرانُكَ وحلفاؤُك فتغيَّرَ وجهُ النبيِّ صلَّى اللهُ عليهِ وسلَّمَ ثم قال لعمرَ ما تقولُ قال صدقوا إنهم لَجيرانُكَ وحلفاؤُك فتغيَّر وجهُ النبيِّ صلَّى اللهُ عليهِ وسلَّمَ ثم قال يا معشرَ قريشٍ واللهِ لَيبعثنَّ اللهُ عليكم رجلًا منكم امتحن اللهُ قلبَه للإيمانِ فيضربُكم على الدِّينِ أو يضربُ بعضَكم قال أبو بكرٍ أنا هو يا رسولَ اللهِ قال لا قال عمرُ أنا هو يا رسولَ اللهِ قال لا ولكن ذلك الذي يَخصِفُ النَّعلِ وقد كان أعطى عليًّا نعلًا يَخصِفُها
    السلسلة الصحيحة - الصفحة أو الرقم: 5/643

    تو کہا جاتا ہے کہ کیونکہ اس حدیث میں ابوبکر و عمر کی تنقيص کا پہلو نکلتا ہے اور حضرت علی کی شان ان دونوں سے بڑھائی جارہی ہے اس لئے یہ حدیث ضعیف ہے لیکن وہ احا دیث جن سے رسول اللہﷺ اور ابو بکر کی تنقيص کا پہلو نکلتا ہے نعوذباللہ اور عمر کی شان رسول اللہﷺ سے بڑھائی جارہی ہو ایسے صحابہ پرست سر آنکھوں پر رکھتے ہیں
    اب ان کے دعا ہی کی جاسکتی ہے کہ اللہ تعالیٰ انہیں ھدایت عطاء کرے آمین
    آف دی ٹاپک ایک بات پوچھنی تھی کہ جنگ بدر میں حضرت عمر نے کتنے کفار کو قتل کیا ؟؟؟؟
     
  9. ‏فروری 25، 2014 #9
    محمد علی جواد

    محمد علی جواد سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏جولائی 18، 2012
    پیغامات:
    1,913
    موصول شکریہ جات:
    1,483
    تمغے کے پوائنٹ:
    304

    میرے بھائی یہ حدیث صحیح مسلم میں ہے - اگر آپ کو اس کی صحت پر اعتراض ہے تو اسماء رجال کی روشنی میں اس کو غلط ثابت کرکے دکھائیں -

    دوسری بات یہ کہ اگر نبی کریم صل اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ کرام سے مشوره لینا آپ صل اللہ علیہ وسلم کی تنقیص ہے تو پھر اس آیت کا کیا مطلب ہے -


    وَالَّذِينَ اسْتَجَابُوا لِرَبِّهِمْ وَأَقَامُوا الصَّلَاةَ وَأَمْرُهُمْ شُورَىٰ بَيْنَهُمْ وَمِمَّا رَزَقْنَاهُمْ يُنْفِقُونَ سوره الشوریٰ ٣٨
    اور وہ جو اپنے رب کا حکم مانتے ہیں اور نماز ادا کرتے ہیں اور ان کا کام باہمی مشورے سے ہوتا ہے اور ہمارے دیے ہوئے میں سے کچھ دیا بھی کرتے ہیں-


    حضرت سلمان فارسی رضی الله عنہ غزوہ خندق کھودنے کا مشوره نبی کریم صل الله علیہ وسلم کو دیا تھا اور آپ صل الله علیہ وسلم نے اس پر عمل کیا تھا -کیا آپ اس کو بھی کی تنقیص کے طور پر لیں گے ؟؟؟ کیا ہم که سکتے ہیں کہ نبی کریم صل الله علیہ وسلم اپنے صحابہ سے اتنے کم فہم تھے کہ جنگ کی منصوبہ بندی بھی نہیں کرسکتے تھے ؟؟؟

    شاید آپ کہیں گے کے یہاں تنقیص کا پہلو نہیں نکلتا کیوں کہ یہاں مشوره دینے والے حضرت سلمان فارسی رضی الله عنہ ہیں جو اہل فارس تھے -

    اور اگر اجتہادی غلطی کا تعلق ہے تو حضرت علی رضی الله عنہ نے بھی بنو حنفیہ کے مروں اور عورتوں کو زندہ جلوا دیا تھا -جب کہ نبی کریم صل الله علیہ و آ لہ وسلم کا فرمان ہے کہ کسی کے لئے یہ جائز نہیں کہ وہ الله کی مخلوق کو آگ کا عذاب دے یہ صرف الله رب العزت کا اختیار ہے کہ اپنی مخلوق کو آگ کا عذاب دے- اوراس فعل پر حضرت عبّاس رضی الله عنہ حضرت علی رضی الله عنہ پر کافی ںارض ہوے - بعد میں حضرت علی رضی الله عنہ نے اپنے اس فعل سے روجوع کیا -

    لیکن ہم اہل سنّت تمام صحابہ کرام رضوان الله اجمعین بشمول اہل بیت کا احترام اور عزت کرتے ہیں -اور ان کے فہم کو نام نہاد اماموں و اکابرین کے فہم پر ہمیشہ فوقیت دیتے ہیں - یہ الگ بات ہے کہ یہ صحابہ پرستی منافقین کو ایک آنکھ نہیں بھاتی -

    باقی غزوہ بدر سے آپ کے اشکال سے متعلق قرانی آیات کے شان نزول کے بارے میں دوبارہ حاضر ہونگا- ابھی مصروفیت اور وقت کی کمی کی وجہ سے زیادہ نہیں لکھ پا رہا -
     
    • زبردست زبردست x 3
    • پسند پسند x 2
    • لسٹ
  10. ‏فروری 25، 2014 #10
    خضر حیات

    خضر حیات علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    طابہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 14، 2011
    پیغامات:
    8,013
    موصول شکریہ جات:
    8,159
    تمغے کے پوائنٹ:
    964

    غلطی کی نفی مولاناجوناگڑھی کی عبارت سے ہے ۔ نہ آپ کی اس عبارت سے :
    کیونکہ مولانا جونا گڑھی وہی کہنا چاہتے ہیں جس کی وضاحت ابن حزم کے حوالے سے اوپر گزر چکی ۔ جبکہ آپ اپنی مرضی کا اقتباس ظاہر کرکے مطلقا نفی ظاہر کرنا چاہ رہے ہیں ۔
    اسی لیے آپ سے گزارش کی تھی کہ اصل حوالہ دے دیں ۔ تاکہ سب کے سامنےحقیقت واضح ہوجائے ۔
    تو شیعہ کے اصول کی کتابوں میں سب کی سب قرآنی آیات ہیں ؟
    حقیقت یہ ہےکہ ہم نےکب کہا کہ قرآن وسنت براہ راست ہم پر نازل ہوتا ہے ؟
    وحی حضور صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوئی اور صحابہ کرام سے لے کر اب تک علماء اور آئمہ کے ذریعے ہم تک پہنچ رہی ہے ۔
    ہاں اگر کس جگہ کسی کی کوئی بات قرآن وسنت کےخلاف ہے تو ہم نہیں مانتے ۔ ابن حزم کی بات یا جو اصول انہوں نے بیان کیے آپ قرآن وسنت سے اس کا رد کردیں ہم ان کےقول کو چھوڑ دیں گے ۔
    اصل بات یہ ہےکہ آپ بھی یہ بات جانتے ہیں کہ ہمارا اس حوالے سےکیا موقف ہے ۔ لیکن صرف تخریب کاری مقصود ہو تو پھر تجاہل عارفانہ ایک بہترین ہتھیار ہے ۔
     
    • شکریہ شکریہ x 2
    • متفق متفق x 2
    • زبردست زبردست x 1
    • لسٹ
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں