1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

فہم قرآن

'تفسیر قرآن' میں موضوعات آغاز کردہ از عرفان شہزاد, ‏ستمبر 22، 2015۔

  1. ‏ستمبر 22، 2015 #11
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    6,372
    موصول شکریہ جات:
    2,402
    تمغے کے پوائنٹ:
    791

    عربی ادب اور قرآنی بلاغت کے ایک ،مشہور عالم کا ۔۔قرآنی نظم ۔۔کے متعلق کہنا ہے :
    "وكذلك كانَ عندَهُم [يقصد النظم] نظيراً للنَّسجِ والتّأليفِ والصياغةِ والبناءِ والوَشْيِ والتّحبير وما أشبه ذلك مما يوجبُ اعتبارَ الأجزاءِ بعضِها معَ بعضٍ حتىّ يكونَ لوضعِ كلٍّ حيثُ وُضعَ علّة تَقْتضي كونَه هناك وحتى لو وُضعَ في مكانٍ غيرِه لم يَصحَّ"
    کیا آپ بھی اسی ۔۔نظم۔۔کی بات کر رہے ہیں ۔یا۔اس کے علاوہ ۔۔مفہوم کا نظم مقصود ہے؟
     
  2. ‏ستمبر 23، 2015 #12
    عرفان شہزاد

    عرفان شہزاد مبتدی
    جگہ:
    راولپندی
    شمولیت:
    ‏ستمبر 19، 2015
    پیغامات:
    9
    موصول شکریہ جات:
    3
    تمغے کے پوائنٹ:
    15

    حوالہ تخبۃ الفکر کا ہی ہے۔ ، وقد يقع فيها ما يفيد العلم النظري بالقرائن على المختار، علمَ نظری سے علمَ ظنی ہی مراد لیا جاتا ہے۔ اس کا عکس سے علمَ یقینی جو متواتر سے ملتا ہے۔ میں حیران ہوں کہ اس طے شدہ علمَ مسئلے پر اتنی لے دے کیوں کی جارہی ہے۔ اگر اخبارَ احاد سے علمَ ظنی حاصل نہیں ہوتا بلکہ یقینی حاصل ہوتا ہے تو میری اصلاح فرمائی جائے۔ متشابہات کا مطلب میرے نزدیک یہ ہے کہ ان کی حقیقت معلوم نہیں کی جاسکتی نہ کہ یہ کہ ان کو سمجھا ہی نہں جا سکتا۔ مثلا جنت و دوزخ کے احوال۔ ان کو سمجھا تو جاسکتا ہے اور یہی مقصودَ الہی ہے۔ لیکن ان کی حقیقت معلوم نہیں کی جاسکتی یہی تاویل ہے۔ میرا یہ موقف ہے کہ قرآن کی آیات میں احتمالات نہیں ہوتے۔ ورنہ قرآن کا فرقان اور میزان ہونے کا دعوی قائم نہین رہتا۔ محتمل الوجوہ کلام سے کسی بھی مسئلے کا کیا تصفیہ کیا جا سکتا ہے۔ تدبر قرآن نے اسی بات کو ثابت کیا ہے۔ بس اتنی سی بات ہے۔
     
  3. ‏ستمبر 23، 2015 #13
    عرفان شہزاد

    عرفان شہزاد مبتدی
    جگہ:
    راولپندی
    شمولیت:
    ‏ستمبر 19، 2015
    پیغامات:
    9
    موصول شکریہ جات:
    3
    تمغے کے پوائنٹ:
    15

    نظم کا مفہوم ہے کہ آیات اور سور مربوط ہیں۔ ایک مرکزی مضمون کے گرد سورتیں چلتی ہیں ۔ سورتیں آپس میں توام ہیں ۔ ایک دوسرے کو مکمل کرتی ہے۔ ایک خاص ترتیب سے مضامین کا اعادہ ہوتا ہے
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں